جسٹس عائشہ ملک سمیت سپریم کورٹ کے مزید پانچ ججز کو مشکوک خطوط موصول

سپریم کورٹ کے مزید پانچ ججز کو دھمکی آمیز خطوط موصول ہوئے ہیں۔ سپریم کورٹ کے سکیورٹی حکام نے یہ خطوط کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے حوالے کر دیے ہیں۔ دوسری طرف بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں بغیر اجازت ریلی نکالنے پر تحریک انصاف کے صوبائی اور مقامی رہنماؤں کے خلاف پولیس نے قومی اداروں اور حکومت کے خلاف عوام میں نفرت پیدا کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کر لیا ہے۔

خلاصہ

  • آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ پاکستانی حکام نے موجودہ پروگرام کی تکمیل کے بعد اگلے معاونتی پروگرام کے لیے دلچسپی کا اظہار کیا ہے تاکہ پاکستان کو درپیش مالیاتی اور بیرونی چیلنجوں سے نمٹا جا سکے
  • عدلیہ میں خفیہ اداروں کی مبینہ مداخلت کے معاملے پر سپریم کورٹ میں ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ عدلیہ میں کوئی مداخلت برداشت نہیں ہو گی
  • عدلیہ میں خفیہ اداروں کی مبینہ مداخلت کے معاملے پر سپریم کورٹ میں ازخود نوٹس کی سماعت 29 اپریل تک ملتوی ہو گئی ہے

لائیو کوریج

  1. سپریم کورٹ کے مزید پانچ ججز کو دھمکی آمیز خطوط موصول, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    سپریم کورٹ کے مزید پانچ ججز کو دھمکی آمیز خطوط موصول ہوئے ہیں۔ سپریم کورٹ کے سکیورٹی حکام نے یہ خطوط کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے حوالے کر دیے ہیں۔

    خیال رہے کہ چیف جسٹس سمیت چار ججز کو پہلے ہی دھمکی آمیز اور پاؤڈر پر مبنی خطوط موصول ہو چکے ہیں۔

    پولیس اہلکاروں نے بی بی سی کو بتایا کہ سپریم کورٹ کے ان دس ججز کو ایک ہی روز خطوط پوسٹ کیے گئے تھے جن میں سے کچھ کو تین دن پہلے اور کچھ کو آج موصول ہوئے ہیں۔

    جن ججز کو یہ خطوط آج موصول ہوئے ہیں ان میں جسٹس منیب اختر، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس عرفان سعادت خان اور جسٹس عائشہ ملک شامل ہیں۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سمیت سی ٹی ڈی نے یکم اپریل کو ججز کو موصول ہونے والے خطوط کا مقدمہ تین اپریل کو درج کیا تھا۔

  2. عید کے بعد گرینڈ الائنس کا پہلا بڑا اجتماع 13 اپریل کو بلوچستان میں ہوگا: تحریک انصاف

    IK

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان تحریک انصاف کورکمیٹی نے کہا ہے کہ عیدالفطر کے بعد وسیع تر سیاسی اشتراک کے نتیجے میں وجود پذیر ہونے والے گرینڈ الائنس کے ذریعے بھرپور عوامی تحریک کی تائید گرینڈ الائنس کے تحت پہلا بڑاعوامی اجتماع 13 اپریل کو بلوچستان کے ضلع پشین میں منعقد کرے گی۔

    پاکستان تحریک انصاف کی کورکمیٹی کے اجلاس میں بانی چیئرمین عمران خان کے خلاف مقدمات میں عدالتی کارروائی میں سست روی نہایت افسوسناک قرار دیتے ہوئے ان کی فوری تکمیل اور رہائی کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔

    اس اجلاس کے بعد جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’کورکمیٹی کی جانب سے خیبرپختونخوا میں سینٹ انتخابات ملتوی کرنے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔‘

    تحریک انصاف کے مطابق الیکشن کمیشن کا اقدام، دستور کی کھلی بے حرمتی، وفاق کی وحدت و یکجہتی پر حملہ اور عوام کے ووٹ کے حق کی کھلی پامالی کی کوشش ہے۔

    پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ ’نامکمل ایوانوں کے ذریعے جمہوریت کو داغدار کرنے اور الیکشن کمیشن کی مجرمانہ معاونت سے عوام کے ووٹ کے حق کو غیر مؤثر کرنے کی کوشش ہے۔

    کورکمیٹی کے اجلاس میں اعلیٰ عدلیہ کے ججز کو مشکوک خطوط کے ذریعے ہراساں کرنے کی بھی مذمت کی گئی ہے۔

    کور کمیٹی نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے چھ ججز کے خط پر فل کورٹ تشکیل دینے، عدالتی کارروائی کو براہِ راست نشر کرنے اور عدالتی کنونشن کے انعقاد کے مطالبات کا بھی اعادہ کیا ہے۔

    کورکمیٹی نے الیکشن کمیشن اور اس کے قائم کردہ ٹربیونلز سے انتخابی عذرداریوں کو جلد نمٹانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ کورکمیٹی نے الیکشن کمیشن آف پاکستان سے تحریک انصاف کا انتخابی نشان ’بلا‘ بحال کرنے کا بھی مطالبہ کر دیا ہے۔

    کور کمیٹی کے مطابق انٹراپارٹی انتخابات کی تمام تر تفصیلات جمع کروائے جانے کے بعد تحریک انصاف کے انتخابی نشان کی عدم بحالی کا کوئی قانونی جواز نہیں رہتا۔

  3. رکن قومی اسمبلی زین قریشی کو پاسپورٹ جاری کیا جائے: اسلام آباد ہائیکورٹ

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے ڈی جی امیگریشن کو رکن قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی کے رہنما زین قریشی کو پاسپورٹ جاری کرنے کی ہدایات جاری کر دیں جبکہ ان کا نام ای سی ایل اور نو فلائی لسٹ سے نام نکالنے کی درخواست پر وزارت داخلہ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 29 اپریل تک جواب طلب کر لیا ہے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے شاہ محمود قریشی کے بیٹے ایم این اے زین قریشی کی پاسپورٹ کی تجدید اور نام ای سی ایل یا نو فلائی لسٹ سے نکالنے کی درخواست پر سماعت کی۔

