امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے، توانائی ڈھانچے پر حملے 10 دن کے لیے ’مؤخر‘ کیے: کیرولین لیویٹ

امریکہ کے وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ نے ایک میڈیا بریفنگ میں کہا ہے کہ ایران میں امریکی آپریشن ’کامیابی سے جاری‘ ہے۔ انھوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے ایران کے توانائی ڈھانچے پر طے شدہ حملوں کو 10 روز کے لیے ’مؤخر‘ کر دیا ہے اور ’یہ ایسا موقع ہے کہ ایرانی حکومت امریکہ کے ساتھ ایک اچھا معاہدہ کرے۔‘

خلاصہ

  • ٹرمپ نے ایران میں واقع جزیرے خارگ پر قبضے کا عندیہ دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ ایرانی تیل حاصل کر سکتے ہیں
  • ایشیائی منڈیوں میں کاروبار کے آغاز پر تیل کی قیمتیں 115 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہیں۔
  • ایران نے دھمکی دی ہے کہ وہ جوابی حملوں کا دائرہ وسیع کرے گا جس میں یونیورسٹیوں اور امریکی و اسرائیلی حکام کے گھروں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
  • تہران کا کہنا ہے کہ وسطی شہر اسفہان کی ایک یونیورسٹی پر اس ہفتے کے آخر میں دوسری بار حملہ کیا گیا ہے۔
  • ایرانی حکومت کے مطابق توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنائے جانے کے بعد تہران کے زیادہ تر علاقوں میں بجلی بحال کر دی گئی ہے۔ جبکہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ ملک کے جنوب میں ایک صنعتی مقام پر ایرانی حملے سے لگی آگ پر قابو پا لیا گیا ہے۔
  • پاکستان کے وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ملک آئندہ چند دنوں میں امن مذاکرات کی میزبانی کی تیاری کر رہا ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ ایران یا امریکہ نے شرکت کی منظوری دی ہے یا نہیں۔

لائیو کوریج

  1. پاکستان میں ’سمارٹ لاک ڈاؤن‘ سے متعلق نوٹیفیکیشن جعلی قرار

    پاکستانی سوشل میڈیا پر گذشتہ روز سے ایک نوٹیفیکیشن گردش کر رہا ہے جس میں ملک بھر میں سنیچر اور اتوار کے دنوں مکمل لاک ڈاؤن کا ذکر ہے۔ تاہم وزارت اطلاعات کے مطابق یہ نوٹیفیکیشن جعلی ہے۔

    یہ نوٹیفیکیشن سنیچر کے روز کئی صحافیوں کی طرف سے بھی شیئر کیا گیا۔ اس میں کہا گیا ہے کہ سنیچر سے لے کر اتوار تک لاک ڈاؤن نافذ ہوگا جس دوران تمام مارکیٹس اور کاروباری سرگرمیوں پر پابندی عائد ہو گی۔ جبکہ شادی کی تقریبات پر بھی پابندی ہوگی اور موٹروے بھی بند رکھی جائے گی۔

    مگر ایکس پر ایک بیان میں وزارت اطلاعات نے نوٹیفیکیشن کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ یہ جعلی ہے۔ اس نے خبردار کیا کہ ’آپ کی ایک شیئر معاشرے میں غلط فہمی پھیلا سکتی ہے۔‘

    خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے مقامی ذرائع ابلاغ کی خبروں میں کہا گیا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران وفاقی حکومت توانائی کے بحران سے نمٹنے کے لیے لاک ڈاؤن کی تجویز پر بھی غور کر رہی ہے۔

  2. تہران میں اسرائیلی بمباری کی اطلاعات

    ہمیں ابھی یہ اطلاع موصول ہوئی ہے کہ اسرائیل نے ایران کے اندر نئے فضائی حملے شروع کر دیے ہیں۔

    اسرائیلی فوج (آئی ڈی ایف) نے ٹیلیگرام چینل پر ایک بیان میں کہا ہے کہ ’آئی ڈی ایف اس وقت تہران بھر میں ایرانی دہشت گرد حکومت کے فوجی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنا رہی ہے۔‘

