آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

ٹرمپ اور زیلنسکی کا ٹیلیفونک رابطہ، ہم بالکل درست سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں: امریکی صدر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کے درمیان فون پر تفصیلی گفتگو ہوئی ہے۔ ٹروتھ سوشل میں ایک پوسٹ میں صدر ٹرمپ نے تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہنے والی اس فون کال کو ’بہت اچھا‘ قرار دیا ہے۔

خلاصہ

  • یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان فون پر تفصیلی گفتگو ہوئی ہے۔ ٹروتھ سوشل میں ایک پوسٹ میں صدر ٹرمپ نے تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہنے والی اس فون کال کو 'بہت اچھی‘ گفتگو قرار دیا ہے۔
  • روس اور یوکرین نے جنگی قیدیوں کی رہائی پر اتفاق کر لیا ہے۔ روس نے یوکرین کے 175 جنگی قیدی رہا کر دیے ہیں۔
  • پاکستان اور افغانستان کی طورخم سرحد 25 روز بند رہنے کے بعد آج جزوی طور پر بڑی گاڑیوں کے لیے کھول دی گئی ہے۔
  • روسی صدر ولادیمیر پوتن نے امریکی ہم منصب کے ساتھ فون پر بات چیت میں یوکرین میں فوری طورپر جنگ بندی کو مسترد کر دیا ہے تاہم وہاں توانائی کے انفراسٹرکچر کو نشانہ نہ بنانے پر آمادگی کا اظہار کیا ہے۔
  • غزہ کی پٹی میں بدھ کی صبح اسرائیلی فضائیہ نے پھر سے حملے کیے جن میں میڈیارپورٹس کے مطابق کم از کم نو افراد ہلاک ہوئے۔
  • ڈسٹرکٹ جیل اٹک سے رات گئے پی ٹی آئی کے 75 کارکنوں کو انسداد دہشتگردی عدالت کے حکم پر رہا کر دیا گیا۔
  • غزہ کی پٹی پر اسرائیل کے 'بڑے پیمانے' پر فضائی حملوں میں حماس کے وزارت صحت کے مطابق 400 سے زائد فلسطینی ہلاک، حملوں کا آغاز اس وقت ہوا جب مکین سحری کی تیاری کر رہے تھے۔

لائیو کوریج

  1. اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد غزہ میں فلسطینی ایک بار پھر نقل مکانی پر مجبور

  2. غزہ میں ’دہشتگردوں کے اہداف‘ پر حملے جاری رکھیں گے: اسرائیل

    اسرائیلی ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) اور اسرائیلی سکیورٹی ایجنسی نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ وہ غزہ میں ’دہشتگردوں کے اہداف‘ پر حملے جاری رکھیں گے۔

    اس بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ گذشتہ چند گھنٹوں میں انھوں نے ’دہشتگردوں کے سیلز، لانچ پوسٹس، اسلحے کے سٹاک پائلز اور اضافی فوجی انفراسٹرکچر‘ کو نشانہ بنایا ہے۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس وقت اسرائیل غزہ کی پٹی پر مختلف اہداف کو نشانہ بنا رہا ہے۔

  3. غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں میں ہلاکتوں کی تعداد 400 سے تجاوز کر گئی، 660 زخمی: وزارتِ صحت

    غزہ میں وزارتِ صحت کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی فضائی حملوں میں ہلاک ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد چار سو سے تجاوز کر گئی ہے۔

    حماس کے زیرِ انتظام وزارتِ صحت نے بتایا ہے کہ اب بھی متعدد افراد ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔

    وزارتِ صحت کے ڈائریکٹر جنرل منیر البرش کا کہنا ہے کہ حملوں کے نتیجے میں 660 افراد زخمی ہوئے ہیں جنھیں ہسپتالوں میں لایا گیا ہے۔

  4. قومی سلامتی کمیٹی کا ان کیمرا اجلاس جاری، ’عسکری قیادت پارلیمانی کمیٹی کو بریفنگ دے رہی ہے‘

    پاکستان کی قومی سلامتی کمیٹی کا ان کیمرا اجلاس گذشتہ دو سے زائد گھنٹوں سے جاری ہے جس میں سکیورٹی صورتحال پر بریفنگ دی جا رہی ہے تاہم اپوزیشن جماعت پی ٹی آئی نے اس اجلاس کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    پی ٹی وی کے مطابق یہ اجلاس سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے وزیراعظم کی ایڈوائس پر طلب کیا تھا، جس میں عسکری قیادت، پارلیمانی کمیٹی کو ملک میں سکیورٹی کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کرے گی۔

    قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس دو گھنٹے سے جاری ہے جس میں وزیراعظم شہباز شریف اور فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر سمیت اہم سیاسی رہنما اور عسکری حکام شریک ہیں۔ اس اجلاس کے لیے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

    قومی سلامتی کے اجلاس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی بھی شریک ہیں جبکہ گورنر بلوچستان، گورنر خیبر پختونخوا، گورنر پنجاب اور چاروں صوبوں کے آئی جی پولیس بھی قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں موجود ہیں۔

    بلاول بھٹو کی سربراہی میں پیپلزپارٹی کے 16 اراکین پارلیمنٹ اور خالد مقبول صدیقی کی قیادت میں ایم کیو ایم کے چار اراکین پارلیمنٹ نے اجلاس میں شرکت کی۔

    مولانا فضل الرحمٰن کی قیادت میں ان کی جماعت کا ایک وفد اجلاس میں شرکت کر رہا ہے۔

    وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ، وزیر دفاع خواجہ آصف، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، اور دیگر وفاقی وزرا، اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیراعظم انوار الحق بھی قومی سلامتی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں شریک ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس ڈی جی آئی بی کی بریفنگ کے بعد بلاول بھٹوزرداری اور دیگرپارلیمانی لیڈر اظہارخیال کریں گے جس کے بعد سوال و جواب کا بھی سیشن ہوگا جہاں عسکری قیادت اور انٹیلی جنس اداروں کےسربراہان سوالات کے جوابات دیں گے۔

    عمران خان کی پے رول پر رہائی کا مطالبہ

    پی ٹی آئی کا مطالبہ ہے کہ اجلاس میں شرکت کے لیے عمران خان کو پے رول پر رہا کریں۔

    پی ٹی آئی کے رہنما روؤف حسن نے بی بی سی کو بتایا کہ خصوصی اجلاس میں شرکت نہ کرنے کے پیچھے سابق وزیر اعظم عمران خان سے ان کے پارٹی رہنماؤں کی ملاقات نہ کروانے کے علاوہ دیگر وجوہات بھی ہیں۔

    خیال رہے کہ پی ٹی آئی کے رہنما عامر ڈوگر نے گذشتہ روز ہی خصوصی اجلاس میں شرکت کے لیے چودہ افراد کے نام بھجوائے تھے۔

    پی ٹی آئی رہنماؤں نے منگل کی صبح پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اجلاس سے بائیکاٹ کا اعلان کیا۔

    پی ٹی آئی کے رہنما سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ہم نے اس میٹنگ میں شریک ہونے سے انکار کردیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’گذشتہ روز سیاسی کمیٹی کے اجلاس میں ہم نے فیصلہ کیا ہماری طرف سے کوئی نمائندہ میٹنگ میں نہیں جائے گا، علی امین گنڈا پور بطور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اس اجلاس میں شریک ہوں گے۔‘

    ملک کی سکیورٹی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ہم کسی بھی آپریشن کے حق میں نہیں ہیں۔

  5. جنگ بندی کو فوری طور پر بحال کیا جانا چاہیے: مقبوضہ فلسطینی علاقے کے لیے اقوام متحدہ کے رابطہ کار کا مطالبہ

    مقبوضہ فلسطینی علاقے کے لیے اقوام متحدہ کے رابطہ کار مہند ہادی نے اسرائیل کی جانب سے عزہ میں ہونے والے حملوں کے ردعمل میں کہا ہے کہ یہ ناقابل قبول ہے۔

    اپنے بیان میں ان کا کہا تھا کہ یہ ناقابل قبول ہے، فوری طور پر جنگ بندی کو بحال کیا جانا چاہیے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ غزہ کے لوگوں نے ناقابل تصور مشکلات برداشت کی ہیں۔

  6. اسرائیلی انتباہ کے بعد غزہ کے مکینوں نے نقل مکانی شروع کر دی

    اسرائیلی فورسز کی جانب سے غزہ کی پٹی کو خطرناک علاقہ قرار دیے جانے اور متعدد علاقے خالی کرنے کے نئے حکم کے بعد غزہ کے مکینوں نے نقل مکانی شروع کر دی۔

