یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے
بی بی سی کے نئے لائیو پیج پر تازہ ترین خبریں جاننے کے لیے اس لنک پر کلک کیجیے۔
پاکستان کے وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی جماعت پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) پر پابندی لگانے کا ابھی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے کو پہلے لیڈرشپ دیکھے گی۔ ’اس کے بعد ہمارے جو اتحادی ہیں ان سے مشورہ ہوگا۔‘
بی بی سی کے نئے لائیو پیج پر تازہ ترین خبریں جاننے کے لیے اس لنک پر کلک کیجیے۔

،تصویر کا ذریعہآُ
سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس مشیر عالم نے سپریم کورٹ کا ایڈ ہاک جج بننے سے معذرت کر لی ہے۔
گذشتہ ہفتے چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں سپریم جوڈیشل کمیشن کا اجلاس منعقد ہوا تھا جس میں چار ججوں کی ایڈ ہاک بنیادوں پر تعیناتی کی منظوری دی گئی تھی۔
جوڈیشل کمیشن کے مطابق ایڈ ہاک ججوں کی تعیناتی کا فیصلہ زیرِ التوا کیسز کی بڑھتی ہوئی تعداد کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
کمیشن کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق سپریم کورٹ کے ایسے ججوں کو ایڈ ہاک بنیاد پر تعینات کیا جاسکتا ہے جنھیں ریٹائر ہوئے تین سال کا عرصہ نہیں ہوا ہے۔
اس سلسلے میں کمیشن نے جسٹس ریٹائرڈ مشیر عالم، جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر، جسٹس ریٹائرڈ مظہر عالم خان میاں خیل اور جسٹس ریٹائرڈ سردار طارق مسعود کے ناموں کی منظوری دی تھی۔
تاہم، جسٹس مشیر عالم نے کمیشن کو خط لکھ کر ایڈ ہاک جج کی ذمہ داری لینے سے معذرت کرلی ہے۔
ان کا کہنا ہے انھوں ریٹائرمنٹ کے بعد معذور افراد کیلئے ایک فاونڈیشن قائم کر رکھی ہے۔
جسٹس مشیر عالم کا کہنا ہے کہ وہ یکسوئی سے معذور افراد کی خدمت کرنا چاہتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہISPR
پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ 15 اور 16 جولائی کی درمیانی شب دہشت گردوں نے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے کری شموزئی میں دیہی صحت کے مرکز حملہ کیا اور وہاں موجود افراد پر اندھا دھند فائرنگ کی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق حملے میں پانچ افراد ہلاک ہوگئے جن میں دو لیڈی ہیلتھ ورکرز، دو بچے اور ایک چوکیدار شامل ہیں۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے حملے کے بعد علاقے میں موجود سیکیورٹی فورسز کو فوری طور پر متحرک کیا گیا اور فائرنگ کے تبادلے کے نتیجے میں تین دہشت گردوں ہلاک ہوگئے۔
شدید فائرنگ کے تبادلے کے دوران ضلع نارووال کے رہائشی 44 سالہ نائب صوبیدار محمد فاروق اور خانیوال سے تعلق رکھنے والے سپاہی محمد جاوید اقبال بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہPID
پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی جماعت پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) پر پابندی لگانے کا ابھی حتمی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔
٘منگل کے روز لاہور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے کو پہلے لیڈرشپ دیکھے گی۔ ’اس کے بعد ہمارے جو اتحادی ہیں ان سے مشورہ ہوگا۔‘
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی پر پابندی کا فیصلہ قانون اور آئین کے مطابق لیا جائے گا۔
’یہاں جو قانون کے خلاف سیاسی فیصلے ہوتے ہیں ویسا کوئی فیصلہ نہیں ہوگا۔‘
دوسری جانب، سیالکوٹ میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیرِ دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی پر پابندی لگانے کے فیصلے کو پالیمنٹ میں لانے سے پہلے تمام جماعتوں سے منظوری لی جائے گا۔
آپریشن عزمِ استحکام کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سب سے زیادہ دہشگردی خیبر پختونخوا میں ہورہی ہے اور وہاں پی ٹی آئی کی حکومت ہے۔
انھوں نے الزام لگایا کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت آپریشن میں حصہ لینے سے انکاری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات کا تقاضہ ہے کہ ملک کو معاشی طور پر مستحکم کرنے، دشتگردی کے خلاف جنگ اور آئین کے تحفظ کے لیے تمام ادارے مل کر کام کریں اور اپنے ذاتی محرکات کے تابع نہ ہوں۔
خیال رہے کہ پاکستانی حکومت نے پی ٹی آئی پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے جس کے لیے ایک ریفرنس سپریم کورٹ بھیجا جائے گا۔
حکومت کا یہ فیصلہ ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب گذشتہ ہفتے پاکستان کی سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی کو ایک پارلیمانی جماعت تسلیم کرتے ہوئے یہ فیصلہ دیا ہے کہ خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستیں پی ٹی آئی کو دی جائیں۔
سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف حکومت نے نظرِ ثانی کی اپیل دائر کی ہے۔

،تصویر کا ذریعہISPR
پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ گذشتہ روز صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر بنوں میں دس دہشتگردوں نے کنٹونمنٹ پر حملہ کیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسز نے مؤثر طریقے سے ان دہشتگردوں کی کنٹونمنٹ کے اندر داخل ہونے کی اس کوشش کو ناکام بنایا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ان دہشتگردوں نے بارود سے بھری گاڑی کو اس علاقے میں ایک دیوار کے ساتھ دے مارا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق اس خود کش دھماکے سے دیوار کا ایک حصہ گر گیا جبکہ قریب کے کچھ انفراسٹرکچر کو نقصان بھی پہنچا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق اس دھماکے میں آٹھ فوجی ہلاک ہوئے۔
ان ہلاک ہونے والوں میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع پونچھ کے رہائشی 44 برس کے نائب صوبیدار محمد شہزاد، ضلع خوشاب کے رہائشی 39 برس کے حوالدار ظل حسین، ضلع نیلم کے رہائشی 28 برس کے حوالدار شہزاد احمد، ضلع مظفرآباد کے رہائشی 30 برس کے سپاہی اشفاق حسین خان، مظفر آباد کے ہی 22 برس کے سپاہی سبحان مجید، خیبر پختونخوا کے ضلع کرک کے رہائشی 30 برس کے سپاہی امتیاز حسین، پنجاب کے شہر بہاولپور سے 26 برس کے سپاہی ارسلان اسلم اور فرنٹیئر کانسٹیبلری کے لکی مروت سے تعلق رکھنے والے 34 برس کے لانس نائیک سبز علی شامل ہیں۔

،تصویر کا ذریعہISPR
آئی ایس پی آر کے مطابق آپریشن کے دوران تمام دس دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا گیا۔ فوج کے مطابق سکیورٹی فورسز کے بروقت اور مؤثر جواب کی وجہ سے بڑی تباہی سے کنٹونمنٹ کو محفوظ کر لیا گیا اور معصوم قیمتی جانوں کو بھی بچا لیا گیا۔
فوج کے مطابق یہ حملہ حافظ گل بہادر گروپ کی طرف سے کیا گیا ہے۔ پاکستانی فوج کے مطابق یہ گروپ افغانستان سے کارروائیاں کرتا ہے اور ماضی میں بھی یہ گروپ پاکستان کے خلاف دہشتگردی کی کارروائیوں کے لیے افغان سرزمین کو استعمال کرتا رہا ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان افغانستان کی عبوری حکومت کو اپنے تحفظات سے آگاہ کرتا رہا ہے۔ ’پاکستان نے افغانستان کو اس طرح کے دہشتگرد گروہوں کو پاکستان کے خلاف افغان سرزمین کو استعمال کرنے سے روکنے کا کہا اور ان گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔‘
آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان کی افواج ہر قیمت پر اپنی سرزمین اور عوام کا دہشتگردی کے ناسور سے دفاع کرے گی اور افغانستان کی طرف سے ان خطرات کے خلاف ضروری اقدامات اٹھائے گی۔
واضح رہے کہ پاکستان نے چند ماہ قبل اس گروپ کے خلاف سرحد پار افغانستان کی حدود میں کارروائی بھی کی تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
افغانستان میں پاکستانی کارروائی کا نشانہ حافظ گل بہادر گروپ، جو ’گڈ طالبان‘ کے نام سے مشہور ہوا
رواں برس مارچ میں پاکستان کے دفتر خارجہ نے کہا تھا کہ سرحد کے قریب افغانستان کی حدود میں دہشتگردوں کے خلاف انٹیلیجنس معلومات کی بنیاد پر ایک کارروائی میں حافظ گل بہادر گروپ سے تعلق رکھنے والے دہشتگرد ہدف تھے جو ٹی ٹی پی کے ساتھ پاکستان میں متعدد حملے کرنے میں ملوث ہیں۔
دفتر خارجہ کے مطابق یہ دہشتگرد پاکستان کی سکیورٹی کے لیے سنگین خطرہ ہیں اور یہ تسلسل سے پاکستان میں اپنی دہشتگرد کارروائیوں کے لیے افغانستان کی سرزمین استعمال کر رہے ہیں۔
افغان طالبان نے بھی اس حملے کی تصدیق کی تھی اور یہ کہا تھا کہ پاکستانی طیاروں نے افغانستان کی حدود میں پکتیکا اور خوست کے علاقوں میں بمباری کی، جس میں خواتین اور بچوں سمیت آٹھ شہری ہلاک ہوئے۔
پاکستان کے قبائلی علاقوں میں متحرک بیشتر گروپ ٹی ٹی پی میں ضم ہو چکے ہیں لیکن چند ایک گروپ اب بھی ٹی ٹی پی کی چھتری کے نیچے نہیں آئے، جن میں حافظ گل بہادر گروپ بھی شامل ہے۔
حافظ گل بہادر بنیادی طور پر اتمانزئی قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں اور انھوں نے سنہ 2001 میں 4000 رضا کاروں پر مشتمل ایک فورس قائم کی تھی۔
حافظ گل بہادر گروپ ماضی میں پاکستان حکومت کی زیادہ مخالفت میں نہیں رہا لیکن شمالی وزیرستان میں جون سنہ 2014 میں آپریشن ’ضرب عضب‘ شروع ہوا جس کے بعد حافظ گل بہادر اور ان کا گروہ غیر فعال ہو گیا تھا۔
اس آپریشن میں حکومت نے متعدد شدت پسندوں کی ہلاکت کے دعوے بھی کیے تھے اور کہا تھا کہ یہ علاقہ اب شدت پسندوں سے صاف کر دیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان پیپلز پارٹی نے تحریک انصاف پر پابندی کے حکومتی فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا اسے اس بارے میں اعتماد میں نہیں لیا گیا ہے۔
پی پی پی کی سینیئر رہنما شیری رحمان نے نجی ٹی وی چینل جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں کوئی عندیہ نہیں تھا کہ اس طرح کا قدم اٹھایا جا رہا ہے، کوئی پیشرفت ہو رہی ہے، یا ایسی کوئی ورکنگ ہو رہی ہے۔‘
