اڈیالہ جیل میں عمران خان کو اپنی بہنوں سے ملنے نہیں دیا گیا: پی ٹی آئی
پاکستان تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ اڈیالہ جیل کے باہر سابق وزیر اعظم عمران خان کی بہنوں نورین نیازی اور علیمہ خان کو پولیس نے اپنی حراست میں لیا ہے۔ تاحال راولپنڈی پولیس نے اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ جبکہ وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ اگر پولیس اور جیل حکام نے عمران خان کی بہنوں کو ملاقات سے روکا ہے تو تحریک انصاف کو ہائی کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائر کرنی چاہیے۔
خلاصہ
پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کو اڈیالہ جیل میں ان کی بہنوں سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی
امریکہ اور چین نے ایک دوسرے پر اضافی ٹیرف کا اطلاق مزید 90 روز کے لیے مؤخر کر دیا
امریکہ نے کالعدم تنظیم مجید بریگیڈ کو 'غیر ملکی دہشت گرد تنظیم' نامزد کر دیا ہے
'ہم جنگ کے خاتمے کے قریب ہیں، اور کابینہ نے حماس کو ختم کرنے کا ڈرامائی فیصلہ کیا ہے': نتن یاہو
نو مئی مقدمات: یاسمین راشد، عالیہ حمزہ، صنم جاوید سمیت پی ٹی آئی کے چھ رہنماؤں کو قید کی سزا، شاہ محمود قریشی بری
لائیو کوریج
شراب پی کر ہوٹل میں برہنہ گھومنے پر پائلٹ معطل
،تصویر کا ذریعہGetty Images
برطانوی ایئر
لائن ایزی جیٹ نے اپنے ایک کپتان کو مبینہ طور پر ایک لگژری ہوٹل میں نشے میں دھت ہو
کر برہنہ گھومنے پر معطل کر دیا ہے۔
برطانوی اخبار دی
سن میں شائع ہونے والی خبر کے مطابق، پائلٹ کو 5 اگست کی صبح سویرے کیپ
وردے کے ایک فائیو اسٹار ریزورٹ میں شراب نوشی کے بعد بغیر کپڑوں کے گھومتے ہوئے دیکھا
گیا تھا۔ پائلٹ کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے۔
پائلٹ کو 36
گھنٹے بعد گیٹ وِک کے لیے واپسی کی پرواز اڑانی تھی۔ تاہم ایئر لائن کو اس بارے میں
شکایات موصول ہونے اور متبادل پائلٹ ملنے کے بعد اسے گراؤنڈ کر دیا گیا۔
ایزی جیٹ کے
ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ پائلٹ کو اب تحقیقات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ کمپنی کی سب
سے بڑی ترجیح مسافروں اور عملے کی حفاظت ہے۔
دی سن کی خبر کے
مطابق، کپتان نے 4 اگست کو میلیا ڈوناس بیچ ریزورٹ اینڈ سپا پہنچ کر شراب نوشی شروع
کر دی۔
خبر میں بتایا گیا ہے کہ مقامی وقت کے مطابق تقریباً رات کے ڈھائی بجے ہوٹل میں رکے ہوئے مہمانوں نے
مبینہ طور پر پائلٹ کو کپڑے اتار کر برہنہ حالت میں استقبالیہ میں گھومتے ہوئے دیکھا
تھا۔
انڈین سپریم کورٹ کا حکام کو آٹھ ہفتوں میں دہلی کے لاکھوں آوارہ کتوں کو پکڑنے کا حکم
،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا کی سپریم
کورٹ نے دہلی اور اس کے مضافات میں حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ تمام آوارہ کتوں کو پکڑ کر جانوروں
کی پناہ گاہوں میں منتقل کریں۔
عدالت نے ’کتے کے
کاٹنے سے ریبیز کے بڑھتے ہوئے خطرے‘ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکام کو اس کام کے لیے آٹھ
ہفتوں کا وقت دیا ہے۔
میونسپل ذرائع کا
کہنا ہے کہ دہلی میں لگ بھگ دس لاکھ آوارہ کتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق، مضافاتی علاقوں
نوئیڈا، غازی آباد اور گروگرام میں کتوں کی آبادی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
عالمی ادارہ صحت
کے مطابق، انڈیا میں لاکھوں آوارہ کتے ہیں اور دنیا میں ریبیز سے ہونے والی کل
اموات میں سے 36 فیصد انڈیا میں ہوتی ہیں۔
عدالتی خبروں کی
ویب سائٹ لائیو لا نے سوموار کے روز انڈین سپریم کورٹ کے حوالے سے بتایا ہے کہ
عدالتی حکم میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی قیمت پر چھوٹے بچے ریبیز کا شکار نہیں ہونا
چاہیے۔
دہلی اور دیگر
بڑے شہروں میں کتے کے کاٹنے کی خبروں میں اضافے کے بعد عدالت نے یہ معاملہ اٹھایا
ہے۔
عدالت نے حکام کو
ہدایت جاری کی ہے کہ دہلی اور اس کے مضافات میں متعدد پناہ گاہیں قائم کی جائیں،
جن میں سے ہر ایک کم از کم 5,000 کتوں کو رکھنے کے قابل ہو۔ عدالت کا مزید کہنا ہے
کہ ان پناہ گاہوں میں نس بندی اور ویکسینیشن کی سہولیات کے ساتھ ساتھ سی سی ٹی وی
کیمرے بھی نصب ہونے چاہیے۔
عدالتی حکم میں
کہا گیا ہے کہ ویکسینیشن اور نس بندی کے بعد کتوں کو دوبارہ ان کے علاقوں میں نہیں
چھوڑا جائے۔ حالانکہ موجودہ قوانین کے تحت کتوں کو پکڑنے کے بعد ان کی جگہ پر واپس
چھوڑا جانا ضروری ہے۔
جکام کو کتے کے
کاٹنے اور ریبیز کے کیسز کی اطلاع کے لیے ایک ہفتے کے اندر ہیلپ لائن قائم کرنے کی
بھی ہدایت کی گئی ہے۔
تاہم جانوروں کی حقوق
کی تنظیموں نے عدالتی حکم پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت کی
جانب سے مقرر کردہ ٹائم لائن قابلِ عمل نہیں۔
جانوروں کے حقوق کی
تنظیم پاز کے بانی نیلیش بھناگے کا کہنا ہے کہ انڈیا کے بیشتر شہروں میں اس وقت
پناہ گاہوں میں اس وقت ایک فیصد آوارہ کتوں کو بھی رکھنے کی جگہ نہیں۔
حکومتی اعداد و
شمار کے مطابق، 2024 میں انڈیا میں کتوں کے کاٹنے کے 37 لاکھ کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔
امریکہ اور چین نے ایک دوسرے پر اضافی ٹیرف کا اطلاق مزید 90 روز کے لیے مؤخر کر دیا
،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images
امریکہ اورچین نے ایک دوسرے کی مصنوعات پر 100 فیصد سے زائد
ٹیرف عائد کرنے کے فیصلے کو ایک بار پھر 90 روز کے لیے ملتوی کر دیا ہے۔
دنیا کی دو سب سے
بڑی معیشتوں کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس سال کے آغاز میں ایک دوسرے
کی مصنوعات پر اعلان کردہ اضافی ٹیرف کا اطلاق مزید 90 دنوں کے لیے مؤخر کر دیا
جائے گا۔
دونوں فریقوں نے گذشتہ
ماہ ہونے والے مذاکرات کو ’تعمیری‘ قرار دیا تھا۔ چین کے مذاکرات کار نے اس وقت
کہا تھا کہ دونوں ممالک اس ٹیرف کے اطلاق کو ملتوی کرنے پر زور دیں گے، جبکہ امریکی
حکام نے کہا تھا کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے حتمی منظوری کا انتظار کر
رہے ہیں۔
سوموار کے روز،
ٹرمپ نے ٹیرف جنگ بندی میں توسیع کے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر دیے۔
اس کا مطلب ہے کہ
واشنگٹن فی الحال چینی سامان پر 145 فیصد محصولات عائد نہیں کرے گا جبکہ دوسری
جانب بیجنگ نے بھی امریکی مصنوعات پر 125 فیصد ٹیرف کا نفاذ موخر کر دیا ہے۔
