امریکی فوج کا ابراہم لنکن کی طرف پرواز کرنے والا ایرانی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ، ایران سے مذاکرات سے قبل وٹکوف کی نیتن یاہو سے ملاقات

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ امریکی بحری بیڑے کے قریب پرواز کرنے والے ایرانی ڈرون کو مار گرائے جانے کے باوجود وِٹکوف کی ایرانیوں کے ساتھ ملاقات کے منصوبے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

خلاصہ

  • ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں پاکستان کو شرکت کی دعوت
  • بلوچستان کے ضلع آواران میں گذشتہ شب بھی دو مقامات پر حملہ، صوبے کے متعدد علاقوں میں موبائل پر انٹرنیٹ سروس بدستور معطل
  • قومی اسمبلی میں بلوچستان حملوں کے خلاف قرارداد منظور: ’دہشت گرد نیٹ ورکس خواتین کو ریاست کے خلاف استعمال کر رہے ہیں‘
  • ایرانی صدر نے امریکہ کے ساتھ ’برابری‘ کی بنیاد پر مذاکرات کی منظوری دے دی
  • صدر ٹرمپ کی تہران کے ساتھ مذاکرات کی تصدیق، ایرانی وزیرِ خارجہ اور امریکی ایلچی کی استنبول میں ملاقات طے
  • سینیٹ میں بلوچستان حملوں کے خلاف قرارداد، رانا ثنااللہ کی شدت پسندوں کی کوئٹہ ریڈ زون میں داخلے کی کوشش ناکام بنانے کا دعویٰ
  • ڈاکٹر عثمان انور ڈی جی ایف آئی اے تعینات، راؤ عبدالکریم نئے آئی جی پنجاب مقرر

لائیو کوریج

  1. نئے بجٹ میں چابہار منصوبہ نظرانداز، کیا انڈیا امریکی دباؤ میں فیصلے کر رہا ہے؟

    India, Iran

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈیا کے سالانہ بجٹ 2026 میں ایران کے چابہار بندرگاہ کے لیے کوئی فنڈز مختص نہیں کیے گئے۔ گذشتہ سال کے بجٹ میں نئی دہلی نے اس منصوبے کے لیے 400 کروڑ روپے رکھے تھے۔

    چابہار بندرگاہ کو خطے میں انڈیا کے لیے ایک سٹریٹیجک منصوبہ سمجھا جاتا ہے، جس کے ذریعے افغانستان اور وسطی ایشیا تک رسائی ممکن بنائی جا سکتی ہے۔ تاہم ایران پر امریکی پابندیوں، علاقائی عدم استحکام اور بدلتی جغرافیائی سیاست کی وجہ سے اس منصوبے کی پیش رفت پہلے ہی سست رہی ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ فنڈز کی عدم دستیابی سے چابہار منصوبہ مزید تعطل کا شکار ہو سکتا ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق انڈیا کی محتاط پالیسی کی ایک بڑی وجہ امریکہ کے ساتھ تعلقات ہیں، کیونکہ واشنگٹن ایران پر سخت پابندیاں عائد کیے ہوئے ہے۔

    اب سوال یہ ہے کہ کیا انڈیا اپنی خارجہ پالیسی میں توازن قائم رکھتے ہوئے چابہار منصوبے کو آگے بڑھا پائے گا یا یہ بندرگاہ ایک بار پھر غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو جائے گی۔

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہIndiaportsgloballimited

    ایران کے جنوبی ساحل پر صوبہ سیستان بلوچستان میں واقع چابہار بندرگاہ اسی حکمتِ عملی کا ایک اہم حصہ ہے۔ اس بندرگاہ کو انڈیا اور ایران مل کر ترقی یافتہ بنانے پر کام کر رہے تھے تاکہ انڈیا کو وسطی ایشیا اور افغانستان تک براہِ راست رسائی حاصل ہو سکے۔

    چابہار انڈیا کے لیے اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ اس کے ذریعے وہ پاکستان کو بائی پاس کرتے ہوئے وسطی ایشیا تک پہنچ سکتا ہے۔ تاہم، امریکی اضافی ٹیرف کے اعلان کے بعد ایسی خبریں سامنے آنے لگیں کہ انڈیا ممکنہ طور پر چابہار بندرگاہ کے منصوبے سے پیچھے ہٹ رہا ہے۔

