بریکنگ, یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا
بی بی سی کی اردو پیج لائیو کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔
پاکستان کے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی۔ شہباز شریف وفد کے ہمرا سعودی عرب کے دورے پر ہیں۔
بی بی سی کی اردو پیج لائیو کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔

،تصویر کا ذریعہPRIME MINISTER OFFICE
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے محمد بن سلمان کی خصوصی دعوت پر افطار ڈنر میں شرکت کی۔
افطار کے بعد دو طرفہ پر بات ہوئی۔ وفد کے ہمرا ملاقات کے علاوہ وزیراعظم اور سعودی ولی عہد کے درمیان ون آن ون ملاقات بھی ہوئی۔
وزیراعظم نے خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی صحت کے لیے دعا اور نیک خواہشات کا اظہار کیا
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے شہر خضدار میں بم دھماکے میں کم ازکم دو افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے ہیں۔
یہ دھماکہ اتوار کی شب شہر کے معروف تجارتی مرکز عمر فاروق چوک کے علاقے میں ہوا۔
صوبائی حکومت کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ابتدائی اطلاعات کے مطابق بم موٹر سائیکل میں نصب تھاآ‘
ڈپٹی کمشنر خضدار عارف زرکون نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ اس دھماکے میں دو افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ پانچ زخمی ہیں۔
سٹی پولیس سٹیشن خضدار کے ایس ایچ او عزیز خدرانی نے بتایا کہ اس علاقے میں خواتین اور بچے بڑی تعداد میں رات کو عید کی خریداری کے لیے آتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ رش کے باعث اس علاقے میں پولیس کی ایک گاڑی سکیورٹی کے لیے موجود رہتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دھماکے کے باعث سکیورٹی کے لیے موجود پولیس اہلکاروں میں سے بھی دو زخمی ہوئے۔ انھوں نے بتایا کہ زخمی افراد کو طبی امداد کی فراہمی کے لیے ٹیچنگ ہسپتال خضدار منتقل کیا گیا۔
بتایا گیا ہے کہ دھماکے کی جگہ پر تین موٹر سائیکل بھی تباہ ہوئے ہیں جبکہ قرب و جوار کی دکانوں اور عمارتوں کے شیشوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ پولیس اہلکار کے مطابق دھماکے کی نوعیت کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
ادھر وزیر اعلٰی میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ ’معصوم اور بے گناہ لوگوں نشانہ بنانے والوں کو معاف نہیں کیا جائے گا، عوام اور سیکیورٹی فورسز دہشت گردوں کا قلع قمع کریں گے۔

،تصویر کا ذریعہKP POLICE
بشام میں چینی انجینیئرز پر حملے سے متعلق خیبرپختونخوا پولیس نے ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ وفاقی وزارت داخلہ کو ارسال کی ہے۔
کے پی پولیس کی اس رپورٹ کے مطابق ابتدائی جانچ کی بنیاد پر بظاہر لگتا ہے کہ چینی باشندوں کو لے جانے والی گاڑی بلٹ پروف اور بم پروف نہیں تھی۔
رپورٹ کے مطابق جائے وقوعہ کی فضائی تصویر بھی حاصل کر لی گئی ہے اور تھانہ بشام تقریباً چھ کلومیٹر جبکہ داسو ڈیم 77 کلومیٹر جائے وقوعہ سے دور ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تباہ ہونے والی بس دوسری گاڑی سے 15 فٹ کے فاصلے پر تھی اور خودکش دھماکے سے بس 300 فٹ گہرائی میں جاگری۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چینی قافلے میں شامل تمام بسوں میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب تھے اور خودکش بمبار کے زیرِ استعمال گاڑی کے ٹکرے حاصل کر لیے گیے ہیں۔
گذشتہ ماہ بشام کے علاقے میں ایک خودکش حملے میں چینی انجینیئرز سمیت پانچ افراد ہلاک ہوئے تھے جس پر وزیر اعظم شہباز شریف نے چینی حکام کو تحقیقات اور واقعے میں ملوث افراد کو سزائیں دینے کی یقین دہانی کرائی تھی۔