  3. آسٹریلیا میں ایندھن پر عائد ٹیکس نصف کر دیا گیا

    آسٹریلیا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    آسٹریلیا نے اعلان کیا ہے کہ عوام کے گھریلو اخراجات کم رکھنے کے لیے جون کے آخر تک ایندھن پر لگنے والا ٹیکس (فیول ایکسائز) نصف کر دیا جائے گا۔

    آسٹریلوی حکومت یہ ایکسائز پیٹرول پمپ پر ایندھن کی فروخت پر عائد کرتی ہے۔ اسے پیٹرول کے لیے 26.3 سینٹ فی لیٹر کم کیا گیا ہے۔

    آسٹریلوی وزیرِ اعظم نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ’ہم تین ماہ کے لیے فیول ٹیکس آدھا کر رہے ہیں تاکہ آپ کو فیول ٹینک بھرتے وقت کم پیسے خرچ کرنے پڑیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’بیرونِ ملک جاری تنازعے نے ملک میں قیمتوں کو بڑھا دیا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ آسٹریلوی عوام دباؤ محسوس کر رہے ہیں۔‘

    آسٹریلیا کی دو ریاستیں وِکٹوریا اور تسمانیہ عارضی طور پر عوام کو سفر سے باز رکھنے اور ڈرائیونگ میں کمی لانے کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ مفت کر رہی ہیں تاکہ شہریوں کو بلند ایندھن قیمتوں کا بوجھ کم محسوس ہو۔

  4. ایشیائی منڈیوں میں مندی میں رجحان

    ایشیائی سٹاک مارکیٹس میں پیر کی صبح کاروبار کے آغاز پر نمایاں کمی دیکھی گئی ہے کیونکہ ایک ماہ میں تیل کی قیمتیں ریکارڈ اضافے کی جانب بڑھتی دکھائی دے رہی ہیں۔

    جاپان کے نکیئی 225 انڈیکس میں 4.5 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ جنوبی کوریا کی کوسپی مارکیٹ بھی 4.3 فیصد گر گئی۔ دونوں ملکوں کی معیشتیں مشرقِ وسطیٰ سے آنے والی توانائی پر بھاری انحصار رکھتی ہیں اسی لیے تیل کی بڑھتی قیمتوں نے ان کی سٹاک مارکیٹوں پر فوری اثر ڈالا ہے۔

    آسٹریلیا کا اے ایس ایکس 200 انڈیکس بھی 1.4 فیصد نیچے آیا۔

    تیل کی قیمتیں اس وقت سے مسلسل بڑھ رہی ہیں جب ایران کی جنگ ہفتے کے آخر میں شدت اختیار کر گئی اور یمن کے ایران نواز حوثی عسکریت پسند بھی لڑائی میں شامل ہو گئے۔ جبکہ مزید امریکی فوجی مشرقِ وسطیٰ پہنچے ہیں۔

    برینٹ کروڈ کی قیمت ایشیا میں ابتدائی کاروبار کے دوران تین فیصد اضافے کے ساتھ 115 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی۔

    امریکہ میں فروخت ہونے والا خام تیل بھی تقریباً 3 فیصد بڑھ کر 102.50 ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔

  5. نیتن یاہو کا اسرائیلی فوج کو لبنان میں ’سکیورٹی زون‘ وسیع کرنے کا حکم

    لبنان

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ انھوں نے جنوبی لبنان میں موجود اُس ’سیکورٹی زون‘ کو مزید وسعت دینے کا حکم دیا ہے جسے وہ ’موجودہ حفاظتی علاقہ‘ قرار دیتے ہیں۔

    اسرائیلی فوج (آئی ڈی ایف) کی شمالی کمان کے ہیڈکوارٹر کے دورے کے دوران نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ اس اقدام کا مقصد حزب اللہ کی جانب سے دراندازی کے خطرے کو مکمل طور پر روکنا اور اینٹی ٹینک میزائلوں کی فائرنگ کو سرحد سے دور دھکیلنا ہے۔

    انھوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ توسیع اسی زون کے اندر ہے یا نہیں۔ اس کے بارے میں گذشتہ ہفتے اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا تھا کہ اب یہ دریائے لیطانی تک پھیلا دیا جائے گا اور اس وقت تک کسی لبنانی شہری کو اپنے گھر میں رہنے کی اجازت نہیں ہوگی جب تک حزب اللہ کی جانب سے شمالی اسرائیل کو لاحق خطرہ پوری طرح ختم نہیں ہو جاتا۔

