انڈین وزیرِ اعظم کا اسرائیلی پارلیمان سے خطاب: نریندر مودی کی غزہ امن عمل کی حمایت، ہولوکاسٹ تاریخ کا سیاہ ترین باب قرار

انڈیا کے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے اسرائیل کی پارلیمان سے خطاب کرتے ہوئے غزہ امن منصوبے کی حمایت کی ہے اور کہا ہے کہ اس سے نہ صرف خطے میں امن قائم کرنے بلکہ مسئلہ فلسطین بھی حل کرنے میں مدد ملے گی۔ دوسری جانب اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ نریندر مودی ’صرف ایک دوست نہیں، بلکہ بھائی ہیں۔‘

خلاصہ

  • انڈین وزیرِ اعظم کا اسرائیلی پارلیمان سے خطاب: نریندر مودی کی غزہ امن منصوبے کی حمایت، ہولوکاسٹ تاریخ کا سیاہ ترین باب قرار
  • انچسٹر کی مسجد میں دورانِ تراویح 'کلہاڑی کے ساتھ داخل ہونے والا' شخص گرفتار، برطانوی وزیر اعظم کا اظہار تشویش
  • امید ہے مذاکرات کے نتیجے میں واشنگٹن کے ساتھ کشیدگی ختم کرنے میں مدد ملے گی: ایرانی صدر
  • لاہور میں بسنت کے دوران 17 افراد ہلاک ہوئے: محکمہ داخلہ پنجاب

لائیو کوریج

  1. پاکستانی حملوں کے بعد ننگرہار اور پکتیکا سے شہری ہلاکتوں کی ’تشویشناک اطلاعات‘ موصول ہوئیں: اقوامِ متحدہ کا امدادی مشن برائے افغانستان

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    افغانستان میں اقوامِ متحدہ کے امدادی مشن (یوناما) کا کہنا ہے کہ حالیہ پاکستانی حملوں کے بعد اسے ننگرہار اور پکتیکا صوبوں میں شہری ہلاکتوں سے متعلق ’تشویشناک اطلاعات‘ موصول ہوئی ہیں۔

    یوناما نے پیر کو جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق‘ ننگرہار میں ’کم از کم 13 شہری، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، ہلاک جبکہ سات دیگر زخمی ہوئے ہیں۔‘

    بیان میں پکتیکا کے ضلع برمل کے گاؤں مرغئی میں ایک مدرسے اور ضلع ارغون کے علاقے دہنہ میں ایک نجی رہائشی مکان پر حملوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے، تاہم کہا گیا ہے کہ ان علاقوں سے تاحال شہری ہلاکتوں کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

    افغانستان میں اقوامِ متحدہ کے امدادی مشن نے تمام فریقین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ’شہریوں کے تحفظ اور مزید جانی نقصان سے بچاؤ کے لیے دشمنی ختم کریں‘ اور بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں کے مطابق ’شہری ہلاکتوں کی روک تھام کے لیے احتیاط کے اصولوں کو مدِنظر رکھیں۔‘

    یاد رہے اس سے قبل طالبان حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ ننگرہار کے ضلع بہسود میں حالیہ پاکستانی فضائی حملوں میں ایک ہی خاندان کے 18 افراد ہلاک جبکہ پانچ دیگر زخمی ہوئے۔

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ خوگیانی میں کم از کم دو اور پکتیکا کے برمل میں ایک شخص زخمی ہوا ہے۔

    پاکستانی حکام کا دعویٰ ہے کہ ان حملوں میں سات عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا اور درجنوں شدت پسند مارے گئے۔

  2. امریکہ میں سابق برطانوی سفیر پیٹر مینڈیلسن ایپسٹین فائلز کیس میں گرفتار

    bbc

    برطانوی پولیس نے امریکہ میں برطانیہ کے سابق سفیر پیٹر مینڈیلسن کو عوامی عہدے کے غلط استعمال کے شبے میں گرفتار کر لیا ہے۔

    ان کی گرفتاری ایپسٹین فائل سے منسلک تفتیش کے بعد ہوئی ہے۔

    اس سے قبل سابق برطانوی شہزادے اینڈریو ماؤنٹ بیٹن کو ایپسٹین کیس کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ان پر سرکاری عہدے کے غلط استعمال کا بھی الزام تھا۔

    لندن میٹروپولیٹن پولیس نے بتایا کہ 72 سالہ مینڈیلسن کو پیر کے روز شمالی لندن کے علاقے کیمڈن سے گرفتار کیا گیا اور پوچھ گچھ کے لیے پولیس سٹیشن لے جایا گیا۔

    پولیس نے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ گرفتاریاں ولٹ شائر اور کیمڈن میں دو مقامات پر سرچ وارنٹ پر عمل درآمد کے بعد عمل میں آئیں۔

    پولیس نے اس ماہ کے شروع میں ان الزامات کی تحقیقات کا آغاز کیا تھا کہ منڈیلسن نے حکومتی وزیر کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے ہوئے جنسی جرائم کے مجرم جیفری ایپسٹین کو ممکنہ طور پر مارکیٹوں کو متاثر کرنے والی حساس سرکاری معلومات منتقل کیں۔

  3. پنجگور میں فائرنگ کے دو واقعات میں دو خواتین سمیت آٹھ افراد ہلاک

    ‎بلوچستان کے ایران سے متصل ضلع پنجگور میں فائرنگ کے دو مختلف واقعات میں دو خواتین سمیت آٹھ افراد ہلاک اور تین افراد زخمی ہو گئے

    ‎ہلاک ہونے والے چھ افراد سرکاری حامی بتائے جاتے ہیں جبکہ ہلاک ہونے والی خواتین اور زخمی افراد افغان شہری ہیں۔

    ‎پنجگور میں انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار نے بتایا کہ چھ افراد کی ہلاکت کا واقعہ ایران کے سرحد کے قریب چیدگی کے علاقے میں پیش آیا۔

    ‎اہلکار کے مطابق ہلاک ہونے والوں ان افراد میں ضلع پنجگور ہی سے تعلق رکھنے والے حاجی داؤد خان اور ان کے ساتھی شامل تھے جن پر نامعلوم مسلح افراد نے گھات لگا کر حملہ کیا جس میں وہ سب کے سب مارے گئے ۔

    ‎انھوں نے بتایا کہ مسلح افراد نے ان کی دو گاڑیوں کو بھی نذرآتش کیا ہے۔

    ‎انھوں نے بتایا کہ حاجی داؤد خان اور ان کے ساتھیوں کا تعلق پنجگور کے مختلف علاقوں سے تھا اور ان کا شمار سرکار کے حامی افراد میں ہوتا تھا۔

    ‎ ان کا کہنا تھا کہ واقعے کے محرکات کے بارے میں تحقیقات جاری ہیں تاہم انھوں نے اس واقعے کے حوالے سے ٹارگٹ کلنگ کے امکان کو مسترد نہیں کیا ہے۔

    دریں اثنا حکومت بلوچستان نے پنجگور میں پیش آنے والے اس واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

    وزیر اعلی بلوچستان کے معاون شاہد رند نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مسلح افراد کی جانب سے گاڑی میں سوار بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا بزدلانہ اور قابل مذمت فعل ہے۔

    انھوں نے کہا کہ واقعہ کی مکمل، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ذمہ دار عناصر کی فوری گرفتاری کے لیے خصوصی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔

