آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے، توانائی ڈھانچے پر حملے 10 دن کے لیے ’مؤخر‘ کیے: کیرولین لیویٹ

امریکہ کے وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ نے ایک میڈیا بریفنگ میں کہا ہے کہ ایران میں امریکی آپریشن ’کامیابی سے جاری‘ ہے۔ انھوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے ایران کے توانائی ڈھانچے پر طے شدہ حملوں کو 10 روز کے لیے ’مؤخر‘ کر دیا ہے اور ’یہ ایسا موقع ہے کہ ایرانی حکومت امریکہ کے ساتھ ایک اچھا معاہدہ کرے۔‘

خلاصہ

  • ٹرمپ نے ایران میں واقع جزیرے خارگ پر قبضے کا عندیہ دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ ایرانی تیل حاصل کر سکتے ہیں
  • ایشیائی منڈیوں میں کاروبار کے آغاز پر تیل کی قیمتیں 115 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہیں۔
  • ایران نے دھمکی دی ہے کہ وہ جوابی حملوں کا دائرہ وسیع کرے گا جس میں یونیورسٹیوں اور امریکی و اسرائیلی حکام کے گھروں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
  • تہران کا کہنا ہے کہ وسطی شہر اسفہان کی ایک یونیورسٹی پر اس ہفتے کے آخر میں دوسری بار حملہ کیا گیا ہے۔
  • ایرانی حکومت کے مطابق توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنائے جانے کے بعد تہران کے زیادہ تر علاقوں میں بجلی بحال کر دی گئی ہے۔ جبکہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ ملک کے جنوب میں ایک صنعتی مقام پر ایرانی حملے سے لگی آگ پر قابو پا لیا گیا ہے۔
  • پاکستان کے وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ملک آئندہ چند دنوں میں امن مذاکرات کی میزبانی کی تیاری کر رہا ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ ایران یا امریکہ نے شرکت کی منظوری دی ہے یا نہیں۔

لائیو کوریج

  1. وزیرِاعظم شہباز شریف کی ترکی اور مصر کے وزرائےِ خارجہ سے ملاقات: ’پاکستان ایران اور امریکہ کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے مثبت کردار ادا کرتا رہے گا‘

    پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ پاکستان ایران اور امریکہ کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے مثبت کردار ادا کرتا رہے گا۔

    انھوں نے یہ بات ترکی اور مصر کے وزرائے خارجہ سے ملاقات کے دوران کہی۔

    وزیرِ اعظم کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق ترکی کے وزیرِ خارجہ حکان فدان اور مصر کے وزیرِ خارجہ ڈاکٹر بدر عبدالعاطی نے اتوار کے روز وزیرِاعظم ہاؤس میں وزیرِاعظم شہباز شریف سے ملاقات کی۔

    اس ملاقات کے دوران نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار، قومی سلامتی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل محمد عاصم ملک، معاونِ خصوصی طارق فاطمی اور سیکرٹری خارجہ سفیر آمنہ بلوچ بھی موجود تھے۔

    وزیرِاعظم شہباز شریف نے دونوں وزرائے خارجہ کو پاکستان کی سفارتی کاوشوں سے آگاہ کرتے ہوئے اس امر پر زور دیا کہ ایران سمیت متعدد برادر مسلم ممالک میں جاری کشیدگی کے نتیجے میں قیمتی جانوں، معیشت اور املاک کا بھاری نقصان ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کشیدگی کے خاتمے کے لیے اجتماعی کوششیں ناگزیر ہیں۔

    انھوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان ایران اور امریکہ کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے مثبت کردار ادا کرتا رہے گا۔

    بیان کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ نے وزیرِاعظم شہباز شریف کو مشرقِ وسطیٰ میں جاری صورتحال پر اپنے اپنے ملک کے نقطہ نظر سے آگاہ کیا۔

    دونوں وزرائے خارجہ نے پاکستان کے تعمیری اور مثبت کردار کو سراہتے ہوئے اس مشکل وقت میں وزیرِاعظم، نائب وزیرِاعظم اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