    کاٹز کا بیان لبنان میں اسرائیلی حکومت کے عزائم کے بارے میں اب تک کا سب سے سخت موقف سمجھا جا رہا ہے۔ یہ ایسا قدم ہے جس سے ملک کا تقریباً دسواں حصہ اسرائیلی کنٹرول میں آ جاتا ہے۔

    اس زون کی حد بندی اور اسے ’بفر‘ علاقہ قرار دینا اُن دنوں کی یاد دلاتا ہے جب 1985 سے 2000 تک اسرائیل نے جنوبی لبنان کے علاقے پر قبضہ کیے رکھا تھا۔

    اس علاقے میں اسرائیلی افواج اور حزب اللہ کے جنگجوؤں کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔

    آئی ڈی ایف نے کہا ہے کہ حالیہ کارروائیوں میں گروہ کے کئی ارکان مارے گئے ہیں جبکہ ایک اور اسرائیلی فوجی کی ہلاکت کی بھی تصدیق کی گئی ہے۔ یہ لبنان میں اسرائیل کی تازہ پیش قدمی کے بعد ہلاک ہونے والا پانچواں اسرائیلی فوجی ہے۔

  6. ایران میں نظام کی تبدیلی ہو چکی ہے، ٹرمپ کا دعویٰ

    ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایئر فورس ون میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کے خیال میں ایران میں نظام کی تبدیلی ہو چکی ہے۔

    یہ وہی مؤقف ہے جو انھوں نے گذشتہ ہفتے فاکس نیوز کو دیے انٹرویو میں بھی دہرایا تھا جہاں ان کا کہنا تھا کہ ’آپ کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے پاس رجیم چینج ہے کیونکہ وہ مارے جا چکے ہیں۔‘

    طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ’اگر آپ دیکھیں تو رجیم چینج پہلے ہی ہو چکی ہے کیونکہ پہلی حکومت مکمل طور پر ختم کر دی گئی، تباہ کر دی گئی، وہ سب مر چکے ہیں۔

    ’دوسری حکومت زیادہ تر ختم ہو چکی ہے اور تیسری حکومت میں ہم جن لوگوں سے نمٹ رہے ہیں وہ پہلے سے بالکل مختلف ہیں۔ ایک بالکل نیا گروہ ہے اس لیے میں اسے رجیم چینج سمجھوں گا۔ اور صاف بات یہ ہے کہ وہ کافی معقول رہے ہیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’تو میرے خیال میں ہمارے پاس رجیم چینج ہے، اس سے بہتر آپ اور کیا کر سکتے ہیں؟‘

    ٹرمپ کے مطابق ’وہ حکومت جو واقعی بُری تھی، بہت بُری۔۔۔ سب ختم ہو چکے ہیں، مر چکے ہیں، سوائے ایک کے جس میں شاید کچھ جان باقی ہو۔‘

    وہ ایک ماہ طویل جنگ کے دوران ایرانی قیادت کے ہلاک ہونے والے ارکان کی جانب اشارہ کر رہے تھے۔

    ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ انھیں یقین ہے کہ ایران غالباً امریکہ کے ساتھ کسی معاہدے پر آمادہ ہو جائے گا۔

    انھوں نے کہا کہ ’میرے خیال میں ہم ان کے ساتھ معاہدہ کر لیں گے لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ نہ ہو۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’آپ ایران کے بارے میں کبھی نہیں جانتے کیونکہ ہم ان سے مذاکرات کرتے ہیں اور پھر ہمیں انھیں اڑا دینا پڑتا ہے۔‘

  7. امریکہ خارگ جزیرے پر قبضہ کر کے ایرانی تیل حاصل کر سکتا ہے: ٹرمپ

    ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فنانشل ٹائمز کو دیے انٹرویو میں کہا ہے کہ وہ ’ایران کا تیل لے سکتے ہیں‘ اور ملک میں تیل کے بڑے مرکز خارگ جزیرے پر قبضہ بھی کر سکتے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’سچ یہ ہے کہ میرا پسندیدہ آپشن یہ ہے کہ ایران کا تیل لے لیا جائے لیکن امریکہ میں کچھ بیوقوف لوگ کہتے ہیں ’آپ ایسا کیوں کریں گے؟‘ وہ بیوقوف لوگ ہیں۔‘

