شکستوں سے بچا نہیں جا سکتا لیکن ہار مان لینا ناقابلِ معافی عمل ہے: ٹرمپ کی فتح کے بعد بائیڈن کا پہلا خطاب

امریکی صدر جو بائیڈن نے امریکی صدارتی انتخاب کے نتائج کے حوالے سے قوم سے پہلا خطاب کیا اُن کا کہنا تھا کہ ’ہم ملک میں ہونے والے صدارتی انتخاب کے نتائج کو قبول کرتے ہیں۔‘ انھوں نے کہا کہ ہم مضبوط ترین معیشت چھوڑ رہے ہیں، ہماری مدت کے مکمل ہونے میں ابھی 74 دن باقی ہیں۔

خلاصہ

  • نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 20 جنوری کو اپنے عہدے کا حلف اُٹھائیں گے
  • ٹرمپ کی بطورِ صدر تقریبِ حلف برداری سے قبل امریکی صدارتی انتخاب کے تمام معاملات 17 دسمبر تک طے ہو جائیں گے
  • ٹرمپ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ صدر جو بائیڈن نے نو منتخب صدر کو ان کی جیت پر مبارکباد دینے کے لیے فون کیا ہے اور انھیں انتظامیہ کی منتقلی پر بات کرنے کے لیے وائٹ ہاؤس میں مدعو کیا ہے
  • امریکی نائب صدر اور ڈیموکریٹ صدارتی امیدوار کملا ہیرس کا کہنا ہے کہ ’الیکشن کا نتیجہ توقعات کے برعکس آیا مگر اقتدار کی پرامن منتقلی میں شامل رہوں گی‘
  • امریکی صدارتی انتخاب میں ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی کے موقع پر بِٹ کوائن کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح 75 ہزار ڈالر پر پہنچ گئی ہے

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, ’اہم ترین ریاست‘ پینسلوینیا میں ٹرمپ کو فیصلہ کن برتری حاصل

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پنسلوانیا وہ ریاست ہے جہاں سے الیکٹورل کالج ووٹوں کی تعداد 19 ہے اور سوئنگ سٹیٹس میں یہ سب سے اہم ریاست سمجھی جاتی ہے۔

    اب ڈونلڈ ٹرمپ کو صدر بننے کے لیے الیکٹورل کالج کے صرف پانچ ووٹ درکار ہیں۔

  2. فاکس نیوز کی جانب سے ’ٹرمپ کی فتح کے امکان کے اعلان‘ کے بعد کارکنان کا جشن

    trump

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنتاحال امریکہ میں کسی بھی دوسرے ٹی وی نیٹ ورک نے ٹرمپ کی فتح کا اعلان نہیں کیا ہے

    رپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے منعقدہ واچ پارٹی میں جب فاکس نیوز کی جانب سے ’ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر بننے کے امکان‘ کی خبر دی گئی تو وہاں موجود کارکنان جشن منانے لگے۔

    تاحال امریکہ میں کسی بھی دوسرے ٹی وی نیٹ ورک کی جانب سے ایسی خبر نہیں دی گئی ہے۔ خیال رہے کہ فاکس نیوز کی جانب سے اب سے کچھ دیر پہلے اہم ریاست پینسلوینیا میں ٹرمپ کی فیصلہ کن برتری کی خبر دی گئی تھی۔

  3. ’اگر ٹرمپ جیت جاتے ہیں تو یہ ایک غیر معمولی سیاسی کامیابی ہو گی‘

    trump

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنٹرمپ کی جانب سے منعقدہ واچ پارٹی میں پینسلوینیا میں ٹرمپ کی فیصلہ کن برتری دکھائی گئی ہے تاہم تاحال بی بی سی نے اس حوالے سے حتمی نتائج نہیں دیے، تاہم ٹرمپ کو پینسلوینیا میں ہیرس پر برتری ضرور حاصل ہے۔

    ابھی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ریاست فلوریڈا میں ایک واچ پارٹی کی تقریب میں موجود ہیں جہاں یہ امید کی جا رہی ہے کہ وہ کچھ ہی دیر میں خطاب کریں گے۔

    دلچسپ ہو گا کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور جے ڈی وینس کس قسم کی تقریریں کرتے ہیں اور جو ووٹ اب تک گنے نہیں گئے ان کے بارے میں وہ کیا کہتے ہیں۔

