آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

ایران اور اسرائیل کے بیچ مزید لڑائی کا امکان نہیں، اگلے ہفتے امریکہ ایران سے بات چیت کرے گا: ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ہم اگلے ہفتے ایران سے بات کریں گے اور شاید کوئی معاہدہ بھی ہو جائے۔ لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ’میرے لیے معاہدہ ضروری نہیں اور مجھے فرق نہیں پڑتا کہ معاہدہ ہو یا نہ ہو۔‘

خلاصہ

  • اقوام متحدہ کے جوہری توانائی کے بین الاقوامی ادارے کے سربراہ رافیل گروسی کا کہنا ہے کہ ان کے معائنہ کاروں کو ایران واپس آنے اور دوبارہ بات چیت کرنے کی ضرورت ہے۔
  • صدر ٹرمپ نے ایران پر امریکی حملے سے متعلق خفیہ انٹیلیجنس رپورٹ کے لیک ہونے پر سی این این اور نیویارک ٹائمز کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ابتدائی خفیہ انٹیلیجنس رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ امریکی حملوں سے ایران کی جوہری تنصیبات تباہ نہیں ہوئیں بلکہ صرف چند ماہ پیچھے چلی گئی ہیں۔
  • اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نتن یاہو نے ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کو ’تاریخی فتح‘ قرار دیا ہے۔
  • ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ان کا ملک امریکی صدر کی جانب سے اعلان کردہ جنگ بندی کا احترام کرے گا بشرط یہ کہ اسرائیل بھی اپنی شرائط پر قائم رہے۔

لائیو کوریج

پیشکش: منزہ انوار

  1. اقوام متحدہ نے ایرانی جیل پر اسرائیلی حملے کو بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی قرار دے دیا

    پیر کے روز ایران نے کہا تھا کہ اسرائیل نے اوین جیل کو نشانہ بنایا جس کی وجہ سے جیل کی عمارت کے کچھ حصوں کو نقصان پہنچا۔

    اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے اب اس حملے پر تبصرہ کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قانون کی ’سنگین خلاف ورزی‘ قرار دیا ہے۔

    ترجمان تھمین الخیطان نے جنیوا میں اسرائیل کا نام لیے بغیر صحافیوں کو بتایا کہ اوین جیل فوجی تنصیب نہیں ہے اور اسے نشانہ بنانا بین الاقوامی انسانی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

    اوین جیل میں سیاسی مخالفین، انسانی حقوق کے محافظوں اور صحافیوں سمیت ہزاروں افراد موجود ہیں۔

    ایران کی عدلیہ کے ترجمان اصغر جہانگیر نے سرکاری ٹی وی کے حوالے سے بتایا ہے کہ حملے کے بعد کم از کم ایک شخص ہلاک ہوا ہے۔

  2. ٹرمپ نے نیتن یاہو کے ساتھ فون کال میں ’غیر معمولی طور پر براہ راست‘ بات چیت کی

    بی بی سی کے امریکی پارٹنر سی بی ایس سمجھتے ہیں کہ ٹرمپ اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو کے ساتھ غیر معمولی طور پر مستحکم اور براہ راست بات چیت کر رہے تھے کہ جنگ بندی کو برقرار رکھنے کے لیے کیا کرنے کی ضرورت ہے۔

    سی بی ایس کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم صورتحال کی سنگینی اور صدر ٹرمپ کے خدشات کو سمجھتے ہیں۔

    جیسا کہ ہم آپ کو بتاتے رہے ہیں کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے دفتر نے ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ وزیر اعظم کی ٹرمپ سے بات چیت کے بعد اب اسرائیل نے ایران پر ’مزید حملوں سے گریز‘ کیا ہے۔

  3. ایران جنگ بندی کا احترام کرے گا بشرطِ یہ کہ اسرائیل بھی ایسا ہی کرے: ایرانی صدر

    ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ان کا ملک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اعلان کردہ جنگ بندی کا احترام کرے گا بشرطِ یہ کہ اسرائیل بھی اپنی شرائط پر قائم رہے۔

    ملائیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم کے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت کرتے ہوئے پزشکیان نے کہا کہ اگر اسرائیل نے جنگ بندی کی خلاف ورزی نہیں کی تو ایران اس کی خلاف ورزی نہیں کرے گا۔

    انھوں نے کہا کہ ایرانی عوام نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ بعض مسائل اور شکایات کے باوجود وہ آخر تک دشمن کے حملے کے خلاف متحد تھے، ہیں اور متحد رہیں گے۔

  4. شمالی ایران پر اسرائیلی حملوں کے بعد کی صورتحال

    بی بی سی فارسی کو ایسی تصاویر موصول ہوئی ہیں جن میں شمالی ایران کے شہر آستانہ اشرفیہ میں ایک رہائشی مکان پر اسرائیلی میزائل حملے کو دکھایا گیا ہے۔

    ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق اس حملے میں محمد رضا سیدیغی نامی ایک ایرانی جوہری سائنسدان ہلاک ہوئے۔ یہ حملے جنگ بندی کے اعلان سے چند گھنٹے قبل کیے گئے۔

    شمالی ایران کے صوبہ گیلان کے ڈپٹی گورنر کا کہنا تھا کہ اس حملے میں چار رہائشی یونٹ مکمل طور پر تباہ ہو گئے اور دھماکے کی وجہ سے آس پاس کے کئی مکانات کو شدید نقصان پہنچا۔

    ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اس حملے کے نتیجے میں نو افراد ہلاک اور 33 زخمی ہوئے۔

  5. ایران میں فوجی آپریشن ’ایک بڑا قدم‘ ہے: اسرائیلی صدر

    اسرائیل کے صدر آئزک ہرزوگ نے جنوبی شہر بیرشیبہ میں رات گئے ایرانی حملے کے مقام پر انگریزی میں ایک پریس کانفرنس کی۔ انھوں نے کہا کہ اسرائیل نے کامیابی کے ساتھ ’اسرائیل، خطے اور آزاد دنیا پر ایرانی جوہری خطرے کو ختم کر دیا ہے۔‘

    ہرزوگ نے اسرائیل کے فوجی آپریشن میں شامل جماعتوں کا شکریہ ادا کیا، ملک کے سیاسی رہنماؤں، اسرائیلی فوج، امریکی صدر ٹرمپ اور امریکی فضائیہ سب کا شکریہ ادا کیا۔

    ایکس پر بعد میں ایک پوسٹ میں ہرزوگ نے کہا کہ وہ شہر میں رات گئے ہلاک ہونے والے چار اسرائیلیوں کے اہل خانہ کے ساتھ تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔

    انھوں نے مزید کہا کہ انھیں امید ہے کہ اسرائیل ’اندرونی طور پر پائی جانے والی کشمکش‘ سے آگے بڑھ سکتا ہے اور اس لمحے کو ’خیر سگالی‘ اور ’تکلیف دہ معاملات پر قومی معاہدوں‘ میں تبدیل کر سکتا ہے۔

  6. ایران کے اندر ’کریک ڈاؤن‘ کا خدشہ بڑھ گیا ہے, پریزاد نوبخت، بی بی سی فارسی

    اگرچہ ایران اور اسرائیل کے درمیان امریکہ کی ثالثی میں جنگ بندی پر توجہ مرکوز ہے، لیکن ایران کے اندر سے ملنے والی اطلاعات خوف اور جبر کے بڑھتے ہوئے ماحول کی نشاندہی کرتی ہیں۔

    تجزیہ کاروں اور کارکنوں نے متنبہ کیا ہے کہ جیسے جیسے لڑائی کی شدت میں کمی آرہی ہے، تہران اپنے ملک میں دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کے لیے تیزی سے آگے بڑھ سکتا ہے خاص طور پر ایران کے سکیورٹی نظام میں دراندازی میں اسرائیل کی واضح کامیابی کے بعد۔

    انٹیلی جنس کی ان خلاف ورزیوں نے ایران کے حکمران حلقوں میں بڑے پیمانے پر خوف و ہراس پیدا کر دیا ہے۔

    آج صوبہ کرمان شاہ کے پراسیکیوٹر نے اعلان کیا کہ 115 افراد کو ’سکیورٹی میں خلل ڈالنے‘ کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ ان میں ایک یورپی شہری بھی شامل ہے جس پر جاسوسی کا الزام ہے۔