    ٹرمپ نے عندیہ دیا کہ اس اقدام کا مطلب خارگ جزیرے پر کنٹرول حاصل کرنا بھی ہو سکتا ہے۔

    ان کے بقول ’شاید ہم خارگ جزیرہ لے لیں، شاید نہ لیں۔ ہمارے پاس بہت سے آپشن موجود ہیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ اس کا مطلب یہ بھی ہوگا کہ امریکہ کو وہاں ’کچھ عرصے کے لیے موجود رہنا پڑے گا۔‘

    جب ان سے جزیرے پر ایرانی دفاع کے بارے میں پوچھا گیا تو ٹرمپ نے کہا کہ ’میرا نہیں خیال کہ ان کے پاس کوئی دفاع ہے۔ ہم اسے بہت آسانی سے لے سکتے ہیں۔‘

    ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں مزید 3,500 امریکی فوجی پہنچے ہیں اور خدشہ ہے کہ کشیدگی میں اضافے سے امریکی فورسز ایرانی حملوں کے خطرے سے دوچار ہو سکتی ہیں۔

    ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ پاکستانی ثالثی کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات مثبت انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں تاہم انھوں نے اس بارے میں کچھ نہیں کہا کہ کیا جنگ بندی کا معاہدہ جلد ممکن ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’کافی تیزی سے ایک معاہدہ ہو سکتا ہے۔‘

    ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ’تین ہزار اہداف رہتے ہیں۔ ہم ے 13 ہزار اہداف پر بمباری کی ہے۔‘

    انھوں نے اس جانب بھی اشارہ کیا کہ ایران نے پاکستانی پرچم بردار جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی ہے جس کی ان کے بقول ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر غالیباف نے اجازت دی۔

    وہ کہتے ہیں کہ مذاکرات ’بہت اچھے جا رہے ہیں۔‘

  8. اب تک کی اہم خبریں

    • ایران کے خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹرز کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے دھمکی دی ہے کہ ایران کی مسلح افواج خطے میں موجود امریکی اور اسرائیلی ’کمانڈروں اور سیاسی حکام کے گھروں‘ کو نشانہ بنائیں گی۔
    • اسرائیلی دفاعی افواج نے کہا ہے کہ وہ تہران میں متعدد اہداف پر حملے کر رہی ہیں۔ شہر میں زوردار دھماکوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
    • ایران کی وزارتِ توانائی کے مطابق ملک کے ’بجلی کے انفراسٹرکچر‘ پر حملوں کے باعث تہران اور البرز کے بعض علاقوں میں بجلی معطل ہے تاہم زیادہ تر علاقوں میں بحالی ہو چکی ہے۔
    • جنوبی اسرائیل میں نیوت حوواو صنعتی زون میں لگی بڑی آگ پر قابو پا لیا گیا ہے، جہاں ’خطرناک مواد کے واقعے‘ کا اعلان کیا گیا تھا۔ آئی ڈی ایف کا کہنا ہے کہ یہ آگ ممکنہ طور پر میزائل کے ٹکڑے کے باعث لگی۔
    • مسلسل حملوں کے تبادلے کے باوجود پاکستان کے وزیرِ خارجہ کے مطابق ایران اور امریکہ نے امن مذاکرات پر ’اعتماد‘ کا اظہار کیا ہے۔
    • لبنان میں ایک امریکی یونیورسٹی نے ورچول طریقے سے تدریسی سرگرمیاں شروع کر دی ہیں کیونکہ ایرانی پاسداران انقلاب نے امریکی اور اسرائیلی جامعات کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔
    • لبنان میں ان تین لبنانی صحافیوں کی آخری رسومات ادا کی جا رہی ہیں جو ایک اسرائیلی فضائی حملے میں ہلاک ہوئے۔
    • خلیج کے مختلف ممالک میں بھی حملوں کی اطلاعات ہیں، جن میں کویت شامل ہے جہاں فوج کے 10 اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ سعودی عرب میں سامنے آنے والی تصاویر میں ایک امریکی فضائی اڈے پر امریکہ کا تباہ حال فوجی طیارہ دکھائی دیتا ہے۔
  9. تیل کی قیمتوں میں تیزی