    اگر واقعی ڈونلڈ ٹرمپ جیت جاتے ہیں تو ہمیں یہ سوچنا پڑے گا کہ اس کامیابی کی نوعیت کیا ہے۔

    یہ ایک ایسے شخص کی کامیابی ہو گی جس کی عمر 78 برس ہے، یہ فوجداری کے چار مقدمے لڑ رہے ہیں (جن میں سے ایک میں ان پر جرم ثابت ہو چکا ہے اور انھیں تین ہفتوں میں سزا سنائی جائے گی)، اس کے علاوہ ان پر متعدد سول کیسز بھی بنے ہوئے ہیں، انھوں نے متعدد نسلوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو تحقیر کا نشانہ بنایا اور گذشتہ آٹھ سالوں میں متعدد تنازعات کا شکار رہے۔

    اگر ٹرمپ بطور صدر دوبارہ وائٹ ہاؤس پہنچنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ سیاسی اعتبار سے ایک غیر معمولی اور حیرت انگیز کامیابی ہو گی۔

  4. بریکنگ, ’اہم ترین ریاست‘ پینسلوینیا میں اب تک کے نتائج کا جھکاؤ ٹرمپ کی جانب

    بی بی سی کے امریکی پارٹنر سی بی ایس نیوز کے مطابق پنسلوانیا میں اب تک کے نتائج کا جھکاؤ ٹرمپ کی جانب ہے۔

    ہم یہ واضح کر دیں کہ یہ سرکاری نتائج نہیں بلکہ اب تک کے نتائج کی بنیاد پر قائم کیا گیا اندازہ ہے۔

    اور یہ ریپبلکن پارٹی کے لیے اچھی خبر ہے۔

    پنسلوانیا وہ ریاست ہے جہاں سے الیکٹورل کالج ووٹوں کی تعداد 19 ہے اور سوئنگ سٹیٹس میں یہ سب سے اہم ریاست سمجھی جاتی ہے۔

    bbc
  5. اہم ریاستوں میں برتری پر ٹرمپ کے ووٹروں کا جشن

    دو اہم ریاستوں میں ٹرمپ کی فیصلہ کن برتری کے اعلان کے ساتھ ان کے پرجوش حامیوں کی تصاویر سامنے آ رہی ہیں جو امریکہ کے مختلف حصوں میں جشن منا رہے ہیں۔

    کچھ نے میگا (امریکہ کو پھر سے عظیم بنائیں، ٹرمپ کی مہم کا نعرہ) والی ٹوپیاں پہن رکھی ہیں، جبکہ دوسروں نے امریکی پرچم لپیٹا ہوا ہے۔

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

  6. تمام ریاستوں میں پولنگ مکمل، ڈیموکریٹس پریشان جبکہ ٹرمپ کے حامی پرجوش ہیں

    الاسکا اور ہوائی سمیت امریکہ کی تمام ریاستوں میں پولنگ مکمل ہو چکی ہے۔

    اگر آپ رات سے ہمارے ساتھ ہیں تو اب تک آپ کو معلوم ہو گا کہ اب تک کے اندازوں کے مطابق ریپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کو 246 الیکٹورل ووٹ جبکہ ڈیموکریٹ کملا ہیرس کو 187 ووٹ ملے ہیں۔

    وائٹ ہاؤس جیتنے کے لیے امیدوار کو 270 الیکٹورل ووٹ درکار ہیں۔

    اب تک دو سوئنگ ریاستوں شمالی کیرولینا اور جارجیا میں ٹرمپ کو فیصلہ کن برتری حاصل ہے۔

    ابھی پانچ اہم ریاستوں کا فیصلہ آنا باقی ہے تاہم ابتدائی اندازوں کے مطابق ٹرمپ ان سب میں آگے ہیں۔

    مشیگن کے ووٹر مایوس ہیں جبکہ ندا توفیق کے مطابق فلوریڈا میں ٹرمپ کے کیمپ میں جوش و خروش پایا جاتا ہے۔

  7. کملا ہیرس کا آج کارکنوں سے خطاب نہ کرنے فیصلہ: ’صورتحال خاصی مایوس کن ہے‘

    kamala

    ،تصویر کا ذریعہHolly Honderich / BBC

    لگ بھگ 30 منٹ پہلے ہاورڈ یونیورسٹی کے میدان پر کملا ہیرس کے حمایتی فتح کی تیاری کر رہے تھے لیکن شمالی کیرولائنا اور جارجیا میں ٹرمپ کی فیصلہ کن برتری کے بعد اب یہاں جشن دکھائی نہیں دے رہا۔