    حامد رضا کریمی نے کہا کہ حراست میں لیے گئے افراد کی ایک چھوٹی سی تعداد کو جاسوسی کے الزامات کا سامنا ہے جبکہ زیادہ تر پر ’نظام کے خلاف پروپیگنڈا‘ کرنے کا الزام ہے۔

    حالیہ دنوں میں کم از کم تین افراد کو سزائے موت دی جا چکی ہے۔

    اسی طرح کے الزامات کے تحت متعدد شہروں میں درجنوں مزید افراد کو حراست میں لیا گیا ہے، جن کا تعلق اکثر سوشل میڈیا پر اظہارِ خیال کرنے یا مشتبہ جاسوسی سے ہوتا ہے۔

    ملک کی عدلیہ کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ ایرانی پارلیمنٹ نے جاسوسی پر قانونی پابندیوں میں نرمی کی ہے، جس سے حکام کو ’دراندازوں اور جاسوسوں‘ کو زیادہ تیزی سے اور سخت سزا دینے کی اجازت مل گئی ہے۔

    وہ کہتے ہیں کہ ’پچھلے قانون کے تحت اسرائیل کے ساتھ جنگ کے دوران گرفتار کیے گئے بہت سے لوگوں پر مقدمہ نہیں چلایا جا سکتا تھا۔ اب پارلیمنٹ نے مثالی سزائیں دینے کے لیے ہمارے ہاتھ کھول دیے ہیں۔‘

  7. جنگ بندی کا عمل پیچیدگیوں سے بھرا ہوا ہے, گیری او ڈونوگو، بی بی سی نیوز

    حالات ہر لمحے تبدیل ہو رہے ہیں۔

    ہم نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نیٹو سربراہ اجلاس کے لیے وائٹ ہاؤس سے نکلتے ہوئے دیکھا، وہ گزشتہ رات اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جنگ بندی کے اعلان کے بعد اسرائیل کے اقدامات پر برہم تھے۔

    لیکن ایئر فورس ون میں سوار ہونے کے کچھ ہی دیر بعد انھوں نے ایک بار پھر پوسٹ کیا کہ ’جنگ بندی دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔‘ انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’اسرائیلی طیارے موجود تھے جس کے بعد وہ ایرانی فضائی حدود سے ’دوستانہ انداز میں ہاتھ ہلاتے ہوئے‘ واپس روانہ ہوئے۔‘

    ٹرمپ اور بنیامن نیتن یاہو کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا دونوں کے درمیان گفتگو ہوئی۔ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ امریکی صدر اسرائیلی وزیر اعظم کے ساتھ ’باضابطہ طور پر جنگ کے حوالے سے اپنے موقف اظہار کیا۔‘ جنگ بندی کا آغاز اکثر مشکل سے ہوتا ہے اور وائٹ ہاؤس کو امید ہے کہ معاملات ٹھیک ہو جائیں گے۔

    لیکن جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ مشرق وسطیٰ میں بہت سی امیدیں زندہ بھی ہیں اور بہت سی مر بھی چکی ہیں۔ جنگ بندی امن جیسی چیز نہیں ہے اور اس کے لیے مذاکرات کی ضرورت ہوگی۔ یہ کیا شکل اختیار کرتا ہے اور اس کے مقاصد کیا ہیں یہ انتہائی متنازعہ ہوگا۔

    ایران کے 400 کلو گرام افزودہ یورینیم کا سوال ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکہ اور اسرائیل چاہتے ہیں کہ زمین پر موجود معائنہ کار اس بات کا جائزہ لیں کہ انھوں نے جوہری تنصیبات میں موجود مشینری کو حملے کے بعد کتنے سال پہلے کے دور میں دھکیلنے کا کام کیا ہے۔

    یہاں ہر قدم پیچیدگیوں سے بھرا ہوا ہے۔

  8. ایران اور اسرائیل کی سڑکوں پر جنگ بندی کے بعد کے مناظر

    جنگ بندی کے ابتدائی گھنٹوں کے دوران ایران اور اسرائیل سے موصول ہونے والی چند تصاویر۔