    پٹیشنر کی جانب سے سید علی بخاری ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔

    چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ مسئلہ کیا ہے؟

    علی بخاری ایڈووکیٹ نے کہا عدالت سے استدعا ہے کہ فریقین کو زین قریشی کا نام نو فلائی لسٹ اور ای سی ایل سے نکالنے کی ہدایات جاری کی جائیں۔

    انھوں نے بیرون ملک جانا ہے اور پاسپورٹ بھی ایکسپائر ہوگیا ہے۔ ڈی جی امیگریشن کو ہدایات دی جائیں کہ پاسپورٹ کی تجدید کی جائے۔ پاسپورٹ ہوگا تو وہ بیرون ملک جا سکیں گے۔ عدالت نے نیا پاسپورٹ جاری کرنے کی ہدائت کرتے ہوئے فریقین کو نوٹس جاری کر کے 29 اپریل تک جواب طلب کر لیا۔

  4. سابق وزیر اعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی صحت تسلی بخش قرار, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    Bushra

    ،تصویر کا ذریعہHUM TV

    پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز پسپتال کے ڈاکٹروں کی ٹیم نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی صحت کو تسلی بخش قرار دے دیا۔ پمز ہسپتال کے ڈاکٹروں کی ٹیم کے بشریٰ بی بی کے طبی معائنہ کی رپورٹ سامنے آ گئی۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پمز ہسپتال کے چار سینیئر ڈاکٹروں نے بنی گالہ سب جیل میں بشریٰ بی بی کا طبی معائنہ کیا۔ ہسپتال کی ڈاکٹروں کی ٹیم گیسٹرولوجسٹ، آنکھ اور کان کے سپیشلسٹس پر مشتمل تھی۔

    ڈاکٹروں کی رپورٹ کے مطابق بشریٰ بی بی نے بتایا تھا کہ تقریباً ڈھائی ماہ قبل کھانے کے بعد سینے میں جلن محسوس ہوئی، کچھ روز تک منہ کا ذائقہ بھی خراب رہا۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ بشریٰ بی بی کو معدے میں جلن، ہونٹوں کی سوجن اور آنکھوں میں پانی آنے کی شکایت تھی۔

    رپورٹ کے مطابق طبی معائنہ میں ایسی کوئی چیز سامنے نہیں آئی جس کی بشریٰ بی بی نے شکایت کی تھی تاہم پمز اسپتال کی 4 رکنی ٹیم نے بشریٰ بی بی کی صحت کو تسلی بخش قرار دے دیا۔

    اس کے علاوہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ بشریٰ بی بی کی آنکھوں کا معائنہ نہیں کیا گیا کیونکہ انہوں نے اس کی اجازت نہیں دی ڈاکٹروں کی جانب سے بشریٰ بی بی کو 14 روز کے لیے چند ادویات بھی تجویز کی گئیں۔

    واضح رہے کہ پی ٹی آئی قیادت کی طرف سے بشریٰ بی بی کو سلو پوائزن دینے کا الزام عاید کیا گیا تھاتاہم بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے ذاتی معالج ڈاکٹر عاصم یوسف نے کہا تھا کہ بشریٰ بی بی کو زہر دینے کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

  5. وزیرِاعظم شہباز شریف سنیچر کو سعودی عرب روانہ ہوں گے، شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات متوقع

    پاکستانی وزیرِاعظم شہباز شریف سنیچر کو سعودی عرب کے دو روزہ دورے پر روانہ ہوں گے۔

    دفترِ خارجہ کے مطابق وزیرِاعظم شہباز شریف چھ سے آٹھ اپریل تک سعودی عرب کے دورہ کریں گے اور اس دوران وہ عمرہ بھی کریں گے۔

    یہ وزیرِاعظم بننے کے بعد شہباز شریف کا پہلا بیرونی دورہ ہے۔ دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس دورے کے دوران پاکستانی وزیرِاعظم کی سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے بھی ملاقات متوقع ہے۔

    وزیرِاعظم شہباز شریف کے ساتھ وزیرِ خارجہ، وزیرِ دفاع، وزیرِ خزانہ اور دیگر وزرا بھی سعودی عرب کے دورے پر روانہ ہوں گے۔

  6. لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس علی باقر نجفی کو بھی مشکوک خط موصول

    لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس علی باقر نجفی کو بھی مشکوک خط موصول ہوا ہے۔

    جسٹس علی باقر نجفی تک خط پہنچنے کے بعد اب لاہور ہائیکورٹ کے ججز کو ملنے والے مشکوک خطوط کی تعداد چھ ہوگئی ہے۔

    عدالتی ذرائع کے مطابق جسٹس علی باقر نجفی کو بھی مشکوک خط موصول ہوا۔ اطلاع ملتے ہی کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) حکام اور پولیس لاہور ہائیکورٹ پہنچ گئے اور تحقیقات شروع کر دیں۔

    خیال رہے کہ سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کے ججز کو مشکوک خطوط موصول ہونے کے حوالے سے حکام کی تحقیقات ابھی جاری ہے اور یہ تعین کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ان خطوط میں موجود مواد کیا واقعی اینتھریکس تھا۔

  7. قومی اسمبلی کی پانچ، صوبائی اسمبلیوں کی 16 نشستوں پر ضمنی انتخابات کا شیڈول جاری

    پاکستان کے الیکشن کمیشن نے قومی اسمبلی کی پانچ اور صوبائی اسمبلیوں کی 16 نشستوں پر ضمنی انتخابات کا شیڈول جاری کر دیا ہے۔

