شکستوں سے بچا نہیں جا سکتا لیکن ہار مان لینا ناقابلِ معافی عمل ہے: ٹرمپ کی فتح کے بعد بائیڈن کا پہلا خطاب
امریکی صدر جو بائیڈن نے امریکی صدارتی انتخاب کے نتائج کے حوالے سے قوم سے پہلا خطاب کیا اُن کا کہنا تھا کہ ’ہم ملک میں ہونے والے صدارتی انتخاب کے نتائج کو قبول کرتے ہیں۔‘ انھوں نے کہا کہ ہم مضبوط ترین معیشت چھوڑ رہے ہیں، ہماری مدت کے مکمل ہونے میں ابھی 74 دن باقی ہیں۔
خلاصہ
نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 20 جنوری کو اپنے عہدے کا حلف اُٹھائیں گے
ٹرمپ کی بطورِ صدر تقریبِ حلف برداری سے قبل امریکی صدارتی انتخاب کے تمام معاملات 17 دسمبر تک طے ہو جائیں گے
ٹرمپ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ صدر جو بائیڈن نے نو منتخب صدر کو ان کی جیت پر مبارکباد دینے کے لیے فون کیا ہے اور انھیں انتظامیہ کی منتقلی پر بات کرنے کے لیے وائٹ ہاؤس میں مدعو کیا ہے
امریکی نائب صدر اور ڈیموکریٹ صدارتی امیدوار کملا ہیرس کا کہنا ہے کہ ’الیکشن کا نتیجہ توقعات کے برعکس آیا مگر اقتدار کی پرامن منتقلی میں شامل رہوں گی‘
امریکی صدارتی انتخاب میں ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی کے موقع پر بِٹ کوائن کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح 75 ہزار ڈالر پر پہنچ گئی ہے
لائیو کوریج
کنساس میں ٹرمپ کو واضح برتری حاصل
کنساس کو سورج مکھی والی ریاست بھی کہا جاتا ہے۔ اس کا زیادہ تر حصہ میدانی ہے جبکہ مضافاتی مشرقی حصے میں پہاڑ بھی موجود ہیں۔
اگرچہ صدارتی انتخابات میں اس ریاست کا رجحان ریپبلکن نظر آیا ہے تاہم اس کے گورنر ایک ڈیموکریٹک شخصیت ہیں۔
سنہ 2022 میں اسقاطِ حمل کے حق کو ختم کیے جانے کے بعد یہ پہلی ریاست تھی جہاں اس حق کو بیلٹ ریفرینڈم کے ذریعے آئین میں شامل کیا گیا۔
ٹرمپ اور ہیرس کی اہم ترین ریاستوں میں کیسی کارکردگی ہے؟, ندین یوسف، واشنگٹن ڈی سی
امریکی صدارتی انتخاب میں جن اہم ریاستوں کے پاس ’وائٹ ہاؤس کی چابی ہے‘ وہاں ڈونلڈ ٹرمپ چھ میں سے تین ریاستوں میں آگے ہیں۔ ان ریاستوں میں جارجیا، شمالی کیرولائنا اور پینسلوینیا شامل ہیں۔
خیال رہے کہ ان تینوں ریاستوں کے کل الیکٹورل کالج ووٹ 51 بنتے ہیں۔ پینسلوینیا کے 19، شمالی کیرولائنا کے 16 اور جارجیا کے بھی 16 ووٹ ہیں۔
دوسری جانب کملا ہیرس کو ریاست مشیگن میں برتری حاصل ہے تاہم تاحال یہاں صرف 19 فیصد ووٹ گنے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ ایریزونا میں بھی ہیرس آگے ہیں اور یہاں آدھے سے زیادہ ووٹ گنے جا چکے ہیں۔ انھیں وسکانسن میں بھی برتری حاصل ہے۔
