انڈین وزیرِ اعظم کا اسرائیلی پارلیمان سے خطاب: نریندر مودی کی غزہ امن عمل کی حمایت، ہولوکاسٹ تاریخ کا سیاہ ترین باب قرار

انڈیا کے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے اسرائیل کی پارلیمان سے خطاب کرتے ہوئے غزہ امن منصوبے کی حمایت کی ہے اور کہا ہے کہ اس سے نہ صرف خطے میں امن قائم کرنے بلکہ مسئلہ فلسطین بھی حل کرنے میں مدد ملے گی۔ دوسری جانب اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ نریندر مودی ’صرف ایک دوست نہیں، بلکہ بھائی ہیں۔‘

خلاصہ

  • انڈین وزیرِ اعظم کا اسرائیلی پارلیمان سے خطاب: نریندر مودی کی غزہ امن منصوبے کی حمایت، ہولوکاسٹ تاریخ کا سیاہ ترین باب قرار
  • انچسٹر کی مسجد میں دورانِ تراویح 'کلہاڑی کے ساتھ داخل ہونے والا' شخص گرفتار، برطانوی وزیر اعظم کا اظہار تشویش
  • امید ہے مذاکرات کے نتیجے میں واشنگٹن کے ساتھ کشیدگی ختم کرنے میں مدد ملے گی: ایرانی صدر
  • لاہور میں بسنت کے دوران 17 افراد ہلاک ہوئے: محکمہ داخلہ پنجاب

لائیو کوریج

  1. ’ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دوں گا‘: ڈونلڈ ٹرمپ

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اب سے کچھ دیر قبل کانگریس کے سامنے اپنا سالانہ سٹیٹ آف دی یونین خطاب دیا۔

    ٹرمپ نے سٹیٹ آف دی یونین خطاب کا سب سے طویل ریکارڈ قائم کیا جو تقریباً ایک گھنٹہ اور 50 منٹ طویل تھا، اور اس طرح انھوں نے بل کلنٹن کے 2000 میں دیے گئے آخری خطاب کا ریکارڈ توڑ دیا۔

    ٹرمپ نے بار بار اپنے اقتصادی ایجنڈا پر زور دیا اور کہا کہ انھوں نے وائٹ ہاؤس میں واپس آنے کے پہلے سال میں ’تاریخی تبدیلی‘ کا مشاہدہ کیا۔

    ٹرمپ نے ایران کے بارے میں بھی بات کی۔ انھوں نے گذشتہ سال امریکہ کی ایران میں کارروائی، جسے آپریشن مڈ نائٹ ہیمر کہا جاتا ہے، کا حوالہ دیا، جو ملک کی جوہری تنصیبات کو ہدف بنا رہی تھی۔

    انھوں نے کہا: ’مڈ نائٹ ہیمر کے بعد انھیں خبردار کیا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار بنانے کے پروگرام کو دوبارہ تعمیر کرنے کی کوئی کوشش نہ کریں، مگر پھر بھی وہ کام جاری رکھے ہوئے ہیں اور اس وقت دوبارہ اپنے جوہری عزائم کو آگے بڑھا رہے ہیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ایران مزید امریکی حملوں سے بچنے کے لیے معاہدہ کرنا چاہتا ہے، لیکن ابھی تک اس بات کا پابند نہیں ہوا کہ وہ کبھی جوہری ہتھیار نہیں بنائیں گے۔

    ٹرمپ نے کہا: ’میری ترجیح یہ ہے کہ اس مسئلے کو سفارتکاری کے ذریعے حل کیا جائے لیکن ایک بات یقینی ہے۔ میں دنیا کے سب سے بڑے دہشت گرد سرپرست، جو کہ وہ بلاشبہ ہیں، کو کبھی بھی جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دوں گا۔‘

    ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران کے بارے میں ان کا سخت موقف ان کی ’طاقت کے ذریعے امن‘ کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اس میں امریکی فوج کو زمین پر سب سے طاقتور بنانے کی کوشش شامل رہی ہے۔

  2. مجاہدینِ خلق تنظیم کا تہران میں رہبرِ اعلیٰ کی رہائش گاہ پر مبینہ حملے کا دعویٰ، ایرانی میڈیا کی تردید

    ایران میں مجاہدینِ خلق نامی تنظیم (ایم ای کے) کا دعویٰ ہے کہ اس کے تقریباً ’250 اہلکاروں‘ نے تہران کے وسط میں اسلامی جمہوریہ کے رہبرِ اعلیٰ سید علی خامنہ ای کے دفتر اور رہائش گاہ پر حملہ کیا ہے۔

    تاہم ایرانی حکام اور سرکاری میڈیا نے اس واقعے کی تردید کی ہے۔ اس مبینہ حملے کے کوئی شواہد یا تصاویر سامنے نہیں آئیں جبکہ پاستور کے علاقے میں سخت سکیورٹی انتظامات برقرار ہیں۔

    ایم ای کے نے گذشتہ شب جاری بیان میں کہا کہ اس کے اہلکاروں نے پیر کی صبح اس مقام پر حملہ کیا اور کچھ نقصان پہنچایا، تاہم ان کے ’100‘ ہلاک یا گرفتار ہو گئے۔

    ایرانی پارلیمان کی قومی سلامتی کمیٹی کے رکن احمد بخشایش اردستانی نے منگل کو خبر رساں ادارے اِلنا سے گفتگو میں کہا: ’میرا خیال ہے کہ ان کے لیے ایسی کارروائی کرنا بعید از قیاس ہے، تاہم میں اس خبر کی تفصیلات سے آگاہ نہیں اور نہ ہی مجھے معلوم ہے کہ ایسا کوئی واقعہ پیش آیا ہے۔‘