    خیال رہے کہ پنجگور میں 31 جنوری کے بعد سے تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور اب تک پنجگور کے مختلف علاقوں سے نو سے زائد افراد کی تشدد زدہ لاشیں ملی ہیں۔

    سینیئر سرکاری اہلکار نے بتایا کہ دو خواتین کی ہلاکت اور تین افراد کے زخمی ہونے کا واقعہ پروم میں پیش آیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والی خواتین اور زخمی افراد افغان شہری ہیں جو کہ پنجگور کے راستے غیر قانونی طور پر ایران جارہے تھے ۔

    ‎انھوں نے بتایا کہ جس گاڑی میں یہ لوگ سفر کررہے تھے اسے سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں نے رکنے کا اشارہ کیا تھا لیکن گاڑی نہیں رکی بلکہ فرار ہونے کی کوشش کی گئی۔

    ‎ ان کا کہنا تھا کہ گاڑی کو مشکوک جان کر سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں نے فائرنگ کی جس کے باعث گاڑی میں سوار دو خواتین ہلاک اور ایک خاتون سمیت تین افراد زخمی ہو گئے۔

    ‎ہلاک ہونے والوں کی لاشوں اور زخمیوں کو ٹیچنگ ہسپتال پنجگور منتقل کیا گیا ہے۔

  4. عمران خان کو آنکھ کے علاج کے لیے ہسپتال لایا گیا جہاں انجیکشن کی دوسری خوراک لگائی: پمز انتظامیہ

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما عمران خان کو آنکھ کے علاج کے لیے 23 اور 24 فروری کی درمیانی شب اسلام آباد کے پمز ہسپتال لے جایا گیا۔

    پمز ہپستال کی انتظامیہ کے مطابق ’عمران احمد خان نیازی ولد اکرام اللہ خان نیازی (عمر 74 سال) کو 24 فروری 2026 کو آنکھوں کے فالو اپ علاج یعنی دوسری خوراک کے لیے پمز لایا گیا۔‘

    ہسپتال کی جانب سے جاری مختصر بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’انھیں (عمران خان کو ) انٹرا وٹریل انجیکشن کی دوسری خوراک لگائی گئی۔ یہ طریقہ کار بطور ڈے کیئر سرجری انجام دیا گیا۔‘

    اس پریس ریلز کے بعد ان کی جماعت پاکستان تحریکِ انصاف نے عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ایک پریس ریلیز جاری کی گئی جس میں تصدیق کی گئی ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کو ہسپتال لایا گیا اور ان کی آنکھوں کے علاج کے لیے دوسری خوراک دی گئی۔‘

    ’بیان کے مطابق، ڈے کیئر سرجری کا یہ عمل رضامندی کے ساتھ انجام دیا گیا۔‘

    پی ٹی آئی کے بیان کے مطابق ’پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا سختی سے یہ موقف ہے کہ محض دو لائنوں پر مشتمل سرسری طریقہ کار کی تحریر کسی صورت بھی جامع اور آزادانہ طور پر تصدیق شدہ طبی رپورٹ کا متبادل نہیں ہو سکتی۔‘

    پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ ’عمران خان کی زیرِ حراست حیثیت کے پیشِ نظر، ان کے ذاتی معالج اور خاندان کو رسائی دی جانی چاہیے۔‘

    جماعت نے بیان میں کہا کہ ’ان کے طبی علاج کے حوالے سے مسلسل ابہام اور رازداری عوامی بے چینی میں اضافے اور اس عمل کی شفافیت پر اعتماد کو مزید ٹھیس پہنچانے کا باعث بن رہی ہے۔‘

  5. ٹی 20 ورلڈ کپ کے میچ میں ویسٹ انڈیز کی زمبابوے کو 107 رنز سے بڑی شکست

    Westindies

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ٹی 20 ورلڈ کپ کے سپر ایٹ مرحلے کے میچ میں ویسٹ انڈیز نے زمبابوے کو 107 رنز سے شکست دے دی۔

    اس سے پہلے ویسٹ انڈیز نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے زمبابوے کو جیت کے لیے 255 رنز کا ہدف دیا تھا۔

    ممبئی کے وانکھیڑے سٹیڈیم میں کھیلے جارہے میچ میں زمبابوے نے ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹاس جیت کر پہلے بولنگ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

    ہدف کے تعاقب میں زمبابوے کی پوری ٹیم 147 رنز پر پویلین لوٹ گئی اور یوں ویسٹ انڈیز سپر ایٹ مرحلے میں اس جیت کے ساتھ گروپ ون کے پوائنٹس ٹیبل میں پہلے نمبر پر آگئی۔

    واضح رہے کہ انڈیا کے لیے اب صورتحال کافی مشکل ہو گئی ہے۔ اگرچہ انڈیا کو ابھی ویسٹ انڈیز اور زمبابوے سے میچز کھیلنا ہیں، تاہم سیمی فائنل میں پہنچنے کے لیے انڈیا کو نہ صرف یہ دونوں میچز جیتنا ہیں بلکہ بھاری مارجن سے جیتنا ہوں گے۔

    ویسٹ انڈیز کی بڑے مارجن سے جیت کے بعد اب اگر انڈیا کے کسی ٹیم سے پوائنٹس برابر ہوئے تو کم رن ریٹ کے باعث ناک آؤٹ مرحلے تک پہنچنا مشکل ہوجائےگا۔

    اس میچ میں ویسٹ انڈیز نے پہلے کھیلتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں چھ وکٹوں کے نقصان پر 254 رنز بنائے۔

    شمرون ہیٹمائر نے 34 گیندوں پر 85 رنز بنائے۔ ان کی اننگز میں میں سات چوکے اور سات ہی چھکے شامل تھے۔ رومین پاول 59 رنز بنا کر نمایاں رہے جبکہ شرفین ردرفورڈ نے 31 اور شیفرڈ نے 21 رنز بنائے۔

    زمبابوے کی جانب سے مزرابانی اور رچرڈ نے دو، دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

  6. جنگ ہوئی تو پورا خطہ لپیٹ میں آئے گا: ایران کے نائب وزیر خارجہ کی امریکہ کو دھمکی

    UN

    ،تصویر کا ذریعہUN

    ایران کے نائب وزیر خارجہ نے خبردار کیا ہے کہ ’جنگ کے اثرات صرف دونوں ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔‘

    کاظم غریب آبادی، جو جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں خطاب کر رہے تھے نے، بھی امریکہ اور اسرائیل کا نام لیے بغیر کہا کہ ’ایران کے دشمن، جنھوں نے 12 روزہ جنگ میں سخت اور دردناک شکست کھائی، اس بار افراتفری اور بدامنی کے ذریعے ایک اور فوجی آپریشن کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کی۔‘

    کاظم غریب آبادی نے خبردار کیا کہ ’دشمن جنگ شروع کرنے کے قابل ہو سکتے ہیں، لیکن وہ اسے ختم نہیں کریں گے۔‘

    اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کا 61 واں اجلاس آج سے شروع ہو رہا ہے۔

