امریکی فوج کا ابراہم لنکن کی طرف پرواز کرنے والا ایرانی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ، ایران سے مذاکرات سے قبل وٹکوف کی نیتن یاہو سے ملاقات

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ امریکی بحری بیڑے کے قریب پرواز کرنے والے ایرانی ڈرون کو مار گرائے جانے کے باوجود وِٹکوف کی ایرانیوں کے ساتھ ملاقات کے منصوبے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

خلاصہ

  • ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں پاکستان کو شرکت کی دعوت
  • بلوچستان کے ضلع آواران میں گذشتہ شب بھی دو مقامات پر حملہ، صوبے کے متعدد علاقوں میں موبائل پر انٹرنیٹ سروس بدستور معطل
  • قومی اسمبلی میں بلوچستان حملوں کے خلاف قرارداد منظور: ’دہشت گرد نیٹ ورکس خواتین کو ریاست کے خلاف استعمال کر رہے ہیں‘
  • ایرانی صدر نے امریکہ کے ساتھ ’برابری‘ کی بنیاد پر مذاکرات کی منظوری دے دی
  • صدر ٹرمپ کی تہران کے ساتھ مذاکرات کی تصدیق، ایرانی وزیرِ خارجہ اور امریکی ایلچی کی استنبول میں ملاقات طے
  • سینیٹ میں بلوچستان حملوں کے خلاف قرارداد، رانا ثنااللہ کی شدت پسندوں کی کوئٹہ ریڈ زون میں داخلے کی کوشش ناکام بنانے کا دعویٰ
  • ڈاکٹر عثمان انور ڈی جی ایف آئی اے تعینات، راؤ عبدالکریم نئے آئی جی پنجاب مقرر

لائیو کوریج

  1. ڈاکٹر عثمان انور ڈی جی ایف آئی اے تعینات، راؤ عبدالکریم نئے آئی جی پنجاب مقرر

    ڈاکٹر عثمان

    ،تصویر کا ذریعہPunjab Police/APP

    ،تصویر کا کیپشنڈاکٹر عثمان انور (دائیں)، راؤ عبدالکریم

    پنجاب کے موجودہ انسپکٹر جنرل (آئی جی) عثمان انور کی خدمات دوبارہ وفاق کے سپرد کر دی گئی ہیں اور انھیں وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کا ڈائیریکٹر جنرل مقرر کر دیا گیا ہے۔

    پاکستان کی وفاقی حکومت کے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے اس بارے میں نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔

    ڈاکٹر عثمان انور کو جنوری 2023 میں پنجاب کی نگراں حکومت نے آئی جی پنجاب تعینات کیا تھا۔ اس سے قبل وہ نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس کے ساتھ فرائض سرانجام دے رہے تھے۔

    اسٹیبلثمنٹ ڈویژن کی جانب سے جاری ایک نوٹیفکیشن کے مطابق، موجودہ ڈی جی ایف آئی اے راجہ رفعت مختار کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے اور انھیں اسٹبلمثمنٹ ڈویژن رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    دوسری جانب پولیس سروس گریڈ 21 کے افسر راؤ عبدالکریم کو ڈاکٹر عثمان انور کی جگہ آئی جی پنجاب تعینات کر دیا گیا۔

    نئے آئی جی پنجاب راؤ عبدالکریم کون ہیں؟

    پنجاب پولیس کی جانب سے جاری ایک بیان کے مطابق، راؤ عبدالکریم کا تعلق پولیس سروس آف پاکستان کے 24 ویں کامن بیچ سے ہے اور انھوں نے 1996 میں بطور اے ایس پی پولیس سروس پاکستان جوائن کی تھی۔

    وہ ان دنوں ایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ پنجاب کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ اس سے قبل راؤ عبدالکریم بطور ایڈیشنل آئی جی پی ایچ پی، کمانڈنٹ پی سی، ڈی آئی جی ٹریفک پنجاب، آر پی او گوجرانوالا، ڈی آئی جی ٹیلی کمیونیکیشن کے عہدے پر فائز رہ چکے ہیں۔

  2. ایرانی صدر نے امریکہ کے ساتھ ’برابری‘ کی بنیاد پر مذاکرات کی منظوری دے دی

    مسعود پیزشکیان

    ،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images

    ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے امریکہ کے ساتھ برابری اور انصاف کی بنیاد پر مذاکرات کی منظوری دے دی ہے۔

    ایرانی صدر کے ایکس اکاؤنٹ سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ خطے کے دوست ممالک نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش کا جواب دینے کی درخواست کی تھی۔

    ان کا کہنا ہے کہ ان درخواستوں کے جواب میں انھوں نے اپنے وزیرِ خارجہ کو ہدایت کی ہے کہ اگر خطرات سے پاک اور غیر معقول توقعات سے دور مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا ہوتا ہے تو وہ انصاف اور برابری کی بنیاد پر بات چیت کے لیے تیاری کریں۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس نے ایک نامعلوم سرکاری ذریعے کے حوالے سے خبر دی تھی کہ ’صدر پزشکیان نے ایران کے جوہری پروگرام پر امریکہ کے ساتھ بات چیت شروع کرنے کا حکم دیا ہے۔‘

    اے ایف کے مطابق، ایران کے سرکاری اخبار ’ایران‘ اور اصلاح پسند روزنامہ شرق نے بھی شائع کیا تھا۔

    اس سے قبل سوموار کے روز وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ بڑے امریکی جہاز ایران کی جانب روانہ ہیں۔ ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ایران سے مذاکرات بھی چل رہے ہیں، دیکھیے کیا ہوتا ہے۔

    ٹرمپ نے خبردار بھی کیا کہ اگر ایران کے ساتھ بات چیت ناکام ہو گئی تو ’کچھ برا‘ ہو سکتا ہے۔

    دوسری جانب بین الاقوامی خبر رساں ادارے روئٹرز نے خبر دی ہے کہ امریکی صدر کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے درمیان ترکی کے شہر استنبول میں ملاقات ہو گی۔

  3. نئی ’ایپسٹین فائلز‘: ٹرمپ کا اپنے خلاف سازش کا دعویٰ، بل اور ہیلری کلنٹن کانگریس کے سامنے گواہی کے لیے راضی

    جیفری ایپسٹین

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    گذشتہ ہفتے امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کے متعلق 30 لاکھ صفحات، ایک لاکھ 80 ہزار تصاویر، اور دو ہزار ویڈیوز منظر عام پر لائی گئیں۔

    ان دستاویزات کی اشاعت نے امریکہ سمیت دنیا کے کئی ممالک میں ایک بار پھر ہلچل مچا دی ہے۔

    ایپسٹین نے میرے خالف سازش کی تھی: ڈونلڈ ٹرمپ

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ محکمہ انصاف کی جانب سے جاری کردہ دستاویزات سے ثابت ہوتا ہے ایپسٹین نے ان کے خلاف سازش کی تھی۔

