ایسا لگتا ہے کہ ٹرمپ کے خطاب نے عالمی تیل منڈیوں
کو اس بات پر مطمئن نہیں کیا کہ اہم آبنائے ہرمز کی شپنگ میں خلل جلد ختم ہو جائے
گا۔
صدر کے خطاب سے پہلے بینچ مارک برینٹ کروڈ کی قیمت
تقریباً 100 ڈالر فی بیرل تھی۔
خطاب کے دوران اس میں اتار چڑھاؤ آیا، لیکن اب یہ
اوپر جا رہی ہے اور اس وقت تقریباً چار فیصد اضافے کے ساتھ 105 اعشاریہ 38 ڈالر تک
پہنچ چکی ہے۔
یہ آبنائے عالمی معیشت کے لیے نہایت اہم ہے کیونکہ
دنیا کی تقریباً 20 فیصد توانائی کی ترسیل عام طور پر اسی تنگ سمندری راستے سے ہوتی
ہے۔
یہ اہم آبی راستہ 28 فروری سے جاری تنازع کے بعد
مؤثر طور پر بند ہے، جب ایران نے امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملوں کے جواب میں
اس گزرگاہ سے گزرنے والے جہازوں پر حملے کی دھمکی دی۔
تاہم دوسری جانب ٹرمپ کے خطاب کے ردعمل میں عالمی
تیل کی منڈیاں اوپر جا رہی ہیں تو امریکی سٹاک فیوچرز گر رہے ہیں، جو جمعرات کی
صبح وال سٹریٹ کے کم سطح پر کھلنے کی نشاندہی کرتا ہے۔
ڈاؤ جونز اور ایس اینڈ پی 500 کے فیوچرز تقریباً
صفر اعشاریہ سات فیصد نیچے ہیں، جبکہ نیسڈیک کے فیوچرز تقریباً ایک فیصد تک گر چکے
ہیں۔
سٹاک مارکیٹ فیوچرز ایسے معاہدے ہوتے ہیں جو سرمایہ
کاروں کو مستقبل کی کسی مقررہ تاریخ پر ایک طے شدہ قیمت پر سٹاک انڈیکس خریدنے یا
فروخت کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔
یہ اس بات پر ایک قسم کی شرط ہوتے ہیں کہ سرمایہ
کار سمجھتے ہیں مارکیٹ کس سمت میں جائے گی اور ان کی قیمتیں مارکیٹ کے رجحان کی
عکاسی کرتی ہیں۔