    ان نشستوں میں، جن پر 21 اپریل کو ضمنی انتخابات کا انعقاد ہو گا، قومی اسمبلی کی نشست این اے آٹھ باجوڑ، این اے 44 ڈیرہ اسماعیل خان، این اے 119 لاہور، این اے 132 قصور اور این اے 196 قمبر شہداد کوٹ شامل ہیں۔

    صوبائی اسمبلی نشستوں میں پنجاب کی 12 جبکہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی دو، دو نشستیں شامل ہیں۔

    الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ شیڈول کے مطابق ضمنی انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواران اور جماعتوں کو 19 اور 20 اپریل کی درمیانی شب، انتخابات سے 48 گھنٹے پہلے، تک اپنی انتخابی مہم مکمل کرنا ہو گی اور قوائد و ضوابط کی خلاف ورزی پر دو سال قید اور ایک لاکھ روپے تک جرمانہ کی سزا ہو سکتی ہے۔

  8. کوئٹہ میں این او سی کے بغیر ریلی نکالنے پر تحریک انصاف رہنماؤں کے خلاف مقدمہ درج, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں بغیر اجازت ریلی نکالنے پر تحریک انصاف کے صوبائی اور مقامی رہنماؤں کے خلاف پولیس نے قومی اداروں اور حکومت کے خلاف عوام میں نفرت پیدا کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کر لیا ہے۔

    ایس ایچ او پولیس تھانہ سول لائن کی مدعیت میں درج ہونے والے اس مقدمے میں پی ٹی آئی کے صوبائی صدر داؤد شاہ کاکڑ، نور خان خلجی، خادم حسین وردگ، رحیم کاکڑ ،اکرم خان اور دیگر عہدیداران کو نامزد کیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ پی ٹی آئی کے زیر اہتمام دو روز قبل عمران خان کی رہائی اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے 6 ججز کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے کوئٹہ میں ایک ریلی نکالی گئی تھی۔

    پولیس کی ایف آئی آر میں لکھا گیا ہے کہ پی ٹی آئی رہنماؤں نے این او سی کے بغیر ریلی نکالی اور مظاہرہ کیا جس میں قومی اداروں اور حکومت کے خلاف عوام میں نفرت پھیلانے کی کوشش کی گئی۔

    ایف آئی آر میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ ریلی کی وجہ سے شارع اقبال اور عدالت روڈ پر ٹریفک بند ہونے سے عوام کیلئے مشکلات پیدا ہوئیں۔

  9. سمیع ابراہیم کیس: عدالت کی جانب سے درخواست نمٹائے جانے پر سیکریٹری داخلہ کے وارنٹ غیر موثر, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے سمیع ابراہیم کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کی درخواست نمٹا دی جس کے بعد عدالت کی جانب سے کچھ دیر قبل وفاقی سیکریٹری داخلہ کے جاری کیے جانے والے وارنٹ گرفتاری بھی غیر موثر ہو گئے۔

    واضح رہے کہ جمعہ کے دن اسلام آباد ہائیکورٹ نے اسی مقدمہ میں وفاقی سیکرٹری داخلہ کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے پولیس کو ہدایت دی تھی کہ انھیں عدالت میں پیش کیا جائے۔

    تاہم درخواست پر دوبارہ سماعت کے دوران ڈی جی پاسپورٹ عدالت میں پیش ہوئے اور انھوں نے بتایا کہ عدالتی حکم پر عمل کرتے ہوئے سمیع ابراہیم کا نام پی این آئی ایل لسٹ سے نکال دیا گیا تھا جس کے بعد اسلام آباد پولیس کی درخواست پر ان کا نام ای سی ایل پر ڈالا گیا۔

    جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے درخواست نمٹاتے ہوئے ریمارکس دیے کہ پہلی درخواست نمٹا رہے ہیں اب پٹشنر نئی پٹیشن فائل کر سکتے ہیں۔ عدالت کی جانب سے درخواست نمٹانے کی بنیاد پر سیکرٹری داخلہ کے وارنٹ غیر موثر ہو گئے۔

  10. اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی سیکریٹری داخلہ کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایک مقدمہ میں وفاقی سیکرٹری داخلہ کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے پولیس کو ہدایت دی ہے کہ انھیں عدالت میں پیش کیا جائے۔

    جمعہ کے دن اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان صحافی سمیع ابراہیم کی جانب سے ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کی درخواست پر سماعت کر رہے تھے۔

    سماعت کے دوران عدالتی حکم کے باوجود 11 بجے تک سیکرٹری داخلہ عدالت کے سامنے پیش نہیں ہوئے تو سرکاری وکیل نے موقف اپنایا کہ ڈی جی پاسپورٹ راستے میں ہیں اور کچھ دیر بعد پہنچ جائیں گے۔

    اس سے پہلے اسلام آباد ہائیکورٹ نے عدالتی احکامات کے باوجود سمیع ابراہیم کا نام ای سی ایل سے نہ نکالنے پر برہم کا اظہار کیا۔ جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے ریمارکس دیے کہ ڈی جی پاسپورٹس آ کر کہیں گے کہ انھیں وزارت داخلہ نے کہا تھا۔

    جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے پچاس ہزار روپے کے مچلکوں پر قابل ضمانت وارنٹ جاری کرتے ہوئے حکم دیا کہ متعلقہ ایس ایچ او سیکرٹری داخلہ کو ڈھائی بجے تک عدالت میں پیش کریں۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج سردار اسحاق نے سیکرٹری داخلہ سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے حکم دیا کہ سیکرٹری داخلہ وجوہات بتائیں کہ سمیع ابراہیم کا نام ای سی ایل سے کیوں نہیں نکالا ؟

    جسٹس سردار اعجاز اسحاق نے ریمارکس دیے کہ اگر سیکرٹری داخلہ نے تسلی بخش جواب نہ دیا تو ایس ایچ او کو گرفتاری کا حکم دے دیں گے۔

