آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

ایران اور اسرائیل کے بیچ مزید لڑائی کا امکان نہیں، اگلے ہفتے امریکہ ایران سے بات چیت کرے گا: ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ہم اگلے ہفتے ایران سے بات کریں گے اور شاید کوئی معاہدہ بھی ہو جائے۔ لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ’میرے لیے معاہدہ ضروری نہیں اور مجھے فرق نہیں پڑتا کہ معاہدہ ہو یا نہ ہو۔‘

خلاصہ

  • اقوام متحدہ کے جوہری توانائی کے بین الاقوامی ادارے کے سربراہ رافیل گروسی کا کہنا ہے کہ ان کے معائنہ کاروں کو ایران واپس آنے اور دوبارہ بات چیت کرنے کی ضرورت ہے۔
  • صدر ٹرمپ نے ایران پر امریکی حملے سے متعلق خفیہ انٹیلیجنس رپورٹ کے لیک ہونے پر سی این این اور نیویارک ٹائمز کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ابتدائی خفیہ انٹیلیجنس رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ امریکی حملوں سے ایران کی جوہری تنصیبات تباہ نہیں ہوئیں بلکہ صرف چند ماہ پیچھے چلی گئی ہیں۔
  • اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نتن یاہو نے ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کو ’تاریخی فتح‘ قرار دیا ہے۔
  • ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ان کا ملک امریکی صدر کی جانب سے اعلان کردہ جنگ بندی کا احترام کرے گا بشرط یہ کہ اسرائیل بھی اپنی شرائط پر قائم رہے۔

لائیو کوریج

پیشکش: منزہ انوار

  1. اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے کے سربراہ کا کہنا ہے کہ معائنہ کاروں کو ایران واپس جانا ہوگا

    اقوام متحدہ کے جوہری توانائی کے بین الاقوامی ادارے کے سربراہ رافیل گروسی کا کہنا ہے کہ ان کے معائنہ کاروں کو ایران واپس آنے اور دوبارہ بات چیت کرنے کی ضرورت ہے۔

    گروسی کا کہنا ہے کہ ان کی اولین ترجیح ایران واپسی ہے، لیکن ان کا مزید کہنا ہے کہ یہ کوئی آسان کام نہیں ہوگا۔

    جب ان اطلاعات کے بارے میں پوچھا گیا کہ ایران کا جوہری پروگرام اس کی جوہری تنصیبات پر حملوں کی وجہ سے صرف چند ماہ پیچھے رہ گیا ہے، تو گروسی نے کہا کہ ’مجھے اس طرح کی سوچ پسند نہیں ہے کہ جوہری پروگرام کتنا پیچھے چلا گیا ہے معاملہ یہ ہے کہ تکنیکی اور صنعتی صلاحیت دونوں ہی موجود ہیں اور اس بات سے کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا۔‘

    گروسی کا مزید کہنا تھا کہ ’سفارتی حل کا موقع موجود ہے۔ ہمیں یہ موقع ضائع نہیں کرنا چاہیے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ اہم نہیں ہے کہ یہ دو مہینے ہیں یا تین مہینے، ہمیں ایک ایسے حل کی ضرورت ہے جو وقت کی آزمائش پر پورا اترے۔‘

  2. ایرانی جوہری پروگرام کئی دہائیوں پیچھے دھکیل دیا، امریکی حملے نے جنگ روکی: ٹرمپ

    نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان نیدرلینڈز میں نیٹو سربراہ اجلاس کے دوسرے روز پریس کانفرنس اب اختتام پذیر ہو چُکی ہے۔

    اس پریس کانفرنس میں دونوں رہنماؤں کی جانب سے کیا کہا گیا آئیے اس پر ایک نظر ڈالتے ہیں:

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام امریکی فوج حملوں کی وجہ سے کئی دہائیوں پیچھے چلا گیا ہے، حالانکہ ایک انٹیلی جنس رپورٹ میں ان کی کامیابی پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ امریکی نشریاتی ادارے سی این این اور نیویارک ٹائمز کے مطابق ابتدائی انٹیلیجنس رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ امریکی حملوں سے ایران کی جوہری تنصیبات مکمل طورپر تباہ نہیں ہوئیں بلکہ صرف چند ماہ پیچھے چلی گئی ہیں۔

    دوسری جانب وائٹ ہاؤس پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے اس رپورٹ کو ’مکمل طور پر غلط‘ قرار دیا ہے۔

    تاہم لیک ہونے والی انٹیلی جنس رپورٹ کے بارے میں پوچھے جانے پر امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ ’واقعی نہیں جانتے‘ اور اس بات کا اعادہ کرتے ہیں کہ ان حملوں کی وجہ سے ایران کے جوہری تنصیبات کو ’مکمل طور پر تباہ‘ کر دیا گیا۔

    امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگ سیٹھ نے اسے ایک ’بے عیب‘ مشن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انٹیلی جنس رپورٹ کا مقصد بس ’سیاسی‘ ہے۔

    اسی طرح وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ لیک ہونے والی رپورٹ اس کھیل کا حصہ ہے جو یہ لوگ کھیلتے ہیں۔

    نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے نے امریکی حملوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان حملوں سے ’ایران کی جوہری صلاحیت ختم ہو گئی‘ اور یہ ’متاثر کن انداز‘ میں کیے گئے۔

    روٹے کا کہنا ہے کہ اس سے باقی دنیا کو جو اشارہ ملتا ہے وہ ’طاقت‘ کا ہے۔

    اس پریس کانفرنس میں امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ساتھ غزہ میں جاری جنگ کا بھی ذکر کیا اُن کا کہنا تھا کہ اس مسئلے کے حل کا جانب بھی بڑھ رہے ہیں اور جلد ایک ’بڑی پیش رفت‘ متوقع ہے۔

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’اس سے پہلے بھی مجھے لگتا ہے کہ ہم غزہ کے بارے میں معاہدہ کرنے کے بہت قریب تھے۔ مجھے لگتا ہے کہ ہماری اُس کوشش سے بھی اب ہمیں مزید آگے بڑھنے میں مدد ملے گی۔‘

  3. بریکنگ, ایرانی پارلیمنٹ کی اقوام متحدہ کے جوہری نگرانی کے عالمی ادارے کے ساتھ تعاون معطل کرنے کی منظوری

    ایرانی پارلیمنٹ نے اقوامِ متحدہ کے جوہری نگران ادارے کے ساتھ تعاون معطل کرنے کی منطوری دے دی ہے۔

    ایرانی سرکاری میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ نے اقوامِ متحدہ کے جوہری نگران ادارے (IAEA) کے ساتھ تعاون معطل کرنے کے حق میں ووٹ دے دیا ہے اور اس کی مخالفت میں کوئی ووٹ نہیں آیا۔

    یاد رہے کہ پارلیمنٹ کی یہ ووٹنگ علامتی حیثیت رکھتی ہے۔ اس وقت یہ سرکاری پالیسی نہیں ہے اور اس اقدام کو ایرانی حکومت کی اعلیٰ قیادت کی منظوری درکار ہوگی۔

    ایران کی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ آئی اے ای اے نے ایران کی جوہری تنصیبات پر اسرائیل اور امریکہ کے حملوں کی مذمت سے انکار کر دیا ہے اور اس نے اپنی بین الاقوامی ساکھ نیلامی پر لگا دی ہے۔

    ایرانی سپیکر کے مطابق ایران کے جوہری حکام آئی اے ای اے کے ساتھ تعاون اس وقت تک معطل رکھیں گے جب تک کہ جوہری تنصیبات کی سکیورٹی کی ضمانت نہ دی جائے۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کا پُرامن جوہری پروگرام اب تیزی سے آگے بڑھے گا۔ ایران جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش نہیں کررہا ہے۔

    انھوں نے الزام عائد کیا کہ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی نے اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں اور وہ ایک سیاسی آلہ کار بن گیا ہے۔

    بی بی سی فارسی نے اس منصوبے کی تفصیلات کے حوالے سے بتایا ہے کہ منصوبے کے مطابق نگرانی کے کیمروں کی تنصیب، معائنہ اور ایجنسی کو رپورٹ کرنے جیسی سرگرمیاں اس وقت تک معطل رہیں گی جب تک کہ ایران کی جوہری تنصیبات کی حفاظت کی ضمانت نہ دی جائے گی۔

    دوسری جانب آئی اے ای اے نے اپنی آخری رپورٹ میں ایران کو تنظیم کے ساتھ تعاون نہ کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

    آئی اے ای اے نے ایران سے غیر اعلانیہ جوہری تنصیبات کے بارے میں سوالات کے جواب دینے کو کہا تھا اور ایران کی جانب سے افزودہ یورینیم کے ذخیرے پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔

    بی بی بی سی فارسی کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ کے اس اقدام سے بین الاقوامی جوہری اداروں کے ساتھ تناؤ بڑھ سکتا ہے اور ایران کے جوہری پروگرام کی شفافیت اور علاقائی اور عالمی سلامتی پر اس کے اثرات کے بارے میں خدشات بڑھ سکتے ہیں۔

  4. علی امین گنڈاپور نے عمران خان سے ملاقات پر پابندی کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا

    وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے سابق وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات پر پابندی کے خلاف سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر کر دی ہے۔

    درخواست میں علی امین گنڈاپور نے موقف اختیارکیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ دینا آرٹیکل 9، 10A اور 19 کی خلاف ورزی ہے۔

    درخواست گزار کی جانب سے کہا گیا کہ بجٹ مشاورت کے لیے سابق وزیر اعظم سے ملاقات ضروری ہے۔ سپریم کورٹ سے موجودہ عدالتی احکامات پر عملدرآمد کروایا جائے۔

    درخواست میں یہ بھی استدعا کی گئی ہے کہ سپریم کورٹ سے ملاقات کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کی جائیں اور عمران خان سے ہفتہ وار ملاقات کروانے پر عمل درآمد کروایا جائے۔

    درخواست دائر کرنے کے بعد کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علی امین گنڈا پور نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے لیے پچھلے کئی دنوں سے کوشش کررہے تھے۔

