امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قطر میں العدید فضائی اڈے پر ایرانی میزائل حملے کے بعد اپنے پہلے بیان میں کہا ہے کہ ایران نے 14 میزائل فائر کیے تھے جن میں سے 13 کو مار گرایا گیا۔
ٹرتھ سوشل پر اپنی ایک پوسٹ میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایک ایرانی میزائل کو ’آزاد‘ چھوڑ دیا گیا تھا کیونکہ اس سے کوئی خطرہ نہیں تھا۔
انھوں نے لکھا ’ایران نے اپنے جوہری مراکز پر حملوں کا انتہائی کمزور ردِ عمل دیا ہے جس کی ہمیں توقع بھی تھی اور ہم نے اسے روک لیا۔‘
امریکی صدر کے مطابق ایرانی حملے میں کسی امریکی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ’میں (حملے کی) پیشگی اطلاع دینے پر ایران کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جس کے سبب نہ ہی کسی جان کا ضیاع ہوا اور نہ کوئی زخمی ہوا۔‘
انھوں نے کہگ ’شاید اب ایران خطے میں امن اور ہم آہنگی کی طرف بڑھ سکتا ہے اور میں ایسا کرنے کے لیے اسرائیل کی بھی حوصلہ افزائی کروں گا۔‘
اپنی ایک اور پوسٹ میں امریکی صدر نے قطر کے امیر کا بھی ’خطے میں امن کے حصول‘ میں کردار ادا کرنے پر شکریہ ادا کیا ہے۔
انھوں نے لکھا کہ العدید بیس پر حملے میں نہ کوئی امریکی ہلاک ہوا اور نہ ہی کوئی قطری شہری زخمی یا ہلاک ہوا۔
ٹرتھ سوشل پر اپنے تیسرے پیغام میں امریکی صدر نے لکھا کہ ’اب یہ امن کا وقت ہے۔‘