  11. پاکستان پیپلز پارٹی نے یوسف رضا گیلانی کو چیئرمین سینیٹ کا امیدوار نامزد کر دیا

    یوسف رضا گیلانی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے سابق وزیر اعظم اور سینئر پارٹی رہنما یوسف رضا گیلانی کو سینیٹ چیئرمین کے انتخابات میں اپنا امیدوار نامزد کر دیا ہے۔ واضح رہے کہ سینیٹ چیئرمین منتخب کرنے کے لیے انتخابات کی تاریخ کا اعلان اب تک نہیں ہوا ہے۔

    ملک کے سابق صدر جنرل ضیا الحق کی آمریت میں ملتان سے عملی سیاست کا آغاز کرنے والے یوسف رضا گیلانی ماضی میں پاکستان کے 18ویں وزیر اعظم رہ چکے ہیں۔ سنہ 2012 میں سپریم کورٹ نے انھیں اپنے دور کے پانچویں سال میں برطرف کیا تھا۔

    یوسف رضا گیلانی نے 1976 میں پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے صحافت کیا۔ انھوں نے اپنی عملی سیاست کا آغاز سنہ 1978 میں اس وقت کیا جب انھیں مسلم لیگ کی سینٹرل ورکنگ کمیٹی کا رکن چنا گیا اور سنہ 1982 میں وہ وفاقی کونسل کے رکن بن گئے۔

    یوسف رضا گیلانی نے 1983 میں ضلع کونسل کے انتخابات میں حصہ لیا اور وہ سابق سپیکر قومی اسمبلی اور پیپلز پارٹی کے موجودہ رہنما سید فخر امام کو شکست دے کر چیئرمین ضلع کونسل ملتان منتخب ہوئے۔ سنہ 1985 میں انھوں نے اس وقت کے فوجی حکمران جنرل ضیا الحق کے غیر جماعتی انتخابات میں حصہ لیا اور وزیرِ اعظم محمد خان جونیجو کی کابینہ میں وزیر ہاؤسنگ و تعمیرات اور بعد ازاں وزیرِ ریلوے بنائے گئے۔

    سنہ 1988 میں وہ پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے اور اسی برس ہونے والے عام انتخابات میں انھوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کی ٹکٹ پر الیکشن میں حصہ لیا اور اپنے مدمقابل میاں نواز شریف کو شکست دی جو ان انتخابات میں قومی اسمبلی کی چار نشستوں پر امیدوار تھے۔

    ان انتخابات میں کامیابی کے بعد یوسف رضا گیلانی ایک مرتبہ پھر وفاقی کابینہ کے رکن بنے اور اس مرتبہ انھیں بینظیر بھٹو کی کابینہ میں سیاحت اور ہاؤسنگ و تعمیرات کی وزارت ملی۔ یوسف رضا گیلانی 1990 کے انتخاب میں تیسری مرتبہ رکن اسمبلی بننے اور 1993 میں صدر غلام اسحاق خان کی طرف سے اسمبلی کی تحلیل کے بعد نگراں وزیر اعظم بلخ شیر مزاری کی نگران کابینہ میں انھیں بلدیات کا قلم دان سونپا گیا۔

    سنہ 1993 کے انتخابات میں یوسف رضا گیلانی چوتھی مرتبہ رکن اسمبلی منتخب ہوئے اور بینظیر بھٹو کے دور حکومت میں قومی اسمبلی کے سپیکر کے عہدے پر فائز ہوئے۔ انھوں نے اپنی سپیکر شپ کے دوران قائم مقام صدر کے فرائض بھی سرانجام دیے۔

    ماضی میں انتخابات میں کامیابی کے باوجود یوسف رضا گیلانی فروری 1997 میں ہونے والے انتخابات میں ناکام رہے۔ سنہ 1998 میں انھیں پیپلز پارٹی کا نائب چیئرمین نامزد کر دیا گیا لیکن دسمبر 2002 میں انھوں نے اپنے بھانجے اور رکن قومی اسمبلی اسد مرتضیٰ گیلانی کی جانب سے پیپلز پارٹی میں بننے والے فارورڈ بلاک میں شامل ہونے پر پارٹی کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔

    سیاسی کیریئر کے دوران یوسف رضا گیلانی کے خلاف اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات میں نیب نے ریفرنس دائر کیا اور راولپنڈی کی ایک احتساب عدالت نے ستمبر سنہ 2004 میں یوسف رضا گیلانی کو قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں 300 ملازمین غیر قانونی طور پر بھرتی کرنے کے الزام میں 10 سال قید بامشقت کی سزا سنائی تاہم سنہ 2006 میں یوسف رضا گیلانی کو عدالتی حکم پر رہائی مل گئی۔

    یوسف رضا گیلانی نے اڈیالہ جیل میں اسیری کے دوران اپنی یادداشتوں پر مبنی پر ایک کتاب ’چاہ یوسف سے صدا‘ بھی لکھی۔

    وہ فروری سنہ 2008 کے انتخابات میں ملتان سے پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر پانچویں مرتبہ رکن اسمبلی منتخب ہوئے۔ ان انتخابات کے بعد ابتدا میں یوسف رضا گیلانی کو وزارتِ عظمٰی کے لیے مضبوط امیدوار گردانا نہیں جا رہا تھا اور پنجاب سے ممکنہ امیدوار کے طور پر احمد مختار کا نام خبروں میں تھا۔

    تاہم پاکستان پیپلز پارٹی نے انھیں 22 مارچ 2008 کو ملک کے نئے وزیراعظم کے لیے نامزد کر دیا۔ اس کے ایک دن بعد 24 مارچ کو نو منتخب قومی اسمبلی نے یوسف رضا گیلانی کو نیا قائدِ ایوان منتخب کر لیا اور 26 مارچ کو انھوں نے اپنے عہدے کا حلف اٹھایا اور وہ چار سال ایک ماہ اور ایک دن تک اس عہدے پر فائز رہے۔

