آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

زیر تعمیر پُلوں پر حملے ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور نہیں کر سکتے: ایرانی وزیر خارجہ کا امریکی صدر کو جواب

کرج میں پُل پر حملے کا حوالہ دیتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ نے ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ: ’یہ (حملے) صرف انتشار کا شکار دشمن کی شکست اور اخلاقی زوال کو ظاہر کرتے ہیں۔‘ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پُل پر حملے کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کی تھی اور کہا تھا کہ: ایران کا ’سب سے بڑا پُل زمین بوس ہو گیا ہے، اب کبھی استعمال کے قابل نہیں رہے گا، آگے اور بھی بہت کچھ ہونے والا ہے۔‘

خلاصہ

  • برطانیہ کی سیکریٹری خارجہ ایویٹ کوپر نے کہا ہے کہ دنیا بھر کے ممالک آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانے کے لیے 'ہر ممکن سفارتی، معاشی اور مشترکہ اقدام' لینے کے لیے پُرعزم ہیں
  • تہران کے قریب واقع شہر کرج میں پل پر حملے کے نتیجے میں دو افراد ہلاک
  • امریکہ اور اسرائیل جنگ بند کریں: اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا مطالبہ
  • ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ 70 لاکھ ایرانیوں نے فوجی خدمات کے لیے رضاکارانہ طور پر خود کو پیش کیا ہے
  • آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانے کے لیے 40 ممالک کے وزرائے خارجہ کا آن لائن اجلاس۔ برطانوی وزیر خارجہ نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی بندش سے 'عالمی معاشی سلامتی کو نقصان' پہنچ رہا ہے
  • ایران نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز ان بحری جہازوں کے لیے کھلی ہے جن کا امریکہ اور اسرائیل سے 'تعلق نہیں‘

لائیو کوریج

  1. امریکہ ایران میں ’کام ختم کرنے کے لیے پرعزم‘ ہے: امریکی وزیرِ خارجہ

    امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے الجزیرہ کو بتایا کہ آبنائے ہرمز ’کسی نہ کسی طرح‘ کھل جائے گی۔

    ان کا کہنا تھا کہ ان کی توجہ اب بھی اپنے جنگی مقاصد پر مرکوز ہے، جنہیں وہ ’مہینوں میں نہیں بلکہ ہفتوں میں‘ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

    ان مقاصد میں ڈرون صلاحیتوں کو تباہ کرنا، ساتھ ہی ایران کی بحریہ اور فضائیہ کو ختم کرنا شامل ہے۔

    انھوں نے نیوز چینل کو بتایا کہ ’اب امریکہ اس کام کو مکمل کرنے کے لیے پرعزم ہے‘۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ کام ابھی کرنا ضروری تھا‘ کیونکہ اگر ایران مزید ہتھیار بنا لیتا تو مستقبل میں یہ زیادہ خطرناک ہو سکتا تھا۔

  2. امریکی وائٹ ہاؤس کی پریس بریفنگ کا خلاصہ

    امریکی وائٹ ہاؤں کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ کا اصرار ہے کہ امن مذاکرات جاری ہیں، اگرچہ ایرانی حکام اس سے انکار کرتے ہیں۔

    کیرولین لیویٹ نے کہا:

    فوجی کارروائی پر:

    • امریکہ اب تک 11,000 سے زیادہ فوجی اہداف کو نشانہ بنا چکا ہے اور بحریہ کو ’تباہ‘ کر دیا ہے
    • لیویٹ نے کہا کہ ٹرمپ نے ایران میں فوج بھیجنے کے امکان کو رد نہیں کیا، تاہم سفارت کاری اب بھی ٹرمپ کی پہلی ترجیح ہے

    امن مذاکرات پر:

    • لیویٹ نے زور دیا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات اچھی طرح جاری ہیں اور ابھی بھی چل رہے ہیں
    • انھوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران اس ’موقعے‘ کو مسترد کرتا ہے تو فوج تیار ہے کہ ٹرمپ کو ’ہر آپشن‘ فراہم کیا جائے گا تاکہ ایران کو ’سنگین قیمت‘ چکانی پڑے
    • انھوں نے کہا کہ جن ایرانیوں سے امریکہ بات کر رہا ہے وہ پسِ پردہ پچھلے رہنماؤں کے مقابلے میں ’زیادہ معقول‘ نظر آتے ہیں
    • ایک طرف ایرانی حکام مسلسل کہتے ہیں کہ وہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات نہیں کر رہے، لیویٹ نے اصرار کیا کہ ایاس ہو رہا ہے اور ’امریکی عوام اتنے سمجھدار ہیں کہ دہشت گرد حکومت کے الفاظ پر یقین نہ کریں‘۔
  3. امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے، توانائی ڈھانچے پر حملے 10 دن کے لیے ’مؤخر‘ کیے: وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ

    امریکہ کے وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ نے ایک میڈیا بریفنگ میں کہا ہے کہ ایران میں امریکی آپریشن ’کامیابی سے جاری‘ ہے۔

    بریفنگ کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ’اب تک 11,000 سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے، جس سے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو ’زیادہ دباؤ ڈالنے کی صلاحیت‘ ملی ہے اور ایران کی دفاعی و جارحانہ صلاحیتیں مفلوج ہو گئی ہیں۔‘

    انھوں نے دعوی کیا کہ ’ایران کے بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملے تقریباً 90 فیصد کم ہو گئے ہیں۔ امریکی کارروائی نے ایران کی بحریہ کو بھی ’تباہ‘ کر دیا ہے، جس میں 150 سے زیادہ جہاز تباہ کیے گئے، جن میں ان کے سب سے بڑے جہازوں کا 92 فیصد شامل ہے۔‘

    وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایران کے توانائی ڈھانچے پر طے شدہ حملوں کو 10 روز کے لیے ’مؤخر‘ کر دیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’یہ ایسا موقع ہے کہ ایرانی حکومت امریکہ کے ساتھ ایک اچھا معاہدہ کرے۔‘

    لیویٹ نے مزید کہا کہ اگر ایران اس موقع کو رد کرتا ہے تو امریکی فوج ’تیار ہے‘۔

    انھوں نے خبردار کیا کہ امریکہ ’ہر ممکنہ آپشن‘ اختیار کررے گا اور ’ایرانی حکومت سنگین قیمت ادا کرے گی۔‘

    لیویٹ نے ان رپورٹس پر بات کی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ ایرانی حکام امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی تردید کر رہے ہیں۔

    ان کے مطابق، ایرانی حکومت کی ’عوامی دکھاوا‘ اور میڈیا کی ’غلط رپورٹنگ‘ کے باوجود، امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے اور اچھی طرح آگے بڑھ رہی ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ’نجی سطح پر ہونے والی بات چیت عوامی سطح پر دکھائی جانے والی صورتحال سے مختلف ہوتی ہے۔‘

  4. گزشتہ روز کی چند اہم خبریں

    آج دن میں آگے بڑھنے سے قبل گزشتہ روزکی چند اہم خبروں پر ایک نظر ڈالتے ہیں:

    • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کے بعد کہ امریکہ ’زیادہ معقول‘ ایرانی حکومت سے بات کر رہا ہے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ انتظامیہ کو اس ’امکان‘ کے لیے تیار رہنا ہوگا کہ مذاکرات ناکام بھی ہو سکتے ہیں۔ امریکی ٹیلی وژن چینل اے بی سی کے پروگرام گڈ مارننگ امریکہ سے گفتگو میں روبیو نے یہ نہیں بتایا کہ امریکہ ایران میں بات کر کس سے رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر ان کے نام بتا دیے گئے تو شاید ایران میں دوسرے گروہوں سے انھیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔‘
    • اسرائیل کی وزارت صحت نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کے بعد سے اب تک اسرائیل میں چھ ہزار سے زیادہ افراد کو ہسپتال لایا گیا ہے۔ وزارت کے مطابق 121 مریض اب بھی زیر علاج ہیں جن میں سے ایک کی حالت نازک جبکہ 16 مریضوں کی حالت تشویش ناک ہے۔
    • ترکی نے دعویٰ کیا کہ نیٹو کے فضائی دفاعی نظام نے ایک بیلسٹک میزائل کو ’غیر مؤثر‘ بنا دیا ہے جو ترک فضائی حدود میں داخل ہوا تھا۔ ایکس پر جاری بیان میں ترک وزارت دفاع نے کہا: ’اس بات کا تعین ہوا کہ میزائل ایران سے داغا گیا تھا۔‘ جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک یہ چوتھی بار ہے جب ترکی نے میزائل روکنے کا دعویٰ کیا ہے۔
    • امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ سے خلیجی ممالک پر معاشی دباؤ بھی بڑھتا جا رہا ہے۔ اسی کے پیش نظر اردن نے سرکاری عمارات میں ایئر کنڈیشنر کے استعمال پر پابندی لگا دی ہے۔ اردن کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق ملک کے وزیر اعظم جعفر حسن نے ایک ہدایت نامہ جاری کیا جس کے تحت سرکاری گاڑیوں کا استعمال بھی محدود کیا جا رہا ہے اور دو ماہ تک سرکاری وفود اور کمیٹیوں کے بین الاقوامی دوروں پر بھی پابندی لگائی گئی ہے۔
  5. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