    ان خبروں اور قیاس آرائیوں کے بعد انڈیا کی حکومت نے گذشتہ جمعے کو وضاحت دی ہے۔

    حکومت کا کہنا ہے کہ چابہار بندرگاہ کا آپریشن جاری رکھنے کے لیے وہ امریکہ کے ساتھ ساتھ ایران سے بھی رابطے میں ہے۔

    وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے جمعے کو کہا: ’جیسا کہ آپ جانتے ہیں 28 اکتوبر 2025 کو امریکی وزارتِ خزانہ نے ایک خط جاری کیا تھا جس میں 26 اپریل 2026 تک مؤثر مشروط پابندیوں میں چھوٹ کے رہنما اصول دیے گئے تھے۔ ہم اس معاملے کو حتمی شکل دینے کے لیے امریکی حکام سے رابطے میں ہیں۔‘

    انھوں نے کہا ’ایران کے ساتھ ہمارے تعلقات طویل عرصے پر محیط ہیں۔ ہم صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور اس شراکت داری کو آگے بڑھاتے رہیں گے۔‘

  2. امید ہے کہ بہت جلد امریکہ اور ایران کے درمیان کوئی ڈیل ہو جائے گی: ٹرمپ کا خامنہ ای کی دھمکی پر ردعمل

    ٹرمپ، خامنہ ای

    ،تصویر کا ذریعہEPA/Reuters

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے ’علاقائی جنگ‘ کے انتباہ پر اپنا ردعمل دیا ہے۔

    مار-اے-لاگو میڈیا سے گفتگو کے دوران ٹرمپ سے خامنہ ای کے اس بیان پر ردعمل دینے کو کہا گیا، جس میں انھوں نے امریکہ کو خبردار کیا تھا کہ ایران کے ساتھ کوئی بھی نئی جنگ علاقائی ہو گی۔

    اس بیان پر آج صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’بالکل، وہ یہی کہیں گے۔ لیکن ہمارے پاس دنیا کے سب سے بڑے اور طاقتور ترین جہاز موجود ہیں۔‘

    امریکی صدر نے مزید کہا کہ انھیں امید ہے کہ بہت جلد، چند دنوں میں، امریکہ اور ایران کے درمیان کوئی ڈیل ہو جائے گی۔ تاہم اگر ڈیل نہ ہوئی تو یہ واضح ہو جائے گا کہ کون درست ہے اور کون نہیں۔

  3. انڈین وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نایاب معدنیات پر بات چیت کے لیے آج امریکہ روانہ ہوں گے

    critical minerals

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈیا کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر آج امریکہ کے تین روزہ دورے پر جا رہے ہیں۔

    انڈین وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کردہ ایک پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ جے شنکر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے زیر اہتمام اہم معدنیات پر وزارتی سطح کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔

    میٹنگ میں سپلائی چین لچک، صاف توانائی کی منتقلی اور اہم معدنیات میں سٹریٹجک تعاون پر توجہ دی جائے گی۔

    ایس جے شنکر کا دورہ دو سے چار فروری 2026 تک ہوگا۔ اس دورے کے دوران وزیر خارجہ امریکی انتظامیہ کے سینیئر ارکان کے ساتھ کئی ملاقاتیں بھی کریں گے۔

  4. آج بھی یورپی ممالک کے سفیروں کو طلب کیا گیا ہے: ترجمان ایرانی وزارت خارجہ

    Iran

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل باغی نے بھی پاسداران انقلاب کو یورپی یونین کی دہشت گرد گروہوں کی فہرست میں شامل کیے جانے پر ردعمل میں کہا ’یورپی یونین کے تمام رکن ممالک کے نمائندوں کو جن کے تہران میں سفارت خانے ہیں کو وزارت خارجہ میں طلب کیا گیا ہے۔‘

    واضح رہے کہ یورپی یونین نے 29 جنوری کو اعلان کیا کہ اس نے پاسداران انقلاب کو ایک دہشت گرد تنظیم کی فہرست میں شامل کر دیا ہے۔ یورپی یونین کے حالیہ اقدام پر ایران کے کئی عہدیداروں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا۔

    ایرانی دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’ہم اقدامات کا جائزہ لے رہے ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ آنے والے دنوں میں اس غیر قانونی اور بلاجواز اقدام کے حوالے سے ایران کے جوابی اقدامات کے بارے میں کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔‘

    ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ ’یورپی امریکہ اور صیہونی حکومت کے لیے خوشی سے ناچ رہے ہیں۔‘

    امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے بارے میں اسماعیل باغی نے کہا کہ ’اس مرحلے پر مختلف نکات کا تبادلہ ہوا ہے اور ہم ہر ایک سفارتی عمل کی تفصیلات کا جائزہ لے رہے ہیں اور فیصلہ کر رہے ہیں، جس کے بارے میں ہمیں امید ہے کہ آنے والے دنوں میں نتیجہ اخذ کیا جائے گا اور ہمیں سفارت کاری کے حوالے سے اپنی سنجیدگی اور نیک نیتی ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہے، اور ہم نے اس بات کو ثابت کر دیا ہے۔‘

  5. عمران خان کی بہن کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری: پولیس علیمہ خان کو گرفتار کر کے پیش کرے، عدالت

    علیمہ خان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے ہیں اور راول ٹاون سرکل کے سپرنٹینڈنٹ آف پولیس کو حکم دیا ہے کہ منگل کو ملزمہ کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کریں۔

    عدالت کی جانب سے علیمہ خان کی عدم پیشی کی بنیاد پر ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں۔

    پیر کے روز راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج امجد شاہ نے 26 نومبر 2024 کو پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے احتجاج پر راولپنڈی کے تھانہ صادق آباد میں درج ہونے والے مقدمے کی سماعت کی۔

    علیمہ خان کے وکیل فیصل ملک نے اپنی موکلہ کی جانب سے حاضری سے استثنی کی درخواست کی۔ ان کا کہنا تھا کہ علیمہ خان کے اکاؤنٹ اور شناختی کارڈ جب تک ڈی فریز نہیں ہونگے وہ عدالت میں پیش نہیں ہوں گی۔

    اس پر اس مقدمے کے سپیشل پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی ملزم نہ تو عدالت کو ڈکٹیٹ کرسکتا ہے اور نہ عدالت کو یرغمال بنا سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ عدالت نے اس مقدمے کا ٹرائل روزانہ کی بنیاد پر چلانے کے احکامات دیے ہیں۔

    سپیشل پراسیکیوٹر نے اپنے دلائل کے دوران الزام عائد کیا کہ علیمہ خان کا شروع دن سے رویہ غیر ذمہ دارانہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ جب علیمہ خان عدالت کے سامنے پیش ہی نہیں ہو رہی تو شناختی کارڈ یا بینک اکاونٹ کیسے ڈی فریز کیے جائیں؟

    عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد علیمہ خان کی حاضری سے استثنی کی درخواست مسترد کردی اور علیمہ خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے۔ عدالت نے ایس پی راول سرکل کو علیمہ خان کو گرفتار کرکے کل تک عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

    عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ جب تک ملزمہ عدالت میں پیش نہیں ہوگی ان کے بینک اکاونٹ اور شناختی کارڈ بلاک رہیں گے۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج نے علیمہ خان کے ضامن کو بھی نوٹس جاری کردیے۔

    عدالت نے مقدمے کی سماعت کل تک ملتوی کردی۔

    علیمہ خان کے خلاف درج مقدمے میں مجموعی طور پر 10 گواہان پر جرح مکمل ہوچکی ہے۔ عدالت نے آج جرح کے لئے مزید گواہان کو طلب کر رکھا تھا۔

  6. وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی وزیر اعظم سے ملاقات: آج کی ملاقات میرے عہدے کا تقاضا تھا، بطور سیاسی کارکن کبھی وہاں نہیں بیٹھتا، سہیل آفریدی

    سہیل شہباز

    ،تصویر کا ذریعہPM Office

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی وزیر اعظم شہباز شریف سے آج اسلام آباد میں ملاقات ہوئی جس کے بعد سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ آج کی ملاقات بطور وزیرِ اعلیٰ میرے عہدے کا تقاضا تھا، بطور سیاسی کارکن کبھی وہاں نہیں بیٹھتا۔

    وزیرِ اعظم سے ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آج کی ملاقات کی دعوت وزیرِ اعظم نے دی تھی جس میں این ایف سی ایوارڈ سمیت وفاق پر صوبے کی جانب واجب الادا رقوم کے حوالے سے بات ہوئی۔

    سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا اب تک 26 ارب روپے اپنے جیب سے انضمام شدہ اضلاع میں لگا چکا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ شہباز شریف نے وفاقی وزیرِ برائے پلاننگ احسن اقبال اور ٹیم کو مزمل اسلام سے آج ہی میٹنگ کرنے کی ہدایات جاری کر دی ہے۔

    وزیرِ اعلیٰ کا کہنا تھا کہ ملاقات کے دوران دہشتگردی کے حوالے سے ایک مشترکہ لائحہ عمل پر بات ہوئی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے مزید ایک دو ملاقاتیں ہوں گی، اور جب باقاعدہ فیصلہ ہوں گے تو میڈیا کو بتا دیا جائے گا۔

    ایک صحافی کی جانب سے وزیرِ اعلیٰ سے سوال کیا گیا کہ کیا آج کی ملاقات کو صوبے اور وفاق کے درمیان تناؤ میں ایک پیشرفت کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ اس پر سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ’آج کی ملاقات بطور وزیرِ اعلیٰ میرے عہدے کا تقاضا تھا، بطور سیاسی ورکر میں کبھی بھی وہاں نہیں بیٹھتا۔‘

    تیراہ سے لوگوں کی نقل مکانی کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ تیراہ، باجوڑ اور کرم سمیت خیبر پختونخوا کی عوام جو قربانی دے رہے ہیں اسے قدر کی نگاہ سے دیکھنا چاہیے کیونکہ وہ لوگ پاکستان کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ملاقات کے دوران بانی پی ٹی آئی سے اڈیالہ جیل میں ملاقات نہ کروائے جانے سمیت کسی بھی معاملے پر بات نہیں ہوئی۔

    دوسری جانب وزیرِ اعظم کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ملاقات کے دوران وزیرِ اعظم نے خیبر پختونخوا میں امن و امان کے لیے وفاقی و صوبائی حکومت کے تعاون کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ امن وامان کے قیام کے لیے صوبائی حکومت کو کوششیں مزید بڑھانے کی ضرورت ہے۔

    وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت با اختیار ہے، صحت و تعلیم کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم نے خیبر پختونخوا میں ترقیاتی منصوبوں، بنیادی ڈھانچے کی بہتری، تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے وفاقی دائرہ کار کے مطابق تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

  7. قزاقستان کے صدر دو روزہ سرکاری دورے پر منگل کو پاکستان پہنچیں گے، دفترخارجہ

    قزاقستان کے صدر قاسم جومارت توکائیف

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے دفترخارجہ کا کہنا ہے کہ قزاقستان کے صدر قاسم جومارت توکائیف منگل کے روز اپنے پہلے سرکاری دورے پر پاکستان پہنچ رہے ہیں۔

    سرکاری خبررساں ادارے اے پی پی کے مطابق، قزاقستان کے صدر کو دورے کی دعوت وزیرِ اعظم شہباز شریف نے دی تھی۔

    دو روزہ دورے کے دوران صدر توکائیف کے ہمراہ اعلیٰ سطح کا وفد بھی ہوگا جس میں ان کی کابینہ کے سینیئر ارکان اور دیگر اعلیٰ سرکاری حکام شامل ہوں گے۔

    وزارت خارجہ کی جانب سے پیر کے روز جاری بیان کے مطابق دورے کے دوران صدر توکائیف پاکستان کے صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کریں گے۔ اس کے علاوہ وہ پاکستان قزاقستان بزنس فورم سے خطاب بھی کریں گے۔

    اے پی پی کے مطابق یہ دورہ دونوں ممالک کے لیے دوطرفہ تعلقات کا جامع جائزہ لینے، تعاون کے نئے مواقع بالخصوص تجارت، لاجسٹکس، علاقائی رابطہ کاری، عوامی روابط کے فروغ اور علاقائی و بین الاقوامی فورمز پر تعاون کے امکانات کو بڑھانے کا ایک اہم موقع فراہم کرے گا۔

  8. یوکرین میں مزدوروں کو لے جانے والی بس پر روس کا ڈرون حملہ، 12 کان کن ہلاک

    یوکرین بس حملہ

    ،تصویر کا ذریعہArmed Forces of Ukraine/Telegram

    یوکرین کی سب سے بڑی نجی توانائی کی فرم نے دعویٰ کیا ہے کہ مشرقی یوکرین میں روسی ڈرون حملے میں 12 کان کن ہلاک ہو گئے ہیں۔