    وہ بلخ شیر مزاری کے بعد سرائیکی علاقے سے تعلق رکھنے والے پہلے وزیرِ اعظم تھے جبکہ اس سے پہلے سرائیکی بیلٹ سے بلخ شیر مزاری نگران وزیرِ اعظم بنے تھے۔

    چار سالہ دورِ اقتدار میں یوسف رضا گیلانی کی حکومت اور ملک کی عدلیہ کے درمیان اس وقت کے صدر آصف علی زرداری کے خلاف مقدمات کھولنے کے لیے سوئس حکام کو خط لکھنے کے معاملے پر کشیدگی جاری رہی اور سپریم کورٹ کی یہی ’حکم عدولی‘ ان کے اقتدار کے خاتمے کی وجہ بھی بنی۔

  12. پاکستان کے ساتھ آئندہ پروگرام کے مذاکرات کے لیے تیار ہیں: آئی ایم ایف, تنویر ملک، صحافی

    آئی ایم ایف کے مطابق پہلے جائزے کی تکمیل کے بعد سے پاکستان کی اقتصادی اور مالیاتی صورتحال میں قدرے بہتری آئی ہے

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا کہنا ہے کہ پاکستانی حکام نے موجودہ پروگرام کی تکمیل کے بعد اگلے معاونتی پروگرام کے لیے دلچسپی کا اظہار کیا ہے تاکہ پاکستان کو درپیش مالیاتی اور بیرونی چیلنجوں سے نمٹا جا سکے۔

    آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی ادارہ پاکستان کے ساتھ آنے والے مہینوں میں نئے پروگرام کے متعلق مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

    جمعرات کے روز میڈیا بریفنگ میں پاکستان سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے آئی ایم ایف کی ڈائریکٹر میڈیا جولین کوزیک کا کہنا تھا کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ رواں سال 19 مارچ کو ہوا اور اس کی منظوری آئی ایم ایف کا ایگزیکٹو بورڈ دے گا۔

    اسٹاف لیول معاہدے کے تحت پاکستان کو 1.1 ارب ڈالر کی قسط ملے گی جس کے بعد پاکستان کو ملنے والی مجموعی رقم تقریباً تین ارب ڈالر ہو جائے گی۔

    آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس اپریل کے آخر میں متوقع ہے۔

    کوزیک کا کہنا تھا کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان معاہدہ پروگرام کی شرائط پر اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور سابقہ نگران حکومت کی جانب سے اچھی طرح عمل درآمد کیا گیا اور نئی حکومت کی جانب سے بھی موجودہ پالیسی اور اصلاحات کی کوششوں کو جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے تاکہ پاکستان کو استحکام سے مضبوط اور پائیدار ریکوری کی طرف لے جایا جا سکے۔

    آئی ایم ایف کے مطابق پہلے جائزے کی تکمیل کے بعد سے پاکستان کی اقتصادی اور مالیاتی صورتحال میں قدرے بہتری آئی ہے۔

  13. آئی ایم ایف پروگرام کی تکمیل خوش آئند ہے، آئندہ پروگرام کے لیے بھی بھرپور محنت کریں گے: شہباز شریف

    Shehbaz Sharif

    ،تصویر کا ذریعہPMO

    پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ سٹینڈ بائے پروگرام کی تکمیل خوش آئند ہے، حکومت آئی ایم ایف کے ساتھ آئندہ پروگرام کے لیے بھی بھرپور محنت کرے گی۔

    اسلام آباد میں اقتصادی شعبے کی اصلاحات پر اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ہدایت کی کہ بیرونی قرضے کو کم کرنے کے لیے بھی ایک جامع پلان مرتب کرکے پیش کیا جائے۔

    اس اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب رمدے اور منصوبہ بندی کے وزیر احسن اقبال سمیت دیگر وفاقی وزرا اور متعلقہ وزارتوں کے حکام نے بھی شرکت کی۔

    اجلاس کو محصولات، مالی خسارے، زرمبادلہ کے ذخائر، ترسیلاتِ زر اور کرنٹ اکاونٹ کے بارے تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا۔

    اجلاس کو محصولات، سبسڈیز، بجلی کے شعبے کی اصلاحات کے ساتھ ساتھ وزیرِ اعظم کی حکومتی اخراجات کم کرنے کے حوالے سے ہدایات پر عملدرآمد پر پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا۔

    وزیراعظم نے کہا ہے کہ اقتصادی شعبے کی ترقی کے لیے بین الاقوامی شہرت یافتہ ماہرین کی خدمات لی جائیں گی۔

    وزیرِ اعظم نے کہا کہ آئندہ پانچ برس میں ٹیکس کو جی ڈی پی کے 15 فیصد تک لے کر جائیں گے۔ مالی خسارے کو کم کرنے کیلئے خرچوں میں کمی کی جائے گی۔

    وزیراعظم نے ہدایت کی کہ عام آدمی پر بوجھ ڈالے بغیر محصولات میں اضافے کے لیے جامع پلان تشکیل کرکے پیش کیا جائے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ وفاق صوبوں کو مضبوط کرکے 18ویں ترمیم کی تمام متعلقہ وزارتیں و ادارے صوبوں کے حوالے کرے گا۔

    وزیرِ اعظم نے سرکاری ملکیت کے ادارے بالخصوص خسارے کا شکار اداروں کی اصلاحات و نجکاری کے عمل کو تیز کرنے کی ہدایت بھی کی۔

    انھوں نے کہا کہ ملک کے تمام بڑے ایئرپورٹس پر سروسز کی بہتری کیلئے نجی آپریٹرز سے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کی جائے گی۔

    وزیراعظم نے کہا کہ سرکاری قرض میں بتدریج کمی، پینشن و سبسڈی اصلاحات، سرکاری ملکیتی اداروں کی اصلاحات اور نجکاری پر حکومت کی بھرپور توجہ مرکوز ہے۔