  2. ایران اور امریکہ کے درمیان معنی خیز مذاکرات کی میزبانی اعزاز کی بات ہوگی: پاکستانی وزیرِ خارجہ

    پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ انھوں نے سعودی عرب، ترکی اور مصر کے وزرائے خارجہ کے ساتھ اجلاس میں خطے میں جنگ کے جلد اور مکمل خاتمے کے لیے متعدد طریقوں پر غور کیا ہے۔

    اتوار کو مصر، سعودی عرب اور مصر کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کی میزبانی کرنے کے بعد اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ تمام وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا ہے کہ یہ جنگ کسی کے مفاد میں نہیں ہے اور اس کے سبب تباہی اور اموات ہی ہوں گے۔

    پاکستانی وزیرِ خارجہ نے مزید کہا کہ ’میں نے وزرائے خارجہ کو اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے امکانات کے حوالے سے بھی آگاہ کیا ہے۔‘

    ’وزرائے خارجہ نے اس اقدام کے لیے بھرپور حمایت کا اظہار کیا ہے۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان نے خطے میں اور بین الاقوامی برداری میں شراکت داروں سے مسلسل رابطے برقرار رکھے ہیں۔ ہم اس جنگ خاتمے کے لیے کی جانے والی ہر کوشش کا حصہ رہے ہیں۔‘

    پاکستانی وزیرِ خارجہ نے مزید بتایا کہ یہ خوشی کی بات ہے کہ ایران اور امریکہ نے مذاکرات میں سہولت کاری کے لیے پاکستان پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

    ’آنے والے دنوں فریقین کے درمیان مذاکرات کی میزبانی اور سہولت کاری پاکستان کے لیے اعزاز کی بات ہوگی۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے چین کے وزیرِ خارجہ اور اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے بھی فون پر بات کی ہے اور ان دونوں نے امن کے لیے پاکستان کے اقدام کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے۔

    بعد ازاں پاکستان کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے ایک بیان جاری کیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ یہ پاکستان، سعودی عرب، ترکی اور مصر کے درمیان مشاورت کے لیے ہونے والا دوسرا اجلاس ہے۔ اس سے قبل اس معاملے پر پہلا اجلاس 19 مارچ 2026 کو ریاض میں منعقد ہوا تھا۔

    بیان کے مطابق، پاکستان کے وزیرِ خارجہ اسحاق دار کا کہنا ہے کہ وزرائے خارجہ کے درمیان موجودہ علاقائی صورتحال پر بہت تفصیلی بات چیت ہوئی اور خطے میں جنگ کے جلد اور مستقل خاتمے کے ممکنہ طریقوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ وزرائے خارجہ نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ اس مشکل وقت میں امت مسلمہ کا اتحاد انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

    انھوں نے کہا کہ وزرائے خارجہ نے صورت حال پر قابو پانے، فوجی کشیدگی کے خطرے کو کم کرنے اور تنازع کے فریقین کے درمیان مذاکرات کے لیے سازگار حالات پیدا کرنے کے لیے آپس میں اتحاد کی ضرورت پر زور دیا۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ وزرائے خارجہ نے قرار دیا کہ مذاکرات اور سفارت کاری ہی تنازعات کو روکنے اور علاقائی امن اور ہم آہنگی کی فروغ کے لیے واحد قابل عمل راستہ ہے۔ اسحاق ڈار کا مزید کہنا تھا کہ بات چیت کے دوران اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں بشمول ریاستوں کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام پر زور دیا گیا۔

    ’ایران اور امریکہ مذاکرات کی میزبانی کے لیے پاکستان کو چین کی مکمل حمایت حاصل ہے‘

    اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر ان کی چینی وزیر خارجہ وانگ یی کے ساتھ ٹیلیفون پر تفصیلی بات چیت ہوئی ہے۔

    ’چین ایران اور امریکہ مذاکرات کی میزبانی کے لیے پاکستان کے اقدام کی مکمل حمایت کرتا ہے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کی اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے بھی ٹیلی فونک بات چیت ہوئی۔ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ سیکرٹری جنرل نے بھی پاکستان کے امن اقدام کی مکمل حمایت کا اظہار کیا ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے وزیرِ خارجہ نے مختلف ممالک میں اپنے ہم منصبوں کے ساتھ بات چیت کی ہے اور ان سب نے پاکستان کی کوششوں کے لیے مکمل حمایت اور اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