  7. پنجاب حکومت کا کسانوں سے 30 لاکھ میٹرک ٹن گندم خریدنے کا اعلان

    PMLN

    ،تصویر کا ذریعہPMLN

    وزیر اعلیٰ مریم نواز نے کہا ہے کہ پنجاب پاکستان کا پہلا صوبہ بن گیا ہے جس نے اپنے سٹریٹجک ویٹ ریزرو کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پر مبنی پالیسی متعارف کرائی ہے۔

    وزیرِ اعلیٰ پنجاب نے اعلان کیا کہ اس پالیسی کے تحت رواں سال صوبے کے کسانوں سے 30 لاکھ میٹرک ٹن گندم خریدی جائے گی، جس کی قیمت 3500 روپے فی من مقرر کی گئی ہے۔

    انھوں نے مزید بتایا کہ اس منصوبے میں 35 ڈومیسٹک اور انٹرنیشنل کمپنیاں پری کوالیفائی کر چکی ہیں۔ مریم نواز نے کہا کہ یہ اقدام کسانوں کے لیے خوشخبری ہے اور صوبے میں گندم کے ذخائر کو محفوظ بنانے کے لیے ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔

  8. پاکستان نے اپنے اقدام سے ظاہر کیا کہ وہ امن نہیں چاہتا: ترجمان

    افغانستان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    افغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ امارت اسلامیہ افغانستان نے گذشتہ دنوں پاکستان کے تین فوجی رہا کیے تھے جس کا مقصد یہ پیغام دینا تھا کہ ہم امن چاہتے ہیں تاہم پاکستان نے حالیہ فضائی حملوں کے ذریعے یہ ردعمل دیا ہے کہ وہ امن نہیں چاہتے۔

    بی بی سی پشتو ریڈیو کو پیر کے روز دیے گئے ایک انٹرویو میں افغان طالبان کے ترجمان نے کہا کہ ’اب ہم بدلہ لیں گے، اور اگر اس کے بعد بھی پاکستان نے کوئی ایکشن کیا تو (وہ) اس کا ری ایکشن بھی دیکھیں گے۔‘ جب اُن سے پوچھا گیا کہ ’ہم نے دیکھا ہے کہ کئی پاکستانی طالبان افغانستان میں بھی لڑے ہیں اور ان کے آپ لوگوں کے ساتھ روابط ہیں؟ اس پر ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ’ہماری شناخت ایک ہے، زبان ایک ہے، ہم ان پر واضح کر چکے ہیں کہ وہ افغانستان کی سرزمین استعمال نہیں کر سکتے۔‘

    جب اُن سے پاکستان کے اس دعوے سے متعلق پوچھا گیا کہ پاکستانی حکام اور ماہرین کہتے ہیں کہ ٹی ٹی پی اور افغان طالبان ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں تو اس پر طالبان کے ترجمان نے کہا کہ ’یہ وہ لوگ کہتے ہیں جو طالبان کی سیٹ اپ سے بے خبر ہیں۔‘ انھوں نے کہا کہ اُن (ٹی ٹی پی) کی علیحدہ تنظیم اور شناخت ہے۔‘

    ترجمان کے مطابق ’ٹی ٹی پی مشرف دور میں غلط پالیسیوں کی وجہ سے 2003 میں وجود میں آئی تھی۔ ان کی لڑائی جھگڑوں کی اپنی ایک تاریخ ہے، ان کے بڑے رہنما رہ چکے ہیں، جیسا کہ حکیم اللہ محسود اور بیت اللہ محسود۔‘ ذبیح اللہ مجاہد نے مزید کہا کہ ’پاکستان نے ماضی میں بھی افغانستان پر اس نوعیت کے حملے کیے ہیں اور ہم نے ان کا بھرپور جواب دیا اور اس بار بھی ہم اپنی قوت اور توانائی کے مطابق جواب دیں گے۔‘

    افغان طالبان کے ترجمان نے الزام عائد کیا کہ افغانستان میں کیے جانے والے ’ایسے حملوں کی کڑی پاکستانی فوج کے ایک مخصوص طبقے سے ملتی ہے، وہ طبقہ جن سے افغانستان میں امن اور ترقی نہیں دیکھی جا رہی ہے۔‘ انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’یہ مخصوص طبقہ نہ تو پاکستان کی حکومت کی بات سنتا ہے، نہ عوام کی، نہ علما کی، نہ پارلیمان کی اور نہ سیاستدانوں کی اور نہ ہی سیاسی جماعتوں کی۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم پورے پاکستان کو ان حملوں کا مؤرد الزام نہیں ٹھہراتے ہیں۔‘

  9. دہلی اسمبلی کو بم سے اڑانے کی دھمکی، سپیکر نے پولیس کمشنر کو خط لکھ دیا

    Raj K Raj/Hindustan Times via Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہRaj K Raj/Hindustan Times via Getty Images

    انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی کی اسمبلی کے سپیکر وجیندر گپتا کو ذاتی ای میل کے ذریعے دہلی اسمبلی کو بم سے اڑانے کی دھمکی ملی ہے۔ ای میلز میں ’خالصتان نیشنل آرمی‘ کے نام سے چند افراد کے دستخط موجود ہیں۔

    یہ اطلاع دہلی اسمبلی کے آفیشل ایکس ہینڈل سے دی گئی ہے، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس بارے میں متعلقہ سیکیورٹی محکمے کو مطلع کر دیا گیا ہے۔

    دہلی اسمبلی کے سپیکر نے دہلی پولیس کمشنر کو ایک خط لکھ کر ضروری کارروائی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ ان ای میلز کے ماخذ کا سراغ لگانے کے لیے تحقیقات کی جائیں تاکہ اسمبلی اور اسپیکر کو لاحق خطرات کا سدباب کیا جا سکے۔

    اس سے قبل ’ڈھولا کوان‘ میں آرمی پبلک سکول اور دارالحکومت کے لودھی روڈ پر واقع ایئر فورس بال بھارتی سکول کو بھی بم دھماکے کی دھمکی آمیز ای میلز موصول ہوئی تھیں، تاہم تلاشی کے دوران کوئی مشکوک چیز برآمد نہیں ہوئی۔

  10. پاکستان کے حالیہ حملوں میں مرنے والوں میں آٹھ طالبعلم بھی شامل ہیں: طالبان حکومت کی وزارت تعلیم کا دعویٰ

    Afghanistan

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    طالبان حکومت کی وزارت تعلیم نے دعویٰ کیا ہے کہ پکتیکا اور ننگرہار میں سنیچر اور اتوار کی رات کو پاکستانی فضائی حملوں میں آٹھ طالبعلم بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

    وزارت کے ترجمان منصور احمد حمزہ نے میڈیا کو بتایا کہ تین لڑکیوں اور پانچ لڑکوں سمیت آٹھ طالب علم ہلاک اور ایک زخمی ہوا ہے۔ بی بی سی آزادانہ طور پر اس دعوے کی تصدیق نہیں کر سکا ہے۔

    یاد رہے کہ پاکستان میں عسکری ذرائع نے دعویٰ کیا تھا کہ انٹیلیجنسڈ بیسڈ فضائی حملوں میں ٹی ٹی پی کے سات مراکز کو تباہ کیا گیا جس میں 80 سے زائد شدت پسند مارے گئے ہیں۔ تاہم اس دعوے کی بھی بی بی سی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا ہے۔

  11. اقوام متحدہ میں افغانستان کے مستقل مندوب کی سلامتی کونسل میں پاکستانی فضائی حملوں کے خلاف باقاعدہ شکایت