    ڈٹیک کا کہنا ہے کہ اتوار کے روز ہونے والے حملے میں ایک بس کو نشانہ بنایا گیا جو کام ختم ہونے کے بعد مزدوروں کو واپس لے جا رہی تھی۔ ایمرجنسی سروسز کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں کم از کم 15 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

    اس سے قبل، سنیچر اور اتوار کی درمیان شب اور اتوار کے روز ہونے والے الگ الگ روسی حملوں میں کم از کم دو افراد ہلاک اور نو زخمی ہوئے تھے۔

    ان میں سے ایک حملہ یوکرین کے علاقے زپوری زہیا میں زچگی کے ایک ہسپتال پر ہوا۔ اس ڈرون حملے میں چھ افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ حملے کے وقت ہسپتال میں دو خواتین بچوں کو جنم دے رہی تھیں۔

    یوکرین

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنیوکرین کے علاقے زپوری زہیا میں زچگی کے ایک ہسپتال پر ہونے والے ڈرون حملے میں چھ افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
  9. ایران نے مظاہروں کے دوران ہلاک ہونے والے تقریباً تین ہزار افراد کے نام جاری کر دیے

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اتوار کے روز ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے دفتر کی جانب سے گذشتہ ماہ مظاہروں کے دوران ہلاک ہونے والے 2,985 افراد کے نام اور شناخت شائع کردیے گئے ہیں۔

    مارے جانے والے افراد کے ناموں کی فہرست ملک کے مختلف اخباروں میں شائع کیے گئے۔

    ایوان صدر کا کہنا ہے کہ جیسا پہلے بتایا گیا تھا حالیہ واقعات میں ہلاک ہونے والوں کی کل تعداد 3,117 ہے تاہم 131 لاشوں کی اب تک شناخت نہیں ہو سکی ہے جس کے باعث ان کے نام فہرست میں شامل نہیں۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق، انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ اب بھی اس فہرست میں کچھ نام شامل نہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ مرنے والوں کی اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے اور یہ فہرست شائع کر کے ایرانی حکومت ہلاکتوں کی تعداد کم کر کے دکھانے کی کوشش کر رہی ہے۔

    ایرانی انسانی حقوق کی تنظیم، جس کا صدر دفتر ناروے کے دارالحکومت اوسلومیں ہے، کے ڈائریکٹر محمود امیری مقدم کا کہنا ہے کہ تہران کی جانب سے تین ہزار سے زیادہ افراد کے ناموں کی اشاعت درحقیقت ایک بھیانک جرم کا اعتراف ہے۔

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہpayamema.ir

  10. خامنہ ای کے ’علاقائی جنگ‘ کے خدشے پر ٹرمپ کا ردِعمل: ’معاہدہ نہ ہوا تو پتا لگ جائے گا کہ وہ صحیح کہہ رہے ہیں یا نہیں‘

    ٹرمپ خامنہ ای

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ خامنہ کے اس بیان پر کہ ایران کے ساتھ کوئی بھی نئی جنگ علاقائی ہو گی، امریکہ کے صدر کا ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اگر جلد معاہدہ نہ ہوا تو ایکھ لیں گے کہ وہ صحیح کہہ رہے ہیں یا نہیں۔

    اتوار کے روز امریکی صدر سے سوال پوچھا گیا کہ وہ ایرانی رہبرِ اعلیٰ کے اس بیان کے بارے میں کیا کہیں گے جس میں انھوں نے واشنگٹن کو خبردار کیا ہے کہ ایران کے ساتھ کوئی بھی پورے خطے تک پھیلے گی۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا، ’وہ ایسا کیوں نہیں کہیں گے۔۔۔ ہمارے پاس وہاں پر دنیا کے سب سے بڑے، طاقتور ترین جہاز جو کہ [ایران کے] بہت نزدیک ہیں... امید ہے کہ ہمارا معاہدہ ہو جائے گا۔‘

    صدر ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ اگر ہمارا معاہدہ نہیں ہوا، تو ہمیں پتآ لگ جائے گا کہ خامنہ ای صحیح کہہ رہے ہیں یا نہیں۔

    ایرانی نشریاتی ادارے (آئی ایس آئی ایس) کے مطابق، سنیچر کے روز حسینیہ میں ’لوگوں کے ایک بڑے ہجوم سے‘ خطاب کرتے ہوئے خامنہ ای نے خبردار کیا تھا کہ ایران کے ساتھ کوئی بھی نئی جنگ علاقائی ہو گی۔