  14. بریکنگ, حافظ نعیم الرحمان جماعت اسلامی پاکستان کے نئے امیر منتخب

    حافظ نعیم الرحمان

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    حافظ نعیم الرحمان جماعت اسلامی پاکستان کے نئے امیر منتخب ہو گئے ہیں۔ جماعت اسلامی کے ترجمان قیصر شریف نے بتایا ہے کہ نئے امیر جماعت اسلامی کو کثرت رائے سے منتخب کیا گیا ہے اور ان کی مدت 2024 تا اپریل 2029 تک ہو گی۔

    ترجمان کے مطابق ملک بھر سے 46 ہزار اراکین نے اپنا ووٹ خفیہ بیلٹ کے ذریعے کاسٹ کیا۔ امیر جماعت کے لیے تین ناموں میں سراج الحق ، لیاقت بلوچ ، حافظ نعیم الرحمان شامل تھے۔

    اس سے پہلے دس سال تک سراج الحق جماعت اسلامی کے امیر رہے۔

    سراج الحق جماعت اسلامی کے پانچویں امیر تھے۔ جماعت اسلامی کے بانی امیر مولانا سید ابو اعلیٰ مودودی تھے۔ میاں طفیل محمد، قاضی حسین احمد اور سید منور حسن بھی جماعت کے امیر رہے۔

    قیصر شریف کے مطابق جماعت اسلامی ایک مکمل جمہوری جماعت ہے، جس میں دستور کے مطابق ہر سطح پر باقاعدگی سے انتخابات ہوتے ہیں۔

    ان کے مطابق ’جماعت اسلامی کسی فرد یا خاندان کی نہیں بلکہ ہر رکن اور کارکن کی ہے۔‘

  15. مظفرگڑھ میں اعتکاف میں بیٹھے کمسن کا مبینہ ریپ، پولیس نے ملزم گرفتار کر کے مقدمہ درج کر لیا

    پنجاب کے ضلع مظفر گڑھ کے ایک گاؤں سنانواں میں اعتکاف میں بیٹھے 13 برس کے کمسن کے مبینہ ریپ کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

    سنانواں پولیس اہلکاروں نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے مسجد جا کر ملزم کو موقع پر ہی گرفتار کر لیا تھا اور اب اس مقدمے کی مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

    اس مقدمے سے جڑے ایک اہلکار نے بتایا کہ سرسری حالات و واقعات سے یہ تصدیق ہوتی ہے کہ یہ وقوعہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق عدالت میں ثبوت پیش کرنے کے لیے اب فارنزک رپورٹ کا انتظار ہے۔

    پولیس کے مطابق کمسن کے ساتھ مبینہ ریپ کرنے والا ملزم بھی اعتکاف میں ہی بیٹھا ہوا تھا۔ پولیس کے مطابق اس ملزم کی عمر 20 سال سے زائد ہے۔

    ایف آئی آر میں اس مبینہ ریپ کی تفصیلات درج ہیں۔ پولیس نے کمسن کے بیان کو بھی ایف آئی آر کا حصہ بنایا ہے۔

    کمسن کے والد نے پولیس کو بتایا کہ ملزم نے انھیں پولیس کو بتانے کی صورت میں جان سے مار دینے کی دھمکیاں بھی دیں۔

  16. چینی شہریوں پر حملے کے واقعات کی تحقیقات میں کافی پیشرفت ہوئی، حقائق جلد عوام کے سامنے لائیں گے: وزیراطلاعات

    Bus

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے جمعرات کو کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے داسو میں چینی انجینئرز سے ملاقات کی جس میں سیکیورٹی کے معاملات پر روشنی ڈالی اور ان سے اظہار ہمدردی کیا، چینی شہریوں کی سیکیورٹی پر وزیراعظم چار سے پانچ میٹنگز کر چکے ہیں، ان واقعات کی تحقیقات میں کافی پیشرفت ہو چکی ہے، عوام کے سامنے اس حوالے سے حقائق بھی لائیں گے۔

    اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ ’آج کابینہ کو معیشت کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی، دیگر معاملات بھی زیر غور آئے، چینلجز سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی بنانی ہے، سیاسی جماعتیں اس پر پارلیمنٹ کے فورم پر اکٹھی ہوں گی۔‘

    معیشت کو سیاست کی نذر نہیں کرنا چاہتے، پی آئی کی نجکاری کا سلسلہ آگے بڑھ رہا ہے اور ملک میں مہنگائی کم اور معیشت بہتر ہورہی ہے۔

    ’پی آئی کی نجکاری سے پیسہ آئے گا‘

    وفاقی وزیراطلاعات نے کہا کہ پی آئی اے کا 80 ارب روپے کا خسارہ ہے جسے غریب آدمی برداشت کرتا ہے، یہ رقم قوم اور قومی خزانے پر بوجھ ہے، نجکاری کے ذریعے ریونیو آئے گا اور خسارے کا بوجھ قومی خزانے پر نہیں ہوگا۔

    عطا تارڑ نے کہا کہ میڈیا کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے قوم کو معیشت خصوصاً پی آئی اے کی نجکاری سے متعلق آگاہ رکھا۔

    ان کے مطابق 16 ماہ میں ہم نے ملکی معیشت درست کی تھی، ہمیں ایل سیز کھولنے میں مشکلات تھیں، ہم نے طویل جدوجہد کی اور اب معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے۔

    ان کے مطابق سٹاک ایکسچینج میں بہتری ہوئی اور آج بھی ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آیا، یہ تمام چیزیں ملک میں کاروبار کی آسانی، براہ راست بیرونی اور مقامی سرمایہ کاری کے لیے اچھی ہیں۔