واضح رہے کہ پیر کو پاکستانی حکومت نے سابق وزیراعظم عمران خان کی جماعت تحریکِ انصاف پی ٹی آئی پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا جس کے لیے ایک ریفرنس سپریم کورٹ بھیجا جائے گا۔ پی ٹی آئی کی قیادت نے اسے عدلیہ کے خلاف اقدام قرار دیا ہے۔
پیپلز پارٹی اور دیگر حکومت کی اتحادی جماعتوں سمیت سیاسی جماعتیں بھی حکومت کی طرف سے تحریک انصاف پر پابندی کے اعلان کی مخالفت کر رہی ہیں۔
امریکہ نے بھی پیر کو تحریک انصاف پر پابندی عائد کرنے سے متعلق حکومت پاکستان کے اعلان پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے ’ایک پیچیدہ سیاسی عمل کا آغاز‘ قرار دیا ہے۔
واشنگٹن میں ترجمان امریکی محکمہ خارجہ میتھیو ملر نے پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ ’پاکستان میں سیاسی جماعت پر پابندی سے متعلق ہم نے حکومت کے بیانات دیکھے ہیں، یہ پیچیدہ سیاسی عمل کا آغاز ہے۔‘
پیر کو ایک پریس کانفرنس میں وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے یہ بھِی اعلان کیا کہ ان کی حکومت عمران خان، سابق صدر عارف علوی اور قومی اسمبلی کے سابق ڈپٹی سپیکر قاسم سوری پر آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت ’غداری‘ کا مقدمہ بنائے گی۔
حکومت کا یہ فیصلہ ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب تین دن قبل پاکستان کی سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی کو ایک پارلیمانی جماعت تسلیم کرتے ہوئے یہ فیصلہ دیا ہے کہ خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستیں پی ٹی آئی کو دی جائیں۔
’پابندی اور سینسرشپ سے کسی چیز کو آپ بند نہیں کر سکتے‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
شیری رحمان نے اپنی اتحادی جماعت مسلم لیگ ن کو یہ تجویز دی ہے کہ مخصوص نشستوں سے متعلق سپریم کورٹ نے ’یہ جو فیصلہ کیا ہے یہ عدالت میں ہی طے ہو گا۔‘ انھوں نے کہا کہ ’میری سیاسی بصیرت تو یہی ہے کہ پابندی اور ’سینسرشپ‘ سے کسی چیز کو آپ بند نہیں کر سکتے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اس طرح نہ کیجیے، اتحاد اس طرح نہیں چلتے۔‘ شیری رحمان نے کہا کہ سیاسی طور پر ہم سے کوئی مشورہ نہیں کیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’ہماری پارٹی کا اس پر فیصلہ ابھی نہیں آیا ہے۔‘
ان کے مطابق وہ اپنی پارٹی کے فیصلے کا ساتھ دیں گی۔
شیری رحمان نے کہا کہ ’ملک میں ایسے حالات بن گئے ہیں کہ جن پر عوام کی چیخیں نکل رہی ہیں۔ ہر جماعت کو سوچنا چاہیے کہ اس وقت مسائل کیا ہیں۔ اپنی طرف سے حل پیش کرنا چاہیے کہ ہم کس طرح ملک کو مشکلات سے نکالیں گے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پیر کو پاکستانی حکومت نے سابق وزیراعظم عمران خان کی جماعت تحریکِ انصاف پی ٹی آئی پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا جس کے لیے ایک ریفرنس سپریم کورٹ بھیجا جائے گا۔
اس اعلان کے بعد پی ٹی آئی کی قیادت نے اسے عدلیہ کے خلاف اقدام قرار دیا ہے۔ پیر کو وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ کی پریس کانفرنس کے بعد پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف عمر ایوب، بیرسٹر گوہر علی خان اور شبلی فراز کیمروں کے سامنے آئے اور پریس کانفرنس کرتے ہوئے حکومتی جماعت کو ہی سکیورٹی تھریٹ قرار دیا۔
بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ حکومتی وزیر کا آج کا اعلان سپریم کورٹ کے فیصلے کی کھلی خلاف ورزی ہے اور اس سے واضح ہوا کہ پی ڈی ایم بلے کا نشان لینے کی سازش کا حصہ تھی۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ’یہ عدلیہ پر وار کیا گیا ہے، عدلیہ کو کمزور کرنے کی سازش ہے۔‘ تاہم انھوں نے کہا کہ نظرثانی کی درخواست دائر کرنا حکومت کا حق ہے مگر اس میں انھیں کوئی کامیابی حاصل نہیں ہو گی۔
انھوں نے کہا کہ یہ تو چاہتے تھے کہ عمران خان کا نام بھی نہ رہے مگر پھر آٹھ فروری کو عوام نے اپنا فیصلہ سنا دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’حکومت مہنگائی سے توجہ ہٹانے کے لیے ایسے اعلانات کر رہی ہے، پی ٹی آئی نے سب سے زیادہ ووٹ لیا اس بات کا اعتراف سپریم کورٹ نے بھی کیا۔‘
عمر ایوب نے کہا کہ ’تین دن سے مری میں ن لیگ کی قیادت کے درمیان یہ کھچڑی پک رہی تھی، ترجمان نے آج نیت بتا دی، عطا تارڑ کی پریس کانفرنس ان کے دل کی آواز ہوسکتی ہے، اصل میں قومی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے پریس کانفرنس کی گئی۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ریکارڈ توڑ مہنگائی نظروں سے اوجھل ہے اور پابندی کی بات کر رہے ہیں، سپریم کورٹ پی ٹی آئی کو سیاسی پارٹی قرار دے چکی ہے، ن لیگ سپریم کورٹ پر دھاوا بولنا چاہتی ہے، جبکہ یہ فارم 47 کی بنیاد پر کھڑی اقلیتی حکومت ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ یہ وہ حکومت ہے جس نے آئی ایس آئی کو یہ حق دے دیا ہے کہ یہاں ہر شخص کو شبے اور سکیورٹی کی نظر سے دیکھے۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’اگر کوئی سکیورٹی تھریٹ ہے تو وہ مسلم لیگ ن ہے، یہ کمپرومائزڈ لوگ ہیں، ان کے اثاثے باہر ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ، ایم کیو ایم، پاکستان سمیت اتحادی بھی حکومت سے ناخوش ہیں، حکومتی اتحادیوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ غیر جمہوری اقدامات کی حمایت نہ کریں، سیاسی جماعتیں بتائیں کیا وہ جمہوریت کے ساتھ ہیں یا سول مارشل لا کے۔’
