پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ انھوں نے سعودی
عرب، ترکی اور مصر کے وزرائے خارجہ کے ساتھ اجلاس میں خطے میں جنگ کے جلد اور مکمل
خاتمے کے لیے متعدد طریقوں پر غور کیا ہے۔
اتوار کو مصر، سعودی عرب
اور مصر کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کی میزبانی کرنے کے بعد اسحاق ڈار کا کہنا تھا
کہ تمام وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا ہے کہ یہ جنگ کسی کے مفاد میں نہیں ہے اور اس
کے سبب تباہی اور اموات ہی ہوں گے۔
پاکستانی وزیرِ خارجہ نے
مزید کہا کہ ’میں نے وزرائے خارجہ کو اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان
ممکنہ مذاکرات کے امکانات کے حوالے سے بھی آگاہ کیا ہے۔‘
’وزرائے خارجہ نے اس اقدام
کے لیے بھرپور حمایت کا اظہار کیا ہے۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان
نے خطے میں اور بین الاقوامی برداری میں شراکت داروں سے مسلسل رابطے برقرار رکھے
ہیں۔ ہم اس جنگ خاتمے کے لیے کی جانے والی ہر کوشش کا حصہ رہے ہیں۔‘
پاکستانی وزیرِ خارجہ نے
مزید بتایا کہ یہ خوشی کی بات ہے کہ ایران اور امریکہ نے مذاکرات میں سہولت کاری
کے لیے پاکستان پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔
’آنے والے دنوں فریقین کے
درمیان مذاکرات کی میزبانی اور سہولت کاری پاکستان کے لیے اعزاز کی بات ہوگی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ انھوں
نے چین کے وزیرِ خارجہ اور اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے بھی فون پر بات کی ہے
اور ان دونوں نے امن کے لیے پاکستان کے اقدام کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے۔
بعد ازاں پاکستان کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے ایک بیان جاری کیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ یہ پاکستان،
سعودی عرب، ترکی اور مصر کے درمیان مشاورت کے لیے ہونے والا دوسرا اجلاس ہے۔ اس سے
قبل اس معاملے پر پہلا اجلاس 19 مارچ 2026 کو ریاض میں منعقد ہوا تھا۔
بیان کے مطابق، پاکستان کے وزیرِ خارجہ اسحاق دار کا کہنا ہے کہ وزرائے خارجہ کے
درمیان موجودہ علاقائی صورتحال پر بہت تفصیلی بات چیت ہوئی اور خطے میں جنگ کے جلد
اور مستقل خاتمے کے ممکنہ طریقوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ وزرائے خارجہ نے اس
بات پر بھی اتفاق کیا کہ اس مشکل وقت میں امت مسلمہ کا اتحاد انتہائی اہمیت کا حامل
ہے۔
انھوں نے کہا کہ وزرائے خارجہ نے صورت حال پر قابو پانے، فوجی کشیدگی کے خطرے کو
کم کرنے اور تنازع کے فریقین کے درمیان مذاکرات کے لیے سازگار حالات پیدا کرنے کے لیے آپس میں اتحاد کی ضرورت پر زور دیا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ وزرائے خارجہ نے قرار دیا کہ مذاکرات اور سفارت کاری ہی
تنازعات کو روکنے اور علاقائی امن اور ہم آہنگی کی فروغ کے لیے واحد قابل عمل راستہ
ہے۔ اسحاق ڈار کا مزید کہنا تھا کہ بات چیت کے دوران اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں
بشمول ریاستوں کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام پر زور دیا گیا۔
’ایران اور امریکہ مذاکرات کی میزبانی کے لیے پاکستان کو چین کی مکمل حمایت حاصل ہے‘
اسحاق ڈار کا کہنا
تھا کہ اس معاملے پر ان کی چینی وزیر خارجہ وانگ یی کے ساتھ ٹیلیفون پر تفصیلی بات
چیت ہوئی ہے۔
’چین ایران اور امریکہ
مذاکرات کی میزبانی کے لیے پاکستان کے اقدام کی مکمل حمایت کرتا ہے۔‘
ان کا مزید کہنا
تھا کہ ان کی اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے بھی ٹیلی فونک بات چیت ہوئی۔ اسحاق
ڈار کا کہنا تھا کہ سیکرٹری جنرل نے بھی پاکستان کے امن اقدام کی مکمل حمایت کا اظہار
کیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے
کہ پاکستان کے وزیرِ خارجہ نے مختلف ممالک میں اپنے ہم منصبوں کے ساتھ بات چیت کی ہے
اور ان سب نے پاکستان کی کوششوں کے لیے مکمل حمایت اور اعتماد کا اظہار کیا ہے۔