آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے، توانائی ڈھانچے پر حملے 10 دن کے لیے ’مؤخر‘ کیے: کیرولین لیویٹ

امریکہ کے وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ نے ایک میڈیا بریفنگ میں کہا ہے کہ ایران میں امریکی آپریشن ’کامیابی سے جاری‘ ہے۔ انھوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے ایران کے توانائی ڈھانچے پر طے شدہ حملوں کو 10 روز کے لیے ’مؤخر‘ کر دیا ہے اور ’یہ ایسا موقع ہے کہ ایرانی حکومت امریکہ کے ساتھ ایک اچھا معاہدہ کرے۔‘

خلاصہ

  • ٹرمپ نے ایران میں واقع جزیرے خارگ پر قبضے کا عندیہ دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ ایرانی تیل حاصل کر سکتے ہیں
  • ایشیائی منڈیوں میں کاروبار کے آغاز پر تیل کی قیمتیں 115 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہیں۔
  • ایران نے دھمکی دی ہے کہ وہ جوابی حملوں کا دائرہ وسیع کرے گا جس میں یونیورسٹیوں اور امریکی و اسرائیلی حکام کے گھروں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
  • تہران کا کہنا ہے کہ وسطی شہر اسفہان کی ایک یونیورسٹی پر اس ہفتے کے آخر میں دوسری بار حملہ کیا گیا ہے۔
  • ایرانی حکومت کے مطابق توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنائے جانے کے بعد تہران کے زیادہ تر علاقوں میں بجلی بحال کر دی گئی ہے۔ جبکہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ ملک کے جنوب میں ایک صنعتی مقام پر ایرانی حملے سے لگی آگ پر قابو پا لیا گیا ہے۔
  • پاکستان کے وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ملک آئندہ چند دنوں میں امن مذاکرات کی میزبانی کی تیاری کر رہا ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ ایران یا امریکہ نے شرکت کی منظوری دی ہے یا نہیں۔

لائیو کوریج

  1. خلیجی ممالک میں بڑے انفراسٹرکچر پر حملے, آزادہ مشیری، بی بی سی

    گذشتہ 24 گھنٹوں میں اس خطے کو بڑے انفراسٹرکچر سمیت متعدد حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

    سنیچر کے روز متحدہ عرب امارات پر جنگ کے آغاز کے بعد سے سبے زیادہ بیلسٹک میزائل حملے کیے گئے۔ ایمریٹس گلوبل ایلومینیم کا کہنا ہے کہ ابوظہبی میں اس کے بڑے پلانٹ کو نشانہ بنایا گیا اور اسے کافی نقصان پہنچا ہے جبکہ متعدد ملازمین زخمی بھی ہوئے ہیں۔

    ایلومینیم بحرین جو کہ دنیا کے سب سے بڑے ایلومینیم پیدا کرنے والے ممالک میں سے ایک ہے، پر بھی حملہ کیا گیا۔

    کویت میں بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ریڈار سسٹم کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔

    اپنی معیشتوں اور طرز زندگی سے متعلق خدشات سے دوچار خلیجی ممالک کا اصرار ہے کہ کسی بھی امن معاہدے سے قبل اُن سے پوچھا جانا ضروری ہے۔

    وہ آگے بڑھنے کے راستے پر بھی منقسم ہیں کہ ایران یا امریکہ کے ساتھ اُن کے تعلقات کا مستقبل کیا ہو گا۔

  2. جنگ کا ایک ماہ مکمل، تہران میں اب زندگی کیسی ہے؟, غنچہ حبیب زادہ

    جنگ شروع ہوئے ابھی ایک ماہ سے زیادہ کا عرصہ ہوا ہے۔

    ایران اب بھی حکومت کی طرف سے انٹرنیٹ کی بندش کا شکار ہے، لیکن میں ملک کے اندر چند لوگوں سے بات چیت کرنے میں کامیاب رہی ہوں۔

    میں نے جن لوگوں سے بات کی ہے ان میں سے زیادہ تر نے آن لائن ہونے کے لیے بہت زیادہ رقم ادا کی ہے۔ یہ نوجوان ٹیکنالوجی سے آشنا ہیں اور زیادہ تر دارالحکومت تہران میں رہتے ہیں، جہاں جنگ شروع ہونے کے بعد سے سب سے زیادہ حملے دیکھنے میں آئے ہیں۔

