آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

کسی کو پارلیمنٹ کی عزت و توقیر کو مجروح کرنے کا حق حاصل نہیں: سپیکر قومی اسمبلی کی رولنگ

سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کا کہنا ہے کہ کسی کو پارلیمنٹ کی عزت اور توقیر کو مجروح کرنے کا حق حاصل نہیں ہے اور پارلیمنٹ کے تقدس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

خلاصہ

  • اردن کے شاہ عبداللہ امریکہ کے صدر ٹرمپ سے ملاقات کے لیے وائٹ ہاؤس پہنچے ہیں۔
  • ملاقات سے قبل ٹرمپ نے غزہ کے شہریوں کو قبول نہ کرنے کی صورت میں اردن اور مصر کی امداد روکنے کی دھمکی دی ہے۔
  • شاہ عبداللہ نے واضح کیا ہے کہ یہ منصوبہ اردن میں افراتفری اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی کا سبب بن سکتا ہے۔
  • شامی صدر احمد الشراح کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کے لیے اخلاقی اور سیاسی طور پر یہ درست نہیں کہ وہ فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے نکالنے کی کوشش کریں۔
  • اسرائیل کے وزیراعظم بنیامن نتن یاہو نے کہا ہے کہ ہم اس وقت تک سخت کارروائیاں جاری رکھیں گے جب تک کہ تمام یرغمالیوں، زندہ اور مرنے والوں کو واپس نہیں لاتے۔
  • آئی ایم ایف کے خصوصی وفد نے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سے ملاقات کی ہے جس میں چیف جسٹس نے وفد کو عدالتی نظام اور اصلاحات سے متعلق آگاہ کیا۔
  • اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے حماس سے اپیل کی ہے وہ یرغمالیوں کی رہائی پہلے سے طے شدہ منصوبے کے تحت جاری رکھیں۔
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اگر 15 فروری تک حماس نے تمام اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا نہ کیا تو جنگ بندی معاہدہ ختم کر دینا چاہیے۔

لائیو کوریج

  1. اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی حماس سے یرغمالیوں کو طے شدہ منصوبے کے تحت رہا کرنے کی اپیل

    اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے حماس سے اپیل کی ہے وہ یرغمالیوں کی رہائی پہلے سے طے شدہ منصوبے کے تحت جاری رکھیں۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری ایک پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ ہمیں ہر قیمت پر غزہ میں دوبارہ جنگ شروع ہونے سے روکنا ہوگا ورنہ یہ بہت بڑے سانحے کا باعث بن سکتا ہے۔

    انتونیو گوتریس کا کہنا تھا کہ دونوں حریف جننگ بندی معاہدے کی مکمل پابندی کریں اور مذاکرات دوبارہ شروع کیے جائیں۔

    دوسری جانب، خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق حماس کے ترجمان سمیع ابو ظہری کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اگر اسرائیلی یرغمالیوں کی واپسی چاہتے ہیں تو انھیں یہ بات یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ دونوں حریفوں کو معاہدی پاسداری کرنی ہوگی۔

    سمیع ابو ظہری کا مزید کہنا تھا کہ دھمکیوں کی کوئی اہمیت نہیں اور ان سے صرف معاملات مزید پیچیدہ ہوتے ہیں۔

    یاد رہے کہ سوموار کے روز حماس کے عسکری ونگ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ ’وہ مزید اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کا عمل ’اگلی اطلاع تک‘ معطل کر رہے ہیں۔

    حماس کا کہنا ہے کہ گذشتہ تین ہفتوں کے دوران اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی جنگ بندی معاہدے کی ’خلاف ورزیوں میں شمالی غزہ میں بے گھر ہونے والے افراد کی واپسی میں تاخیر ہوئی ہے، غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں میں انھیں شیلنگ اور فائرنگ سے نشانہ بنانا اور جس طرح اتفاق ہوا تھا اس طرح انسانی امداد کو یقینی نہ بنانا‘ شامل ہے۔

    حماس کے اعلان پر ردِعمل دیتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تجویز دی تھی کہ اگر سنیچر (15 فروری) تک حماس نے تمام اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا نہ کیا تو جنگ بندی معاہدے کو ختم کر دینا چاہیے۔

    انھوں نے حماس کو سنیچر کے روز دن 12 بجے تک وقت دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک، ایک یا دو، دو کر کے نہیں بلکہ تمام اسرائیلی یرغمالیوں کو ایک ساتھ رہا کرنا چاہیے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر یرغمالی رہا نہ کیے گئے تو قہر ٹوٹ پڑے گا۔

    جب اُن سے پوچھا گیا کہ کیا اس سے ان کی مراد اسرائیل کی جانب سے جوابی کارروائی ہے تو اُن کا کہنا تھا کہ ’آپ کو پتہ چل جائے گا اور اُن کو بھی۔ حماس کو پتا چل جائَے گا کہ میرا کیا مطلب ہے۔‘

  2. پیکا ترمیمی ایکٹ کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست کی سماعت: ’اگر اس قانون پر عمل ہو گیا تو پھر صحافی صرف موسم کا حال ہی بتا سکیں گے‘

    پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ (پی ایف یو جے) اور صحافیوں کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیکا ترمیمی ایکٹ کے خلاف دائر درخواست کی سماعت جسٹس انعام امین منہاس نے کی۔

    منگل کے روز درخواست گزاروں کے وکیل عمران شفیق ایڈوکیٹ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پیکا کا قانون اتنی جلد بازی میں بنایا گیا کہ شقوں کے نمبر بھی درست درج نہیں کیے گئے۔

    قانون میں موجود غلطیوں کی مثال دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پیکا قانون میں درخواست دہندہ کی دو تعریفیں دی گئی ہیں جو کہ ایک دوسرے سے متصادم ہیں۔

    عمران شفیق کا کہنا تھا کہ پیکا کے تحت بنائی گئی کمپلینٹ اتھارٹی وہی ہے جو پہلے سے پیمرا قانون میں موجود ہے۔

    پی ایف یو جے کے وکیل کا کہنا تھا کہ پیکا قانون کے کیسز سننے کے لیے ٹریبیونل حکومت خود قائم کرے گی جبکہ کوئی بھی ٹریبیونل متعلقہ ہائی کورٹ سے مشاورت کے بغیر نہیں بنایا جا سکتا۔

    پی ایف یو جے کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ پیکا قانون میں فیک نیوز کی تعریف بہت ہی کمزور رکھی گئی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ واٹس ایپ گروپ میں کوئی شخص مزاق میں بھی لکھ دے کہ اس نے دوسری شادی کر لی ہے تو اس کے خلاف پیکا قانون کے تحت مقدمہ درج ہو سکتا ہے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ بار کے صدر ریاست علی آزاد عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ قانون آئین کے آرٹیکل 19 اور 19 اے کی خلاف ورزی میں بنایا گیا ہے۔