  3. ’ایران کے خلاف جارحیت پر واضح مؤقف‘ اپنانے پر عراق کے علما اور لوگوں کے شکرگزار ہیں: مجتبی خامنہ ای

    ایرانی رہبرِ اعلیٰ مجتبی خامنہ ای سے منسوب ایک تازہ بیان میں کہا گیا ہے کہ انھوں نے ’ایران کے خلاف جارحیت پر واضح مؤقف‘ اپنانے پر عراق کے علما اور لوگوں کا شکریہ ادا کیا ہے۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق مجتبی خامنہ ای سے منسوب پیغام ایک عراقی عہدیدار کو بغداد میں ایرانی سفیر نے سپریم اسلامک اسمبلی کے سپیکر سے ملاقات کے بعد پہنچایا ہے۔

    کچھ ہفتوں قبل بطور رہبرِ اعلیٰ تقرری کے بعد مجتبیٰ خامنہ ای کے متعدد بیانات منظرِ عام پر آئے ہیں، تاہم اب تک وہ خود سامنے نہیں آئے ہیں۔

    جنیوا میں اقوام متحدہ کے لیے ایرانی سفیر کا اصرار ہے کہ رہبرِ اعلی ’سکیورٹی وجوہات‘ کی بنا پر منظرِ عام پر نہیں آئے ہیں۔

  4. اصفہان یونیورسٹی پر حملہ: پاسدارانِ انقلاب نے خطے میں اسرائیلی اور امریکی یونیورسٹیوں پر حملوں کی وارننگ جاری کردی, بی بی سی فارسی

    اصفہان یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کا کہنا ہے کہ اس پر آج دن میں دو مرتبہ اسرائیل اور امریکہ نے حملے کیے ہیں۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق ابتدائی اطلاعات سے معلوم ہوتا ہے کہ یونیورسٹی کے ایک ریسرچ انسٹی ٹیوٹ پر حملے کے باعث دیگر عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا ہے اور عملے کے چار اراکین زخمی ہوئے ہیں۔

    اس کے ردِ عمل میں ایران کے پاسداران انقلاب نے مغربی ایشیا میں قائم امریکی اور اسرائیلی یونیورسٹیوں کو ’جائز ہدف‘ قرار دیتے ہوئے ان کے عملے کے اراکین، اساتذہ اور طلبہ کو کہا ہے کہ وہ ’اپنی جانوں کے تحفظ کے لیے ان یونیورسٹیوں سے ایک کلومیٹر دور چلے جائیں۔‘

    اس کے بعد امریکن یونیورسٹی آف بیروت نے اعلان کیا ہے کہ ایران کی دھمکی کے سبب اگلے دو دن تک صرف آن لائن کلاسز کا انعقاد ہو گا۔

  5. تصدیق شدہ تصاویر: سعودی ہوائی اڈے پر امریکی طیارے کو شدید نقصان پہنچا ہے, ایما پینگیلے اور شایان سرداری زادہ، بی بی سی ویریفائی

    تصدیق شدہ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی عرب کے ایک فضائی اڈے پر موجود امریکی کمانڈ اینڈ کنٹرول کا ایک طیارہ تباہ ہو گیا ہے۔

    بظاہر یہ تصاویر سب سے پہلے ایک فیس بک پیج نے شیئر کی تھیں جو امریکی فوج سے متعلق خبریں پوسٹ کرتا ہے۔ ان میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک ای–3 سینٹری طیارہ ٹوٹ کر دو دو حصوں میں تقسیم ہو گیا ہے۔

    ہم تصدیق کر چکے ہیں کہ یہ تصاویر ریاض سے 100 کلومیٹر دور پرنس سلطان ایئر بیس میں بنائی گئی تھیں۔ ان تصاویر میں نظر آنے والی چیزیں، جن میں ستون، ذخیرہ گاہیں اور علاقائی نشانات شامل ہیں، سیٹلائٹ سے لی گئی تصاویر سے مطابقت رکھتی ہیں۔