    ایران جنگ کو شروع ہوئے ایک ماہ سے زیادہ عرصہ ہو گیا ہے اور اب پیر کو ایشیا کی منڈیوں میں کاروبار کے آغاز پر تیل کی قیمتیں 115 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہیں۔

    برینٹ کروڈ کی قیمت اس وقت 115.84 ڈالر ہے جو 2.9 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔ 28 فروری کو امریکی و اسرائیلی حملے قبل تیل کی قیمت 72 ڈالر فی بیرل کے لگ بھگ تھی۔

    گذشتہ ہفتے 19 مارچ کو قیمت 118 ڈالر تک پہنچی تھی اور جمعے کی دوپہر تک یہ 112 ڈالر سے کچھ کم پر تھی۔

  10. لبنان میں امن فوج کی پوزیشن کے نزدیک پروجیکٹائل گرنے سے ایک فوجی ہلاک، اقوامِ متحدہ

    لبنان میں اقوام متحدہ کی عبوری فورس کا کہنا ہے کہ جنوبی لبنان میں ادچیت القصیر میں فورس کی پوزیشن کے نزدیک ایک ’پروجیکٹائل کے پھٹنے کے نتیجے میں‘ امن فوج کا ایک اہلکار ہلاک جبکہ دوسرا شدید زخمی ہو گیا ہے۔

    ایکس پر جاری ایک بیان میں لبنان میں اقوام متحدہ کی عبوری فورس کا کہنا ہے کہ ’امن کے مقصد کی خدمت کرتے ہوئے کسی کو بھی اپنی جان سے ہاتھ نہیں دھونا چاہیے۔‘

    فورس کا کہنا ہے کہ ابھی انھیں اس بارے میں اطلاع نہیں کہ یہ پروجیکٹائل کہاں سے آیا تھا اور اس متعلق تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

    اس سے قبل عالمی ادارہ صحت کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اتوار کو جنوبی لبنان میں ایک ایمبولینس پر حملے میں طبی عملے کا ایک رکن مارا گیا۔ انھوں نے اس کا الزام خطے میں ’اسرائیل کی بڑھتی ہوئی فوجی کارروائیوں‘ پر عائد کیا تھا۔

    ٹیڈروس اذانوم گریبیسس کا کہنا تھا کہ جنوبی لبنان میں طبی سازوسامان کے ایک گودام کو بھی حملہ کر کے تباہ کر دیا گیا ہے۔

  11. ایران کی خطے میں موجود امریکی اور اسرائیلی حکام کے گھروں کو نشانہ بنانے کی دھمکی

    ایران کے خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹر کے ترجمان ابراہیم ذولفقاری نے دھمکی دی ہے کہ ایرانی مسلح افواج خطے میں امریکی اور اسرائیلی ’کمانڈروں اور سیاسی عہدیداروں‘ کے گھروں کو نشانہ بنائے گی۔

    امریکہ اور اسرائیل پر ’مختلف شہروں میں ایرانی شہریوں کے رہائشی مکانات کو نشانہ بنانے‘ کا الزام لگاتے ہوئے انھوں اسے ایک ’جوابی اقدام‘ قرار دیا۔

    یاد رہے کہ اس جنگ کے دوران کئی ایرانی فوجی کمانڈر اور اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں جن میں ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای بھی شامل ہیں۔

  12. عراق میں یونیورسٹیوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے: امریکی سفارتخانہ کا انتباہ

    بغداد میں امریکی سفارتخانے نے خبردار کیا ہے کہ ایران اور اس کے اتحادی عراقی شہروں بغداد، سلیمانیہ اور دوہوک میں امریکی یونیورسٹیوں کے ساتھ ساتھ امریکہ سے منسلک سمجھی جانے والی دیگر یونیورسٹیوں کو بھی نشانہ بنا سکتے ہیں۔

    سفارت خانے کا کہنا ہے کہ ’ایران نے خاص طور پر مشرق وسطیٰ کے مختلف حصوں میں امریکی یونیورسٹیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔‘

    امریکی سفارتخانے کا کہنا ہے کہ ’ایران سے منسلک دہشت گرد ملیشیا نے عراق بھر بشمول عراقی کردستان میں امریکی شہریوں اور امریکہ سے وابستہ اہداف پر بڑے پیمانے پر حملے کیے ہیں۔

