سرگوشیاں سن رہے ہیں کہ الیکشن منسوخ کرنے کی بات ہو رہی ہے: خواجہ آصف
پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ عدلیہ کے حوالے سے ایسی سرگوشیاں سننے کو مل رہی ہیں کہ الیکشن نتائج منسوخ کرنے کی بات ہو رہی ہے۔
خلاصہ
پاکستان سٹاک ایکسچینج میں جمعرات کے روز تیزی کا رجحان دیکھا گیا اور کاروبار کے آغاز پر انڈیکس میں 503 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کی رہنما صنم جاوید کی گرفتاری غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ان کی رہائی کی درخواست نمٹا دی۔
معاشی درجہ بندی کے ادارے فچ نے پاکستان کے بارے میں رپورٹ جاری کرتے ہوئے پیش گوئی کی ہے کہ رواں مالی سال کے اختتام تک پاکستان میں مہنگائی کے بڑھنے کی شرح کم ہوسکتی ہے۔
پاکستان نے بدھ کے روز اسلام آباد میں تعینات افغانستان کے ڈپٹی ہیڈ آف مشن کو وزارت خارجہ طلب کر کے 15 جولائی 2024 کو بنوں چھاؤنی پر ہونے والے حملے پر سخت احتجاج ریکارڈ کروایا اور حافظ گل بہادر گروپ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
لائیو کوریج
’پی ٹی آئی پر پابندی کا ابھی حتمی فیصلہ نہیں ہوا ہے‘
،تصویر کا ذریعہPID
پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی جماعت پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) پر پابندی لگانے کا ابھی حتمی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔
٘منگل کے روز لاہور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے کو پہلے لیڈرشپ دیکھے گی۔ ’اس کے بعد ہمارے جو اتحادی ہیں ان سے مشورہ ہوگا۔‘
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی پر پابندی کا فیصلہ قانون اور آئین کے مطابق لیا جائے گا۔
’یہاں جو قانون کے خلاف سیاسی فیصلے ہوتے ہیں ویسا کوئی فیصلہ نہیں ہوگا۔‘
دوسری جانب، سیالکوٹ میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیرِ دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی پر پابندی لگانے کے فیصلے کو پالیمنٹ میں لانے سے پہلے تمام جماعتوں سے منظوری لی جائے گا۔
آپریشن عزمِ استحکام کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سب سے زیادہ دہشگردی خیبر پختونخوا میں ہورہی ہے اور وہاں پی ٹی آئی کی حکومت ہے۔
انھوں نے الزام لگایا کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت آپریشن میں حصہ لینے سے انکاری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات کا تقاضہ ہے کہ ملک کو معاشی طور پر مستحکم کرنے، دشتگردی کے خلاف جنگ اور آئین کے تحفظ کے لیے تمام ادارے مل کر کام کریں اور اپنے ذاتی محرکات کے تابع نہ ہوں۔
خیال رہے کہ پاکستانی حکومت نے پی ٹی آئی پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے جس کے لیے ایک ریفرنس سپریم کورٹ بھیجا جائے گا۔
حکومت کا یہ فیصلہ ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب گذشتہ ہفتے پاکستان کی سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی کو ایک پارلیمانی جماعت تسلیم کرتے ہوئے یہ فیصلہ دیا ہے کہ خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستیں پی ٹی آئی کو دی جائیں۔
سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف حکومت نے نظرِ ثانی کی اپیل دائر کی ہے۔
تحریک انصاف پر پابندی سے متعلق ہمیں حکومت نے اعتماد میں نہیں لیا: رہنما پیپلز پارٹی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف پر پابندی سے متعلق فیصلے پر حکومتی جماعت مسلم لیگ ن نے انھیں اعتماد میں نہیں لیا ہے۔ سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ، شازیہ مری اور شیری رحمان نے اس موضوع پر میڈیا سے گفتگو کی ہے۔
پی پی پی کی سینیئر رہنما شیری رحمان نے نجی ٹی وی چینل جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں کوئی عندیہ نہیں تھا کہ اس طرح کا قدم اٹھایا جا رہا ہے، کوئی پیشرفت ہو رہی ہے، یا ایسی کوئی ورکنگ ہو رہی ہے۔‘