    انھوں نے کہا کہ ’امریکیوں کو جان لینا چاہیے کہ اگر انھوں نے جنگ شروع کی تو اس بار یہ علاقائی جنگ ہوگی۔‘

    خامنہ ای نے کہا کہ ’حقیقت یہ ہے کہ وہ کبھی کبھی جنگ کے بارے میں بات کرتے ہیں اور ہوائی جہازوں اور بحری بیڑوں وغیرہ کے بارے میں بات کرتے ہیں،‘ اور ’ماضی میں، امریکیوں نے اپنی تقریروں میں بارہا دھمکی دی ہے اور کہا ہے کہ جنگ کے آپشن سمیت تمام آپشن میز پر ہیں۔‘

    انھوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ذکر کرتے ہوئے مزید کہا کہ ’اب یہ شریف آدمی (ٹرمپ) بھی مسلسل یہ دعویٰ کرتا ہے کہ ہم جنگی جہاز لائے ہیں اور ایرانی قوم کو ان باتوں سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے، ایرانی عوام ان دھمکیوں سے متاثر نہیں ہوئے‘۔

  11. پاکستان سمیت آٹھ عرب و اسلامی ممالک کی غزہ میں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر اسرائیل کی مذمت

    غزہ

    ،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images

    قطر، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ نے غزہ میں جنگ بندی کی بار بار خلاف ورزیوں پر اسرائیل کی مذمت کی ہے۔

    ان خلاف ورزیوں کے نتیجے میں ایک ہزار سے زائد فلسطینی شہری ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔

    مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کے یہ اقدامات خطے میں کشیدگی کو بڑھا رہے ہیں اور امن و استحکام کے قیام کی کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں، ایسے وقت میں جب علاقائی اور عالمی فریقین صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے کے دوسرے مرحلے کو آگے بڑھانے اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد پر عملدرآمد کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔

    وزرائے خارجہ نے کہا کہ اسرائیل کی بار بار خلاف ورزیاں سیاسی عمل کے لیے براہِ راست خطرہ ہیں اور غزہ میں سکیورٹی اور انسانی صورتحال کو بہتر بنانے کی کوششوں میں رکاوٹ ڈال رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امن منصوبے کے دوسرے مرحلے کی کامیابی کے لیے مکمل عزم اور عملدرآمد ضروری ہے۔

    بیان میں تمام فریقوں پر زور دیا گیا کہ وہ اس نازک مرحلے میں اپنی ذمہ داریاں پوری کریں، زیادہ سے زیادہ ضبط و تحمل کا مظاہرہ کریں، جنگ بندی کو برقرار رکھیں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو موجودہ عمل کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

    وزرائے خارجہ نے کہا کہ سازگار حالات پیدا کیے جائیں تاکہ جلد بحالی اور تعمیرِ نو کے عمل کو آگے بڑھایا جا سکے اور ایک منصفانہ و دیرپا امن قائم ہو جو فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت اور ریاست کے قیام پر مبنی ہو، جیسا کہ بین الاقوامی قانون، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور عرب امن منصوبے میں درج ہے۔

  12. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    • پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ محمد سہیل آفریدی کی زیرِ نگرانی خیبر میں منعقدہ گرینڈ امن جرگے میں تیراہ کے متاثرین نے واضح کیا کہ وہ اپنے گھروں سے رضاکارانہ طور پر نہیں نکلے بلکہ انھیں جبری طور پر بے دخل کیا گیا۔
    • پاسداران انقلاب کے ڈپٹی کمانڈر احمد واحدی نے مشرق وسطیٰ میں امریکی فوج کی بڑھتی ہوئی موجودگی کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں امریکی بحری بیڑوں کی آمد ’دشمن کی نفسیاتی کارروائیوں کا حصہ ہے اور اس پر توجہ نہیں دی جانی چاہیے۔‘
    • انڈیا نے اتوار کو بلوچستان میں امن کو متاثر کرنے کی کوششوں میں مبینہ ’انڈین کردار‘ سے متعلق پاکستان کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انھیں مکمل طور پر ’بے بنیاد‘ قرار دیا۔
    • تہران اور واشنگٹن کے درمیان تناؤ بڑھتے ہی ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ ایران کے ساتھ کوئی بھی نئی جنگ علاقائی ہو گی۔
  13. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