    اگرچہ غزہ میں اسرائیل کے فضائی حملے کئی گھنٹوں سے جاری ہیں تاہم غزہ کے مختلف علاقوں سے لوگ ان علاقوں کا رخ کر رہے ہیں جنھیں ہو محفوظ تصور کرتے ہیں۔

    یاد رہے کہ اسرائیلی حکام نے غزہ کے مکینوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ خان یونس اور غزہ شہر کے مغرب میں جائیں۔

  7. غزہ کی پٹی کی سرحد خطرناک علاقہ ہے، اسرائیل کا غزہ کے مکینوں کو علاقہ خالی کرنے کا نیا حکمنامہ

    غزہ میں موجود ہمارے نامہ نگار کے مطابق وہاں اب بھی اسرائیل کے فضائی حملے جاری ہیں اور اسرائیل نے وہاں کے مکینوں کو علاقہ چھوڑنے کا نیا حکم جاری کیا ہے۔

    اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ اسرائیل اپنے حملے جاری رکھے گا۔

    اسرائیلی ڈیفنس فورسز کے ترجمان نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر لکھا کہ غزہ کی پٹی کی ساری سرحد اس وقت سرخ ہے، خطرناک زون ہے، اور لوگوں کو کہا جا رہا ہے کہ وہ بیت ہانون، خزہ اور عبسان الکبیرہ اور الجدیدہ سے نکل جائیں۔

    انھوں نے مزید لکھا کہ لوگوں کو ’چاہیے کہ وہ غزہ شہر کے مغرب میں اور خان یونس میں موجود شیلٹرز میں فوری طور پر چلے جائیں۔‘

  8. غزہ میں راتوں رات کیا ہوا؟

    غزہ میں اس وقت صبح کے دس بج رہے ہیں۔

    • مقامی وقت کے مطابق رات دو بجے اسرائیلی جنگی طیاروں نے غزہ کی پٹی پر درجنوں حملے کیے۔ یہ وہ وقت تھا جب لوگ سحری کی تیاریاں کر رہے تھے لیکن انھیں اپنے کیمپوں سے نکلنا پڑا۔
    • رات ڈھائی بجے سے کچھ ہی دیر پہلے اسرائیلی دفاعی فورسز اور اسرائیل کی سکیورٹی ایجنسی نے اعلان کیا کہ وہ حماس کے ’دہشت گردی کے اہداف‘ کو نشانہ بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر حملے کر رہی ہیں۔
    • اس کے پندرہ منٹ بعد ہی فلسطین کی سول ایمرجنسی سروس نے اعلان کیا کہ اسرائیل نے کم ازکم 35 فضائی حملے کیے ہیں اور اس میں کم ازکم 15 افراد ہلاک ہوئے اور درجنوں زخمی ہو گئے۔
    • غزہ کے مقامی وقت کے مطابق رات 3 بجے اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر سے بیان جاری ہوا جس میں ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے حماس کی جانب سے مغویوں کو رہا کرنے سے انکار کرنے اور امریکہ اور ثالثوں کی جانب سے دی گئی تجاویزکو مسترد کرنے کے بعد اسرائیلی ڈیفنس فورسز کو حماس کے خلاف سخت ایکشن کا حکم دیا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اسرائیل اب حماس کے خلاف اپنی فوجی قوت کو بڑھائے گا۔
    • مقامی وقت کے مطابق رات تین بج کر بیس منٹ پر حماس نے ایک بیان جاری کیا اور اسرائیل کے اس اقدام کو دھوکہ اور غداری قرار دیا اور کہا کہ اسرائیل کی حکومت نے جنگ بندی کو ختم کرنے کا ارادہ کیا ہے۔
    • حماس کے بیان کے بیس منٹ بعد اسرائیلی ڈیفنس فورسز نے کہا کہ اس نے حماس کے درجنوں ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔
    • صبح چار بجے سے پہلے یہ خبریں موصول ہونا شروع ہوئیں کہ حماس کے ایک اعلیٰ سکیورٹی عہدے دار محمدو ابو وفا مارے گئے ہیں۔
    • مقامی وقت کے مطابق صبح 8 بجے حماس کے زیر انتظام وزارت صحت نے بیان جاری کیا کہ رات بھر جاری رہنے والے اسرائیلی حملوں میں کم سے کم 330 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
  9. غزہ میں منگل کو شروع ہونے والے اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں تباہی کے مناظر

    اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ اس نے غزہ میں بڑے پیمانے پر فضائی حملے کیے ہیں۔

    اب تک کی اطلاعات کے مطابق 300 سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ ہسپتالوں میں اب بھی متعدد مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔

    غزہ کی پٹی پر ان حملوں کا آغاز اس وقت ہوا جب مقامی لوگ روزہ رکھنے کے لیے سحری کی تیاری کر رہے تھے۔

  10. غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں میں ہلاکتوں کی تعداد 300 سے تجاوز کر گئی

    حماس کے زیر انتظام وزارت صحت کا کہنا ہے کہ غزہ پر منگل کی صبح شروع ہونے والے اسرائیلی فضائی حملوں میں ہلاک ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد کم ازکم 330 ہو گئی ہے۔

    حکام غزہ کی پٹی پر موجود پانچ ہسپتالوں سے ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد کی تعداد کا پتہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    غزہ کی پٹی کے مختلف مقامات کو اسرائیلی فضائی حملوں میں نشانہ بنایا گیا۔

    اب تک سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق ان حملوں میں 50 سے زیادہ بچے اور 28 سے زیادہ خواتین شامل تھیں۔

    ان حملوں کا آغاز صبح دو بجے کے قریب ہوا اور کئی گھنٹوں تک جاری رہا۔

    خیال رہے کہ ان اوقات میں زیادہ تر لوگ رمضان کا روزہ رکھنے کے لیے سحری تیاری کر رہے تھے تاہم حملوں کی وجہ سے انھیں اپنے گھروں سے نکلنا پڑا۔

    اب کچھ گھنٹوں سے حملوں کی شدت میں کمی آ رہی ہے تاہم ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ان کے پاس 250 سے زیادہ لوگ آئے جو کہ زخمی تھے۔

    ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ کچھ زخمیوں کی حالت بہت نازک ہے اور ہسپتالوں میں طبّی سہولیات اور آلات کی قلت کا سامنا ہے۔

    یاد رہے کہ سیز فائر کے بعد سے بہت سے لوگ ٹینٹوں میں زندگی گزار رہے ہیں۔

  11. پی ٹی آئی کا قومی سلامتی پر ان کیمرا اجلاس کے بائیکاٹ کا اعلان, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    پاکستان کی قومی سلامتی کمیٹی کا ان کیمرا اجلاس جاری ہے جس میں سکیورٹی صورتحال پر بریفنگ دی جا رہی ہے تاہم اپوزیشن جماعت پی ٹی آئی نے اس اجلاس کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    پی ٹی آئی کا مطالبہ ہے کہ اجلاس میں شرکت کے لیے عمران خان کو پے رول پر رہا کریں۔

    دوسری جانب ملک کی عسکری اور سیاسی قیادت اجلاس میں شرکت کے لیے اس وقت پالیمنٹ ہاؤس میں موجود ہے۔ اس موقع پر سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔

    پی ٹی آئی کے رہنما روؤف حسن نے بی بی سی کو بتایا کہ خصوصی اجلاس میں شرکت نہ کرنے کے پیچھے سابق وزیر اعظم عمران خان سے ان کے پارٹی رہنماؤں کی ملاقات نہ کروانے کے علاوہ دیگر وجوہات بھی ہیں۔

    خیال رہے کہ پی ٹی آئی کے رہنما عامر ڈوگر نے گذشتہ روز ہی خصوصی اجلاس میں شرکت کے لیے چودہ افراد کے نام بھجوائے تھے۔

    پی ٹی آئی رہنماؤں نے منگل کی صبح پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اجلاس سے بائیکاٹ کا اعلان کیا۔

    پی ٹی آئی کے رہنما سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ہم نے اس میٹنگ میں شریک ہونے سے انکار کردیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’گذشتہ روز سیاسی کمیٹی کے اجلاس میں ہم نے فیصلہ کیا ہماری طرف سے کوئی نمائندہ میٹنگ میں نہیں جائے گا، علی امین گنڈا پور بطور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اس اجلاس میں شریک ہوں گے۔‘

    ملک کی سکیورٹی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ہم کسی بھی آپریشن کے حق میں نہیں ہیں۔

