ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے باعث بلوچستان کے تمام سرحدی اضلاع سے پاکستان اور ایران کے درمیان سرحد تاحال بند ہے۔
مقامی تاجروں کا کہنا ہے کہ گذشتہ روز پاکستانی حکام کی جانب سے ایک دن کے لیے کاروباری مقاصد کے لیے سرحد کو کھولنے کا اعلان کیا گیا تھا لیکن حکام کے مطابق ایران کی جانب سے بندش کے باعث وہ بھی ممکن نہیں ہوسکا۔
اس صورتحال کی وجہ سے بلوچستان کے پانچ سرحدی اضلاع اور ان سے متصل دیگر علاقوں کے لوگوں کے معاش اور روزگار کا انحصار زیادہ تر ایرانی سرحد پر ہونے کی وجہ سے نہ صرف لوگوں کی پریشانی میں اضافہ ہوا ہے بلکہ ان علاقوں میں ایندھن کی بھی قلت پیدا ہوگئی ہے۔
حکومت بلوچستان کے ترجمان شاہد رند نے کا کہنا ہے کہ ’سرحد ایران کی صورتحال کی وجہ سے ایرانی حکام کی جانب سے بند کیا گیا ہے تاہم جو پاکستانی شہری ایران سے آرہے ہیں ان کا ہم استقبال کررہے ہیں۔‘
سرحد کی بندش سے سرحدی علاقوں کے لوگوں اور حکام کا کیا کہنا ہے؟
اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کے باعث 14 فروری سے ایران سے ملحقہ بلوچستان کے پانچ اضلاع چاغی، واشک، پنجگور، کیچ اور گوادر سے ایران کے ساتھ جتنے بھی کراسنگ پوائنٹس ہیں وہ ہرقسم کی سرگرمیوں کے لیے بند ہیں۔ تاہم ان میں سے ضلع چاغی میں تفتان اور ضلع گوادر میں 250 بارڈر پوسٹ سے ایران سے آنے والے پاکستانی شہریوں کو واپس آنے کی اجازت دی جارہی ہے۔
جب اسسٹنٹ کمشنر گوادر جواد زہر ی سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے اس سلسلے میں زیادہ تفصیلات فراہم نہیں کہ بلکہ صرف اتنا بتایا کہ یہاں سے ایران کے ساتھ سرحد بند ہے۔
ضلع واشک کے ایران سے ملحق شہر ماشکیل میں انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ جمعرات کے روز پاکستان کی جانب سے بارڈر کھولنے کا اعلان کیا گیا لیکن ایران کی جانب سے بند ہونے کی وجہ سے اس پر عملدرآمد نہیں ہوسکا۔
سرحدی علاقوں کے زیادہ تر لوگوں کا ذریعہ معاش کسی نہ کسی طرح ایرانی سرحد سے منسلک ہے اس لیے انجمن تاجران ماشکیل کے صدر کبیر ریکی نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ ’جمعرات کو سرکاری حکام کی جانب سے یہاں لوگوں کو بتایا گیا کہ ایک روز کے لیے سرحد کو کھول دیا جائے گا جس کے لیے تیل اور گیس لانے والی گاڑیوں کا فہرست بھی جاری کیا گیا لیکن جب یہ گاڑیاں سرحد پہنچ گئیں تو ان کو یہ کہہ کر واپس کیا گیا کہ ایران حکام کی جانب سے سرحد نہیں کھولا جارہا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’جن کی گاڑیوں کی فہرست جاری کی گئی ان میں سے بعض کے ڈرائیوروں نے قرض پر تھوڑی بہت ایندھن ڈلوایا تھا لیکن سرحد بند ہونے کی وجہ سے ان کو گاڑیاں دوسری گاڑیوں سے باندھ کر سرحد سے واپس ماشکیل شہر لانی پڑیں۔‘
انھوں نے بتایا کہ چونکہ ماشکیل کا تیل اور ایندھن کے لیے انحصار مکمل طور پر ایران پر ہے لیکن سرحد کی بندش کی وجہ سے ان کی قلت پیدا ہوگئی ہے اور ان کے بقول دو سو سے کم پر ملنے والا ایک لیٹر ایرانی پیٹرول اس وقت تین سو سے ساڑھے تین سو روپے پر مل رہا ہے۔
سرحدی ضلع چاغی سے متصل ضلع نوشکی سے تعلق رکھنے والے ایک شہری منور احمد نے بتایا کہ نوشکی میں تیل کی قلت کی وجہ سے فی لیٹر ایرانی پیٹرول تین سو روپے سے زائد میں مل رہا ہے۔
جب اس سلسلے میں ایران سے ملحقہ پنجگور کے سینیئر صحافی برکت مری سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ سرحدی علاقوں میں لوگوں کے معاش اور روزگار کا انحصار تو ایرانی سرحد پر ہے۔ سرحد کی بندش کی وجہ سے پنجگور میں کاروباریاں سرگرمیاں معطل ہونے سے لوگوں کی پریشانیوں اور مشکلات میں اضافہ ہوگیا ہے۔
برکت مری کا بھی کہنا تھا کہ پاکستانی کمپنیوں کا تیل سرحدی علاقوں میں دستیاب نہیں ہے جبکہ سرحد کی بندش سے ایرانی پیٹرول کی فی لیٹر قیمت تین سو سے ساڑھے تین سو تک پہنچ گئی ہے۔
سرکاری حکام نے اس حوالے سے کیا بتایا ؟
حکومت بلوچستان کے ترجمان شاہد رند نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ جنگ کی وجہ سے ایران میں جو صورتحال ہے اس کے باعث ایرانی حکام کی جانب سے سرحد کو بند کیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جب ایرانی حکام کی جانب سے سرحد کو بند کیا گیا تو اس کے باعث ہماری جانب سے بھی حکام نے وہاں کی صورتحال کی وجہ سے سرحد کو بند کیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ جہاں تک ایران سے آنے والے پاکستانی شہریوں کی بات ہے ان کے لیے سرحد کھلی ہے اور ان کی واپسی جاری ہے۔
سرحدی حکام کے مطابق سرحد کی بندش کے بعد اب تک ایران سے ہزاروں پاکستانی شہری تفتان اور گوادر پہنچے ہیں جن میں سے بڑی تعداد زائرین اور ایران میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبا کی ہے۔