    اوول آفس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایپسٹین اور مصنف مائیکل وولف نے ’ڈونلڈ ٹرمپ کو الیکشن ہروانے کی سازش کی تھی--- تو اس سے واضح ہے، میرا اس آدمی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔‘

    اس سے قبل ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر جاری ایک پیغام نے لکھا ہے کہ وہ جیفری ایپسٹین کے قریب نہیں تھے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ ’کبھی ایپسٹین کے جزیرے پر نہیں گئے۔‘

    بل اور ہیلری کلنٹن

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بل اور ہیلری کلنٹن کا کانگریس کے سامنے پیش ہونے کا اعلان

    سابق امریکی صدر بل کلنٹن اور ان کی اہلیہ سابق وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے جیفری ایپسٹین کے متعلق کانگریس کی تحقیقات میں گواہی دینے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔

    گذشتہ کئی ماہ سے دونوں ہاؤس اوور سائیٹ کمیٹی کے سامنے پیش ہونے سے انکار کر رہے تھے۔ آئندہ چند دنوں میں کانگریس میں بل اور ہیلری کی جانب سے کمیٹی کے سامنے پیشی سے انکار پر ان کے خلاف مجرمانہ توہین کی کارروائی پر رائے شماری ہونی تھی۔

    بل کلنٹن جیفری ایپسٹین کو جانتے تھے تاہم ان کا موقف رہا ہے کہ وہ ان کے جنسی جرائم سے لاپتا تھے اور انھوں نے دو دہائی قبل ہی ایپسٹین سے متعلقات منقطع کر لیے تھے۔

    امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے شائع کردہ ایپسٹین کے جزیرے کی تصاویر میں سے ایک میں بل کلنٹن ایک سوئمنگ پول میں دکھائی دے رہے ہیں۔ ایک اور تصویر میں انھیں ایک ہاٹ ٹب میں اپنے سر کے پیچھے ہاتھ رکھ کر لیٹے دیکھا جا سکتا ہے۔

    اینڈریو

    ،تصویر کا ذریعہUS Department of Justice

    اینڈریو کی ایپسٹین جزیرے پر تصویر اور سابقہ اہلیہ کا دی مڈرز آرمی شروع کرنے کے لیے ایپسٹین سے مشورہ

    برطانیہ کے شاہ چارلس کے چھوٹے بھائی اینڈریو اور ان کی سابقہ بیوی سارہ فرگوسن جنسی جرائم کے مجرم جیفری ایپسٹین کے ساتھ اپنے تعلقات کی وجہ سے تنازعات کی زد میں رہے ہیں۔

    نئی ایپسٹین فائل میں اینڈریو کی ایک تصویر بھی شامل ہے جس میں وہ زمین پر لیٹی ایک خاتون کے اوپر گھٹنوں کے بل جھکے ہوئے ہیں۔

    یاد رہے کہ سنہ 2022 میں اینڈریو سے ان کے فوجی اور شاہی اعزازات واپس لے لیے گئے تھے۔

    اس کے علاوہ امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جاری کردہ فائلز کے مطابق سارہ فرگوسن جیفری ایپسٹین کے ساتھ اس بھی وقت رابطے میں تھیں جب وہ ایک نابالغ سے جنسی تعلقات استوار کرنے پر جیل میں تھے۔

    نئی دستاویز کے مطابق، 14 جون 2009 کو ایک ’سارہ‘ کی جآنب سے ایپسٹین کو بھیجی گئی ایک ای میل میں دی مڈرز آرمی نامی کمپنی شروع کرنے کے متعلق مشورہ مانگا گیا تھا۔ ’پوری دنیا کی ماؤں کی آواز اٹھانے میں مدد کے لیے‘ قائم کی گئی کمپنی سارہ مارگریٹ فرگوسن کے نام پر درج ہے۔

    بی بی سی نے فرگوسن کا موقف جاننے کے لیے ان سے رابطہ کیا ہے۔ خیال رہے کہ ایپسٹین فائلوں میں نام آنا اس بات کا ثبوت نہیں کہ کوئی غلط کام کیا گیا ہے۔

    نئی ’ایپسٹین فائلز‘ میں مودی کا ذکر

    انڈیا کی اپوزیشن جماعت کانگریس نے دعویٰ کیا ہے کہ محکمہ انصاف کی جانب سے جاری نئی دستاویزات میں شامل ایک ای میل میں جیفری ایپسٹین نے انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی کا بھی ذکر کیا ہے۔

    کانگریس کا دعویٰ ہے کہ جیفری ایسپٹین جو کہ ایک سیریل ریپسٹ، بچوں کے ساتھ جنسی جرائم کے مجرم اور انسانی سمگلر ہیں، اُنھوں نے نو جولائی 2017 کی ایک ای میل میں لکھا کہ انڈین وزیر اعظم نریندر مودی میرے مشورے کے مطابق اسرائیل گئے، امریکی صدر کے فائدے کے لیے وہاں ناچا گایا، اس سے مقصد پورا ہو گیا۔‘

    تاہم، انڈیا کی وزارت خارجہ نے ان الزامات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ سنہ 2017 کو وزیر اعظم کا اسرائیل کا سرکاری دورہ ہی واحد حقیقت ہے۔ اس کے علاوہ ’ای میل کا متن ایک مجرم کی بے کار بکواس کے علاوہ کچھ نہیں۔‘

    اس بارے میں مکمل تحریر پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

  4. سینیٹ میں بلوچستان حملوں کے خلاف قرارداد، رانا ثنااللہ کی شدت پسندوں کی کوئٹہ ریڈ زون میں داخلے کی کوشش ناکام بنانے کا دعویٰ

    بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے ریڈ زون میں بم دھماکے کے بعد تباہی کا منظر۔

    ،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images

    سوموار کے روز پاکستان کی سینیٹ نے متفقہ طور پر نے ایک قرارداد منظور کی جس میں سنیچر کے روز بلوچستان کے مختلف شہروں میں ہونے والے حملوں کی شدید مذمت کی گئی اور فرض کی ادائیگی کے دوران مارے جانے والے سکیورٹی اہلکاروں کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔

    سرکاری ٹی وی کے مطابق، قرارداد میں کہا گیا کہ بلوچستان میں امن، ترقی اور سیاسی شمولیت کے عزم کا اعادہ کیا گیا اور کہا گیا کہ پائیدار سلامتی کے بغیر سماجی و اقتصادی ترقی، گڈ گورننس اور آئینی حقوق کا احترام ممکن نہیں۔

    سینیٹ کے اجلاس وزیرِ اعظم کے مشیر اور سینیٹر رانا ثنااللہ نے دعویٰ کیا کہ دہشت گرد بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے ریڈ زون میں داخل ہونا چاہتے تھے جسے سکیورٹی اداروں نے ناکام بنا دیا۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ آپریشن کے دوران 177 شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔

    سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس کا کہنا تھا کہ ملک میں امن کے لیے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا اور مل کر ہی بحرانوں کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔

  5. صدر ٹرمپ کی تہران کے ساتھ مذاکرات کی تصدیق، ایرانی وزیرِ خارجہ اور امریکی ایلچی کی استنبول میں ملاقات طے

    سٹیو وٹکوف، عباس عراقچی

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty images

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ان کی انتظامیہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں مصروف ہے جبکہ دوسری جانب بین الاقومی خبر رساں اداروں کا کہنا ہے کہ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور امریکی صدر کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف کے درمیان چھ فروری کو استنبول میں ملاقات ہو گی۔

    بی بی سی عربی کے مطابق، سوموار کے روز وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ بڑے امریکی جہاز ایران کی جانب روانہ ہیں۔ ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ایران سے مذاکرات بھی چل رہے ہیں، دیکھیے کیا ہوتا ہے۔

    ٹرمپ نے خبردار بھی کیا کہ اگر ایران کے ساتھ بات چیت ناکام ہو گئی تو ’کچھ برا‘ ہو سکتا ہے۔

    ایسے میں دوسری جانب بین الاقوامی خبر رساں ادارے روئٹرز نے خبر دی ہے کہ امریکی صدر کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے درمیان ترکی کے شہر استنبول میں ملاقات ہو گی۔ اس سے قبل امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوز نے ایرانی وزارتِ خارجہ میں دو ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا تھا کہ عباس عراقچی اور سٹیو وٹکوف کے درمیان استنبول میں ایران کے جوہری پروگرام کے متعلق مذاکرات ہوں گے۔

    اس سے قبل اتوار کے روز سی این این کو دیے گئے ایک انٹرویو میں عباس عراقچی کہہ چکے ہیں کہ ایران کی جوہری صلاحیتوں پر بات ہو سکتی ہے۔

    سی این این کی جانب سے ایران کے میزائل پروگرام اور حوثیوں سمیت خطے میں موجود ایرانی پراکسیوں کے متعلق ایک سوال پر عراقچی کا کہنا تھا کہ ناممکن چیزوں کے بارے میں بات نہ کی جائے تو بہتر ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا، ’ اور جوہری ہتھیاروں کی عدم موجودگی کو یقینی بنانے کے لیے ایک منصفانہ معاہدے کا موقع ضائع نہ کیا جائے۔ جیسا کہ میں نے کہا، یہ مختصر وقت میں بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔‘

    روئٹرز کے مطابق، عراقچی اور سٹیو وٹکوف کے درمیان ملاقات جمعہ (6 فروری) کو متوقع ہے۔

    بین الاقومی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی ایک رپورٹ کے مطابق، ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس نے ایک نامعلوم سرکاری ذریعے کے حوالے سے خبر دی تھی کہ ’صدر پزشکیان نے ایران کے جوہری پروگرام پر امریکہ کے ساتھ بات چیت شروع کرنے کا حکم دیا ہے۔‘

    اے ایف کے مطابق، ایران کے سرکاری اخبار ’ایران‘ اور اصلاح پسند روزنامہ شرق نے بھی شائع کیا تھا۔

  6. بلوچستان کے ایک اور شہر واشک میں بھی نامعلوم مسلح افراد کا سرکاری تنصیبات پر حملہ, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    بلوچستان کے ایک اور شہر واشک میں بھی نامعلوم مسلح افراد نے حملہ کرکے سرکاری تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔

    واشک میں ضلعی انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اس حملے میں ایک دو سرکاری دفاتر کو نذر آتش کرنے کے علاوہ ایک بینک کو بھی نقصان پہنچایا۔

    فون پر رابطہ کرنے پر ایک عینی شاہد نے بتایا کہ نامعلوم مسلح افراد جو کہ گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پر تھے صبح ساڑھے 11 بجے کے قریب ضلع واشک کے ہیڈکوارٹر واشک میں داخل ہوئے۔

    انھوں نے بتایا کہ یہ لوگ اندازا ساڑھے تین گھنٹے تک واشک شہر میں موجود رہے اور اس کے بعد واپس چلے گئے۔

    ان کا کہنا تھا کہ مسلح افراد کی موجودگی کے دوران شدید فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں جس کی وجہ سے لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

    عینی شاہد نے بتایا کہ مسلح افراد شہر سے نکلنے سے پہلے ایس پی واشک اور نادرا کے دفاتر کے علاوہ نیشنل بینک کو نذر آتش کیا۔

    جب اس سلسلے میں واشک میں ایک سینیئر سرکاری آفیسر سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ نامعلوم افراد نے ایس پی کے دفتر اور نادرا کے دفتر کو نذر آتش کیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ مسلح افراد نے نیشنل بینک کو بھی نقصان پہنچایا۔

    سرکاری اہلکار نے بتایا کہ بعد میں سیکورٹی فورسز نے ان کو انگیج کیا جس کے بعد مسلح افراد شہر سے نکل گئے۔

    سینیچر کے حملوں کے بعد غیر یقینی صورتحال برقرار

    سینیچر کے روز کوئٹہ سمیت بلوچستان کے 12شہروں پر مسلح افراد کے حملوں کے بعد غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔

    غیر یقینی صورتحال کے باعث پیر کو تیسرے روز بھی موبائل فون پر انٹرنیٹ سروس معطل رہی جبکہ کوئٹہ اور پاکستان کے دوسرے شہروں کے درمیان ٹرین سروس بھی معطل رہی۔

    سیکورٹی خدشات کے پیش نظر بلوچستان میں ایک مرتبہ پھر ایک ماہ کے لیے دفعہ 144 نافذ کردی گئی ہے۔

    دفعہ 144 کے تحت اسلحے کی نمائش، پانچ یا پانچ سے زائد افراد کی اجتماع ، شناخت چھپانے کے لیے چہروں کو ڈھانپنے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔

  7. بریکنگ, امریکہ اور انڈیا میں تجارتی معاہدہ طے پا گیا، ٹرمپ نے انڈیا پر ٹیرف کم کر کے 18 فیصد کر دیا گیا

    trump modi

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ نے انڈیا سے درآمد کی جانے والی اشیا پر ٹیرف کو کم کر کے 18 فیصد کر دیا ہے۔ اس بات کا اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور انڈین وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پر کیا۔

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ انڈیا اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدہ طے پا گیا ہے۔ تاہم انڈین وزیر اعظم کی سابق پوسٹ میں تجارتی معاہدے کے حوالے سے کوئی معلومات نہیں تھیں۔

    صدر ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں ٹیرف اور تجارتی سودوں کے بارے میں معلومات دی ہیں۔

    اس پوسٹ میں انھوں نے کہا کہ امریکہ اور انڈیا کے درمیان تجارتی معاہدہ طے پا گیا ہے جس کے تحت امریکہ نے باہمی ٹیرف کو 25 فیصد سے کم کر کے 18 فیصد کر دیا ہے۔