    ان کے مطابق ’عمران خان کی ہدایت پر آج سپریم کورٹ آیا ہوں۔عمران خان نے سپریم کورٹ کو خط بھی لکھا تھا، خط کے ساتھ بانی پی ٹی آئی نے ثبوت بھی لگائے تھے، خط پر چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے بڑے اچھے ریمارکس دیے تھے مگر خط پر کوئی عمل نہیں ہوا۔

    علی امین کا کہنا تھا کہ ہماری باربار کی درخواست کے باوجود بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہیں کرائی گئی، ہمارے خلاف یہ ایک سازش ہو رہی ہے۔

  5. غزہ میں حماس کے ایک حملے میں اسرائیلی فوج کے افسر سمیت سات اہلکار ہلاک

    غزہ میں حماس کی جانب جانب سے کیے گئے ایک حملے میں اسرائیلی فوج کے ایک افسر سمیت سات فوجی اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ ایک علیحدہ حملے میں ایک اسرائیلی فوجی شدید زخمی بھی ہوا ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز نے اسرائیلی فوج کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ یہ ساتوں فوجی خان یونس شہر میں اس وقت مارے گئے جب ان کی گاڑی کے نیچے نصب ایک دھماکہ خیز مواد پھٹا اور گاڑی میں آگ لگ گئی۔

    اسرائیلی فوج کے اعداد و شمار کے مطابق جون کے آغاز سے اب تک غزہ میں لڑائی کے دوران کم از کم 19 اسرائیلی فوجی مارے جا چکے ہیں۔

    یاد رہے کہ اسرائیل نے اکتوبر 2023 میں حماس کے حملے کے جواب میں غزہ پر شدید فضائی اور زمینی کارروائیوں کا آغاز کیا تھا۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق حماس کے زیر انتظام وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملوں میں اب تک 56 ہزار سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ 20 لاکھ سے زائد کی آبادی میں سے بیشتر بے گھر ہو چکی ہے اور ان کو شدید غذائی بحران کا سامنا ہے۔

  6. ایران نے اسرائیل کے لیے جاسوسی کے الزام میں تین افراد کو پھانسی کی سزا دے دی

    ایران نے اسرائیل کے لیے جاسوسی کے الزام میں تین افراد کو پھانسی دے دی ہے۔

    ایرانی عدلیہ کی خبر رساں ایجنسی میزان کا کہنا ہے کہ ادریس عالی، آزاد شجاعی اور رسول احمد نے ملک میں اہم شخصیات کو قتل کرنے کے لیے آلات درآمد کرنے کی کوشش کی تھی اور مقدمے کے بعد انھیں مجرم قرار دیا گیا تھا۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق میزان نیوز ایجنسی نے ان تینوں افراد کی گرفتاری، مقدمے میں الزامات، یا مقدمے اور کارروائی کے بارے میں تفصیلات شائع نہیں کیں لیکن دعویٰ کیا ہے کہ تینوں افراد نے الکوحل مشروبات کی کھیپ کی آڑ میں ایران میں دہشت گردی کا سامان درآمد کیا اور اسے ایک اہم شخصیت کے قتل کے لیے استعمال کیا۔

    میزان نیوز ایجنسی نے مقتول شخصیت کے بارے میں کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی ہیں۔

    یاد رہے کہ حالیہ دنوں میں انسانی حقوق کے کارکنوں نے اسرائیل کے ساتھ ملک کی 12 روزہ جنگ کے بہانے ایران کے اندر پھانسیوں اور خونی جبر کے آغاز سے خبردار کیا ہے۔

    فارس نیوز ایجنسی پاسداران انقلاب کے ایک قریبی ذریعے نے بدھ کی صبح بھی اعلان کیا کہ گزشتہ 12 دنوں میں 700 کے قریب افراد کو اسرائیل کے ساتھ جاسوسی اور تعاون کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔

  7. برطانیہ کا جوہری ہتھیار لے جانے والے لڑاکا طیارے خریدنے کا فیصلہ, جوناتھن بیل اور اموجین جیمز، بی بی سی نیوز

    برطانیہ کی حکومت نے 12 نئے ایسے لڑاکا طیارے خریدنے کا فیصلہ کیا ہے جو جوہری بموں سے لیس کیے جانے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ یہ طیارے نیٹو کے فضائی جوہری مشن میں شامل ہوں گے۔

    ڈاؤننگ سٹریٹ کے بیان کے مطابق یہ اقدام برطانیہ کی کئی دہائیوں سے موجود جوہری پوزیشن کو مزید مصبوط کرنے کا باعث ہو گا۔

    یاد رہے کہ نئے F-35 A جیٹ طیارے یوں تو روایتی ہتھیار لے جانے کی صلاحیت سے مالامال ہیں تاہم ان طیاروں کی خاصیت یہ بھی ہے کہ ان میں امریکی ساختہ جوہری بم لیس کیے جانے کا آپشن بھی موجود ہے۔