عمر ایوب نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف حکومت پنجاب احتجاج کروا رہی ہے، پی ٹی آئی پر پابندی حکومت کی خواہش ہو سکتی ہے لیکن تین کروڑ عوام نے پی ٹی آئی کو ووٹ دیے ہیں۔’شبلی فراز نے پریس کانفرنس میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ’آج کی پریس کانفرنس ایک پولیٹیکل سرینڈر تھی۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ نے تحریک انصاف پر پابندی عائد کرنے سے متعلق حکومت پاکستان کے اعلان پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے ’ایک پیچیدہ سیاسی عمل کا آغاز‘ قرار دیا ہے۔
واشنگٹن میں ترجمان امریکی محکمہ خارجہ میتھیو ملر نے پریس بریفنگ کے دوران پاکستان تحریک انصاف پر پابندی کے سوال کے جواب میں کہا کہ ’پاکستان میں سیاسی جماعت پر پابندی سے متعلق ہم نے حکومت کے بیانات دیکھے ہیں، یہ پیچیدہ سیاسی عمل کا آغاز ہے۔‘
پاکستانی حکومت نے سابق وزیراعظم عمران خان کی جماعت تحریکِ انصاف پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے جس کے لیے ایک ریفرنس سپریم کورٹ بھیجا جائے گا۔ یہ اعلان وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے پیر کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
جہاں ایک طرف حکومتی وزرا اور مسلم لیگ ن کے رہنما تحریک انصاف پر ’انتشار کی سیات کرنے‘ کا الزام لگاتے ہیں وہیں بعض مبصرین کا خیال ہے کہ اس کا مقصد جماعت پر دباؤ بڑھانا ہے۔
واشنگٹن میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ترجمان امریکی محکمہ خارجہ میتھیو ملر کا کہنا تھا کہ ’یقیناً کسی سیاسی جماعت پر پابندی لگانا تشویش کی بات ہے، انسانی حقوق اور آزادی اظہار کے احترام سمیت آئینی، جمہوری اصولوں کی پُرامن پاسداری کی حمایت کرتے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ہم جمہوری عمل اور وسیع تر اصولوں کی حمایت کرتے ہیں، ان میں قانون کی حکمرانی اور قانون کے تحت مساوی انصاف شامل ہے۔‘
ان کے مطابق امریکی انتظامیہ عدالتی فیصلوں کی نگرانی کرے گی اور جیسے جیسے یہ داخلی عمل جاری رہے گا، ہم عدالتوں کے مزید فیصلوں کی نگرانی کرتے رہیں گے۔
عمران خان اور تحریک انصاف سے متعلق سوالات پر میتھیو ملر نے جواب دیا کہ اس معاملے پر وہ کئی بار جواب دے چکے ہیں۔ انھوں نے نو مئی سے متعلق مقدمات پر کہا کہ یہ مقدمات عدالتوں میں زیر التوا ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’ہم پاکستان میں بھی سیاسی تشدد کے خلاف بولے ہیں، قانون کی حکمرانی کی بات ہے اور اس جگہ سے عوام کے جمہوری حق پر بات کی ہے۔‘
واضح رہے کہ پیر کو ایک پریس کانفرنس میں وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یہ بھِی اعلان کیا تھا کہ ان کی حکومت عمران خان، سابق صدر عارف علوی اور قومی اسمبلی کے سابق ڈپٹی سپیکر قاسم سوری پر آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت ’غداری‘ کا مقدمہ بنائے گی۔
حکومت کا یہ فیصلہ ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب تین دن قبل پاکستان کی سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی کو ایک پارلیمانی جماعت تسلیم کرتے ہوئے یہ فیصلہ دیا ہے کہ خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستیں پی ٹی آئی کو دی جائیں۔
سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف حکومت نے نظرِ ثانی کی اپیل دائر کی ہے۔
عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو عدت کے دوران نکاح سے متعلق مقدمے میں بھی بریت مل چکی ہے اور اس کے بعد حکومت نے جیل میں ہی عمران خان پر نیب کے توشہ خانہ مقدمے اور نو مئی سے متعلق مقدمات میں گرفتاری ڈالی ہے۔
حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 09 روپے 99 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 275 روپے 60 پیسے فی لیٹر ہو گئی۔
وزارت خزانہ نے پٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتوں کے حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔
دوسری جانب ڈیزل کی قیمت میں 06 روپے 18 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد نئی قیمت 283 روپے 63 پیسے فی لیٹر ہو گی۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اس نئے اضافے کا اطلاق رات 12 بجے سے ہو گا۔

،تصویر کا ذریعہ@Financegovpk
لاہور کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے مئی کے پرتشدد مظاہروں سے متعلق مقدمات میں سابق وزیرِ اعظم اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کا دس روزہ جسمانی ریمانڈ منظورکر لیا ہے۔