معاہدے کے تحت
امریکہ چینی درآمدات پر 30 فیصد محصولات برقرار رکھے گا جبکہ چین میں امریکی اشیا
پر 10 فیصد ٹیرف لاگو رہے گا۔
وائٹ ہاؤس کا
کہنا ہے کہ اس توسیع سے ’تجارتی عدم توازن کو دور کرنے‘ اور ’غیر منصفانہ تجارتی
طریقوں‘ کے بارے میں بات چیت کے لیے مزید وقت ملے گا۔
امریکہ کا کہنا
ہے کہ 2024 میں چین کے ساتھ اس کا تجارتی خسارہ 300 ارب ڈالرز کے قریب تھا جو کہ
کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔
بیان میں یہ بھی
کہا گیا کہ بات چیت کا مقصد امریکی برآمد کنندگان کی چین تک رسائی کو بڑھانا اور
قومی سلامتی اور اقتصادی مسائل کو حل کرنا ہے۔
بریکنگ, امریکہ نے بی ایل اے اور اس کے مجید گروپ کو دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ کے محکمہ خارجہ نے
بلوچستان لبریشن آرمی اور اس کے مجید بریگیڈ گروپ کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار
دے دیا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے
بیان کے مطابق ’مجید بریگیڈ کو بی ایل اے کی سابقہ خصوصی طور پر نامزد عالمی دہشت گردوں
کی فہرست (ایس ڈی جی ٹی) میں شامل کیا جا
رہا ہے۔‘
بیان میں مزید کہا گیا
ہے کہ ’بی ایل اے کو متعدد دہشت گرد حملوں کے بعد 2019 میں ایس ڈی جی ٹی میں شامل کیا گیا تھا۔ 2019 کے بعد سے ، بی ایل اے اور مجید بریگیڈ نے مزید حملوں کی
ذمہ داری قبول کی۔‘
امریکی محکمہ خارجہ کے
مطابق ’ 2024 میں بی ایل اے نے دعوی کیا کہ
اس نے کراچی میں ہوائی اڈے اور گوادر پورٹ اتھارٹی کمپلیکس کے قریب خودکش حملے کیے
تھے۔ 2025 میں ، بی ایل
اے نے مارچ میں کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس ٹرین کے ہائی جیکنگ کی ذمہ
داری قبول کی تھی۔ اس حملے میں 31 شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کو ہلاک کیا اور300 سے زیادہ ٹرین مسافروں کو یرغمال بنا لیا۔‘
امریکہ محکمہ
خارجہ نے کہا ہے کہ ’تنظیم کو دہشت گرد قرار دینا دہشت گردی کے خلاف ہماری جنگ میں
ایک اہم کردار ادا کرتا ہے اور دہشت گرد سرگرمیوں کی حمایت کو روکنے کا ایک مؤثر طریقہ
ہے۔‘
دوسری جانب وزیر اعلیٰ
بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اپنے ردِ عمل میں کہا ہے کہ امریکہ کا بی ایل اے اور
مجید بریگیڈ کو دہشت گرد تنظیمیں قرار دینا قابلِ تحسین اقدام ہے۔
انھوں نے سماجی رابطے کی
سائٹ ایکس پر کہا ’بی ایل اے اور مجید بریگیڈ طویل عرصے سے نسلی و لسانی حقوق کے
جھوٹے پردے میں معصوم شہریوں کا خون بہاتے رہے ہیں۔ دہشت گردی کسی صورت قابلِ جواز
نہیں، کوئی مقصد بے گناہ شہریوں کے قتل کو درست قرار نہیں دے سکتا‘۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر
سرفراز بگٹی نے مزید کہا کہ ’دنیا کو دہشت گردی کے ناسور کے خاتمے کے لیے متحد
ہونا ہوگا۔‘
’ہم جنگ کے خاتمے کے قریب ہیں، اور کابینہ نے حماس کو ختم کرنے کا ڈرامائی فیصلہ کیا ہے‘: نتن یاہو
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل ’جنگ کے خاتمے کے دہانے پر ہے۔‘
نیتن یاہو نے یروشلم میں کنیسٹ میوزیم کے افتتاح کے موقع پر ایک تقریر کے دوران کہا کہ اسرائیلی فوج کے غزہ کی پٹی کے 70 فیصد حصے پر قبضے کے بعد سکیورٹی کابینہ نے جمعے کی رات اپنے آخری اجلاس میں حماس کو ختم کرنے کے لیے ایک ’ڈرامائی فیصلہ‘ کیا۔
انھوں نے وضاحت کی کہ فوج کو غزہ شہر کا کنٹرول سنبھالنے کے احکامات موصول ہوئے ہیں، جسے انھوں نے ’دہشت گردی کا دارالحکومت‘ قرار دیا۔
نتن یاہو نے ’جنگ کے خاتمے کے لیے پانچ اصول طے کیے: حماس اور اس کے ہتھیاروں کو ختم کرنا، تمام یرغمالیوں کو واپس کرنا، غزہ کی پٹی کو غیر فوجی بنانا، پٹی پر اسرائیلی سکیورٹی کنٹرول مسلط کرنا، اور ایک متبادل سول انتظامیہ قائم کرنا جو حماس یا فلسطینی اتھارٹی کے ماتحت نہ ہو۔
انھوں نے کہا کہ یرغمالیوں کی واپسی کا واحد راستہ حماس کو ختم کرنا ہے۔
اسرائیل کے چینل 12 کے مطابق، وزیراعظم کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیلی فوج ’غزہ کی پٹی پر قبضے‘ کے لیے سیاسی قیادت کو اگلے دو ہفتوں میں ایک وسیع آپریشنل پلان پیش کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جس میں غزہ شہر اور مرکزی پناہ گزین کیمپوں پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔
بتایا گیا ہے کہ پہلے مرحلے میں ’تقریباً 250,000 ریزرو فوجیوں کو متحرک کرنا، غزہ شہر کو مکمل طور پر گھیرے میں لے کر سپلائی منقطع کرنا اور اسے اس کے گردونواح سے الگ کرنا، اور اسرائیلی نگرانی میں محفوظ انسانی زونز اور 12 امدادی مراکز کا قیام شامل ہے۔
190 ملین پاؤنڈز کیس سے منسلک علی ریاض ملک کی 405 کنال اراضی فروخت, شہزاد ملک، بی بی سی اردو/اسلام آباد
اسلام آباد انتظامیہ کی جانب سے 190 ملین پاؤنڈز کیس میں القادر ٹرسٹ ریفرنس سے منسلک ایک جائیداد کی نیلامی کی گئی ہے جو کہ بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض کے صاحبزادے علی ریاض ملک کے نام پر تھی۔
ضلعی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس نیلامی میں ملزم علی ریاض ملک کی موضع موہڑہ نور اسلام آباد کی 405 کنال اراضی 34 لاکھ 20 ہزار روپے کنال پر فروخت کی گئی۔ جبکہ ان کا کہنا تھا کہ ملزم فرح گوگی کی زمین 248 کنال اراضی پر کوئی بولی نہیں لگی۔
ضلعی انتظامیہ کے اہلکار کے مطابق اس نیلامی میں صرف دو خریداروں نے حصہ لیا۔ اہلکار نے بتایا ہے کہ فرح گوگی کے نام پر جو اراضی تھی اس میں ’کسی نے دلچسپی ظاہر نہیں کی‘ جبکہ علی ریاض کی زمین تھی ایک خریدار نے ’چونتیس لاکھ بیس ہزار فی کنال کے حساب سے خریدی ہے۔‘
اہلکار سے جب خریدار کا نام پوچھا گیا تو انھوں نے لاعلمی کا اظہار کیا۔
خیال رہے کہ 190 ملین پاؤنڈ کیس میں سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے علاوہ فرح گوگی اور علی ریاض بھی ملزم تھے جنھیں عدالت کی طرف سے اشتہاری قرار دیا گیا تھا۔
اسلام آباد کے اسسنٹ کمشنر سیکرٹریٹ کی جانب سے مختلف اخبارات میں دیے گیے اشتہار کے مطابق اسلام آباد کے موضع موہڑہ نور میں ساڑھے چھ سو کنال اراضی کو عدالتی حکم پر آج نیلام کیا جانا تھا۔
اسسٹنٹ کمشنر سیکریٹریٹ عزیر علی خان نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ نیلامی کا یہ عمل یونین کونسل بہارہ کہو میں ہوا۔
