پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم
منیر اور صدر ٹرمپ کی ملاقات پاک امریکہ تعلقات میں ایک سنگ میل ہے۔
سماجی
رابطے کے سایٹ ایکس پر انھوں نے لکھا کہ ’اس سے پہلے امریکہ صدر کی پاکستانی آرمی
چیف کی دعوت اور ملاقات کی مثال نہیں ملتی۔ ‘
’ یہ (امریکہ
اور پاکستان کے) تعلقات کی 78سال کی تاریخ سب سے اھم موڑ ہے۔‘
انھوں
نے مزید لکھا کہ ’اس ملاقات میں جسطرح بین الاقوامی اور خطہ کے معاملات زیر بحث آئے
اس سے پاکستان کی اہمیت اجاگر ہوئی۔‘
خواجہ
آصف کا کہنا تھا کہ ’پاکستان معاملات کو حل کرنے میں جس طرح مدد کر سکتا ہے اس اہمیت
کو تسلیم کیا گیا۔‘
ان کا
کہنا تھا کہ ’پاکستان اور انڈیا تنارعات کی دوبارہ بین الاقوامی حیثیت اجاگر ہوئی۔
‘
ان کے
بقول اس کامیابی کی وجہ پاکستان کا ’موجودہ حکمرانی کے ہائبرڈ ماڈل‘ ہے۔
انھوں
نے کہا کہ ’معیشت کی بحالی، انڈیا کی شکست، امریکہ کے ساتھ تعلقات، یہ سار ی
انقلابی تبدیلیاں وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے تعاون اور اسلام
آباد اور راولپنڈی کے بہترین تعلقات کی وجہ سے ممکن ہو سکیں۔‘
یاد رہے کہ امریکی صدر نے بدھ کے روز آرمی چیف عاصم منیر کے اعزاز میں وائٹ ہاؤس کے کیبنٹ روم میں ظہرانہ دیا جہاں صحافیوں کو داخلے کی اجازت نہیں تھی۔
امریکی صدر کا کہنا ہے کہ انھوں نے پاکستان اور انڈیا کے درمیان جنگ روکنے پر شکریہ ادا کرنے کے لیے پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو وائٹ ہاؤس میں مدعو کیا تھا۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جنرل عاصم منیر نے (پاکستان انڈیا) جنگ روکنے میں اہم کردار ادا کیا اور ’میں پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر سے ملاقات کو اپنے لیے باعثِ اعزاز سمجھتا ہوں۔‘
آئی ایس پی آر کے مطابق، ملاقات میں امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو اور صدر ٹرمپ کے خصووصی ایلچی برائے مشرقِ وسطیٰ سٹیو وٹکوف بھی شامل تھے جبکہ قومی سلامتی کے مشیر اور آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل محمد عاصم ملک آرمی چیف کے ہمراہ تھے۔
آرمی چیف عاصم منیر کے ساتھ لنچ اور ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کے دوران جب ڈونلڈ ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا ان کی پاکستانی جنرل سے ایران کے حوالے سے کوئی بات ہوئی؟
جس پر امریکی صدر کا کہنا تھا ’وہ ایران کو بہت اچھی طرح جانتے ہیں۔۔ شاید دوسروں سے بہتر۔ اور وہ اس صورتحال سے خوش نہیں ہیں۔ یہ نہیں کہ ان کے اسرائیل سے تعلقات خراب ہیں، وہ دونوں کو جانتے ہیں، درحقیقت شاید ایران کو زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ لیکن وہ دیکھ رہے ہیں کہ کیا ہو رہا ہے اور انھوں نے مجھ سے اتفاق کیا۔‘
یاد رہے پاکستان آرمی چیف 14 جون سے امریکہ کے دورے پر ہیں اور امریکی صدر سے ان کی ملاقات پہلے سے ہی طے شدہ تھی۔