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے عمران خان کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سابق وزیر اعظم کا بیان ’خوف اور مایوسی سے نکلا ہے۔‘
انھوں نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے پیغام میں کہا کہ یہ الزامات بغیر کسی شواہد کے عائد کیے گئے ہیں۔ ’عمران خان اور ان کی شریک حیات دونوں توشہ خانہ کی ڈکیتی میں ملوث رہے ہیں۔ آڈیوز نے کرپشن اور غبن کو ثابت کیا ہے۔‘
’9 مئی کو ریاستی اداروں پر حملے اور شہدا کے خلاف مہم چلانا ان کی پالیسی رہی ہے۔ پروپیگنڈے اور جھوٹ کے ذریعے سچ کو چھپایا نہیں جا سکتا۔ اڈیالہ میں خوف و ہراس کی کیفیت حالیہ بیانات سے عیاں ہے۔‘
خیال رہے کہ عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی توشہ خانہ کیس میں عائد کیے گئے الزامات کی تردید کرتے ہیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
پانی پاکستان تحریک انصاف اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’آرمی چیف نے مجھے توڑنے کے لیے توشہ خانہ ریفرنس میں بشری بی بی کو سزا دلوائی۔‘
بانی تحریک انصاف کے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اکاؤنٹ پر جاری اس بیان میں عمران خان کی اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے ہونے والی گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’ساری قوم کو پتہ ہے کہ جنرل عاصم منیر ملک چلا رہا ہے۔‘
عمران خان نے الزام عائد کیا کہ ’آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور نواز شریف کے درمیان لندن پلان ہوا جس کے تحت ججوں کو بھی ساتھ ملایا گیا اور آئی ایس آئی نے ججوں کی تقرریاں کروائیں۔‘
عمران خان نے الزام لگایا کہ ’کئی جج، محسن نقوی، چیف الیکشن کمشنر اور نگران حکومت لندن پلان کا حصہ تھے۔‘ عمران خان کا کہنا تھا کہ ’مشرقی پاکستان کی طرح ہمارا مینڈیٹ کم کر کے ہمیں کنٹرول کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔‘
عمران خان کے مطابق انھوں نے ’جنرل عاصم منیر کی بطور آرمی چیف تقرری سے پہلے صدر عارف علوی کے ذریعے ان کو یہ پیغام بھیجا تھا کہ ہم تمہارے مخالف نہیں۔‘
’میں نے عارف علوی کے ذریعے جنرل عاصم منیر کو ٹیلی فون کروایا تھا کہ مجھے اسکے لندن پلان کے بارے میں معلوم ہے۔‘
’علی زیدی کے ذریعے بھی پیغام دیا تھا کہ نیوٹرل رہیں اور ملک کو چلنے دیں، ہمیں کہا گیا کہ فکر نہ کرو، نیوٹرل رہیں گے۔‘
تاہم عمران خان نے یہ بھی کہا کہ ’حکومت گرانے کے باوجود دو مرتبہ جنرل باجوہ سے ملاقات کر سکتا ہوں تو کسی سے بھی ملاقات کر سکتا ہوں کیونکہ اس وقت میری ذات کا مسئلہ نہیں پاکستان کا ایشو ہے، مجھے قائل کر لیں۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
بیرسٹر گوہر نے راولپنڈی میں اڈیالہ جیل کے باہر بانی تحریکِ انصاف کے ساتھ ملاقات کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’بانی پی ٹی آئی نے آج عدت کیس کی سماعت کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے اس بات کا اعلان کیا ہے کہ ’جو میرے خلاف سیاسی بنیادوں پر کیس بنائے گئے وہ بے بُنیاد ہیں، جو ہمارے خلاف وعدہ معاف گواہ بنے اُن پر اور چیئرمین نیب پر ہم مقدمات درج کروائے جائیں گے اُن کے خلاف قانونی کارروائی کریں گے۔‘
بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ عمران خان نے بشریٰ بی بی سی صحت سے متعلق شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اب یہ کہا جا رہا ہے کہ انھیں زہر نہیں دیا گیا ہے، ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اُن کے ٹیسٹ ضرور ہونے چاہیں اور ہم یہ مطالبہ بھی کرتے ہیں کہ ان کے ٹیسٹ شوکت خانم ہسپتال سے ہوں اور اس دوران نگرانی کے لیے اُن کے اپنے معالج اُن کے ساتھ موجود ہوں۔‘
اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’عمران خان نے اس بات کا بھی اعادہ کیا ہے کہ جس طرح سے ہمارے جیتے ہوئے اُمیدواروں کے خلاف پراپوگنڈا کیا جا رہا ہے ایک درخواست دی جاتی ہے، ری کاؤنٹنگ کی جاتی ہے، اور اس سب کے دوران اُن کی کامیابی کو ناکامی میں تبدیل کیا جا رہا ہے، یہ سب مل کر حالات کو 1971 کی جانب لے کر جا رہے ہیں۔‘
بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ ’عمران خان نے مطالبہ کیا ہے کہ الیکشن کمیشن اس سارے عمل کو روکنے میں اپنا کرداد ادا کرے۔‘
سیاسی گفتگو کے دوران بانی پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ ’سینیٹ کے الیکشن اُس وقت تک نا ہوں کہ جب تک خیبر پختونخوا کے سینیٹر اس عمل میں شامل نہیں ہوتے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سابق وزیر اعظم اور بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کی عدت میں نکاح کیس میں سزاکے خلاف اپیل پر آج جب سماعت کا آغاز ہوا تو پراسیکیوٹر رانا حسن عباس سیشن عدالت پیش ہوئے۔
بانی پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجا نے دلائل کا آغاز کیا اور کہا کہ ’طلاق اور عدت ختم ہونے کی تاریخیں اہم ہیں۔ خاور مانیکا کے مطابق انھوں نے بشریٰ بی بی کو 14 نومبر 2017 کو تین بار طلاق دی۔‘
سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ ’بشریٰ بی بی کو سول عدالت میں اپنے ثبوت پیش کرنے کے حق سے محروم کیا گیا، 14 نومبر 2017 کو طلاق دینے کی بات سے مکر نہیں سکتے۔ یکم جنوری 2018 تک 48 دن طلاق کو گزر چُکے تھے۔
سلمان اکرم راجہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ’خاور مانیکا 6 سال خاموش رہے، ایک جملے پر کیس شکایت دائر کردی، اسلام میں خاتون کی پرائویسی کا خیال رکھنے کی تلقین کی گئی ہے۔‘
سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ’بشریٰ بی بی کو صرف عدت میں نکاح کیس میں سزا ملی ہوئی، بشریٰ بی بی کی سزا معطل کرنے کی سزا کی درخواست کو آج دیکھ لیں۔ ایک خاتون کی سزا آج کیوں نہیں ختم کی ہوسکتی؟‘
وکیل عثمان گل نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ’درخواست ہے سزا معطل کی درخواست پر فیصلہ عید سے پہلے دیا جائے۔‘
آج ہونے والے دلائل کے بعد عدت میں نکاح کیس میں سزا کے خلاف اپیل پر سماعت 9 اپریل تک کے لیے ملتوی کر دی گئی۔
’عدت میں نکاح‘ کیس کا مختصر پس منظر
25 نومبر 2023 کو بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا نے اسلام آباد کے سول جج قدرت اللہ کی عدالت سے رجوع کیا اور عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف دورانِ عدت نکاح کا کیس دائر کیا۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ دورانِ عدت نکاح کا معاملہ منظر عام پر آنے کے بعد دونوں نے مفتی سعید کے ذریعے فروری 2018 میں دوبارہ نکاح کیا۔
خاور مانیکا نے درخواست میں استدعا کی تھی کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو طلب کیا جائے اور انھیں آئین اور قانون کے تحت سخت سزا دی جائے۔
28 نومبر کو ہونے والی سماعت میں نکاح خواں مفتی سعید اور عون چوہدری نے اپنا بیان ریکارڈ کرایا تھا۔
تاہم اس کے بعد 5 دسمبر کو ہونے والی سماعت میں خاور مانیکا کے گھریلو ملازم اور کیس کے گواہ محمد لطیف نے بیان قلمبند کرایا تھا۔
تاہم تین فروری کو سابق وزیر اعظم و بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو غیر شرعی نکاح کیس میں 7، 7 سال قید کی سزا سنادی گئی تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا کے وزیرِ دفاع راج نات سنگھ کی جانب سے پاکستان مخالف بیانات پر پاکستان کی جانب سے بھی سخت ردِ عمل سامنے آرہا ہے۔