    دریں اثنا، انڈیا میں امریکی سفیر سرجیو گور نے ٹویٹر پر لکھا ، ’جیسا کہ میں نے کئی بار کہا ہے، صدر ٹرمپ واقعی وزیر اعظم مودی کو بہت اچھا دوست سمجھتے ہیں۔ میں آج شام تجارتی معاہدے کی خبر سے بہت پرجوش ہوں۔ امریکہ اور انڈیا کے درمیان تعلقات میں بے پناہ امکانات ہیں۔‘

    پیر کی رات دیر گئے دونوں ممالک کے اعلیٰ رہنماؤں کی طرف سے کیا گیا یہ اعلان بہت اہم ہے کیونکہ گذشتہ سال سے دونوں ملکوں کے تعلقات میں کئی اتار چڑھاؤ آئے ہیں۔

    امریکہ نے روس سے انڈیا کی تیل کی خریداری پر 25 فیصد ٹیرف لگا دیا، جس سے یہ کل 50 فیصد ہو گئی۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک پوسٹ میں لکھا، ’آج صبح انڈیا کے وزیر اعظم مودی سے بات کرنا اعزاز کی بات تھی۔ وہ میرے بہترین دوستوں میں سے ایک ہیں اور اپنے ملک کے ایک طاقتور اور قابل احترام رہنما ہیں۔ ہم نے تجارت اور روس-یوکرین جنگ کے خاتمے سمیت بہت سے موضوعات پر بات چیت کی۔ انھوں نے روسی تیل کی خریداری روکنے اور ممکنہ طور پر وینزویلا سے مزید تیل خریدنے پر اتفاق کیا۔‘

    ’اس سے یوکرین میں جاری جنگ کو ختم کرنے میں مدد ملے گی، جس میں ہر ہفتے ہزاروں لوگ مارے جا رہے ہیں۔ وزیر اعظم مودی کی دوستی اور احترام کی وجہ سے، اور ان کی درخواست پر، ہم نے فوری طور پر امریکہ اور بھارت کے درمیان تجارتی معاہدے پر اتفاق کیا ہے۔ اس کے تحت، امریکہ نے باہمی ٹیرف کو 25 فیصد سے کم کر کے 18 فیصد کر دیا ہے۔‘

    ’انڈیا بھی امریکہ کے ساتھ اپنی ٹیرف اور نان ٹیرف رکاوٹوں کو ختم کرنے کی طرف بڑھے گا۔ وزیر اعظم نے ’بائے امیریکن‘ پالیسی کے تحت امریکہ سے مزید خریداری کا عہد بھی کیا ہے۔ مزید برآں، امریکی توانائی، ٹیکنالوجی، زراعت، کوئلہ، اور بہت سی دوسری مصنوعات کی $500 بلین سے زیادہ کی خریدی جائے گی۔‘

    انھوں نے کہا، ’ انڈیا کے ساتھ ہمارے شاندار تعلقات آنے والے وقتوں میں مزید مضبوط ہوں گے۔ وزیر اعظم مودی اور میں وہ لوگ ہیں جو کام کرواتے ہیں، جو زیادہ تر لوگوں کے بارے میں نہیں کہا جا سکتا۔‘

    اس پر وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک ایکس پوسٹ میں کہا، ’آج اپنے پیارے دوست صدر ٹرمپ سے بات کرتے ہوئے بہت خوشی ہوئی۔ مجھے یہ جان کر خوشی ہوئی کہ میڈ ان انڈیا مصنوعات پر ٹیرف اب کم کر کے 18 فیصد کر دیا گیا ہے۔ ہندوستان کے 1.4 بلین عوام کی طرف سے، اس اعلان کے لیے صدر ٹرمپ کا شکریہ۔‘

    انھوں نے لکھا، لجب دنیا کی دو بڑی معیشتیں اور سب سے بڑی جمہوریتیں مل کر کام کرتی ہیں، تو اس سے ہمارے لوگوں کو فائدہ ہوتا ہے اور باہمی فائدے کے بے پناہ مواقع کھلتے ہیں‘۔

    ’صدر ٹرمپ کی قیادت عالمی امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے اہم ہے۔ انڈیا امن کے لیے ان کی کوششوں میں ان کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔ میں اپنی شراکت داری کو بے مثال بلندیوں تک لے جانے کے لیے ان کے ساتھ کام کرنے کا منتظر ہوں۔‘

  8. امریکی صدر ٹرمپ کا انڈین وزیر اعظم مودی کو فون، ’تفصیلات کچھ دیر میں جاری کی جائیں گی‘

    ٹرمپ اور مودی

    ،تصویر کا ذریعہ@USAmbIndia

    انڈیا میں امریکی سفیر سرجیو گور نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انڈین وزیر اعظم نریندر مودی سے بات کی ہے۔

    سفیر نے اس بات چیت کی تفصیلات فراہم نہیں کیں بلکہ صرف یہ لکھا کہ ’دیکھتے رہیے۔‘

    یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکہ اور انڈیا کے تعلقات کشیدہ ہیں۔ حال ہی میں امریکہ نے انڈیا پر 50 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے جس کے باعث دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات میں تناؤ بڑھ گیا ہے۔

    امریکی صدر ٹرمپ نے اس سے قبل گذشتہ سال اکتوبر میں وزیر اعظم مودی کو فون کر کے دیوالی کی مبارکباد دی تھی۔ مودی نے سوشل میڈیا پر صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے لکھا تھا ’صدر ٹرمپ، فون کرنے اور آپ کی دیوالی کی نیک تمناؤں کا شکریہ۔ روشنیوں کے اس تہوار پر میری خواہش ہے کہ ہماری دونوں عظیم جمہوریتیں دنیا کے لیے امید کی کرن بنی رہیں اور ہر طرح کی دہشت گردی کے خلاف متحد رہیں۔‘

    یاد رہے کہ دیوالی کے موقع پر صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں چراغاں کر کے یہ تہوار منایا تھا۔

  9. ہر قسم کی دہشتگردی کے خلاف پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں: آسٹریلیا

    ُُآسٹریلیا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    آسرٹیلیا نے بلوچستان میں حالیہ حملوں پر اپنا مؤقف دیتے ہوئے پاکستان کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

    پاکستان میں آسٹریلین ہائی کمیشن نے سوشل میڈیا کی سائٹ ایکس پر بیان جاری کرتے ہوئے لکھا کہ ’آسٹریلیا ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے اور ان متاثرین کے اہلِ خانہ اور عزیز و اقارب سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتا ہے جنھوں نے اپنی جانیں گنوائیں یا زخمی ہوئے۔‘

  10. فیلڈ مارشل عاصم منیر کی لیبیا کی اعلیٰ عسکری قیادت سے جی ایچ کیو میں ملاقات، دفاعی شراکت داری کو فروغ دینے پر اتفاق