    بی بی سی ویریفائی نے بھی 11 مارچ کو لی گئی ایک سیٹلائٹ تصویر میں اسی مقام پر ایک ای تھری طیارہ دیکھا تھا۔ تاہم ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ دونوں ایک ہی طیارہ ہیں یا نہیں۔

    ایک تصدیق شدہ تصویر میں طیارے کی دُم پر لکھا ہوا نمبر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ اس نمبر کا سہارا لیتے ہوئے ہم نے فلائٹ ریڈار 24 کے ڈیٹا کا جائزہ لیا اور معلوم ہوا کہ اس طیارہ نے 18 مارچ کو ہوائی اڈے کے قریب پرواز کی تھی۔

    جمعے کو لی گئی ایک سیٹلائٹ تصویر میں فضائی اڈے کے رن پر آگ لگی ہوئی دکھائی دیتی ہے، جو ای–3 سے تقریباً 1,600 میٹر (5,200 فٹ) کے فاصلے پر مشرق کی جانب ہے۔ یہ واضح نہیں کہ ای–3 کو اسی حملے میں نقصان پہنچا تھا یا نہیں۔

    جمعے کو امریکی عہدیدار نے روئٹرز کو بتایا تھا کہ ایرانی حملے میں ان کے 12 اہلکار زخمی ہوئے ہیں، جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔

  6. سعودی وزیرِ خارجہ کی وزیرِ اعظم شہباز شریف سے ملاقات: ’پاکستان ہمیشہ سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑا رہے گا‘

    سعودی عرب کے وزیرِ خارجہ فیصل بن فرحان نے پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف سے وزیرِ اعظم ہاؤس میں ملاقات کی ہے۔

    وزیرِ اعظم ہاؤس سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ملاقات کے دوران وزیر اعظم شہباز شریف نے ’موجودہ بحران کے دوران سعودی عرب کی جانب سے اختیار کردہ غیر معمولی تحمل کو سراہا اور یقین دہانی کروائی کہ پاکستان ہمیشہ سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑا رہے گا۔‘

    بیان کے مطابق وزیرِ اعظم شہباز شریف نے سعودی وزیر خارجہ کو موجودہ بحران کے دوران پاکستان کی سفارتی کوششوں سے آگاہ کیا، جن میں کشیدگی کم کرنے اور امریکہ و ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوششیں شامل ہیں۔

    اس ملاقات میں نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، قومی سلامتی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل محمد عاصم ملک اور وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی طارق فاطمی بھی موجود تھے۔

  7. ایرانی میزائل حملے کے نتیجے میں اسرائیلی انڈسٹریل کمپلیکس میں اگ لگ گئی

    اسرائیلی میڈیا پر نشر ہونے والی اطلاعات کے مطابق ایرانی میزائل حملے کے نتیجے میں ملک کے جنوب میں واقع صحرائے نقب کے ایک انڈسٹریل مقام پر آگ لگ گئی ہے۔

    اسرائیل کے سرکاری میڈیا کان، چینل 12 اور ٹائمز آف اسرائیل کی جانب سے شیئر کی گئی فوٹیج میں ایک مقام سے اٹھتا ہوا دھواں دیکھا جا سکتا ہے، جو ان کے مطابق ایک انڈسٹریل کمپلیکس ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ یہ نقصان ایرانی میزائل کا ایک ٹکڑا گرنے سے ہوا ہے۔

  8. اسلام آباد میں پاکستان، ترکی، سعودی عرب اور مصر کے وزرائے خارجہ کا اجلاس ختم

    اسلام آباد میں خطے کی صورتحال اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے حوالے سے اہم اجلاس ختم ہو چکا ہے، جس میں پاکستان، ترکی، مصر اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ شریک تھے۔

  9. تہران میں ایک عمارت پر حملہ، قطری ٹی وی کے دفتر کو بھی نقصان پہنچا, بی بی سی ویریفائی

    ایک تصدیق شدہ ویڈیو میں شمال مشرقی تہران میں واقع ایک عمارت کو پہنچنے والے نقصان کو دیکھا جاسکتا ہے جہاں قطری ٹی وی نیٹ ورک العربی کا دفتر واقع ہے۔