اسلام آباد کی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے کہا ہے کہ ’یہ جائیداد پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض نے فرح شہزادی کے نام منتقل کی تھی اور اس کے بینیفشری عمران خان تھے۔‘ اہلکار کے مطابق یہ زرعی زمین عمران خان کی بنی گالہ والی رہائش گاہ سے کچھ فاصلے پر موہڑہ نور کی حدود میں واقع ہے۔
اس اشتہار میں اس بات کا ذکر کیا گیا تھا کہ جو کوئی بھی خریدار اس اراضی کو خریدنے میں دلچسپی رکھتا ہے تو وہ قومی احتسباب بیورو یعنی نیب کے چیئرمین کے نام 50 لاکھ روپے کا پے آرڈر بنوا کر جمع کروائے۔
اس اشتہار میں یہ بھی کہا گیا کہ اس اراضی کی نیلامی کے لیے 30 مئی اور 7 اگست کو بھی اخبارات میں اشتہار دیے گیے تھے۔ اس اشتہار میں نیلام ہونے والی اس زمین کی مالیت کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔
نیب کے اہلکار کے مطابق یہ اراضی عمران خان کو القادر ٹرسٹ کیس یا 190 میلن پاونڈ کے مقدمے میں سزا سنائے جانے کے بعد نیلام کی جا رہی ہے۔
اس مقدمے میں اسلام آباد کی احتساب عدالت نے اس سال سابق وزیر اعظم عمران خان کو 14 سال قید اور دس لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی جبکہ ان کی اہلیہ بشری بی بی کو اسی مقدمے میں 7 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
نو مئی کے واقعات کے ملزمان کو اپنے دفاع کا موقع نہیں دیا گیا: تحریک انصاف
سابق وزیر اعظم عمران خان کی جماعت
پاکستان تحریک انصاف نے لاہور کی انسداد دہشتگردی عدالت کی جانب سے نو مئی کے مقدمات
میں سزاؤں پر ردعمل دیا ہے۔
پی ٹی آئی کے رہنما زلفی بخاری کا دعویٰ تھا کہ جماعت کی اعلیٰ قیادت اور کارکنان کو دی گئی سزائیں ’انصاف کے اصولوں کی
خلاف ورزی ہے۔‘
انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’بدقسمتی سے ان
مقدمات میں شفافیت کو نظر انداز کیا گیا اور ملزمان کو اپنے دفاع کا موقع نہیں دیا
گیا۔‘
’بند دروازوں کے پیچھے رات گئے ہونے
والی سماعتوں نے انصاف کی روح کو پہلے سے طے شدہ نتائج پر ترجیح دی۔‘
تحریک انصاف نے اعلان کیا ہے کہ انسداد
دہشتگردی عدالتوں کے فیصلوں کے خلاف اعلیٰ عدالتوں میں اپیل دائر کی جائے گی۔
تاحال حکومت کی جانب سے ان فیصلوں یا تحریک انصاف کی جانب سے عائد کردہ الزامات پر تبصرہ نہیں کیا گیا ہے۔
اقلیتوں کے حقوق کا عالمی دن: ’پاکستان کے صوبہ پنجاب میں اقلیتی بچوں سے تعصب کے سب سے زیادہ واقعات رپورٹ ہوئے‘, ریاض سہیل، بی بی سی اردو
نیشنل کمیشن آن دی رائٹس آف چائلڈ، این سی آر سی کی جانب سے یونیسیف کے تعاون سے شائع ہونے والی رپورٹ نے پاکستان میں اقلیتی مذہبی برادریوں سے تعلق رکھنے والے بچوں کو درپیش نظامی تعصبات کو اجاگر کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اس قسم کے زیادہ تر واقعات صوبہ پنجاب میں رپورٹ ہوئے۔
اس رپورٹ کے مطابق، اپریل 2023 سے دسمبر 2024 کے درمیان، این سی آر سی کو اقلیتی بچوں پر ہونے والے مظالم کے حوالے سے 27 شکایات موصول ہوئیں۔
بتایا گیا ہے کہ ’سب سے زیادہ کیسز 40 فیصد پنجاب سے رپورٹ ہوئے، جہاں جنوری 2022 سے ستمبر 2024 کے درمیان پولیس ڈیٹا کے مطابق متاثرین میں 547 مسیحی، 32 ہندو، اور 2 احمدی میں شامل تھے۔‘
اس رپورٹ کے مطابق انتقامی کارروائی کے خوف اور ادارہ جاتی تعصب کی وجہ سے اصل تعداد کہیں زیادہ ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں مذہبی اقلیتیں کل آبادی کا تقریباً 3.72 فیصد ہیں، اور یہ چھوٹا طبقہ کئی مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اقلیتی بچے بھٹہ مزدوری اور زراعت جیسے شعبوں میں جبری مشقت کا غیر متناسب طور پر شکار ہیں۔
اس رپورٹ میں تعلیمی نصاب کا بھی جائزہ لیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ نصاب اکثر دقیانوسی تصورات کو تقویت دیتا ہے، جس سے بچوں میں بیگانگی اور سکول چھوڑنے کی شرح میں اضافہ ہوتا ہے اور یہ صورتحال اس حقیقت میں مزید شدت اختیار کرتی ہے کہ پاکستان میں سکول سے باہر رہنے والے بچوں کی تعداد دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے۔ جس میں 5 سے 16 سال کی عمر کے تقریباً 22.8 ملین بچے سکول نہیں جاتے۔
رپورٹ میں سب سے زیادہ تشویشناک مسائل میں کم عمر ہندو اور مسیحی لڑکیوں کی جبری تبدیلی مذہب اور کم عمری کی جبری شادیوں کو قرار دیا گیا ہے۔
بتایا گیا ہے کہ یہ واقعات سندھ اور جنوبی پنجاب میں سب سے زیادہ عام ہیں۔
رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ حکومت کو قومی اور صوبائی سطح پر جبری تبدیلی مذہب کو جرم قرار دینے کے لیے سخت قوانین بنانا اور نافذ کرنا چاہیے تاکہ مجرموں کو جوابدہ ٹھہرایا جا سکے۔
ان اقدامات میں جبری تبدیلی کے لیے سخت سزائیں، لازمی تحقیقات اور مقدمہ چلانے اور ایسے نکاح خواں (شادی رجسٹرار) کے لیے جوابدہی شامل ہے جو کم عمری یا جبری شادیوں میں سہولت فراہم کرتے ہیں۔
چائلڈ کمیشن نے حکومت کو تجویز دی ہے کہ ’مذہب کی تمام تبدیلیوں کو عدالت کے ذریعے قانونی طور پر توثیق کرانا ضروری ہے، جس کے لیے مجسٹریٹ کی موجودگی، قابلِ اعتماد گواہوں کی گواہی اور آزادانہ و باخبر رضامندی کی تصدیق درکار ہو۔‘
نو مئی مقدمات: یاسمین راشد، عالیہ حمزہ، صنم جاوید سمیت پی ٹی آئی کے چھ رہنماؤں کو قید کی سزا، شاہ محمود قریشی بری, شہزاد ملک، نامہ نگار بی بی سی اردو
،تصویر کا ذریعہGetty Images
لاہور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے 9 مئی کے واقعات کے حوالے سے درج دو مقدمات کا فیصلہ سناتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود کو بری کر دیا ہے تاہم دیگر چار رہنماؤں کو مجرم گردانتے ہوئے دس دس سال قید کی سزا سنائی ہے۔
یاد رہے کہ دو برس قبل نو مئی 2023 کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے سے پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی رینجرز اہلکاروں کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد ملک بھر میں پرتشدد مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا جس میں عسکری املاک پر بھی حملے کیے گئے تھے۔
اس کے بعد پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہوا تھا جس کے نتیجے میں ملک بھر میں متعدد گرفتاریاں عمل میں آئی تھیں۔
پیر کو لاہور کی کوٹ کھپت جیل میں جن مجرمان کو دس دس سال قید سال کی سزا سنائی گئی ہے ان میں یاسمین راشد، اعجاز چوہدری، میاں محمود الرشید اور سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ شامل ہیں۔
