آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

کسی کو پارلیمنٹ کی عزت و توقیر کو مجروح کرنے کا حق حاصل نہیں: سپیکر قومی اسمبلی کی رولنگ

سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کا کہنا ہے کہ کسی کو پارلیمنٹ کی عزت اور توقیر کو مجروح کرنے کا حق حاصل نہیں ہے اور پارلیمنٹ کے تقدس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

خلاصہ

  • اردن کے شاہ عبداللہ امریکہ کے صدر ٹرمپ سے ملاقات کے لیے وائٹ ہاؤس پہنچے ہیں۔
  • ملاقات سے قبل ٹرمپ نے غزہ کے شہریوں کو قبول نہ کرنے کی صورت میں اردن اور مصر کی امداد روکنے کی دھمکی دی ہے۔
  • شاہ عبداللہ نے واضح کیا ہے کہ یہ منصوبہ اردن میں افراتفری اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی کا سبب بن سکتا ہے۔
  • شامی صدر احمد الشراح کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کے لیے اخلاقی اور سیاسی طور پر یہ درست نہیں کہ وہ فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے نکالنے کی کوشش کریں۔
  • اسرائیل کے وزیراعظم بنیامن نتن یاہو نے کہا ہے کہ ہم اس وقت تک سخت کارروائیاں جاری رکھیں گے جب تک کہ تمام یرغمالیوں، زندہ اور مرنے والوں کو واپس نہیں لاتے۔
  • آئی ایم ایف کے خصوصی وفد نے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سے ملاقات کی ہے جس میں چیف جسٹس نے وفد کو عدالتی نظام اور اصلاحات سے متعلق آگاہ کیا۔
  • اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے حماس سے اپیل کی ہے وہ یرغمالیوں کی رہائی پہلے سے طے شدہ منصوبے کے تحت جاری رکھیں۔
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اگر 15 فروری تک حماس نے تمام اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا نہ کیا تو جنگ بندی معاہدہ ختم کر دینا چاہیے۔

لائیو کوریج

  1. کراچی سے تھر ڈیزرٹ سفاری سیاحتی ٹرین کا آغاز

    پاکستان ریلویز کے تعاون سے سندھ حکومت نے کراچی سے تھر ڈیزرٹ سفاری سیاحتی ٹرین کا آغاز کر دیا ہے۔

    مزید سیاحتی ٹرینوں کی بحالی کے لیے صوبائی حکومتوں کا تعاون ضروری ہے، کیونکہ سیاحت کے لیے درکار فنڈز صوبوں کے پاس ہوتے ہیں۔

    چیف ایگزیکٹو آفیسر پاکستان ریلویز عامرعلی بلوچ نے ای کچہری سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’نئی ٹرینوں کے اجرا کے لیے خاطر خواہ وسائل درکار ہوتے ہیں۔ جیسے ہی مطلوبہ وسائل دستیاب ہوں گے، ہم نئی ٹرینز چلانے کا عمل شروع کریں گے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ایم ایل- ٹو پر ابھی کافی کام ہونا باقی ہے، اور بند کی گئی ٹرینوں کو بھی وسائل کی فراہمی کے ساتھ مرحلہ وار بحال کیا جائے گا۔

    لنڈی کوتل ریلوے ٹریک کی بحالی کے حوالہ سے ایک سوال کے جواب میں، سی ای او پاکستان ریلویز کا کہنا تھا کہ پشاور سے لنڈی کوتل تک ریلوے ٹریک کی بحالی پر 10 ارب روپے سے زائد لاگت آئے گی۔

  2. لیبیا کے قریب تارکین وطن کی کشتی الٹ گئی، مسافروں میں پاکستانی بھی شامل ہیں: دفتر خارجہ

    پاکستانی دفتر خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ لیبیا کے ساحل کے قریب جس کشتی کو حادثہ پیش آیا ہے اس میں پاکستانی بھی سوار تھے۔

    پیر کو دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ طرابلس میں ہمارے سفارت خانے نے مطلع کیا ہے کہ تقریباً 65 مسافروں کو لے جانے والی کشتی الٹ گئی ہے۔

    بتایا گیا ہے کہ یہ حادثہ لیبیا کے شمال مغربی شہر زاویہ کی مارسہ ڈیلہ نامی بندرگاہ کے قریب پیش آیا۔

    ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ طرابلس میں پاکستانی سفارت خانے نے لاشوں کی شناخت کے لیے ٹیم زاویہ ہسپتال روانہ کر دی ہے۔

    خیال رہے کہ حالیہ عرصے میں یورپ جانے کا خواب لے کر غیر قانونی راستوں سے سمگلرز کی مدد سے سفر کرنے والے کئی پاکستانی اپنی زندگیاں گنوا چکے ہیں۔

    جنوری میں مراکش کے ساحل پر کشتی حادثے میں 44 پاکستانی ہلاک ہوئے۔

    پاکستانی حکومت نے متعدد انسانی سمگلنگ میں ملوث گروہوں کو بھی پکڑنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    حکام کے مطابق طرابلس میں سفارت خانہ حالیہ حادثے میں متاثرہ پاکستانی شہریوں کی تفصیلات حاصل کرنے کی کوشش بھی کر رہا ہے۔

    بتایا گیا ہے کہ ’صورتحال کی نگرانی کے لیے وزارت خارجہ کا کرائسز مینجمنٹ یونٹ فعال کر دیا گیا واقعے سے متعلق معلومات کے لیے مندرجہ ذیل نمبرز پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔‘

    03052185882(WhatsApp)

    218913870577+ (Cell)

    218 91-6425435+(WhatsApp)

  3. بنگلہ دیش: ’آپریشن ڈیول ہنٹ‘ میں ایک ہزار سے زیادہ افراد گرفتار

    بنگلہ دیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں شروع کیے گئے ’آپریشن ڈیول ہنٹ‘ کے تحت ایک ہزار سے زیادہ لوگوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ بنگلہ دیش پولیس ہیڈ کوارٹر کے ذرائع نے بی بی سی بنگلہ کو اس معلومات کی تصدیق کی۔

    پولیس ہیڈکوارٹر نے اتوار کی سہ پہر تک گرفتاریوں کی تعداد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گرفتار ہونے والوں میں سے 1,034 کو رینج پولیس کے علاقوں میں، یعنی ملک کے اضلاع میں، اور 274 کو میٹروپولیٹن علاقے میں گرفتار کیا گیا۔ ان میں سے 82 افراد کو صرف غازی پور میٹروپولیٹن علاقے میں گرفتار کیا گیا ہے۔

    عبوری حکومت نے جمعے کی رات ایک سابق وزیر کے گھر پر حملے کے جواب میں غازی پور سمیت ملک بھر میں ’آپریشن ڈیول ہنٹ‘ شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔

    قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ ہونے والی میٹنگ کے بعد وزارت داخلہ نے اعلان کیا کہ امن و امان برقرار رکھنے اور دہشت گردوں کو قانون کی گرفت میں لانے کے لیے مشترکہ فورسز کے ذریعے ’آپریشن ڈیول ہنٹ‘ کیا جائے گی۔

    بدھ کو انڈیا میں پناہ گزین سابق وزیراعظم اور مجیب الرحمٰن کی بیٹی شیخ حسینہ کی تقریر کے دوران ان کے والد کی رہائش گاہ پر حملہ کیا گیا اور اسے بلڈوز کر دیا گیا تھا۔

  4. ہم میدان نہیں چھوڑیں گے: سینیٹر علی ظفر

    جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے رکن اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی جماعت تحریک انصاف کے رہنما سینیٹر علی ظفر کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ میں آٹھ نئے ججز کی تقرری کے معاملے پر وکلا کا احتجاج جاری رہے گا۔

    سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ہم میدان نہیں چھوڑیں گے، اپنی آواز اٹھائیں گے۔‘