    ہر روز، میں ان کی روزمرہ کی زندگی کی جھلکیاں دیکھ رہی ہوں، لوگوں کی کہانیاں جو بھاگنے کے لیے باہر جانے کا ارادہ کرتے ہیں، لیکن دھماکوں کی آوازیں سن کر گھروں تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔ دھماکوں سے گھر کی کھڑکیاں لرزتی ہیں اور نیند بھی شدید متاثر ہوتی ہے۔

    تہران کے رہائشی رات گئے تک مجھے پیغامات بھیجتے رہتے ہیں۔ میں نے نوٹ کیا ہے کہ اُن کا مزاج اور رائے کس طرح آئے روز کے حملوں سے بدل رہی ہے۔

    وہ مجھے بتاتے ہیں کہ وہ تاریخ اور وقت کا احساس کھو رہے ہیں، بعض اوقات انھیں ہفتے کے دن کا بھی علم نہیں ہوتا۔

    میں ان کے نام یا عمر کا ذکر نہیں کر رہی کیونکہ ایرانی حکام نے ایسے لوگوں کو گرفتار کیا ہے جنھوں نے غیر ملکی نامہ نگاروں سے بات کی ہے۔

    جن لوگوں سے میں بات کر رہی ہوں، وہ سب اسٹیبلشمنٹ کے خلاف ہیں، لیکن وہ سب جنگ کے بارے میں ایک جیسے خیالات نہیں رکھتے۔ کچھ اب بھی امید کر رہے ہیں کہ سرنگ کے آخر میں روشنی ہے؛ کچھ تھک چکے ہیں اور چاہتے ہیں کہ جنگ اب ختم ہو۔

    تہران سے دُور ایک شمالی صوبے میں منتقل ہونے والی 20 سالہ لڑکی نے مجھے بتایا کہ ’میں تنگ آ رہی ہوں۔ میں جلد واپس تہران جانا چاہتی ہوں۔ میں تمام تناؤ اور جنگ کے باوجود وہاں جا کر رہنا پسند کروں گی۔ یہ مجھے زیادہ کنٹرول کا احساس دیتا ہے۔‘

  3. ’میرا بیٹا معصوم اور پاکیزہ تھا،‘ جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملے کے دوران ہلاک ہونے والے 11 سالہ بچے کی تدفین

    جنوبی لبنان کے ایک گاؤں میں اسرائیلی فضائی حملے میں ہلاک ہونے والے 11 سالہ لڑکے اور اس کے چچا کی تدفین کر دی گئی ہے۔

    جواد یونس اور 41 سالہ راغب یونس اس وقت مارے گئے تھے جب جمعے کو اسرائیلی حملے میں اُن کے گھر کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

    لبنانی محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ جب سے کشیدگی شروع ہوئی ہے تب سے اب تک 1100 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں عام شہری بھی شامل ہیں۔

    اسرائیلی فوج نے یونس فیملی کے کمپاؤنڈ کو نشانہ بنانے والے حملے کے مطلوبہ ہدف پر تبصرہ کرنے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

    جواد اور راغب کی تدفین کے موقع پر سینکڑوں لوگ ساکساکیہ ٹاؤن سینٹر میں جمع ہوئے۔

    بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے 11 سالہ جواد کی والدہ نے بتایا کہ ’میرا بیٹا معصوم اور پاکیزہ ہے۔ اسے شہادت کا خیال پسند تھا اور وہ بڑا ہو کر مزاحمت کا ساتھ دینا چاہتا تھا۔ وہ دشمن اسرائیل کا مقابلہ کرنا چاہتا تھا جس نے اسے قتل کیا۔‘

  4. ایک ماہ کی جنگ کے دوران ایران میں 11 ہزار سے زائد اہداف پر حملے کیے گئے: سینٹکام

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے اعلان کیا ہے کہ ایک ماہ کے دوران ایران کے خلاف جنگ میں 11 ہزار سے زائد اہداف پر حملے کیے گئے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان حملوں کے دوران ایران کے 150 سے زائد جہازوں کو تباہ یا نقصان پہنچایا گیا۔