    اگرچہ احمد بخشایش نے حملے کے ماخذ سے لاعلمی ظاہر کی، تاہم انھوں نے اِلنا سے کہا: ’ان کا اندازہ یہ ہے کہ ملک کمزور ہو چکا ہے اور سکیورٹی اور انٹیلی جنس ادارے دیگر امور میں مصروف ہیں، اس لیے وہ دہشت گردانہ کارروائیوں کے ذریعے ملک کو کمزور ظاہر کرنا چاہتے ہیں۔‘

  3. وزیراعظم شہباز شریف اور امیرِ قطر کی ملاقات: دفاع، معیشت اور توانائی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق

    @AmiriDiwan

    ،تصویر کا ذریعہ@AmiriDiwan

    وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے ریاستِ قطر کے امیر،تمیم بن حمد الثانی سے ملاقات کی ہے۔

    قطری اعلامیے کے مطابق یہ ملاقات لوسیل پیلس میں منعقد ہوئی جہاں امیرِ قطر نے وزیراعظم پاکستان کا خیرمقدم کیا۔ ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے پاک قطر دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا اور باہمی شراکت داری کو مزید مضبوط اور وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔

    گفتگو کے دوران دفاع، معیشت، تجارت، سرمایہ کاری اور توانائی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں جانب سے اس بات پر زور دیا گیا کہ موجودہ شراکت داری کو مزید مستحکم کرتے ہوئے مشترکہ تعاون کے نئے مواقع پیدا کیے جائیں۔

    رہنماؤں نے علاقائی اور عالمی صورتحال پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا اور خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے مکالمے، سفارت کاری اور تنازعات کے پرامن حل کی اہمیت پر زور دیا۔ اس موقع پر باہمی دلچسپی کے امور پر مسلسل رابطے اور مشاورت جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا گیا تاکہ دوطرفہ اور بین الاقوامی سطح پر تعمیری تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے امیرِ قطر کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی جسے امیرِ قطر نے قبول کر لیا۔

    قطری جانب سے اس ملاقات میں وزیراعظم و وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم الثانی، نائب وزیراعظم و وزیر مملکت برائے دفاعی امور شیخ سعود بن عبدالرحمن الثانی، چیف آف امیری دیوان عبداللہ بن محمد الخلیفہ اور دیگر اعلیٰ حکام شریک تھے۔

    پاکستانی وفد میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور دیگر سینئر حکام شامل تھے۔

  4. ایران پُرامن ایٹمی ٹیکنالوجی کے حق سے دستبردار نہیں ہو گا: عباس عراقچی

    Iran

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی جو عمان کی ثالثی میں امریکہ سے ہونے والے مذاکرات میں اپنے ملک کی نمائندگی کرتے ہیں نے مذاکرات کے تیسرے دور سے قبل اپنا مؤقف دیتے ہوئے کہا کہ اگر سفارتکاری کو ترجیح دی جائے تو معاہدہ جلد ہو سکتا ہے۔

    خیال رہے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور جنیوا میں جمعرات کو شروع ہوگا۔

    عباس عراقچی نے سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر لکھا کہ ’مذاکرات کے پہلے دو ادوار کی سمجھ بوجھ کی بنیاد پر ایران جنیوا میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرے گا، اس عزم کے ساتھ کہ ایک منصفانہ اور متوازن معاہدہ کم سے کم وقت میں حاصل کیا جائے۔‘

    انھوں نے مزید لکھا کہ ’ہمارے بنیادی تصورات بالکل واضح ہیں: ایران کسی بھی صورت میں کبھی ایٹمی ہتھیار تیار نہیں کرے گا، اور ہم ایرانی کبھی بھی اپنی قوم کے لیے پُرامن ایٹمی ٹیکنالوجی کے ثمرات حاصل کرنے کے حق سے دستبردار نہیں ہوں گے۔‘

    عباس عراقچی نے کہا کہ ’ہمارے پاس ایک تاریخی موقع ہے کہ ایک بے مثال معاہدہ کیا جائے جو باہمی خدشات کو دور کرے اور مشترکہ مفادات کو یقینی بنائے۔ معاہدہ قریب ہے، لیکن صرف اسی صورت میں جب سفارت کاری کو ترجیح دی جائے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ہم نے ثابت کیا ہے کہ اپنی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہم کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ یہی جرات ہم مذاکرات کی میز پر بھی لاتے ہیں، جہاں ہم ہر اختلاف کا پُرامن حل تلاش کریں گے۔‘

  5. پاکستان اور طالبان کا ایک دوسرے پر سرحد پار ’بلااشتعال‘ فائرنگ کا الزام

    پاکستان

    ،تصویر کا ذریعہX

    پاکستانی وزیرِ اعظم کے ترجمان برائے غیرملکی میڈیا مشرف زیدی نے الزام عائد کیا ہے کہ افغان طالبان حکومت نے طورخم اور تیراہ کے سرحدی علاقوں میں ’بلااشتعال‘ فائرنگ کی ہے۔

    منگل کو ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں لکھا کہ پاکستانی سکیورٹی فورسز نے اس فائرنگ کا فوری جواب دیا اور ’طالبان کی جارحیت‘ کو روک دیا۔