    ’میں نے چیف جسٹس کو لکھے گئے خط میں سینیارٹی کا مسئلہ اٹھایا ہے، پہلے اسے حل کر لیں۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ کسی اور جج کو سپریم کورٹ لایا جاتا ہے جس سے ججز میں رنجش پیدا ہو سکتی ہے۔ ’ہم اس اصول پر کھڑے ہیں کہ شخصیات آنے جانے والی بات ہے، ادارہ اور اصول سب سے ضروری ہے۔‘

    انھوں نے تسلیم کیا کہ تمام وکلا تنظیمیں ان تبادلوں کے خلاف نہیں تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ اس کی مخالفت جاری رکھیں گے۔

    خیال رہے کہ آج دوپہر دو بجے سپریم کورٹ میں آٹھ ججز کی تعیناتی کے لیے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس ہوگا۔

  5. جوڈیشل کمیشن کے اجلاس سے قبل سپریم کورٹ کے قریب وکلا اور پولیس کے درمیان تصادم

    پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے ریڈ زون میں وکلا اور پولیس اہلکاروں کے بیچ تصادم ہوا ہے۔ وکلا ایکشن کمیٹی نے کہا ہے کہ ریڈ زون میں داخلہ نہ ملنے کی صورت میں سرینگر ہائیوے کو بلاک کر دیا جائے گا۔

    کچھ ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سرینا چوک کے قریب ریڈ زون کی سکیورٹی پر مامور اینٹی رائٹس کٹس پہنے پولیس اہلکار وکلا کو سپریم کورٹ کے قریب جانے سے روک رہے ہیں۔

    بعض وکلا تنظیموں نے کہا ہے کہ وہ کنٹینرز اور اضافی سکیورٹی انتظامات کے باوجود ہر صورت سپریم کورٹ کے باہر اپنا ’پُرامن‘ احتجاج ریکارڈ کرائیں گے۔

    خیال رہے کہ سپریم کورٹ میں آٹھ ججز کی تعیناتی کے لیے چیف جسٹس کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن کے اجلاس ہوگا جسے سپریم کورٹ کے موجودہ چار ججز نے 26ویں آئینی ترامیم سے متعلق درخواستوں پر فیصلے تک ملتوی کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

  6. کشمیر: ’نشے کی حالت میں‘ ایل او سی عبور کرنے والا پاکستانی شہری گرفتار، پولیس

    انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ لائن آف کنٹرول کے قریبی ضلع راجوری میں 40 سالہ عبدالرحمان کو گرفتار کیا گیا ہے۔

    ایل او سی کے نوشہرہ سیکٹر میں لام علاقے میں گرفتار کیے گئے عبدالرحمٰن کے بارے میں پولیس کا دعویٰ ہے کہ ان کا تعلق پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر کے ضلع کوٹلی کے سیری گاوٴں سے ہے۔ ان سے راجوری پولیس تھانے میں تفتیش کی گئی ہے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ اُن کی تحویل سے کوئی قابل اعتراض چیز برآمد نہیں ہوئی ہے تاہم پولیس نے دعویٰ کیا کہ ایل او سی عبور کرتے وقت وہ ’نشے کی حالت میں تھے۔‘

    پولیس کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پچھلے سال نوشہرہ سیکٹر میں مسلح دراندازی کی متعدد کوششیں ہوئیں اس لیے عبدالرحمان کو پاکستانی حکام کے سپرد کرنے سے پہلے ان سے مکمل پوچھ گچھ ضروری ہے۔

    واضح رہے کہ 1947 کی تقسیم سے قبل نوشہرہ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے میرپور ضلع کی بھمبر تحصیل کا حصہ تھا۔ اُسی سال پونچھ میں مہاراجہ ہری سنگھ کی حکومت کے خلاف بغاوت ہوئی اور اس کے فوراً بعد انڈیا اور پاکستان کے درمیان جنگ چھڑ گئی۔ جنگ کے بعد نوشہرہ انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کا حصہ بن گیا۔

    پولیس افسر نے مزید بتایا: ’پاکستان نے گیم چینج کر دیا ہے۔ وہ اب جموں خطے کے پونچھ، راجوری، کٹھوعہ اور ڈوڈہ اضلاع میں درانداز بھیج کر یہاں مسلح حملے کروا رہا ہے۔‘

    قابل ذکر ہے گزشتہ چند برسوں کے ان اضلاع میں فوج پر درجنوں حملے کیے گئے جن میں متعدد فوجی اہلکار مارے گئے۔

    خیال رہے کہ پاکستانی دفتر خارجہ کی جانب سے انڈین حکام کے الزام پر اب تک کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا ہے۔

  7. امریکہ غزہ کو ’خریدنے‘ کے لیے سنجیدہ ہے، مشرق وسطیٰ کے ممالک کو تعمیرِ نو میں مدد کی اجازت دی جاسکتی ہے: ڈونلڈ ٹرمپ

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ غزہ کو خریدنے اور اس کی ملکیت حاصل کرنے کے بارے میں سنجیدہ ہیں۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ تباہ حال علاقے کے کچھ حصے کی تعمیر نو کی ذمہ داری مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک کو دی جاسکتی ہے۔

    ’میں غزہ کو خریدنے اور اس کی ملکیت حاصل کرنے کے بارے میں سنجیدہ ہوں۔ جہاں تک اس کی تعمیر نو کا تعلق ہے، ہم شاید اس کے کچھ حصے دوبارہ تعمیر کے لیے مشرقِ وسطیٰ کے دیگر ممالک کو دے دیں، دوسرے لوگ بھی یہ کر سکیں گے لیکن ہماری وساطت سے۔ لیکن ہم اس کی ملکیت اور اسے حاصل کرنے کے لیے سنجیدہ ہیں اور اس بات کو بھی یقینی بنانے کے لیے کہ حماس دوبارہ [وہاں] داخل نہ ہو سکے۔‘

    انھوں نے غزہ کو ایک بار پھر ملبے کے ڈھیر سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہاں بچی کچھی چیزوں کو گرا دیا جائے گا۔

    ’سب کچھ گرانا پڑے گا۔ آپ ان عمارتوں میں رہ نہیں سکتے۔ وہ بالکل غیر محفوظ ہیں۔‘

    ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ اس جگہ کو مستقبل میں تعمیر کے لیے ایک بہترین سائٹ میں تبدیل کر دیں گے۔ ’ہم دوسرے ممالک کو بھی اس کے کچھ حصے دوبارہ تعمیر کرنے کے لیے دیں گے۔ یہ بہت خوبصورت ہوگا۔‘

    انھوں نے ایک بار پھر اس بات کا اعادہ کیا کہ تعمیرِ نو کے بعد پوری دنیا سے لوگ آکر غزہ میں رہ سکیں گے لیکن وہ فلسطینیوں کا بھی خیال رکھیں گے۔

    ’ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ وہ بہترین طریقے سے اور، ہم آہنگی اور امن سے رہ سکیں اور وہ ہلاک نہ کیے جا سکیں۔‘

    ان کے مطابق غزہ دنیا میں رہنے کے لیے سب سے خطرناک جگہ ہے۔

    ڈونلد ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ کچھ فلسطینی پناہ گزینوں کو امریکہ میں داخلے کی اجازت دے سکتے ہیں تاہم ایسی تمام درخواستوں کا علیحدہ علیدہ جائزہ لیا جائے گا۔

    ’تاہم امریکہ تک آنا، ان کے لیے یہ ایک لمبا سفر ہے۔ وہ اپنے گھر والوں، دوستوں اور ہر چیز سے دور ہو جائیں گے۔‘

    امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں فلسطینی وہیں کہیں نزدیک میں رہنے میں زیادہ خوش ہوں گے۔

    ’ایک ایسی جگہ جو ان کے لیے محفوظ ہو، جہاں وہ حفاظت سے رہ سکیں اور ایک اچھی زندگی گزار سکیں۔‘

    ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ فلسطینی غزہ واپس جانا نہیں چاہتے۔

