سندھ کے قائم مقام گونر اویس قادر شاہ نے بی بی سی سے بات
کرتے ہوئے یہ بتایا کہ انھوں نے محرم الحرام کے سکیورٹی اور دیگر انتظامات کا
جائزہ لینے کے لیے محکمہ داخلہ کی ایک میٹنگ طلب کی تھی جس میں ہوم سیکریٹری، آئی
جی سندھ، ڈی آئی جیز اور دیگر افسران نے شرکت کرنا تھی تاہم یہ میٹنگ اس لیے تاخیر
کا شکار ہوئی کیونکہ دفتر کی چابیاں کامران ٹیسوری اپنے ساتھ ترکی لے گئے تھے۔
قائم مقام گورنر نے بتایا کہ جمعے کے صبح دس کہ’امن و امان
کے بارے میں اجلاس کی صدارت کرنے گورنر ہاؤس پہنچا تو گورنر نے پرنسپل افسر نے
بتایا کہ دفتر کی چابیاں کامران ٹیسوری اپنے ساتھ ترکی لے گئے ہیں۔‘
انھوں نے بتایا کہ کہ جب وہ وہاں پہنچے پر پتا چلا تو تمام
افسران باہر کھڑے تھے اور دفتر لاک تھا۔
سندھ کے قائم مقام گورنر
اویس قادر کا کہنا تھا کہ ’گورنر ہاؤس کا سٹاف غائب ہوگیا پرنسپل سیکریٹری نے ہوم
سیکریٹری اور آئی جی سندھ کی موجودگی میں بتایا کہ گورنر چابیاں اپنے ساتھ ترکی لے
گئے ہیں جس پر میں نے کہا کہ یہ کیا طریقہ کار ہے، ان کو آئینی ذمہ داریاں ادا
کرنے میں رکاوٹ ڈالی جارہی ہے یہ اقدام غیر آئینی ہے۔‘
دوسری جانب گورنر ہاؤس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’قائم مقام
گورنر سندھ سید اویس قادر شاہ کو صورتحال کے حوالے سے غلط فہمی ہوئی، اجلاس میں
شرکت کے لیے سیکریٹری داخلہ، آئی جی سندھ اور ڈی آئی جیز (ایسٹ، ویسٹ، ساؤتھ)، سی
ٹی ڈی اور اسپیشل برانچ کے افسران کانفرنس روم میں موجود تھے، قائم مقام گورنر کے
لیے مخصوص دفتر پیشگی طور پر تیار تھا، اگر مرکزی دفتر استعمال کرنا مقصود تھا تو
بروقت آگاہ کیا جاتا تو انتظام کر دیا جاتا۔‘
ترجمان کے مطابق گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے پرنسپل سیکریٹری کو 24
گھنٹوں میں واقعے کی انکوائری مکمل کرنے کی ہدایت دی ہے۔
قائم مقام گورنر اویس شاہ نے ترجمان کے بیان کو ’گمراہ کن
اور غلط بیانی‘ قرار دیا انھوں نے بتایا کہ فون کالز اور تحریری طور پر گورنر ہاؤس
کو اجلاس کے بارے میں آگاہ کردیا گیا تھا۔
ان کا کہنا ہے کہ ’ میں سپیکر سندھ اسمبلی ہوں اگر میں اپنے
دفتر میں موجود نہیں تو کیا دفتر کی چابیاں میں اپنے ساتھ لے جاؤں گا یہ کس قسم کی
ذہنیت ہے۔‘
دوسری جانب قائم مقام گورنر اویس قادر شاہ نے سندھ ہائی
کورٹ سے رجوع کیا ہے اور عدالت نے قائم قام گورنر کو فوری گورنر ہاؤس میں داخلے کی
اجازت دے دی اور کہا ہے کہ انھیں رہائشی کمروں کے علاوہ دیگر دفاتر تک رسائی دی
جائے۔
سندھ ہائی کورٹ میں سید اویس شاہ نے موقف اختیار کیا تھا کہ
دو جون سے کامران ٹیسوری بیرون ملک گئے ہوئے ہیں،انھوں جب سے قائم مقام گورنر سندھ کا چارج لیا ہے انھیں گورنر ہاؤس میں
رسائی نہیں دی جارہی ہے، قائم مقام گورنر کو دفتری امور سے روکنا آئین کے آرٹیکل
104 کی خلاف ورزی ہے۔
عدالت نےدرخواست قبول کرتے ہوئے انھیں گورنر ہاؤس میں جانے
اور امور سرانجام دینے کی اجازت دے دی اور23 جون کے لیے پرنسپل سیکرٹری سے رپورٹ طلب کرلی ہے اور حکم دیا ہے کہ
عدالتی حکم نامے کی کاپی صدر پاکستان اور پرنسپل سیکرٹری گورنر ہاؤس سندھ کو ارسال
کی جائے۔
یاد رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور گورنر کامران ٹیسوری کے
تعلقات بڑے عرصے سے کشیدہ رہے ہیں، کامران ٹیسوری کا تعلق ایم کیو ایم پاکستان سے
ہے جب ایم کیو ایم دھڑا بندی کا شکار ہوئی تھی تو وہ ڈاکٹر فاروق ستار کے ساتھ
تھے۔