اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی حماس سے یرغمالیوں کو طے شدہ منصوبے کے تحت رہا کرنے کی اپیل
اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے حماس سے اپیل کی ہے وہ یرغمالیوں کی رہائی پہلے سے طے شدہ منصوبے کے تحت جاری رکھیں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری ایک پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ ہمیں ہر قیمت پر غزہ میں دوبارہ جنگ شروع ہونے سے روکنا ہوگا ورنہ یہ بہت بڑے سانحے کا باعث بن سکتا ہے۔
انتونیو گوتریس کا کہنا تھا کہ دونوں حریف جننگ بندی معاہدے کی مکمل پابندی کریں اور مذاکرات دوبارہ شروع کیے جائیں۔
دوسری جانب، خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق حماس کے ترجمان سمیع ابو ظہری کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اگر اسرائیلی یرغمالیوں کی واپسی چاہتے ہیں تو انھیں یہ بات یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ دونوں حریفوں کو معاہدی پاسداری کرنی ہوگی۔
سمیع ابو ظہری کا مزید کہنا تھا کہ دھمکیوں کی کوئی اہمیت نہیں اور ان سے صرف معاملات مزید پیچیدہ ہوتے ہیں۔
یاد رہے کہ سوموار کے روز حماس کے عسکری ونگ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ ’وہ مزید اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کا عمل ’اگلی اطلاع تک‘ معطل کر رہے ہیں۔
حماس کا کہنا ہے کہ گذشتہ تین ہفتوں کے دوران اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی جنگ بندی معاہدے کی ’خلاف ورزیوں میں شمالی غزہ میں بے گھر ہونے والے افراد کی واپسی میں تاخیر ہوئی ہے، غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں میں انھیں شیلنگ اور فائرنگ سے نشانہ بنانا اور جس طرح اتفاق ہوا تھا اس طرح انسانی امداد کو یقینی نہ بنانا‘ شامل ہے۔
حماس کے اعلان پر ردِعمل دیتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تجویز دی تھی کہ اگر سنیچر (15 فروری) تک حماس نے تمام اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا نہ کیا تو جنگ بندی معاہدے کو ختم کر دینا چاہیے۔
انھوں نے حماس کو سنیچر کے روز دن 12 بجے تک وقت دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک، ایک یا دو، دو کر کے نہیں بلکہ تمام اسرائیلی یرغمالیوں کو ایک ساتھ رہا کرنا چاہیے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر یرغمالی رہا نہ کیے گئے تو قہر ٹوٹ پڑے گا۔
جب اُن سے پوچھا گیا کہ کیا اس سے ان کی مراد اسرائیل کی جانب سے جوابی کارروائی ہے تو اُن کا کہنا تھا کہ ’آپ کو پتہ چل جائے گا اور اُن کو بھی۔ حماس کو پتا چل جائَے گا کہ میرا کیا مطلب ہے۔‘