    اس فیصلے کا اعلان وزیر اعظم رواں ہفتے نیدرلینڈ میں ہونے والے نیٹو سربراہی اجلاس میں کریں گے۔

    نیٹو کے فضائی جوہری مشن میں اتحادی ممالک کے طیاروں کو امریکی بی سکس ون بموں سے لیس کرنا بھی شامل ہےجسے یورپ میں ذخیرہ کیا گیا ہے۔

    امریکہ، جرمنی اور اٹلی سمیت سات دیگر ممالک پہلے ہی دوہری صلاحیت والے جنگی طیارے استعمال کر رہے ہیں۔

    ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کے لیے نیٹو کے ایٹمی منصوبہ بندی گروپ کے ساتھ ساتھ امریکی صدر اور برطانوی وزیرِ اعظم کی منظوری درکار ہوگی۔

    وزیرِ اعظم سر کیئر سٹارمر نے کہا کہ ’ایک ایسے دور میں جب امن کے حوالے سے حالات غیر یقینی کی انتہا کو پہنچ چکے ہیں اسی لیے ہم قومی سلامتی میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔‘

    نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے نے اس اعلان کو ’نیٹو کے لیے ایک اور مضبوط برطانوی تعاون‘ قرار دیا۔

    F-35A طیارے خریدنے کا فیصلہ رائل ایئر فورس کے لیے ایک کامیابی تصور کیا جائے گا جو طویل عرصے سے ایسے جنگی طیاروں کے لیے کوشش کر رہی تھی جو طویل فاصلے تک جا سکیں اور زیادہ اقسام کے بم اور میزائل لے جا سکیں۔

    جبکہ رائل ایئر فورس اور رائل نیوی کے فضائی ونگ کے پاس اس وقت موجود ایف تھرٹی فائیو بی کی نہ صرف رینج کم ہے بلکہ F-35A کے مقابلے میں یہ کم ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

    دفاعی تھنک ٹینک آر یو ایس آئی کے جسٹن برونک کے مطابق جنگ کی صورت میں ان بموں کے اجرا اور استعمال کا کنٹرول بدستور امریکہ کے پاس ہوگا جو برطانیہ کے لیے باعثِ تشویش ہو سکتا ہے۔

    کیئرسٹارمر نے یہ عندیہ دیا ہے کہ وہ 2035 تک برطانیہ کے جی ڈی پی کا پانچ فیصد قومی سلامتی پر خرچ کرنے کے نیٹو کے نئے ہدف کو پورا کریں گے۔

    نیٹو سربراہی اجلاس میں 32 رکن ممالک اس ہدف پر متفق ہونے کی توقع رکھتے ہیں، جس کے مطابق 3.5 فیصد بنیادی دفاع پر جبکہ باقی دفاع سے متعلق شعبوں پر خرچ کیا جائے گا۔

  8. بلوچستان اسمبلی کے ممبر مولانا ہدایت الرحمان کے بیٹے کراچی سے لاپتہ

    جماعت اسلامی بلوچستان کے امیر اور گوادر سے رکن بلوچستان اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان کے بیٹے پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی سے مبینہ طور پر لاپتہ ہوگئے ہیں۔

    وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ان کے بیٹے کی بازیابی کے لیے حکومت سندھ سے رابطہ کیا ہے۔

    مولانا ہدایت الرحمان نے فون پر بتایا کہ عمر کے لحاظ سے تیسرے نمبر پر ان کے کمسن بیٹے عبدا لباسط کراچی میں سعود آباد کے علاقے میں ایک مدرسے میں زیر تعلیم تھے۔

    انھوں نے بتایا کہ ان کا بیٹا عصر کے وقت مدرسے نکلا تھا جس کے بعد سے وہ لاپتہ ہے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے مولانا ہدایت الرحمان کے بیٹے کی گمشدگی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    ایک سرکاری اعلامیہ کے مطابق وزیر اعلیٰ نے مولانا ہدایت الرحمان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور واقعے کی تفصیلات معلوم کیں۔

    اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے مولانا ہدایت الرحمان کو یقین دلایا کہ حکومت بلوچستان اس افسوسناک واقعے پر مکمل تعاون فراہم کرے گی اور تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں گے تاکہ جلد از جلد ان کے بیٹے کی بازیابی ممکن بنائی جا سکے۔

    اعلامیہ کے مطابق وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اس سلسلے میں وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے بھی رابطہ کیا اور مولانا ہدایت الرحمان کے بیٹے کی گمشدگی کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی۔

    دونوں وزرائے اعلیٰ کےدرمیان معاملے کی نزاکت اور فوری کارروائی کے پہلو پر تبادلہ خیال ہوا۔

    اعلامیہ میں کہا گیا کہ وزیر اعلیٰ سندھ نے کہاکہ کراچی پولیس اور متعلقہ اداروں کو فوری طور پر کارروائی کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے اور واقعے کی ہر پہلو سے چھان بین کی جا رہی ہے۔

    وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ حکومت بلوچستان اس معاملے پر سندھ حکومت سے مسلسل رابطے میں ہے اور متاثرہ خاندان کے ساتھ ہر قدم پر کھڑی ہے۔