    وزیر اطلاعات کا کہنا ہے کہ بلوم برگ نے توقع ظاہر کی ہے کہ پاکستان میں مہنگائی اگلے سال 15 فیصد پر آجائے گی، پرسوں رپورٹ آئی کہ مہنگائی میں دو فیصد کمی واقع ہوچکی ہے، یہ مثبت رجحانات ہیں جن کی جانب ملک گامزن ہے۔

    عطا تارڑ نے کہا کہ قومی مسائل پر سیاست کی جانی چاہیے، معیشت کے استحکام کے لیے سیاسی استحکام کی طرف جائیں اور اس میں سب نے اپنا کردار ادا کیا ہے، آج معیشت کے حوالے سے بات ہوئی، آئی ایم ایف سے اس ماہ قرض کی قسط مل جائے گی، حکومت ان تمام مثبت اشاریوں اور رجحانات کو لے کر آگے چلے گی۔

    عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ آج ایک گرینڈ الائنس کا اعلان بھی کیا گیا، اس الائنس میں باقی جماعتیں کونسی ہیں اس کا نہیں بتایا گیا، ایک جماعت نے اس کا اعلان کیا مگر باقی جماعتوں کا نہیں بتایا۔

  17. سائفر کیس: سزا کے خلاف سابق وزیراعظم عمران خان کی درخواست پر سماعت 16 اپریل تک ملتوی

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں سائفر کیس کی سماعت 16 اپریل تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں سابق وزیر اعظم عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی سائفر مقدمے میں سزا کے خلاف اپیل پر سماعت ہوئی۔

    چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے اس مقدمے کی سماعت کی۔ سابق وزیراعظم عمران خان کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر اور ایف آئی اے سپیشل پراسیکیوٹر حامد علی شاہ بھی عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔

    دورانِ سماعت چیف جسٹس نے عمران خان کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے گذشتہ روز کیس میں لگے الزامات سے متعلق آپ سے کچھ چیزوں پر معاونت طلب کی تھی۔ جس پر بیرسٹر سلمان صفد کا کہنا تھا کہ میری بحثیت وکیل ذمہ داری ہوگی کہ ہر اینگل آپ کے سامنے رکھ سکوں۔

    بیرسٹر سلمان صفدر نے ریمارکس دیے کہ عمومی طور پر جب کوئی وکیل ہاتھی نکال دے تو دم نکالنے کی ضرورت نہیں ہوتی ، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ پر یہ سیکشنز لگی ہوئیں ہیں آپ نے اس حوالے سے عدالت کی معاونت کرنی ہے۔

    بیرسٹر سلمان صفدر کا کہنا تھا کہ جب آپ رمضان میں کام کر رہے ہوں تو بندہ تھوڑا ایگزاسٹ ہوتا ہے، میری گزارش ہوگی کہ کسی ایک پارٹی کو عید سے پہلے عیدی ملنا چاہیے، اس پر چیف جسٹس نعامر فاروس نے ریمارکس دیے کہ عید ہونے نا ہونے کا اس میں کوئی معاملہ نہیں ہم نے قانونی تقاضے پورے کرنے ہیں، جتنا وقت اپکو دیا ہے اتنا وقت ایف آئی اے پراسیکیوٹر حامد علی شاہ صاحب کو دیں گے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سائفر ڈی کوڈ ہوا، آٹھ کاپیاں تیار ہو کر مختلف لوگوں کو گئیں، وزیراعظم کا سیکرٹری کہتا ہے کہ میں نے وہ بانی پی ٹی آئی کو دے دی تھی، سیکرٹری کہتا ہے کہ بعد میں جب وہ کاپی دوبارہ مانگی تو گم ہو چکی تھی۔

    چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیے کہ آفیشل سیکریٹ ایکٹ فائیو ون سی یا فائیو ون ڈی میں سے ایک میں ہی سزا ہو سکتی ہے۔ بیرسٹر سلمان صفدر نے دلائل دیے کہ ون سی تو لاپرواہی ہے اور ون ڈی جان بوجھ کر گم کرنا ہے۔ بیرسٹر سلمان صفدر کا کہنا تھا کہ میں دونوں کے حوالے سے عدالت کی معاونت کروں گا۔

    چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا ٹرائل کورٹ کے فیصلے میں ون سی اور ون ڈی دونوں میں سزا ہوئی ہے ؟ بیرسٹر سلمان صفدر نے بتایا کہ بالکل دونوں میں سزا ہوئی ہے، عمران خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ عمران خان کو ڈاکیومنٹ لاپرواہی اور جان بوجھ کر گم کرنے دونوں شقوں میں سزا سنائی گئی۔ اس پر چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ ون سی اور ون ڈی دونوں میں تو سزا نہیں ہو سکتی۔

    چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ اعظم خان کا اس متعلق اپنا بیان کیا ہے؟ بیرسٹر سلمان نے عدالت کو بتایا کہ ون سی اور ون ڈی سے متعلق اعظم خان کے علاؤہ کوئی ثبوت ان کے پاس نہیں۔

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ اگر یہ الزام درست فرض بھی کر لیا جائے تو دو سال بھی سزا زیادہ ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ قانون میں اس الزام پر دو سال سزا کا مطلب زیادہ سے زیادہ دو سال سزا ہے۔

    سلمان صفدر نے دلایل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ جب عمران خان کا سائفر واپس نہیں آیا تو سات ماہ کے بعد نوٹس کیوں دیا گیا، عمومی طور پر سائفر ایک سال تک کے عرصہ میں واپس آتا ہے، آپ نے ایک سال کی مدت پوری ہونے سے قبل ہی کریمنل کیس بنا دیا۔

    عدالت نے سوال کیا کہ سیکرٹری جب وزیراعظم کو چیزیں شئیر کرتا ہے تو کیا وہ انفورمل ہوتا ہے ؟ بیرسٹر سلمان صفدر نے دلائل دیے کہ دفتر خارجہ کو ایک سال کے اندر واپس کرنا ہوتا ہے، بانی پی ٹی آئی کو سات ماہ بعد ہی نوٹس کیسے کر دیا گیا؟ باقی کاپیز حالانکہ 17 ماہ بعد واپس آئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم ایک ایک لفظ سے کیس کو توڑیں گے۔