    LIBYA, PAKISTAN

    ،تصویر کا ذریعہISPR

    فیلڈ مارشل عاصم منیر سے پیر کے روز لیبیا کی صدارت میں قائم عرب مسلح افواج کے کمانڈر اِن چیف فیلڈ مارشل خلیفہ ابو القاسم حفتر اور اُن کے نائب لیفٹیننٹ جنرل صدام خلیفہ حفتر نے ملاقات کی ہے۔

    پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق کمانڈر اِن چیف لیبین عرب مسلح افواج ڈپٹی کمانڈر اِن چیف لیبین عرب مسلح افواج لیفٹیننٹ جنرل صدام خلیفہ حفتر کے ہمراہ جی ایچ کیو پہنچے، جہاں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ان کا خیرمقدم کیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق اس ملاقات میں باہمی دلچسپی بالخصوص متعلقہ خطوں کی سکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ’ملاقات میں پیشہ ورانہ تعاون پر پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، پاکستان اور لیبیا کی مسلح افواج کے درمیان مسلسل روابط اور تعاون کی اہمیت پر زور دیا گیا۔‘

    آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے لیبیا کے ساتھ دوطرفہ تعلقات مضبوط بنانے ، لیبیا میں امن، استحکام اور ادارہ جاتی ترقی کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا۔

    آئی ایس پی آر نے بتایاکہ ملاقات خوشگوار اور تعمیری ماحول میں ہوئی جو دیرینہ دوستانہ تعلقات کی عکاس ہے۔

    LIBYA, PAKISTAN

    ،تصویر کا ذریعہISPR

    یاد رہے کہ گذشتہ برس ستمبر میں فیلڈ مارشل عاصم منیر نے لیبیا کا سرکاری دورہ کیا تھا، جہاں انھوں نے لیبیا کی صدارت میں قائم عرب مسلح افواج کے کمانڈر اِن چیف فیلڈ مارشل خلیفہ ابولقاسم حفتر اور اُن کے نائب لیفٹیننٹ جنرل صدام خلیفہ حفتر سے ملاقات کی تھی۔

    فیلڈ مارشل عاصم منیر کے لیبیا پہنچنے پر عرب مسلح افواج کے دستے نے گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔

    PAKISTAN

    ،تصویر کا ذریعہISPR

    فیلڈ مارشل عاصم منیر نے مشترکہ مفادات کی بنیاد پر لیبیا کے ساتھ دفاعی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا تھا۔

    فیلڈ مارشل خلیفہ حفتر نے پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو مزید وسعت دینے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔

  11. بلوچستان میں حالیہ دہشتگرد حملوں کی مذمت کرتے ہیں: روس

    روس

    ،تصویر کا ذریعہ@CMShehbaz

    پاکستان میں روس کے سفارتخانے نے بلوچستان میں 31 جنوری تا یکم فروری ہونے والے حالیہ دہشت گرد حملوں کی مذمت کی ہے۔

    سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر اپنے ایک بیان میں سفارتخانے نے کہا ہے کہ ’ہم اس بات پر زور دیتے ہیں کہ دہشت گردی کی ہر شکل اور ہر قسم کا مقابلہ کیا جانا چاہیے۔ ہماری امید ہے کہ ان سفاکانہ کارروائیوں کے ذمہ داروں کو شناخت کر کے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔‘

    سفارتخانے نے مزید لکھا کہ ’ہمارے دل متاثرین کے اہلِ خانہ اور دوستوں کے ساتھ ہیں اور ہم زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعاگو ہیں۔‘

  12. امریکہ سازش میں ناکامی کے بعد سفارتکاری کی طرف لوٹ آیا ہے: ایرانی وزیر خارجہ

    عباس عراقچی

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے ایک بار پھر امریکہ اور اسرائیل پر جنوی کے احتجاج اور بدامنی میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ وہ ’حالیہ سازش میں ناکامی کے بعد سفارتکاری کی طرف آئے ہیں۔‘

    عباس عراقچی نے 18 تا 20 جنوری کے احتجاج کو ’اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ بارہ روزہ جنگ کا تسلسل‘ قرار دیا اور کہا کہ ان تین دن کے واقعات ’عوامی احتجاج اور ان کی تشویش سے کوئی تعلق نہیں رکھتے۔‘

    وزیرِ خارجہ نے مزید کہا کہ ’حالیہ سازش میں ناکامی کے بعد اب وہ دوبارہ سفارتکاری کی بات کرتے ہیں، اور ہم بھی ہمیشہ سفارتکاری کے لیے تیار ہیں، بشرطیکہ یہ برابری کی بنیاد پر ہو، باہمی احترام کے ساتھ اور مشترکہ مفادات کے حصول کے لیے ہو۔‘

    عباس عراقچی، جو وزارتِ خارجہ کے عملے کی موجودگی میں ایک تقریب سے خطاب کر رہے تھے، نے کہا کہ جو شخص احترام سے بات کرے گا، اسے احترام سے جواب ملے گا، اور جو دھمکی اور زور سے بات کرے گا، اسے اسی زبان میں جواب دیا جائے گا۔

    انھوں نے کہا کہ ’ہم سفارتکاری کے لیے تیار ہیں، لیکن انھیں جان لینا چاہیے کہ سفارتکاری دھمکی، خوف اور دباؤ کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہوتی۔ سفارتکاری کا اپنا طریقہ ہے۔‘

    عباس عراقچی کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب تہران اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی سرگرمیاں بڑھ گئی ہیں اور ایران و امریکہ کے درمیان نئے مذاکرات کے امکان کی رپورٹس سامنے آ رہی ہیں۔

  13. وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی سربراہی میں خیبر پختونخوا کے متاثرہ علاقوں کے لیے معاوضے اور امداد سے متعلق اجلاس

    Sohail Afridi

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ محمد سہیل آفریدی کی زیرِ صدارت ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں تیراہ، کرم اور باجوڑ کے متاثرہ خاندانوں کے لیے معاوضے اور مالی امداد کے معاملات کا جائزہ لیا گیا۔

    اجلاس میں متاثرہ علاقوں میں جاری ریلیف آپریشنز، فنڈز کے استعمال اور ادائیگی کے طریقہ کار پر بریفنگ دی گئی۔ وزیرِ اعلیٰ نے ہدایت کی کہ تیراہ کے متاثرہ افراد کی تصدیقی عمل ہر صورت ایک ہفتے کے اندر مکمل کیا جائے تاکہ ریلیف ادائیگیاں جلد از جلد ممکن ہو سکیں۔ انھوں نے زور دیا کہ متاثرہ خاندانوں کو دی جانے والی تمام ادائیگیوں کا مکمل اور شفاف ڈیجیٹل ریکارڈ رکھا جائے تاکہ ہر روپے کا حساب موجود ہو۔

    سہیل آفریدی نے واضح کیا کہ ریلیف فنڈز کے استعمال میں کسی قسم کی غفلت، بدانتظامی یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انھوں نے صوبائی حکومت کے عزم کو دہراتے ہوئے کہا کہ متاثرین کی بحالی اور امداد کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔

    وزیرِ اعلیٰ نے مزید ہدایت کی کہ وفاقی حکام کو باضابطہ خطوط جاری کیے جائیں تاکہ متاثرین کے واجب الادا بقایا جات فوری طور پر جاری کیے جا سکیں۔ انھوں نے قدرتی آفات اور سکیورٹی آپریشنز سے متاثرہ افراد کی مستقل بحالی اور معاونت کے لیے ایک خصوصی فنڈ قائم کرنے کی بھی ہدایت کی۔

    اجلاس کو بتایا گیا کہ متاثرین کی امداد کے لیے مختص چار ارب روپے میں سے 90 کروڑ روپے پہلے ہی خرچ کیے جا چکے ہیں۔ تیراہ ویلی کے 17 ہزار متاثرہ گھروں کی رجسٹریشن مکمل ہو چکی ہے اور روزانہ ایک ہزار خاندانوں کو مالی امداد دی جائے گی۔ اس عمل کی مؤثر نگرانی کے لیے ایک ڈیجیٹل ڈیش بورڈ تیار کیا جا رہا ہے۔

    مزید بتایا گیا کہ باکا خیل کیمپ میں مقیم متاثرین کو ماہانہ بنیادوں پر مالی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ اجلاس میں صوبائی کابینہ کے ارکان عقیب اللہ اور مزمل اسلم، متعلقہ محکموں کے سیکریٹریز، کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز نے شرکت کی اور وزیرِ اعلیٰ کو جاری اقدامات اور آئندہ کے لائحہ عمل سے آگاہ کیا۔

  14. بلوچستان میں بڑے پیمانے پر فوج تعینات کرنے کی ضرورت ہے، وزیر دفاع خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں اظہار خیال

    Khawaj Asif

    ،تصویر کا ذریعہScreenshot

    پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بلوچستان کے جغرافیے کی وجہ سے وہاں بڑے پیمانے پر فوجی اہلکاروں کی تعیناتی ناگزیر ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان کا 40 فیصد سے زیادہ رقبہ بلوچستان پر محیط ہے، جہاں 35 کلومیٹر کے فاصلے پر ایک شخص آباد ہے اور اسے کنٹرول کرنا کہیں زیادہ مشکل ہے۔

    پیر کو قومی اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ اس صوبے میں ہماری فوج پہلے سے موجود ہے مگر مزید بڑے پیمانے پر تعیناتیوں کی بھی ضرورت ہے۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ گذشتہ حکومتوں نے بیوروکریسی سے مل کر وہاں وسائل کی درست تقسیم نہیں کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ باقی صوبوں میں بھی یہی کچھ ہو رہا ہے۔

    واضح رہے کہ خواجہ آصف حکمران جماعت مسلم لیگ سے تعلق رکھتے ہیں جو ماضی میں تین بار حکومت میں رہی ہے۔

    خواجہ آصف نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ بلوچستان میں قبائلی، جرائم پیشہ افراد اور بیوروکریسی کا گٹھ جوڑ ہے۔ انھوں نے کہ ان تنظیموں کو جرائم پیشہ لوگ تحفظ فراہم کر رہے ہیں۔

    خواجہ آصف نے یہ خطاب سپیکر ایاز صادق کی درخواست پر کیا، جنھوں نے انھیں بلوچستان کی صورتحال پر ایوان کو بریفنگ دینے کے لیے کہا تھا۔

    خواجہ آصف نے اپنے خطاب کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں امن کی بحالی گذشتہ کئی دہائیوں میں بارہا ’متاثر‘ ہوئی ہے۔ تاہم انھوں نے کہا کہ صوبے میں طویل عرصے تک امن قائم رہا اور ترقیاتی کام بھی کیے گئے۔

    وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان کی آزادی کے ابتدائی عشروں میں اس بدامنی کے ’اثرات کو ایک طرح کا سیاسی رنگ دیا گیا تھا۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ کچھ شکایات بھی موجود تھیں۔ انھوں نے کہا کہ ’اس بات میں جائے بغیر کہ وہ درست تھیں یا غلط، کچھ شکایات میں قوم پرستی کا رنگ بھی شامل تھا۔‘

    وزیر دفاع نے کہا کہ انڈیا کی حمایت یافتہ عناصر بلوچستان میں ’پراکسی‘ کے طور پر سرگرم ہیں اور افغان سرزمین بھی صوبے میں دہشت گردی کی آگ بھڑکانے کے لیے استعمال کی جا رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’دہشت گردوں کی قیادت افغانستان میں ہے اور انھیں وہاں سے مدد ملتی ہے۔‘

    خواجہ آصف نے الزام لگایا کہ ’اس تحریک کے سیاسی عنصر کو حالیہ یا کچھ عرصہ پہلے سمگلنگ نے ہائی جیک کر لیا۔‘ انھوں نے کہا ’اربوں کھربوں روپے سمگلنگ، خاص طور پر تیل کی سمگلنگ سے ضائع ہو رہے تھے۔ یہ مجرمانہ مافیا اس تحریک کی حمایت کرنے لگا اور اب اس کی قیادت انھی عناصر کے ہاتھ میں ہے۔‘

    وزیر دفاع نے مزید کہا کہ افغانستان یا دیگر ممالک کے لیے ٹرانزٹ ٹریڈ کے تحت آنے والی اشیا دوبارہ پاکستان واپس آ کر یہاں کی مارکیٹوں میں فروخت ہو رہی تھیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’ہماری حکومت نے اس پر قابو پانے کے لیے سخت اقدامات کیے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ چمن بارڈر پر طویل احتجاج ہوا۔ اسی طرح بلوچستان کے دیگر علاقوں میں بھی جہاں یہ سہولت دستیاب تھی اور اس کا غلط استعمال ہو رہا تھا، احتجاج دیکھنے میں آیا۔‘

    خواجہ آصف نے کہا کہ اس تحریک کے ارکان اسے قوم پرست تحریک کہتے ہیں، لیکن یہ مجرموں اور سمگلروں کی تحریک میں بدل گئی ہے اور وہی اس کی فنڈنگ کر رہے ہیں۔

    وزیر دفاع نے کہا کہ ایک رائے یہ بھی موجود ہے کہ دہشت گردوں یا قومی تحریک کے ارکان سے مذاکرات کیے جائیں۔ انھوں نے کہا کہ دیگر ممالک میں بھی سیاسی جماعتوں سے مذاکرات کیے گئے ہیں، حتیٰ کہ ان جماعتوں سے بھی جو پرتشدد ہو گئی تھیں۔

    خواجہ آصف نے کہا کہ یہ لوگ یومیہ تیل کی سمگلنگ سے چار ارب روپے کما رہے تھے، اور ’بی ایل اے کے نام پر جرائم پیشہ عناصر ان سمگلرز کو تحفظ فراہم کر رہے ہیں۔‘ ان کے مطابق بلوچستان میں قبائلی عمائدین، بیوروکریسی اور علیحدگی پسند تحریک چلانے والوں کے درمیان گٹھ جوڑ موجود ہے۔