تاہم اہم بات یہ ہے کہ ان تینوں ریاستوں کے الیکٹورل کالج ووٹوں کی تعداد 36 بنتی ہے۔ مشیگن کے 15، وسکانسن کے 10، جبکہ ایریزونا کے 11 ووٹ ہیں۔ یہ کل ملا کر 36 ووٹ بنتے ہیں۔
نیواڈا بھی ایک اہم ریاست ہے تاہم اس کے کل چھ ووٹ ہیں اور یہاں ووٹوں کی گنتی میں اکثر کئی روز بھی لگ جاتے ہیں۔
ٹرمپ نے سنہ 2016 اور 2020 میں شمالی کیرولائنا میں فتح حاصل کی تھی جبکہ جو بائیڈن نے باقی تمام اہم ریاستوں میں تھوڑے مارجن سے کامیابی حاصل کی تھی۔
تاحال کسی بھی اہم ریاست میں کسی بھی امیدوار کو فیصلہ کن برتری حاصل نہیں ہوئی جس کا مطلب یہ ہے کہ ان دونوں ریاستوں میں کانٹے کا مقابلہ ہے اور ان نتائج میں تیزی سے تبدیلی آ سکتی ہے۔
آئیووا میں ٹرمپ کو واضح برتری حاصل
آئیووا وہ ریاست ہے جو سیاست دانوں اور سیاسی میلوں کے حوالے سے بہت توجہ حاصل کرتی ہے۔ یہ وہی ریاست ہے جہاں فلم فیلڈ آف ڈریمز کا سیٹ بنایا گیا تھا۔
امریکہ کے انتخابی نتائج کے انتظار میں دنیا بھر کی سٹاک مارکیٹوں میں تیزی کا رجحان
دنیا بھر میں سرمایہ کار امریکی انتخابی نتائج پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
جاپان اور آسٹریلیا کی سٹاک مارکیٹوں میں بدھ کی صبح تیزی کا رجحان دیکھا گیا اور دیگر کرنسیوں کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قیمت زیادہ رہی۔
توقع کی جا رہی ہے کہ ان انتخابی نتائج کے عالمی معیشت بالخصوص ایشیا میں زیادہ اثرات مرتب ہوں گے۔
تاہم یہ غیر یقینی ہے کہ آیا امریکی الیکشن کا نتیجہ ایشیائی تجارتی اوقات کے دوران ہی معلوم ہو جائے گا یا دن ختم ہونے کے بعد پتا چلے گا کہ کون جیتا کیونکہ سوئنگ ریاستوں میں گنتی مکمل ہونے میں زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔
کولوراڈو میں کملا ہیرس کو فیصلہ کن برتری حاصل
خوبصورت پہاڑوں والی ریاست کولوراڈو میں ریپبلکن اور ڈیموکریٹس میں کانٹے کا مقابلہ رہا ہے تاہم حالیہ کچھ عرصے میں یہ ایک ڈیموکریٹس ریاست بن کر سامنے آئی ہے۔
یہ پہلی ریاست تھی جہاں سنہ 2012 میں چرس کو قانونی حیثیت دی گئی۔
روڈ آئلینڈ، نیویارک اور الانوائے میں کملا ہیرس کو فیصلہ کن برتری حاصل
روڈ آئلینڈ جسے اوشن سٹیٹ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے میں ڈیموکریٹ جماعت کو فیصلہ کن برتری حاصل ہے۔ یہ ایک چھوٹی ریاست ہے اور اس کے چار الیکٹورل کالج ووٹ ہیں۔