    واضح رہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملوں کا آغاز 28 فروری کو کیا تھا، حملے کے پہلے ہی روز ایران کے رہبرِ اعلی آیت اللہ علی خامنہ ای کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔

  5. اسرائیل کی لبنان میں اپنے ایک فوجی کی ہلاکت کی تصدیق

    اسرائیل کی دفاعی افواج نے جنوبی لبنان میں اپنے ایک فوجی کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے، جہاں اس نے تقریباً دو ہفتے قبل زمینی حملہ کیا تھا۔

    آئی ڈی ایف نے ایکس پوسٹ میں لکھا کہ اس واقعے میں آئی ڈی ایف کے مزید تین فوجی زخمی ہوئے، جس میں سارجنٹ موشے یتزچک ہاکوہن کاٹز ہلاک ہو گئے۔

    لبنانی وزارت صحت کے مطابق، لبنان میں اب تک تنازعات کے دوران 120 بچوں اور 42 طبی عملے سمیت 1100 سے زائد شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔

  6. ’ایران، امریکہ مردہ باد سے امریکہ زندہ باد کی طرف بڑھ رہا ہے:‘ رضا پہلوی کا کنزرویٹو کانفرنس سے خطاب

    ایران کے آخری شاہ کے جلا وطن بیٹے رضا پہلوی نے کہا ہے کہ وہ ایران میں عبوری حکومت کی قیادت کے لیے تیار ہیں اور 47 سال میں پہلی مرتبہ اپنے ملک جانے کے لیے بے چین ہیں۔

    سنیچر کو ٹیکساس میں کنزرویٹو پولیٹیکل ایکشن کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رضا پہلوی کا کہنا تھا کہ ’ایران، امریکہ مردہ باد سے اب امریکہ زندہ باد کی طرف بڑھ رہا ہے۔‘

    اُن کا کہنا تھا کہ جب ایران ’آزاد‘ ہو گا تو امریکہ کو ایک عظیم دوست مل جائے گا اور آبنائے ہرمز کی بندش اور عالمی برادری کو بلیک میل کرنے کا کوئی تصور بھی نہیں کر سکے گا۔

    پہلوی کے امریکہ نواز موقف کے باوجود صدر ٹرمپ نے شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے کہ 65 سالہ پہلوی مستقبل میں ایران کو چلا سکتے ہیں۔

    صدر ٹرمپ نے اس ماہ کے آغاز میں کہا تھا کہ ’مجھے نہیں معلوم کہ ان کا ملک ان کی قیادت کو قبول کرے گا یا نہیں۔‘

    صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ان کے خیال میں ایران میں پہلے سے موجود کوئی شخص قیادت کے لیے زیادہ موزوں ہو گا، تاہم اُنھوں نے کسی ممکنہ آپشن کی نشاندہی نہیں کی تھی۔

    پہلوی کے والد کو 1979 کے انقلاب میں معزول کر دیا گیا تھا جس کی قیادت آیت اللہ روح اللہ خمینی نے کی تھی۔

  7. سنیچر کے روز ایسا کیا ہوا جس نے مشرق وسطیٰ کے بحران کو مزید بگاڑ دیا؟

    امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں شروع کرنے کے ایک ماہ بعد سنیچر کے روز ایک نیا محاذ کھل گیا۔

    سنیچر کے روز یمن سے اسرائیلی علاقے کی جانب میزائل داغے گئے۔ 28 فروری کو ایران کے خلاف حملے شروع ہونے کے بعد سے ایران نے نہ صرف اسرائیل کے خلاف بلکہ امریکہ کے اتحادی خلیجی ممالک کے خلاف بھی جوابی حملے شروع کیے ہیں۔

    ادھر اسرائیل نے لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اپنے حملے تیز کر دیے ہیں۔

    اسرائیلی دفاعی افواج نے سنیچر کی صبح اپنے ٹیلی گرام چینل پر یمن سے حملے کے بارے میں معلومات جاری کیں۔ فوج نے کہا کہ اس کا فضائی دفاعی نظام ’خطرے کو روکنے کے لیے مکمل طور پر فعال ہے۔‘

