امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے ایک ماہ بعد
بھی یہ سمجھنا مشکل ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو کس بنیاد پر جنگ سے متعلق فیصلے کر رہے
ہیں۔ تاہم یہ واضح ہے کہ اُن کی نظر تیل کی منڈی پر ضرور ہے۔
جنگ کے آغاز کے بعد ابتدائی دنوں میں امریکی صدر کے
ایک بیان یا سوشل میڈیا پوسٹ کے بعد تیل کی قیمتوں میں بڑی تبدیلی آتی تھی کیونکہ سرمایہ
کار اُن کی سوشل میڈیا پوسٹس سے اس بات کے اشارے تلاش کرتے تھے کہ آیا مستقبل قریب
میں تنازع بڑھ سکتا ہے یا ختم ہو سکتا ہے۔ لیکن حالیہ دنوں میں سرمایہ کاروں نے اُن
کے بیانات کی ساکھ پر بھی شکوک و شبہات ظاہر کرنا شروع کر دیے ہیں۔
28 فروری
(ایران پر حملے کا دن) سے پہلے تیل کی قیمت تقریباً 72 ڈالر فی بیرل تھی۔ نو مارچ کو
یہ قیمت 119.50 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی اور منگل (آج) کے روز یہ 113 ڈالر سے کچھ کم ہے۔
گذشتہ ایک ماہ کے دوران ٹرمپ اور تیل کی عالمی منڈی
کے درمیان کئی مواقع پر ردعمل دیکھنے کو ملا:
-
9
مارچ: ٹرمپ نے امید دلائی کہ جنگ طویل نہیں
ہو گی، چنانچہ ان کے اس بیان کے بعد تیل کی قیمت90 ڈالر فی بیرل سے نیچے آ گیا
-
13-16
مارچ: ٹرمپ کے ایران سے متعلق متعلق بیانات کا کوئی فوری اثر نہیں ہوا
-
20
مارچ: ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر اشارہ دیا کہ
جنگ اختتام کے قریب ہے
-
23
مارچ: ٹرمپ کے مثبت دعووں کے چند منٹ بعد ہی
تیل کی قیمت 13 فیصد گر گئی
-
25-27
مارچ: امن مذاکرات مشکوک ہونے پر تیل کی قیمتیں دوبارہ بڑھنے لگیں
ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر انرجی کی قیمتیں وسیع تر جغرافیائی اور معاشی خطرات کی علامت بن گئی ہیں۔ کوئلٹر شیویٹ کے انویسٹمنٹ مینیجر جوناتھن ریمونڈ کہتے ہیں کہ جب ٹرمپ کی زبان جارحانہ ہوتی ہے تو قیمتیں بڑھتی ہیں اور جب وہ نرم لہجہ اختیار کرتے ہیں تو قیمتیں کم ہو جاتی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ سرمایہ کار حقیقی غیر یقینی صورتحال کو قیمت میں شامل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ’مارکیٹ بظاہر غیر مستحکم یا الجھی ہوئی لگتی ہے، لیکن اصل میں وہ حقیقی وقت میں خطرات کو سنبھال رہی ہے، اور تیل اس کے مرکز میں ہے۔‘
بہنسن گروپ کے برائن سزیٹل کے مطابق بعض اوقات ٹرمپ کے بیانات پالیسی کے بجائے تیل کی قیمتوں کو متاثر کرنے کے لیے ہوتے ہیں۔ ’جیسا کہ کہا جاتا ہے، جنگ کا پہلا شکار سچائی ہوتی ہے۔ میرا خیال ہے کہ مذاکرات کے بارے میں مثبت یا منفی بیانات زیادہ تر تیل کی قیمت کو اوپر نیچے کرنے کے لیے ہیں۔‘
جمعرات کو، جب امریکی سٹاک مارکیٹ نے ایران جنگ کے آغاز کے بعد سب سے بڑی گراوٹ دیکھی، تو ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات ’بہت اچھے‘ جا رہے ہیں اور انھوں نے ایران کی توانائی کے ڈھانچے پر حملے چھ اپریل تک مؤخر کر دیے ہیں۔ لیکن اس اعلان کے باوجود تیل کی قیمت پھر بھی بڑھتی رہیں۔
ریبو بینک کی جین فولی کے مطابق جنگ کے طوالت کے ساتھ ساتھ مارکیٹ کا ردعمل ’زیادہ محتاط‘ ہوتا جا رہا ہے کیونکہ ٹرمپ کی یقین دہانیوں اور ایران کی خاموشی کے درمیان ’بڑا خلا‘ موجود ہے۔ ’بہت سے سرمایہ کار تنازع کے جلد خاتمے کو نہیں دیکھ پا رہے ہیں اور مارکیٹ اور سرمایہ کار بدستور پریشان ہے۔‘
اے جے بیل کے رس مولڈ کا کہنا ہے کہ مارکیٹ ٹرمپ کے اس رویے کی عادی ہو گئی ہے کہ وہ سیاسی یا معاشی دباؤ کے وقت اکثر اپنی حکمتِ عملی بدل لیتے ہیں۔ ’اب شکوک و شبہات، بلکہ کھلی بدگمانی بھی بڑھتی جا رہی ہے۔‘