    انھوں نے عمران خان کی پے رول پر رہائی کا مطالبہ کیا۔

    ’ہمارا مطالبہ ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو پے رول پر رہا کیا جائے تاکہ وہ اس اجلاس میں شرکت کر سکیں۔‘

    اس موقع پر عمر ایوب نے کہا کہ ’میں نے کل سپیکر قومی اسمبلی کو مشروط خط لکھا ہے ہمیں کورٹ آرڈر کے ساتھ بھی بانی پی ٹی آئی سے ملنے نہیں دیا جاتا ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ کل اچانک قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بلایا گیا مگر ہمیں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

    ان کیمرہ اجلاس میں میڈیا سمیت تمام انٹری کارڈز کو عارضی طور پر غیر مؤثر

    ترجمان قومی اسمبلی کے مطابق اس اجلاس میں عسکری قیادت، پارلیمانی کمیٹی کو ملک کی موجوہ سکیورٹی صورتحال سے آگاہ کرے گی۔

    ترجمان کے مطابق اس اجلاس میں پارلیمان میں موجود تمام سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی لیڈران اور ان کے نامزد کردہ نمائندگان شرکت کریں گے۔

    اس اجلاس کے لیے پارلیمنٹ میں غیر معمولی سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔

    کسی بھی غیر متعلقہ فرد کا داخلہ ممنوع قرار دے دیا گیا ہے جبکہ میڈیا سمیت تمام انٹری کارڈز کو عارضی طور پر غیر مؤثر کر دیا گیا ہے۔

    ترجمان قومی اسمبلی کا کہنا ہے کہ میڈیا کی اہمیت اور ضروریات سے مکمل آگاہ ہیں لیکن قومی سلامتی کے پیش نظر میڈیا اور تمام متعلقہ فریقین سے تعاون کی گزارش کی جاتی ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل سات اپریل 2023 کو منعقد ہونے والے قومی سلامتی کونسل کے اجلاس میں ملک میں شدت پسندی سے نمٹنے کے لیے ایک نیا جامع آپریشن شروع کرنے کی منظوری دی گئی تھی۔

    اجلاس وزیراعظم ہاﺅس میں منعقد ہوا تھا جس میں وفاقی وزرا چئیرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی، سروسز چیفس اور متعلقہ اداروں کے اعلی حکام نے شرکت کی تھی۔

  12. جے آئی ٹی نے منفی پروپیگنڈے میں ملوث پی ٹی آئی کے 16 رہنماؤں کو طلب کر لیا

    جے آئی ٹی نے منفی پروپیگنڈے میں ملوث پی ٹی آئی کے 16 رہنماؤں کو آج دوبارہ طلب کر لیا ہے۔

    پی ٹی آئی کے 16 افراد کو آج طلبی کے نوٹس جاری کر دیے گئے۔

    جن افراد کو جے آئی ٹی نے طلب کیا ہے ان میں سید فردوس شمیم نقوی، محمد خالد خورشید خان، میاں محمد اسلم اقبال، محمد حماد اظہر شامل ہیں۔

    طلبی کے نوٹس وصول کرنے والوں میں عون عباس، محمد شہباز شبیر، وقاص اکرم اور تیمور سلیم خان بھی شامل ہیں صبغت اللہ ورک، اظہر مشوانی، محمد نعمان افضل، جبران الیاس، سلمان رضا، ذلفی بخاری، موسیٰ ورک اور علی ملک کو بھی طلبی کا نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔

    پی ٹی آئی کے بیرسٹر گوہر، رؤف حسن اور شاہ فرمان جی آئی ٹی کے سامنے پیش ہو چکے ہیں۔

    14 مارچ 2025 کو بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان طلبی کے باوجود پیش نہیں ہوئی تھیں جے آئی ٹی نے اب علیمہ خان کو بھی 19 مارچ کو طلبی کا نوٹس جاری کر رکھا ہے۔

    جے آئی ٹی کی جانب سے ان تمام افراد کیخلاف تحقیقات ریاست مخالف پروپیگنڈے کے حوالے سے کی جا رہی ہے۔