    دورانِ سماعت جسٹس انعام نے استفسار کیا کہ آپ کیا کہتے ہیں فیک نیوز کی اشاعت رکنی چاہیے یا نہیں؟

    ان کا کہنا تھا کہ فیک نیوز کا مسئلہ تو ہے۔

    ریاست علی آزاد کا کہنا تھا کہ صحافی اپنی خبر کا سورس کبھی نہیں بتاتا، اگر پیکا پر عمل ہو گیا تو پھر صحافی صرف موسم کا حال ہی بتا سکیں گے۔

    درخواست گزاروں کے وکیل نے پیکا ترمیمی ایکٹ کو معطل کرنے کی استدعا کر دی۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے عدالت کی معاونت کے لیے اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کر دیا۔

    جسٹس انعام کا کہنا تھا کہ اگر کوئی مسئلہ ہو تو بتائیں ہم یہیں بیٹھے ہیں۔

    گذشتہ ماہ پارلیمان کے دونوں ایوانوں سے منظوری کے بعد صدر آصف علی زرداری نے الیکٹرانک کرائمز کی روک تھام کے لیے پیکا ترمیمی بل 2025 کی توثیق کردی تھی۔

  3. ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کرپشن انڈیکس: پاکستان دو درجے تنزلی کے بعد 135ویں پوزیشن پر پہنچ گیا

    بدعنوانی پر نظر رکھنے والی عالمی تنظیم ’ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل‘ نے دنیا کے 180 ممالک میں بدعنوانی کے تاثر کے بارے میں اپنی سالانہ رپورٹ کرپشن پرسیپشن انڈیکس‘ جاری کی ہے جس کے مطابق پاکستان کی درجہ بندی دو پوائنٹس کمی کے بعد 135 پر پہنچ گئی ہے۔

    گذشتہ سال پاکستان 29 پوائنٹس کے ساتھ 133ویں پوزیشن پر تھا۔

    ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل اپنی رپورٹ کو مرتب کرنے کے لیے بدعنوانی جانچنے والے 13 مختلف سرویز اور مختلف ڈیٹا ذرائع استعمال کرتا ہے۔ یہ معلومات اکٹھا کرنے والے ادارے عالمی طور پر معتبر سمجھے جاتے ہیں، جیسا کہ ورلڈ بینک اور ورلڈ اکنامک فورم وغیرہ۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ چند سالوں میں پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث کافی مشکلات کا سامنا رہا ہے۔ تاہم گورننس کے نظام میں خامیوں اور پالیسی پر عمل درآمد نہ ہونے اور 2017 کے موسمیاتی تبدیلی کے ایکٹ کے تحت اداروں کے قیام میں تاخیر کے باعث 2030 تک موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے 348 ارب ڈالرز کے فنڈز کے حصول کا ہدف مشکل دکھائی دیتا ہے۔

    درجہ بندی اور سکور میں کیا فرق ہے؟

    ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں ممالک کے لیے ان کا انفرادی سکور شمار کیا جاتا ہے جس کے بعد ان کی درجہ بندی مرتب کی جاتی ہے۔

    سکور کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ کسی بھی ملک کے پبلک سیکٹر میں ہونے والی کرپشن کے بارے میں عوامی تاثر کیا ہے۔ اس کے مطابق اگر کسی ملک کا سکور صفر ہے تو وہ انتہائی کرپٹ ملک ہے اور اگر 100 ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہاں بدعنوانی بالکل نہیں ہے۔

    اسی سکور کی بنیاد پر ملکوں کی درجہ بندی طے کی جاتی ہے اور اگر فہرست میں ممالک کی تعداد میں اضافہ ہو تو درجہ بندی تبدیل ہو سکتی ہے۔

    چناچہ اس کا مطلب یہ ہے کہ درجہ بندی سے زیادہ کسی بھی ملک کے سکور کی زیادہ اہمیت ہے جو کسی بھی ملک میں ہونے والی بدعنوانی میں اضافہ یا کمی کو جانچتا ہے۔

    اس اعتبار سے دیکھا جائے تو پاکستان کے لیے گذشتہ سال کافی بُرا رہا ہے اور سنہ 2015 کے بعد پہلی بار پاکستان کا سکور 30 سے بھی کم ہو گیا ہے۔

    خطے کے دیگر ممالک میں کیا حالات ہیں؟

    جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک کی کرپشن انڈیکس پر درجہ بندیوں پر نظر ڈورائی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ انڈیا ایک پوائنٹ کمی کے بعد درجہ بندی پر 98ویں پوزیشن پر ہے۔ 2024 میں انڈیا کا سکور 38 رہا۔

    بنگلہ دیش کا سکور ایک پوائنٹ کمی کے 26 ہو گیا جبکہ درجہ بندی پر وہ 150ویں نمبر پر ہیں۔

    کرپشن انڈیکس میں افغانستان تین درجے تنزلی کے بعد 165ویں نمبر پہنچ گیا ہے۔ افغانستان کا مجموعی سکور 17 ہے۔

  4. ایلون مسک کی زیرِ قیادت سرمایہ کاری گروپ کی 97.4 ارب ڈالرز میں اوپن اے آئی خریدنے کی پیشکش

    ایلون مسک کی زیرِ قیادت سرمایہ کاروں کے ایک گروپ نے چیٹ جی پی ٹی بنانے والی کمپنی اوپن اے آئی کو 97.4 ارب امریکی ڈالرز کے عوض خریدنے کی پیشکش کی ہے۔

    سوموار کے روز مسک کے وکیل مارک ٹوبروف نے تصدیق کی ہے کہ انھوں نے اوپن اے آئی کے ’تمام اثاثوں‘ کے لیے بولی کمپنی کے بورڈ کو جمع کروا دی ہے۔

    دنیا کے امیر ترین شخص اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی سمجھے جانے والے ایلون مسک اور اوپن اے آئی کے سی ای او سیم آلٹمین کے درمیان اس سٹارٹ اپ کے مستقبل کو لے کر کافی وقت سے کشمکش چل رہی ہے۔

    اس پیشکش کے جواب میں سیم آلٹمین نے مسک کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اپنے پیغام میں لکھا ہے کہ، ’نہیں بہت شکریہ، لیکن اگر آپ چاہیں تو ہم 9.74 ارب ڈالرز کے عوض ٹوئٹر کو خریدنے کے لیے تیار ہیں۔‘

    مسک کی طرف سے کی جانے والی 97.4 ارب ڈالرز کی پیشکش گذشتہ سال اکتوبر میں ہونے والی فنڈنگ ​​راؤنڈ میں کمپنی کی لگائی جانے والی قدر 157 ارب ڈالرز سے کہیں کم ہے۔ حالیہ فنڈنگ ​​راؤنڈ میں مبینہ طور پر اب فرم کی قیمت تین سو ارب ڈالرز کے قریب لگائی گئی ہے۔

