برطانیہ کی حکومت نے 12 نئے ایسے لڑاکا طیارے خریدنے کا فیصلہ کیا ہے جو جوہری بموں سے لیس کیے جانے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ یہ طیارے نیٹو کے فضائی جوہری مشن میں شامل ہوں گے۔
ڈاؤننگ سٹریٹ کے بیان کے مطابق یہ اقدام برطانیہ کی کئی دہائیوں سے موجود جوہری پوزیشن کو مزید مصبوط کرنے کا باعث ہو گا۔
یاد رہے کہ نئے F-35 A جیٹ طیارے یوں تو روایتی ہتھیار لے جانے کی صلاحیت سے مالامال ہیں تاہم ان طیاروں کی خاصیت یہ بھی ہے کہ ان میں امریکی ساختہ جوہری بم لیس کیے جانے کا آپشن بھی موجود ہے۔
اس فیصلے کا اعلان وزیر اعظم رواں ہفتے نیدرلینڈ میں ہونے والے نیٹو سربراہی اجلاس میں کریں گے۔
نیٹو کے فضائی جوہری مشن میں اتحادی ممالک کے طیاروں کو امریکی بی سکس ون بموں سے لیس کرنا بھی شامل ہےجسے یورپ میں ذخیرہ کیا گیا ہے۔
امریکہ، جرمنی اور اٹلی سمیت سات دیگر ممالک پہلے ہی دوہری صلاحیت والے جنگی طیارے استعمال کر رہے ہیں۔
ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کے لیے نیٹو کے ایٹمی منصوبہ بندی گروپ کے ساتھ ساتھ امریکی صدر اور برطانوی وزیرِ اعظم کی منظوری درکار ہوگی۔
وزیرِ اعظم سر کیئر سٹارمر نے کہا کہ ’ایک ایسے دور میں جب امن کے حوالے سے حالات غیر یقینی کی انتہا کو پہنچ چکے ہیں اسی لیے ہم قومی سلامتی میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔‘
نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے نے اس اعلان کو ’نیٹو کے لیے ایک اور مضبوط برطانوی تعاون‘ قرار دیا۔
F-35A طیارے خریدنے کا فیصلہ رائل ایئر فورس کے لیے ایک کامیابی تصور کیا جائے گا جو طویل عرصے سے ایسے جنگی طیاروں کے لیے کوشش کر رہی تھی جو طویل فاصلے تک جا سکیں اور زیادہ اقسام کے بم اور میزائل لے جا سکیں۔
جبکہ رائل ایئر فورس اور رائل نیوی کے فضائی ونگ کے پاس اس وقت موجود ایف تھرٹی فائیو بی کی نہ صرف رینج کم ہے بلکہ F-35A کے مقابلے میں یہ کم ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
دفاعی تھنک ٹینک آر یو ایس آئی کے جسٹن برونک کے مطابق جنگ کی صورت میں ان بموں کے اجرا اور استعمال کا کنٹرول بدستور امریکہ کے پاس ہوگا جو برطانیہ کے لیے باعثِ تشویش ہو سکتا ہے۔
کیئرسٹارمر نے یہ عندیہ دیا ہے کہ وہ 2035 تک برطانیہ کے جی ڈی پی کا پانچ فیصد قومی سلامتی پر خرچ کرنے کے نیٹو کے نئے ہدف کو پورا کریں گے۔
نیٹو سربراہی اجلاس میں 32 رکن ممالک اس ہدف پر متفق ہونے کی توقع رکھتے ہیں، جس کے مطابق 3.5 فیصد بنیادی دفاع پر جبکہ باقی دفاع سے متعلق شعبوں پر خرچ کیا جائے گا۔