اس کے علاوہ پی ٹی آئی کی چیف آرگنائر عالیہ حمزہ اور صنم جاوید کو پانچ پانچ سال قید کی سزا سنائی ہے۔
خیال رہے کہ عالیہ حمزہ اور صنم جاوید ضمانت پر ہیں۔
انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت یہ دو مقدمات جن میں سے ایک بیکری کے باہر گاڑیاں جلانے اور دوسرا تھانہ شادمان کو آگ لگانے کے واقعات رونما ہونے پر درج کیے گئے تھے۔
انسداد دہشت گردی کے عدالت نے ان مقدمات پر فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد 9 اگست کو ان مقدمات پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج نے پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کو ان دونوں مقدمات سے بری کردیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے انسدا دہشت گردی کی عدالتوں کو 9 مئی کے مقدمات کی عدالتی سماعت مکمل کرکے ان مقدمات کا فیصلہ 4 ماہ میں سنانے کا حکم دیا تھا۔
پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی کے میڈیا سیل کے مطابق حالیہ دنوں میں عدالتوں سے 14 اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کو سزائیں سنائی جا چکی ہیں جس کے بعد انھیں الیکشن کمیشن کی جانب سے یا تو نااہل قرار دیا چکا ہے یا یہ پراسیس شروع کر دیا گیا ہے۔ تحریک انصاف کے مطابق جولائی میں چھ جبکہ اس سے قبل آٹھ اراکین کو سزائیں سنائی گئی تھی۔
چند ہفتے قبل اسلام آباد کی انسداد دِہشت گردی کی عدالت نے 26 نومبر احتجاج کیس میں سابق صدر عارف علوی، وزیر اعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور اور سلمان اکرم راجہ سمیت پی ٹی آئی کے 50 رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔
فیصل آباد کی انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے نو مئی کے واقعات سے متعلق ایک کیس کا فیصلہ سُناتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں سمیت 108 کارکنوں کو قید کی سزائیں سنا دی ہیں۔
عدالت کی طرف سے سنائے گئے فیصلے میں قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب، قومی اسمبلی میں پاکستان تحریک انصاف کی پارلیمانی لیڈر زرتاج گل اور سینیٹ میں پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر شبلی فراز کو دس، دس سال قید کی سزا سنائی گئی ہیں جبکہ سُنی اتحاد کونسل کے چیئرمین حامد رضا کو بھی 10 سال قید کی سزا سنائی گئی ہیں۔
یہ فیصلہ نو مئی 2023 کو فیصل آباد میں واقع ایک حساس ادارے کے دفتر پر حملے کے کیس میں سنایا گیا ہے جس میں 185 ملزمان کو نامزد کیا گیا تھا جن میں سے 108 ملزمان کو مجرم قرار دیتے ہوئے سزائیں دی گئیں۔
اس سے قبل 22 جولائی کو سرگودھا اور لاہور کی عدالتوں سے سامنے آنے والے فیصلوں میں پی ٹی آئی کے پنجاب اسمبلی میں حزب اختلاف کے قائد احمد خان بچھر، رُکن قومی اسمبلی احمد چٹھہ اور سابق وزرا یاسمین راشد، میاں محمود الرشید، سینیٹر اعجاز چوہدری اور سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ سمیت دیگر مرکزی رہنماؤں کو سزائیں سُنائی گئی تھیں۔
ان کے علاوہ پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں خالد قیوم، ریاض حسین، علی حسن اور افضال عظیم پاہٹ بھی دس، دس برس قید کی سزا پانے والوں میں شامل ہیں۔
عدالتوں کی جانب سے جن پی ٹی آئی رہنماؤں کو بری کیا گیا ہے اُن میں سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری، شاہ محمود قریشی خود اور ان کے بیٹے ایم این اے زین قریشی، خیال کاسترو اور عبداللہ دمڑ شامل ہیں۔
’آپ کے تمام قانونی حقوق، جائیدادیں اور سرمایہ کاری محفوظ ہے‘: بحریہ ٹاؤن کے رہائشیوں کو نیب کا پیغام, شہزاد ملک، نامہ نگار بی بی سی اردو، اسلام آباد
قومی احتساب بیورو اسلام اباد نے ان تمام لوگوں کو جو کہ بحریہ ٹاؤن کے رہائشی ہیں یا جنھوں نے وہاں پر جائیدادیں خرید رکھی ہیں یقین دلایا ہے کہ ان کے تمام قانونی حقوق، جائیدادیں اور سرمایہ کاری محفوظ ہے-
خیال رہے کہ بحریہ ٹاؤن کے چیئرمین ملک ریاض گذشتہ کچھ عرصے سے بیرون ملک مقیم ہیں جبکہ پاکستان میں اُن کے اور ان کی ہاؤسنگ سوسائٹی کے خلاف متعدد الزامات کے تحت تحقیقات جاری ہیں۔ لگ بھگ تین مقدمات میں ملک ریاض کو اشتہاری قرار دیا گیا ہے جبکہ حال ہی میں نیب نے بحریہ ٹاؤن کی ملکیتی اربوں روپے مالیت کی چند جائیدادوں کی نیلامی کا انعقاد بھی کیا ہے۔
نیب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ کچھ مخصوص عناصر کی طرف سے پھیلائی جانے والی خبریں صرف مذکورہ لوگوں کو پریشان کرنے اور اس کی آڑ میں ان کی جائیدادوں کو کم قیمت پر خریدنے کی ایک گہری سازش ہے-
ادارے کا کہنا ہے کہ ’مذکورہ رہائشی اور مالکان بھی نیب کی نظر میں وہ متاثرین ہیں جن کے ساتھ دھوکہ دہی اور فراڈ کیا گیا ہے اور نیب ان کے حقوق کا تحفظ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گا-‘
نیب نے واضح کیا ہے کہ ’بحریہ ٹاؤن کے خلاف جاری کارروائیاں ان کے مالکان اور ان کی جائیدادوں تک محدود ہیں۔ اور نیب نے اس بات کا تہیہ کیا ہوا کہ جب تک یہ لوگ قانون کے آگے پیش ہو کر لوٹی ہوئ رقوم واپس نہیں کرتے، نیب اپنی قانونی کارروائیاں بغیر کسی دباؤ کے جاری رکھے گا۔‘
عوام کے نام پیغام میں مزید کہا گیا ہے کہ ’نیب کی طرف سے تمام رہائشی اور مالکان جائیداد کو تاکید کی جاتی ہے کہ وہ کسی بھی منفی اور شرانگیز معلومات یا خبر پر دھیان نہ دیں اور سکون کے ساتھ اپنے معمولات زندگی جاری رکھیں اور کسی بھی مشکوک عمل کے بارے میں فوری طور نیب کو آگاہ کریں۔
حال ہی میں وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے دعویٰ کیا ہے کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے کو ایک جاری تفتیش میں ملک ریاض اور بحریہ ٹاؤن کے خلاف ایک ارب روپے سے زائد کی مبینہ منی لانڈرنگ کے ثبوت ملے ہیں جس پر مزید تفتیش جاری ہے۔
راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی سمیت اراکین پارلیمنٹ کو کیوں گرفتار کیا گیا؟
انڈیا میں اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ کی حراست پر دہلی پولیس نے کہا ہے کہ ارکان پارلیمنٹ کی تعداد زیادہ تھی جس کی وجہ سے انہیں حراست میں لیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ دلی پولیس نے لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر اور کانگریس کے رہنما راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی سمیت متعدد سیاسی رہنماؤں کو حراست میں لے لیا ہے۔