    اکثر اوپن اے آئی کو مصنوعی ذہانت کو مرکزی دھارے میں لانے اور اس شعبے میں بڑی سرمایہ کاری کی راہ ہموار کرنے کا کریڈٹ دیا جاتا ہے۔

    مسک اور آلٹمین نے 2015 میں اوپن اے آئی کی بنیاد ایک غیر منافع بخش کمپنی کے طور پر رکھی تھی۔ تاہم ایلون مسک نے 2018 میں اوپن کو خیرباد کہہ دیا جس کے بعد سے ان کے اور آلٹمین کے مابین تعلقات کشیدہ ہیں۔

    کہا جا رہا ہے آلٹمین کمپنی کو ایک منافع بخش ادارہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    ایلون مسک ان کے اس اقدام کے مخالف ہیں۔ مسک کا کہنا ہے کہ کمپنی انسانیت کے فائدے کے لیے مصنوعی ذہانت کی تیاری کے اپنے بنیادی مشن سے پیچھے ہٹ رہی ہے۔

    لیکن اوپن اے آئی کا کہنا ہے کہ کمپنی کو منافع بخش فرم میں تبدیل کرنا ضروری ہے تاکہ بہترین مصنوعی ذہانت کے ماڈلز تیار کرنے کے لیے درکار رقم کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔

  5. ڈونلڈ ٹرمپ کا غزہ منصوبہ: ’حماس شاید سوچنے پر مجبور ہو گئی ہے کہ اب جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کے لیے مذاکرات کا کوئی فائدہ بھی ہے؟‘, بی بی سی کے سفارتی نامہ نگار پال ایڈیمز کا تجزیہ

    کیا وجہ ہے کہ حماس نے مزید اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی سے محض چند روز قبل رہائی کا عمل مؤخر کرنے کا اعلان کیا ہے؟

    اپنے ایک بیان میں حماس نے رہائی میں اس تعطل کو اسرائیل کے لیے ایک ’وارننگ‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ بندی معاہدے کے ثالثوں کے پاس کافی وقت ہے کہ ’وہ قابض (اسرائیل) پر (معاہدے سے متعلق) اپنی ذمہ داریاں نبھانے کے لیے زور ڈالیں۔‘

    بیان میں کہا گیا ہے کہ اب بھی سنیچر (15 فروری) کے روز یرغمالیوں کی ’رہائی کے دروازے کُھلے ہیں۔‘

    ایسا نظر آتا ہے کہ جیسے حماس اس تعطل کے ذریعے مسئلے کو حل کرنے کے لیے وقت دے رہا ہے۔ لیکن یہ تعطل ہے کیا؟

    حماس کی جانب سے دی گئی شکایتوں کی فہرست میں اسرائیل کی جانب سے غزہ سے بے گھر کیے گئے افراد کی اپنے گھروں کو واپسی میں تاخیر، جنگ بندی کے باوجود فائرنگ کرنے اور غزہ میں انسانی امداد کی آمد کو یقینی نہ بنانا شامل ہے۔

    ایسے فلسطینی حکام جن کا حماس سے تعلق نہیں، الزام لگاتے ہیں کہ اسرائیل بے گھر افراد کے لیے آنے والی امداد کی اجازت دینے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہے۔

    ایک ایسے وقت میں جب اسرائیلی حکومت ببانگ دہل فلسطینیوں کو غزہ چھوڑ کر جانے کی ترغیب دے رہی ہے، بے گھر افراد کے لیے عارضی رہائش گاہوں کی اجازت نہ دینے سے فلسطینیوں کے علاقے سے بے دخل کیے جانے کے خوف کو تقویت ملتی ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دیے جانے والے بیانات روزانہ کی بنیاد پر ان خدشات میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔

    امریکی صدر کی جانب سے بظاہر بنا سوچے سمجھے دی جانے والی تجویز کہ غزہ کی تعمیر نو کے دوران بیشتر فلسطینیوں کو وہاں سے چلے جانا چاہیے، اب ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اس مطالبے مں تبدیل ہو گئی ہے کہ تمام افراد کو غزہ سے نکل جانا چاہیے اور امریکہ غزہ کا کنٹرول سنبھال کر وہاں کا انتظام چلائے۔

    ایسے میں جب ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اپنے مطالبے پر عملدرآمد کے لیے زور بڑھتا جا رہا ہے، حماس شاید یہ سوچنے پر مجبور ہو گئی ہے کہ آیا جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے کے لیے مذاکرات کا کوئی فائدہ بھی ہے؟ اور بات چیت کس چیز کے لیے ہو گی؟

    اگر صدر ٹرمپ اپنی تجویز کو لے کر سنجیدہ ہیں تو فلسطینی جانتے ہیں کہ علاقے سے ان کی بے دخلی کا کام اسرائیل کرے گا۔ اس کے لیے انھیں عارضی پناہ گاہوں سے محروم رکھنا کافی نہیں ہو گا بلکہ طاقت کا استعمال بھی کرنا پڑے گا۔

    اب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تجویز دی ہے کہ اگر سنیچر (15 فروری) تک حماس نے تمام اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا نہ کیا تو جنگ بندی معاہدے کو ختم کر دینا چاہیے اور یہ کہ اگر ایسا نہ ہوا تو قہر ٹوٹ پڑے گا۔

    تاہم انھوں نے یہ ضرور کہا ہے کہ یہ اُن کا ذاتی خیال ہے اور اس ضمن میں اسرائیل خود اپنا فیصلہ کر سکتا ہے۔

    ایسے میں جب حماس کو یہ لگ رہا ہے کہ انھیں شاید ایک بار پھر جنگ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، وہ یہ سوچنے پر ضرور مجبور ہوں گے کہ یرغمالیوں کو رہا کر کے انھیں کیا فائدہ ہو سکتا ہے۔

    دوسری جانب رہائی میں تعطل اور ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات یرغمالیوں کے دوستوں اور گھر والوں کی بے چینی میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔

    حماس کی قید میں موجود ایک یرغمالی کے رشتہ دار دودی زلمانووچ کا کہنا ہے کہ ایسے بیانات یقیناً حماس کو مزید ضدی بنا دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ چاہیں گے کہ ٹرمپ اس بارے میں کم ہی بولیں۔

    اسرائیل کے حماس کی جانب سے رہائی کا عمل معطل کیے جانے کے بارے میں اپنے خدشات ہیں۔

    گذشتہ ہفتے رہائی پانے والوں کی حالت کے بعد ان خدشات میں اضافہ ہوا کہ شاید حماس نہیں چاہے گا کہ دنیا باقی یرغمالیوں کو دیکھے جن کی حالتِ زار شاید ان سے بھی بد تر ہے۔