    مشرف زیدی نے خبردار کیا کہ ’کسی بھی اشتعال انگیزی کا فوری اور سخت جواب دیا جائے گا۔‘

    اس سے قبل افغان صوبے ننگرہار میں طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ نورانی نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان نے افغان صوبے ننگرہار کے علاقے نازیان میں فائرنگ کی ہے، جس کا طالبان بارڈر فورس نے جواب دیا ہے۔

  6. امریکہ کے ساتھ جلد از جلد کسی معاہدے پر پہنچنے کو تیار ہیں: ایران

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کے نائب وزیرِ خارجہ مجید تخت ‌روانچی نے امریکہ کے ساتھ جوہری مذاکرات کے تیسرے دور سے قبل کہا ہے کہ تہران ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ کسی معاہدے پر پہنچنے کے لیے پُر عزم ہے۔

    خیال رہے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور جنیوا میں جمعرات کو شروع ہوگا۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق مجید تخت روانچی کا کہنا تھا کہ ’ہم جلد از جلد کسی معاہدے پر پہنچنے کو تیار ہیں‘ اور ’ہم ایسا کرنے کے لیے جو ضروری ہوا کرنے کو بھی تیار ہیں۔‘

    خیال رہے امریکہ سفارتکاری کے ساتھ ساتھ ایران کے قریب خطے میں اپنا عسکری ساز و سامان بھی پہنچا رہا ہے۔ صدر ٹرمپ خود واضح کر چکے ہیں کہ سفارتکاری کی ناکامی کی صورت میں وہ ایران کے خلاف طاقت کے استعمال سے بھی گریز نہیں کریں گے۔

    ایرانی نائب وزیرِ خارجہ نے کسی ممکنہ امریکی حملے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ ’میری نظر میں یہ ایک جوا ہوگا۔ ہم امید کرتے ہیں کہ ایسا نہ ہو، تاہم اگر ایسا ہوا تو ایران کے خلاف جارحیت کا جواب دیا جائے گا۔‘

  7. سفارتکاری پہلی ترجیح مگر ضرورت پڑنے پر ایران کے خلاف طاقت استعمال کرنے کو تیار ہیں: وائٹ ہاؤس

    وائٹ ہاؤس

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیوٹ نے ایران کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا ہے کہ صدر ٹرمپ مسائل کے حل کے لیے ہمیشہ پہلے سفارتکاری کو ترجیح دیتے ہیں مگر ضرورت پڑنے پر وہ طاقت کا استعمال کرنے کو بھی تیار ہیں۔

    کیرولائن نے مزید کہا کہ امریکہ نہ صرف اپنی حفاظت کو یقینی بنانا چاہتا ہے بلکہ اس کا مقصد دنیا کا سب سے طاقتور ملک بننا بھی ہے۔

    جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا امریکہ اپنے لیے ایران کو خطرہ سمجھتا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ: ’ایران، امریکہ مردباد کا نعرہ لگاتا ہے، اب آپ خود ہی بتائیں کہ وہ خطرہ ہے یا نہیں۔‘

  8. پنجاب کے ضلع بھکر میں خودکش حملے میں دو پولیس اہلکار ہلاک: ڈی پی او, عزیز اللہ خان، بی بی سی نیوز اردو

    پنجاب کے ضلع بھکر میں ایک مبینہ خودکش حملے کے نتیجے میں دو پولیس اہلکار اور چار افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

    بھکر کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) شہزاد رفیق نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق بھکر کے علاقے داجل میں ایک چیک پوسٹ پر ایک خودکش حملہ کیا گیا ہے، جس میں دو پولیس اہلکار ہلاک اور دو پولیس اہلکاروں سمیت چار افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    انھوں نے مزید بتایا کہ داجل کا علاقہ خیبرپختونخوا کے صلع ڈیرہ اسماعیل خان اور بھکر کی سرحد پر واقع ہے۔

    دوسری جانب پاکستان کے وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے ایک بیان میں اس حملے کی مذمت کی ہے اور ان کے لواحقین سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔

  9. انڈیا ریاست جھارکھنڈ میں ایئر ایمبولنس گِر کر تباہ، مریض سمیت سات افراد ہلاک, محمد سرتاج عالم، بی بی سی نیوز ہندی

    جھارکھنڈ

    ،تصویر کا ذریعہMohammad Sartaj Alam/BBC

    انڈین ریاست جھارکھنڈ کے ضلع چترا ضلع کے جنگل میں پیر کی شام کو ایک ایئر ایمبولینس طیارہ گر کر تباہ ہونے کے نیتجے میں سات افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    اس طیارے میں سنجے کمار نامی ایک مریض کو علاج کے لیے رانچی سے دہلی لے کر جایا جا رہا تھا۔

    طیارہ حادثے میں ہلاک ہونے والے افراد میں جہاز کے کپتان وویک وکاس بھگت اور سوراج دیپ، مریض سنجے کمار، ان کی اہلیہ، بھتیجا، ڈاکٹر اور ایک نرس ہلاک ہوئے ہیں۔

    انڈیا کے ڈائریکٹریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن نے اس حادثے اور اس میں ہونے والی ہلاکتوں کی تصدیق کر دی ہے۔

  10. ایرانی یونیورسٹیوں میں حکومت مخالف احتجاجی مظاہرے جاری، حکومت کا طلبہ کو ’سُرخ لکیر‘ عبور نہ کرنے کا مشورہ, بی بی سی فارسی