بی بی سی ہندی کے مطابق لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی کی قیادت میں اپوزیشن کے ارکان پارلیمنٹ ووٹر لسٹ کے معاملے پر پارلیمنٹ سے الیکشن کمیشن کے دفتر تک احتجاج کر رہے تھے، اس دوران پولیس نے انہیں حراست میں لے لیا۔
اپوزیشن ارکان نے چیف الیکشن کمشنر اور دو دیگر الیکشن کمشنرز سے ملاقات کے لیے بھی وقت مانگا تھا۔
نئی دہلی کے ڈی سی پی دیوش کمار نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن نے تقریباً 30 ممبران پارلیمنٹ کو
ملاقات کی اجازت دی تھی، زیادہ تعداد میں ممبران پارلیمنٹ کی وجہ سے انہیں حراست میں لیا گیا ہے۔
میڈیا اہلکاروں کو الیکشن ہاؤس کے گیٹ کے سامنے جانے کی اجازت نہیں ہے۔
ایک پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کے نامہ نگار آشے یدگے کو بتایا کہ 'ہمیں مظاہرین کو حراست میں لینے کی ہدایات ملی ہیں اور میڈیا کو الیکشن کمیشن کے مرکزی 'دروازے سے دور رکھنے کے لیے کہا گیا ہے۔
25 اگست کے بعد بغیر ٹریکر اور کیمروں والے ڈمپروں کو کراچی میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی: حکومت سندھ, ریاض سہیل، نامہ نگار، بی بی سی کراچی
،تصویر کا ذریعہSindh Assembly
،تصویر کا کیپشنواقعے کے بعد پولیس نے ڈمپر کے ڈرائیور کو گرفتار کرلیا اور ڈمپر تحویل میں لے لیا:صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن
حکومت سندھ نے اعلان کیا ہے کہ کراچی میں 25 اگست کے بعد بغیر ٹریکر اور کیمروں والے ڈمپروں کو داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔
یاد رہے کہ کراچی کے علاقے راشد منہاس روڈ پر ڈمپر کے موٹر سائیکل کو ٹکر مارنے سے بہن اور بھائی ہلاک ہوگئے تھے جس کے بعد مشتعل ہجوم نے ڈمپر ڈرائیور پر تشدد کے بعد 7 ڈمپروں کو آگ لگا دی تھی۔
سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے پیر کو سندھ اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ سنیچر کی شب تین بجے کراچی میں ایک اور ناخوشگوار واقعہ پیش آیا جس میں ایک شخص اپنی بیٹی اور بیٹے کو موٹر سائیکل پر لیکر جارہا تھا کہ اس کا ایک ڈمپر سے ایکسیڈنٹ ہوگیا جس میں دو معصوم بچے ہلاک ہوگے اور والد زخمی ہوگئے۔
انھوں نے بتایا کہ واقعے کے بعد پولیس نے ڈمپر کے ڈرائیور کو گرفتار کرلیا اور ڈمپر تحویل میں لے لیا، اس کے بعد چند شرارتی تخریب کار ذہن کے لوگ سڑک پر آئے اور سات ڈمپروں کو آگ لگا دی۔
انھوں نے واضح کیا کہ حکومت کسی کے دھمکی یا دباؤ میں نہیں آئی گے اور شرپسند عناصر کے خلاف مقدمہ بھی درج ہوگا۔
’اس شہر میں دوبارہ لسانیت کی سیاست بدمعاشی اور بھتہ خوری کی سیاست نہیں ہونے دیں گے۔‘
خیال رہے کہ کراچی میں رواں برس متعدد واقعات میں ڈمپر کے ساتھ گاڑیوں اور موٹر سائیکل کے ٹکراؤ کے نتیجے میں کئی قیمتی انسانی جانوں کا نقصان ہو چکا ہے۔
اس سے قبل ایم کیو ایم کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر طحہ احمد صدیقی نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ شہر میں ڈمپر بے لگام ہوکر موت بانٹ رہے ہیں اس سے شہر کے لوگ مر رہے ہیں روزانہ کی بنیاد پر ماؤں کی گودیں اجڑ رہی ہیں۔
انھوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان ہی لوگوں سے مذاکرات کیے جاتے ہیں جو قاتل ہیں۔
’جو ڈمپر جلے ہیں ان کے لیے معاوضے کا اعلان کرتے ہیں ہم مانتے ہیں کہ ڈمپر کسی کو نہیں جلانا چاہیے قانون کسی کو ہاتھ میں لینا نہیں چاہیے لیکن حکومت مالی نقصان پر تو معاوضہ دے رہی ہے لیکن جانی نقصان کا کوئی معاوضہ نہیں۔‘
دوسری جانب ایڈیشنل آئی جی کراچی نے غفلت برتنے کے الزام میں یوسف پلازہ اور فیڈرل بی انڈسٹریل ایریا تھانوں کے ایس ایچ اوز کو معطل کردیا ہے اور واقعے کے لیے چار رکنی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی ہے۔
منہاس روڈ پر مشتعل افراد کی جانب سے سات ڈمپر جلائے جانے کے 2 مقدمات دائر کیے گئے ہیں اور مجموعی طور پر 160 نامعلوم افراد کو نامزد کیا گیا ہے جبکہ حادثے کا شکار ہونے والے خاندان کی جانب سے ڈمپر ڈرائیور کے خلاف الگ سے مقدمہ دائر کیا گیا ہے، جس میں ڈرائیور گرفتار ہے۔
ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید کا کہنا ہے کہ ڈمپرز کو جلانے کے واقعے میں 14 سے 15 افراد گرفتار ہیں۔
بریکنگ, دلی پولیس نے راہل گاندھی سمیت اپوزیشن کے دیگر اراکین پارلیمنٹ کو حراست میں لے لیا
،تصویر کا ذریعہANI
دلی پولیس نے لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر اور کانگریس کے رہنما راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی سمیت متعدد سیاسی رہنماؤں کو حراست میں لے لیا ہے۔
نئی دہلی میں پارلیمنٹ ہاؤس سے الیکشن کمیشن تک مارچ کرنے والے اپوزیشن اتحاد ’انڈیا‘ کے اراکین پارلیمنٹ کو روک کر راہل گاندھی سمیت کچھ ممبران کو حراست میں لے لیا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ ’حقیقت یہ ہے کہ وہ بات نہیں کر سکتے۔ سچائی ملک کے سامنے ہے۔ یہ لڑائی سیاسی نہیں ہے۔ یہ لڑائی آئین کے تحفظ کی ہے۔ یہ لڑائی ون مین، ون ووٹ کے لیے ہے۔ ہمیں صاف ستھری ووٹر لسٹ چاہیے۔‘
،تصویر کا ذریعہANI
دلی پولیس نے ’انڈیا‘ بلاک کے اراکین پارلیمنٹ بشمول راہل گاندھی، پرینکا گاندھی واڈرا، سنجے راؤت، اور ساگاریکا گھوس کو حراست میں لے لیا، جو ’ایس آئی آر‘ کے خلاف احتجاج کر رہے تھے اور پارلیمنٹ سے الیکشن کمیشن آف انڈیا تک مارچ کر رہے تھے۔
اپوزیشن کے احتجاج پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے بی جے پی لیڈر دھرمیندر پردھان نے کہا کہ ملک میں اگر کوئی آئین مخالف کام کر رہا ہے تو اس کے لیڈر راہل گاندھی ہیں۔
انھوں نے دلی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ’ایس آئی آر پہلی بار نہیں ہو رہا ہے۔ یہ الیکشن کمیشن کا باقاعدہ عمل ہے۔ یہ ایک مسلسل عمل ہے۔ کانگریس پارٹی پہلے ای وی ایم پر جھوٹ بولتی ہے۔۔۔ کبھی مہاراشٹر کا مسئلہ اٹھاتی ہے، کبھی ہریانہ کا۔ اور وہ جھوٹ کا پہاڑ بناتے ہیں۔‘
،تصویر کا ذریعہDebalin Roy/BBC
راہل گاندھی کے الزامات
گذشتہ جمعرات کو راہل گاندھی نے ایک پریس کانفرنس میں الیکشن کمیشن پر سنگین الزامات عائد کیے تھے تھے۔ انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ لوک سبھا انتخابات اور مہاراشٹرا اور ہریانہ کے اسمبلی انتخابات میں ووٹر لسٹ میں بڑے پیمانے پر دھاندلی ہوئی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’مشین ریڈ ایبل ووٹر لسٹ فراہم نہ کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ الیکشن کمیشن نے مہاراشٹر میں ووٹ چوری کرنے کے لیے بی جے پی کے ساتھ ملی بھگت کی ہے۔‘