    یہ دو تصاویر تہران سے موصول ہوئی ہیں:

    اور اب آپ نیچے دو تصاویر میں منگل کے روز جنگ بندی کے بعد تل ابیب کے مناظر دیکھ سکتے ہیں:

  9. ایران میں ’حکومت کی تبدیلی نہیں چاہتے،‘ ٹرمپ

    امریکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نیدرلینڈز میں نیٹو سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے منگل کے روز امریکہ سے روانہ ہوئے اپنے سفر کے دوران ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کی۔

    سفر کے دوران امریکی صدر سے جب یہ پوچھا گیا کہ کیا وہ ایران میں حکومت کی تبدیلی دیکھنا چاہتے ہیں تو اس کے جواب میں امریکی صدر نے کہا کہ ’نہیں۔ میں یہ نہیں چاہتا۔ میں جتنی جلدی ممکن ہو سب کچھ پرسکون دیکھنا چاہتا ہوں۔‘

    ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’حکومت کی تبدیلی افراتفری کا باعث بنتی ہے اور ہم ایسی افراتفری نہیں دیکھنا چاہتے۔‘

  10. ایران کا جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام، ٹرمپ کے بیان کے بعد اسرائیل کی مزید حملے نہ کرنے کی یقین دہانی

    اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو کے دفتر سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اسرائیل نے ایران کی طرف سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں‘ کے جواب میں تہران کے قریب ایک ریڈار لائن کو نشانہ بنایا ہے۔

    نیتن یاہو کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ایران نے اسرائیل پر ایک میزائل مقامی وقت کے مطابق سات بج کر چھ منٹ پر داغا جبکہ جنگ بندی کے نفاذ کے بعد 10 بج کر 25 منٹ پر دو میزائل داغے گئے۔‘

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اسرائیلی وزیر اعظم کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بات چیت کے بعد اسرائیل نے مزید حملوں سے گریز کیا۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’ٹیلی فون پر امریکی صدر ٹرمپ نے اسرائیل کی بے پناہ تعریف کی جس نے اپنے تمام جنگی اہداف حاصل کر لیے ہیں۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے جنگ بندی پر بھی اعتماد کا اظہار کیا۔

    تاہم دوسری جانب تہران نے جنگ بندی شروع ہونے کے بعد نئے حملے شروع کرنے کی تردید کی ہے۔

  11. تہران میں ایک جانب حکومت کے حامی جشن منا رہے ہیں وہیں کچھ کو یہ خدشہ بھی ہے کہ اب آگے کیا ہوگا

    ہمیں ایرانی دارالحکومت تہران کے اندر سے تصاویر موصول ہوئی ہیں کہ جن میں ایرانی حکومت کے کچھ حامیوں کو ایران کا جھنڈا تھامے موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں پر سوار دکھایا گیا ہے۔

    فوٹیج سے پتہ چلتا ہے کہ سڑکوں پر موجود حکومت کے حامی افراد سپیکروں سے حکومت کی طاقت کی تعریف کرنے والی اونچی آواز میں نغمے چلا رہے ہیں۔

    تاہم دوسری جانب ایران میں ہی چند لوگ اس بارے میں بھی اپنی تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کہ اب آگے کیا ہونے والا ہے۔

    ایک شخص نے بی بی سی فارسی کو بتایا کہ ان کے خیال میں جنگ بندی کا اعلان صرف ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو دھوکہ دینے کے لیے کیا گیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ اسرائیل اور امریکہ کا منصوبہ یہ ہے کہ ’خامنہ ای کو سامنے آنے پر مجبور کیا جائے اور اس کی کوئی اور وجہ نہیں ہے۔‘

    اس کی وجہ یہ ہے کہ اسرائیل اور امریکہ کبھی بھی بغیر کسی وجہ کے کوئی فیصلہ نہیں کرتے۔

  12. ٹرمپ کی جانب سے سخت زبان کا استعمال اس بات کی علامت ہے کہ وہ کتنے مایوس ہیں

    میں اپنے دن کا زیادہ تر وقت وائٹ ہاؤس میں گزارتا ہوں اور میں اکثر پریس پول کا حصہ رہتا ہوں یا صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ان کے امریکہ کے دوروں پر سفر کرتا ہوں۔