    ’وہ صرف اس لیے واپس جاتے ہیں کیونکہ ان کے پاس کوئی متبادل جگہ نہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ انھیں امید ہے کہ مصر، اردن اور دیگر ممالک اس کام میں ان کی مدد کریں گے۔

    امریکہ صدر کا کہنا تھا کہ انھیں امید ہے کہ سعودی عرب اور دیگر ممالک اس منصوبے پر رقم لگائیں گے۔

    ’ان کے پاس بہت دولت ہے۔ وہ اپنی دولت کا کچھ حصہ لوگوں کی زندگیاں محفوظ اور آرام دہ بنانے پر خرچ کریں گے۔‘

    ’غزہ کوئی پراپرٹی نہیں جسے خریدا یا بیچا جا سکے‘

    حماس نے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ کو خریدنے اور اس کی ملکیت حاصل کرنے کے بیان کی مذمت کی ہے۔

    حماس کے سیاسی بیورو کے رکن عزت الرشق کا کہنا ہے کہ غزہ کوئی پراپرٹی نہیں جسے خریدا یا بیچا جا سکے۔

    ’یہ مقبوضہ فلسطین کا حصہ ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی بے دخلی کے ایسے کسی بھی منصوبے کو ناکام بنا دیں گے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ کو امریکی کنٹرول میں لینے اور فلسطینیوں کی کہیں اور آبادکاری کا منصوبہ پہلی مرتبہ گذشتہ ہفتے وائٹ ہاؤس میں اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نتن یاہو سے ملاقات کے بعد پیس کیا گیا تھا۔

    مشرقِ وسطیٰ کے دیگر ممالک بشمول مصر، اردن اور سعودی عرب نے ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ منصوبے کی شدید مذمت کی ہے جبکہ امریکہ اور اسرائیل کے مغربی اتحادی بھی اس تجویز کے مخالف نظر آتے ہیں۔

  8. لگتا ہے وکلا چاہتے ہیں لوگ قید میں سڑتے رہیں: جسٹس جمال خان مندوخیل

    جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سات رکنی آئینی بینچ نے پیر کو فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے ٹرائل سے متعلق کیس کی سماعت کی جسے درخواست گزار کے وکیل سلمان اکرم راجہ کی عدم موجودگی کے باعث منگل تک ملتوی کر دیا گیا۔

    دوران سماعت معاون وکیل رانا وقار نے عدالت کو بتایا کہ سلمان اکرم راجہ ٹریفک کے سبب نہیں پہنچ سکے۔ خیال رہے کہ جوڈیشل کمیشن کے اجلاس کے خلاف وکلا کی طرف سے احتجاج کی کال کے پیش نظر اسلام آباد پولیس نے ریڈ زون کے داخلی اور خارجی راستے سیل کر رکھے ہیں۔ جبکہ سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

    رانا وقار نے عدالت کو بتایا کہ ’سپریم کورٹ آنے کے لیے صرف ایک ہی راستہ مارگلہ روڈ والا کھلا ہے۔‘

    اس پر جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ ’(وکیل) خواجہ حارث صاحب پہنچ گئے، باقی لوگ بھی پہنچ گئے۔ آپ بھی تو آ گئے ہیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’اگر آدھا گھنٹہ پہلے نکل آتے اس وقت سپریم کورٹ ہوتے۔ لگتا ہے وکلا چاہتے ہیں لوگ قید میں سڑتے رہیں۔ ٹھیک ہے وکلا نہیں چاہتے تو کیا کیا جاسکتا ہے۔‘

    ہم جوڈیشل کمیشن کے ممبران کے سامنے اپنا احتجاج ریکارڈ کروائیں گے

    ریڈ زون میں احتجاج کے لیے موجود وکلا رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ جوڈیشل کمیشن کے اجلاس کے دوران سپریم کورٹ کے باہر اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔

    سندھ بار کے رکن منیر اے ملک نے پیر کو ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’آج وکلا 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف آواز اٹھانے جمع ہوئے ہیں۔ ہمارا احتجاج پُرامن ہے۔ ہم جوڈیشل کمیشن کے ممبران کے سامنے اپنا احتجاج ریکارڈ کروائیں گے۔

    ’ہم جوڈیشل کمیشن کو بھی باور کروانا چاہتے ہیں کہ موجودہ نظام سے انصاف کا قتل ہو رہا ہے۔ ہم یہاں سے سپریم کورٹ کی طرف جائیں گے۔ یہاں آج پورے ملک کی بار سے وکلا موجود ہیں۔‘

    انھوں نے اعتراض اٹھایا کہ ’وکلا کا راستہ روکنے کے لیے جگہ جگہ کنٹینر لگا کر راستہ بند کر دیا گیا ہے۔‘

    خیال رہے کہ ملک کی بعض وکلا تنظیموں نے اس معاملے پر احتجاج کی کال مسترد کی ہے۔

  9. آئی ایم ایف کی ٹیم پاکستان میں گورننس اور کرپشن کا جائزہ لے گی

    سات ارب ڈالر قرض پروگرام کے تحت انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کی ایک ٹیم گورننس اور بدعنوانی کے جائزے کے لیے پاکستان کے دورے پر ہے۔

    پاکستان کی وزارت خزانہ نے اتوار کو ایک بیان میں بتایا کہ آئی ایم ایف کی ٹیم ملکی نظام میں گورننس کی کمزویوں اور کرپشن کے خطرات کی نشاندہی پر مبنی ایک رپورٹ تیار کرے گی جس کے تحت اصلاحات تجویز کی جائیں گی۔

    وزارت خزانہ کے بیان کے مطابق بدعنوانی کے خطرات کا چھ شعبوں میں جائزہ لیا جائے گا جن میں مالیاتی گورننس، سٹیٹ بینک کی گورننس اور آپریشنز، مالیاتی شعبے کی نگرانی، مارکیٹ ریگولیشن، قانون کی عملداری، اینٹی منی لانڈرنگ و ٹیرر فنانسنگ شامل ہیں۔

    اس کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی ٹیم فنانس ڈویژن، ایف بی آر، سٹیٹ بینک، آڈیٹر جنرل، ایس ای سی پی، الیکشن کمیشن اور وزارت قانون کے حکام سے ملاقاتیں کرے گی۔

    پاکستانی حکومت نے آئی ایم ایف کی تکنیکی معاونت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس جائزے سے شفافیت اور ادارہ جاتی صلاحیت کو فروغ ملے گا۔

    پاکستان نے معاشی بحالی کے لیے ستمبر میں آئی ایم ایف سے ایکسٹنڈڈ فنڈ فسلٹی کے تحت سات ارب ڈالر قرض حاصل کیا تھا۔ آئی ایم ایف مارچ کے دوران اس پروگرام پر نظر ثانی کی رپورٹ جاری کرے گا۔ پاکستانی حکومت اور سٹیٹ بینک کو امید ہے کہ آئی ایم ایف کی جانب سے دیے گئے اہداف حاصل کر لیے جائیں گے۔

    آئی ایم ایف کی گورننس ڈائیگنوسٹک رپورٹ سے کیا مراد ہے؟

    آئی ایم ایف کی ویب سائٹ کے مطابق گورننس ڈائیگنوسٹک رپورٹ میں رکن ممالک میں گورننس کا جائزہ لیا جاتا ہے اور بدعنوانی کے خطرات کی نشاندہی کی جاتی ہے جس کی روشنی میں تجاویز پیش ہوتی ہیں۔

    اب تک آئی ایم ایف کی جانب سے 20 ملکوں کی گورننس ڈائیگنوسٹک رپورٹ شائع کی جا چکی ہے جن میں سری لنکا، زیمبیا اور کیمرون شامل ہیں جبکہ 10 ڈائیگنوسٹک رپورٹس پر کام جاری ہے۔