امریکی ریاست نیویارک میں بھی کملا ہیرس کو فیصلہ کن برتری حاصل ہے جس کے کل 28 الیکٹورل ووٹ ہیں جبکہ امریکی ریاست الانوائے جس کے 19 الیکٹورل ووٹ ہیں میں بھی کملا ہیرس کو فیصلہ کن برتری حاصل ہے۔
یوں تازہ ترین نتائج کے مطابق 270 ووٹوں تک پہنچنے کی دوڑ میں ڈونلڈ ٹرمپ کو 162 الیکٹورل کالج ووٹ اور کملا ہیرس کو 81 ووٹ حاصل ہو چکے ہیں۔
لوزیانا میں ٹرمپ کو فیصلہ کن برتری حاصل
لوزیانا کی ثقافت پر اس علاقے پر سب سے پہلے کنٹرول رکھنے والے فرانسیسی آباد کاروں کا کافی حد تک اثر ہے۔ یہاں کے بہت سے رہائشی اب بھی فرانسیسی کنیت رکھتے ہیں حتیٰ کہ یہاں فرانسیسی زبان بھی بولی جاتی ہے۔
فرانسیسی بلدیاتی نظام کی پیروی کرتے ہوئے یہ ریاست کاؤنٹیوں کے بجائے پیرشز میں تقسیم ہے۔
اس جنوبی ریاست میں ٹرمپ کو فیصلہ کن برتری حاصل ہے اور ان کے جیتنے کا امکان ہے۔
صدارتی انتخاب کے ابتدائی نتائج کو فی الحال زیادہ اہمیت کیوں نہیں دی جا سکتی؟
جیسے جیسے ہمیں امریکی صدارتی انتخاب کے پہلے نتائج مل رہے ہیں تو ایسے میں یہ یاد رکھنا اہم ہے کہ اس صدارتی دوڑ کس کے حق میں جا رہی ہے، اس کا فیصلہ کرنا اب بھی قبل از وقت ہے۔
جب سنہ 2020 کے انتخاب میں ووٹوں کی گنتی کی گئی تھی تو ڈونلڈ ٹرمپ الیکشن کی رات کچھ اہم ریاستوں میں آگے تھے، تاہم یہ اعداد و شمار اس وقت تبدیل ہوئے جب جو بائیڈن کے حق میں میل ان بیلٹس کی گنتی شروع ہوئی جو اس الیکشن میں ڈیموکریٹ کے حق میں تھے۔
اس وقت متعدد ریاستوں میں ٹرمپ کی فتح پراجیکٹ کی گئی ہے تاہم یہ ایک مرتبہ پھر تبدیل بھی ہو سکتا ہے اور زیادہ ووٹوں کی گنتی کے بعد نتائج کملا ہیرس کے حق میں بھی جا سکتے ہیں۔
کیونکہ امریکہ بھر میں مختلف ٹائم زونز ہیں اس لیے کچھ ایسے ریاستیں جہاں الیکٹورل کالج کے ووٹ ہیں (جیسے کینٹکی کے آٹھ الیکٹورل ووٹ ہیں) وہ اپنے نتائج کا اعلان جلدی کر دیں گی اور ایسی ریاستیں جہاں الیکٹورل ووٹ زیادہ ہیں جیسے (کیلیفورنیا جہاں 54 ووٹ ہیں) اور یہ ابتدائی نتائج کو مکمل طور پر تبدیل کر سکتی ہیں۔
اس کے علاوہ الیکشن کے نتائج پر اثر انداز ہونے والی اہم ریاستوں کی بات کی جائے تو ٹرمپ اور کملا ہیرس کو کم از کم تین ریاستوں میں فتح حاصل کرنا ہو گی۔ یہ سات ریاستیں جس کے حق میں بھی ووٹ کریں گی، الیکشن کے نتائج کا جھکاؤ اس طرف ہو سکتا ہے۔
تین سوئنگ سٹیٹس میں پولنگ ختم ہو گئی
امریکی ریاست واشنگٹن ڈی سی میں اس وقت رات کے 9:30 بجے ہیں اور تین سوئنگ سٹیٹس ایریزونا، مشیگن اور وسکونسن سمیت مزید 15 ریاستوں میں پولنگ ختم ہو چکی ہے۔