    وزیر دفاع نے مزید بتایا کہ گذشتہ دو روز کے دوران بلوچستان میں 177 دہشت گرد مارے گئے، جبکہ 16 سکیورٹی اہلکار اور 33 عام شہری ہلاک ہوئے۔

    اس سے قبل سیالکوٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا تھا کہ بلوچستان حملوں میں دو جگہ خواتین کو استعمال کیا گیا، جو لوگ گرفتار کیے گئے ہیں ان کے انکشافات سے ثابت ہوتا ہے کہ انڈیا ملوث ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ان لوگوں نے انسانی حقوق کا لبادہ بھی اوڑھ رکھا ہے، یہ لاپتا افراد کا معاملہ ٹوٹل فراڈ ہے، صرف ایک بیانیہ بنایا گیا ہے، ان کے زیادہ تر لوگ دبئی اور مسقط میں رہتے ہیں، یہ لوگ ریاستی دفاتر پر حملے کرتے ہیں۔

  15. بلوچستان حملے: چین کا پاکستان کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان

    چین، شہباز شریف

    ،تصویر کا ذریعہ@PMLN

    چین نے پاکستان کے صوبے بلوچستان میں حملوں کی مذمت کرتے ہوئے پاکستان کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

    پاکستان میں چین کے سفارتخانے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’چین ہر قسم کی دہشت گردی کی سختی سے مخالفت کرتا ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ، سماجی استحکام کو برقرار رکھنے اور اپنے لوگوں کو محفوظ رکھنے میں پاکستان کی حمایت جاری رکھے گا۔‘

  16. ایرانی صدر کی ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے امریکہ کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کی ہدایت

    Iran, USA

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اپنے ملک کے جوہری پروگرام پر امریکہ سے بات چیت شروع کرنے کی ہدایت دی ہے۔ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو ایران کے ساتھ معاہدے تک پہنچنے کی امید کا اظہار کیا تھا۔

    فارس نے ایک حکومتی ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ ’صدر مسعود پزشکیان نے امریکہ کے ساتھ بات چیت شروع کرنے کے بارے میں ہدایات دی ہیں۔‘

    انھوں نے مزید وضاحت دیے کہا کہ ’ایران اور امریکہ جوہری معاملے پر بات چیت کریں گے‘۔ یہی خبر سرکاری اخبار ’ایران‘ اور اصلاح پسند اخبار ’شارغ‘ نے بھی دی تھی۔

    ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل باغی نے پیر کے روز کہا کہ تہران امریکہ کے ساتھ کشیدگی سے نمٹنے کے لیے مختلف سفارتی طریقوں کی تفصیلات پر غور کر رہا ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ایران آنے والے دنوں میں نتائج تک پہنچنے کی امید رکھتا ہے۔

    ایران نے پیر کو اس بات کی تردید کی کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے جوہری پروگرام پر مذاکرات کے لیے کوئی ڈیڈ لائن مقرر کی تھی۔

    ِایران، چین

    ،تصویر کا ذریعہMike Blake/Reuters

    ایران کے لیے ڈیڈ لائن مقرر کرنے کے حوالے سے ٹرمپ کے بیان سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ’ایران سفارتی عمل میں ہمیشہ دیانت اور سنجیدگی کے ساتھ کام کرتا ہے، لیکن وہ کبھی الٹی میٹم قبول نہیں کرتا۔ اس لیے اس دعوے کی تصدیق نہیں کی جا سکتی۔‘

    حالیہ ہفتوں میں، ٹرمپ نے ایران کے مظاہروں پر خونریز کریک ڈاؤن کے جواب میں تہران کے خلاف فوجی کارروائی کی دھمکی دی ہے، جس سے ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    اس تناظر میں امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی کو مضبوط کرتے ہوئے طیارہ بردار بحری جہاز ’ابراہام لنکن‘ کو خطے میں بھیج دیا ہے جبکہ امریکی سینٹرل کمانڈ نے اعلان کیا ہے کہ وہ بحیرہ عرب میں کام کر رہا ہے۔

    ایسی فوجی نقل و حمل نے علاقائی ممالک کے درمیان جنگ چھڑنے کے بارے میں خدشات کو جنم دیا ہے جس سے خطے کی صورتحال مزید خراب ہو جائے گی، جس سے ان میں سے بہت سے ممالک کو واشنگٹن اور تہران کے درمیان ثالثی پر کام کرنے پر آمادہ کیا گیا ہے۔

    ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق خامنہ ای نے سخت الفاظ میں انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ ’امریکیوں کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ اگر انھوں نے جنگ شروع کی تو اس بار یہ علاقائی جنگ ہوگی۔‘‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ایران ’جنگیں شروع کرنے والا نہیں ہے اور نہ ہی کسی ملک پر حملہ کرنے کی کوشش کرتا ہے‘ لیکن اس بات پر زور دیا کہ ایرانی عوام کسی بھی فریق کو ’کچلنے والا دھچکا‘ دیں گے جو حملہ کرے گا یا ملک کو نقصان پہنچائے گا۔

  17. روس نے ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر محفوظ کرنے کی دوبارہ آمادگی ظاہر کر دی

    Iran, Russia

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    روس نے ایران کے گرد موجود کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اپنی کوششوں کو جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے اور ایک بار پھر ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر کو محفوظ کرنے کی آمادگی ظاہر کی ہے۔

    کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف سے جب یہ سوال کیا گیا کہ کیا ماسکو تہران اور واشنگٹن کے ساتھ ایران کے افزودہ یورینیم کو روس میں ذخیرہ کرنے کے امکان پر بات کر رہا ہے، تو انھوں نے جواب دیا کہ ’یہ معاملہ کافی عرصے سے ایجنڈے میں شامل ہے۔‘

    دمتری پیسکوف نے مزید کہا کہ روس اس وقت تمام فریقوں کے ساتھ رابطے جاری رکھے ہوئے ہے اور ایران کے گرد کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اپنی پوری توانائی سے کوشش کر رہا ہے۔

    آج ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی سے بھی پوچھا گیا کہ آیا ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری کے ماسکو کے دورے کے دوران افزودہ یورینیم کو روس منتقل کرنے کے حوالے سے کسی نئے معاہدے پر بات ہوئی ہے یا نہیں۔

    انھوں نے جواب دیا کہ ’یہ قیاس آرائی پہلے بھی کی گئی تھی۔۔۔ افزودہ مواد کے بارے میں بات چیت ایک ایسا موضوع ہے جس پر لازمی طور پر مذاکرات میں فیصلہ کیا جاتا ہے۔ مذاکرات سے پہلے ہم نتیجہ کا اعلان نہیں کرتے۔ نتیجہ مذاکرات کے فریم ورک اور عمل کے دوران سامنے آتا ہے، نہ کہ پہلے سے طے کر کے پھر مذاکراتی عمل میں داخل ہوں۔‘