  9. سی این این اور نیویارک ٹائمز تاریخ کےایک کامیاب فوجی حملے کو بدنام کر رہے ہیں: صدر ٹرمپ

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر امریکی حملے سے متعلق خفیہ انٹیلیجنس رپورٹ کے لیک ہونے پرسی این این اور نیویارک ٹائمز کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی جوہری تنصیبات مکمل طور پر تباہ کر دی گئی ہیں۔

    صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’جعلی خبریں دینے والا سی این این، ناکام نیویارک ٹائمز کے ساتھ مل کر تاریخ کے سب سے کامیاب فوجی حملے میں سے ایک کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

    صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’ایران کی جوہری تنصیبات مکمل طور پر تباہ کر دی گئی ہیں۔ عوام نیویارک ٹائمز اور سی این این دونوں پر عوام شدید تنقید کر رہے ہیں۔‘

    یاد رہے کہ امریکی نشریاتی ادارے سی این این اور نیویارک ٹائمز کے مطابق ابتدائی انٹیلیجنس رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ امریکی حملوں سے ایران کی جوہری تنصیبات مکمل طورپر تباہ نہیں ہوئیں بلکہ صرف چند ماہ پیچھے چلی گئی ہیں۔

    دوسری جانب وائٹ ہاؤس پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے اس رپورٹ کو ’مکمل طور پر غلط‘ قرار دیا ہے۔

    دوسری جانب صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایک 60 سیکنڈ کی ویڈیو بھی شیئر کی ہے جس میں B-2 بمبار طیاروں کو فضا میں بم گراتے ہوئے دکھایا گیا ہے جبکہ پسِ منظر میں ایک میوزک ٹریک چل رہا ہے جس میں بار بار ایران پر بمباری کے الفاظ دہرائے جا رہے ہیں۔

    یہ ویڈیو ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیل اور ایران کے درمیان ایک نازک اور ابتدائی جنگ بندی معاہدہ طے پایا ہے اور اس طرح کے بیانات سے اس معاہدے پر اثر انداز ہونے کا خدشہ ہے اور اس سے کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

    یاد رہے کہ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیداروں کے دعوے میں کئی مرتبہ ان جوہری تنصیبات کی ’مکمل تباہی‘ کی بات کی گئی تھی۔

    پیر کی صبح ٹرمپ کی جانب سے اپنے سوشل میڈیا نیٹورک ٹروتھ سوشل پر جاری ایک پیغام میں ایک بار پھر دعویٰ کیا گیا کہ امریکہ نے تمام ایرانی جوہری تنصیبات پر حملہ کر کے انھیں بھاری نقصان پہنچایا ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ اس کو بیان کرنے کے لیے ’درست اصطلاح مکمل تباہی ہے۔‘

  10. رات بھر کی خبروں کا خلاصہ!

    رات بھر ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کی خلاف ورزی کا کوئی واقعہ سامنے نہیں آیا ہے اور دونوں ممالک کے شہریوں کی دو ہفتوں میں پہلی مرتبہ رات گئے آنکھ دھماکوں اور سائرنز سے نہیں کھلی ہو گی۔

    گذشتہ رات کی خبروں کا خلاصہ:

    • امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ابتدائی انٹیلیجنس رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ امریکی حملوں سے ایران کی جوہری تنصیبات مکمل طور پر تباہ نہیں ہوئیں بلکہ صرف چند ماہ پیچھے چلی گئی ہیں۔
    • وائٹ ہاؤس پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے اس رپورٹ کو ’مکمل طور پر غلط‘ قرار دیا ہے۔
    • پینٹاگون نے بھی اس بارے میں تردید جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی جوہری صلاحیت مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے۔
    • ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی جاری ہے اور دونوں ممالک نے اس کا اعتراف کیا ہے۔
    • اسرائیلی اور ایرانی حکومتوں نے اسے اپنی فتح قرار دیا ہے۔
    • ٹرمپ اس وقت نیدرلینڈز میں ہیں جہاں وہ نیٹو سمٹ میں شرکت کر رہے ہیں۔
  11. ایرانی جوہری تنصیبات پر امریکی حملے میں ہونے والے نقصان سے متعلق انٹیلیجنس رپورٹ ’مکمل طور پر غلط ہے‘: وائٹ ہاؤس

    وائٹ ہاؤس پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے ایرانی جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں کے نتیجے میں ہونے والے نقصان سے متعلق مبینہ ابتدائی انٹیلیجنس رپورٹ کے حوالے سے کہا ہے کہ ’یہ مبینہ تجزیہ مکمل طور پر غلط ہے اور یہ (دستاویز) ’ٹاپ سیکرٹ‘ تھا لیکن اسے سی این این کو انٹیلیجنس کمیونٹی میں ایک نامعلوم، نچلے درجے کے شخص کی جانب سے لیک کیا گیا ہے۔‘

    انھوں نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ’مبینہ تجزیے کی یہ لیک صدر ٹرمپ کو رسوا کرنے کرنے اور لڑاکا طیاروں کے پائلٹس سے کریڈٹ چھیننے کی کوشش ہے جنھوں نے یہ مشن سرانجام دیا اور ایران کے جوہری پروگرام کا خاتمہ کیا۔