    Afghanistan Mission to UN

    ،تصویر کا ذریعہAfghanistan Mission to UN

    اقوام متحدہ میں افغانستان کے مستقل مشن نے ننگرہار اور پکتیکا میں حالیہ پاکستانی فضائی حملوں کے بارے میں سلامتی کونسل میں ایک ’رسمی شکایت‘ جمع کرائی ہے۔

    ناصر احمد فائق، جو اقوام متحدہ میں افغانستان کے مستقل مندوب کے طور پر کام کر رہے ہیں نے اپنے فیس بک پیج پر دعویٰ کیا کہ حالیہ پاکستانی فضائی حملوں میں ’خواتین اور بچوں‘ سمیت عام شہری مارے گئے ہیں۔

    ناصر احمد فائق نے کہا کہ ’آج، افغانستان کے مستقل مشن نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں باقاعدہ شکایت پیش کی ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم ان خلاف ورزیوں کو فوری طور پر بند کرنے اور تحقیقات، جوابدہی، علاقائی سالمیت کے احترام، اقوام متحدہ کے چارٹر سے وابستگی اور بین الاقوامی قانون کی مکمل تعمیل کا مطالبہ کرتے ہیں۔‘

    اقوام متحدہ میں افغانستان کے مستقل مندوب نے گذشتہ روز ایک بیان میں پاکستان کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انھیں ’اقوام متحدہ کے چارٹر کی صریح خلاف ورزی‘ کے ساتھ ساتھ ’بین الاقوامی انسانی حقوق کے تسلیم شدہ اصولوں‘ سے بھی متصادم قرار دیا تھا۔

    بیان میں مزید کہا گیا تھا کہ افغانستان کے عوام کو جنھوں نے دہشت گردی کی وجہ سے عظیم قربانیاں دی ہیں، دہشت گردی کے خلاف ذمہ دارانہ اور غیر جانبدارانہ جنگ میں دوسروں کی ناکامیوں کا خمیازہ بھگتنا نہیں چاہیے۔

  12. کرک میں فیڈرل کانسٹبلری پر حملہ، تین اہلکار ہلاک, عزیزاللہ خان، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

    KPK

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع کرک میں فیڈرل کانسٹبلری کے کیمپ پر نامعلوم افراد نے کواڈ کاپٹر کے ذریعے حملہ کیا ہے جس میں پانچ اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

    کرک پولیس کے ترجمان کے مطابق زخمی اہلکاروں کو ریسکیو کی ایمبولینس کے ذریعے ہسپتال منتقل کیا جا رہا تھا کہ راستے میں ایمبولینس پر دوبارہ فائرنگ کی گئی۔ ترجمان کے مطابق اس حملے میں تین اہلکار موقع پر ہی ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ ایک ریسکیو اہلکار سمیت پانچ افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    ہلاک ہونے والوں میں لانس نائیک عادل خان، سپاہی آئین خان اور سپاہی مراد گل شامل ہیں۔ ترجمان کے مطابق زخمیوں میں حوالدار صابر، سپاہی آمین، سپاہی زوہیب، سپاہی مراد اور سپاہی یوسف شامل ہیں۔

    زخمیوں کو فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ علاقے میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حملہ آوروں کی تلاش کے لیے کارروائی شروع کر دی ہے۔

  13. انڈیا کی اپنے شہریوں کو فوری طور پر ایران چھوڑنے کی ہدایت

    ِانڈیا، ایران

    ،تصویر کا ذریعہ@Iran_in_India

    تہران میں انڈین سفارتخانے نے 23 فروری 2026 کو ایک ایڈوائزری جاری کی ہے جس میں ایران میں موجود انڈین شہریوں کو فوری طور پر ملک چھوڑنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    سفارتخانے کے مطابق یہ ہدایت پانچ جنوری اور 14 جنوری کو ملک میں جاری مظاہروں کے دوران کی جانے والی ہدایات کا تسلسل ہے۔

    نئی ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ تازہ صورتحال کے پیشِ نظر طلبا، زائرین، کاروباری افراد اور سیاحوں کو کہا گیا ہے کہ وہ دستیاب ذرائع، بشمول کمرشل پروازوں کے ذریعے ایران سے روانہ ہو جائیں۔

    ایڈوائزری میں انڈین شہریوں اور اوورسیز انڈینز کو تاکید کی گئی ہے کہ وہ احتیاط برتیں، احتجاج یا مظاہروں والے علاقوں سے دور رہیں، مقامی میڈیا پر نظر رکھیں اور مسلسل انڈین سفارتخانے سے رابطے میں رہیں۔

    اس ایڈوائزری میں مزید کہا گیا ہے کہ تمام انڈین شہری اپنے سفری اور امیگریشن دستاویزات، جیسے پاسپورٹ اور شناختی کارڈ، ہر وقت اپنے پاس رکھیں۔ کسی بھی مشکل کی صورت میں وہ سفارتخانے سے مدد حاصل کر سکتے ہیں۔

    سفارتخانے نے ہنگامی رابطہ نمبرز اور ای میل بھی فراہم کیے ہیں تاکہ شہری فوری طور پر مدد حاصل کر سکیں۔ اس کے علاوہ جن انڈین شہریوں نے ابھی تک سفارتخانے میں رجسٹریشن نہیں کرائی، انھیں ہدایت کی گئی ہے کہ وہ آن لائن لنک کے ذریعے رجسٹریشن کریں۔

    اگر ایران میں انٹرنیٹ مسائل کی وجہ سے رجسٹریشن ممکن نہ ہو تو انڈیا میں موجود ان کے اہلِ خانہ یہ عمل مکمل کر سکتے ہیں۔

  14. جبری گمشدگی کے مقدمے میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے سیکریٹری دفاع کو بھی طلب کر لیا, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    Family

    ،تصویر کا ذریعہFamily

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے جبری گمشدگی سے متعلق ایک درخواست کی سماعت میں سیکریٹری دفاع اور سیکریٹری داخلہ کو ذاتی حیثیت میں عدالت میں طلب کر لیا ہے اور کہا ہے کہ اگر عدالت کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہوا تو دونوں سیکریٹریز کو توہینِ عدالت میں شوکاز نوٹس جاری کیا جائے گا۔

    یہ حکم اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج محسن اختر کیانی نے عمر عبداللہ نامی شخص کی بازیابی سے متعلق ان کی اہلیہ کی طرف سے دائر درخواست کی سماعت کے دوران دیا۔

    جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ جبری گمشدگیوں سے متعلق عدالتی فیصلے موجود ہیں لیکن اداروں کے متعلقہ افسران کے خلاف اب تک کی گئی کارروائی کے بارے میں کوئی وضاحت نہیں دی گئی۔

    کمرہ عدالت میں موجود ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے جسٹس کیانی نے کہا کہ لاپتہ افراد کے حوالے سے ان کیمرہ بریفنگ دینی ہے یا نہیں؟ انھوں نے کہا کہ فیلڈ آفیسر ملٹری انٹیلیجنس یا آئی ایس آئی کا ہو سکتا ہے جو عدالت کو بریفنگ دے۔ اس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل راشد حفیظ نے کہا کہ ’فیلڈ آفیسر آتے نہیں اور نہ ہی ہمیں ان کے بارے میں معلومات ہیں۔‘