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہFile photo: Getty Images

    ایران کی یونیورسٹیوں میں طلبہ کے احتجاج کا سلسلہ جاری ہے اور مظاہرین کا دعویٰ ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے ان کی شناختی تفصیلات جمع کر رہے ہیں۔

    بی بی سی فارسی کو موصول ہونے والی فوٹیج میں تہران یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں احتجاجی مظاہرین اور حکومت کے حامی گروہوں کے درمیان جھڑپیں دیکھی جا سکتی ہیں۔

    ویڈیو بھیجنے والے شخص نے بی بی سی فارسی کو بتایا کہ ’پولیس کو یونیورسٹی کے باہر تعینات کیا گیا تھا اور یونیورسٹی کے اپنے سکیورٹی اہلکار سیاہ لباس پہننے والے افراد (مظاہرین) کے نام نوٹ کر رہے تھے۔‘

    خیال رہے گذشتہ کئی دنوں سے ایران کے متعدد تعلیمی اداروں میں ایک بار پھر احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔

    شھید بہشتی یونیورسٹی میں ہونے والے ایک احتجاجی مظاہرے کے بعد بھی کچھ تصاویر اور ویڈیوز منظرِ عام پر آئی ہیں۔ ایک ویڈیو میں یونیورسٹی کیمپس کے اندر ’آزادی، آزادی‘ کے نعرے لگتے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں، جبکہ ایک اور ویڈیو میں نعرہ لگ رہا ہے کہ ’ہمیں تماشائی نہیں چاہہیں، ہمارے ساتھ سب شامل ہوں۔‘

    تہران کی شریف یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی میں بھی ایسی ہی حکومت مخالف احتجاجی ریلیاں دیکھنے میں آئی تھیں، جس کے بعد یونیورسٹی کے صدر مسعود تاجریشی نے اس معاملے کو حل کرنے کے لیے سرکاری پراسیکیوٹر کی خدمات حاصل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    مسعود تاجریشی کا کہنا تھا کہ ’پراسیکیوٹر کا کہنا ہے کہ یہ اب صرف ایک یونیورسٹی کا معاملہ نہیں رہا اور اب ہمیں اس میں دخل اندازی کرنا پڑے گی۔‘

    یونیورسٹی کے صدر کا کہنا مزید تھا کہ: ’حکومت مخالف اور حکومت کے حامی دونوں گروہوں نے غیرقانونی ریلیاں نکالیں، اس لیے ہم نے دونوں گروہوں پر پابندی عائد کر دی ہے۔ اگر دونوں گروہ قانون کی پاسداری کرتے ہیں تو ہم یہ پابندی اُٹھا لیں گے۔‘

    دوسری جانب تہران کی امیر کبیر یونیورسٹی کا کہنا ہے کہ وہ قانون کی پاسداری نہ کرنے والے طلبہ کے معاملے کو جلد ہی حل کرلیں گے۔

    ایک بیان میں یونیورسٹی کا کہنا تھا کہ ’ہماری درسگاہ ریاست کے ستونوں اور اسلامی جمہوریہ ایران کے پرچم کی غیرمشروط حمایت جاری رکھے گی۔‘

    ’پتھراؤ، املاک کو نقصان پہنچانا اور قومی علامتوں کی توہین طلبہ تحریک کی ساکھ کو نقصان پہنچائے گا۔‘

    ایرانی حکومت بھی طلبہ کے احتجاجی مظاہروں پر نظر رکھ رہی ہے۔ حکومتی ترجمان فاطمہ مہاجرانی کا کہنا ہے کہ ’طلبہ کو احتجاج کرنے کا حق حاصل ہے، ان کے دلوں میں زخم ہیں جس کے سبب وہ غصے میں ہیں۔‘

    تاہم انھوں نے خبردار کیا کہ ’مقدس مقامات اور ایرانی پرچم دو سُرخ لکیریں ہیں، ہمیں محتاط رہنا چاہیے کہ کہیں غصے میں ہم یہ لکیریں عبور نہ کر جائیں۔‘

  11. ماسکو کے ٹرین سٹیشن کے باہر مبینہ خود کش حملے میں ایک پولیس اہلکار ہلاک، دو زخمی: روسی حکام, اوٹیلی مچل اور حفصہ خالد، بی بی سی نیوز

    روس

    ،تصویر کا ذریعہBloomberg via Getty Images

    روسی حکام کا کہنا ہے کہ منگل کو ماسکو میں ایک ٹرین سٹیشن کے باہر ہونے والا دھماکہ دراصل ایک خودکش حملہ تھا۔

    روس کی وزارتِ داخلہ کے مطابق اس حملے میں ایک ٹریفک پولیس اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوئے تھے۔

    روس کی وزارتِ داخلہ نے کہا ہے کہ سرکاری اہلکار اپنی گاڑی میں شہر کے شمال میں واقع سوویولوسکی اسٹیشن سکوائر کے اطراف گشت کر رہے تھے اور اس دوران ’ایک نامعلوم شخص‘ نے ’ایک ڈیوائس کو دھماکے سے اُڑا دیا۔‘

    دھماکے کے پیچھے وجوہات کا تاحال تعین نہیں ہو سکا ہے۔

    روسی تحقیقاتی کمیٹی کی ترجمان سویتلانا پیترینکو کا کہنا ہے کہ دھماکے کے بعد مشتبہ شخص اور پولیس اہلکار دونوں موقع پر ہی ہلاک ہو گئے تھے۔