    حماس کی جانب سے دن دہاڑے مسلح جنگجوؤں کی پریڈ اور سابق امریکی وزیرِ خارجہ انٹونی بلنکن کے اس بیان کے بعد کہ جنگ میں حماس کے جتنے جنگجو مارے گئے تھے انھوں نے اتنے ہی سپاہی واپس بھرتی کر لیے ہیں، اب کئی اسرائیلیوں کو یقین نہیں کہ جنگ بندی معاہدہ بر قرار رہے گا یا اسے رہنا بھی چاہیے۔

    فی الحال یہ کہنا قبل ار وقت ہو گا کہ جیسے بہت سارے لوگوں کی پیش گوئی تھی یہ نازک معاہدہ ٹوٹ جائے گا۔ لیکن اتنا ضرور ہے کہ ایک مثبت شروعات کے بعد اس پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔

  6. اگر سنیچر تک تمام یرغمالی رہا نہ کیے گئے تو غزہ جنگ بندی معاہدہ ختم کر دینا چاہیے: ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تجویز دی ہے کہ اگر سنیچر (15 فروری) تک حماس نے تمام اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا نہ کیا تو جنگ بندی معاہدے کو ختم کر دینا چاہیے۔

    انھوں نے حماس کو سنیچر کے روز دن 12 بجے تک وقت دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک، ایک یا دو، دو کر کے نہیں بلکہ تمام اسرائیلی یرغمالیوں کو ایک ساتھ رہا کرنا چاہیے۔

    تاہم امریکی صدر نے زور دیا کہ جنگ بندی ختم کرنے کا فیصلہ اُن کا ذاتی خیال ہے اور اس ضمن میں اسرائیل خود اپنا فیصلہ کر سکتا ہے۔

    اب بھی غزہ میں 76 اسرائیلی یرغمالی میں موجود ہیں جن میں سے 73 کو سات اکتوبر کے حملے کے بعد اغوا کیا گیا تھا جب بقیہ تین یرغمالی گذشتہ تقریباً ایک دہائی سے حماس کی قید میں ہیں۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر یرغمالی رہا نہ کیے گئے تو قہر ٹوٹ پڑے گا۔

    جب اُن سے پوچھا گیا کہ کیا اس سے ان کی مراد اسرائیل کی جانب سے جوابی کارروائی ہے تو اُن کا کہنا تھا کہ ’آپ کو پتہ چل جائے گا اور اُن کو بھی۔ حماس کو پتا چل جائَے گا کہ میرا کیا مطلب ہے۔‘

    حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کے پہلے مرحلے کے تحت حماس کی جانب سے 33 اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی عمل میں لانی جانی تھی اور اس کے بدلے میں اسرائیل کی جیلوں میں قید 1900 فلسطینیوں کو رہائی ملنی تھی۔

    جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے میں اب تک حماس کی جانب سے 16 اسرائیلی یرغمالی رہا کیے جا چکے ہیں جبکہ آئندہ چند روز میں 17 مزید یرغمالیوں کو اسرائیل کے حوالے کیا جانا ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اُن کی اطلاعات کے مطابق حماس کی قید میں موجود آٹھ اسرائیلی یرغمالی ہلاک ہو چکے ہیں۔

    یاد رہے کہ تین مزید یرغمالیوں کو سنیچر (15 فروری) کے روز رہا کیا جانا تھا۔ تاہم سوموار کے روز حماس کے عسکری ونگ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’وہ مزید اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کا عمل ’اگلی اطلاع تک‘ معطل کر رہے ہیں۔‘

    حماس کا کہنا ہے کہ گذشتہ تین ہفتوں کے دوران اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی جنگ بندی معاہدے کی ’خلاف ورزیوں میں شمالی غزہ میں بے گھر ہونے والے افراد کی واپسی میں تاخیر ہوئی ہے، غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں میں انھیں شیلنگ اور فائرنگ سے نشانہ بنانا اور جس طرح اتفاق ہوا تھا اس طرح انسانی امداد کو یقینی نہ بنانا‘ شامل ہے۔

    حماس کا کہنا کہ ’تحریک (حماس) نے اپنے وعدوں کا مکمل احترام کیا ہے۔‘ ان کا کہنا ہے کہ اب یرغمالیوں کی رہائی کا انحصار معاہدے کی شرائط پر عملدرآمد پر ہے۔

    دوسری جانب اسرائیل کے وزیر دفاع نے کہا ہے کہ ’حماس کا اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی روکنے کا اعلان جنگ بندی معاہدے اور یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے کی مکمل خلاف ورزی ہے۔‘

    اسرائیلی وزیر دفاع نے کہا ہے کہ ’میں نے اسرائیلی افواج کو ہدایت کی ہے کہ وہ غزہ میں کسی بھی ممکنہ منظرنامے اور کمیونیٹیز (اسرائیلی شہریوں) کی حفاظت کے لیے مکمل طور پر الرٹ اور ہر سطح پر تیار رہیں۔‘

    اقوام متحدہ نے حماس کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل اور حماس کو جنگ بندی کے نازک معاہدے کے اپنے موقف کی پاسداری کرنی چاہیے۔

    اقوام متحدہ کے ترجمان فرحان حق نے پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ ’ہم اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ تمام فریق جنگ بندی کے تحت اپنے بیان کردہ معاہدوں کی پاسداری کریں اور یہ اہم ہے کہ وہ معاہدے کے تمام متعلقہ پہلوؤں اور تمام متعلقہ ٹائم لائنز کو برقرار رکھیں۔‘

    جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا حماس یرغمالیوں کی رہائی معطل کرنے کا فیصلہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کے مترادف ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ’کسی بھی طرح کی تاخیر‘ ایک ’مسئلہ‘ ہے اور حالات کو مزید خراب کر سکتی ہے۔

  7. جنگ بندی کے لیے کسی بھی قسم کی تاخیر حالات کو مزید خراب کر سکتی ہے: اقوام متحدہ

    اقوام متحدہ نے حماس کی جانب سے یرغمالیوں کی رہائی میں تاخیر کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل اور حماس کو جنگ بندی کے نازک معاہدے کے اپنے موقف کی پاسداری کرنی چاہیے۔

    اقوام متحدہ کے ترجمان فرحان حق نے پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ ’ہم اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ تمام فریق جنگ بندی کے تحت اپنے بیان کردہ معاہدوں کی پاسداری کریں اور یہ اہم ہے کہ وہ معاہدے کے تمام متعلقہ پہلوؤں اور تمام متعلقہ ٹائم لائنز کو برقرار رکھیں۔‘

    یہ پوچھے جانے پر کہ کیا حماس کا پیر کے روز سامنے آنے والا بیان جنگ بندی کی خلاف ورزی کے مترادف ہے تو اس کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ’کسی بھی طرح کی تاخیر‘ ایک ’مسئلہ‘ ہے اور حالات کو مزید خراب کر سکتی ہے۔

    اقوام متحدہ کے ترجمان فرحان حق کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ امن کی جانب جو عمل چل پڑا تھا اُس میں کوئی تاخیر نہ ہو، کوئی تعطل نہ ہو اور معاہدے پر عمل درآمد پہلے سے طے شدہ منصوبے کے مطابق ہو۔‘