درجن سے زیادہ ریاستوں میں پہلے ہی پولنگ ختم ہو چکی ہے۔
لیکن جیسا کہ ہم پہلے بتا چکے ہیں فی الحال نتائج کے متعلق کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے۔
فلوریڈا اب پوری طرح رپبلکن پارٹی کے کنٹرول میں, انتھونی زرچر/ شمالی امریکہ کے نامہ نگار، بی بی سی نیوز
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ کے صدارتی انتخاب میں فلوریڈا کا اہم کردار ہوا کرتا
تھا مگر اب یہ ریاست میدان جنگ کی حیثیت کھو چکی ہے۔
24 سال قبل چند سو ووٹوں کی بدولت جارج ڈبلیو بش نہ صرف
فلوریڈا میں جیت گئے تھے بلکہ صدر بھی بن گئے تھے۔ آج فلوریڈا میں 73 فیصد ووٹوں کی
گنتی کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کو واضح برتری حاصل ہے۔
یہ حیرانی کی بات نہیں بلکہ ڈیموکریٹ پارٹی کے لیے تشویشناک
ہے۔ ٹرمپ کو مرکزی شہر اورلینڈو کے قریب اوسیولو کاؤنٹی میں باریک برتری حاصل
ہے۔ جو بائیڈن 2020 کے دوران اس کاؤنٹی میں 14 پوائنٹس سے جیت گئے تھے۔
اس کاؤنٹی کی ایک تہائی آبادی کا تعلق پورٹو ریکو سے ہے۔
ہیرس کی انتخابی مہم کو امید تھی کہ وہ ڈیموکریٹ پارٹی کے حق میں ووٹ دیں گے
کیونکہ ٹرمپ کی ریلی کے دوران ایک کامیڈین نے پورٹو ریکو سے متعلق تضحیک آمیز مذاق
کیا تھا۔
مگر فلوریڈا میں صورتحال رپبلکن پارٹی کے حق میں ہی ہے۔
فلوریڈا کے رپبلکن امیدواروں نے حالیہ انتخابات میں اچھی
کارکردگی دکھائی ہے۔ 2022 میں بھی پارٹی کو جہاں دیگر ریاستوں میں مشکل صورتحال کا
سامنا کرنا پڑا وہیں فلوریڈا میں وہ کامیاب رہے۔ 2018 میں فلوریڈا نے رپبلکن گورنر
اور سینیٹر کا انتخاب کیا، حالانکہ کے ڈیموکریٹ پارٹی قومی سطح پر سبقت حاصل کر
رہی تھی۔
فلوریڈا اب باقاعدہ طور پر ایک سرخ ریاست ہے۔
اب تک کے ابتدائی نتائج میں ٹرمپ کو جارجیا اور جنوبی کیرولائنا میں سبقت حاصل
انتخابی
قانون کے مطابق، ریاست جارجیا کو ایسٹرن سٹینڈرڈ وقت کے مطابق رات آٹھ بجے تک اپنے
تمام چالیس لاکھ ووٹوں کی گنتی مکمل کرنا ضروری ہے۔ اور ابتدائی طور پر سامنے آنے
والے نتائج میں ڈونلڈ ٹرمپ کو برتری حاصل ہے۔
تاہم اس وقت کوئی
بھی حتمی نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہے، چھوٹی کاؤنٹیز یا ان حلقوں میں جہاں
رپبلکن کی گرفت مضبوط ہے وہاں ووٹوں کی گنتی جلد ہو سکتی ہے جبکہ بڑے شہری حلقوں
میں جہاں ڈیموکریٹس کو برتری ہو سکتی ہے وہاں گنتی کے عمل میں تاخیر ہو سکتی ہے۔
اگر یہ صدارتی
انتخاب توقع کے قریب ہے، تو مکمل نتائج آج رات سے پہلے