    جسٹس کیانی نے ریمارکس دیے کہ درخواست گزار کا خاوند 2013 میں لاپتہ ہوا اور اب 2026 ہے۔ ایک شخص کی جبری گمشدگی کے بارے میں سمجھنا چاہ رہا ہوں۔

    انھوں نے کہا کہ ’عدالت قانون کے مطابق چلنا چاہتی ہے اور ڈویژن بنچ نے بھی کہا کہ یہ جبری گمشدگی کا کیس ہے۔ یہ ایک معذور شخص کے بارے میں کیس ہے اور ریاست اس کے بارے میں بتانے کو تیار نہیں۔ اگر وہ دہشت گرد ہے تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کریں۔‘

    جسٹس کیانی نے مزید کہا کہ حکومت اس شخص کی فیملی کو پچاس لاکھ روپے دے چکی ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کا لارجر بنچ جب ٹوٹ گیا تو دوبارہ تشکیل نہیں دیا گیا۔

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے استدعا کی کہ عدالت کچھ وقت دے تاکہ آئندہ سماعت پر کیس میں معاونت کی جا سکے۔

    جسٹس کیانی نے کہا کہ خفیہ ایجنسیوں کے اہلکار قابلِ احترام ہیں اور ملک کے تحفظ کے لیے کام کر رہے ہیں۔ وزارت دفاع کے نمائندے نے کہا کہ ہم نے کبھی تسلیم نہیں کیا کہ یہ شخص کسی ایجنسی کے پاس ہے۔ انھوں نے وضاحت کی کہ لاپتہ افراد کی فیملی کو دی جانے والی رقم معاوضہ نہیں بلکہ معاونت ہے، جو وزیرِ اعظم نے پانچ سال سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد منظور کی تھی۔

    وزارت دفاع کے نمائندے نے مزید کہا کہ جبری گمشدگی کے بارے میں ان کیمرہ بریفنگ اس مقدمے کے دائرہ کار سے باہر ہے۔ اس پر جسٹس کیانی نے کہا کہ عدالت کیوں نہ وزیرِ اعظم کو طلب کرے کہ انھوں نے فیلڈ آفیسرز کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی؟ ہم توقع کرتے ہیں کہ وزیرِ اعظم قانون پر عمل کریں گے۔

    عدالت نے اس درخواست کی مزید سماعت 26 مارچ تک ملتوی کر دی۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    محمد عبد اللہ عمر کون ہیں؟

    محمد عبداللہ عمر انٹرنیشل اسلامی یونیورسٹی میں لا کے طالب علم تھے۔ ان کے اہل خانہ کا دعویٰ ہے کہ انھیں 20 جون 2015 میں اسلام آباد میں واقع ایک نجی سکول کے باہر سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا۔

    ہائیکورٹ میں دائر کی گئی درخواست کے مطابق مئی 2015 میں درج ایک مقدمے کے مطابق وہ نامعلوم افراد کی فائرنگ سے زخمی ہوگئے تھے اور ان کی دونوں ٹانگیں مفلوج ہو گئی تھیں۔

    درخواست کے مطابق انھیں ایف آئی اے کے پراسیکیوٹر چوہدری ذوالفقار علی اور وفاقی وزیر شہباز بھٹی کے قتل کے مقدمات میں نامزد کیا گیا تھا تاہم انسداد دہشت گردی عدالت کی طرف سے انھیں طبی بنیادوں پر ضمانت بعد از گرفتاری مل چکی تھی۔

    محمد عبداللہ کے والد اور درخواست گزار کرنل ریٹائرڈ خالد عباسی نے بی بی سی کو بتایا کہ ان مقدمات میں دیگر تمام ملزمان عدم ثبوت کی بنا پر بری کر دیے گئے ہیں جن میں پنجاب پولیس کے ڈی آئی جی کامران عادل کے دو بھائی بھی شامل ہیں۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کرنے والے خالد عباسی 2005 میں آرمی سے کرنل رینک کے عہدے پر پہنچنے کے بعد ریٹائر ہوگئے تھے۔

  15. کوہاٹ میں لیڈی ڈاکٹر کا قتل، ’ملزم کی شناخت ہو چکی ہے اور گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں‘, عزیزاللہ خان، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

    خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں ایک لیڈی ڈاکٹر کو نامعلوم افراد نے قتل کر دیا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس کی وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ لیڈی ڈاکٹر نے خواتین مریضوں کے ساتھ آنے والے مردوں سے صرف یہ کہا تھا کہ وہ باہر بیٹھیں، کیونکہ وہ خواتین کا معائنہ کر رہی تھیں۔

    ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر طاہر نے بی بی سی کو بتایا کہ ایمرجنسی وارڈ میں لیڈی ڈاکٹر کے ساتھ دو خواتین مریض آئی تھیں جن کے ساتھ دو مرد بھی موجود تھے۔ ان کے مطابق سی سی ٹی وی فوٹیج اور عملے سے معلومات لینے کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ لیڈی ڈاکٹر کی ہدایت پر عمل نہ کرنے پر ان مرد اٹنڈنٹس نے تلخ کلامی کی۔ عملے نے دونوں مردوں کو ایک طرف بٹھا دیا جبکہ لیڈی ڈاکٹر نے خواتین کا معائنہ مکمل کیا۔

    ڈاکٹر طاہر کے مطابق اتوار کے روز افطاری کا وقت تھا۔ لیڈی ڈاکٹر نے افطاری کی اور نماز ادا کر رہی تھیں کہ اسی دوران دو خواتین اور ان کے ساتھ دو مرد ایمرجنسی میں داخل ہوئے۔ جب مرد اندر آئے تو لیڈی ڈاکٹر نے انھیں باہر بیٹھنے کو کہا، جس پر دونوں نے انکار کیا اور تلخ کلامی شروع ہو گئی۔ ایمرجنسی میں موجود پولیس اہلکار آئے اور دونوں مردوں کو باہر بٹھا دیا۔ جب خواتین کا معائنہ مکمل ہوا تو لیڈی ڈاکٹر نے پولیس سے کہا کہ انھیں جانے دیا جائے، جس کے بعد وہ وہاں سے چلے گئے۔

    ڈاکٹر طاہر نے بتایا کہ رات آٹھ بجے جب لیڈی ڈاکٹر ڈیوٹی کے بعد گھر جانے لگیں تو وہ دونوں افراد اور ان کے ساتھ ایک تیسرا شخص بھی ہسپتال کے باہر موجود تھا، جو بظاہر ان کی ریکی کر رہا تھا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق لیڈی ڈاکٹر رکشے میں سوار ہو کر روانہ ہوئیں اور وہ افراد بھی رکشے کے پیچھے چل پڑے۔ اس کے بعد کی فوٹیج ہسپتال کے پاس موجود نہیں۔ بتایا گیا ہے کہ ہسپتال سے تقریباً 200 سے 300 میٹر کے فاصلے پر لیڈی ڈاکٹر پر فائرنگ کی گئی، جس سے وہ ہلاک ہو گئیں۔

    کوہاٹ کے ضلعی پولیس افسر شہباز الٰہی نے بتایا کہ واقعے کی ایف آئی آر درج کر کے تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔ ان کے مطابق ملزم کی شناخت ہو چکی ہے اور گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