  8. سلمان رشدی پر حملہ سے متعلق مقدمے کی کارروائی: استغاثہ نے حملے کے مقام کی تصویر کمرہ عدالت میں تقسیم کردیں, نادین یوسف، بی بی سی نیوز

    برطانوی مصنف سلمان رشدی پر حملہ کرنے والے نوجوان ہادی ماطر کے خلاف مقدمے کی کارروائی کا آغاز ایک وقفے کے بعد دوبارہ ہوا۔

    واضح رہے کہ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق اب گواہوں نے عدالت میں گواہی دینا شروع کر دی ہے، توقع ہے کہ مقدمے کی سماعت ایک ہفتے سے 10 دن تک جاری رہے گی۔

    مقدمے کی سماعت کے دوران ججوں کو حملے کے دن کی ویڈیو اور تصاویر دکھائی جائیں گی۔

    وقفے کے بعد ہونے والے عدالتی کارروائی کا احوال:

    وقفے کے بعد دیبورا سنیا مورے جو کے پیر کے روز اس کیس کی ہونے والی سماعت میں پہلی گواہ کے طور پر پیش ہوئیں انھوں نے اپنی بات کا آغاز کیا۔ واضح رہے کہ مورے شیتوکوا انسٹیٹیوٹ کی نائب صدر اور چیف پروگرام آفیسر بھی ہیں۔

    ڈیبورا سنیا مورے نے جیوری کے سامنے گواہی دیتے ہوئے بتایا کہ ان کی اس شخص پر ایک نظر پڑی جسے سٹیج پر روکا جا رہا تھا۔

    اُن کے مطابق ’وہ (حملہ آور) قد میں لمبا نہیں تھا۔ حملہ آور کے سیاہ، چھوٹے بال، سیاہ آنکھیں اور سیاہ بھنویں تھیں۔‘

    مورے کا مزید کہنا تھا کہ ’انھیں یاد ہے کہ انھوں نے سر سے پاؤں تک سیاہ کپڑے پہنے ہوئے تھے، سوائے ایک کیموفلج شرٹ کے جو حملہ آور نے پہن رکھی تھی۔‘

    استغاثہ جیسن شمٹ نے اپنی گواہی کے دوران کمرہ عدالت میں گواہوں اور دفاع کے وکلا کو اگست 2022 میں حملے کے بعد اس دن ایمفی تھیٹر کی تصاویر پیش کیں تصاویر پیش کیں۔

    جب یہ تصاویر کمرہ عدالت میں تقسیم کی گئیں تو برطانوی مصنف سلمان رشدی پر حملہ کرنے والے نوجوان ہادی ماطر نے بھی اپنے وکلا کے ساتھ ان تصاویر کو دیکھا۔

    مورے کی جانب سے جیوری کے سامنے دیے جانے والے بیان کے بعد دفاع کے وکلا کی جانب سے جرح کی گئی۔

    برطانوی مصنف سلمان رشدی پر حملہ کرنے والے نوجوان ہادی ماطر کی ٹیم کے ایک رکن اینڈریو بروتیگام نے مورے سے چوٹوکوا انسٹی ٹیوشن میں ان کے فرائض کے بارے میں پوچھا، جس میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ عملے کے کتنے ارکان کی نگرانی کرتی ہیں۔

    وکلا کی جانب سے مورے سے ان سے اس دن ان کے فرائض کے بارے میں بھی پوچھا گیا کہ جس دن سلمان رشدی تقریر کرنے والے تھے۔

    مورے کی عدالت میں گواہی مکمل ہونے کے بعد ایک مرتبہ پھر عدالتی کارروائی میں وقفہ کر دیا گیا۔

  9. تل ابیب میں اسرائیلیوں کی بڑی تعداد جمع، یرغمالیوں کی رہائی کا مطالبہ

    اسرائیلی یرغمالی ایلون اوہیل کی 24 ویں سالگرہ کے موقع پر لوگ تل ابیب میں جمع ہوئے ہیں اور غزہ میں باقی رہ جانے والے تمام اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

    ہجوم میں شامل میا گولڈ سٹین نے یوروشلم میں موجود بی بی سی کی نامہ نگار ایلس کڈی کو واٹس ایپ پر بتایا کہ ’اسرائیلی یرغمالیوں کو اب ہر حال میں رہا ہونا چاہیے۔ ایلون اور باقی بے گناہ مغوی ایک سال سے زیادہ عرصے سے انتہائی خوفناک حالات میں ہیں۔‘

    میا گولڈ سٹین نے حماس کی جانب سے پیر کے روز مزید اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کو معطل کرنے کے اعلان کو ’خوفناک‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’ہر اس شخص پر بہت زیادہ دباؤ ہونا چاہیے جو انھیں (اسرائیلی یرغمالیوں کو) حماس کی قید سے رہا کروا سکتا ہے۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’جیسا کہ ہم نے واپس آنے والے آخری یرغمالیوں کی حالت کو دیکھا ہے، یرغمالیوں کی رہائی میں تاخیر ان کی زندگی کے لئے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔‘

    یاد رہے کہ حماس کی جانب سے اسرائیل پر حملے کے روز ایلون کو نووا فیسٹیول سے یرغمال بنا لیا گیا تھا۔ تاہم آج حماس کی قید میں ان کی دوسری سالگرہ ہے۔

  10. اسرائیل کو غزہ میں جنگ کی طرف لوٹنا چاہیے: سابق اسرائیلی وزیر

    اسرائیل کے سابق نیشنل سکیورٹی کے وزیر عمار بن گویر کا کہنا ہے کہ حماس کی جانب سے مزید اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کو معطل کرنے کے اعلان کے بعد حماس کو اس کا حقیقی طور پر ایک ہی جواب ہونا چاہیے اور وہ یہ کہ غزہ پر فضا اور زمین سے بڑے پیمانے پر حملوں کا دوبارہ آغاز کیا جائے۔

    واضح رہے کہ انتہائی دائیں بازو کے سابق اسرائیلی وزیر عمار بن گویر نے غزہ جنگ بندی معاہدے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے جنوری میں اسرائیلی حکومت سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

    عمار بن گویر نے ایکس پر یہ بھی لکھا ہے کہ غزہ کی پٹی تک پہنچنے والی انسانی امداد بشمول بجلی، ایندھن اور پانی کو بھی فل فور بند کر دیا جانا چاہیے۔

    دوسی جانب خبر رساں ادارے روئٹرز نے ایک نامعلوم اسرائیلی عہدیدار کے حوالے سے بتایا ہے کہ بنیامن نتن یاہو نے اپنی سکیورٹی کابینہ کا اجلاس بلا لیا ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یرغمالیوں کی رہائی میں تاخیر کے حماس کے فیصلے کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم کل کے بجائے آج کابینہ کے ساتھ صورتحال کا جائزہ لیں گے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز کی جانب سے یہ بیان سامنے آیا تھا کہ انھوں نے حماس کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے بعد اب اسرائیلی دفاعی افواج کو غزہ میں کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی ہے۔