    پیترینکو کا مزید کہنا تھا کہ مبینہ حملہ آور کی شناخت معلوم کی جا رہی ہے اور یہ بھی جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ کہیں اس کا کوئی ساتھی تو موجود نہیں۔

    ماسکو کے مقامی اسٹیشن رین ٹی وی کو ایک نام ظاہر نہ کرنے والے ذریعے نے بتایا کہ حملہ آور روسی شہری تھا۔

    روسی حکام نے تاحال دھماکہ خیز مواد کے بارے میں کوئی اضافی معلومات فراہم نہیں کی ہیں۔

  12. ایران کے صوبے اصفہان میں ہیلی کاپٹر گِر کر تباہ، دو پائلٹ ہلاک

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کے صوبے اصفہان میں ایک فوجی ہیلی کاپٹر گِر کر تباہ ہو گیا ہے۔

    ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق فوج کا ہیلی کاپٹر دارچہ کے علاقے میں پھلوں اور سبزیوں کھیت میں گِر کر تباہ ہوا، جس کے بعد وہاں آگ لگ گئی۔

    اصفہان میں کرائسز منیجمنٹ کے ڈائریکٹر جنرل کا کہنا ہے کہ ہیلی کاپٹر ’تکینیکی خرابی‘ کے سبب گِر گر تباہ ہوا۔

    فائر ڈپارٹمنٹ کے ترجمان کے مطابق اس حادثے کے نتیجے میں ہیلی کاپٹر کے دو پائلٹ اور دو راہگیر ہلاک ہوئے ہیں۔

  13. عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سات مقدمات میں ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواستیں منظور, شہزاد ملک، بی بی سی نیوز اردو اسلام آباد

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسلام آباد کی مقامی عدالت نے سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کی سات مقدمات میں ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواستیں منظور کر لی ہیں۔

    ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افضل مجوکا نے منگل کو ضمانت کی ان درخواستوں پر سماعت کی اور پچاس، پچاس ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانتیں منظور کیں۔

    عمران خان کے خلاف 9 مئی، آزادی مارچ، اقدام قتل، توڑ پھوڑ، جلائو گھیراؤ اور توشہ خانہ کی جعلی رسیدیں جمع کروانے سے متعلق مقدمات درج ہیں۔

    بشریٰ بی بی کے خلاف بھی توشہ خانہ کی جعلی رسیدیں جمع کروانے سے متعلق مقدمہ اسلام آباد میں تھانہ کوہسار میں درج ہے۔

    پراسیکوشن کی جانب سے راجہ نوید حسین کیانی، مظہر بشیر اور طاہر کاظم عدالت میں پیش ہوئے۔

    پراسیکوشن کا کہنا تھا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف ٹھوس شواہد موجود ہیں اور ملزمان ضمانتوں کے حقدار نہیں ہیں اور دونوں کی ضمانت کی درخواستیں خارج کی جائیں۔

    عمران خان اور بشری بی بی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے ضمانت کی درخواستوں پر دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ان کے اور عدالت کے کیریئر میں پہلی مرتبہ ضمانت کی درخواستوں پر فیصلہ ہونے پر اتنی تاخیر ہوئی ہے۔

    سلمان صفدر کا کہنا تھا کہ 30 مواقع پر عدالت نے جیل حکام کو ان کو موکلوں کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا مگر اس احکامات پر عملدرآمد نہیں ہوا۔

    سلمان صفدر کا کہنا تھا کہ کچھ مقدمات حکومت ڈرانے کے لیے بناتی ہے، جن میں فرد جرم کبھی عائد نہیں ہوئی ۔ انھوں نے جج کو کہا کہ جو مقدمات آج اس عدالت کے سامنے ہیں وہ بھی ایسے ہی ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ کسی کیس میں تفتیش نہیں ہوئی، چالان نہیں آیا جبکہ پراسیکوشن کی بھی ان مقدمات میں دلچسپی ختم ہو چکی ہے۔

    سلمان صفدر کا کہنا تھا کہ 2023 میں یہ کیسز بنے اور اب 2026 آ چکا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ عدالت پولیس کی ڈائری دیکھ لے کہ کب کب عمران خان اور بشریٰ بی بی کو شامل تفتیش کیاگیا اور انصاف تک رسائی میں رکاوٹیں ڈالی گئیں۔

    عدالت نے پراسیکوشن سے استفسار کیا کہ کیا توشہ خانہ کی رسید برآماد کی گئی، جس پر عدالت کو بتایا گیا کہ رسید برآمد نہیں ہوئی اور ملزمان جعلی رسیدوں کو میڈیا پر لہراتے رہے۔

    عدالت نے استفسار کیا کہ اگر میڈیا پر لہراتے رہے تو کیا ان کا فرانزک کروایا گیا، جس کے بارے میں عدالت کو کچھ نہیں بتایا گیا۔

    عدالت نے دلائل سننے کے بعد عمران خان اور بشری بی بی کے سات مقدمات میں ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواستیں منظور کرلیں۔

  14. پاکستانی حملوں سے صرف عام شہری متاثر ہوئے، افغانستان میں کوئی مسلح گروہ موجود نہیں: طالبان وزیرِ خارجہ

    افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    افغانستان میں طالبان حکومت کے نائب ترجمان حمد اللہ فطرت کا ایکس پر جاری ایک بیان میں کہنا ہے کہ افغانستان کے عبوری وزیر خارجہ امیر خان متقی نے اقوام متحدہ کی معاون سیکریٹری جنرل برائے سیاسی امور روزمیری ڈیکارلو کے ساتھ ٹیلیفون پر گفتگو کی ہے۔