انسدادِ دہشتگردی عدالت کے جج خالد ارشد نے اب سے کچھ دیر قبل محفوظ فیصلہ سنایا ہے۔
یاد رہے سابق وزیرِ اعظم اور بانی پی ٹی آئی عمران خان آج لاہور کی انسدادِ دہشتگردی عدالت میں گذشتہ برس نو مئی کے پرتشدد مظاہروں سے متعلق مقدمات کے لیے واٹس ایپ ویڈیو کے ذریعے پیش ہوئے تھے
اس دوران ان کے وکلا نے عمران خان کو ذاتی حثیت میں پیش نہ کرنے پر اعتراض اٹھایا تھا۔
جج خالد ارشد نے سرکاری وکیل سے پوچھا کہ ’آپ عمران خان کو عدالت میں کیوں پیش نہیں کر سکتے تو انھوں نے جواب دیا تھا کہ سکیورٹی کی وجہ سے انھیں عدالت پیش نہیں کر سکتے، ضمنی میں یہ بات لکھی ہے۔‘
عدالت کی جانب سے اس نقطے پر فیصلہ محفوظ کیا گیا تھا جےس اب سنایا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سابق وزیرِ اعظم اور بانی پی ٹی آئی عمران خان آج لاہور کی انسدادِ دہشتگردی عدالت میں گذشتہ برس نو مئی کے پرتشدد مظاہروں سے متعلق مقدمات کے لیے واٹس ایپ ویڈیو کے ذریعے پیش ہوئے ہیں۔
عدالت میں موجود مقامی صحافی وقاص اعوان کے مطابق انھوں نے ویڈیو لنک کے ذریعے اپنے دلائل میں عدالت کو بتایا کہ ’نو مئی جلاو گھیراؤ میں نے نہیں کروایا یہ جھوٹے الزامات عائد کیے گئے۔ میں نے 28 سالہ سیاسی تاریخ میں کبھی پُرتشدد واقعات نہیں کروائے۔
’میرے گھر پر حملہ کیا گیا۔ میں نے پُرامن احتجاج کا کہا تھا۔ نو مئی جلاؤ گھیراؤ کی جوڈیشل انکوائری کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دے رکھی ہے۔ میں نے چیف جسٹس پاکستان کو یاد دہانی کروائی ہے کہ ہماری درخواست پر سماعت کریں۔‘
’وہ کہتےہیں کہ ہم سے معافی مانگو۔۔۔ میں کہتا ہوں آپ مجھ سے معافی مانگیں، ظلم آپ نے کیا ہے۔‘
عدالت میں موجود صحافی علی ارشد کے مطابق عمران خان موبائل پر واٹس ایپ کال پر تقریباً دو منٹ رہے اور جج صاحب کو نو مئی واقعات پر دلائل دیتے رہے اس دوران ایک بار ویڈیو کال منقطع ہوئی جس کے بعد دوبارہ عمران خان کو ویڈیو لنک پر لایا گیا۔
اس دوران ان کے وکلا نے عمران خان کو ذاتی حثیت میں پیش نہ کرنے پر اعتراض اٹھا دیا۔
وکیل عثمان ریاض گل نے مؤقف اختار کیا کہ ’ایسا ممکن نہیں کہ ملزم عدالت کے روبرو موجود نہ ہو اور اس کے ریمانڈ کی کارروائی شروع کر دی جائے۔‘
عثمان ریاض گل اور ایڈوکیٹ اظہر صدیق نے ماضی کے مختلف فیصلے عدالت میں جمع کروائے۔ ایڈوکیٹ اظہر صدیق کا کہنا تھا کہ ’یہ اختیار اس عدالت کے پاس نہیں ہے، اگر ایسا کریں گے تو یہ غیر قانونی ہو گا۔ ہمارا اعتراض ہے کہ پہلے یہ طے کیا جائے کہ کیا ایسے سماعت کی جا سکتی ہے۔‘
جج خالد ارشد نے سرکاری وکیل سے پوچھا کہ ’آپ عمران خان کو عدالت میں کیوں پیش نہیں کر سکتے تو انھوں نے جواب دیا کہ سکیورٹی کی وجہ سے انھیں عدالت پیش نہیں کر سکتے، ضمنی میں یہ بات لکھی ہے۔‘
عدالت کی جانب سے اس نقطے پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیا ہے جبکہ جج خالد ارشد نے کہا کہ ریمانڈ سے متعلق بعد میں فیصلہ کیا جائے گا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو پی ٹی آئی کی کارکن صنم جاوید کو 18 جولائی تک گرفتار نہ کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے صنم جاوید کو اس مدت کے دوران اسلام آباد نہ چھوڑنے کا بھی حکم دیا ہے۔
عدالت نے صنم جاوید کو اپنے والد کے ساتھ جانے کی ہدایت کی ہے۔ صنم جاوید کو اس عرصے کے دوران کوئی بھی ’متنازع بیان‘ دینے سے روک دیا ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اوررنگ زیب نے ضمن صنم جاوید کے خلاف ایک سال کے اندر درج مقدمات کا تمام ریکارڈ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔
صنم جاوید کے والد کی درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس میاں گل حسن اوررنگ زیب نے سماعت کی تو اسلام آباد پولیس کے سربراہ بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ کیا صنم جاوید کے خلاف کوئی مقدمہ درج ہے جس پر اسلام آباد پولیس کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ اس بارے میں جلد ہی تمام معلومات سے متعلق عدالت کو اگاہ کردیں گے۔
عدالت کا کہنا تھا کہ کیونکہ آج اس درخواست پر سماعت مکمل نہیں ہوسکتی اس لیے اس کی سماعت 18 جولائی کو رکھ دی ہے۔
واضح رہے کہ اسلام آباد پولیس نے ایف ائی اے کے مقدمے سے رہائی کے بعد صنم جاوید کو گرفتار کیا تھا اور پیر کے روز اسے بلوچستان پولیس کے حوالے کردیا تاہم بلوچستان پولیس کے اہلکار راہداری ریمانڈ لینے کے لیے متعلقہ عدالت پہنچے تو عدالت کے جج نے کہا کہ چونکہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے صنم جاوید کو پانچ بجے پیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے اس لیے جب تک اسلام آباد ہائی کورٹ اس بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کرتی اس وقت تک وہ راہدری ریمانڈ نہیں دے سکتے۔
’پاکستان تحریکِ انصاف کے ترجمان کی جانب سے عطا تارڑ کی پریس کانفرنس پر ردِ عمل دیتے ہوئے اسے ’مخصوص نشستوں پر سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلے کے نتیجے میں ملنے والی شرمندگی مٹانے کی مکروہ کوشش‘ قرار دیا ہے۔