    ہراوی چوک کے قریب وفامنش سٹریٹ سے بنائی گئی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اس عمارت کی کھڑکیاں ٹوٹی ہوئی ہیں، جبکہ ملبہ اور گرد و غبار پورے علاقے میں پھیلا ہوا ہے۔ عمارت پر موجود تحریروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہاں ایک بیوٹی سیلون، ایک کیفے اور ایک دفتر بھی واقع ہیں۔

    ایک اور ویڈیو، جو العربی کے نمائندے حازم کلاس نے بنائی ہے، میں عمارت کے اندر ہونے والے نقصان کو دیکھا جا سکتا ہے۔ حازم کلاس نے عمارت کے باہر بھی ویڈیو بنائی، جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایرانی شہری ٹوٹی پھوٹی گاڑیوں کے قریب جمع ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ ساتھ والی عمارتوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔

    العربی کی جانب سے بھی ایک ویڈیو شیئر کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ تہران میں اس کے دفتر کو ایک میزائل حملے میں نقصان پہنچا ہے۔ چینل کا کہنا تھا کہ اس کا عملہ محفوظ ہے، لیکن ’بڑا مادی نقصان‘ ہوا ہے۔

    ان ویڈیوز سے فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوتا کہ اس حملے کا ہدف کیا تھا۔

    بی بی سی ویریفائی نے اسرائیلی اور امریکی فوج سے اس حملے پر موقف جاننے کے لیے رابطہ کیا ہے۔

  10. اتوار کو 16 ایرانی بیلسٹک میزائل اور 42 ڈرون حملے روکے گئے: متحدہ عرب امارات

    متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے اتوار ایران کی طرف سے فائر کیے گئے 16 بیلسٹک میزائلوں اور 42 ڈرونز کو روکا ہے۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں وزارتِ دفاع کا کہنا تھا کہ اس تنازع کی شروعات کے بعد سے اب تک اس کے فضائی دفاعی نظام نے ایران کے 414 بیلسٹک میزائلوں، 15 کروز میزائلوں اور ایک ہزار 914 ڈرونز کو روکا ہے۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اب تک ان حملوں میں مسلح افواج کے دو اہلکار، ایک مراکشی سرکاری اہلکار اور آٹھ غیرملکی باشندے ہلاک ہو چکے ہیں۔

  11. مشرقِ وسطیٰ جنگ: پاکستان، ترکی، سعودی عرب اور مصر کے وزرائے خارجہ کا اجلاس اسلام آباد میں جاری

    اسلام آباد میں خطے کی صورتحال اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے حوالے سے اہم اجلاس شروع ہو چکا ہے، جس میں پاکستان، ترکی، مصر اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ شریک ہیں۔

    پاکستان کے دفترِ خارجہ کے مطابق اجلاس کے دوران چاروں ممالک کے وزرائے خارجہ خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال اور باہمی مفادات کے معاملات پر مشاورت کریں گے۔

    خیال رہے پاکستان اس وقت امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کروانے کی کوشش کر رہا ہے اور اس بات کی بھی تصدیق ہو چکی ہے کہ امریکہ کا 15 نکاتی مجوزہ امن منصوبہ اسلام آباد کے ذریعے تہران بھیجا گیا تھا۔

  12. پاسدارانِ انقلاب کا اسرائیل پر نئے میزائل حملے کرنے کا اعلان

    ایران کے پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ آج اس کی جانب سے اسرائیل پر تازہ حملے کیے گئے ہیں۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کا کہنا تھا کہ خطے میں امریکی اور اسرائیلی اہداف کو لبنان میں اسرائیلی حملے میں ہلاک ہونے والے صحافیوں کی یاد میں نشانہ بنایا گیا ہے۔

    آج صبح اسرائیلی فوج کی جانب سے کہا گیا تھا کہ اس کا فضائی دفاعی نظام ایران کی طرف سے فائر کیے گئے میزائلوں کو روک رہا ہے۔

    متاثرہ علاقوں میں لوگوں کو محفوظ پناہ گاہوں میں منتقل ہونے کی ہدایات دی گئیں تھیں۔