پاکستانی وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے انڈین وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ کے بیان پر ردِ عمل دیتے ہوئے کہا کہ ’آج سے کُچھ سال پہلے انھوں (انڈیا) نے پلوامہ میں گھس کر کُچھ کرنے کی کوشش کی تھی اور اُس کا کیا انجام ہوا تھا، خیرات میں ہم نے ان کا پائلٹ واپس کیا تھا، اب پھر کوشش کر کے دیکھ لیں جو پہلے ان کے ساتھ ہوا تھا اب بھی بلکل ویسا ہی ہوگا۔‘
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ’انڈیا کی حکمران جماعت اور اُن کے رہنما یہ سب باتیں صرف الیکشن میں کامیابی کے لیے کر رہے ہیں۔‘
پاکستانی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ ’پاکستان یہ نہیں چاہتا کہ دونوں مُلکوں کے درمیان حالات کشیدہ ہوں یا خطے کا امن خراب ہو، یہ اس بات کی تصدیق ہے کہ انڈیا اب بھی پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہے اور ان کی سر پرستی کرتا رہا ہے اور کر رہا ہے۔‘
بعد ازاں ترجمان دفترِ خارجہ ممتاز زہرہ بلوچ نے جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’انڈیا کے وزیرِ دفاع کی جانب سے سامنے آنے والے پاکستان مخالف بیانات کی ہم شدید الفاظ میں مزمت کرتے ہیں، اور اس بات کی بھی کہ انھوں نے ایک حالیہ انٹرویو میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ انڈیا پاکستان میں دہشت گردوں کی کارروائیوں میں ملوث رہا ہے اور انھوں نے پاکستان کے دعویٰ کی تصدیق کر دی ہے کہ انڈیا پاکستان میں ان کارروائیوں کی پشت پناہی کرتا رہا ہے۔‘
ترجمان دفترِ خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ ’جس طرح کی کارروائیوں میں ملوث ہونے کا اعتراف انڈیا کے وزیرِ دفاع کی جانب سے کیا گیا ہے وہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے، کسی بھی مُلک کے اندر کوئی دوسرا مُلک اُن کے شہری کو نشانہ نہیں بنا سکتا۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستانی دفترِ خارجہ کی جانب سے پاکستان کے اندر انڈیا کی خفیہ ایجنسی کی کارروائیوں کے بارے میں انڈیا وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ کے ’اشتعال انگیز‘ بیانات کی مذمت کی گئی ہے۔
پاکستانی دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان کسی بھی جارحیت کے خلاف اپنی خودمختاری کے تحفظ کے لیے اپنے ارادے اور صلاحیت پر قائم ہے، جیسا کہ فروری 2019 میں انڈیا کی جانب سے دراندازی کا جواب دیا گیا تھا، جس نے انڈیا کے فوجی برتری کے کھوکھلے دعووں کو بے نقاب کردیا۔‘
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’انڈیا کی حکمراں جماعت قوم پرستی کے جذبات کو ہوا دینے کے لیے نفرت انگیز بیانات کا سہارا لیتی ہے اور انتخابی فائدے کے لیے اس طرح کی گفتگو کا بے دریغ فائدہ اٹھاتی ہے۔‘
یاد رہے کہ اخبار گارڈین کی جانب سے 4 اپریل کو ایک خبر سامنے آئی جس میں کہا گیا کہ دونوں جانب سے سامنے آنے والے شواہد کے بعد یہ کہا جا سکتا ہے کہ انڈیا کی خفیہ ایجنسی ’را پاکستان میں اُس کے شہریوں کو نشانہ بنانے میں ملوث ہے۔‘
جس کے بعد دی گارڈین کی ہی جانب سے گذشتہ روز کہا گیا کہ انڈیا کے وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ انڈیا کی جانب سے پاکستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور دہشت گردوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
اس کے بعد اب پاکستانی دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’انڈیا کا اس طرح کا غیر ذمہ دارانہ رویہ نہ صرف علاقائی امن کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ طویل مدت میں تعمیری روابط کے امکانات کو بھی متاثر کرتا ہے۔‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ ’پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن کے لیے اپنے عزم کا اظہار کیا ہے۔ تاہم، امن کی ہماری خواہش کو غلط نہیں سمجھا جانا چاہئے۔ تاریخ پاکستان کے اپنے دفاع اور تحفظ کے پختہ عزم اور صلاحیت کی گواہ ہے۔‘