    حمد اللہ فطرت کے مطابق اس ٹیلی فونک گفتگو میں طالبان کے وزیر خارجہ نے پاکستان کی جانب سے حالیہ فضائی حملوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان حملوں میں عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا۔

    نائب ترجمان کی ایکس پوسٹ میں کہا گیا: ’افغان وزیر خارجہ نے کہا کہ گذشتہ چار برسوں کے دوران پاکستان کی جانب سے کیے گئے ایسے تمام حملوں میں صرف عام شہری ہی متاثر ہوئے ہیں اور ان حملوں میں کبھی بھی وہ مسلح افراد نہیں مارے گئے جن کو نشانہ بنائے کا پاکستان دعویٰ کرتا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان کے افغانستان پر الزامات بے بنیاد ہیں۔‘

    حمد اللہ فطرت کے مطابق امیر خان متقی نے مزید کہا کہ افغانستان میں کسی بھی قسم کے مسلح گروہ موجود نہیں ہیں اور انھوں نے یہ پیش کش بھی کی کہ سفارتی حلقوں سمیت تمام فریق حالیہ فضائی حملے کے مقام کا دورہ کر کے صورتحال کا قریب سے جائزہ لے سکتے ہیں۔

    خیال رہے دو روز قبل پاکستان کی حکومت نے افغانستان کے سرحدی علاقوں میں شدت پسندوں کے سات مبینہ ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔ دوسری جانب عسکری ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ان کارروائیوں میں 80 سے زیادہ شدت پسند مارے گئے ہیں۔

    بی بی سی نیوز اردو ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا ہے۔

  15. عدالت نے شیخ رشید کی عمرے کی ادائیگی کے لیے بیرونِ ملک جانے سے متعلق درخواست مسترد کردی, شہزاد ملک، بی بی سی نیوز اردو اسلام آباد

    شیخ رشید

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    راولپنڈی میں انسدادِ دہشت گردی کی ایک عدالت نے سابق وفاقی وزیر شیخ رشید احمد کی عمرے کی ادائیگی کے لیے بیرون ملک جانے سے متعلق درخواست کو مسترد کردیا ہے۔

    عدالت نے مکمل معلومات شیئر نہ کرنے پر درخواست گزار کو متنبہ کیا کہ مستقبل میں کوئی بھی درخواست دائر کی جائے تو اس میں تمام حقائق کو بیان کیا جائے۔

    شیخ رشید احمد کے وکیل نے اس درخواست کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ان کے مؤکل ہر سال عمرے کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب جاتے ہیں اور وہ اس سال بھی عمرہ کی ادائیگی کے لیے جانا چاہتے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ شیخ رشید کا پاسپورٹ اور دیگر دستاویزات ضبط کی گئی ہیں، لہذا عدالت ان کی استدعا کو منظور کرے اور ان کے مؤکل کا پاسپورٹ واپس کروا کر انھیں بیرون ملک جانے کی اجازت دے۔

    اس مقدمے کے پراسیکوٹر نے عدالت کو بتایا کہ اس سے قبل بھی عدالت شیخ رشید احمد کو دو مرتبہ عمرہ ادائیگی کی اجازت دے چکی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ نے بھی شیخ رشید کو عمرہ ادائیگی کی اجازت دے دی تھی اور وفاقی حکومت نے لاہور ہائی کورٹ کے سنگل بنچ کے فیصلے کو چیلینج کیا ہوا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کی اپیل پر عدالت عالیہ شیخ رشید کے عمرہ ادائیگی کا فیصلہ معطل کرچکی ہے اور ماتحت عدالت ہائی کورٹ کے فیصلے سے متصادم کوئی فیصلہ جاری نہیں کرسکتی۔

    سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے درخواست گزار کا نام ای سی ایل میں بھی ڈالا ہوا ہے اور درخواست گزار نے انسداد دہشت گردی کی عدالت میں دائر کی گئی اپنی درخواست میں اعلٰی عدلیہ میں زیر سماعت اپیل کا کوئی ذکر نہیں کیا ہے۔

    انسداد دہشت گردی کی عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد شیخ رشید احمد کی درخواست کو مسترد کردیا۔

    علیمہ خان کے وارنٹِ گرفتاری جاری

    دوسری جانب انسداد دہشت گردی کی عدالت نے چھبیس نومبر کے واقعہ کے مقدمے کی سماعت کے دوران عدم پیشی پر سابق وزیر اعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے ہیں۔

    عدالت نے ملزمہ کی ایک دن کی حاضری سے استثنا کی درخواست مسترد کردی۔

    علیمہ خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ چونکہ ان کی مؤکلہ نے اپنے بھائی عمران خان سے ملاقات کے لیے اڈیالہ جیل جانا ہے اس لیے وہ عدالت میں پیش نہیں ہوسکتیں، جس پر عدالت نے علیمہ خان کی مسلسل عدم حاضری پر اظہار برہمی کیا۔

    اس مقدمے کے پراسیکوٹر ظہیر شاہ کا کہنا تھا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ علیمہ خان جاں بوجھ کر ٹرائل میں رکاوٹ پیدا کررہی ہیں اور وارنٹ گرفتاری جاری ہونے کے باوجود ملزمہ عدالت پیش نہیں ہورہی۔