  11. سلمان رشدی پر حملے کے مقدمے میں ٹرائل کے پہلے روز کیا کارروائی ہوئی؟

    برطانوی مصنف سلمان رشدی پر حملہ کرنے والے نوجوان ہادی ماطر کے خلاف مقدمے کی کارروائی کا آغاز پیر کے روز ہوا۔

    پہلے روز اس مقدمے کے ٹرائل کے دوران استغاثہ نے سلمان رشدی پر ہونے والے حملے کی تفصیلات بتائیں۔ تاہم اس سے قبل سلمان رشدی پر حملہ کرنے والے ملزم ہادی ماطر کو بھی کمرہ عدالت میں لایا گیا۔

    واضح رہے کہ سلمان رشدی پر یہ حملہ اگست 2022 میں امریکی ریاست نیویارک کے ایک تعلیمی ادارے میں اُس وقت ہوا تھا جب وہ سٹیج پر موجود تھے اور سامعین کو ایک لیکچر دینے کی تیاری کر رہے تھے۔

    76 سالہ انڈین نژاد برطانوی - امریکی مصنف سلمان رشدی کو جدید دور کے بااثر مصنفین میں سے ایک قرار دیا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ان پر حملے کی خبر کئی روز تک دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ کی شہ سرخیوں میں رہی۔

    بی بی سی کی رپورٹر نادین یوسف نے پیر کے روز سلمان رشدی پر حملے سے متعلق مقدمے کی کارروائی سے متعلق کمرہ عدالت سے جو تفصیلات شیئر کی ہیں اس کے مطابق ٹرائل کے پہلے روز تین گواہان عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔

    دیبورا سنیا مورے پہلی گواہ تھیں جنھوں نے استغاثہ کے کہنے پر اس حملے سے متعلق ثبوت پیں کیے۔ وہ شیتوکوا انسٹیٹیوٹ کی نائب صدر اور چیف پروگرام آفیسر ہیں۔

    دیبورا نے جیوری کو بتایا کہ جس دن سلمان رشدی پر حملہ کیا گیا وہ اس دن انسٹیٹیوٹ کے گراؤنڈ فلور پر موجود تھیں۔ ان کے مطابق اس دن لیکچر تقریباً وقت پر شروع ہو گیا تھا۔

    ان کی گواہی کے دوران وکلا صفائی نے اعتراضات بھی اٹھائے۔ خاص طور پر جب انھوں نے کچھ ایسی اصلاحات استعمال کیں جس میں سلمان رشدی کو مظلوم مصنف کہا گیا۔

    جج نے آدھے میں اس گواہ کو روک دیا اور کارروائی میں وقفے کا اعلان کر دیا اور جیوری سے کہا گیا وہ کمرہ عدالت سے باہر نکل جائے۔ اس دوران دونوں اطراف سے نوک جھونک چلتی رہی اور پھر جج نے دوپہر کے کھانے کا وقفہ کر دیا۔

  12. حماس کا اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کا عمل معطل کرنے کا اعلان: کمزور جنگ بندی کا معاہدہ جو جلد تعطل کا شکار ہوگیا, وائر ڈیوس، بی بی سی نیوز

    اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کے پہلے مرحلے کے مثبت نتائج سامنے آئے۔ اسرائیلی جیلوں سے 500 سے زائد فلسطینی قیدیوں کے بدلے غزہ سے 21 یرغمالیوں (16 اسرائیلی اور 5 تھائی شہری) کو رہا کیا گیا۔

    تاہم اب پیر کے روز حماس کی جانب سے ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ یرغمالیوں کی آئندہ ہفتے کو طے شدہ رہائی کو ملتوی کر رہے ہیں۔ کیونکہ اسرائیل معاہدے کی پاسداری کرنے میں ناکام رہا ہے جس میں غزہ کے اندر اہداف کے خلاف مسلسل حملے بھی شامل ہیں۔

    اسرائیل نے اس کے جواب میں حماس پر معاہدے کی خلاف ورزی اور مزید یرغمالیوں کی رہائی کی ذمہ داری کا الزام عائد کیا ہے۔ اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ انھوں نے اب اسرائیلی دفاعی افواج کو غزہ میں کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی ہے۔

    یہ پیش رفت بڑھتی ہوئی کشیدگی کی عکاسی کرتی ہے کیونکہ کمزور جنگ بندی کو دوسرے مرحلے میں توسیع دینے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ اسرائیلی حکومت آخری تین یرغمالیوں کی رہائی پر برہم تھی۔

    حماس کی جانب سے یہ اعلان غزہ کے مستقبل کے حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی متنازع تجاویز کا جواب دینے کا ایک طریقہ ہو سکتا ہے۔

  13. حماس کی جانب سے رہا ہونے والے 16 اسرائیلی یرغمالیوں کے بدلے سینکڑوں فلسطینی قیدی رہا ہوئے

    حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کے تحت حماس کی جانب سے 33 اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی عمل میں لانی جانی تھی۔

    تاہم ابھی تک حماس نے 16 یرغمالی رہا کیے ہیں جبکہ 17 مزید یرغمالیوں کو اسرائیل کے حوالے کیا جانا ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ ان 17 یرغمالیوں میں سے آٹھ ہلاک ہو چُکے ہیں۔ اب اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ حماس کی قید میں ابھی بھی آٹھ اسرائیلی شہری ہیں۔

    ایک علیحدہ معاہدے کے تحت حماس نے تھائی لینڈ کے پانچ شہریوں کو بھی رہا کیا۔ اس معاہدے کے تحت اسرائیل نے 1900 فلسطینی قیدی رہا کرنے تھے اور اس نے اب تک سینکڑوں قیدی رہا کیے ہیں۔

  14. حماس کا اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کا عمل معطل کرنے کا اعلان، غزہ میں ہر قسم کی صورتحال کے لیے تیار ہیں، اسرائیل کا ردعمل

    حماس کا کہنا ہے کہ وہ مزید اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کو معطل کر رہا ہے۔

    پیر کو حماس کے عسکری ونگ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’وہ مزید اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی ’اگلی اطلاع تک‘ معطل کر رہا ہے۔

    واضح رہے کہ تین مزید اسرائیلی یرغمالیوں کو سنیچر کو رہا کیا جانا تھا۔

    حماس نے اپنے تحریری بیان میں کہا ہے کہ ’گذشتہ تین ہفتوں کے دوران تحریک کی قیادت نے دشمن کی خلاف ورزیوں اور معاہدے کی شرائط پر عمل کرنے میں ناکامی کا مشاہدہ کیا۔