    چند گھنٹوں بعد حوثی باغیوں نے تصدیق کی کہ اُنھوں نے ایران، لبنان، عراق اور فلسطینی علاقوں پر حملوں کے جواب میں ’اسرائیلی فوجی مقامات‘ پر بیلسٹک میزائل فائر کیے تھے۔

    حوثی باغیوں نے خبردار کیا کہ یہ حملے تمام مزاحمتی محاذوں کے خلاف جارحیت بند ہونے تک جاری رہیں گے۔

    حوثی باغی سنہ 2014 سے شمال مغربی یمن پر کنٹرول رکھتے ہیں اور یہ دُنیا کے ایک اور بڑے تجارتی راستے بحیرہ احمر پر کنٹرول رکھتے ہیں۔

    سات اکتوبر 2023 کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد حوثی باغیوں نے اسرائیل کے خلاف جنگ میں حماس کا ساتھ دیا تھا۔

    فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے، اُنھوں نے بحیرہ احمر سے نہر سویز کی طرف سفر کرنے والے مال بردار بحری جہازوں پر حملوں کا سلسلہ شروع کیا تھا۔

    حوثی گروپ کے ڈرون اور میزائل حملوں میں کئی بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا، جن میں سے کچھ ڈوب بھی گئے تھے۔

    اس نے شپنگ کمپنیوں کو محفوظ، بلکہ طویل اور مہنگے متبادل راستے اختیار کرنے پر مجبور کیا، بشمول جنوبی افریقہ میں کیپ آف گڈ ہوپ کے آس پاس۔ اس سے سپلائی چین اور بین الاقوامی تجارت میں نمایاں رکاوٹیں آئیں۔

    ان حملوں کے بعد امریکہ، برطانیہ اور دیگر ممالک نے گروپ کے ٹھکانوں کے خلاف بمباری کی مہم شروع کی اور راستے کو دوبارہ کھولنے کے لیے جنگی جہاز بھیجے۔

    سنہ 2025 میں امریکہ نے یمن میں گروپ کے اڈوں پر دوبارہ حملہ کیا تاکہ مزید ایسے واقعات کو روکا جا سکے جو عالمی تجارت کو متاثر کر سکتے ہیں۔

    لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں بحیرہ احمر میں اس طرح کے حملوں کا دوبارہ ہونا دنیا کی معاشی صورتحال کو مزید خراب کر سکتا ہے۔

  8. امریکہ کے مختلف شہروں میں صدر ٹرمپ کے خلاف ’نو کنگز‘ مظاہرے

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف سنیچر کو امریکہ کے مختلف شہروں میں ’نو کنگز‘ مظاہروں کا اہتمام کیا گیا۔

    تمام 50 امریکی ریاستوں میں 3200 سے زائد تقریبات کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔ اس سے پہلے ہونے والے دو نو کنگز احتجاج میں لاکھوں افراد شامل ہوئے تھے۔

    منتظمین کے مطابق سنیچر کا مرکزی احتجاج نیویارک، لاس اینجلس اور واشنگٹن میں ہوا۔

    واشنگٹن کے نیشنل مال پر جمع ایک ہجوم نے ڈیموکریٹس کی حمایت میں نعرے لگائے، اُنھوں نے ٹرمپ مخالف بینرز اٹھا رکھے تھے۔

    ’نو کنگز‘ کی تحریک گذشتہ برس جون میں صدر ٹرمپ کی سالگرہ کے موقع پر شروع ہوئی تھی جس میں ایک اندازے کے مطابق ملک بھر میں 2100 مقامات پر 40 سے 60 لاکھ افراد شریک ہوئے۔

    ہفتے کے روز ہونے والے مظاہرے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جسے منتظمین نے ایران پر امریکی اور اسرائیلی بمباری کے خلاف ردِعمل قرار دیا ہے۔

  9. تہران کی یونیورسٹی پر حملے کے بعد ایران کی مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اور اسرائیلی یونیورسٹیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی

    تہران کی یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پر حملے کے بعد ایران کے پاسداران انقلاب نے مشرق وسطیٰ میں اسرائیلی اور امریکی یونیورسٹیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔

    آئی آر سی جی کا کہنا ہے کہ خطے کی تمام یونیورسٹیوں کو اس وقت تک جائز اہداف سمجھا جاتا ہے جب تک کہ ان کی دو یونیورسٹیوں کو ایرانی یونیورسٹیوں پر حملہ کرنے کے جواب میں نشانہ نہیں بنا لیا جاتا۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہم خطے میں امریکی یونیورسٹیوں کے تمام عملے، فیکلٹی، اور طلبا کے ساتھ ساتھ ان کے آس پاس کے رہائشیوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ اپنی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ان یونیورسٹیوں سے ایک کلومیٹر کا فاصلہ برقرار رکھیں۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکہ کو خطے میں امریکی اداروں پر انتقامی کارروائیوں سے بچنے کے لیے ایرانی یونیورسٹیوں پر بمباری کی مذمت کرنی چاہیے، ایسا کرنے کے لیے منگل 30 مارچ کو مقامی وقت کے مطابق 12 بجے کی ڈیڈ لائن دی گئی ہے۔

  10. پینٹاگون ایران میں کئی ہفتوں کی زمینی کارروائیوں کی تیاری کر رہا ہے: رپورٹ

    واشنگٹن پوسٹ رپورٹ کر رہا ہے کہ پینٹاگون ایران میں کئی ہفتوں کی زمینی کارروائیوں کی تیاری کر رہا ہے۔

    اخبار نے امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ یہ واضح نہیں ہے کہ صدر ٹرمپ زمینی فوج کی تعیناتی کے منصوبے کی منظوری دیں گے یا نہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ موجودہ منصوبے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اس طرح کی زمینی کارروائیاں مکمل حملہ نہیں ہوں گی، بلکہ سپیشل آپریشنز فورسز اور روایتی پیادہ فورس کے ذریعے چھاپہ مار کارروائیاں کی جائیں گی۔

    رپورٹس کے مطابق خلیج کی طرف جانے والے امریکی بحری جہازوں پر چار ہزار سے زیادہ امریکی میرینز موجود ہیں جبکہ 82 ویں ایئر بورن کے پیرا ٹروپرز سٹینڈ بائی پر ہیں۔

    بی بی سی نے تبصرے کے لیے وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون سے رابطہ کیا ہے۔

  11. حوثیوں نے اسرائیل پر دوسرے میزائل حملے کی تصدیق کر دی

    یمن کے حوثی جنگجوؤں کا کہنا ہے کہ انھوں نے سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب جنوبی اسرائیل کے کچھ حصوں میں دوسرا حملہ کیا ہے۔

    یحییٰ سریع یمن کی مسلح افواج کے حوثی دھڑے کے ترجمان نے کہا کہ گروپ نے ’کروز میزائلوں اور ڈرونز کی مدد سے یہ حملے کیے‘، جن کا ہدف اسرائیل کی ’کئی اہم فوجی تنصیبات‘ تھیں۔

    انھوں نے مزید کہا کہ یہ حملے ایران اور حزب اللہ کی متعلقہ فوجی کارروائیوں کے ساتھ ’مل کر کیے گئے تھے اور اپنے مقاصد میں کامیاب رہے اور آئندہ چند دنوں میں مزید حملے کیے جائیں گے جب تک کہ دشمن اپنی حملوں اور جارحیت کو بند نہیں کرتا۔‘

    یہ بیان ان کے ٹیلی گرام اکاؤنٹ پر اس کے بعد جاری کیا گیا جب اسرائیلی اور امریکی میڈیا میں حوثیوں کے دوسرے حملوں کی خبریں سامنے آئیں۔

  12. حوثی جنگجو: بحیرہ احمر کی تجارت کو متاثر کرنے والے وہ عناصر جو عالمی معیشت کو مزید نقصان پہنچا سکتا ہیں, سیباسٹین اشر مشرق وسطیٰ کے تجزیہ کار

    حوثیوں نے جنگ کے ابتدائی چار ہفتوں کے دوران، ایران سے وابستگی اور اس کی حمایت کے باوجود کوئی کارروائی نہیں کی۔

    اب یہ تحریک جو اب بھی یمن کے دارالحکومت صنعاء، شمالی علاقوں اور ملک کے دیگر حصوں پر قابض ہے اپنی پہلی بڑی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل کی جانب میزائل داغ چکی ہے۔