مکمل نہیں ہوتے دکھائی دیتے، اور آج رات تک ہمیں اس بات کا صحیح اندازہ ہو جائے گا
کہ کون سبقت حاصل کر رہا ہے۔
تاہم
الیکشن حکام کا کہنا ہے کہ کچھ بھی ہو تنائج آج رات تک کسی وقت مکمل ہو جانے چاہیے۔
ادھر
بی بی سی کے امریکی نیوز پارٹنر سی بی ایس کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کو جنوبی کیرولینا
میں برتری حاصل ہے۔
جنوبی
کیرولائنا جسے پالمیٹو ریاست کا نام بھی دیا جاتا ہے، شمالی امریکہ میں 13 اصل
برطانوی کالونیوں میں سے ایک تھی۔ رپبلکن کی اکثریتی ریاست نے 1976 کے علاوہ ہمیشہ
رپبلکن کو ووٹ دیا ہے۔ سنہ 1976 میں اس ریاست نے جمی کارٹر کی حمایت کی تھی۔
ورمونٹ میں برنی سینڈرز کی فتح کا امکان
،تصویر کا ذریعہReuters
بی بی سی کے امریکہ میں شراکت دار سی بی ایس کے مطابق سینیٹ
کی دوڑ میں برنی سینڈرز کی جیت کا امکان ہے۔
برنی سینڈرز سنہ 2007 سے بطور آزاد امیدوار یہاں سے جیت رہے
ہیں۔
اگرچہ وہ ڈیموکریٹ پارٹی کی ٹکٹ سے نہیں لڑتے تاہم وہ سینیٹ
میں اسی جماعت کے حق میں ووٹ دیتے ہیں۔
انھیں اس وقت شہرت ملی تھی جب انھوں نے 2016 کے صدارتی
الیکشن میں ڈیموکریٹ پارٹی کی نامزدگی حاصل کرنے کی کوشش کی تھی مگر ناکام ہوئے
تھے۔
انھیں امریکہ میں بائیں بازو کی سیاست میں ایک اہم آواز سمجھا
جاتا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے علاوہ آج امریکی پارلیمان کے ایوان بالا یعنی
سینیٹ میں برتری کا بھی فیصلہ ہوگا۔ سینیٹ کی ایک تہائی نشستوں پر ووٹنگ ہو رہی
ہے۔
ڈیموکریٹ پارٹی کو سینیٹ میں سبقت حاصل ہے مگر آج یہ
صورتحال بدل سکتی ہے۔
رپبلکن پارٹی کو سینیٹ میں ایک نئی سیٹ ملی ہے۔ ابتدائی
نتائج کے مطابق جِم جسٹس ویسٹ ورجینیا میں جیت رہے ہیں۔ سابق ڈیموکریٹ جو منچن کی
ریٹائرمنٹ کے بعد انھی کی جیت کا امکان تھا۔
ٹرمپ کو پانچ مزید ریاستوں میں برتری حاصل
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنٹرمپ کو 90 الیکٹورل کالج ووٹ حاصل ہوئے ہیں۔ انھیں صدر بننے کے لیے مجموعی طور پر 270 درکار ہیں۔
امریکی ریاستوں الاباما، فلوریڈا، میزوری، اوکلاہوما اور ٹینیسی میں ڈونلڈ ٹرمپ کو برتری حاصل ہے۔
کملا ہیرس ڈسٹرکٹ کولمبیا کے علاوہ ریاست میری لینڈ اور میساچوسیٹس میں جیت گئی ہیں۔
ان ریاستوں کی تاریخ کی روشنی میں یہ نتائج متوقع تھے۔
تین سوئنگ سٹیٹس سمیت 16 امریکی ریاستوں میں پولنگ کا عمل مکمل
امریکی صدارتی
انتخاب میں پینسلوینیا، جارجیا اور شمالی کیرولائنا کی سوئنگ سٹیٹس سمیت 16 امریکی