پی ٹی آئی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’مینڈیٹ چوروں اور ان کے سرپرستوں کی ہر سازش کا عوامی تائید و حمایت سے منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔
’ذلت اور شکست سے بری طرح گبھرایا ہوا اور دہشت زدہ مجرم حکومتی ٹولہ اپنی دھمکیوں سے 24 کروڑ عوام کو ڈرانا چاہتا ہے۔‘
خیال رہے کہ مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے آج پی ٹی آئی کی مخصوص نشستوں کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل کرنے، تحریک انصاف پر پابندی عائد کرنے اور عمران خان، عارف علوی اور قاسم سوری کے خلاف آرٹیکل چھ کی کارروائی کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کے فیصلے کا اعلان کیا تھا۔
واضح رہے کہ جمعے کو چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے سربراہی میں 13 رکنی بینچ نے مخصوص نشستوں سے متعلق سنی اتحاد کونسل کی اپیل اکثریت رائے سے منظور کر لی ہے۔ اس فیصلے سے براہ راست تحریک انصاف کو فائدہ پہنچا ہے۔
پی ٹی آئی ترجمان کا ایک میں مزید کہنا تھا کہ ’پاکستان کسی ان ڈکلیئرڈ مارشل لا کے نتیجے میں بننے والی جاگیر نہیں، 24 کروڑ پاکستانیوں کا مسکن اور آئین کے تابع ایک ریاست ہے۔
’اپنی خواہش کو قانون کا درجہ دے کر ملک تباہی و انتشار کی دلدل میں دھکیلنے والوں کا ہر میدان ہر محاذ پر ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے اور کریں گے۔‘
ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ ’اقوامِ متحدہ سے لے کر امریکی کانگرس تک اور ہیومن رائٹس کونسل سے ایمنسٹی انٹرنیشنل تک ہر آزاد اور غیر جانبدار ملکی و غیر ملکی ادارے نے مینڈیٹ چور مجرموں کے ہاتھوں بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہInstagram/SanamJaved
اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کی رہنما صنم جاوید کو اسلام آباد سے باہر لے جانے سے روکنے کا حکم دے دیا ہے اور ڈی جی ایف آئی اے اور اسلام آباد پولیس کے سربراہ کو ساڑھے پانچ بجے ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔
جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے صنم جاوید کی رہائی کے لیے ان کے والد کی درخواست پر سماعت کی۔ وکیل بیرسٹر میاں علی اشفاق عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔ صنم جاوید کے والد نے استدعا کی کہ صنم جاوید کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش کرنے اور غیر قانونی حراست سے فوری رہا کرنے کا حکم دیا جائے۔
انھوں نے مؤقف اختیار کیا کہ صنم جاوید کے خلاف مقدمات کی تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت کی جائے اور ان کے خلاف درج مقدمات پر کارروائی کو بھی روکا جائے۔
صنم جاوید کے والد نے درخواست میں وفاقی حکومت، ایف آئی اے، آئی جی اسلام آباد اور دیگر کو فریق بناتے ہوئے صنم جاوید کو حراست میں لیے جانے یا اغوا کے عمل کو غیر قانونی قرار دینے کی استدعا بھی کی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے صنم جاوید کو اسلام آباد سے باہر لے جانے سے روکتے ہوئے شام ساڑھے پانچ بجے ہائیکورٹ کے سامنے پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔
ہائی کورٹ نے صنم جاوید کو اسلام آباد سے باہر لے جانے سے بھی روکتے ہوئے آئی جی اسلام آباد اور ڈی جی ایف آئی اے کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔
صنم جاوید کی مسلسل عدالتوں سے رہائی کے بعد گرفتاری کا سلسلہ جاری ہے۔
گذشتہ روز ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے ایف آئی اے کے کیس میں صنم جاوید کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست مسترد کر کے انھیں رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔ تاہم رہائی کے بعد پولیس نے انھیں گرفتار کر لیا تھا۔
خیال رہے کہ گذشتہ ایک سال کے دوران پی ٹی آئی کی متعدد خواتین کو تو ضمانت پر رہائی مل گئی تاہم کچھ خواتین رہنما اور کارکنان ایسی بھی ہیں جو ایک مقدمے میں ضمانت کے بعد کسی اور مقدمے میں گرفتار کر لی جاتی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہEPA
پاکستان مسلم لیگ نواز کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر کی جانے والی نظر ثانی کی درخواست میں کہا گیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے مخصوص نشستوں کے حصول کی استدعا ہی نہیں کی تھی جبکہ سنی اتحاد کونسل اور پی ٹی آئی الگ الگ سیاسی جماعتیں ہیں۔
اس درخواست میں یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ آزاد امیدوار پہلے ہی سنی اتحاد کونسل میں شمولیت اختیار کر چکے ہیں اور 12 جولائی کے فیصلے کے مطابق جن ارکان کو پی ٹی آئی کا حصہ قرار دیا گیا انھوں نے کاغذات میں خود کو آزاد ظاہر کیا تھا۔
