امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے، توانائی ڈھانچے پر حملے 10 دن کے لیے ’مؤخر‘ کیے: کیرولین لیویٹ

امریکہ کے وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ نے ایک میڈیا بریفنگ میں کہا ہے کہ ایران میں امریکی آپریشن ’کامیابی سے جاری‘ ہے۔ انھوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے ایران کے توانائی ڈھانچے پر طے شدہ حملوں کو 10 روز کے لیے ’مؤخر‘ کر دیا ہے اور ’یہ ایسا موقع ہے کہ ایرانی حکومت امریکہ کے ساتھ ایک اچھا معاہدہ کرے۔‘

خلاصہ

  • ٹرمپ نے ایران میں واقع جزیرے خارگ پر قبضے کا عندیہ دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ ایرانی تیل حاصل کر سکتے ہیں
  • ایشیائی منڈیوں میں کاروبار کے آغاز پر تیل کی قیمتیں 115 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہیں۔
  • ایران نے دھمکی دی ہے کہ وہ جوابی حملوں کا دائرہ وسیع کرے گا جس میں یونیورسٹیوں اور امریکی و اسرائیلی حکام کے گھروں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
  • تہران کا کہنا ہے کہ وسطی شہر اسفہان کی ایک یونیورسٹی پر اس ہفتے کے آخر میں دوسری بار حملہ کیا گیا ہے۔
  • ایرانی حکومت کے مطابق توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنائے جانے کے بعد تہران کے زیادہ تر علاقوں میں بجلی بحال کر دی گئی ہے۔ جبکہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ ملک کے جنوب میں ایک صنعتی مقام پر ایرانی حملے سے لگی آگ پر قابو پا لیا گیا ہے۔
  • پاکستان کے وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ملک آئندہ چند دنوں میں امن مذاکرات کی میزبانی کی تیاری کر رہا ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ ایران یا امریکہ نے شرکت کی منظوری دی ہے یا نہیں۔

لائیو کوریج

  1. گزشتہ روز کی چند اہم خبروں کا خلاصہ

    دن میں آگے بڑھنے سے قبل گزشتہ روز کی چند اہم خبروں پر ایک نظر ڈالتے ہیں

    • یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے روس پر الزام لگایا ہے کہ وہ ڈیاگو گارشیا میں امریکہ-برطانیہ کے مشترکہ اڈے اور خلیج میں واقع امریکہ اور برطانیہ کے فوجی اڈوں پر حملہ کرنے میں ایران کو مدد فراہم کر رہا ہے۔
    • لبنانی ذرائع ابلاغ کے مطابق جنوبی لبنان میں میڈیا کی ایک گاڑی پر اسرائیلی حملے میں تین لبنانی صحافی مارے گئے ہیں۔ مارے جانے والوں میں علی شعیب، فاطمہ اور محمد فتونی شامل ہیں۔ علی شعیب عسکریت پسند گروپ حزب اللہ کے زیر انتظام نیٹ ورک المنار ٹی وی کے رپورٹر تھے جبکہ فاطمہ اور محمد فتونی المیادین کے نامہ نگار تھے۔ یہ تینوں جنوبی لبنان کے قصبے جزین میں ہونے والے اسرائیلی فضائی حملے میں ہلاک ہوئے ہیں۔
    • یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے سعودی عرب اور قطر کے ساتھ الگ الگ دفاعی معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔ سعودی عرب کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے تحت یوکرین سعودی عرب کے ساتھ ڈرون سے دفاع کی اپنی مہارت اور ٹیکنالوجی شیئر کرے گا۔
    • ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق ترکی کے وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ ان کا ملک مشرق وسطیٰ کی جنگ کے حل کے لیے ’تعمیری کردار‘ ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
  2. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