    سفارت خانے نے امریکیوں کو فوری طور پر عراق چھوڑنے کا مشورہ دیا ہے۔

  13. اسرائیلی حملے کے بعد خنداب ہیوی واٹر ری ایکٹر نے کام کرنا بند کر دیا ہے، عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی

    حملے کی تصدیق شدہ فوٹیج میں ری ایکٹر کے قریب آگ کا ایک گولہ اور دھواں اٹھتا دیکھا جا سکتا ہے۔

    ،تصویر کا ذریعہX/MAMLEKATE

    اقوام متحدہ کے جوہری توانائی اور یورینیم افزودگی کے نگران ادارے عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے تصدیق کی ہے کہ شمال مغربی ایران میں خنداب ہیوی واٹر ری ایکٹر کو اسرائیلی حملے میں ’شدید نقصان پہنچا ہے اور اس نے کام کرنا بند کر دیا ہے۔‘

    ایران کی جوہری توانائی کے ادارے نے جمعہ کے روز بتایا تھا کہ جوہری تنصیبات پر دو بار حملہ کیا گیا ہے۔ حملے کی تصدیق شدہ فوٹیج میں ری ایکٹر کے قریب آگ کا ایک گولہ اور دھواں اٹھتا دیکھا جا سکتا ہے۔

    ایرانی ادارے کا کہنا ہے کہ حملے کے نتیجے میں کسی جانی نقصان یا تابکاری کی اطلاع نہیں ہے۔ اسرائیل نے حملے سے کچھ دیر قبل پلانٹ سے انخلا کا حکم جاری کر دیا تھا۔

    سیٹلائٹ کی تصویروں کے آزادانہ تجزیے اور پلانٹ کے متعلق حاصل معلومات کے بعد آج آئی اے ای اے نے بتایا ہے کہ اس پلانٹ میں کوئی اعلان کردہ جوہری مواد نہیں ہے۔

  14. کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں فائرنگ اور بم دھماکوں میں کم از کم چھ افراد ہلاک

    کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں فائرنگ اور بم دھماکوں کے مختلف واقعات میں کم از کم چھ افراد کی ہلاکت اور متعدد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

    پولیس کے مطابق کوئٹہ کے علاقے سریاب میں ولیج ایڈ میں سکیورٹی فورسز کی ایک چیک پوسٹ پر حملے کے علاوہ فائرنگ کے واقعات میں کم از کم ایک شخص ہلاک اور چھ سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔

    ایس ایس پی آپریشنز کوئٹہ آصف خان نے بتایا کہ ان کے واقعات کے بعد زخمیوں کو طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا ہے جبکہ ہلاک ہونے والے شخص کی لاش بھی ہسپتال منتقل کر دی گئی ہیں۔

    ولیج ایڈ کے علاقے میں ہونے والے حملے میں تین سکیورٹی اہلکاروں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں تاہم پولیس نے تاحال اس کی تصدیق نہیں کی ہے۔

    وزیر داخلہ کے معاون برائے میڈیا بابر خان یوسفزئی نے بتایا کہ کوئٹہ میں دو مقامات پر کالعدم تنظیموں کے حملوں کو ناکام بنایا گیا۔

    دوسری جانب ضلع کوئٹہ کے نواحی علاقے اغبرگ میں نامعلوم افراد نے پولیس کی ایک چوکی پر حملہ کیا۔

    پولیس کے مطابق اس حملے میں ایک پولیس اہلکار زخمی ہوا جبکہ حملہ آوروں نے چوکی پر موجود ایک گاڑی کو بھی نذر آتش کیا ہے۔

    اس کے علاوہ ایران سے متصل ضلع پنجگور میں نامعلوم مسلح افراد نے اتوار کی شب خدابادان سمیت تین مقامات پر حملے کیے۔

    ایک سینیئر سرکاری اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ان حملوں میں پانچ افراد مارے گئے جو کہ سرکار کے حامی بتائے جاتے ہیں۔

    اہلکار نے دعویٰ کیا کہ سکیورٹی فورسز کی جوابی کاروائی چھ 6 حملہ آور بھی مارے گئے ہیں۔

  15. اسرائیلی فوج کا تہران بھر میں مختلف اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    اسرائیلی فوج کی جانب سے ٹیلی گرام پر جاری ایک مختصر بیان میں کہا گیا ہے کہ اس نے ’تہران بھر میں ایرانی دہشت گرد حکومت کے ٹھکانوں پر‘ حملے شروع کیے ہیں۔