    کوہاٹ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے پولیس تھانے میں درج ایف آئی آر میں لیڈی ڈاکٹر مہوش کے شوہر محمد حسین نے بتایا کہ انھیں فون پر اطلاع ملی کہ ان کی اہلیہ پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کی ہے اور وہ زخمی حالت میں ہسپتال میں موجود ہیں۔ ان کے مطابق جب وہ ہسپتال پہنچے تو ان کی بیوی کی لاش وہاں موجود تھی۔ انھوں نے کہا کہ ان کی کسی سے کوئی دشمنی نہیں۔

    ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کوہاٹ کے صدر ڈاکٹر قاضی منیب یوسفزئی نے بی بی سی کو بتایا کہ ڈاکٹروں نے اس واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق اس واقعے کے بعد کوہاٹ میں ایمرجنسی کے علاوہ تمام او پی ڈیز اور پرائیویٹ کلینک بند رہے، اور احتجاج کا دائرہ صوبے کے دیگر علاقوں تک بھی پھیلایا جائے گا۔

  16. سٹاک مارکیٹ میں مسلسل مندی کا رجحان جاری: گذشتہ ایک ماہ میں 100 انڈیکس میں 21000 پوائنٹس سے زائد کمی کی وجوہات کیا ہیں؟, تنویر ملک، صحافی

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان سٹاک ایکسچینج میں سوموار کے روز بھی شدید مندی کا رجحان ریکارڈ کی گیا ہے اور کاروبار کے اختتام تک 100 انڈیکس میں مجموعی طور پر 5478 پوائنٹس تک کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

    مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کی جانب سے حصص کی فروخت کے رجحان کی وجہ سے پیر کے روز 100 انڈیکس 167691 پوانٹس کی سطح پر بند ہوا۔

    یاد رہے کہ پاکستان سٹاک ایکسچینج میں گذشتہ کئی روز سے مسلسل مندی کار جحان ریکارڈ کیا جا رہا ہے اور تجزیہ کاروں کے مطابق اس کی وجہ جیو پولیٹیکل صورتحال کے علاوہ لسٹڈ کمپنیوں کی جانب سے اعلان کیے جانے والے مالیاتی نتائج میں توقع سے کم گروتھ اور منافع ہے جس میں تیل و گیس کے شعبے کی کمپنیوں کے نتائج اہم ہیں اور ان کے توقع سے کم منافع کی وجہ سے مارکیٹ پر ان کا کافی منفی اثر ہوا ہے۔

    واضح رہے کہ سٹاک مارکیٹ اب تک ایک مہینے سے کم عرصے میں اپنی بلند ترین سطح پر جانے کے بعد اب تک 10 فیصد سے زائد تک پوائٹس کھو چکی ہے۔

    ایک ماہ قبل23 جنوری 2026 کو سٹاک مارکیٹ کا 100 انڈیکس 189166 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر بند ہوا تھا اور گذشتہ ایک ماہ کے دوران 100 انڈیکس میں مجموعی طور پر 21475 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

    تجزیہ کار شہر یار بٹ نے پاکستان سٹاک ایکسچینج میں مندی کے رجحان کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ اس کی سب سے بڑی وجہ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی ہے جس کی وجہ سے مارکیٹ میں رجحان گذشتہ کئی روز سے منفی ہے۔

    انھوں نے کہا کافی دن سے یہ کشیدگی چل رہی ہے جس سے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں کمی ہوئی ہے۔

    شہر یار نے بتایا کہ خطے میں کشیدگی کی وجہ سے پاکستان سٹاک مارکیٹ سے غیر ملی سرمایہ کار نکل رہے ہیں۔

    انھوں نے بتایا کہ صرف جمعہ کے روز غیر ملکی سرمایہ کاروں نے ملکی مارکیٹ سے 19 کروڑ ڈالر سے زائد کے حصص فروخت کیے تھے۔

    شہریار نے کہا جب تک امریکہ اور ایران کے درمیان تناو کی صورتحال برقرار رہتی ہے مارکیٹ دباو کا شکار رہے گی۔

    شہر یار نے کہا جیو پولیٹیکل صورتحال کے علاوہ لسٹڈ کمپنیوں کی جانب سے جو مالیاتی نتائج آئے ہیں وہ اتنے اچھے نہیں رہے جس کی وجہ سے بھی مارکیٹ میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

    تجزیہ کار کے مطابق اس وقت کوئی ایسا ٹریگر نہیں کہ جو مارکیٹ کو سپورٹ کرے۔

    تجزیہ کار احسن محنتی نے بی بی سی کو بتایا کہ جیو پولیٹیکل صورتحال نے مارکیٹ میں کاروبار پر منفی اثر ڈالا ہے تاہم اس کے ساتھ ساتھ ملک میں شرح سود کے دوبارہ بڑھنے کے امکان نے بھی سٹاک مارکیٹ کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

    محنتی نے کہا سٹیٹ بینک کی جانب سے ایک سال کے بانڈ کے گذشتہ آکشن میں صورتحال شرح سود کے بڑھنے کے امکان کا ظاہر کرتی ہے۔

    انھوں نے کہا رمضان کی وجہ سے مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے مہنگائی کا منظر نامہ متاثر ہو سکتا ہے اور مرکزی بینک شرح سود میں اضافہ کر سکتا ہے جو مارکیٹ کے لیے بہت منفی ہے۔

  17. آنڈین وزیرِ اعظم کا اسرائیل کا ’تاریخی‘ دورہ: اسرائیل اور انڈیا کے تعلقات دو عالمی رہنماؤں کے درمیان ایک طاقتور اتحاد ہے، نیتن یاہو

    مودی نیتن یاہو

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو نے اعلان کیا ہے کہ انڈیا کے وزیرِ اعظم نریندر مودی رواں ہفتے بدھ کے روز اسرائیل کا دورہ کریں گے۔

    اتوار کے روز اسرائیلی وزیرِ اعظم نے اپنے ایکس اکاؤنٹ سے جاری بیان میں کہا ہے کہ انھوں نے کابینہ کے اجلاس کے آغاز میں اپنے دیرینہ وزیر اعظم مودی کے رواں ہفتے بدھ کو اسرائیل کے تاریخی دورے کے متعلق بات کی۔

    دورے کا علان کرتے ہوئے نیتن یاہو کا کہنا تھا ’اسرائیل اور انڈیا کے تعلقات دو عالمی رہنماؤں کے درمیان ایک طاقتور اتحاد ہے۔

    ’ہم جدت، سلامتی، اور مشترکہ سٹریٹجک وژن میں شراکت دار ہیں۔ ہم مل کر استحکام اور ترقی کے لیے پرعزم قوموں محور بنا رہے ہیں۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’مصنوعی ذہانت سے لے کر علاقائی تعاون تک، ہماری شراکت داری نئی بلندیوں کو چھو رہی ہے۔‘

    ’وزیر اعظم مودی، میں یروشلم میں آپ سے ملاقات کا منتظر ہوں!‘

    انڈین وزیرِ اعظم نے نیتن یاہو کے بیان کے جواب میں لکھا کہ انڈیا اسرائیل کے ساتھ مضبوط اور پائیدار دوستی کو بہت اہمیت دیتا ہے-

    ان کا کہنا تھا کہ ’یہ دوستی باہمی اعتماد، اختراع اور امن اور ترقی کی مشترکہ خواہش پر مبنی ہے۔‘