    انھوں نے کہا کہ ٹرائل میں استغاثہ کے دو گواہان پر جرح ہونی باقی ہے اور بار بار التواء مانگ کر ٹرائل میں رخنہ ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

    عدالت نے علیمہ خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے اور پولیس کو ان پر عملدرآمد کا حکم دے دیا۔

  16. کوہاٹ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ڈی ایس پی سمیت پانچ پولیس اہلکار ہلاک: وزیرِ داخلہ

    خیبر پختونخوا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ایک ڈی ایس پی سمیت پانچ پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔

    پاکستان کے وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے ایک بیان میں ڈی ایس پی اسد محمود سمیت پانچ پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ ان کی قربانیوں کو یاد رکھا جائے گا۔

    یہ واقعہ ضلع کوہاٹ کی تحصیل لاچی کے قریب شکردرہ کے علاقے میں پیش آیا۔

    حالیہ دنوں میں پشاور کے جنوب میں انڈس ہائی وے کے اطراف کوہاٹ، کرک، بنوں، لکی مروت اور ڈیرہ اسماعیل خان میں مسلح شدت پسندوں کے حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

    گذشتہ روز کرک کے قریب بہادر خیل کے علاقے میں فیڈرل کانسٹیبلری کے قلعے پر نامعلوم افراد نے کواڈ کاپٹر کے ذریعے حملہ کیا تھا، جس میں پانچ اہلکار زخمی ہو گئے تھے۔

    کرک پولیس کے ترجمان کے مطابق جب زخمیوں کو ریسکیو 1122 کی ایمبولینسوں میں ہسپتال منتقل کیا جا رہا تھا تو قریب پہاڑوں سے ان ایمبولینسوں پر دوبارہ فائرنگ کی گئی، جس کے نتیجے میں تین اہلکار ہلاک اور پانچ زخمی ہو گئے تھے۔

  17. کوہاٹ میں پولیس کی گاڑی پر حملہ، ڈی ایس پی سمیت تین اہلکار ہلاک, عزیز اللہ خان، بی بی سی پشاور

    bbc

    ،تصویر کا ذریعہbbc

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں نامعلوم افراد نے پولیس کی گشت پر موجود گاڑی پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں ایک ڈی ایس پی سمیت کم از کم تین اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔

    یہ واقعہ ضلع کوہاٹ کی تحصیل لاچی کے قریب شکردرہ کے علاقے میں پیش آیا۔ پولیس حکام کے مطابق ڈی ایس پی اسد محمود اپنے ساتھی اہلکاروں کے ہمراہ معمول کے گشت پر تھے کہ ان پر اچانک فائرنگ کر دی گئی۔

    ضلع پولیس افسر شہباز الٰہی نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ڈی ایس پی اسد محمود جان کی بازی ہار گئے ہیں۔

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کوہاٹ میں پولیس گاڑی پر حملے کی پرزور مذمت کی ہے۔

    وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ڈی ایس پی اسد محمود اور دونوں اہلکاروں نے اپنا آج قوم کے کل پر قربان کر دیا ہے اور ان کی لازوال قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

    حالیہ دنوں میں پشاور کے جنوب میں انڈس ہائی وے کے اطراف کوہاٹ، کرک، بنوں، لکی مروت اور ڈیرہ اسماعیل خان میں مسلح شدت پسندوں کے حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

    گذشتہ روز کرک کے قریب بہادر خیل کے علاقے میں فیڈرل کانسٹیبلری کے قلعے پر نامعلوم افراد نے کواڈ کاپٹر کے ذریعے حملہ کیا تھا، جس میں پانچ اہلکار زخمی ہو گئے تھے۔

    کرک پولیس کے ترجمان کے مطابق جب زخمیوں کو ریسکیو 1122 کی ایمبولینسوں میں ہسپتال منتقل کیا جا رہا تھا تو قریب پہاڑوں سے ان ایمبولینسوں پر دوبارہ فائرنگ کی گئی، جس کے نتیجے میں تین اہلکار ہلاک اور پانچ زخمی ہو گئے تھے۔

    زخمیوں میں ریسکیو 1122 کا ایک اہلکار بھی شامل تھا۔

  18. ٹرمپ: امریکی آرمی چیف کی ایران پر فوجی کارروائی کی مخالفت کی خبریں ’100 فیصد غلط‘ ہیں

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی آرمی چیف آف سٹاف نے ایران میں امریکی فوجی کارروائی کی مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ ایسی خبریں ’100 فیصد غلط‘ ہیں۔

    امریکی صدر نے کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن اگر ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں ہوتا ہے تو یہ اس ملک کے لیے بہت برا ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ افسوس کہ یہ وہاں کے لوگوں کے لیے بھی برا ہوگا۔ کیونکہ یہ حیرت انگیز لوگ ہیں۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔

    ٹرمپ نے ٹرتھ سوشل پر لکھا ’ذرائع ابلاغ میں ایسی متعدد جعلی خبریں گردش کر رہی ہیں جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ جنرل ڈینیل کین ایران کے خلاف جنگ میں جانے کے فیصلے کے مخالف ہیں۔ یہ رپورٹس اس مبینہ معلومات کے لیے کسی ذرائع کا حوالہ نہیں دیتی ہیں اور یہ 100 فیصد غلط ہیں۔‘