    اس سے قبل ایران دارالحکومت میں زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئی تھیں اور شہر کے کچھ حصوں میں ’بجلی کی تنصیبات‘ پر حملوں پر کے نتیجے میں بجلی کی فراہمی منقطع ہونے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔

  16. نیتن یاہو نے اسرائیلی فوج کو لبنان میں ’سیکیورٹی زون‘ کی توسیع کی ہدایت کر دی

    جنوبی لبنان

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    اسرائیل ڈیفنس فورسز کی شمالی کمان کے ہیڈ کوارٹر کے دورے کے موقع پر اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ انھوں نے جنوبی لبنان میں ’موجودہ سکیورٹی زون‘ کو مزید وسیع کرنے کا حکم دیا ہے۔

    نیتن یاہو نے کہا کہ اس فیصلے کا مقصد حزب اللہ کی طرف سے ’حملے کے خطرے کو یقینی طور پر ناکام بنانا‘ اور ٹینک شکن میزائل کے حملے کو سرحد سے دور رکھنا ہے۔

    تاہم انھوں نے واضح نہیں کیا کہ آیا یہ توسیع اس زون سے مزید آگے کی جائے گی جس کے بارے میں گذشتہ ہفتے اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے اعلان کیا تھا۔

    کاٹز نے سکیورٹی کو دریائے لیتانی تک پھیلانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس حدود میں رہنے والے کسی بھی لبنانی باشندے کو اپنے گھروں میں اس وقت تک واپس جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی جب تک حزب اللہ سے شمالی اسرائیل کو لاحق خطرہ مکمل طور پر ختم نہ ہو جائے۔

  17. تہران میں بجلی کی تنصیبات پر حملہ، تہران اور البرز کے کچھ حصوں کو بجلی کی فراہمی منقطع

    ایرانی ذرائع ابلاغ نے ملک کی وزارت توانائی کے حوالے سے خبر دی ہے دارالحکومت تہران میں بجلی کی تنصیبات پر حملے کے نتیجے میں ملک کے دو صوبوں تہران اور البرز کے کچھ حصوں میں بجلی کی فراہمی منقطع ہوگئی ہے۔

    نائب وزیرِ توانائی مصطفیٰ رجبی مشہدی نے سرکاری ٹی وی پر کہا ہے کہ کرج شہر کے باہر ایک شارپنل بجلی کے ایک بڑے کھمبے سے ٹکرا ہے۔

    کرج تہران کے شمال مغرب میں صوبہ البرز میں واقع ہے۔

    اس سے قبل ایک ذریعہ نے شہر میں بجلی کی فراہمی میں تعطل کی اطلاع دی تھی۔

    مشہدی کا مزید کہنا تھا کہ ’آج رات ہونے والے حملوں کی وجہ سے مشرقی تہران میں ایک پاور ٹرانسمیشن کا سب سٹیشن تباہ ہو گیا ہے۔‘ تاہم انھوں نے لوگوں کو تسلی دی کہ انھیں ’پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔‘

    ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اس معاملے کو حل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔

  18. خدا ان رہنماؤں کی دعائیں نہیں سنتا جن کے ہاتھ خون سے رنگے ہوں، پوپ لیو

    قیاس آرائی کی جا رہی ہے کہ ان کا اشارہ ایران کے خلاف امریکہ اسرائیل جنگ میں شامل افراد کی جانب ہے۔

    ،تصویر کا ذریعہVatican Media via Vatican Pool/Getty Images

    ،تصویر کا کیپشنقیاس آرائی کی جا رہی ہے کہ پوپ لیو کا اشارہ ایران کے خلاف امریکہ اسرائیل جنگ میں شامل افراد کی جانب ہے۔

    پوپ لیو چہار دہم نے ویٹیکن میں پام سنڈے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ خدا ان رہنماؤں کی دعائیں قبول نہیں کرتا جو جنگیں شروع کرتے ہیں اور جن کے ہاتھ ’خون سے رنگے‘ ہیں۔

    قیاس آرائی کی جا رہی ہے کہ ان کا اشارہ ایران کے خلاف امریکہ اسرائیل جنگ میں شامل افراد کی جانب ہے۔