    پاکستان کی وزارت خارجہ کے مطابق ایکسٹنڈڈ فنڈ فسلٹی 2024 کے تحت آئی ایم ایف نے قرض پروگرام کے لیے جو شرائط اور اہداف مقرر کیے تھے ان میں ڈائیگنوسٹک رپورٹ بھی شامل ہے جس میں ایسی اصلاحات تجویز کی جائیں گی جن پر ترجیحی بنیادوں پر عملدرآمد درکار ہو۔

    یوں پاکستان کے بارے میں مرتب کردہ گورننس ڈائیگنوسٹک رپورٹ بھی جلد شائع کی جائے گی۔

  10. جوڈیشل کمیشن کا اجلاس آج: سپریم کورٹ کے باہر احتجاج کی کال کے بعد ریڈ زون سیل

    سپریم کورٹ میں آٹھ ججز کی تعیناتی کے لیے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس آج متوقع ہے جس کے خلاف بعض وکلا تنظیموں نے اسلام آباد کے ریڈ زون میں احتجاجی مظاہرے کی کال دے رکھی ہے۔

    احتجاج کے پیش نظر وفاقی دارالحکومت کے ریڈ زون کو سیل کیا گیا ہے اور سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ میٹرو بس کی انتظامیہ کے مطابق سکیورٹی وجوہات کے باعث راولپنڈی-اسلام آباد سروس کو جزوی طور پر بند کیا گیا ہے۔

    جن وکلا تنظیموں نے سپریم کورٹ کے باہر احتجاج کی کال دی ان میں وکلا ایکشن کمیٹی، اسلام آباد ہائی کورٹ بار، ڈسٹرکٹ بار اور اسلام آباد بار کونسل شامل ہیں۔

    دوسری طرف پاکستان بار کونسل، سپریم کورٹ بار ایسوس ایشن، پنجاب بار کونسل، خیبر پختونخوا بار کونسل، بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن اور سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے اِن وکلا تنظیموں کی طرف سے ہڑتال کی کال کو یکسر مسترد کیا ہے۔

    ایک مشترکہ اعلامیے میں اِن بار کونسلز کا کہنا ہے کہ ’ہڑتال کی کال دینے کا فیصلہ منتخب نمائندوں کا اختیار ہے، غیر منتخب (اور) انتشار پیدا کرنے والے عناصر کا نہیں۔‘

    اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ وکلا برادری کے منتخب نمائندے عدلیہ کی آزادی کے ساتھ کھڑے ہیں اور جوڈیشل کمیشن کے اجلاس کے موقع پر انتشاری لوگوں کی کال کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔ مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا کہ 26ویں آئینی ترمیم کو قانون کے مطابق منظور کیا گیا ہے جبکہ ہر شہری کو اس کی پاسداری کرنی ہوگی۔

    اسلام آباد پولیس کے مطابق 10 فروری کو ریڈ زون کے داخلی و خارجی راستے صبح 6 بجے سے تاحکم ثانی عارضی طور پر بند رکھے جائیں گے۔

    خیال رہے کہ سپریم کورٹ کے چار ججز نے بھی جوڈیشل کمیشن کا اجلاس ملتوی کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے چیف جسٹس کو خط لکھا تھا جس میں ان کا کہنا تھا کہ 26ویں آئینی ترمیم کے فیصلے تک سپریم کورٹ میں ججز کی تعیناتی کا معاملہ موخر کیا جائے۔ جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس عائشہ ملک شامل ہیں۔

    گذشتہ روز جوڈیشل کمیشن کے رکن اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی جماعت تحریک انصاف کے رہنما علی ظفر نے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو خط لکھ کر جوڈیشل کمیشن کا اجلاس ملتوی کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

    خط میں کہا گیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں ججز کی سینیارٹی کا معاملہ حل ہونے تک اجلاس موخر کیا جائے کیونکہ ججز کے ٹرانسفر سے اسلام آباد ہائیکورٹ کی سینیارٹی لسٹ تبدیل ہوگئی ہے۔

    ان کا اپنے خط میں دعویٰ تھا کہ ججز کے تبادلوں سے تاثر گیا ہے کہ سارا بندوبست عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی اپیلوں کے لیے کیا گیا ہے۔

    یکم فروری کو صدر مملکت آصف علی زرداری نے آئین کے آرٹیکل 200 کی شق (ون) کے تحت تین ججز کے تبادلے کیے جن میں لاہور، سندھ اور بلوچستان ہائی کورٹ سے ایک، ایک جج کا تبادلہ کر کے انھیں اسلام آباد ہائی کورٹ میں تعینات کیا گیا تھا۔

    جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر کا لاہور ہائی کورٹ، جسٹس خادم حسین سومرو کا سندھ ہائی کورٹ اور جسٹس محمد آصف کا تبادلہ بلوچستان ہائی کورٹ سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں کیا گیا تھا۔ جبکہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں نئے ججز کے تبادلے پر بھی بعض ججز نے اپنے تحفظات ظاہر کیے تھے۔

  11. ایلون مسک کی سربراہی میں قائم ٹیم امریکی فوج کے اخراجات کا جائزہ لے گی: ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایلون مسک کی سربراہی میں قائم غیر سرکاری ڈیپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشینسی (ڈاج) جلد ہی فوج اور محکمہ تعلیم کے اخراجات کا جائزہ لے گی۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ممکن ہے کہ یہ کام اگلے 24 گھنٹوں میں شروع ہو جائے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ فوج کے اخراجات کا جائزہ لینا چاہیے۔ امریکی صدر کا کہنا ہے کہ انھیں یقین ہے کہ اس سے اربوں ڈالرز کے گھپلے سامنے آئیں گے۔ ’مجھے لوگوں نے اس ہی کام کے لیے منتخب کیا ہے۔‘

    ڈاج یا ڈیپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشینسی کوئی سرکاری ادارہ یا محکمہ نہیں بلکہ ایک ٹیم ہے جسے ٹرمپ نے غیر ضروری حکومتی اخراجات میں کٹوتی کے لیے وسیع اختیارات دیے ہیں۔ ایلون مسک اس کی سربراہی کر رہے ہیں۔

    اس سے قبل اتوار کے روز امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے فاکس نیوز کو بتایا کہ وہ ڈاج کے امریکی فوج کے اخراجات کا جائزہ لینے کے فصلے کو ’خوش آمدید‘ کہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب ہم اربوں ڈالر خرچ کر رہے ہیں تو ہمیں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ وہ کہاں اور کیوں خرچ کیے جا رہے ہیں۔

    صدر ٹرمپ نے ایلون مسک کی کوششوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسک کو اس سارے کام سے کوئی فائدہ نہیں۔ ’میں تو یہ سوچنے پر مجبور ہوں کہ وہ اس کام کے لیے وقت کیسے نکال پا رہے ہیں۔‘

    ڈیموکریٹس کا الزام ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے یوایس ایڈ جیسے محکموں کو بند کرنے سے ایلون مسک کو ذاتی فائدہ پہنچے گا۔

  12. نیٹزارم راہداری سے اسرائیلی فوج کا انخلا: لاکھوں فلسطینیوں کی شمالی غزہ میں اپنے گھروں کو واپسی شروع

    اسرائیلی فوج کی غزہ میں نیٹزارم راہداری سے انخلا کے بعد لاکھوں فلسطینیوں نے شمالی غزہ میں اپنے گھروں کو واپس جانا شروع کر دیا ہے۔

    نیٹزارم کاریڈور ایک سات کلومیٹر لمبی راہداری ہے جو شمالی غزہ کو باقی علاقے سے الگ کرتی ہے اور یہاں اسرائیلی فوج تعینات تھی۔

    اسرائیلی فوج کی جانب سے زمینی حملے کے آغاز سے قبل تقریباً سات لاکھ افراد شمالی غزہ سے نقل مکانی کر کے جنوبی غزہ کے مختلف علاقوں میں منتقل ہو گئے تھے۔