    واشنگٹن ڈی سی سے بی بی سی کے نامہ نگار برنڈ ڈیبسمین جونیئر کا کہنا ہے کہ شاذ و نادر ہی میں نے امریکی صدر کو اس طرح کی زبان استعمال کرتے ہوئے سُنا اور دیکھا ہے جو انھوں نے منگل کی صبح استعمال کی۔

    اُن کا کہنا تھا کہ ’ٹرمپ اپنے غصے کے لمحات کو ٹروتھ سوشل کے لیے محفوظ رکھتے ہیں۔ وہ ایک ایسے شخص ہیں جو کم از کم عوامی طور پر ایک ٹھنڈے اور سوچے سمجھے کر بات کرنے والے ایک فرد کے طور پر سامنے آنا پسند کرتے ہیں اور کچھ مواقع پر میں نے انھیں میڈیا کے سامنے کھینچتے دیکھا ہے، یہ صحافیوں کو ’احمقانہ‘ یا ’مضحکہ خیز‘ سوالات کے لئے تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔‘

    برنڈ ڈیبسمین کے مطابق ’وائٹ ہاؤس کے جنوبی لان میں دنیا بھر کے میڈیا کے نمائندوں اور کیمروں کے سامنے ان کی جانب سے نازیبا الفاظ کا استعمال شاید اس بات کی علامت ہے کہ وہ متحارب فریقوں سے کتنے مایوس ہو چکے ہیں اور بظاہر اسرائیل کو ان کے غصے کا خمیازہ بھگتنا پڑ رہا ہے۔‘

    ’ٹرمپ نے بارہا اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ غزہ اور یوکرین سمیت تنازعات کا خاتمہ کریں گے۔‘

    برنڈ کا کہنا ہے کہ ’حال ہی میں، ہم نے انھیں روانڈا اور جمہوریہ کانگو، انڈیا اور پاکستان کے درمیان لڑائی کو ختم کرنے کا کریڈٹ لیتے ہوئے دیکھا ہے۔ تاہم، یہ تنازعات زیادہ تر امریکیوں کے ذہن سے بہت دور تھے۔‘

    ’امریکی انتظامیہ کی نظر میں ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی خارجہ پالیسی کی ایک اہم کامیابی ہوگی جس سے وہ ایک اہم کامیابی کی جانب اشارہ کر سکتے تھے۔‘

    اُن کا کہنا ہے کہ ’گزشتہ رات ہی ہم نے دیکھا کہ وائٹ ہاؤس کے اندر سے لوگ ٹرمپ کے ’امن‘ کے لیے کی جانے والی کوششوں کی تعریف کرتے رہے ہیں۔ لیکن فی الحال، ایسا نہ ہونے پر وہ پریشان اور غصے میں دکھائی دیتے ہیں۔‘

  13. لاہور ہائیکورٹ نے نو مئی کو توڑ پھوڑ سے متعلق آٹھ مقدمات میں عمران خان کی درخواست ضمانت خارج کر دی

    لاہور ہائیکورٹ نے کور کمانڈر ہاؤس پر حملے سمیت نو مئی کے واقعات سے جڑے آٹھ مقدمات میں پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کی درخواست ضمانت خارج کر دی ہے۔

    یاد رہے کہ عمران خان اس وقت اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ رواں سال جنوری میں انھیں 190 ملین پاؤنڈز کیس میں 14 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی جبکہ اس سے قبل توشہ خانہ کیس میں ان کی سزا معطل ہو گئی تھیں۔ عدت کے دوران نکاح اور سائفر کیس میں عمران خان کو بری کر دیا گیا تھا۔

    جسٹس شہباز رضوی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے اِن درخواستوں پر گذشتہ روز دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا جو آج یعنی منگل کے روز سنایا گیا۔

    عمران خان نے اپنے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر کے ذریعے 15 جنوری کو یہ درخواستیں لاہور ہائیکورٹ میں دائر کی تھیں۔