    بیان کے مطابق ’ان خلاف ورزیوں میں شمالی غزہ میں بے گھر ہونے والے افراد کی واپسی میں تاخیر، پٹی کے مختلف علاقوں میں انھیں شیلنگ اور فائرنگ سے نشانہ بنانا اور جس طرح اتفاق ہوا تھا اس طرح انسانی امداد کو یقینی بھی نہیں بنایا گیا۔‘

    تحریری بیان کے مطابق ’دریں اثنا، تحریک (حماس) نے اپنے وعدوں کا مکمل احترام کیا ہے‘

    بیان کے مطابق ’صہیونی قیدیوں کی رہائی جو کہ سنیچر فروری 15، 2025 کو کی جانی تھی کو اب تاحکم ثانی معطل کیا جاتا ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ اب اس کا انحصار معاہدے کی شرائط پر عملدرآمد پر ہے۔ حماس نے کہا کہ ’ہم معاہدے کی شرائط کے ساتھ اپنی وابستگی کا اعادہ کرتے ہیں جب تک کہ قابض (اسرائیل) ان پر قائم رہے گا۔‘

    دوسری جانب اسرائیل نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ وہ غزہ میں ہر صورتحال کے لیے تیار ہے۔

    اسرائیل کے وزیر دفاع نے کہا ہے کہ ’حماس کا اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی روکنے کا اعلان جنگ بندی معاہدے اور یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے کی مکمل خلاف ورزی ہے۔‘

    اسرائیلی وزیر دفاع نے کہا ہے کہ ’میں نے اسرائیلی افواج کو ہدایت کی ہے کہ وہ غزہ میں کسی بھی ممکنہ منظرنامے اور کمیونیٹیز (اسرائیلی شہریوں) کی حفاظت کے لیے مکمل طور پر الرٹ اور ہر سطح پر تیار رہیں۔‘

  15. سلمان رشدی حملہ کیس: مقدمے کی سماعت کا آغاز

    برطانوی مصنف سلمان رشدی پر حملہ کرنے والے نوجوان ہادی ماطر کے خلاف مقدمے کی کارروائی کا آغاز ہو گیا ہے۔

    اس وقت عدالت میں استغاثہ کے وکیل سلمان رشدی پر حملے کے وقت کیا ہوا یہ سب تفصیل سے بتا رہے ہیں۔

    سلمان رشدی پر یہ حملہ اگست 2022 میں ریاست نیویارک کے ایک تعلیمی ادارے میں اُس وقت ہوا تھا جب وہ سٹیج پر موجود تھے اور سامعین کو ایک لیکچر دینے کی تیاری کر رہے تھے۔

    76 سالہ انڈین نژاد برطانوی-امریکی مصنف سلمان رشدی کو جدید دور کے بااثر مصنفین میں سے ایک قرار دیا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ان پر حملے کی خبر دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ کی شہ سرخیوں میں رہی۔

    سنہ 1988 میں اُن کی متنازع کتاب ’دی سیٹینک ورسز‘ شائع ہونے کے بعد انھیں بڑے پیمانے پر جان کی دھمکیاں ملیں جس کے باعث انھوں نے کئی سال روپوشی میں گزارے۔

    بی بی سی کی نامہ نگار جو اس وقت کورٹ روم میں موجود ہیں نے بتایا کہ عدالت میں کیس کی سماعت کے موقع پر داخل ہوتے ہوئے حملہ آور ہادی ماطر نے بلند آواز میں کہا فلسطین کو آزاد کرو۔

    ہادی ماطر پر الزام ہے کہ انھوں نے مصنف سلمان رشدی پر تقریباً دس بار چاقو سے وار کیے۔ اس حملے میں سلمان رشدی کا ایک ہاتھ مفلوج ہوا، ان کے جگر کو نقصان پہنچا اور وہ ایک آنکھ کی بینائی سے محروم ہو گئے۔

    ہادی پر یہ بھی الزام ہے کہ وہ حزب اللہ کی حمایت کرتے ہیں جو کہ ایک دہشت گرد تنظیم ہے اور امریکہ میں اس پر پابندی عائد ہے۔

    پولیس نے سلمان رشدی پر حملے کے بعد نیو جرسی کے علاقے فیئر ویؤ سے تعلق رکھنے والے ہادی مطرکو گرفتار کیا تھا۔

    ہادی ماطر نے جرم سے انکار کیا تھا۔

  16. بلوچستان: اقلیتی برادری کے دو افراد میں فائرنگ کے نتیجے میں قتل, محمد کاظم، نامہ نگار بی بی سی اردو

    بلوچستان کے ضلع کیچ کے ہیڈ کوارٹر میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے دو افراد ہلاک ہوگئے ہیں جن کا تعلق ہندو برادری سے ہے۔

    تربت میں ایک پولیس اہلکار نے بتایا کہ نامعلوم مسلح افراد نے تربت شہر میں ایک مقامی مارکیٹ کے قریبی رہائشی کوارٹرز میں فائرنگ کی جس کے نتیجے میں دو افراد ہلاک ہوگئے جبکہ ایک زخمی بھی ہوگیا۔

    پولیس اہلکار نے بتایا کہ تینوں افراد کی شناخت ہوگئی ہے اور ان کا تعلق سندھ کے علاقے سانگڑھ کی ہندو برادری سے ہے۔

    اہلکار کا کہنا تھا کہ تینوں افراد یہاں کشیدہ کاری کا کام کرتے تھے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے تاہم ابتدائی شواہد سے یہ ٹارگٹ کلنگ کا واقعہ معلوم ہوتا ہے۔

    دوسری جانب وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے قاتلوں کی فوری گرفتاری کی ہدایت کی ہے۔

    ایک بیان میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ’بلوچ اور پشتون معاشرے میں اقلیتوں کو ہر دور میں تحفظ حاصل رہا ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’معصوم افراد کے قتل کے بعد اب اقلیتوں کو بھی دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا ہے جو کہ بلوچستان کی روایات کے منافی ہے۔‘

    خیال رہے کہ ضلع کیچ بلوچستان کا ایران سے متصل سرحدی ضلع ہے۔ اس ضلع کا شمار بلوچستان کے ان علاقوں میں ہوتا ہے جو کہ شورش سے زیادہ متاثر ہے۔

    اس ضلع میں طویل عرصے سے بدامنی کے دیگر سنگین واقعات کے علاوہ ٹارگٹ کلنگ کے واقعات بھی پیش آر ہے ہیں۔

    گذشتہ ہفتے بھی تربت شہر اور ضلعے کے دیگرعلاقوں میں بھی قتل کے واقعات پیش آئے۔

    قتل ہونے والوں میں نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کے کارکن اللہ داد بلوچ بھی شامل تھے جن کو نامعلوم نے ایک ہوٹل میں ٹارگٹ کیا۔ اللہ داد بلوچ کے قتل کے خلاف بلوچ یکجہتی کمیٹی کے زیر اہتمام گذشتہ روز بلوچستان کے بعض علاقوں میں احتجاج بھی کیا گیا تھا۔