ریاستوں میں پولنگ کا عمل مکمل ہو گیا ہے۔ ایک گھنٹے یا اس سے زیادہ میں، وسکونسن، ایریزونا
اور مشیگن سمیت ایک درجن سے زائد ریاستوں میں ووٹنگ بند ہونا شروع ہو جائے گی۔
ہمیں ان ریاستوں سے
مزید انتخابی نتائج کے رحجانات کی توقع ہے جہاں ووٹنگ ختم ہو چکی ہے۔ ان میں سے
بہت سی ریاستیں روایتی رپبلکن یا ڈیموکریٹک گڑھ ہوں گی، حالانکہ ایک اہم سوئنگ ریاست
جارجیا سے جلد ہی نتائج کی اطلاعات آنا شروع ہو سکتی ہے۔
جارجیا کے پولنگ سٹیشز پر مزید بم حملوں کی دھمکیاں
جارجیا
کی ڈیکلب کاؤنٹی میں پولیس کو مزید سات پولنگ سٹیشنز پر بم حملوں کی دھمکیاں موصول
ہوئی ہے اور پولیس ان پولنگ سٹیشنز کو چیک کر رہی ہے۔ ڈیکلب کاؤنٹی ایک اکثریتی سیاہ
فام علاقہ ہے جس نے 2020 میں جو بائیڈن کو بھاری اکثریت سے ووٹ دیا تھا۔
ان دھمکیوں کے بعد
ووٹنگ کا عمل عارضی طور پر روک دیے جانے کے باعث سیاہ فام اکثریتی فلٹن کاؤنٹی میں
پانچ پولنگ سٹیشنز پر پولنگ کے وقت میں پہلے ہی اضافہ کیا جا چکا ہے۔
ایف
بی آئی اور جارجیا کے انتخابات کے سربراہ بریڈ رافنسپرگر نے قبل ازیں کہا تھا کہ
بہت سی دھمکیوں کے تانے بانے روسی ای میل ڈومینز سے جا ملتے ہیں۔
دو
دیگر سوئنگ ریاستوں مشی گن اور وسکونسن میں
بھی غلط یا جعلی بم حملوں کی دھمکیوں کے بعد ووٹنگ کے عمل میں تاخیر دیکھی گئی۔
بریکنگ, اب تک نو ریاستوں میں پولنگ ختم، مغربی ورجینیا میں بھی ٹرمپ کو برتری حاصل
تین مزید ریاستوں اوہائیو، مغربی ورجینیا اور شمالی کیرولائنا میں پولنگ کا عمل مکمل ہوچکا ہے۔
مغربی ورجینیا میں ٹرمپ کو سبقت حاصل ہے۔ خیال رہے کہ سی بی ایس نیوز کے مطابق ٹرمپ کو انڈیانا اور کینٹکی میں بھی برتری حاصل ہے جبکہ کملا ہیرس ورمونٹ میں آگے ہیں۔
یہ نتائج اتنے حیران کن نہیں کیونکہ روایتی طور پر ان ریاستوں میں یہی رجحانات رہے ہیں۔
یہ صرف ابتدائی نتائج ہیں اور مزید نتائج جلد متوقع ہیں۔
مغربی ورجینیا میں ٹرمپ کی برتری کے بعد ان کے پاس 23 الیکٹورل کالج کے ووٹ ہیں۔ صدر بننے کے لیے انھیں 270 الیکٹورل کالج کے ووٹ درکار ہیں۔
امریکی صدارتی انتخاب: سوئنگ سٹیٹ جارجیا سے نتائج کا انتظار, انجیلکہ کاساس، جارجیا
جارجیا کی اہم
ریاست میں پولنگ کا عمل مکمل ہو گیا ہے اور تنائج کا بے صبری سے انتظار کیا جا رہا
ہے۔ ابتدائی جائزوں سے یہ اشارے ملتے ہیں کہ
ڈونلڈ ٹرمپ اور
کملا ہیرس میں کانٹے کا مقابلہ ہے۔
تاریخی
طور پر امریکہ کی سن بیلٹ کہلائے جانے والی ریاستوں میں سے رپبلکن ریاست نے گذشتہ
چند دہائیوں میں سیاسی تبدیلیاں دیکھی ہیں کیونکہ اس کی آبادی میں اضافہ ہونے کے