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ سائفر کاپی بانی پی ٹی آئی کو سپردگی کے واحد گواہ اعظم خان ہیں؟ اعظم خان کا بیان نکال دیں تو سپردگی کا کوئی گواہ نہیں۔ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیے کہ کس قانون میں ہے کہ سائفر ایک سال کے اندر واپس کرنا ہوتا ہے؟

    وکیل بانی پی ٹی آئی سلمان صفدر نے دلائل دیے کہ پراسیکیوشن کا یہ کیس ہے۔

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیے کہ اگر یہ ایک سال ہے تو ایک سال خصوصی طور پر لکھا جانا چاہیے۔

    سلمان صفدر نے دلائل دیے کہ سیکرٹری خارجہ سہیل محمود نے بیان میں کہا کہ وزیراعظم کی سائفر کاپی گم ہو گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ بنی گالہ میں میٹنگ ہوئی تو سہیل محمود ماسٹر کاپی لے کر گئے، سہیل محمود کے مطابق اعظم خان نے اُن سے سائفر کی نئی کاپی مانگی، سہیل محمود کہتے ہیں کہ میں نے کہا اپنی کاپی ہی ڈھونڈیں نئی نہیں ملے گی۔سلمان صفدر نے عدالت کو بتایا کہ سائفر کی ورکنگ سے متعلق بُک موجود ہے۔

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ وہ بُک کونسی ہے؟

    سلمان صفدر نے عدالت کو بتایا کہ وہ سیکرٹ ہے، جس پر جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ ہم کہہ رہے ہیں نا، آپ نام بتائیں۔وکیل سلمان صفدر نے انھیں بتایا کہ سیکیورٹی آف کلاسیفائیڈ میٹرزاِن گورنمنٹ ڈیپارٹمنٹ بُک ہے۔ ایف آئی اے پراسیکیوٹر حامد علی شاہ کا کہنا تھا کہ یہ ٹاپ سیکرٹ ہے۔

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ کیا یہ کاپی جج کے پاس تھی؟ جس پر سلمان صدر نے عدالت کو بتایا کہ جج کے پاس بھی نہیں تھی اور ہمیں بھی دکھانے نہیں دی گئی، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اس کے کچھ سیکشنز تو ہم نے ضمانت کے فیصلے میں بھی لکھے ہیں۔

    اس کے بعد سلمان صفدر نے سائفر ورکنگ متعلق سیکورٹی آف کلاسیفائیڈ میٹرز ان گورنمٹ ڈیپارٹمنٹ بک عدالت کے سامنے پڑھی تو سپیشل پراسیکیوٹر حامد علی شاہ کا کہنا تھا کہ یہ ٹاپ سیکرٹ ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ میں سائفر کیس کی سماعت 16 اپریل تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

  18. عدلیہ کے معاملات میں خفیہ اداروں کی مبینہ مداخلت: ’ہم نے اپنی ذمہ داری پوری کی، اب سپریم کورٹ اس معاملے کا فیصلہ کرے گی،‘ شہباز شریف

    PMO

    ،تصویر کا ذریعہPMO

    وفاقی کابینہ کے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ہائی کورٹ کے چھ ججوں کے خط والے معاملے پر سپریم کورٹ کے ساتھ میٹنگ کی روشنی میں ہم نے کابینہ کی منظوری کے ساتھ انکوائری کمیشن بنایا اور سابق چیف جسٹس تصدیق جیلانی کی مشاورت اور رضامندی کے ساتھ انکوائری کمیشن کو نوٹیفائے کیا مگر بعد میں جسٹس جیلانی نے معذرت کر لی جس کے بعد سپریم کورٹ نے اس پر سوموٹو لیا ہے۔

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ہم نے اپنی ذمہ داری پوری کر دی تھی مگر اس کے بعد اس میں تبدیلی آئی اور اب سپریم کورٹ اس معاملے کو دیکھ رہی ہے، وہی اس حوالے سے فیصلہ کریں گے۔

    ججز کو بھیجے جانے والے مشکوک پاؤڈر والے خطوط کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اس بارے میں مکمل ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور سیاست کو آڑے نہیں آنے دینا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا ہم اس معاملے کی تحقیق کروائیں گے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے۔

  19. نہ اخبار پڑھ رہا ہوں اور نہ ٹویٹ کر رہا ہوں، میں ریسٹ کر رہا ہوں، ریسٹ از دی بیسٹ: شیخ رشید احمد

    bbc

    ،تصویر کا ذریعہbbc

    سابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے ڈسٹرکٹ کورٹس اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں میری خاموشی زیادہ اہم ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ حوصلے، صبر اور استحکام اور خاموشی کے ساتھ ان سارے معاملات کو ڈیل کرنا چاہیے۔

    شیخ رشید کا کہنا تھا کہ 19 کیسز ہیں اور انشا اللہ بہتری ہوگی، میں ہار گیا اور الیکشن میں نے تسلیم بھی کرلیا۔ جو جیتے ہیں ان سے بھی اس بارے میں پوچھ لیں۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ خطوط کو ججز خود بہترطور پر بحث میں لارہے ہیں، یہ بہت سیریس معاملہ ہے، یہ اہم اور حساس مسئلہ ہے اور اس پر زیادہ بات نہ کرنا بہتر ہوتا ہے۔

    شیخ رشید کا کہنا تھا کہ حکومت کیا کر رہی ہے، مجھے کوئی علم نہیں، نہ ٹی وی دیکھ رہا ہوں، نہ اخبار پڑھ رہا اور نہ ٹویٹ کر رہا ہوں، میں ریسٹ کر رہا ہوں، ریسٹ از دی بیسٹ۔