    وزیرِ اعظم مودی کا مزید کہنا تھا کہ وہ اپنے آئندہ دورہ اسرائیل کے دوران اسرائیلی وزیرِ اعظم سے ملاقات کا بے تابی سے انتظار کر رہے ہیں۔

  18. ہمیں معلوم ہے شدت پسندوں کے سرپرست کہاں ہیں، پاکستان کے اندر خونریزی جاری رہی تو ذمہ دار بچ نہیں پائیں گے: صدر زرداری

    زرداری

    ،تصویر کا ذریعہCorbis via Getty Images

    پاکستان کے صدر آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ پاکستان کو بخوبی علم ہے کہ شدت پسند کارروائیوں کی منصوبہ بندی کرنے والے، سہولت کار اور سرپرست کہاں موجود ہیں اور اگر پاکستان کے اندر خونریزی جاری رہی تو ذمہ دار عناصر بچ نہیں پائیں گے۔

    صدر زرداری کا بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے کہ جب پاکستان نے افغانستان کے سرحدی علاقوں میں کارروائی کرتے ہوئے کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دولتِ اسلامیہ خراسان سے وابستہ شدت پسندوں کے سات ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

    تاہم افغان طالبان نے اس حملے کو سرحدی حدود کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔

    سرکاری میڈیا پی ٹی وی کے مطابق، صدر زرداری کا کہنا ہے کہ پاکستان کی حالیہ کارروائیاں اپنے عوام کو سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی سے بچانے کے بنیادی حق کی عکاسی کرتی ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ افغان حکام نے مسلسل رابطوں کے باوجود افغان حکام ان عناصر کے خلاف قابل اعتبار اور قابل تصدیق اقدامات کرنے میں ناکام رہے۔

    صدر زرداری نے کہا کہ پاکستان نے طویل عرصے تک تحمل کا مظاہرہ کیا اور اپنی کارروائیوں کو سرحدی علاقوں کے قریب دہشت گردوں کے ٹھکانوں تک محدود رکھا۔ تاہم انھوں نے خبردار کیا کہ پاکستان کو بخوبی علم ہے کہ تشدد کی منصوبہ بندی کرنے والے، سہولت کار اور سرپرست کہاں موجود ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر پاکستان کے اندر خونریزی جاری رہی تو ذمہ دار عناصر بچ نہیں پائیں گے۔

    صدر زرداری نے اپنے آٹھ فروری کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے یاد دلایا کہ پاکستان نے عالمی برادری کو خبردار کیا تھا کہ جب دہشت گرد گروہوں کو قومی سرحدوں سے باہر جگہ، سہولت یا استثنا دیا جاتا ہے تو اس کے نتائج دنیا بھر کے بے گناہ شہریوں کو بھگتنا پڑتے ہیں۔

    پاکستان کے صدر نے الزام عائد کیا کہ کابل میں قائم حکومت جسے اقوام متحدہ نے تسلیم نہیں کیا ہے مسلسل دہشت گرد عناصر کو افغان سرزمین استعمال کرنے کی اجازت دے رہی ہے جو دوحہ معاہدے کے تحت کیے گئے وعدوں کی خلاف ورزی ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ دوحہ معاہدے میں یقین دہانی کروائی گئی تھی کہ افغان سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہو گی۔

    انھوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس رپورٹ سے پاکستان کے اس موقف کی توثیق ہوتی ہے داعش خراسان، تحریک طالبان پاکستان، القاعدہ سمیت متعدد شدت پسند تنظیمیں افغانستان میں موجود ہیں اور بعض گروہوں نے افغانستان کو بیرونی حملوں کی منصوبہ بندی اور تیاری کے لیے استعمال کیا ہے یا کر رہے ہیں۔صدر زرداری کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی رپورٹ واضح کرتی ہے کہ ان تنظیموں کی موجودگی اور سرگرمیاں ہمسایہ ممالک خصوصاً پاکستان کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔

  19. انڈیا کے زیرانتظام کشمیرمیں پانچ ہفتے سے جاری آپریشن میں انڈین فوج کا جیش محمد کے کمانڈر سمیت تین عسکریت پسند ہلاک کرنے کا دعویٰ, ریاض مسرور، بی بی سی اُردو، سرینگر

    انڈین فوجی کشمیر

    ،تصویر کا ذریعہLightRocket via Getty Images

    انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے جنوبی قصبہ کشتواڑ میں پانچ ہفتے قبل مسلح عسکریت پسندوں کے خلاف جو فوجی آپریشن شروع کیا گیا تھا اس میں بالآخر فوج نے اتوار کی شام کو دعویٰ کیا ہے تازہ جھڑپ میں کالعدم مسلح تنظیم جیش محمد کے مبینہ اعلیٰ کمانڈر سمیت تین عسکریت پسندں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔

    مسلح جھڑپوں اور عسکریت پسندوں کو تلاش کرنے کے لیے وسیع پیمانے کا آپریشن ابھی بھی جاری ہے کیونکہ فوج کا دعویٰ ہے کہ مزید دو مسلح عسکریت پسند اب بھی دشوار گذار جنگلاتی علاقے کے پہاڑی درّوں میں چھپے ہیں۔

    فوج، نیم فوجی دستوں اور جموں کشمیر پولیس کے سپیشل آپریشن گروپ کا یہ مشترکہ آپریشن جنوری میں شروع کیا گیا تھا، جس کے دوران اب تک چھ مرتبہ فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان جھڑپیں ہو چکی ہیں۔ ان جھڑپوں کے دوران فوج کا ایک پیراکمانڈو اور سپیشل آپریشن گروپ کا ایک اہلکار ہلاک اور کئی دیگر اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

    انڈین فوج کی شمالی کمان کے کمانڈر لیفٹنٹ جنرل پراتیک شرما نے آپریشن میں شامل فورسز کو مبارکباد دیتے ہوئے اس کارروائی کو ’درست اور انتہائی پیشہ ورانہ اقدام‘ قرار دیا۔

    یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ کشتواڑ کے چھاترو قصبہ کے پہاڑی اور جنگلاتی علاقوں سنگھ پورہ، جانیسر، دولگام، اور پسیر کوٹ میں گذشتہ دو سال کے دوران دو درجن مسلح جھڑپیں ہوئی ہیں جن میں فوج کو جانی نقصان اُٹھانا پڑا ہے۔ گذشتہ جنوری میں فوج نے مقامی فورسز کے ساتھ مل کر ان علاقوں میں مشترکہ آپریشن شروع کیا جس کے دوران انٹرنیٹ کو معطل کیا گیا۔

    فوج کی وائٹ نائٹ کور نے ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا: ’پولیس، انٹیلی جنس بیورو اور ملٹری انٹیلی جنس سے ملی خفیہ اطلاعات کے بعد کشتواڑ میں آپریشن تراشی ون شروع کیا گیا تاکہ وہاں چھپے عسکریت پسندوں کا سراغ لگا کر انھیں ختم کیا جاسکے۔‘

    فوج کا کہنا ہے کہ آپریشن میں کئی ہفتوں بعد ملی کامیابی میں کالعدم تنظیم کے اعلیٰ کمانڈر سمیت تین عسکریت پسند مارے گئے ہیں۔ فوجی ذرائع کے مطابق عسکریت پسند پسیر کوٹ کے جنگلاتی علاقے میں مٹی کے ایک ڈھوک میں چھپے ہوئے تھے۔