انڈیا میں ایک انٹرویو کے دوران وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ سے جب یہ سوال کیا گیا کہ انڈیا پر دی گارڈین کی ایک رپورٹ میں یہ الزام لگایا گیا ہے کہ انڈیا کے خفیہ ادارے ’را‘ نے 20 پاکستانی شہریوں کو، 20 دہشت گردوں کو پاکستان میں گھس کر مارا ہے تو اس کا جواب دیتے ہوئے راج ناتھ سنگھ نے اس بات کی تصدیق یا تردید تو نہیں کی مگر یہ ضرور کہا کہ ’کوئی بھی دہشت گرد ہمارے پڑوسی مُلک سے انڈیا کے امن و امان کو خراب کرنے کی کوشش کرے گا تو اُس کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا، یعنی اگر کوئی دہشت گرد یہاں کارروائی کے بعد بھاگ کر پاکستان جائے گا تو پاکستان میں گھس کر اُسے ماریں گے۔‘
اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’انڈیا اپنے پڑوسیوں کے ساتھ بلا تفریق اچھے تعلقات بنا کر رکھنا چاہتا ہے، آج تک نا تو انڈیا نے کسی مُلک پر حملہ کیا ہے اور نہ ہی کسی مُلک کی ایک انچ زمین پر قبضے کیا ہے، لیکن اگر کوئی آکر انڈیا میں دہشت گردی کرے گا اور امن کا خراب کرے گا تو اُس کی خیر نہیں ہے۔‘
صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع لکی مروت میں منجیولا چوک کے قریب نامعلوم دہشتگردوں کی فائرنگ سے ڈی ایس پی گل محمد خان اور ان کا گن مین کانسٹیبل نسیم گُل ہلاک ہو گئے۔
پولیس کے مطابق دہشتگردوں کے ساتھ ہونے والے فائرنگ کے اس تبادلے میں ڈی ایس پی سمیت دو اہلکار زخمی ہوئے جنھیں فوری طور پر نورنگ ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈی ایس پی گُل محمد اور کانسٹیبل نسیم گُل ہلاک ہو گئے جبکہ کانسٹیبل فاروق شدید زخمی ہوئے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس افسوس ناک واقعے کے بعد پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچی اور علاقے میں سرچ آپریشن کا آغاز کیا گیا۔‘ تاہم اب تک کسی بھی دہشت گرد کی گرفتاری سے متعلق کوئی خبر سامنے نہیں آئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہ@BaristerDrSaif
گزشتہ روز پشاور میں کور کمانڈر ہاؤس میں خیبر پختونخوا کی صوبائی کابینہ کے اجلاس سے متعلق سامنے آنے والی خبروں کے بعد وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف کی جانب سے اس معاملے پر ایک وضاحتی بیان سامنے آیا۔
بیرسٹر سیف کی جانب سے اپنے ایکس پر موجود اکاؤنٹ پر ایک ویڈیو بیان میں کہنا تھا کہ ’کور کمانڈر ہیڈکوارٹرز پشاور میں کابینہ کا کوئی باضابطہ اجلاس نہیں ہوا بلکہ افطار کا اہتمام کیا گیا تھا۔‘
بیرسٹر سیف کا مزید کہنا تھا کہ کور کمانڈر ہیڈکوارٹرز میں افطار کا اہتمام کیا گیا تھا جہاں عسکری حکام کے ساتھ وزیر اعلیٰ کے پی اور کابینہ کی میٹنگ ہوئی اور حکام نے انھیں سکیورٹی صورتحال پر بریفنگ دی۔‘
انھوں نے کہا کہ ’کور کمانڈر ہیڈکوارٹرز میں کابینہ کا باضابطہ اجلاس نہیں ہوا بلکہ الیون کور میں افطار کی دعوت روایات کے مطابق قبول کی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’الیون کور میں سکیورٹی معاملات سے متعلق بریفنگ روم مختص ہے، سکیورٹی صورتحال پر فوج سے فعال رابطوں اور تعاون پر یقین رکھتے ہیں۔‘
بیرسٹر سیف کا کہنا تھا کہ ’وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے الیون کور میں سیشن سے خطاب بھی کیا اور سکیورٹی صورتحال اور حکومتی اقدامات پر بات کی۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم پاکستان کی فوج کے کور کمانڈر کی دعوت پر کور ہیڈکوارٹرز گئے، ہم انڈیا کی فوج کے کور کمانڈر کی دعوت پر انڈین آرمی کے کور ہیڈ کوارٹرز نہیں گئے۔‘
اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’اگر ہم اُن کے ساتھ رابطہ نہیں رکھیں گے تو اس مُلک کا نظام کیسے چلے گا۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما بیرسٹر گوہر علی خان نے ورچوئل جلسے سے خطاب کے دوران کہا کہ ’پی ٹی آئی عید کے بعد اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر احتجاجی تحریک شروع کرے گی۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ ’اس سے متعلق اتحادیوں کے ساتھ پہلی میٹنگ ہو چُکی ہے جس میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ اس احتجاجی تحریک کے آغاز پر پہلا جلسہ پشین میں اور اُس کے بعد گوجرانوالہ میں بی جلسہ کیا جائے گا۔‘
گوہر علی خان کا کہنا تھا کہ ’ہمارا مقصد اپنے مینڈیٹ کی واپسی اور عدلیہ کی آزادی ہے۔ اگر عدلیہ آزاد ہوتی تو یہ سب نہ ہوتا جو ہمارے ساتھ ہوا اور ہمارے لوگ جیلوں میں نہ ہوتے۔‘
بیرسٹر گوہر علی خان کی جانب سے اس ورچوئل جلسے کے دوران جن اتحادیوں کے نام لیے اُن میں جماعتِ اسلامی، مجلس وحدتِ مسلمین، بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل گروپ، پختونخوا ملی عوامی پارٹی اور دیگر شامل تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان تحریکِ انصاف کے سیکرٹری جنرل عمر ایوب خان کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی جانب سے ملنے والی ہدایات کے بعد ایک سیاسی کمیٹی بنائی گئی ہے جو تمام پارٹی امور کی ذمہ دار ہوگی اور پارٹی سے متعلق ہونے والے تمام اہم فیصلوں کے بارے میں کور کمیٹی کو آگاہ کرے گے۔
بانی پاکستان تحریک انصاف کی ہدایت پر بنائی جانے والی اس کمیٹی میں 10 ارکان شامل ہیں۔
سیاسی کمیٹی کے سربراہ عُمر ایوب خان ہوں گے تاہم اُن کے علاوہ بیرسٹر گوہر، سینیٹر شبلی فراز، علی امین گنڈاپور، اسدقیصر، شاہ فرمان، خالد خورشید، سینیٹر عون عباس، راؤف حسن، حماداظہر، میاں اسلم اقبال، عاطف خان، حافظ فرحت اور شیرافضل مروت شامل ہوں گے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے جمعہ کو ٹیلی فون کیا۔ دفتر خارجہ کی ترجمان کی جانب سے جاری بیان کے مطابق دونوں اطراف نے باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
دونوں وزراء خارجہ کے درمیان بات چیت میں تجارت اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو بڑھانے، موسمیاتی تبدیلی، زراعت اور سکیورٹی سمیت دیگر اہم دوطرفہ امور پر بات ہوئی۔
پاکستانی دفتر خارجہ کی ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں مزید کہا گیا کہ علاقائی اہمیت کے مختلف امور بشمول غزہ کی صورتحال، بحیرہ احمر اور افغانستان میں ہونے والی پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں اطراف نے دو طرفہ تعلقات میں موجودہ مثبت رفتار پر اطمینان کا اظہار کیا۔
آج دن کے آغاز پر پہلے ایک نظر ڈالتے ہیں گذشتہ روز کی چند اہم خبروں پر:
پانچ اپریل جمعے کے روز سپریم کورٹ کے مزید پانچ ججز کو دھمکی آمیز خطوط موصول ہوئے۔ جس کے بعد سپریم کورٹ کے سکیورٹی حکام نے یہ خطوط کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے حوالے کر دیے۔
خیال رہے کہ چیف جسٹس سمیت چار ججز کو پہلے ہی دھمکی آمیز اور پاؤڈر پر مبنی خطوط موصول ہو چکے ہیں۔
پولیس اہلکاروں نے بی بی سی کو بتایا کہ سپریم کورٹ کے ان دس ججز کو ایک ہی روز خطوط پوسٹ کیے گئے تھے جن میں سے کچھ کو تین دن پہلے اور کچھ کو جمعے کے روز موصول ہوئے۔
جن ججز کو یہ خطوط جمعے کے روز موصول ہوئے ان میں جسٹس منیب اختر، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس عرفان سعادت خان اور جسٹس عائشہ ملک شامل ہیں۔
واضح رہے کہ اس سے قبل چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سمیت سی ٹی ڈی نے یکم اپریل کو ججز کو موصول ہونے والے خطوط کا مقدمہ تین اپریل کو درج کیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کی سیاست، معیشت، حکومتی امور و فیصلے اور اہم عدالتی مقدمات سمیت دیگر تازہ ترین خبریں جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج میں خوش آمدید!