    سابق وزیر اعظم کو نو مئی سے متعلق اِن مقدمات میں نامزد کیا گیا تھا۔ عمران خان پر یہ الزام عائد ہے کہ انھوں نے تحریک انصاف کے حامیوں کو عسکری ٹاور پر حملے، شادمان جلاؤ گھیراؤ، راحت بیکری کے قریب گاڑیاں نذر آتش کرنے پر اکسایا تھا۔

  14. ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی نافذ العمل ہے، امریکی صدر کا اصرار

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل پلیٹ فارم ٹروتھ پر اپنے ایک بیان میں اس بات پر زور دیا کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان ’جنگ بندی نافذ العمل ہے۔‘

    امریکی صدر نے لکھا کہ ’اسرائیل ایران پر حملہ نہیں کرے گا۔ ایران کی جانب جانے والے اسرائیلی لڑاکا تیارے ’دوستانہ انداز میں ہاتھ ہلاتے ہوئے ‘ واپس گھر (اسرائیل) کی طرف روانہ ہوئے۔‘

    انھوں نے اسی پوسٹ میں مزید یہ بھی لکھا کہ ’کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا، جنگ بندی نافذ ہے! اس معاملے پر آپ کی توجہ کے لئے آپ کا شکریہ!‘

    واضح رہے کہ امریکی صدر کے ان سخت بیانات کے بعد اسرائیلی میڈیا اور ایگزیوس کی اطلاعات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو کے درمیان فون پر بات چیت بھی ہوئی ہے۔

  15. ایران میں اسرائیلی حملوں میں 600 سے زائد افراد ہلاک: ایرانی وزیر صحت

    ایران کے وزیر صحت کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ 13 جون سے اب تک اسرائیلی حملوں میں 606 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    محمد رضا ظفرغانی کا کہنا ہے کہ پانچ ہزار سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں اور انھیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

    ایرانی وزیر خارجہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایران میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بدترین حملے ہوئے ہیں جن میں 107 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    حکومتی پابندیوں کی وجہ سے بی بی سی کے صحافی ایران کے اندر سے رپورٹنگ نہیں کر سکتے، اس لیے نقصان کی تصدیق کرنا مشکل ہے۔

    اس تنازعے پر نظر رکھنے والے انسانی حقوق کے ایک گروپ، ایران میں انسانی حقوق کے کارکنوں نے کہا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد سرکاری اعداد و شمار سے تقریباً دو گُنا ہے۔

  16. میں ایران سے بھی خوش نہیں ہوں: ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسرائیل اور ایران دونوں نے اُن کی جانب سے اعلان کردہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے اور وہ ایران سے بھی خوش نہیں ہیں۔

    صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ ’میرے خیال میں انھوں نے ایسا دانستہ طور پر نہیں کیا مُجھے یہ بات بھی پسند نہیں آئی کہ اسرائیلی نے آج صبح حملے کیے اور میں دیکھوں گا کہ میں اُنھیں رکوا سکتا ہوں۔‘

    امریکی صدر کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ایران اب کبھی بھی دوبارہ جوہری صلاحیت حاصل نہیں کر سکے گا۔‘

  17. صدر ٹرمپ اسرائیل سے ناخوش: ’معاہدے کے بعد اسرائیل نے حملے کیے، اُسے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا‘

    امریکی صدر کا کہنا ہے کہ وہ اُن کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان کے بعد اسرائیل کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات سے خوش نہیں ہیں۔

    منگل کی صبح صحافیوں سے بات کرتے ہویے اُن کا کہنا تھا کہ ’میرے خیال میں (جنگ بندی کے نفاذ کے بعد) ایک راکٹ چلا اور اب اسرائیل بدلہ لینے جا رہا ہے۔ انھیں تحمل سے کام لینا چاہیے۔‘

    اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ انھیں گذشتہ روز رونما ہونے والے بہت سے واقعات پسند نہیں آئے۔

    ’مُجھے یہ بات پسند نہیں آئی کے ہمارے معاہدے کرنے کے بعد اسرائیل نے حملے کیے انھیں حملے نہیں کرنے چاہیے تھے۔‘