    یہ درست ہے کہ میزائل حملوں کے ذریعے اسرائیل کے لیے حوثیوں کا خطرہ ایران کے مقابلے میں کہیں کم ہے لیکن یہ گروہ یمن کے ساحل کے قریب ایک خطرہ ضرور پیدا کرتا ہے۔

    غزہ میں حماس کی حمایت کے ساتھ اس گروہ نے بحیرہ احمر کے جنوبی سرے پر واقع آبنائے باب المندب سے گزرنے والے بحری جہازوں کو نشانہ بنایا جو یمن اور افریقہ کے درمیان واقع ہے۔

    ان کی اس کارروائی نے اس اہم تجارتی سمندری راستے کو خطرے میں ڈال دیا تھا۔

    اگر وہ دوبارہ ایسا کرتے ہیں تو یہ عالمی معیشت کے لیے ایک اور بڑا دھچکا ہو سکتا ہے۔

    ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی تقریباً بندش کے ساتھ تجارت اور توانائی کی فراہمی کے لیے دنیا کی دو اہم آبی گزرگاہیں ممکنہ طور پر متاثر ہو سکتی ہیں۔

  13. امریکہ اور اسرائیلی حملوں میں ایران کی آبی تنصیب کو نشانہ بنایا گیا ہے: خبر رساں ادارے فارس کا دعویٰ

    ایرانی خبر رساں ادارے فارس کے مطابق ایران میں ایک بڑی آبی تنصیب کو امریکی اور اسرائیلی حملوں میں نشانہ بنایا گیا ہے۔

    فارس نے صوبہ خوزستان کے سکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے امور کے نائب کے حوالے سے بتایا کہ مغربی ایران کے شہر ہفتکل میں ’10000 مکعب میٹر‘ کے پانی کے ذخیرے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    پاسدارانِ انقلاب سے منسلک خبر رساں ادارے فارس کا کہنا ہے کہ اس حملے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی اور یہ بھی کہا کہ ہفتکل میں پانی کے ذخیرے اور ان پر لگے سسٹم بھی کام کر رہے ہیں۔

  14. ایران کی 20 پاکستانی پرچم بردار جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت خوش آئند اور قابل ستائش قدم: اسحاق ڈار

    پاکستان کے نائب وزیرِاعظم اور وفاقی وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کے مطابق ایرانی حکومت نے پاکستانی پرچم کے تحت چلنے والے مزید 20 بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دینے پر اتفاق کیا ہے۔

    سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب ایکس پر جاری بیان میں پاکستانی وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ ’مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ میں آپ سب تک ایک اچھی خبر پہنچا رہا ہوں اور وہ یہ کہ ’ایران کی حکومت نے پاکستانی پرچم کے تحت مزید 20 جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دینے پر اتفاق کیا ہے، اس اجازت کے بعد دو بحری جہاز روزانہ کی بنیاد پر آبنائے ہرمز عبور کریں گے۔‘

    اسحاق ڈار کا اپنے بیان میں مزید کہنا تھا کہ ’یہ ایران کی جانب سے ایک خوش آئند اور قابل ستائش قدم ہے اور اس کی قدر کی جانی چاہیے۔ یہ امن کی علامت ہے اور خطے میں استحکام لانے میں مدد دے گا۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ مثبت اعلان امن کی جانب ایک بامعنی قدم ہے اور اس سمت میں ہماری مشترکہ کوششوں کو مضبوط بنائے گا۔‘

    اسحاق ڈار نے ایکس پر جاری بیان کے آخر پر کہا کہ ’مذاکرات، سفارت کاری اور اس طرح کے اعتماد سازی کے اقدامات ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہیں۔‘

  15. مصر اور ترکی کے وزرائے خارجہ اسلام آباد پہنچ گئے ہیں: دفترِ خارجہ کی تصدیق

    پاکستانی دفترِ خارجہ کی جانب سے ایکس پر جاری دو مختلف بیانات میں مصر کے وزیرِ خارجہ ڈاکٹر بدر عبدالعاطی اور ترک وزیرِ خارجہ حاقان فیدان کی اسلام آباد آمد کے حوالے سے خبر دی گئی ہے۔