    واضح رہے کہ 2019 میں آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد مسلح عسکریت پسندی وادی کشمیر سے جموں کے پہاڑی اور جنگلاتی خطوں میں منتقل ہوگئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فوج، پولیس اور نیم فوجی اداروں کی انسدادی کارروائیوں کا بنیادی ہدف بھی اب وادی کی بجائے جموں کے کشتواڑ، کٹھوعہ، ریاسی، ڈوڈہ، اُدھم پور ، راجوری اور پونچھ کے جنگلاتی اور پہاڑی علاقے ہیں۔

    دریں اثنا آسام میں ایک تقریب کے دوران انڈیا کے وزیرداخلہ امت شاہ نے کہا کہ جموں کشمیر میں نیم فوجی ادارہ سینٹرل ریزرو پولیس فورس یا سی آر پی ایف کے شاندار کارکردگی کے باعث مکمل امن بحال ہوگیا ہے۔

    انھوں نے دعویٰ کیا،’آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کے بعد گزشتہ سات برسوں کے دوران پتھراؤ کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا اور فورسز کو ایک بھی گولی چلانا نہیں پڑی ہے۔

    انھوں نے انڈیا کی شمال مشرقی ریاستوں اور وسطی انڈیا میں نکسل عسکریت پسندی کو انڈیا کی داخلی سکیورٹی کے حوالے سے تین ’ہاٹ سپارٹس‘ قرار دیا اور کہا کہ تینوں مقامات پر فورسز نے امن بحال کیا ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ مارچ تک نکسل عسکریت کو انڈیا سے مکمل طور پر ختم کر دیا جائے گا۔

  20. عراق اور کویت کے مابین سمندری حدود کا تنازع کیا ہے جس میں سعودی عرب اور قطر کویت کا ساتھ دے رہے ہیں؟

    عراق سمندری حدود

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    عراق کی جانب سے اقوامِ متحدہ میں عراق کی سمندری حدود کا نقشہ جمع کروائے جانے کے بعد کویت نے عراقی ناظم الامور کو طلب کر کے احتجاج ریکارڈ کروایا ہے جبکہ دیگر خلیجی ممالک بشمول سعودی عرب اور قطر نے عراق سے کویت کی سمندری حدود کی خود مختاری کا احترام کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    لیکن یہ معاملہ کیا ہے اور یہ اب تنازع کا باعث کیوں بن رہا ہے؟

    عراق کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا کہ عراق کی وزارت خارجہ نے 1982 کے سمندر کے قانون سے متعلق اقوام متحدہ کے کنونشن کے مطابق عراقی علاقائی سمندری بیس لائنوں اور سمندری علاقوں کے نقاط کی فہرستیں جمع کروا دی ہیں۔

    وزارتِ خارجہ کے مطابق، یہ دستاویزات 19 جنوری اور پھر نو فروری کو اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے پاس جمع کروائی گئی جس میں مخصوص پوائنٹس کے جغرافیائی نقاط (کوآرڈینیٹس) کے ہمراہ ایک نقشہ بھی شامل ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ نئے دستاویزات سات دسمبر 2021 اور 15 اپریل 2011 کو جمع کروائے گئے نقشے اور کوآرڈینیٹس کی جگہ لے گا۔

    عراقی وزاتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ نئے دستاویزات میں علاقائی سمندر کی چوڑائی کی پیمائش کے لیے کم پانی کی لکیر کے ساتھ کھینچی گئی سیدھی بیس لائنوں کے ساتھ ساتھ علاقائی سمندر کی حد بندی، اس سے متصل زون، خصوصی اقتصادی زون شامل ہے۔

    عراقی ناظم الامور کی کویت میں طلبی

    کویت کے سرکاری خبر رساں ادارے کی جانب سے شائع کردہ ایک خبر کے مطابق، عراق کی جانب سے اقوام متحدہ میں عراقی سمندری علاقوں کے متعلق نقشہ جمع کروائے جانے کے بعد عراقی ناظم الامور کو دفترِ خارجہ طلب کر کے اس معاملے پر احتجاج ریکارڈ کروایا گیا۔

    کویتی وزارت خارجہ کا کہنا ہے عراق کی جانب سے جمع کروائے گئے نقاط اور نقشے کویت کی اس کے سمندری علاقوں پر خودمختاری کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔

    کویت نے عراق سے مطالبہ کیا کہ وہ دونوں برادر ممالک کے درمیان تاریخی تعلقات کو مدنظر رکھے اور بین الاقوامی قانون اور سمندر کے قانون سے متعلق 1982 کے اقوام متحدہ کے کنونشن کی دفعات کے مطابق سنجیدگی اور ذمہ داری کے ساتھ کام کرے۔

    ’عراقی نقشہ کویت کی سمندری حدود کی خلاف ورزی ہے‘

    سوموار کی صبح سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ وہ عراق کی طرف سے اقوام متحدہ میں جمع کرائے گئے نقاط کی فہرست اور نقشے کو تشویش کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔

    سعودی عرب کا کہنا ہے کہ عراق کی طرف سے جمع کروائے گئے نقشے میں سعودی عرب اور کویت سے ملحق وہ ڈوبے ہوئے منقسم علاقے بھی شامل ہیں جس کے قدرتی وسائل پر کویت اور ریاض کا حق ہے۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے یہ نقشہ کویت کی اس کے سمندری علاقوں پر خود مختاری کی خلاف ورزی ہے۔

    خلیجی ریاست قطر نے بھی کویت کی حمایت میں بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بھی عراق کی جانب سے جمع کروائے گئے نقشے اور کوآرڈینیٹس کی فہرستوں کے مندرجات کی پیروی کر رہا ہے۔

    قطر کی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ عراق کی طرف سے جمع کروایا گیا نقشہ کویت اور عراق کے مابین پہلے سے طے شدہ بحری علاقوں پر کویتی خودمختاری کی خلاف ورزی کرتا ہے۔

    قطر نے امید ظاہر کی ہے کہ اس مسئلے کے حل کے لیے بین الاقوامی قانون کے اصولوں اور اقوام متحدہ کے کنونشن برائے سمندر کو مدِ نظر رکھا جائے گا۔

    یاد رہے کہ اگست 1990 میں عراق کے اس وقت کے صدر صدام حسین نے کویت پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں 1991 کی خلیجی جنگ ہوئی۔

    بین الاقوامی خبررساں ادارے انادولو کے مطابق، امریکی قیادت میں بین الاقوامی اتحاد سات ماہ کے بعد عراقی افواج کو کویت سے نکالنے میں کامیاب ہو گئی تھی۔

    2003 میں صدام حسین کی حکومت کے خاتمے کے بعد بغداد اور کویت کے درمیان دوبارہ سفارتی تعلقات قائم ہو گئے تھے۔ عراقی حملے کے بعد، اقوام متحدہ نے دونوں ممالک کے درمیان زمینی حد بندی کر دی تھی تاہم اس حدبندی میں ان دونوں ممالک کے درمیان سمندری حدود کے تمام پہلوؤں کو طے نہیں کیا جا سکا اور کویت اور عراق کے درمیان بحری حد بندی کا مسئلہ اب بھی باقی ہے۔