واضح رہے کہ پیر کو پاکستانی حکومت نے سابق وزیراعظم عمران خان کی جماعت تحریکِ انصاف پی ٹی آئی پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا جس کے لیے ایک ریفرنس سپریم کورٹ بھیجا جائے گا۔ پی ٹی آئی کی قیادت نے اسے عدلیہ کے خلاف اقدام قرار دیا ہے۔
پیپلز پارٹی اور دیگر حکومت کی اتحادی جماعتوں سمیت سیاسی جماعتیں بھی حکومت کی طرف سے تحریک انصاف پر پابندی کے اعلان کی مخالفت کر رہی ہیں۔
امریکہ نے بھی پیر کو تحریک انصاف پر پابندی عائد کرنے سے متعلق حکومت پاکستان کے اعلان پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے ’ایک پیچیدہ سیاسی عمل کا آغاز‘ قرار دیا ہے۔
واشنگٹن میں ترجمان امریکی محکمہ خارجہ میتھیو ملر نے پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ ’پاکستان میں سیاسی جماعت پر پابندی سے متعلق ہم نے حکومت کے بیانات دیکھے ہیں، یہ پیچیدہ سیاسی عمل کا آغاز ہے۔‘
پیر کو ایک پریس کانفرنس میں وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے یہ بھِی اعلان کیا کہ ان کی حکومت عمران خان، سابق صدر عارف علوی اور قومی اسمبلی کے سابق ڈپٹی سپیکر قاسم سوری پر آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت ’غداری‘ کا مقدمہ بنائے گی۔
حکومت کا یہ فیصلہ ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب تین دن قبل پاکستان کی سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی کو ایک پارلیمانی جماعت تسلیم کرتے ہوئے یہ فیصلہ دیا ہے کہ خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستیں پی ٹی آئی کو دی جائیں۔
’پابندی اور سینسرشپ سے کسی چیز کو آپ بند نہیں کر سکتے‘
شیری رحمان نے اپنی اتحادی جماعت مسلم لیگ ن کو یہ تجویز دی ہے کہ مخصوص نشستوں سے متعلق سپریم کورٹ نے ’یہ جو فیصلہ کیا ہے یہ عدالت میں ہی طے ہو گا۔‘ انھوں نے کہا کہ ’میری سیاسی بصیرت تو یہی ہے کہ پابندی اور ’سینسرشپ‘ سے کسی چیز کو آپ بند نہیں کر سکتے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اس طرح نہ کیجیے، اتحاد اس طرح نہیں چلتے۔‘ شیری رحمان نے کہا کہ سیاسی طور پر ہم سے کوئی مشورہ نہیں کیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’ہماری پارٹی کا اس پر فیصلہ ابھی نہیں آیا ہے۔‘
ان کے مطابق وہ اپنی پارٹی کے فیصلے کا ساتھ دیں گی۔
شیری رحمان نے کہا کہ ’ملک میں ایسے حالات بن گئے ہیں کہ جن پر عوام کی چیخیں نکل رہی ہیں۔ ہر جماعت کو سوچنا چاہیے کہ اس وقت مسائل کیا ہیں۔ اپنی طرف سے حل پیش کرنا چاہیے کہ ہم کس طرح ملک کو مشکلات سے نکالیں گے۔‘
ڈیرہ اسماعیل خان: دیہی صحت مرکز پر حملہ، دو فوجیوں سمیت سات افراد اور تین حملہ آور ہلاک، آئی ایس پی آر
،تصویر کا ذریعہISPR
پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ 15 اور 16 جولائی کی درمیانی شب دہشت گردوں نے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے کری شموزئی میں دیہی صحت کے مرکز حملہ کیا اور وہاں موجود افراد پر اندھا دھند فائرنگ کی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق حملے میں پانچ افراد ہلاک ہوگئے جن میں دو لیڈی ہیلتھ ورکرز، دو بچے اور ایک چوکیدار شامل ہیں۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے حملے کے بعد علاقے میں موجود سیکیورٹی فورسز کو فوری طور پر متحرک کیا گیا اور فائرنگ کے تبادلے کے نتیجے میں تین دہشت گردوں ہلاک ہوگئے۔
شدید فائرنگ کے تبادلے کے دوران ضلع نارووال کے رہائشی 44 سالہ نائب صوبیدار محمد فاروق اور خانیوال سے تعلق رکھنے والے سپاہی محمد جاوید اقبال بھی ہلاک ہوئے ہیں۔
بنوں کینٹ میں خود کش دھماکے میں آٹھ فوجی اور دس حملہ آور ہلاک: آئی ایس پی آر
،تصویر کا ذریعہISPR
پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ گذشتہ روز صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر بنوں میں دس دہشتگردوں نے کنٹونمنٹ پر حملہ کیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسز نے مؤثر طریقے سے ان دہشتگردوں کی کنٹونمنٹ کے اندر داخل ہونے کی اس کوشش کو ناکام بنایا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ان دہشتگردوں نے بارود سے بھری گاڑی کو اس علاقے میں ایک دیوار کے ساتھ دے مارا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق اس خود کش دھماکے سے دیوار کا ایک حصہ گر گیا جبکہ قریب کے کچھ انفراسٹرکچر کو نقصان بھی پہنچا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق اس دھماکے میں آٹھ فوجی ہلاک ہوئے۔
ان ہلاک ہونے والوں میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع پونچھ کے رہائشی 44 برس کے نائب صوبیدار محمد شہزاد، ضلع خوشاب کے رہائشی 39 برس کے حوالدار ظل حسین، ضلع نیلم کے رہائشی 28 برس کے حوالدار شہزاد احمد، ضلع مظفرآباد کے رہائشی 30 برس کے سپاہی اشفاق حسین خان، مظفر آباد کے ہی 22 برس کے سپاہی سبحان مجید، خیبر پختونخوا کے ضلع کرک کے رہائشی 30 برس کے سپاہی امتیاز حسین، پنجاب کے شہر بہاولپور سے 26 برس کے سپاہی ارسلان اسلم اور فرنٹیئر کانسٹیبلری کے لکی مروت سے تعلق رکھنے والے 34 برس کے لانس نائیک سبز علی شامل ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق آپریشن کے دوران تمام دس دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا گیا۔ فوج کے مطابق سکیورٹی فورسز کے بروقت اور مؤثر جواب کی وجہ سے بڑی تباہی سے کنٹونمنٹ کو محفوظ کر لیا گیا اور معصوم قیمتی جانوں کو بھی بچا لیا گیا۔
فوج کے مطابق یہ حملہ حافظ گل بہادر گروپ کی طرف سے کیا گیا ہے۔ پاکستانی فوج کے مطابق یہ گروپ افغانستان سے کارروائیاں کرتا ہے اور ماضی میں بھی یہ گروپ پاکستان کے خلاف دہشتگردی کی کارروائیوں کے لیے افغان سرزمین کو استعمال کرتا رہا ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان افغانستان کی عبوری حکومت کو اپنے تحفظات سے آگاہ کرتا رہا ہے۔ ’پاکستان نے افغانستان کو اس طرح کے دہشتگرد گروہوں کو پاکستان کے خلاف افغان سرزمین کو استعمال کرنے سے روکنے کا کہا اور ان گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔‘
آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان کی افواج ہر قیمت پر اپنی سرزمین اور عوام کا دہشتگردی کے ناسور سے دفاع کرے گی اور افغانستان کی طرف سے ان خطرات کے خلاف ضروری اقدامات اٹھائے گی۔
واضح رہے کہ پاکستان نے چند ماہ قبل اس گروپ کے خلاف سرحد پار افغانستان کی حدود میں کارروائی بھی کی تھی۔
افغانستان میں پاکستانی کارروائی کا نشانہ حافظ گل بہادر گروپ، جو ’گڈ طالبان‘ کے نام سے مشہور ہوا
رواں برس مارچ میں پاکستان کے دفتر خارجہ نے کہا تھا کہ سرحد کے قریب افغانستان کی حدود میں دہشتگردوں کے خلاف انٹیلیجنس معلومات کی بنیاد پر ایک کارروائی میں حافظ گل بہادر گروپ سے تعلق رکھنے والے دہشتگرد ہدف تھے جو ٹی ٹی پی کے ساتھ پاکستان میں متعدد حملے کرنے میں ملوث ہیں۔
دفتر خارجہ کے مطابق یہ دہشتگرد پاکستان کی سکیورٹی کے لیے سنگین خطرہ ہیں اور یہ تسلسل سے پاکستان میں اپنی دہشتگرد کارروائیوں کے لیے افغانستان کی سرزمین استعمال کر رہے ہیں۔
افغان طالبان نے بھی اس حملے کی تصدیق کی تھی اور یہ کہا تھا کہ پاکستانی طیاروں نے افغانستان کی حدود میں پکتیکا اور خوست کے علاقوں میں بمباری کی، جس میں خواتین اور بچوں سمیت آٹھ شہری ہلاک ہوئے۔
پاکستان کے قبائلی علاقوں میں متحرک بیشتر گروپ ٹی ٹی پی میں ضم ہو چکے ہیں لیکن چند ایک گروپ اب بھی ٹی ٹی پی کی چھتری کے نیچے نہیں آئے، جن میں حافظ گل بہادر گروپ بھی شامل ہے۔
حافظ گل بہادر بنیادی طور پر اتمانزئی قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں اور انھوں نے سنہ 2001 میں 4000 رضا کاروں پر مشتمل ایک فورس قائم کی تھی۔
حافظ گل بہادر گروپ ماضی میں پاکستان حکومت کی زیادہ مخالفت میں نہیں رہا لیکن شمالی وزیرستان میں جون سنہ 2014 میں آپریشن ’ضرب عضب‘ شروع ہوا جس کے بعد حافظ گل بہادر اور ان کا گروہ غیر فعال ہو گیا تھا۔
اس آپریشن میں حکومت نے متعدد شدت پسندوں کی ہلاکت کے دعوے بھی کیے تھے اور کہا تھا کہ یہ علاقہ اب شدت پسندوں سے صاف کر دیا گیا ہے۔