نظرثانی کی اس درخواست میں پاکستان مسلم لیگ نواز نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ مخصوص نشستوں سے متعلق سپریم کورٹ کے 12 جولائی کے فیصلے میں آزاد ارکان کو 15 دن میں کسی سیاسی جماعت میں شمولیت کا کہنا خلافِ قانون ہے۔
درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ آئین اور قانون واضح ہے کہ آزاد امیدواروں تین دن میں ہی کسی سیاسی جماعت میں شامل ہوسکتے ہیں۔
درخواست میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ مخصوص نشستیں پی ٹی آئی کو دینے پر عدالت نے فریقین کے دلائل نہیں سنے جبکہ فیصلہ پی ٹی آئی کے حق میں دے دیا گیا۔
اس نظرثانی کی اپیل میں استدعا کی گئی ہے کہ سپریم کورٹ مخصوص نشستوں کے فیصلے پر نظرثانی کرے اور نظرثانی کی درخواست پر فیصلے تک 12 جولائی کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے اس پر عملدرآمد رکوایا جائے۔
تحریک لبیک کے کارکنوں کی جانب سے اسلام آباد اور راولپنڈی کے سنگم پر واقع فیض آباد پر دھرنے کا آج تیسرا دن ہے اور اس جماعت کے کارکنوں کی جانب سے فیض آباد انٹرچینج کو مکمل طور پر چاروں اطراف سے بند کر رکھا ہے جس کے وجہ سے مری سے راولپنڈی اور پشاور سے لاہور جانے والی ٹریفک مکمل طور پر بند ہے۔
اسلام آباد ٹریفک پولیس نے اگرچہ متبادل روٹ ضرور دیے ہیں لیکن راستے تنگ ہونے کی وجہ سے ان روٹس پر ٹریفک کا دباؤ بہت زیادہ ہے اور جو فاصلہ عام حالات میں پانچ منٹ میں طے ہو جاتا ہے تحریک لبیک کے کارکنوں کے احتجاج کی وجہ سے ایک گھنٹے میں یہ مسافت طے ہوتی ہے۔
اس کے علاوہ شہریوں کو اسلام آباد میں واقع سرکاری دفاتر میں کام کی غرض سے آنے جانے کے لیے شدید مشکلات درپیش ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ سڑکیں بلاک ہونے کی وجہ سے سرکاری دفاتر میں ملازمین کی حاضری بھی کم رہی ہے۔
اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ ابھی تک تحریک لبیک کے مظاہرین کے ساتھ مذاکرات کے لیے ابھی تک متعلقہ حکام کی طرف سے کوئی تحریری احکامات موصول نہیں ہوئے۔
ٹریفک پولیس کے اہلکار کے مطابق انھیں صرف ٹریفک کو کسی بھی صورت میں رواں رکھنے کے احکامات ملے ہیں جبکہ ان مظاہرین کو اسلام آباد کی مرکزی شاہراہ یعنی ایکسپریس وے کو خالی کروانے کے بارے میں کوئی احکامات نہیں ملے۔
تحریک لبیک پاکستان کے کارکنوں کے حکومت پاکستان سے تین مطالبات ہیں۔ ’مظلوم فلسطینیوں تک غذائی و طبی امداد فی الفور پہنچائی جائے۔ دوسرا مطالبہ یہ ہے کہ حکومت سرکاری سطح پر اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ کا اعلان کرے اور تیسرا مطالبہ یہ ہے کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کو دہشت گرد قرار دیا جائے۔‘
تحریک لبیک کے سربراہ سعد رضوی کے خطاب کے بعد تحریک لبیک کے کارکنان نے فیض آباد فلائی اوور کے اوپر اور نیچے اسلام آباد ایکسپریس وے پر دھرنا دے دیا جس کا آج تیسرا دن ہے۔

،تصویر کا ذریعہ@RadioPakistan
پاکستان کی حکومت نے پی ٹی آئی کی مخصوص نشستوں کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل کرنے، تحریک انصاف پر پابندی عائد کرنے اور عمران خان، عارف علوی اور قاسم سوری کے خلاف آرٹیکل چھ کی کارروائی کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کا فیصلہ کیا ہے۔
پیر کو وفاقی اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ملک نے ترقی کرنی ہے تو پاکستان تحریک انصاف اور ملک ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔
عطا تارڑ نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف پر پابندی لگانے جا رہے ہیں، حکومت کا مطالبہ ہے کہ پی ٹی آئی پر پابندی لگائی جائے، وفاقی حکومت پی ٹی آئی پر پابندی لگانے کا ریفرنس سپریم کورٹ میں دائر کرے گی۔
انھوں نے کہا کہ حکومت ملک میں سیاسی اور معاشی استحکام کے لیے کوشاں ہے جب کہ ملک میں ہیجانی کیفیت پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ (پی ٹی آئی) کچھ بھی کریں، ملک کے خلاف سازش کریں، فارن فنڈنگ لیں، بیرون ملک لابنگ کریں، فرمز ہائی کریں، پاکستان کے خلاف قراردادیں پاس کروائیں، سائفر کا ڈرامہ رچائیں، نو مئی کے حملے کریں، ملک کو ڈیفالٹ کرنے کی کوشش کریں، آپ کو پوچھنے والا کوئی نہیں ہے، ملک میں ایسا تاثر دیا جا رہا ہے۔
عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ ’ایک مخصوص ذہنیت کو پروان چڑھایا جا رہا ہے، ہماری اعلیٰ قیادت اور خواتین کو جیلوں میں ڈالا گیا۔ ہمارے تحمل اور برداشت کو کمزوری سمجھا گیا، اس کا بھرپور جواب دوں گا، بس بہت ہو گیا، اب مزید نہیں، پاکستان تحریک انصاف اور ملک ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔
وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ پاکستان کی حکومت میں شامل جماعتوں کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان تحریکِ انصاف کی مخصوص نشستوں کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظرِ ثانی کی اپیل دائر کریں گے۔