    واضح رہے کہ پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے سنیچر کے روز تصدیق کی تھی کہ ترکی، مصر اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ 29 اور 30 مارچ کو اسلام آباد پہنچ رہے ہیں۔

    وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کہا گیا تھا کہ سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود، ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان اور مصر کے وزیر خارجہ ڈاکٹر بدر عبدالعاطی اسلام آباد آئیں گے۔

    بیان کے مطابق یہ وزارئے خارجہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں سمیت دیگر اُمور پر تفصیلی بات چیت کریں گے۔ وزرائے خارجہ پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف سے بھی ملاقات کریں گے۔

  16. اسرائیلی فوج کا ہفتے کے آخر میں ایران اور لبنان میں 250 سے زائد اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    اسرائیلی فوج نے ایک حالیہ بیان میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے اس ہفتے کے آخری دو دنوں میں ایران اور حزب اللہ کے 250 سے زیادہ اہداف پر حملے کیے ہیں۔

    ایک تازہ بیان میں آئی ڈی ایف نے کہا کہ انھوں نے لبنان اور ایران میں ’وسیع پیمانے پر حملے‘ کیے ہیں۔

    اسرائیلی فوج کے مطابق انھوں نے ایران میں 100 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا، جن میں ’بیلسٹک میزائل بنانے والی اہم تنصیبات، لانچ کے لیے تیار میزائل‘ اور ’میزائل ذخیرہ کرنے کی تنصیبات‘ کو نشانہ بنایا۔

    جبکہ لبنان میں آئی ڈی ایف نے ’حزب اللہ کے 170 سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا۔‘

    فوج نے مزید کہا کہ ’چار آئی ڈی ایف ڈویژنز جنوبی لبنان میں سرگرم ہیں تاکہ زمینی کارروائی کو مزید گہرای میں جا کر کیا جا سکے اور دہشت گردوں کا خاتمہ کیا جا سکے۔‘

  17. حوثی جنگجوؤں کی جانب سے اسرائیل پر دوسرا میزائل داغا گیا ہے: سی این این اور ٹائمز آف اسرائیل کا دعویٰ

    خبر رساں اداروں سی این این اور ٹائمز آف اسرائیل دونوں کے مطابق یمن میں حوثی جنگوؤں نے اسرائیل کی جانب دوسرا میزائل داغا ہے۔

    ایران کے حمایت یافتہ اس گروہ نے اسرائیل کی طرف ایک کروز میزائل داغا جسے مار گرایا گیا، رپورٹس کے مطابق یہ اس کے چند گھنٹوں بعد ہوا جب اس نے ایک بیلسٹک میزائل اسرائیلی فضائی حدود میں داخل ہونے کی اطلاع دی تھی۔

    تاہم اسرائیلی میڈیا چینل 12 اور ٹائمز آف اسرائیل نے جنوبی اسرائیل کے شہر ایلات پر ڈرون حملے کی بھی اطلاع دی ہے، جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ یمن کی جانب سے مُلک کی فضائی حدود میں داخل ہوا تھا۔

    اس سے قبل، حوثیوں نے کہا تھا کہ انھوں نے اسرائیل کی جانب سے ایران، لبنان، عراق اور فلسطینی علاقوں کو نشانہ بنانے کے جواب میں ’اہم اسرائیلی فوجی تنصیبات کو نشانہ بناتے ہوئے‘ بیلسٹک میزائلوں کی بوچھاڑ کی ہے۔

    دوسری جانب اسرائیلی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ انھوں نے یمن سے آنے والے ایک میزائل کو فضا میں تباہ کر دیا تھا۔

  18. اسرائیلی دفاعی افواج کا ایرانی بحریہ کی اہم تنصیبات پر حملے کا دعویٰ

    اسرائیلی دفاعی افواج کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں اُن کا کہنا ہے کہ انھوں نے تہران میں ایرانی حکومت کی میرین انڈسٹریز آرگنائزیشن کے ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا ہے۔

    اسرائیلی فوج نے اپنے اس بیان میں دعویث کیا ہے کہ ’یہ ہیڈکوارٹر بحری ہتھیاروں کی وسیع رینج کی تحقیق، ترقی اور پیداوار کا مرکز کا کردار ادا کر رہا تھا۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا کہ ایم آئی او کے ہیڈکوارٹر کو رات کے وقت تہران بھر اہم فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے حملوں کی ایک نئی لہر کے دوران نشانہ بنایا گیا۔