    انھوں نے لکھا ’جنرل کین، ہم باقی لوگوں کی طرح، جنگ نہیں دیکھنا چاہتے۔ لیکن اگر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا فیصلہ کیا جاتا ہے، تو وہ سمجھتے ہیں کہ یہ ایک آسانی سے جیتی جانے والی کارروائی ہو گی۔ وہ ایران کو اچھی طرح جانتے ہیں، وہ ایران کے جوہری افزودگی کے پروگرام پر حملے کے آپریشن ’مڈ نائٹ ہیمر‘ کے انچارج رہے ہیں۔‘

    ٹرمپ نے لکھا ’ایران کے ساتھ ممکنہ جنگ کے بارے میں جو کچھ بھی لکھا گیا ہے وہ جھوٹا اور جان بوجھ کر گمراہ کن ہے۔ میں ایک معاہدے کو ترجیح دوں گا، لیکن اگر کوئی معاہدہ نہیں ہوا تو یہ اس ملک اور بدقسمتی سے اس کے لوگوں کے لیے بہت برا دن ہوگا۔ وہ حیرت انگیز لوگ ہیں، ان کے ساتھ ایسا کبھی نہیں ہونا چاہیے۔‘

    ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات جاری ہیں لیکن ابھی تک کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔

  19. بیروت میں امریکی سفارتخانے سے غیر ضروری عملے کا انخلا، مارکو روبیو نے اسرائیل کا دورہ مؤخر کر دیا

    EPA

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    امریکی حکومت میں ایک سینیئر سٹیٹ ڈپارٹمنٹ اہلکار کے مطابق سکیورٹی جائزے کے بعد لبنان کے دارالحکومت بیروت میں واقع اپنے سفارتخانے سے غیر ضروری عملے کو واپس بلانے کا حکم دیا گیا ہے۔

    یہ فیصلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جوہری پروگرام پر کوئی معاہدہ نہ کرنے کی صورت میں ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔

    ایران پہلے ہی اعلان کر چکا ہے کہ اگر امریکہ نے حملہ کیا تو وہ جواب دے گا، اور خیال کیا جاتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اڈے اور تنصیبات ممکنہ اہداف ہو سکتے ہیں۔

    اسی دوران، وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اسرائیل کے دورے کو بغیر وجہ بتائے مؤخر کر دیا ہے۔

    ایک سینیئر سٹیٹ ڈپارٹمنٹ اہلکار نے کہا: ’ہم مسلسل سکیورٹی ماحول کا جائزہ لیتے رہتے ہیں اور اپنے تازہ ترین تجزیے کی بنیاد پر یہ مناسب سمجھا کہ عملے کو صرف ضروری افراد تک محدود کر دیا جائے۔ سفارتخانہ بنیادی عملے کے ساتھ کام کرتا رہے گا۔ یہ ایک عارضی اقدام ہے تاکہ ہمارے عملے کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے اور امریکی شہریوں کی مدد جاری رکھی جا سکے۔‘

    امریکی سفارتخانے کے تقریباً 50 افراد کو بیروت چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ایک ایئرپورٹ اہلکار نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ عملے کے 32 افراد اور ان کے اہلِ خانہ پیر کے روز بیروت ایئرپورٹ سے روانہ ہوئے۔

    واشنگٹن لبنان کے حزب اللہ کو، جو ایران کا حمایت یافتہ ہے، 1983 میں امریکی میرین بیرک اور بیروت میں سفارتخانے پر ہونے والے مہلک بم دھماکوں کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔

    جمعرات کو ٹرمپ نے کہا کہ دنیا ’اگلے شاید 10 دنوں میں‘ جان لے گی کہ آیا کوئی معاہدہ ہوگا یا امریکہ ایران پر حملہ کرے گا۔

    امریکہ اور اس کے یورپی اتحادیوں کو شبہ ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کی طرف بڑھ رہا ہے، جس کی ایران ہمیشہ تردید کرتا آیا ہے۔

  20. امریکہ: طوفان کے باعث تین فٹ تک برف، ہزاروں پروازیں منسوخ

    gettyimages

    ،تصویر کا ذریعہgettyimages

    پیر کو امریکہ کے مشرقی ساحل پر ایک زبردست طوفان آیا، جس سے ریکارڈ توڑ برف باری ہوئی، لاکھوں افراد متاثر اور ہزاروں پروازیں منسوخ ہو گئیں۔

    یو ایس نیشنل ویدر سروس کے مطابق رہوڈ آئی لینڈ اور میساچوسٹس کے کچھ حصوں میں تقریباً 37 انچ برف پڑی جب کہ نیویارک سٹی کے سینٹرل پارک میں 19 انچ سے زیادہ برف ریکارڈ کی گئی۔

    ایک سرکاری ایجنسی نے متنبہ کیا کہ نیویارک میں سفر تقریباً ناممکن ہے۔ مشرقی ساحل میں 600,000 سے زیادہ گھر اور کاروبار بجلی سے محروم ہو گئے ہیں، نیو جرسی اور میساچوسٹس سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔

    فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹ فلائٹ اوئیر کے مطابق، امریکہ کے اندر اور امریکہ جانے والی کل 5706 سے زیادہ پروازیں منسوخ کر دی گئیں۔

    بوسٹن کے لوگن بین الاقوامی ہوائی اڈے نے پیر کو 92 فیصد پروازیں منسوخ کر دیں۔ برفباری منگل کو بھی خطے پر اثر انداز رہے گی اور 2000 سے زیادہ پروازیں منسوخ ہونے کا خدشہ ہے، بوسٹن اور نیویارک کے ہوائی اڈے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