    ’سب جانتے ہیں کہ جب آپ 14 تیس ہزار پاؤنڈ وزنی بم درست نشانہ پر گراتے ہیں تو کیا ہوتا ہے: مکمل تباہی۔‘

    بی بی سی کے امریکہ میں پارٹنر ادارے سی بی ایس نیوز کے مطابق اس تجزیے کے بارے میں معلومات رکھنے والے ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ ایک ابتدائی جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ حملے کےباعث ایران کا جوہری پروگرام کئی ماہ پیچھے ضرور آ گیا ہے لیکن تنصیبات مکمل طور پر تباہ نہیں ہوئیں۔

    ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ ’تجزیے سے معلوم ہوتا ہے کہ فردو تنصیب پر حملوں کے باعث اس کے داخلی راستوں پر تباہی ہوئی ہے لیکن اس افزودگی کا ڈھانچہ جو زیرِ زمین مزید گہرائی میں موجود ہے اب بھی کافی حد تک سلامت ہے۔‘

    ذرائع کے مطابق اس قسم کے ابتدائی تجزیے عموماً بعد میں بھی صحیح ثابت ہوتے ہیں۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل پینٹاگون کی جانب سے اس حوالے سے تردید جاری کی گئی تھی۔

  12. امریکی میڈیا میں ایرانی جوہری تنصیبات کی ’مکمل تباہی‘ کے حوالے سے شکوک، پینٹاگون کی تردید, سائے پگلیوچی، بی بی سی نیوز

    امریکی میڈیا میں ایسی رپورٹس سامنے آئی ہیں کہ ایرانی جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں کے باعث ملک کے جوہری پروگرام کے اہم ترین حصے تباہ نہیں ہوئے اور ممکنہ طور پر اس حملے کے باعث ایران کا جوہری پروگرام چند ماہ پیچھے چلا گیا ہے۔

    سی این این اور نیویارک ٹائمز نے امریکہ کی ڈیفنس انٹیلیجنس ایجنسی کے ابتدائی جائزے کا حوالہ دیا ہے، جو بعد میں تبدیل بھی ہو سکتا ہے۔ بی بی سی ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا۔

    تاہم پینٹاگون نے بی بی سی کو وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ کا بیان بی بی سی کو بھیجا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ ’جو کچھ ہم نے اور میں نے دیکھا ہے اگر اس کا جائزہ لیا جائے تو ہماری بمباری نے ایران کی جوہری ہتھیار بنانے کے صلاحیت کو تباہ کر دیا ہے۔

    ’ہمارے بڑے بم تمام اہداف پر درست مقام پر گرائے گئے اور انھوں نے اپنا کام کیا۔ اس بمباری کا نتیجہ ایران میں اس پہاڑی کے نیچے موجود ملبے کی صورت میں پڑا ہے، اس لیے جو بھی یہ کہہ رہا ہے کہ یہ بم تباہ کن نہیں تھے وہ صدر اور اس کامیاب مشن کی اہمیت کو کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔‘

  13. اسرائیل اور ایران کی جانب سے ڈرونز مار گرانے کا دعویٰ

    اسرائیلی ڈیفنس فورسز اور ایرانی سرکاری میڈیا کا دعویٰ ہے کہ ان کی جانب سے اب سے کچھ دیر قبل ڈرونز مار گرائے گئے ہیں۔

    ایران کی نیم سرکاری نیوز ایجنسی آئی ایس این اے نے گیلان صوبے کے گورنر کے حوالے سے بتایا ہے کہ خطے کے فضائی دفاعی نظام نے ان ڈرونز کو اب سے کچھ دیر قبل مار گرایا۔

    دوسری جانب سے اسرائیلی ڈیفنس فورسز کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی سرزمین کی جانب بڑھنے والے دو ڈرونز ’جن کے بارے میں قوی امکان ہے کہ یہ ایران سے ہیں‘ کو تباہ کر دیا گیا ہے۔

    ان کی جانب سے مزید کہا گیا ہے کہ اسرائیلی ایئرفورس نے انھیں مار گرایا اور یہ اسرائیلی سرزمین سے باہر کیا گیا۔

  14. اسرائیلی وزیرِ اعظم نے ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کو ’تاریخی فتح‘ قرار دے دیا

    اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نتن یاہو نے ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کو ’تاریخی فتح‘ قرار دیا ہے۔

    قوم سے خطاب میں انھوں نے کہا ہے کہ ’یہ فتح کئی نسلوں تک یاد رکھی جائے گی۔ ہم نے اپنی بقا کو درپیش دو فوری خطرات کا خاتمہ کیا، ایک جوہری خطرہ اور دوسرا بیلسٹک میزائلوں کا خطرہ۔ اگر ہم نے کارروائی نہ کی ہوتی تو ہمیں اپنی تباہی کا خطرہ درپیش ہوتا۔‘