    نازیبا الفاظ استعمال کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا ’یہ وہ دو مُلک ہیں کہ جو ایک طویل عرصے سے شدت سے لڑ رہے ہیں اور نہیں جانتے کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔‘

  18. اسرائیل ایران پر بمباری سے باز رہے، ٹرمپ کی تنبیہ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے ایران پر بمباری کی تو یہ جنگ بندی کی بڑی خلاف ورزی ہوگی۔

    سوشل پلیٹ فار ٹروتھ پر ایک پیغام میں امریکی صدر نے اسرائیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’بم نہ گرائیں، اگر آپ نے ایسا کیا تو یہ ایک بڑی خلاف ورزی ہوگی۔ اپنے پائلٹس کو فوراً واپس بلائیں۔‘

    امریکی صدر کی جانب سے یہ بیان اسرائیل کے ایران پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات اور ایران پر دوبارہ بمباری کے اعلانات کے بعد سامنے آیا ہے۔

    جنگ بندی کے نفاذ کے کُچھ دیر بعد اسرائیلی کی جانب سے یہ دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے دو میزائل داغے ہیں جنھیں تباہ کر دیا گیا ہے اور اسرائیلی وزیرِ دفاع نے اس کے ردِ عمل میں سخت جواب دینے کا اعلان کیا تھا۔

  19. ہم نے اپنے ایک واضح بیان کے ساتھ ایران کی حمایت کی: روس

    روس کا کہنا ہے کہ اس نے جوہری تنصیبات پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کی مذمت میں ’واضح موقف‘ کے ساتھ ایران کی حمایت کی ہے اور روس ایران کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید وسعت دینے کا ارادہ رکھتا ہے۔

    کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے بعض تجزیہ کاروں کی اس تنقید کے بارے میں کہ روس نے ایران کو خاطر خواہ مدد فراہم نہیں کی ہے، کے جواب میں کہا کہ ’بہت سے لوگ آگ پر تیل ڈال کر ماسکو اور تہران کے درمیان تعلقات کو خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے روس کے صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ حالیہ ملاقات میں ماسکو کے کردار کو انتہائی قابل قدر قرار دیا۔

    عباس عراقچی نے ایران پر امریکی حملوں کی مذمت کرنے پر ولادیمیر پوتن کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ روس ’ایک اہم مقام پر کھڑا ہے۔‘

  20. ایران کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی کے اسرائیلی الزام کی تردید، اب تک کی تازہ صورتحال

    گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران ایران اسرائیل تنازع میں کچھ ڈرامائی تبدیلیاں دیکھنے میں آئی ہیں۔ آئیے ان تبدیلیوں پر ایک نظر ڈالتے ہیں:

    • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر پوسٹ میں کہا کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی نافذ العمل ہوگئی ہے۔
    • تاہم صرف امریکی صدر کی جانب سے بیان کے صرف ایک گھنٹے کے بعد ہی اسرائیل نے کہا کہ وہ امریکہ کی جنگ بندی کی تجویز پر آمادہ ہو گیا ہے جبکہ ایران نے پہلے کہا تھا کہ اگر اسرائیل نے ایسا کیا تو وہ حملے بند کر دے گا۔
    • اس کے بعد اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ انھوں نے ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں کی نشاندہی کی ہے اور انھیں شمالی اسرائیل کے اوپر سے روکا گیا ہے۔
    • ایران نے میزائل داغے جانے کے الزام سے انکار کیا ہے، لیکن اسرائیل کی دفاعی افواج کا اصرار ہے کہ اسرائیل ’بھرپور طاقت کے ساتھ‘ اس حملے کا جواب دے گا۔
    • جنگ بندی شروع ہونے سے پہلے فریقین کے درمیان رات بھر شدید گولہ باری کا تبادلہ ہوا۔
    • ایران کے سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے داغے جانے والے میزائلوں نے دارالحکومت اور دیگر شہروں کو نشانہ بنایا ہے جس کے نتیجے میں کم از کم نو افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں ایک ایرانی جوہری سائنسدان بھی شامل ہیں۔
    • اسرائیل میں بیرشیبا میں کم از کم چار افراد ہلاک اور 22 زخمی ہوئے ہیں۔