  18. خطے میں بھڑکنے والی آگ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو بھسم کردے گی: ایرانی مسلح افواج کے چیف آف سٹاف کی دھمکی

    ِایران

    ،تصویر کا ذریعہmehrnews

    ایرانی مسلح افواج کے چیف آف سٹاف عبدالرحیم موسوی کا کہنا ہے کہ ’دشمن کی ایک غلطی سے کوئی بھی امریکی محفوظ نہیں رہے گا اور خطے کی آگ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو بھسم کردے گی۔‘

    عبدالرحیم موسوی نے مسلح افواج کے یونٹوں میں سے ایک کے دورے کے دوران کہا کہ حکومت کے حامیوں نے ’حالیہ پیچیدہ، کثیر جہتی اور دہشت گردی کی جنگ میں دشمن کے اندازوں کو غلط ثابت کر دیا ہے۔‘

    ایران کی مسلح افواج کے چیف آف سٹاف نے دعویٰ کیا کہ 12 روزہ جنگ کے بعد ایران کے دفاعی امور ’مسلح افواج کے جارحانہ نظریے میں تبدیل ہو گئے ہیں، جو بجلی کی تیز رفتار اور وسیع پیمانے پر کارروائیوں کے نقطہ نظر کی بنیاد پر، منقطع اور کچلنے والی فوجی حکمت عملیوں پر مبنی ہیں۔

  19. اسرائیل نے رفح کراسنگ کھول دی مگر آمد و رفت کی سخت شرائط اور پیچیدہ طریقہ کار کے سبب فلسطینوں کی مشکلات برقرار

    Gaza

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کے دوران مکمل طور پر بند رہنے کے بعد پیر کو غزہ کی پٹی اور مصر کے درمیان رفح بارڈر کراسنگ کو دونوں سمتوں میں دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔ تاہم غزہ کے صحت حکام نے اسرائیلی طریقہ کار کو ’انتہائی مشکل اور پیچیدہ‘ قرار دیا ہے۔

    اسرائیلی حکام کے مطابق یورپی یونین کے بارڈر اسسٹنس مشن (ای یو بی اے ایم) کی ٹیموں کی آمد کے بعد رفح کراسنگ کو محدود پیمانے پر کھولا گیا ہے تاکہ رہائشیوں کو اندر اور باہر جانے کی اجازت دی جا سکے۔ یہ غزہ کی پٹی کا واحد زمینی راستہ ہے جو اسرائیل سے گزرے بغیر مصر سے جڑتا ہے۔

    مریضوں کے علاج میں تاخیر

    غزہ شہر کے الشفاء میڈیکل کمپلیکس کے ڈائریکٹر محمد ابو سلمیہ نے بی بی سی کو بتایا کہ اسرائیل نے صرف پانچ مریضوں کو کراسنگ کے ذریعے سفر کی اجازت دی ہے، ہر مریض کے ساتھ دو ساتھی ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ روزانہ پچاس مریضوں کو نکالنے کی رفتار سے 20 ہزار مریضوں کو علاج کے لیے برسوں لگ جائیں گے۔

    انھوں نے خبردار کیا کہ اس تاخیر سے مریضوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں، اور بتایا کہ اب تک بیرون ملک علاج کے انتظار میں 1300 سے زائد مریض ہلاک ہو چکے ہیں۔ وزارت صحت کے مطابق 4500 بچے، 4500 کینسر کے مریض اور 450 انتہائی نازک کیس فوری علاج کے منتظر ہیں۔

    سیاسی اور انتظامی پیچیدگیاں

    اسرائیلی چینل 12 کے مطابق پیر سے باضابطہ طور پر 150 افراد غزہ سے نکلیں گے اور 50 داخل ہوں گے۔ تاہم وزارت صحت نے کہا کہ اعلان کے باوجود اتوار کو کوئی آمدورفت نہیں ہو سکی۔

    حماس کے میڈیا آفس نے بتایا کہ 22 ہزار زخمی اور بیمار افراد کو بیرون ملک علاج کی ضرورت ہے جبکہ 80 ہزار فلسطینی غزہ واپس آنا چاہتے ہیں۔

    فضائی حملے اور انسانی بحران

    کراسنگ کے دوبارہ کھلنے کے موقع پر اسرائیل نے غزہ کے مختلف علاقوں میں فضائی حملے کیے جن میں شہری دفاع کے مطابق کم از کم 32 افراد ہلاک ہوئے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔

    اسرائیلی فوج نے کہا کہ یہ حملے رفح میں ایک سرنگ سے نکلنے والے جنگجوؤں کے جواب میں کیے گئے۔

    غزہ کی وزارت صحت کے مطابق جنگ بندی کے بعد 100 دنوں میں اسرائیلی حملوں میں 500 سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ اسی دوران اسرائیل نے اعلان کیا کہ وہ غزہ میں ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز کے آپریشن کو روک دے گا، جس پر تنظیم نے کہا کہ یہ فیصلہ امداد روکنے کا ’بہانہ‘ ہے۔

    انسانی تنظیموں پر سخت شرائط

    اسرائیل نے حالیہ مہینوں میں انسانی ہمدردی کی تنظیموں کے لیے شرائط مزید سخت کر دی ہیں۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ مارچ تک 37 غیر سرکاری تنظیموں کو غزہ میں کام کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جبکہ فلسطینی عملے پر بھی سخت نگرانی عائد کی گئی ہے۔

  20. وزیر اعظم شہباز شریف کی یونیسکو کو کھیوڑہ سالٹ مائنز کو بھی عالمی ثقافتی ورثے میں شامل کرنے کی دعوت

    Shehbaz Sharif

    ،تصویر کا ذریعہApp

    پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں یونیسکو کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر خالد الاینانی سے ملاقات کے دوران پاکستان کے ثقافتی ورثے کے تحفظ پر اطمینان کا اظہار کیا اور کھیوڑہ سالٹ مائنز سمیت مزید مقامات کو عالمی ثقافتی ورثے میں شامل کرنے کی دعوت دی ہے۔

    اس موقع پر وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، وزیر سائنس و ٹیکنالوجی خالد حسین مگسی، وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب کھچی اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔

    وزیراعظم نے ڈاکٹر خالد الاینانی کو بطور ڈائریکٹر جنرل یونیسکو منتخب ہونے پر مبارکباد دی اور کہا کہ پاکستان جامع اور معیاری تعلیم کے فروغ، ثقافتی ورثے کے تحفظ اور عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے یونیسکو کی بنیادی اقدار کی پاسداری کے لیے پرعزم ہے۔ انھوں نے ’ایجوکیشن ایمرجنسی‘ جیسے اقدامات پر بھی روشنی ڈالی جن کا مقصد سکول جانے کی عمر کے بچوں کے داخلوں میں اضافہ ہے۔