انھوں نے کہا کہ ’اس کے علاوہ نو مئی کے حملے، سائفر کے معاملے اور امریکہ میں قرار داد سمیت ایسے شواہد موجود ہیں جن کی بنیاد پر پی ٹی آئی پر پابندی لگائی جا سکتی ہے۔ اس لیے حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ’حکومت تمام ثبوتوں کو دیکھتے ہوئے تحریکِ انصاف پر پابندی لگائے گی۔‘
انھوں نے الزام عائد کیا کہ تحریکِ انصاف نے طالبان کو پاکستان کے علاقوں میں لا کر بسایا اور ملک کے خلاف سازش کی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ ’پاکستان تحریکِ انصاف کے انصاف کو فارن فنڈنگ کی گئی، جس میں انڈین اور اسرائیلی فنڈنگ شامل ہے۔‘ انھوں نے تحریکِ انصاف کے رہنماؤں پر الزام عائد کیا کہ انھوں نے ملک دشمن قوتوں کو تقویت ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ان معاملات میں ملوث تمام افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی اور پاسپورٹ ضبط کرنے سمیت سخت اقدامات کیے جائیں گے۔
انھوں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے مزید کہا کہ حکومت نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظرثانی اپیل بھی دائر کرے گی۔
عطا تارڑ کا کہنا تھا پی ٹی آئی دور میں سابق ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے تحریک عدم اعتماد کو مسترد کر کے آئین کی خلاف ورزی کی تھی اور اب حکومت نے فیصلہ کیا ہے سابق صدر عارف علوی، بانی پی ٹی آئی عمران خان اور سابق ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کے خلاف آرٹیکل چھ کا کیس چلایا جائے۔ ان تیوں اشخاص کے خلاف وفاقی کابینہ سے منظوری کے بعد یہ ریفرنس سپریم کورٹ کو بھجوایا جائے گا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان سٹاک ایکسچینج میں موجودہ ہفتے کے پہلے کاروباری روز میں تیزی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا ہے اور انڈیکس میں اب تک 1200 پوائنٹس کا اضافہ ہو چکا ہے جس کے بعد سٹاک مارکیٹ کا انڈیکس پہلی بار 81000 پوائنٹس کی سطح عبور کر کے 81145 پوائنٹس تک پہنچ گیا۔
سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز مثبت انداز میں ہوا اور مارکیٹ میں خریداری کا رجحان ریکارڈ کیا گیا۔
سٹاک مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق اس وقت ملکی و غیر ملکی سرمایہ کی جانب سے زیادہ خریداری کا رجحان دیکھا گیا ہے۔
سٹاک مارکیٹ میں تیزی کی وجہ کیا ہے؟
پاکستان سٹاک ایکسچینج میں تیزی کی وجہ کے بارے میں تجزیہ کار یوسف سعید نے بتایا کہ آج تیزی کی وجہ پاکستان کا آئی ایم ایف کے ساتھ سٹاف لیول معاہدے کا ہونا ہے جس کے تحت پاکستان کو اگلے تین سالوں میں سات ارب ڈالر کا قرض ملنا ہے۔
انھوں نے کہا اس پیش رفت کے وجہ سے سٹاک ایکسچینج میں تیزی ہوئی کیونکہ سرمایہ کار اسے ملکی معیشت کے لیے بہتر سمجھتے ہیں جس کے بعد پاکستان کو بیرونی ادائیگیوں کے سلسلے میں مدد ملے گی۔
یوسف سعید نے بتایا اس کے ساتھ اس مہینے کے آخر میں سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے مانیٹری پالیسی میں شرح سود کی کمی کی بھی توقع ہے جس وجہ سے سرمایہ کار اسٹاک ایکسچینج میں زیادہ متحرک نظر آئے۔
انھوں نے کہا سٹیٹ بینک کی جانب سے ایک سے ڈیڑھ فیصد تک شرح سود میں کمی کا امکان ہے جس نے مارکیٹ میں مثبت رجحان کو فروغ دیا ہے۔

خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع بنوں میں علی االصبح چھاونی کے قریب کوہاٹی گیٹ کے سامنے دھماکے اور فائرنگ کی آوازیں سنی گئی ہیں۔
بنوں کے پولیس افسر ضیاء الدین نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ ایک گاڑی میں نصب آئی ڈی کی دھماکہ تھا جس کے بعد دو جانب سے فائرنگ ہوئی ہے۔ اس بارے میں مذید معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔
بنوں چھاونی سے ایک شخص نے بتایا کہ وہ فجر کی نماز ادا کر رہے تھے کہ اتنے میں زور دار دھماکہ ہوا اور اس کے بعد فائرنگ شروع ہو گئی تھی۔ اس واقعے کے بعد چھاونی کے تمام راستے بند کر دیے گئے ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ علاقے میں خوف ہے۔ اس کے علاوہ فضا میں ہیلی کاپٹر بھی پرواز کر رہے ہیں۔
بنوں کے پولیس افسر ضیاء الدین کے مطابق سیکورٹی فورسز نے کلیئرنس آپریشن شروع کر دیا ہے۔ پولیس اور دیگر سکیورٹی اہلکاروں نے جائے وقوعہ اور چھاونی کی جانب جانے والے راستے بند کر دیے ہیں۔


،تصویر کا ذریعہGetty Images
تحریکِ لبیک پاکستان کا اسلام آباد اور راولپنڈی کے سنگم فیض آباد پر فلسطین کے حق میں دھرنا تیسرے روز بھی جاری ہے۔
یاد رہے تحریکِ لبیک پاکستان نے اقصیٰ مارچ نکالتے ہوئے فیض آباد پہنچ کر اپنے تین مطالبات تسلیم ہونے تک فیض آباد فلائی اوور پر دھرنا دیا ہوا ہے جس کے باعث فیض آباد سے ٹریفک کے تمام راستے بند کردیے گئےہیں۔
سربراہ تحریک لبیک سعد رضوی نے مطالبات تسلیم ہونے تک فیض آباد میں رہنے کا اعلان کیا ہے۔
لیاقت باغ راولپنڈی سے شروع ہونے والا اقصی مارچ فیض آباد پہنچا تو اس موقع پر سعد رضوی کا خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ جب تک ہمارے مطالبات پورے نہیں ہوتے ہم ادھر ہی بیٹھے ہیں۔