الیکشن کمیشن نے راہل گاندھی کے الزامات کو ’گمراہ کن‘ قرار دیا ہے۔ کمیشن نے کہا ہے کہ وہ اپنی شکایت کرناٹک کے چیف الیکٹورل آفیسر کو تحریری طور پر دیں۔
،تصویر کا ذریعہDebalin Roy/BBC
گلگت بلتستان میں دینور کے علاقے میں لینڈ سلائیڈنگ سے سات رضا کار ہلاک, محمد زبیر خان اور عالیہ جبین، صحافی
،تصویر کا ذریعہGB Government
گلگت بلتستان کے دینور میں لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں ملبے تلے دب کر ہلاک ہونے والے سات رضا کاروں کی نماز جنازہ ادا کردی گئی ہے۔
رضا کار اس وقت ملبے تلے دب گے تھے جب وہ اپنی مدد اپ کے تحت حالیہ بارسوں اور سیلاب میں تباہ ہونے والے واٹر چینل کی بحالی کے لیے کام کر رہے تھے۔
گلگت بلتستان حکومت اور ریسیکو 1122 کے مطابق یہ حادثہ رات کے وقت پیش آیا تھا، جس کے بعد فوری طور پر امدادی سرگرمیاں شروع کردی گئیں تھیں۔
مجموعی طور پر تیرہ رضا کار ملبے تلے دبے تھے، جن میں سے چھ کو زندہ نکال لیا گیا تھا۔ اس میں س تین کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔
،تصویر کا ذریعہGB Government
دینو کے رہائشی مصطفیٰ نے بی بی سی کو بتایا کہ دینور میں گذشتہ ماہ دینور نالہ میں سیلابی ریلہ کے باعث علاقے کو نقصاں پہنچا اور اس سے واٹر سپلائی چینل بھی تباہ ہوگیا تھا، جس سے علاقے میں شدید پانی کی قلت پیدا ہو گئی تھی۔
ان کے مطابق علاقے کے نوجوانوں نے مل کر اس واٹر چینل کی بحالی کے کام کا منصوبہ بنایا تھا۔
ان کے مطابق ان رضاکاروں نے دن کی بجائے رات کو کام کرنے کا فیصلہ کیا کیونکہ دن کی گرمی میں سخت کام کرنا مشکل ہوتا ہے۔ اس واقعہ کے عینی شاہد کا کہنا تھا کہ علاقے کے لوگ وہاں پر کام کر رہے تھے کہ اچانک تیز آواز آئی اور اس سے پہلے کہ وہاں پر کام کرنے والے لوگ اپنی جان بچا پاتے لینڈ سلائیڈنگ والا ملبہ کام کرنے والوں پر گر گیا تھا۔
دوسری جانب حکام کے مطابق ہنزہ میں شیشپر گلیشیئر میں موجود جھیل نے سیلابی ریلے کی شکل اختیار کرلی ہے۔ جس سے احسن آباد کے قریب نالے میں پانی روڈ پر آ گیا ہے اور اس وقت ہنزہ کا راستہ بند ہے۔
گلگلت میں مقیم صحافی عالیہ جبین نے بی بی سی کو بتایا کہ اس وقت لوگ حکومت کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں کہ اتنے دن سے حکام نے اس معاملے پر نوٹس کیوں نہیں لیا۔
عمران خان کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس سے منسلک ایک جائیداد کی نیلامی آج ہو رہی ہے, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
،تصویر کا ذریعہSocial Media
قومی احتساب بیورو یعنی نیب آج سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف القادر ٹرسٹ یا 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس سے منسلک اسلام آباد میں ایک جائیداد کی نیلامی کر رہا ہے۔
اسسٹنٹ کمشنر سیکریٹریٹ عزیر علی خان نے بی بی سی کو بتایا کہ نیلامی کا یہ عمل یونین کونسل بہارہ کہو میں ہو رہا ہے اور قابل ذکر لوگ نیلامی کے اس عمل میں حصہ لے رہے ہیں۔
اسلام آباد کی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے کہا ہے کہ ’یہ جائیداد پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض نے فرح شہزادی کے نام منتقل کی تھی اور اس کے بینیفشری عمران خان تھے۔‘ اہلکار کے مطابق یہ زرعی زمین عمران خان کی بنی گالہ والی رہائش گاہ سے کچھ فاصلے پر موہڑہ نور کی حدود میں واقع ہے۔
اسلام آباد کے اسسنٹ کمشنر سیکرٹریٹ کی جانب سے مختلف اخبارات میں دیے گیے اشتہار کے مطابق اسلام آباد کے موضع موہڑہ نور میں ساڑھے چھے سو کنال اراضی کو عدالتی حکم پر نیلام کیا جارہا ہے۔
اس اشتہار میں اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ جو کوئی بھی خریدار اس اراضی کو خریدنے میں دلچسپی رکھتا ہے تو وہ قومی احتسباب بیورو یعنی نیب کے چیئرمین کے نام 50 لاکھ روپے کا پے آرڈر بنوا کر جمع کروائے۔
اس اشتہار میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس اراضی کی نیلامی کے لیے 30 مئی اور 7 اگست کو بھی اخبارات میں اشتہار دیے گیے تھے۔
اس اشتہار میں نیلام ہونے والی اس زمین کی مالیت کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔
نیب کے اہلکار کے مطابق یہ اراضی عمران خان کو القادر ٹرسٹ کیس یا 190 میلن پاونڈ کے مقدمے میں سزا سنائے جانے کے بعد نیلام کی جارہی ہے۔
اس مقدمے میں اسلام آباد کی احتساب عدالت نے اس سال سابق وزیر اعظم عمران خان کو 14 سال قید اور دس لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی جبکہ ان کی اہلیہ بشری بی بی کو اسی مقدمے میں 7 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
،تصویر کا ذریعہNICHELIFESTYLE
القادر ٹرسٹ کیس ہے کیا؟
القادر ٹرسٹ کیس اس ساڑھے چار سو کنال سے زیادہ زمین کے عطیے سے متعلق ہے جو بحریہ ٹاؤن کی جانب سے القادر یونیورسٹی کے لیے دی گئی تھی۔
پی ڈی ایم کی حکومت نے یہ الزام عائد کیا تھا کہ یہ معاملہ عطیے کا نہیں بلکہ بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض اور عمران خان کی حکومت کے درمیان طے پانے والے ایک خفیہ معاہدے کا نتیجہ ہے اور حکومت کا دعویٰ تھا کہ 'بحریہ ٹاؤن کی جو 190ملین پاؤنڈ یا 60 ارب روپے کی رقم برطانیہ میں منجمد ہونے کے بعد پاکستانی حکومت کے حوالے کی گئی وہ بحریہ ٹاؤن کراچی کے کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ملک ریاض کے ذمے واجب الادا 460 ارب روپے کی رقم میں ایڈجسٹ کر دی گئی تھی۔'
حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس کے عوض بحریہ ٹاؤن نےمارچ 2021 میں القادر یونیورسٹی ٹرسٹ کو ضلع جہلم کے علاقے سوہاوہ میں 458 کنال اراضی عطیہ کی اور یہ معاہدہ بحریہ ٹاؤن اور عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے درمیان ہوا تھا۔
جس ٹرسٹ کو یہ زمین دی گئی تھی اس کے ٹرسٹیز میں عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے علاوہ تحریکِ انصاف کے رہنما زلفی بخاری اور بابر اعوان شامل تھے تاہم بعدازاں یہ دونوں رہنما اس ٹرسٹ سے علیحدہ ہو گئے تھے۔