    نیٹزارم کوریڈور سے اسرائیلی فوج کا انخلا 19 جنوری کو حماس اور اسرائیل کے درمیان ہونے والے جنگ بندی معاہدے کا حصہ ہے جس کے تحت اب تک 16 اسرائیلی یرغمالیوں کے بدلے اسرائیلی جیلوں میں قید 566 فلسطینیوں کو رہا کیا جا چکا ہے۔

    معاہدے کے پہلے مرحلے کے اختتام تک حماس اور اسرائیل کے درمیان 33 یرغمالی اور 1900 قیدیوں کا تبادلہ متوقع ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ ان کی اطلاعات کے مطابق پہلے مرحلے میں رہائی پانے والے 33 میں سے آٹھ یر غمالی اب زندہ نہیں ہیں۔

  13. سپریم کورٹ کے چار ججز کے بعد جوڈیشل کمیشن کے رُکن سینیٹر علی ظفر کی جانب سے بھی دس فروری کا اجلاس موخر کرنے کا مطالبہ, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد

    سپریم کورٹ میں آٹھ ججز کی تعیناتی کے معاملے پر ممبر جوڈیشل کمیشن سینیٹر علی ظفر نے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کو خط لکھ دیا۔

    پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے سینیٹر علی ظفر نے خط میں دس فروری کا جوڈیشنل کمیشن کا اجلاس موخر کرنے کی درخواست کی ہے۔

    خط میں اسلام آباد ہائیکورٹ ججز کی سنیارٹی تنازع کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ معاملہ حل ہونے تک اجلاس موخر کیا جائے جبکہ سپریم کورٹ کے چار ججز بھی اجلاس موخر کرنے کی درخواست کر چکے ہیں۔

    سینیٹر علی ظفر کی جانب سے لکھے جانے والے خط کہا گیا ہے کہ ’ججز کی ٹرانسفر سے اسلام آباد ہائیکورٹ کی سنیارٹی لسٹ تبدیل ہوگئی اور ججز کے تبادلے سے تاثر ہے کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کی اپیلوں کے لیے کوئی بندوبست کیا گیا ہے۔ ایسی صورت میں مناسب یہی ہوگا کہ ججز کی سنیارٹی کا مسئلہ حل ہونے تک کمیشن اجلاس موخر کیا جائے۔‘

    سینیٹر علی ظفر نے خط میں درخواست کی ہے کہ ’کمیشن نے اگر اجلاس کرنا ہی ہے تو ٹرانسفر شدہ ججز کو زیرِ غور نہ لایا جائے۔

    واضح رہے کہ سندھ اور بلوچستان سے ججز کی اسلام آباد ہائیکورٹ منتقلی کے بعد سنیارٹی لسٹ تبدیل ہوگئی جس پر وکلاء برادری کی جانب سے شدید احتجاج کیا گیا ہے۔

  14. 26 ویں ترمیم آئین کا حصہ ہے اور اس پر آنکھیں اور کان بند نہیں کر سکتے: جسٹس محمد علی مظہر, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد

    سپریم کورٹ کے آئینی بینچ میں شامل جسٹس محمد علی مظہر نے ججز کے اختیارات سے متعلق نوٹ میں لکھا ہے کہ 26 ویں ترمیم آئین کا حصہ ہے اور اس پر آنکھیں اور کان بند نہیں کر سکتے۔

    جسٹس محمد علی مظہر نے 20 صفحات پر مشتمل نوٹ میں لکھا کہ قوانین کے آئینی ہونے یا نہ ہونےکا جائزہ صرف آئینی بینچ لے سکتا ہے، کسی ریگولر بینچ کے پاس آئینی تشریح کا اختیار نہیں۔

    اپنے نوٹ میں جسٹس محمد علی مظہر نے لکھا کہ آئینی بینچ نے درست طور پر جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس عقیل عباسی پر مشتمل پر دو رکنی بینچ کے حکم نامے واپس لیے۔

    انھوں نے کہا کہ ’26 ویں ترمیم اس وقت آئین کا حصہ ہے، ترمیم میں سب کچھ کھلی کتاب کی طرح واضح ہے، ہم اس ترمیم پر آنکھیں اور کان بند نہیں کرسکتے۔

    جسٹس محمد علی مظہر نے یہ بھی لکھا کہ یہ درست ہے کہ ترمیم چیلنج ہو چکی اور فریقین کو نوٹس بھی جاری ہو چکے۔ تاہم کیس فل کورٹ میں بھیجنے کی درخواست کا میرٹ پر فیصلہ ہو گا۔ 26 ویں ترمیم کو پارلیمنٹ یا سپریم کورٹ کا فیصلہ ہی ختم کر سکتا ہے۔ جب تک ایسا ہو نہیں جاتا، معاملات اس ترمیم کے تحت ہی چلیں گے۔

    فاضل جج نے کہا کہ آئینی تشریح کم از کم پانچ رکنی آئینی بینچ ہی کر سکتا ہے۔ کسی ریگولر بینچ کو وہ نہیں کرنا چاہیے جو اختیار موجودہ آئین اسے نہیں دیتا۔ دو رکنی بینچ کے ٹیکس کیس میں بنیادی حکم نامے واپس ہو چکے۔ بنیادی حکم ناموں کے بعد کی ساری کارروائی بےوقعت ہے۔

    یاد رہے کہ آئینی بینچ نے جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس عقیل عباسی کے حکم نامے واپس لیے تھے، جسٹس محمد علی مظہر نے آئینی بینچ کے فیصلے سے اتفاق کرتے ہوئے نوٹ جاری کیا۔

  15. امریکہ کا ایران سے معاہدہ ہو گیا تو اسرائیل پھر ایران پر حملہ نہیں کرے گا: صدر ڈونلڈ ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیویارک پوسٹ کو بتایا کہ وہ ایران کے ساتھ ایک معاہدہ کرنا چاہتے ہیں اور یہ کہ ’اگر ہم کوئی معاہدہ کرتے ہیں تو اسرائیل ان پر بمباری نہیں کرے گا۔‘

    صدر ٹرمپ نے زور دے کر کہا کہ وہ ایک معاہدہ چاہتے ہیں اور اس معاہدے کو ایران پر بمباری کرنے پر ’ترجیح‘ دیں گے۔

    امریکی صدر نے کہا کہ وہ ایران کے ساتھ ممکنہ مذاکرات کے موضوعات کا ذکر نہیں کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ ’میں آپ کو یہ بتانا پسند نہیں کرتا کہ میں انھیں کیا بتانے جا رہا ہوں۔ یہ اچھا کام نہیں ہے۔‘

    امریکی صدر نے کہا کہ انھیں امید ہے کہ ’وہ ایسا نہ کرنے کا فیصلہ کریں گے جو وہ فی الحال کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔‘

    امریکی صدر کے یہ الفاظ ایک ایسے وقت پر سامنے آئے ہیں جب ایران کے جوہری پروگرام کے ہتھیاروں کی تیاری کی طرف پیش قدمی کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں اور ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے واضح طور پر امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے امکان کو مسترد کر دیا ہے۔

    19 فروری کو آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا تھا کہ سابقہ ​​جوہری مذاکرات کے تجربے اور حتمی جے سی پی او اے کو دیکھتے ہوئے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کرنا ’عقلمندی نہیں، یہ ذہانت پر مبنی فیصلہ نہیں ہوگا، یہ مہذب نہیں ہوگا۔‘

    آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ ’سب سے پہلے، امریکہ کے ساتھ مذاکرات کا ملک کے مسائل کے حل پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ ہمیں اسے صحیح طور پر سمجھنا چاہیے۔ وہ ہمارے سامنے یہ بہانہ نہ کریں کہ اگر ہم اس حکومت کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھیں تو یہ یا وہ مسئلہ حل ہو جائے گا۔ نہیں، نہیں، امریکہ سے مذاکرات سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ وجہ؟ ’تجربہ۔‘