    ہیرس کے سینکڑوں حمایتی گراؤنڈ چھوڑ کر جا چکے ہیں اور ان میں سے اکثر میڈیا سے بات کرنے سے انکار کر رہے ہیں کیونکہ ہیرس کی فتح کے امکانات بظاہر محدود ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔

    ہیرس اس تقریب سے آج خطاب نہیں کریں گی اور وہ یہ خطاب کل کریں گے۔

    ادھر واشنگٹن ڈی سی میں کملا ہیرس کے ہیڈکوارٹرمیں موجود لنڈی لی جو فلاڈیلفیا سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ فنڈ ریزر ہیں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’صورتحال خاصی مایوس کن ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’لوگوں وقت کے ساتھ مزید مضطرب ہو رہے ہیں لیکن اب بھی ایک راستہ موجود ہے۔ میں اب بھی امید لگائے ہوئے ہوں لیکن یہ وہ رات نہیں ہے جو ہم چاہتے تھے۔‘

  8. نیو میکسیکو میں ہیرس کو فیصلہ کن برتری حاصل

    bbc
  9. ہیرس کے کیمپ میں اداسی کا ماحول, ہولی ہونڈریچ، بی بی سی واشنگٹن

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    دو سوئنگ سٹیٹس سے ٹرمپ کی فیصلہ کن برتری کے اعلان کے ساتھ ہی ہاروڈ یونیورسٹی میں ماحول بدل رہا ہے۔

    آج رات ہیرس کی جیت کے لیے یہاں جمع ہونے والے سپورٹرز اب اداس نظر آ رہے ہیں۔

    ہاورڈ کے طالب علم جارڈن نیوزوم نے نارتھ کیرولائنا سے ٹرمپ کی فیصلہ کن برتری کے اعلان کے بعد کہا کہ انھیں معلوم ہے کہ ابھی نمبر گیم چلے گی اور وہ کوشش کر رہے ہیں کہ اپنا مورال بلند رکھیں۔

  10. صدارتی دوڑ میں ڈونلڈ ٹرمپ کی پوزیشن مستحکم, اینتھونی زرچر، نامہ نگار شمالی امریکہ

    امریکی صدارتی انتخاب کے حتمی نتائج آنے میں ابھی وقت لگے گا لیکن بظاہر وقت کے ساتھ ڈونلڈ ٹرمپ کی پوزیشن مستحکم ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔

    امریکہ کا الیکٹورل نقشہ دیکھا جائے تو یہ 2016 کے انتخاب سے زیادہ مماثلت رکھتا ہے جب ٹرمپ نے ہلری کلنٹن کو شکست دی تھی۔

    امریکہ بھر میں متعدد کاؤنٹیز میں ڈونلڈ ٹرمپ کو گذشتہ الیکشن کے مقابلے میں زیادہ ووٹ پڑے ہیں۔ ٹرمپ کو شمالی کیرولائنا میں فیصلہ کن برتری حاصل ہے جبکہ اب ریاست جارجیا میں بھی انھیں فیصلہ کن برتری حاصل ہو چکی ہے۔

    کملا ہیرس شہری اور نیم شہری کاؤنٹیزمیں جو بائیڈن کے سنہ 2020 کے اعداد و شمار جتنے ہی ووٹ لینے میں کامیاب ہوئی ہیں لیکن یہ ٹرمپ کی برتری کو کم کرنے کے لیے فی الوقت ناکافی نظر آتا ہے۔

    اب تمام نظر ڈیموکریٹس کی ’بلیو وال‘ ریاستوں کی جانب ہیں جہاں ٹرمپ کو معمولی برتری حاصل ہے۔ اس حوالے سے بھی اشارے مل رہے ہیں کہ ان ریاستوں کی شہری اور نیم شہری کاؤنٹیز میں ہیرس ڈیموکریٹس کی امیدوں پر پورا نہیں اتر رہیں۔

  11. بریکنگ, شمالی کیرولائنا کے بعد ایک اور سوئنگ سٹیٹ جارجیا میں بھی ٹرمپ کو فیصلہ کن برتری حاصل

    EPA

    ،تصویر کا ذریعہEPA

  12. اسرائیل پر اپنے موقف کے باعث بائیڈن اور ہیرس دونوں نے مشیگن کے ووٹروں کو گنوا دیا, میڈلین ہلپرٹ، بی بی سی مشیگن