جون 2022 میں پاکستان کی اتحادی حکومت نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ تحریک انصاف کی حکومت نے بحریہ ٹاؤن کے ساتھ معاہدے کے بدلے اربوں روپے کی اراضی سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے نام منتقل کی۔
وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے دو سال قبل، جب وہ وزیر داخلہ تھے، نے عمران خان کی گرفتاری کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان اور ان کی اہلیہ القادر ٹرسٹ کے ٹرسٹی ہیں۔
ان کے مطابق بنی گالہ میں 240 کنال زمین فرح شہزادی کے نام پر رجسٹرڈ ہے، جس کی مالیت پانچ سے سات ارب روپے کے لگ بھگ ہے۔
آسٹریلیا کا ستمبر میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا مشروط اعلان
،تصویر کا ذریعہGetty Images
آسٹریلیا کے وزیرِاعظم انتھونی البانیز نے کہا ہے کہ آسٹریلیا ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا تاکہ دو ریاستی حل کے لیے کوششوں میں تیزی لائی جا سکے۔ اس سے قبل برطانیہ، فرانس اور کینیڈا بھی یہ اعلان کر چکے ہیں۔
آسٹریلوی وزیر اعظم انتھونی البانیز نے کہا ہے کہ یہ قدم اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے یقین دہانیوں کے بعد اٹھایا جائے گا۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق کابینہ کے اجلاس کے بعد فلسطینی ریاست تسلیم کرنے کے منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے انتھونی البانیز نے کہا ہے کہ یہ تسلیم کرنا ان وعدوں پر مبنی ہوگا جو آسٹریلیا کو فلسطینی اتھارٹی سے موصول ہوئے ہیں، جن میں یہ یقین دہانی شامل ہے کہ مستقبل کی کسی بھی ریاست میں حماس کا کوئی کردار نہیں ہوگا۔
انتھونی البانیز نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ’دو ریاستی حل مشرقِ وسطیٰ میں تشدد کے تسلسل کو توڑنے اور غزہ میں جنگ، مصائب اور بھوک کو ختم کرنے کے لیے انسانیت کی سب سے بڑی امید ہے‘۔
انتھونی البانیز کے مطابق مقبوضہ مغربی کنارے میں حکومت کرنے والی فلسطین اتھارٹی نے اتفاق کیا ہے کہ اسرائیل کے پرامن اور محفوظ وجود کے حق کو تسلیم کرنے کی دوبارہ توثیق کی جائے گی، غیر مسلح ہوکر عام انتخابات کرائے جائیں گے، قیدیوں اور ہلاک ہونے والے خاندانوں کو ادائیگی کے نظام کو ختم کیا جائے گا، گورننس میں وسیع اصلاحات، تعلیمی نظام میں مالی شفافیت، اور بین الاقوامی نگرانی کی اجازت دی جائے گی تاکہ تشدد اور نفرت پر اکسانے سے بچا جا سکے۔
انتھونی البانیز نے مزید کہا کہ ’یہ موقع ہے کہ فلسطینی عوام کو اس انداز میں حقِ خود ارادیت دیا جائے جو حماس کو الگ کر دے، اسے غیر مسلح کر دے اور ہمیشہ کے لیے خطے سے باہر نکال دے‘۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ ان وعدوں کو مزید اہمیت عرب لیگ کے حالیہ بے مثال مطالبے سے ملی ہے، جس میں حماس سے کہا گیا ہے کہ وہ غزہ میں اپنی حکمرانی ختم کرے اور اپنے ہتھیار فلسطینی اتھارٹی کے حوالے کرے۔
آج دن 11 بجے سے قبائلی ضلع باجوڑ میں کرفیو کے نفاذ کا اعلان, عزیزاللہ خان، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
،تصویر کا ذریعہGetty Images
خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع باجوڑ میں آج دن 11 بجے سے 12 گھنٹوں کے لیے کرفیو نافذ کر دیا جائے گا۔ کل یعنی منگل کے روز سے تین دنوں کے لیے باجوڑ کی تحصیل وڑہ مامند اور لوئے ماموند میں کرفیو کا اعلان کیا گیا ہے۔
باجوڑ کے ضلعی پولیس افسر وقاص رفیق نے کہا ہے کہ کرفیو سے متعلق نوٹئفیکئشن محکمہ داخلہ نے جاری کیا ہے۔
ہوم ڈیپا رٹمنٹ خیبر پختونخواہ کے نوٹیفکیشن کے مطابق آج 11 بجے سے ضلع باجوڑ کے خار منڈا روڈ، خار ناواگی روڈ، خار پشت سالارزئی روڈ اور خار صادق آباد عنا یت کلی روڈ پر 12 گھنٹوں کے لیے کرفیو رہے گا۔
نوٹیفکیشن کے مطابق شدت پسند گردوں کے خلاف ٹارگٹڈ کارروائی کے دوران کچھ علاقوں میں عوام کی حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے کل صبح 11 بجے سے تین دن کے لیے مکمل کرفیو نافذ رہے گا۔ اس دوران سڑک پر آنا اور گھروں سے نکلنا ممنوع ھوگا۔
لغری، گواٹی، غنم شاہ، باد سیاہ، کمر، امانتا، زگئ، گٹ، غنڈے، گڑیگال، نیاگ کلی، رئگئ، ڈاگ، ڈماڈولا، سلطان بیگ، چوترا، شین کوٹ، گنگ، جیوار، انعام خورو، چینگئ، انگا، سفری، بر گٹکی، خرکی، شکرو اور بکرو میں 14 اگست تک کرفیو کے نفاذ کا اعلان کیا گیا ہے۔
ضلعی انتظامیہ باجوڑ نے عوام سے یہ درخواست کی ہے کہ وہ 10 بج کر 30 منٹ تک اپنی سرگر میاں ختم کر کے کرفیو کے نفاذ کے دوران اپنے آپ کو گھروں تک محدود رکھیں بصورت دیگر کسی قسم کے ناخشگوار واقعے کے وہ خود ذمہ دار ہوں گے۔
انڈیا میں جعلی پولیس سٹیشن سے چھ افراد گرفتار: ’ملزمان سرکاری کام کروانے کا وعدہ کرتے تھے‘, مرزا اے بی بیگ، بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، دلی
،تصویر کا ذریعہNOIDA Police
انڈین خبر رساں ادارے ’اے این آئی‘
کے مطابق ریاست اُتر پردیش کے شہر نوئیڈا میں پولیس نے ایک جعلی پولیس سٹیشن پر
کام کرنے والے چھ افراد کو گرفتار کرتے ہوئے متعدد جعلی آئی ڈیز، مہریں اور لیٹر ہیڈ
قبضے میں لیے ہیں۔
جعلی تھانے کا نام ’انٹرنیشنل
پولیس اینڈ کرائم انویسٹی گیشن بیورو آفس‘ رکھا گیا تھا۔ گوتم بدھ نگر پولیس نے
عوام کو گمراہ کرنے، سرکاری عہدیداروں کی نقالی کرنے اور جعلی دستاویزات، جعلی
شناختی کارڈ اور پولیس طرز کے نشانات کا استعمال کرنے اور عوام سے رقوم بٹورنے کے
الزام میں چھ افراد کو گرفتار کیا ہے۔
حکام نے اتوار کو بتایا کہ ایک خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے
ہوئے، پولیس نے ایک احاطے پر چھاپہ مارا، جہاں ملزمان نے ایک سرکاری ایجنسی سے
مشابہ دفتر قائم کیا ہوا تھا۔
’دی
انڈین ایکسپریس‘ کی رپورٹ کے مطابق ملزمان کی شناخت بِبھاش چندر ادھیکاری، آرگیہ
ادھیکاری، بابل چندر منڈل، پنٹو پال، سماپدمل اور آشیش کمار کے طور پر کی گئی ہے۔
ان کا تعلیمی پس منظر 12ویں جماعت سے لے کر قانون اور آرٹس میں گریجویٹ تک ہے۔
تمام چھ افراد اصل میں مغربی بنگال کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھتے ہیں اور دفتر کے
لیے گئے کرائے کے احاطے میں ایک ساتھ رہ رہے تھے۔
ڈی سی پی (سنٹرل) شکتی موہن اوستھی نے میڈیا کو بتایا کہ اس
گروہ نے مبینہ طور پر انٹرپول اور انٹرنیشنل ہیومن رائٹس کمیشن (آئی ایچ آر سی) کے
ساتھ روابط کا دعویٰ کیا اور کہا کہ وہ ’بین الاقوامی جرائم اور مجرموں‘ پر کام
کرتے ہیں۔ انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ان کا برطانیہ میں بھی دفتر ہے۔