  13. ایرانی مسلح افواج امریکی فوجیوں کا انتظار کر رہی ہیں: قالیباف

    ایران کی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ ’دشمن عوامی سطح پر مذاکرات کے اشارے دیتا ہے جبکہ خفیہ طریقے سے زمینی حملے کی منصوبہ بندی کر ر ہا ہے۔‘

    ایرانی میڈیا اداروں کے مطابق قالیباف کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ ’15 نکاتی فہرست کے ذریعے وہ چیزیں حاصل کرنا چاہتا ہے جو وہ جنگ کے ذریعے نہیں حاصل کر سکا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ایران کی مسلح افواج ’امریکی فوجیوں کے ملک میں داخل ہونے کا انتظار کر رہی ہیں تاکہ ان پر آگ برسا سکیں۔‘

  14. سعودی وزیرِ خارجہ پاکستان پہنچ گئے

    سعودی عرب کے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان پاکستان کے دفترِ خارجہ پہنچ گئے ہیں، جہاں نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے ان کا استقبال کیا۔

    پاکستان دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ دونوں وزرائے خارجہ خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر جامع مشاورت کریں گے۔

  15. لبنان: اسرائیلی حملے میں ہلاک ہونے والے صحافیوں کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی

    اسرائیلی حملے میں ہلاک ہونے والے تین لبنانی صحافیوں کی نمازِ جنازہ ادا کر دی گئی ہے۔

    بی بی سی کو موصول ہونے والی تصاویر میں دوستوں اور اہلخانہ کو ہلاک ہونے والے صحافیوں فاطمہ فیتونی، محمد فیتونی اور علی شعیب کی میتیں اٹھائے دیکھا جا سکتا ہے۔

    فاطمہ فیتونی اور محمد فیتونی بیروت کے المیادین ٹی وی سے وابستہ تھے، جبکہ علی شعیب حزب اللہ سے منسلک المنار ٹی وی کے لیے کام کرتے تھے۔

    گذشتہ روز اسرائیل نے اپنی ایک پوسٹ میں اس حملے کی تصدیق کی تھی اور کہا تھا کہ علی شعیب ’صحافی کے بھیس میں‘ حزب اللہ کے ایک کارندے تھے۔

  16. سعودی عرب کا گذشتہ چند گھنٹوں میں 10 ڈرونز روکنے کا دعویٰ

    سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ اس نے گذشتہ چند گھنٹوں میں 10 ڈرونز کو روکا ہے۔

    متحدہ عرب امارات اور کویت سمیت متعدد خلیجی ریاستوں سے بھی رات کو حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔

  17. برطانیہ: ڈربی میں گاڑی کی ٹکر سے سات راہگیر زخمی، انڈیا سے تعلق رکھنے والا شخص اقدامِ قتل کے الزام میں گرفتار

    برطانیہ کے شہر ڈربی کے علاقے فریئر گیٹ پر ایک گاڑی کی ٹکر سے سات افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ یہ سات افراد اس وقت زخمی ہوئے جب ایک سیاہ سوزوکی سوئفٹ کار نے راہگیروں کو ٹکر ماری، تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ ’عوام کو اب مزید کوئی خطرہ نہیں ہے۔‘

    زخمی ہونے والے تمام افراد کی حالت خطرے سے باہر ہے اور اس واقعے میں کوئی بھی شخص ہلاک نہیں ہوا۔

    اس واقعے کی تحقیقات جاری ہے اور پولیس اس کے پیچھے ’محرکات کا کھلے دماغ سے جائزہ لے رہی ہے۔‘

    واقعے کے بعد ایک شخص کو لوگوں کو زخمی کرنے کے ارادے سے خطرناک ڈرائیونگ کرنے اور اقدامِ قتل کے الزام میں حراست میں لیا گیا ہے اس شخص کی عمر 30 کے پیٹے میں ہے اور آبائی تعلق انڈیا سے ہے۔