    ریاست مشیگن میں ڈیئربورن ایک ایسا شہر ہے جہاں عرب اکثریت میں ہیں اور یہاں جتنے ووٹروں سے میں نے آج بات کی، تقریباً سب کا کہنا تھا کہ انھوں نے گرین پارٹی کے امیدوار جِل سٹین کے لیے ووٹ ڈالا ہے کیونکہ بائیڈن اور ہیرس دونوں کے اسرائیل نواز موقف نے انھیں مایوس کیا ہے۔

    ان میں ساجد سید بھی ہیں جو خود کو ڈیموکریٹ مانتے تھے۔ سید کا کہنا ہے کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کو کملا ہیریس پر ترجیح نہیں دیتے لیکن ٹرمپ نے کمیونٹی کا دورہ کر کے چند ووٹروں کا دل جیت لیا ہے۔

    سابق صدر کاروباری رہنماؤں سے ملاقات کے لیے گذشتہ جمعہ کو ڈیئربورن آئے تھے۔

    سید کہتے ہیں’انھوں نے اس مسئلے پر بات کی، لیڈروں سے بات کی اور لوگوں کے ساتھ ڈنر کیا۔‘

    ابھی تک میں نے جتنے لوگوں سے بات کی ہے ان میں سے کسی نے بھی ٹرمپ کے حق میں ووٹ نہیں ڈالا ہے لیکن وہ اس حقیقت سے واقف ہیں کہ ان کا کسی تیسرے فریق کو ووٹ ٹرمپ کے حق میں کام آ سکتا ہے۔

    سید کہتے ہیں’اگر ہیرس ہار جاتی ہیں تو انھیں پتا چلے گا کہ وہ کس وجہ سے ہاری ہیں۔‘

  13. ہوائی اور ورجینا میں ہیرس کو فیصلہ کن برتری حاصل

  14. بریکنگ, شمالی کیرولائنا میں ٹرمپ کو فیصلہ کن برتری حاصل

    trump

    صدارتی انتخاب میں اہم ترین ریاستوں میں سے ایک شمالی کیرولائنا میں ٹرمپ کو فیصلہ کن برتری حاصل ہو گئی ہے۔

    اس ریاست کے کل 16 الیکٹورل ووٹ تھے۔

    حالانکہ شمالی کیرولائنا رپبلکن جماعت کے لیے ایک بڑی فتح ہے کہ لیکن سنہ 2016 اور سنہ 2020 میں بھی یہاں ٹرمپ کو فتح حاصل ہوئی تھی۔

  15. ٹرمپ کو اہم ریاستوں میں سے اکثریت میں برتری حاصل, ندین یوسف، واشنگٹن ڈی سی

    ڈونلڈ ٹرمپ کو اہم ریاستوں میں سے اکثریت میں برتری حاصل ہے۔ انھیں جارجیا، شمالی کیرولائنا اور پینسولوینیا میں پہلے ہی برتری حاصل تھی۔ ان ریاستوں میں زیادہ تر ووٹوں کی گنتی مکمل ہو چکی ہے۔

    ایریزونا اور وسکانسن میں بھی انھیں برتری حاصل ہو رہی ہے۔ ان دو ریاستوں میں آدھے سے زیادہ ووٹ گنے جا چکے ہیں۔

    ادھر کملا ہیرس کو میشگن میں برتری حاصل ہے، تاہم یہاں صرف 32 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہو سکی ہے۔ ان میں سے کسی بھی ریاست میں کسی امیدوار کو فیصلہ کن برتری نہیں ملی، اور جیسے جیسے مزید ووٹوں کی گنتی مکمل ہوتی ہے تو صورتحال تبدیل بھی ہو سکتی ہے۔

    خیال رہے کہ کہا جاتا ہے کہ ان ریاستوں کے پاس وائٹ ہاؤس کی چابی ہے۔

    bbc
  16. کیلیفورنیا اور اوریگن میں کملا ہیرس کو فیصلہ کن برتری حاصل

    trump and harris

    کیلیفورنیا امریکہ کی سب سے زیادہ آبادی والی ریاست ہے اور اس کے چار کروڑ شہریوں کے باعث اس کے کل 54 الیکٹورل ووٹ ہیں۔ اگر کیلیفورنیا ایک ملک ہوتا ہے تو اس کی معیشت دنیا کی چوتھی سب سے بڑی معیشت ہوتی۔