ڈی سی پی نے کہا: 'وہ خود کو ایک متوازی پولیس تنظیم کے طور
پر پیش کر رہے تھے اور سرکاری کام کروانے کا وعدہ کر رہے تھے۔ انھوں نے جو لوگو
استعمال کیا وہ سرکاری پولیس کے نشان سے ملتا جلتا تھا، لیکن اس کے لیے کوئی کاپی
رائٹ یا ٹریڈ مارک موجود نہیں تھا۔'
اس گروپ نے مبینہ طور پر مختلف وزارتوں بشمول قبائلی امور اور
سماجی انصاف کے نام پر جعلی سرٹیفکیٹ بنائے تاکہ وہ خود جائز ظاہر ہوں۔ انھوں نے ایک
ویب سائٹ بھی قائم کر رکھی ہے جہاں وہ ان سرٹیفکیٹس کے ساتھ 'عطیات' لیتے تھے۔
ان کے پاس سے مختلف قسم کے شناختی کارڈز اور سٹیمپ اور دستاویزات
کے ساتھ 43 ہزار روپے نقد برآمد کیے گئے ہیں۔
پولیس کے مطابق ان کے خلاف تعزیرات ہند کی مختلف دفعات کے تحت
جعلسازی، دھوکہ دہی، نقالی، حفاظت کو خطرے میں ڈالنے، اور محفوظ ناموں یا علامتوں
کے غیر قانونی استعمال کے لیے مقدمہ درج کر لیا گيا ہے۔
پولیس کے مطابق یہ جعلی پولیس سٹیشن کوئی ایک ہفتے پہلے ہی
قائم کیا گیا تھا۔
غزہ میں الشفا ہسپتال کے قریب اسرائیلی حملے میں الجزیرہ کے پانچ صحافی ہلاک
،تصویر کا ذریعہAljazeera
نشریاتی
ادارے الجزیرہ نے کہا ہے کہ غزہ شہر کے الشفا ہسپتال کے قریب اسرائیلی حملے میں
الجزیرہ کے پانچ صحافی مارے گئے ہیں۔
الجزیرہ
کی خبر کے مطابق نامہ
نگار انس الشریف اور محمد قريقع کے علاوہ کیمرہ مین ابراہیم ظہیر، محمد نوفل اور
مومین علیوا ہسپتال کے مرکزی دروازے پر صحافیوں کے لیے ایک خیمے میں تھے جب اس خیمے کو نشانہ بنایا گیا۔
الجزیرہ
نے ایک بیان میں کہا کہ ’ٹارگٹڈ قتل ’آزادی صحافت پر ایک اور صریح اور پہلے سے
سوچا گیا حملہ تھا‘۔ حملے
کے فوراً بعد اسرائیلی فوج نے تصدیق کی کہ اس نے انس الشریف پر حملہ کیا تھا۔ ٹیلی
گرام پر پوسٹ کرتے ہوئے اسرائیلی فوج نے لکھا کہ انھوں نے ’حماس میں دہشت گرد سیل
کے سربراہ کے طور پر کام کیا تھا‘۔
اسرائیلی
فورسز نے ہلاک ہونے والے دیگر صحافیوں میں سے کسی کا ذکر نہیں کیا۔ الجزیرہ
کی رپورٹ کے مطابق حملے میں مجموعی طور پر سات افراد ہلاک ہوئے۔
الجزیرہ
کے منیجنگ ایڈیٹر محمد معوض نے بی بی سی کو بتایا کہ الشریف ایک جانے پہچانے صحافی
تھے جو غزہ کی پٹی میں دنیا کے لیے ’واحد آواز‘ تھے۔
پوری
جنگ کے دوران، اسرائیل نے غزہ میں بین الاقوامی صحافیوں کو آزادانہ رپورٹنگ کرنے
کی اجازت نہیں دی۔ لہذا، بہت سے آؤٹ لیٹس کوریج کے لیے غزہ کے اندر مقامی رپورٹرز
پر انحصار کرتے ہیں۔ انھوں
نے اس حملے سے متعلق کہا کہ ’انھیں ان کے خیمے میں نشانہ بنایا گیا، وہ فرنٹ لائن
سے کوریج نہیں کر رہے تھے۔
محمد
معوض کا کہنا ہے کہ ’حقیقت یہ ہے کہ اسرائیلی حکومت غزہ کے اندر سے رپورٹنگ کرنے
والے کسی بھی چینل کی کوریج کو خاموش کرنا چاہتی ہے۔ یہ وہ چیز ہے جو میں نے جدید
تاریخ میں پہلے نہیں دیکھی تھی۔
28 برس کے الشریف نے اپنی موت سے چند لمحے پہلے ایکس پر غزہ شہر میں شدید اسرائیلی بمباری سے متعلق خبر دی۔
گذشتہ ماہ الجزیرہ میڈیا نیٹ ورک، اقوام متحدہ اور صحافیوں کے تحفظ کی کمیٹی سی پی جے نے علیحدہ بیانات میں الشریف کے تحفظ کا مطالبہ کیا تھا۔
کمیٹی
ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس، سی پی جے، کے مطابق اکتوبر 2023 میں غزہ میں اسرائیل کی فوجی
کارروائی کے آغاز کے بعد سے اب تک 186 صحافیوں کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔
بلوچستان: زیارت کے اسسٹنٹ کمشنر افضل باقی بیٹے سمیت اغوا
،تصویر کا ذریعہGetty Images
بلوچستان کے ضلع زیارت کی تحصیل زیارت کے اسسٹنٹ کمشنر افضل باقی کو ان کے بیٹے سمیت اغوا کر لیا گیا ہےـ
بلوچستان میں نو ہفتوں کے دوران کسی اسسٹنٹ کمشنر کے اغوا کا دوسرا واقعہ ہے۔
ڈپٹی کمشنر زیارت ذکا اللہ درانی نے اسسٹنٹ کمشنر زیارت کے اغوا کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ وہ فیملی کے ساتھ ایک پکنک پوائنٹ پر گئے تھے۔
زیارت میں انتظامیہ کے ایک اور اہلکار نے بتایا کہ اسسٹنٹ کمشنر زیارت افضل باقی کی گاڑی کو اتوار کو نامعلوم مسلح افراد نے زیزری کے مقام پر روکا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس مقام پرمسلح افراد نے گاڑی میں سوار لوگوں کو اتارنے کے بعد اسے نذرآتش کیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلح افراد نے اسسٹنٹ کمشنر کے گن مین، ڈرائیور اور دیگر افراد کو چھوڑ دیا جبکہ اسسٹنٹ کمشنر اور ان کے بیٹے کو اغوا کرکے نامعلوم مقام کی جانب لے گئےـ
اہلکار نے بتایا کہ اس واقعے کے بارے میں مختلف پہلوئوں سے تحقیقات کے علاوہ اسسٹنٹ کمشنر اور ان کے بیٹے کی بازیابی کے لیے کوششوں کا آغاز کردیا گیا ہےـ
تاحال اسسٹنٹ کمشنر زیارت اور ان کے بیٹے کے اغوا کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی ہےـ
بلوچستان سے اسسٹنٹ کمشنر کے اغوا کا دوسرا واقعہ بلوچستان کے ایک اور علاقے سے کسی اسسٹنٹ کمشنر کے اغوا کا دوسرا واقعہ ہے۔
اس سے قبل ایران سے ملحقہ بلوچستان کے ضلع کیچ میں تمپ کے اسسٹنٹ کمشنر حنیف نورزئی کو نامعلوم مسلح افراد چار جون کواغوا کیا تھا۔ وہ عید منانے کے لیے کوئٹہ آرہے تھے کہ سرینکن کے علاقے سے نامعلوم مسلح افراد نے ان کو اغوا کیا تھا۔
ان کے اغوا کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچستان لبریشن فرنٹ نے قبول کی تھی۔ تاحال اسسٹنٹ کمشنر تمپ کی بازیابی ممکن نہیں ہوئی۔
زیارت کہاں واقع ہے
زیارت بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے اندازاً 140کلومیٹر کے فاصلے پر شمال مشرق میں واقع ہے۔
یہ نہ صرف ایک اہم تفریحی مقام ہے بلکہ دنیا سے معدومی کے خطرے سے دوچار صنوبر کے قدیم جنگلات بھی اس ضلع میں پائے جاتے ہیں۔
زیارت کی آبادی مختلف پشتون قبائل پر مشتمل ہے اور اس ضلع کا شمار بلوچستان کے پر امن علاقوں میں ہوتا ہے ۔ تاہم بلوچستان میں حالات کی خرابی کے بعد سے ضلع زیارت سے ملحقہ ضلع ہرنائی کے بعض علاقے شورش سے متاثر ہیں۔
بانی پاکستان محمد علی جناح نے اپنی علالت کے آخری ایام زیارت میں گزارے تھے۔انھوں نے زیارت شہر میں جس عمارت میں رہائش اختیار کی تھی اسے قائد ریذیڈینسی کے نام سے موسوم کیا گیا۔ اس ریذیڈینسی کو نامعلوم مسلح افراد نےجون 2013میں نذرآتش کیا تھا جس کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی تھی۔
جولائی 2022ء میں بھی نامعلوم مسلح افراد نے زیارت سے ڈی ایچ اے کوئٹہ کے ایک سینیئر اہلکار کو اغوا کرنے کے بعد انھیں ہلاک کیا تھا۔