ساتھ ساتھ یہ متنوع بھی ہوئی ہے۔ جارجیا میں 30 فیصد سے زیادہ ووٹرز افریقی امریکن
ہیں، ایک ایسا گروہ جو اکثر ڈیموکریٹ کو ووٹ دیتا ہے۔
سنہ 2020 میں جو
بائیڈن نے یہاں سے 12 ہزار سے کم سے فتح حاصل کی تھی۔
اس بات کی کوئی
ضمانت نہیں ہے کہ آج یہاں کیا نتائج سامنے آتے ہیں۔
یہاں کے ووٹرز کے لیے اہم معاملات معیشت اور
اسقاط حمل ہیں، ریاست نے حمل کے چھ ہفتوں کے بعد زیادہ تر
اسقاط حمل کے کیسز پر پابندی لگائی ہے۔ جارجیا کی ریاست 16 الیکٹورل کالج کے ووٹوں
کے ساتھ، وائٹ ہاؤس تک رسائی کی دوڑ میں سب سے زیادہ اہم سمجھی جانے والی ریاست بن
گئی ہے۔
270 کی دوڑ: ٹرمپ کے پاس 19 جبکہ ہیرس کے پاس تین الیکٹورل ووٹ
امریکہ میں صدارتی انتخاب جیتنے کے لیے کسی بھی امیدوار کو کم از کم 270 الیکٹورل ووٹ میں فتح درکار ہوتی ہے۔
فی الحال ٹرمپ 19 جبکہ ہیرس تین الیکٹورل کالج میں جیتتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔
بریکنگ, چھ امریکی ریاستوں میں پولنگ مکمل، نتائج آنے کا سلسلہ شروع
جارجیا جیسی اہم ریاست سمیت چھ امریکی ریاستوں میں پولنگ مکمل ہوچکی ہے۔ ان میں کینٹکی، انڈیانا، جنوبی کیرولائنا، ورمونٹ اور ورجینیا بھی شامل ہیں۔
ابتدائی نتائج کے مطابق کینٹکی میں ٹرمپ اور ورمونٹ میں ہیرس کو سبقت حاصل ہے۔ جبکہ انڈیانا میں بھی ٹرمپ آگے ہیں۔
باقی ریاستوں میں کسی امیدوار کو تاحال واضح سبقت حاصل نہیں ہوئی ہے۔
فلاڈیلفیا کے حکام نے ٹرمپ کا ’وسیع پیمانے پر دھاندلی‘ کا الزام مسترد کر دیا, جیک ہورٹن، بی بی سی ویریفائی
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل
میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر یہ لکھا تھا کہ امریکی ریاست فلاڈیلفیا میں
’قانون نافذ کرنے والے ادارے‘ آ رہے ہیں کیونکہ وہاں ’وسیع پیمانے پر دھاندلی‘
ہوئی ہے۔
آج انھوں نے پہلی بار ایسے
الزامات عائد کیے ہیں۔ تاہم انھوں نے کوئی تفصیل یا شواہد نہیں دیے۔
فلاڈیلفیا پولیس ڈپارٹمنٹ
نے بی بی سی ویریفائی کو بتایا کہ وہ ان اطلاعات سے بے خبر ہیں جن کی ٹرمپ بات کر
رہے ہیں۔
فلاڈیلفیا کے ڈسٹرکٹ اٹارٹی
لیری کراسنر نے جواب میں کہا ہے کہ ’قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پاس اس بڑے
الزام کی کوئی حقیقی بنیاد نہیں۔‘
فلاڈیلفیا کے رپبلکن سٹی
کمشنر نے ایکس پر لکھا کہ ’اس الزام میں کوئی سچائی نہیں۔ یہ غلط معلومات کی ایک
اور مثال ہے۔ فلاڈیلفیا میں ووٹنگ کا عمل محفوظ انداز میں ہوا ہے۔‘