    پوپ لیو کا کہنا ہے ’یہ ہمارے خدا ہیں: یسوع، امن کے بادشاہ، جو جنگ کو مسترد کرتے ہیں، کوئی بھی انھیں جنگ کے جواز کے لیے استعمال نہیں کر سکتا۔‘

    ’وہ جنگ کرنے والوں کی دعاؤں کو نہیں سنتے بلکہ انھیں رد کر دیتے ہیں۔‘

    بائبل کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے کہا، ’اگرچہ تم بہت دعائیں کرتے ہو، میں نہیں سنوں گا: تمہارے ہاتھ خون سے رنگے ہوئے ہیں۔‘

  19. اسرائیل کے صنعتی زون میں لگنے والی آگ پر قابو پا لیا گیا ہے، ریسکیو چیف

    اسرائیل کی فائر اینڈ ریسکیو سروس کا کہنا ہے کہ جنوبی اسرائیل کے نیوٹ ہووا صنعتی زون میں لگی آگ پر قابو پا لیا گیا ہے۔

    فائر اینڈ ریسکیو سروس کے کمشنر ایال کاسپی کا کہنا ہے کہ ’بڑی تعداد میں ٹیمیں یہاں کام کر رہی ہیں۔ صورتحال اب قابو میں ہے۔‘

    اس سے قبل کاسپی کی ٹیم نے آگ کو ’خطرناک مواد کا واقعہ‘ قرار دیا تھا۔

    اسرائیلی فوج نے اس سے قبل شبہ ظاہر کیا تھا کہ صنعتی زون میں آگ لگنے کی وجہ میزائل حملہ ہو سکتا ہے۔

    فائر اینڈ ریسکیو سروس کی جانب سے شیئر کی گئی تصویر میں واقعے کے مقام سے آگ اور کالے دھوان اٹھتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

    اسرائیل

    ،تصویر کا ذریعہIsrael's fire and rescue service via X

  20. سعودی عرب میں تباہ ہونے والا امریکی فضائیہ کا ای-تھری طیارہ جنگ میں کس کام آتا ہے؟

    ای-تھر بوئنگ 707 ماڈل کی طرز پر بنایا گیا ایک خصوصی ہوائی جہاز ہے جس کے اوپر ایک مخصوص گھومنے والی ریڈار ڈسک نصب ہے۔

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنای-تھر بوئنگ 707 ماڈل کی طرز پر بنایا گیا ایک خصوصی ہوائی جہاز ہے جس کے اوپر ایک مخصوص گھومنے والی ریڈار ڈسک نصب ہے۔

    بی بی سی ویریفائی نے سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئر بیس پر ایک حملے کے نتیجے میں امریکی کمانڈ اینڈ کنٹرول کے ایک ای–تھری سینٹری طیارے کے تباہ ہونے کی تصدیق کی تھی۔

    یہ طیارہ بوئنگ ای-تھری ایواکس ہے جو کہ ایئر بورن وارننگ اینڈ کنٹرول سسٹم کا مخفف ہے۔

    ای-تھر بوئنگ 707 ماڈل کی طرز پر بنایا گیا ایک خصوصی ہوائی جہاز ہے جس کے اوپر ایک مخصوص گھومنے والی ریڈار ڈسک نصب ہے۔

    یہ ریڈار اسے طویل فاصلے سے ممکنہ اہداف کا پتہ لگانے اور ٹریک کرنے کی صلاحیت فراہم کرتا ہے تاکہ جنگی کارروائیوں کے دوران ممکنہ خطرات کی پیشگی وارننگ فراہم کی جا سکے۔

    امریکی فضائیہ کی ویب سائٹ پر دستیاب معلومات کے مطابق یہ ہوائی جہاز ’فضائی آپریشنز کے کمانڈروں کو فضائی کارروائیوں کے دوران کنٹرول حاصل کرنے اور اسے برقرار رکھنے کے لیے معلومات فراہم کرتا ہے۔‘

    اس قسم کا پہلی جہاز 1977 میں امریکی فوج میں شامل کیا گیا اور توقع ہے کہ ای-تھری 2035 تک آپریشنل رہے گا۔ اب بھی تقریباً 15 ای-تھری طیارے امریکی فضائی کے زیر استعمال ہیں۔