    ریاست اوریگن میں سپورٹس ویئر برانڈ نائیکی کا ہیڈکوارٹر ہے اور یہاں بھی روایتی طور پر ڈیموکریٹس کو ووٹ دیا جاتے ہیں۔ اوریگن کے کل الیکٹورل ووٹ آٹھ ہیں۔

  17. ہوائی اور الاسکا کے علاوہ تمام 48 ریاستوں میں پولنگ کا عمل مکمل

    تقریباً تمام ریاستوں میں پولنگ سٹیشن بند ہو چکے ہیں۔ صرف ہوائی اور الاسکا کی ریاستوں میں پولنگ کا عمل جاری ہے۔

    آدھی سے زیادہ ریاستوں میں نتائج کا اعلان ہو چکا ہے اور اب تک آنے والے نتائج توقع کے مطابق ہیں۔

    ٹرمپ نے روایتی طور پر ریپبلکن ریاستوں پر اپنی گرفت برقرار رکھی ہے جب کہ ہیرس نے ڈیموکریٹک کے مضبوط گڑھ میں فتح حاصل کی ہے۔

  18. آئیداہو میں ٹرمپ کو واضح برتری حاصل

    آئیداہووہ ریاست ہے جسے مختلف اقسام کے آلوؤں کی کاشت کے حوالے سے جانا جاتا ہے جن میں یوکون گولڈ اور آئیداہوپوٹیٹو وغیرہ شامل ہیں۔

    یہ روایتی طور پر ایک رپبلکن ریاست ہے۔

  19. سوئنگ سٹیٹ جارجیا میں ٹرمپ جیت کے قریب, جون سڈورتھ، بی بی سی جارجیا

    جارجیا میں 90 فیصد ووٹ ڈالے جا چکے ہیں اور اب تک کملا ہیرس کی جیت کا امکان کم نظر آ رہا ہے۔

    تین فیصد پوائنٹس کے ساتھ ڈونلڈ ٹرمپ کا پلڑا حاوی ہے اور ایسا لگ رہا ہے کہ باقی ماندہ شہری ووٹوں میں ہیرس کو بہتر کارکردگی دکھانا ہو گی۔

    ابھی اس بات کا اندازہ لگانا قبل از وقت ہو گا کہ کس امیدوار کو فیصلہ کن برتری حاصل ہو گی تاہم آپ کو بتاتے چلیں کہ الیکٹرول کالج میں جارجیا کے ووٹوں کی تعداد 16 ہے۔

    سنہ 2020 کے انتخاب میں یہاں سے ڈیموکریٹس یعنی جو بائیڈن بہت کم مارجن سے جیتے تھے۔

    اور گذشتہ 10 صدارتی اتنخابات میں سے آٹھ میں ریپلیکنز کو فتح حاصل ہوئی ہے۔

  20. کیا کملا ہیرس کو بائیڈن کے مقابلے میں کم خواتین نے ووٹ دیے؟, انتھونی زرچر، نامہ نگار برائے شمالی امریکہ

    ہمیں ایگزٹ پولز سے متعلق مزید ڈیٹا موصول ہوا ہے جس میں صدارتی انتخاب میں مردوں اور خواتین کے حوالے سے موجود تقسیم کے بارے میں مزید وضاحت ملتی ہے۔

    اس میں کچھ زیادہ حیرت کی بات نہیں ہے کہ خواتین کی اکثریت کملا ہیرس کے ساتھ جبکہ مردوں کی اکثریت ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ہے۔

    تاہم جو چیز خاصی حیران کن ہے وہ یہ کہ 54 فیصد خواتین نے ہیرس کی حمایت کی ہے تاہم سنہ 2020 میں 57 فیصد نے جو بائیڈن کی حمایت کی تھی۔

    الیکشن سے قبل مردوں اور خواتین کے درمیان جس تاریخی تقسیم کی بات کی جا رہی تھی وہ شاید قبل از وقت اندازہ تھا۔

    ایگزٹ پولز عام طور پر وقت کے ساتھ تبدیل ہوتے رہتے ہیں اور یہ ایک واضح نقشہ پیش نہیں کرتے لیکن اگر ڈیموکریٹس کو ملنے والے خواتین کے ووٹوں کی تعداد میں چار سال پہلے کے مقابلے میں کمی آئی ہے تو یہ ہیرس کیمپ کے لیے خاصا پریشان کن ہو گا۔