    آیت اللہ خامنہ ای نے زور دے کر کہا کہ ’ایسی حکومت کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں ہونی چاہیے۔‘

    ان تبصروں سے قبل صدر مسعود پزشکیان اور وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایران کے بارے میں ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کے بارے میں مایوسی کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔

    ایرانی رہنما کی تقریر سے ایک روز قبل امریکی محکمہ خزانہ نے اعلان کیا تھا کہ امریکہ نے متعدد افراد اور آئل ٹینکرز پر نئی پابندیاں عائد کی ہیں جو سالانہ لاکھوں بیرل ایرانی تیل چین منتقل کرنے میں مدد کرتے ہیں۔

    ان پابندیوں کا اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے ایران کی تیل کی برآمدات کو ’صفر‘ تک کم کرنے کے وعدے کے بعد سامنے آیا ہے۔

    صدر ٹرمپ نے ’زیادہ سے زیادہ دباؤ‘ بڑھانے کی غرض سے گذشتہ ہفتے ایک میمورینڈیم پر دستخط کیے تھے، جس میں کہا گیا تھا کہ یہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روک دے گا، لیکن ساتھ ہی وہ چاہتے ہیں کہ ایران ایک کامیاب ملک بنے اور امریکہ کے ساتھ ’تصدیق شدہ جوہری امن معاہدہ‘ تک پہنچے۔

    امریکی صدر نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ وہ اپنے ایرانی ہم منصب سے ملاقات کرنا چاہیں گے تاکہ تہران کو ’جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوششیں بند کرنے‘ پر راضی کیا جا سکے۔

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ ایران جوہری ہتھیار رکھنے کے بہت قریب ہے اور امریکہ کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ دوسرے ممالک کو ایرانی تیل کی فروخت کو روکے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ دھمکی بھی دی ہے کہ اگر انھیں یا دیگر اعلیٰ امریکی عہدیداروں کو ایران نے نشانہ بنایا تو ’ایران کا صفایا ہو جائے گا اور اس کا کچھ نہیں بچے گا۔‘

  16. 7 اکتوبر کے بعد فلسطینی ریاست کا تصور ختم ہو گیا: اسرائیلی وزیراعظم

    اسرائیل کے وزیراعظم بنیامین نتن یاہو نے کہا ہے کہ 7 اکتوبر 2023 کے بعد فلسطینی ریاست کا تصور ختم ہو گیا ہے۔ دوسری جانب عرب ممالک کی تنظیم نے مسئلہ فلسطین پر فروری کے آخر میں ہنگامی عرب سربراہی اجلاس طلب کر لیا ہے۔

    فاکس نیوز سے بات کرتے ہوئے اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ وہ اپنے ملک ’اسرائیل کی تباہی کے مرتکب کسی تنظیم کی اجازت نہیں دے گا کہ وہ اقتدار میں آئے۔ انھوں نے کہا کہ ’7 اکتوبر کے بعد فلسطینی ریاست کا تصور ختم ہو چکا ہے۔‘

    نتن یاہو نے نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہ ’اسرائیل بہت چھوٹا ہے‘ کہا ہے کہ ’یہ درست بات ہے اور ہم اس سے چھوٹے نہیں ہوسکتے۔‘

    نتن یاہو نے کہا کہ ’امن طاقت کے ذریعے آتا ہے۔ جب ہم بہت مضبوط ہوں گے اور ایک ساتھ کھڑے ہوں گے تو کوئی اعتراض باقی نہیں رہے گا۔‘

    گذشتہ ہفتے اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنیامن نتن یاہو کی جانب سے چینل 14 کو دیے گئے ایک انٹرویو میں سعودی عرب میں فلسطینی ریاست کے قیام کے بیان پر مصر اور اردن کا سخت ردِ عمل سامنے آیا ہے۔

    یروشلم پوسٹ کے مطابق انٹرویو کے دوران نتن یاہو کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کے پاس کافی زمین ہے اور وہ چاہیں تو اپنے ملک کے اندر فلسطینی ریاست قائم کر سکتے ہیں۔

    دورانِ انٹرویو جب ان سے سعودی عرب کے اس بیان کے بارے میں سوال کیا گیا جس میں سعودی وزارتِ خارجہ کا کہنا تھا کہ فلسطینی ریاست کے قیام تک اسرائیل سے تعلقات معمول نہیں آ سکتے، ان کا کہنا تھا کہ وہ کسی بھی ایسے معاہدے پر کبھی راضی نہیں ہوں گے جس سے اسرائیل کی سالمیت کو خطرہ ہو۔

    اقوام متحدہ کے سکیورٹی کونسل کی قرارداد کے مطابق 1967 کی جنگ میں اسرائیل نے جن فلسطینی علاقوں پر قبضہ کیا تھا وہ مقبوضہ تصور کیے جاتے ہیں۔

    فروری کے آخر میں ہنگامی عرب سربراہی اجلاس

    مصری وزارت خارجہ نے اتوار کو کہا کہ قاہرہ 27 فروری کو ایک ہنگامی عرب سربراہی اجلاس کی میزبانی کرے گا جس میں ’مسئلہ فلسطین میں نئی ​​اور خطرناک پیش رفت‘ پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

    یہ سربراہی اجلاس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اسرائیل سے ’غزہ کی پٹی کا کنٹرول سنبھالنے‘ اور فلسطینیوں کو دوسری جگہوں پر آباد کرنے کے بعد منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    مصری وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ سربراہی اجلاس فلسطینی اتھارٹی کی درخواست پر اور عرب سربراہی اجلاس کے موجودہ صدر اور عرب لیگ کے جنرل سیکرٹریٹ کے ساتھ ہم آہنگی کے بعد منعقد کیا جائے گا۔

    مصر نے جمعے کے روز کہا کہ وہ فلسطینیوں کی نقل مکانی کو علاقائی طور پر مسترد کرنے کی تصدیق کے لیے اردن، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سمیت عرب ممالک کے ساتھ رابطوں میں تیزی لا رہا ہے۔

    وزارت خارجہ کے مطابق، مصر کے وزیر خارجہ بدر عبدالعطی اتوار کو واشنگٹن کے لیے روانہ ہو گئے ہیں جہاں وہ نئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ اور کانگریس کے اراکین کے ساتھ بات چیت کریں گے۔

    وزارت نے ایک بیان میں وضاحت کی کہ یہ دورہ ’علاقائی پیش رفت پر مشاورت‘ کے علاوہ ’دوطرفہ تعلقات اور مصر اور امریکہ کے درمیان سٹریٹجک شراکت داری کو مضبوط بنانے کے فریم ورک کے اندر آتا ہے۔‘

    ’فلسطین کو مٹا دو‘

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اتوار کے روز کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ کی پٹی کو کنٹرول سنبھالنے اور فلسطینیوں کو ’زبردستی بے گھر‘ کرنے کی تجویز مشرق وسطیٰ میں سلامتی اور استحکام کے لیے ’سنگین خطرہ‘ ہے۔

    واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے منگل کو واشنگٹن میں اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نتن یاہو کے ساتھ کہا کہ ’امریکہ غزہ کی پٹی کی نگرانی سنبھال لے گا۔‘

    عباس عراقچی نے کہا کہ ’غزہ کے لوگوں کو زبردستی بے گھر کرنے کا منصوبہ ایک استعماری سازش ہے جس کا مقصد فلسطین کو مٹانا ہے۔‘

    انھوں نے اپنے مصری ہم منصب بدر عبدالعاطی کے ساتھ فون کال کے دوران اس بات پر زور دیا کہ یہ خطے کے استحکام اور سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے۔

    ایرانی وزیر نے فلسطینی عوام کی قسمت کو نشانہ بنانے والی اس سازش کا مقابلہ کرنے کے لیے اسلامی ممالک کی جانب سے متحد اور مضبوط موقف اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