  19. ضلع بنوں میں پولیس موبائل پر حملہ، ایک اہلکار ہلاک جبکہ جوابی کارروائی میں دو عسکریت پسند مارے گئے: پولیس, بلال احمد، بی بی سی پشاور

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع بنوں میں پولیس موبائل پر حملے کے نتیجے میں ایک اہلکار ہلاک جبکہ جوابی کارروائی میں دو عسکریت پسند مارے گئے ہیں۔

    بنوں پولیس ترجمان کے مطابق تھانہ ہوید پولیس موبائل معمول کی گشت پر تھی کہ زرگر ممہ خیل میں گھات لگا کر موبائل پر حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں دلنواز پولیس اہلکار موقع پر ہلاک ہوگئے جبکہ تین اہلکار زخمی ہوئے عسکریت پسندوں نے حملے کے بعد پولیس موبائل کو نذرآتش بھی کیا۔

    ڈی آئی جی بنوں سجاد خان کے مطابق واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی اضافی نفری موقع پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کیا گیا ہے اور جوابی کارروائی کے نتیجے میں دو عسکریت پسند ہلاک ہوگئے جبکہ چار زخمی ہوئے ہیں۔

    ڈی آئی جی کے مطابق عسکریت ہسندوں کے قبضے سے دو موٹرسائیکل بھی برآمد ہوئے ہیں۔

    سجاد خان نے مزید بتایا کہ عسکریت پسندوں کا ہر صورت پیچھا کیا جائیگا اور کہیں بھی چھپنے کی جگہ نہیں دی جائیگی۔ انھوں نے واضح کیا کہ بزدلانہ ہتھکنڈوں سے پولیس کے حوصلے پست نہیں کئے جاسکتے۔

    وزیر اعلی خیبرپختونخواہ سہیل آفریدی نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے آئی جی پولیس سے واقعے کی رہورٹ طلب کرلی ہے۔ انھوں نے ہلاک ہونے والے پولیس اہلکار کے لواحقین کے لیے صبر و استقامت کی دعا بھی کی اور کہا کہ مُلک کے لیے جان دینے والے پولیس اہلکار کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی۔

  20. لبنان میں اسرائیلی حملے میں تین صحافی ہلاک

    لبنان کے جنوب میں ایک اسرائیلی حملے میں تین لبنانی صحافیوں کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا ہے جس میں ان تینوں ہلاکت کی اطلاعت ہیں۔

    علی شعیب، جو حزب اللہ کے زیرِ انتظام ٹی وی نیٹ ورک المنار کے رپورٹر تھے اور المیادین کے رپورٹرز فاطمہ اور محمد فطونی جزین کے قصبے میں فضائی حملے میں مارے گئے۔

    لبنانی صدر جوزف عون نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ایک ’سنگین جرم‘ قرار دیا جو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت جنگ کے دوران صحافیوں کو تحفظ دیا جانا چاہیے۔

    اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ انھوں نے ایک حملے میں علی شعیب کو ہلاک کیا، لیکن ان کا الزام ہے کہ وہ ایک صحافی کے روپ میں حزب اللہ کے کارندے تھے۔

    یہ دوسری بار ہے کہ جنگ شروع ہونے کے بعد لبنان میں اسرائیل پر صحافیوں کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

    گزشتہ ہفتے المنار ٹی وی کے ایک معروف میزبان محمد شری اور ان کی اہلیہ ایک حملے میں مارے گئے تھے۔

    اب تک لبنان میں اسرائیلی فضائی حملوں میں 1100 سے زائد شہری ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں 120 بچے اور 42 طبی امداد دینے والے افراد شامل ہیں۔

    لبنان میں بہت سے لوگ تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کہ اسرائیل وہی حکمتِ عملی اپنا رہا ہے جس کا اسے غزہ میں استعمال کرنے کا الزام دیا جاتا رہا ہے، جس میں جان بوجھ کر شہریوں، صحافیوں اور طبی عملے کو نشانہ بنانا شامل ہے، جس کی اسرائیل تردید کرتا ہے۔