    نتن یاہو کا کہنا ہے کہ آئی ڈی ایف نے ’ایران کی سینیئر کمانڈ کو ختم کر دیا‘ جن میں تین چیفس آف سٹاف، جوہری سائنسدان اور اعلیٰ عہدیدار شامل تھے۔

    وزیرِ اعظم کے مطابق اسرائیلی حملے کے دوران اصفہان، نطنز اور اراک میں موجود جوہری تنصیبات کو تباہ کیا گیا۔

    انھوں نے اپنی تقریر میں صدر ٹرمپ کی اس مہم میں شمولیت کا اعتراف بھی کیا اور کہا کہ ’ہمار دوست صدر ٹرمپ ہمارے ساتھ اس طرح کھڑے جیسے آج سے پہلے کوئی نہیں ہوا، ان کے احکامات پر امریکی فوج نے فردو میں موجود زیرِ زمین یورینیم افزودگی کی تنصیب کو نشانہ بنایا۔‘

  15. صدر ڈونلڈ ٹرمپ نیٹو سمٹ میں شرکت کے لیے ایمسٹرڈیم پہنچ گئے

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ نیٹو سمٹ میں شرکت کے لیے ایمسٹرڈیم پہنچ گئے ہیں جہاں وہ اس سکیورٹی اتحاد کے 32 رہنماؤں کے ساتھ ایک اعشائیے میں شرکت کریں گے جو نیدرلینڈز کے بادشاہ کی جانب سے منعقد کروایا گیا تھا۔

    ایئر فورس ون پر ٹرمپ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اسرائیل کی ایران پر مزید حملے نہ کرنے پر تعریف کی ہے۔

    انھوں نے صحافیوں کو یہ بھی بتایا کہ ان کی یوکرینی صدر ولادیمیر زینلینسکی سے سمٹ کے سائڈلائنز پر ملاقات متوقع ہے۔

  16. ٹرمپ کے اظہار برہمی کے بعد ایران اور اسرائیل کے بیچ جنگ بندی بحال، عالمی رہنماؤں کا خیر مقدم

    ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے بعد دُنیا کے مختلف مُمالک اور عالمی رہنماؤں کی جانب سے اس پر ردِ عمل دیتے ہوئے اس کا خیر مقدم کیا گیا ہے۔

    برطانوی وزیر اعظم سر کیئر سٹامر نے کہا ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی ’برقرار رہنی چاہئے۔‘

    انھوں نے کہا کہ یہ مشرق وسطیٰ میں یہ امر انتہائی ضروری ہے کے استحکام کو یقینی بنایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے اور اب انھیں مذاکرات کی میز پر واپس آنا چاہیے اور دیرپا تصفیے کے لیے کام کرنا چاہیے۔‘

    دوسری جانب اقوام متحدہ کے جوہری توانائی کے بین الاقوامی ادارے (آئی اے ای اے) کے سربراہ رافیل گروسی نے کہا ہے کہ وہ ایران کی صورتحال کے بارے میں آج کے اعلانات کا خیر مقدم کرتے ہیں۔

    رافیل گروسی کا کہنا ہے کہ ’آئی اے ای اے کے ساتھ تعاون کی بحالی ایران کی جوہری سرگرمیوں سے متعلق تنازع کو حتمی طور پر حل کرنے کے لئے ایک کامیاب سفارتی معاہدے کی کلید ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ انھوں نے ایرانی وزیر خارجہ کو ایک ساتھ مل کر کام کرنے کی اہمیت پر زور دینے اور جلد ملاقات کی تجویز دینے کے لئے لکھا ہے۔

    ترجمان پاکستانی دفتر خارجہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ پاکستان ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کا خیر مقدم کرتا ہے۔

    بیان میں ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ فریقین سے جنگ بندی کو برقرار رکھنے کا مطالبہ کرتے ہیں، خطے میں سفارت کاری کو بحال کرنے کی کوششوں کا بھی خیرمقدم کرتے ہیں۔

    انڈیا کی وزارتِ خارجہ کی ویب سائٹ پر جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہم ایران اور اسرائیل کے درمیان تنازع سے متعلق راتوں رات ہونے والی پیش رفت پر نظر رکھے ہوئے ہیں، جس میں ایران کی جوہری تنصیبات کے خلاف امریکی کارروائی اور قطر میں امریکی فوجی اڈوں کے خلاف ایرانی جوابی کارروائی شامل ہیں۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’اگرچہ ہمیں مجموعی اور پائیدار علاقائی سلامتی اور استحکام کے امکانات پر گہری تشویش ہے، ہم ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کی اطلاعات اور اس کے نفاذ میں امریکہ اور قطر کے کردار کا خیر مقدم کرتے ہیں۔‘

  17. ایران اور اسرائیل کے درمیان اس بظاہر نازک جنگ بندی کی تفصیلات کے بارے کوئی وضاحت موجود نہیں, آئیون ویلز، بی بی سی نیوز یروشلم

    اس جنگ بندی کی شرائط ابھی تک واضح نہیں ہیں اور اس کی حیثیت سے معاملہ بظاہر نازک ہی نظر آرہا ہے مگر یہ تو ہے کہ جنگ بندی تو ہوئی۔

    جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس جنگ بندی کا اعلان کیا اور فریقوں نے اس پر اتفاق کیا تو اسرائیل نے ایران پر اس کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا اور کہا کہ اسرائیل کی طرف میزائل داغا گیا تاہم ایران نے اس کی تردید کی۔

    اسرائیل کے وزیر دفاع کی جانب سے کہا گیا کہ ان کا ملک ایران میں حکومت کے اہداف کو شدت سے نشانہ بنائے گا اور ایک بھرپور جواب دے گا۔ اس کے بعد ایرانی میڈیا کی جانب سے کہا گیا کہ اسرائیل نے جنگ بندی کے بعد اس کی سرزمین پر حملے کیے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان بیانات پر برہمی کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہا کہ وہ کسی بھی فریق سے خوش نہیں ہیں بلکہ خاص طور پر اسرائیل سے جس پر انھوں نے معاہدے کے بعد سخت اقدامات کا الزام لگایا۔

    بنیامن نیتن یاہو کے ساتھ فون پر بات چیت کے بعد ٹرمپ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ اب ایک معاہدہ طے پا گیا ہے۔

    کوئی نہیں جانتا کہ اس کی شرائط کیا ہیں، یا اب مزید مذاکرات کا کوئی منصوبہ ہے یا نہیں۔ دونوں اطراف کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ اگر دوسرا ایسا کرتا ہے تو وہ اب اس کا احترام کریں گے۔

  18. اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے کے سربراہ کا ایران سے ’تعاون‘ کرنے کا مطالبہ

    اقوام متحدہ کے جوہری توانائی کے بین الاقوامی ادارے (آئی اے ای اے) کے سربراہ نے کہا ہے کہ وہ ایران کی صورتحال کے بارے میں آج کے اعلانات کا خیر مقدم کرتے ہیں۔

    رافیل گروسی کا کہنا ہے کہ ’آئی اے ای اے کے ساتھ تعاون کی بحالی ایران کی جوہری سرگرمیوں سے متعلق تنازع کو حتمی طور پر حل کرنے کے لئے ایک کامیاب سفارتی معاہدے کی کلید ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ انھوں نے ایرانی وزیر خارجہ کو ایک ساتھ مل کر کام کرنے کی اہمیت پر زور دینے اور جلد ملاقات کی تجویز دینے کے لئے لکھا ہے۔

    آئی اے ای اے کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ آئی اے ای اے کے معائنہ کار پورے تنازعے کے دوران ایران میں موجود رہے ہیں اور وہ جلد از جلد کام شروع کرنے کے لیے تیار ہیں۔

    ان حملوں کے دوران ایران میں متعدد جوہری تنصیبات کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے، جس میں یورینیم کی منتقلی اور افزودگی کی تنصیبات بھی شامل ہیں۔

    گروسی کا کہنا ہے کہ ’ہمارا اندازہ یہ ہے کہ متاثرہ تنصیبات کے اندر کچھ مقامی سطح پر تابکار اور کیمیائی اخراج ہوا ہے جن میں جوہری مواد موجود تھا۔ بنیادی طور پر یورینیم مختلف درجے تک افزودہ تھا، لیکن سائٹ سے باہر تابکاری کی سطح میں اضافے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔‘

  19. اسرائیل اور ایران جنگ کو یکساں طور پر روکنا چاہتے تھے: امریکی صدر ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر پوسٹ کیا ہے۔

    انھوں نے اپنے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ ’اسرائیل اور ایران دونوں جنگ کو یکساں طور پر روکنا چاہتے تھے۔‘

    ’یہ میرے لیے بہت بڑا اعزاز تھا کہ میں نے تمام جوہری تنصیبات اور صلاحیتوں کو تباہ کر دیا اور پھر جنگ بند کر دی۔‘

    واضح رہے کہ اس سے قبل امریکی صدر ٹرمپ نے دونوں ممالک کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ انھوں نے ان کے اعلان کردہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے۔

  20. جنگ بندی ’برقرار رہنی چاہیے‘: برطانوی وزیرِ اعظم کیئر سٹامر

    برطانوی وزیر اعظم سر کیئر سٹامر نے کہا ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی ’برقرار رہنی چاہئے۔‘

    انھوں نے کہا کہ یہ مشرق وسطیٰ میں یہ امر انتہائی ضروری ہے کے استحکام کو یقینی بنایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے اور اب انھیں مذاکرات کی میز پر واپس آنا چاہیے اور دیرپا تصفیے کے لیے کام کرنا چاہیے۔‘

    نیدرلینڈز میں ہونے والے نیٹو سربراہ اجلاس کا حوالہ دیتے ہوئے سٹامر نے مزید کہا کہ ’یہ وہ پیغام ہے جس پر میں آج نیٹو میں دیگر رہنماؤں کے ساتھ تبادلہ خیال کر رہا ہوں۔‘

    اس سے قبل سر کیئر سٹامر نے کہا تھا کہ انھوں نے امیر قطر سے امریکی اڈے پر ایرانی حملے کے بارے میں بات کی ہے۔