    اسرائیلی فوج کا غزہ سے انخلا

    اسرائیلی آرمی ریڈیو نے اتوار کے روز غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کے 22 ویں دن معاہدے کے پہلے مرحلے کے انتظامات کے مطابق غزہ میں نیٹزاریم کے محور سے اسرائیلی افواج کے مکمل انخلاء کا اعلان کیا ہے۔

    حماس کے ایک رہنما نے تصدیق کی کہ جنگ بندی کے معاہدے پر عمل درآمد کرتے ہوئے اسرائیلی فورسز صلاح الدین روڈ پر واقع نیٹزارم جنکشن سے پیچھے ہٹ گئیں، جو غزہ کی پٹی کے شمال اور جنوب کو آپس میں ملاتی ہے۔

  17. روسی صدر پوتن سے یوکرین جنگ ختم کرنے پر بات ہوئی ہے: ڈونلڈ ٹرمپ

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی جریدے نیو یارک پوسٹ کو بتایا ہے کہ ان کی یوکرین جنگ کے متعلق روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ٹیلی فون پر بات ہوئی ہے۔

    فی الحال یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان رابطہ کب ہوا تھا۔

    جب ان سے سوال کیا گیا کہ ان کی صدر پوتن سے کتنی مرتبہ بات ہو چکی ہے تو امریکی صدر نے اس کا جواب دینے سے انکار کر دیا۔

    انھوں نے نیو یارک پوسٹ کو بتایا کہ صدر پوتن کی خواہش ہے کہ [میدان جنگ] میں ہلاکتیں بند ہوں۔

    امریکی صدر کا کہنا ہے کہ ان کے پاس اس جنگ کو ختم کرنے کا ایک منصوبہ ہے۔ ان کا کہنا ہے ’امید ہے کہ یہ جلد ہوگا۔‘

    خبر رساں ادارے روئٹرز کا کہنا ہے کہ انھوں نے اس خبر کی تصدیق کے لیے امریکی اور روسی حکام سے رابطہ کیا ہے لیکن تاحال دونوں ممالک کے حکام کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

    روئٹرز کے مطابق گذشتہ ماہ کے اواخر میں ماسکو کی جانب سے کہا گیا تھا کہ ولادیمیر پوتن امریکی صدر سے ٹیلیفونک رابطے کے لیے تیار ہیں اور اس سلسلے میں امریکہ کی جانب سے جواب کا انتظار ہے۔

    انٹرویو کے دوران بظاہر یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی اور روسی صدر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’وہ ملاقات کرنا چاہتے ہیں۔‘

    امریکی صدر کا مزید کہنا ہے کہ وہ یوکرینی صدر کے ساتھ 50 کروڑ ڈالرز کا ایک معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کے تحت، یوکرین کے گیس اور قیمتی دھاتوں کے ذخائر تک رسائی کے بدلے میں امریکہ یوکرین کو سکیورٹی گارنٹی فراہم کرے گا۔

    14 فروری سے 16 فروری تک میونخ میں ہونے والی سکیورٹی کانفرنس کے دوران امریکی نائب صدر جے ڈی ونس اور یوکرین کے صدر کے درمیان ملاقات متوقع ہے۔

    اس سے قبل صدر ٹرمپ کی جانب سے کہا گیا تھا کہ شاید وہ اگلے ہفتے یوکرینی صدر سے ملاقات کریں۔

    دوسری جانب، گذشتہ ہفتے یوکرینی صدر نے روئٹرز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ٹرمپ اور پوتن کے درمیان ممکنہ ملاقات سے پہلے انھیں امریکی صدر سے ملنا ہوگا۔

    ’یہ بہت ضروری ہے ورنہ ایسا تاثر پید ا ہوگا جیسے یوکرین کی غیر موجودگی میں یوکرین کے بارے میں مذاکرات ہو رہے ہیں۔‘

    ’پارٹنرز کے لیے ضروری ہے کہ مسائل کے بارے میں وہ پہلے آپس میں بات کریں، پھر دشمن سے بات کی جائے۔‘

  18. نتن یاہو کی ’سعودی عرب میں فلسطینی ریاست‘ کی تجویز پر مصر اور اردن کا سخت ردعمل

    گذشتہ ہفتے اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنیامن نتن یاہو کی جانب سے چینل 14 کو دیے گئے ایک انٹرویو میں سعودی عرب میں فلسطینی ریاست کے قیام کے بیان پر مصر اور اردن کا سخت ردِ عمل سامنے آیا ہے۔

    یروشلم پوسٹ کے مطابق، انٹرویو کے دوران نتن یاہو کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کے پاس کافی زمین ہے اور وہ چاہیں تو اپنے ملک کے اندر فلسطینی ریاست قائم کر سکتے ہیں۔

    دورانِ انٹرویو جب ان سے سعودی عرب کے اس بیان کے بارے میں سوال کیا گیا جس میں سعودی وزارتِ خارجہ کا کہنا تھا کہ فلسطینی ریاست کے قیام تک اسرائیل سے تعلقات معمول نہیں آ سکتے، ان کا کہنا تھا کہ وہ کسی بھی ایسے معاہدے پر کبھی راضی نہیں ہوں گے جس سے اسرائیل کی سالمیت کو خطرہ ہو۔

    اقوام متحدہ کے سکیورٹی کونسل کی قرارداد کے مطابق، 1967 کی جنگ میں اسرائیل نے جن فلسطینی علاقوں پر قبضہ کیا تھا وہ مقبوضہ تصور کیے جاتے ہیں۔

    یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نتن یاہو کی واشنگٹن میں ملاقات کے بعد صدر ٹرمپ کی جانب سے غزہ کا ’کنٹرول سنبھالنے‘ اور اسے اپنی ’ملکیت‘ میں لینے اور اس سارے عمل کے دوران وہاں کے لوگوں کی دوبارہ آبادکاری کا منصوبہ پیش کیا گیا تھا۔

    صدر ٹرمپ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ نے فلسطینیوں کو غزہ سے کسی دوسری جگہ منتقل کرنے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ فلسطینیوں کے بارے میں ان کا مؤقف اٹل ہے۔ سعودی عرب کا کہنا تھا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ اس وقت تک تعلقات بحال کرنے کے بارے میں بات نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں نہیں لایا جاتا۔

    وزارتِ خارجہ کے بیان میں کہا گیا تھا کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے زور دیا ہے کہ سعودی عرب کا مؤقف ’واضح اور دو ٹوک‘ ہے اور اس میں کسی بھی صورتحال میں مختلف ’تشریح‘ کی گنجائش نہیں ہے۔

    اسرائیلی وزیرِ اعظم کا بیان خطے کو مزید کشیدگی کی طرف دھکیل سکتا ہے: اردن

    اتوار کے روز بنیامن اردن کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں نتن یاہو کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے اسرائیل کے سعودی عرب میں فلسطینی ریاست کے قیام کے بیان کو جارحانہ مطالبہ قرار دیا ہے۔

    اردنی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ایسے بیانات اقوام متحدہ کے قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ایسے اشتعال انگیز بیانات امن کے خلاف ایک خارجی، اشتعال انگیز نظریے کی عکاسی کرتے ہیں۔ ایسے بیانات خطے کو مزید کشیدگی کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔

    وزارتِ خارجہ کے ترجمان سفیان القداہ کا کہنا ہے کہ اردن سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اعلان کرتا ہے اور عالمی برادری سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ ان غیر ذمہ دارانہ بیانات کی مذمت کرے۔

    اس سے قبل سنیچر کے روز مصری وزارت خارجہ نے سعودی سرزمین پر فلسطینی ریاست کے قیام کے بارے میں اسرائیلی بیانات کو لاپرواہ قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی تھی۔

    مصری وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ اسرائیلی بیانات تمام قائم شدہ سفارتی اصولوں کی خلاف ہے۔

    یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ اردن اور مصر نے اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔

  19. غزہ میں رہائی پانے والوں کے خوفزدہ چہرے جنگ بندی کے معاہدے پر کیسے اثر انداز ہو سکتے ہیں؟, جو ان ووڈ، بی بی سی نیوز، یروشلم

    سنیچر کے روز رہائی سے قبل جب تینوں اسرائیلی یرغمالیوں، 52 سالہ ایلی شرابی، 56 سالہ اوہد بن امی، اور 34 سالہ اُرلیوی، سٹیج پر لایا گیا تو وہ کافی کمزور دکھائی دے رہے تھے۔

    حماس کی جانب سے انٹرویو لینے والے نے جب ایلی شرابی سے ان کے تاثرات کے بارے میں پوچھا تو ان کا کہنا تھا کہ وہ بہت خوش ہیں کہ وہ آج اپنی اہلیہ اور بیٹیوں سے مل پائیں گے۔ انٹرویو دیتے ہوئے شاید انھیں یہ معلوم نہ تھا کہ سات اکتوبر کے حماس کے اسرائیل پر حملے میں وہ لوگ مارے جا چکے ہیں۔

    یہ مناظر دنیا بھر میں لائیو ٹیلی کاست کیے جا رہے تھے جس کا مقصد حماس کی جانب سے دنیا کو پیغام دینا تھا۔

    اس سے قبل حماس کی یہ تاثر دینے کی کوشش رہی ہے کہ وہ یر غمالیوں سے کتنا اچھا سلوک کرتے رہے ہیں تاہم اس دفعہ یہ ممکن نہیں تھا۔

    تینوں قیدی کافی کمزور دکھائی دے رہے تھے اور ان کی حالت کو لے کر اب اسرائیل میں کافی غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

    21 سالہ روتھ سینڈرووچ یہ مناظر تل ابیب کے ہوسٹیج سکوئر میں براہ راست ریکھ رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا ان کے ملے جلے جذبات ہیں۔ ایک طرف ان کو ان افراد کی رہائی کی خوشی ہے لیکن دوسری جانب یہ افراد جو اپنے خاندانوں کے رہنما تھے، باپ تھے، انھیں ٹوٹے ہوئے آدمیوں کی طرح دیکھ کر بہت صدمہ پہنچا ہے۔

    اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو کا کہنا ہے کہ وہ اس کی زیادہ تفصیلات میں نہیں جائیں گے لیکن اس کا برابر جواب دیا جائے گا۔ تاہم انھوں نے واضح نہیں کیا کہ وہ اس بارے میں کیا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

    بین الاقوامی کمیٹی آف ریڈ کراس قیدیوں کے تبادلے میں سہولت کاری فراہم کر رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ قیدیوں کی رہائی کو ایک ’باوقار اور نجی‘ تقریب بنانے کی ضرورت ہے۔

    تاہم صرف حماس کو ہی نہیں بلکہ اسرائیل کو بھی قیدیوں کی حالتِ زار کو لے کر تنقید سامنا ہے۔

    تین اسرئیلی یرغمالیوں کی رہائی کے کچھ ہی دیر بعد اسرائیلی جیلوں میں قید 183 فلسطینیوں کو رہا کیا گیا۔

    رہائی پانے والوں میں البریح کے سابق میئر جمال التویل بھی شامل تھے۔

    ان کی بیٹی، جو خود بھی حال ہی میں اسرائیلی جیل سے رہا ہوئی ہیں نے دعویٰ کیا کہ رہائی سے قبل آخری لمحات میں ان کے والد کو مارا پیٹا گیا۔ انھیں بس سے اتارتے ہوئے وینٹی لیٹر سے منسلک کر کے ہسپتال لے جانا پڑا۔

    فلسطینی ہلال احمر کا کہنا ہے کہ سنیچر کے روز اسرائیلی جیلوں سے رہائی پانے والوں میں سے سات کو علاج کے لیے ہسپتال منتقل کرنا پڑا پے۔

    7 اکتوبر 2023 کے بعد سے ایسی متعدد رپورٹس موصول ہوئی ہیں جن میں اسرائیلی حکام پر فلسطینی قیدیوں کے ساتھ بدسلوکی کا الزام لگایا گیا ہے۔

    اب سوال یہ ہے کہ سنیچر کے ان واقعات کا جنگ بندی کے نازک معاہدے پر کیا اثر پڑے گا۔

    اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ معاہدے کے اگلے مرحلے کے بارے میں بات چیت شروع کرنے سے قبل ’تکنیکی مسائل‘ پر بات کرنے کے لیے اپنے مذاکرات کاروں کو قطر بھیج رہا ہے۔ اس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس تجویز کا بھی گرمجوشی سے خیر مقدم کیا ہے کہ غزہ کو فلسطینیوں سے خالی کر دیا جائے گا۔

    وسری جانب، حماس نے الزام لگایا ہے کہ اسرائیل جنگ بندی کے حوالے سے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہا۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ وہ اب بھی مذاکراتی عمل میں شامل ہونے کے لیے تیار ہیں۔

    قیدیوں کی حالت کے بارے میں پائے جانے والی تشویش کے علاوہ ایک اور نتیجہ جو اخذ کیا جا سکتا ہے وہ یہ ہے کہ یرغمالیوں کی رہائی اور جنگ بندی معاہدہ جتنا جلدی ہوتا، اتنا بہتر تھا۔

    کیونکہ رہائی پانے والوں کے خوف زدہ چہروں پر معاہدے میں تاخیر کے اثرات واضح طور پر دیکھے جا سکتے تھے۔

  20. تین اسرائیلی مغویوں کے بدلے 183 فلسطینی قیدیوں رہا، اسرائیل کا حماس پر قیدیوں سے بد سلوکی کا الزام

    سنیچر کے روز حماس کی جانب سے تین اسرائیلی مغویوں کو رہا کیے جانے کے اسرائیل نے اپنی جیلوں میں قید 183 فلسطینی قیدیوں کو رہا کر دیا۔

    غزہ میں جنگ بندی کے بعد سے اب تک حماس کی جانب سے 21 اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کیا جا چکا ہے اور بدلے میں اسرائیل نے 566 قیدیوں کو رہا کیا ہے۔

    سنیچر کے روز رہائی پانے والے اسرائیلیوں میں 52 سالہ ایلی شرابی، 56 سالہ اوہد بن امی، اور 34 سالہ اُرلیوی شامل ہیں۔

    رہائی کے وقت کی تصاویر میں حماس کے جنگجوؤں کو یرغمالیوں کے ساتھ پلیٹ فارم پر چڑھتے دیکھا گیا، حماس کے دو جنگجو ہر یرغمالی کے ساتھ تھے۔

    جس وقت تینوں یرغمالی پلیٹ فارم پر چڑھے تو ان کے ہاتھوں میں رہائی کے سرٹیفکیٹ دکھائی دے رہے تھے۔

    رہائی پانے والے تینوں اسرائیلی انتہائی کمزور دکھائی دیے۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو نے یرغمالیوں کی حالت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے ایک بار پھر دیکھا ہے کہ حماس کس عفریت کا نام ہے۔

    جنگ بندی معاہدے کے تحت پہلے مرحلے میں 33 اسرائیلیوں کے بدلے 1900 فلسطینیوں کی رہائی متوقع ہے۔

    دوسری جانب فلسطینی ہلال احمر کا کہنا ہے کہ سنیچر کے روز اسرائیلی جیلوں سے رہائی پانے والوں میں سے سات کو علاج کے لیے ہسپتال منتقل کرنا پڑا پے۔

    رہائی پانے والوں میں البریح کے سابق میئر جمال التویل بھی شامل تھے۔

    ان کی بیٹی، جو خود بھی حال ہی میں اسرائیلی جیل سے رہا ہوئی ہیں نے دعویٰ کیا کہ رہائی سے قبل آخری لمحات میں ان کے والد کو مارا پیٹا گیا۔ انھیں بس سے اتارتے ہوئے وینٹی لیٹر سے منسلک کر کے ہسپتال لے جانا پڑا۔