    واقعے کے بعد ایجوکیشن سیکریٹری بریجٹ فلپس نے بی بی سی کو بتایا کہ: ’میری دعائیں متاثر ہونے والے تمام افراد کے ساتھ ہیں، جو اس میں زخمی ہوئے ہیں اور جن کے اہلخانہ کو تکلیف پہنچی ہے۔‘

    ’پولیس اس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔ ہمارا نہیں خیال کے عوام کو پریشان ہونے کی ضرورت ہے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’پولیس نے ایک شخص کو گرفتار کر لیا ہے اور سیکریٹری داخلہ کو آگاہ رکھا جا رہا ہے۔‘

  18. صحافیوں کی ہلاکت کے بعد عالمی ضمیر کو جاگ جانا چاہیے: ایرانی وزیرِ خارجہ

    ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ لبنان میں تین صحافیوں کی ہلاکت نہ صرف خطے اور دُنیا کی میڈیا برادری کے لیے بڑا نقصان ہے بلکہ یہ عالمی ضمیر کے لیے بھی جاگنے کا وقت ہے۔

    خیال رہے کہ حزب اللہ کے زیر انتظام چلنے والے المنار ٹی وی کے رپورٹر علی شعیب اور المبادین سے وابستہ صحافی فاطمہ اور محمد فیتونی جیزین قصبے میں اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے تھے۔

    سوشل میڈیا پوسٹ میں عراقچی نے ان حملوں کو واضح طور پر ’ٹارگٹڈ قتل‘ اور ’سچ بولنے والوں کی آواز کو خاموش کرنے‘ کی کوشش قرار دیا۔

    اسرائیل کی فوج نے تصدیق کی ہے کہ اس نے علی شعیب کو ایک حملے میں مارا ہے، لیکن اس پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ حزب اللہ کے کارکن تھے، تاہم اُنھوں نے صحافی کا رُوپ دھار رکھا تھا۔

    مشرقِ وسطیٰ کے نامہ نگار لکھتے ہیں کہ جنگ شروع ہونے کے بعد یہ دوسرا موقع ہے جب اسرائیل پر لبنان میں صحافیوں کو نشانہ بنانے کا الزام لگایا گیا ہے۔

  19. امریکی جنگی بحری بیڑا یو ایس ایس ٹریپولی 3500 سیلرز اور میرینز کے ہمراہ مشرقِ وسطیٰ پہنچ گیا

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے تصدیق کی ہے کہ ایک امریکی جنگی بحری بیڑا یو ایس ایس ٹریپولی 3500 سیلرز اور میرینز کو لے کر مشرقِ وسطیٰ پہنچ گیا ہے۔

    سینٹکام کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ اس بحری بیڑے کے ہمراہ ایک ٹرانسپورٹ اور سڑائیک فائتر ہوائی جہاز بھی ہے۔

    اس سے قبل واشنگٹن پوسٹ نے رپورٹ کیا تھا کہ پینٹاگون ایران میں کئی ہفتوں کے زمینی آپریشن کی تیاری کر رہا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ یہ واضح نہیں ہے کہ آیا ٹرمپ اس کی منظوری دیں گے یا نہیں۔

  20. مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کی کوششیں، پاکستان میں اتوار اور پیر کو مذاکرات متوقع

    جیسا کہ ہماری نامہ نگار نے ابھی ذکر کیا ہے، خلیج کے ممالک مشرق وسطیٰ میں مستقبل میں ہونے والے کسی بھی امن مذاکرات میں اپنی رائے دینے کے خواہشمند ہیں۔

    سعودی عرب کے وزیر خارجہ آج پاکستان میں اپنے مصری اور ترک ہم منصبوں کے ساتھ مل کر خطے میں کشیدگی کو کم کرنے کی کوششوں پر بات چیت کریں گے۔

    توقع ہے کہ یہ مذاکرات اتوار اور پیر کو ہوں گے۔

    ریڈیو پاکستان کے مطابق پاکستان کے وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار اتوار کو چار ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کی صدارت کریں گے۔

    اجلاس میں شرکت کے لیے ترکی اور مصر کے وزرائے خارجہ سنیچر کی شب ہی اسلام آباد پہنچ گئے تھے جبکہ سعودی وزیر خارجہ بھی اتوار کو پاکستان پہنچ رہے ہیں۔