نئے بجٹ میں چابہار منصوبہ نظرانداز، کیا انڈیا امریکی دباؤ میں فیصلے کر رہا ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا کے سالانہ بجٹ 2026 میں ایران کے چابہار بندرگاہ کے لیے کوئی فنڈز مختص نہیں کیے گئے۔ گذشتہ سال کے بجٹ میں نئی دہلی نے اس منصوبے کے لیے 400 کروڑ روپے رکھے تھے۔
چابہار بندرگاہ کو خطے میں انڈیا کے لیے ایک سٹریٹیجک منصوبہ سمجھا جاتا ہے، جس کے ذریعے افغانستان اور وسطی ایشیا تک رسائی ممکن بنائی جا سکتی ہے۔ تاہم ایران پر امریکی پابندیوں، علاقائی عدم استحکام اور بدلتی جغرافیائی سیاست کی وجہ سے اس منصوبے کی پیش رفت پہلے ہی سست رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ فنڈز کی عدم دستیابی سے چابہار منصوبہ مزید تعطل کا شکار ہو سکتا ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق انڈیا کی محتاط پالیسی کی ایک بڑی وجہ امریکہ کے ساتھ تعلقات ہیں، کیونکہ واشنگٹن ایران پر سخت پابندیاں عائد کیے ہوئے ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا انڈیا اپنی خارجہ پالیسی میں توازن قائم رکھتے ہوئے چابہار منصوبے کو آگے بڑھا پائے گا یا یہ بندرگاہ ایک بار پھر غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو جائے گی۔

،تصویر کا ذریعہIndiaportsgloballimited
ایران کے جنوبی ساحل پر صوبہ سیستان بلوچستان میں واقع چابہار بندرگاہ اسی حکمتِ عملی کا ایک اہم حصہ ہے۔ اس بندرگاہ کو انڈیا اور ایران مل کر ترقی یافتہ بنانے پر کام کر رہے تھے تاکہ انڈیا کو وسطی ایشیا اور افغانستان تک براہِ راست رسائی حاصل ہو سکے۔
چابہار انڈیا کے لیے اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ اس کے ذریعے وہ پاکستان کو بائی پاس کرتے ہوئے وسطی ایشیا تک پہنچ سکتا ہے۔ تاہم، امریکی اضافی ٹیرف کے اعلان کے بعد ایسی خبریں سامنے آنے لگیں کہ انڈیا ممکنہ طور پر چابہار بندرگاہ کے منصوبے سے پیچھے ہٹ رہا ہے۔
ان خبروں اور قیاس آرائیوں کے بعد انڈیا کی حکومت نے گذشتہ جمعے کو وضاحت دی ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ چابہار بندرگاہ کا آپریشن جاری رکھنے کے لیے وہ امریکہ کے ساتھ ساتھ ایران سے بھی رابطے میں ہے۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے جمعے کو کہا: ’جیسا کہ آپ جانتے ہیں 28 اکتوبر 2025 کو امریکی وزارتِ خزانہ نے ایک خط جاری کیا تھا جس میں 26 اپریل 2026 تک مؤثر مشروط پابندیوں میں چھوٹ کے رہنما اصول دیے گئے تھے۔ ہم اس معاملے کو حتمی شکل دینے کے لیے امریکی حکام سے رابطے میں ہیں۔‘
انھوں نے کہا ’ایران کے ساتھ ہمارے تعلقات طویل عرصے پر محیط ہیں۔ ہم صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور اس شراکت داری کو آگے بڑھاتے رہیں گے۔‘