  17. تجارتی اور معاشی معاملات میں محاذ آرائی نہ کی جائے: چین کا امریکہ کو مشورہ

    امریکی صدر ٹرمپ نے چین سے امریکہ آنے والے سٹیل اورایلومینیم پر 25 فیصد ٹیرف عائد کرنے کی تجویز دی ہے جس کا شاید چین پر بہت زیادہ اثر نہ ہو۔

    چین دنیا میں سب سے زیادہ سٹیل پیدا کرتا ہے اور اسے برآمد کرتا ہے تاہم امریکہ اس میں سے بہت کم لیتا ہے۔

    2018 میں 25 فیصد ٹیرف عائد کیے جانے کے بعد امریکی مارکیٹیس چین کے سٹیل کے لیے بند ہو گئی تھیں وہاں فقط ایک اعشاریہ آٹھ فیصد چینی سٹیل آتی تھی۔

    چین نے ایلومینیم کی پیداوار کو گذشتہ برس بڑھا گیا تھا جس کے بعد اس وقت کے امریکی صدر جو بائیڈن نے ٹیرف کو سات اعشاریہ پانچ فیصد سے 25 فیصد کر دیا۔

    لیکن امریکہ چین کا سب سے بڑا خریدار نہیں ہے بلکہ چینی ایلومینیم کی خریداری میں میکسیکو کا نمبر پہلا ہے۔ کینیڈا بھی چین سے دو لاکھ ٹن میٹل خرید چکا ہے۔

    چینی وزارت خارجہ نے پیر کو امریکہ کے نام اپنے پیغام میں اس پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے غلط انداز کو بدلے اور معاشی اور تجارتی معاملات میں محاذ آرائی نہ کرے۔

    چین نے اپنے پیغام میں امریکہ کو ڈائیلاگ یعنی بات چیت کا راستہ اپنانے کی صلاح بھی دی ہے۔

  18. ’ہم دینی مدارس کے لیے اسلام آباد مارچ کر سکتے ہیں تو قبائل کے لیے بھی مارچ کریں گے‘: فضل الرحمان

    جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے قبائلی مسائل کے حل کے لیے اسلام آباد مارچ کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم پاکستان اور آئین کے وفادار ہیں لیکن جبری فیصلے نہیں مانیں گے۔

    فضل الرحمان نے پشاور میں قبائلی جرگے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’قبائلی اضلاع کے انضمام کے وقت بھی جرگوں میں رہا، ہم نے انضمام کی مخالفت نہیں کی لیکن ہمارا موقف تھا کہ فاٹا کی عوام کے مشورے کے بغیر انضمام کا فیصلہ نہ کیا جائے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’قبائل سے جو وعدہ کیا گیا وہ امن کا تھا، امن ہوگا تو ہر کسی کی عزت و آبرو محسوس ہوگی، امن ہوگا انسانی حقوق پامال نہیں ہوگا، امن ہوتا تو بے روزگاری نہیں ہوتی روزگار ہوتا ہے، آج قبائلی علاقوں اور خیبر پختونخوا میں امن نہیں۔‘

    فضل الرحمان نے تجویز دی کہ سیاسی جماعتوں کے مشران کا جرگہ بلایا جائے گا۔

    ’جس صوبے کے جو وسائل ہیں وہاں کے عوام کا حق ہے، نہ امریکہ، حکومت اور فوج کو اجازت ہے کہ ہمارے وسائل پر قبضہ کرے، اگر ایسا نہیں ہوا تو حکومت پر اعتماد کا فقدان پیدا ہوگا۔‘

    انھوں نے کہا کہ آئیے اعتماد کی فضا قائم کریں، ان جرگوں سے اگر مسئلہ حل نہیں ہوتا تو ہم اسلام آباد کا رخ کریں گے۔

    ’ہم دینی مدارس کے لیے اسلام آباد مارچ کر سکتے ہیں تو قبائل کے لیے بھی مارچ کریں گے، تاریخ آپ کو قابض اور قاتل کہے گی، ہم پاکستان اور آئین کے وفادار ہیں لیکن جبری فیصلے نہیں مانیں گے۔‘

  19. جسٹس بابر ستار اور جسٹس سردار اعجاز اسحٰق خان سے عدالت کے قانونی امور کی ذمہ داری واپس لے لی گئی

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس بابر ستار اور جسٹس سردار اعجاز اسحٰق خان سے عدالت کے قانونی امور کی ذمہ داری واپس لے لی گئی اور ان کی جگہ ایڈیشنل جج جسٹس راجا انعام کو قانونی امور کا جج مقرر کیا گیا ہے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کی منظوری کے بعد ڈپٹی رجسٹرار نے نوٹی فکیشن جاری کیا ہے۔

    جسٹس راجہ انعام امین اسلام آباد ہائی کورٹ کے قانونی ونگ کے امور کو سپروائز کریں گے۔

    نوٹی فکیشن میں کہا گیا ہے کہ جسٹس راجا انعام امین منہاس کو عوامی مفاد میں فوری طور پر قانونی امور کا جج مقرر کیا جاتا ہے۔

    2022 میں جسٹس بابر ستار اور جسٹس سردار اعجاز اسحٰق کو قانونی ونگ کو سپروائز کرنے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔

    واضح رہے کہ 7 فروری 2025 کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس بابر ستار نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ عامر فاروق کو خط لکھ کر کہا تھا کہ 9 ویں نمبر کے جج جسٹس خادم سومرو کو کمیٹی میں شامل نہیں کر سکتے۔

    انھوں نے 6 صفحات پر مشتمل خط میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کی جانب سے ہائی کورٹ ایڈمنسٹریشن کمیٹی تبدیلی کو بھی غیر قانونی کہہ دیا تھا۔

    جسٹس بابر ستار نے خط میں لکھا تھا کہ سینیارٹی لسٹ اور ایڈمنسٹریشن کمیٹی کے نوٹی فکیشن واپس لیے جائیں۔

    انھوں نے مزید کہا تھا کہ سینیارٹی لسٹ اور ایڈمنسٹریشن کمیٹی کا نوٹی فکیشن جاری کرنا غیر آئینی غیر قانونی ہے، بغیر اسلام آباد ہائی کورٹ جج کے حلف اٹھائے ٹرانسفر ججز کو کمیٹی میں رکھنا غیر قانونی ہے۔

  20. عمران خان کی رہائی کے لیے پی ٹی آئی کی قومی اسمبلی میں نعرے بازی

    سابق وزیراعظم اور تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی رہائی کے لیے ان کی جماعت کے اراکین قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران نعرے بازی کر رہے ہیں۔

    قومی اسمبلی کا اجلاس جاری ہے تاہم پی ٹی آئی کے اراکین نے کورم پورا نہ ہونے کی نشاندہی کی ہے جس کے بعد سپیکر اسمبلی ایاز صادق نے گنتی کرنے کا حکم دیا ہے۔