    واضح رہے کہ وفاقی حکومت کی قائم کردہ جے آئی ٹی کی سربراہی آئی جی اسلام آباد پولیس کر رہے ہیں۔ جے آئی ٹی الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے ایکٹ 2016 کے سیکشن 30 کےتحت تشکیل دی گئی ہے، جس کے پاس کیس کے حوالے سے مستند شواہد موجود ہیں۔

    جاری کیے جانے والے نوٹسز میں ان تمام افراد کو متنبہ کیا گیا ہے کہ اس معاملے پر اپنی پوزیشن کی وضاحت کریں۔

  13. انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں پولیس کا پاکستانی عسکریت پسند کو مارنے کا دعویٰ, ریاض مسرور، بی بی سی اردو، سرینگر

    انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے ضلع کپوارہ میں پولیس نے مسلح شدت پسندوں کے ساتھ جھڑپ میں ایک پاکستانی عسکریت پسند کو مارنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ یہ جھڑپ ایل او سی کے قریبی علاقے زچل ڈارا میں کل دیررات شروع ہوئی تھی۔

    مقامی لوگوں کے مطابق وسیع علاقے کا محاصرہ کیا گیا اور وقفے وقفے سے فائرنگ کی آوازیں آرہی تھیں۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ ایک فوجی بھی زخمی ہوا ہے تاہم ذرائع نے بتایا چار فوجی شدید طور پر زخمی ہوگئے جنہیں ہسپتال منتقل کیا گیا۔

    پولیس اور فوج نے ہلاک ہونے والے عسکریت پسند کی شناخت سیف اللہ کے طور کی ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ اُن کا تعلق پاکستان کے ساتھ تھا۔

    ہندوارہ کے ایس ایس پی مشتاق احمد چودھری نے ایک بیان میں کہا کہ یہ آپریشن خفیہ اطلاعات کے بعد شروع کیا گیا تھا۔

    فوج کی پندرہویں کور کے ایک افسر نےاپنے ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ مارے گئے عسکرت پسند کا نام سیف اللہ تھا اور وہ پاکستانی شہری تھے۔

    گذشتہ روز پارلیمنٹ میں ایک سوال کے جواب میں انڈین وزارت داخلہ نے کہا تھا کہ کشمیر میں اب بھی 79 مسلح شدت پسند سرگرم ہیں جن میں سے 59 غیرملکی ہیں۔

  14. حوثیوں کے حملے بند نہ ہونے کی صورت میں امریکی صدر ٹرمپ کی ایران کو سنگین‘ نتائج کی دھمکی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر یمن میں حوثیوں نے بین الاقوامی جہاز رانی کے راستوں پر حملے جاری رکھے تو اس کے ’سنگین‘ نتائج ہوں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ حوثیوں کی طرف سے چلائی جانے والی ہر گولی کا ذمہ دار ایرانی قیادت کو ٹہرایا جائے گا، تہران طویل عرصے سے ان لی حمایت کرتا رہا ہے۔

    ٹرمپ کی یہ دھمکی حوثیوں کی جانب سے بحیرہ احمر میں امریکی طیارہ بردار بحری جہاز کو نشانہ بنانے کے بعد سامنے آئی ہے۔

    خیال رہے کہ حوثی باغیوں نے بعد میں یہ تسلیم کیا کہ انھوں نے گذشتہ دو روز میں امریکی جہاز کو تین مرتبہ نشانہ بنایا تھا۔

    پینٹاگون نے سنیچر کو کہا تھا کہ اس نے یمن میں 30 اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ یہ صدر ٹرمپ کی جانب سے قیادت سنبھالنے کے بعد مشرق وسطیٰ میں کی جانے والی سب سے بڑی کارروائی ہے۔

    اس کے بعد حوثیوں نے بحر احمر میں ماریکی طیارے کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔

  15. قومی سلامتی کا ان کیمرا اجلاس آج ہو گا

    پاکستان کی قومی سلامتی کمیٹی کا ان کیمرا اجلاس کل آج ہو رہا ہے جس میں سکیورٹی صورتحال پر بریفنگ دی جائے گی۔

    ترجمان قومی اسمبلی کے مطابق اس اجلاس میں عسکری قیادت، پارلیمانی کمیٹی کو ملک کی موجوہ سکیورٹی صورتحال سے آگاہ کرے گی۔

    ترجمان کے مطابق اس اجلاس میں پارلیمان میں موجود تمام سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی لیڈران اور ان کے نامزد کردہ نمائندگان شرکت کریں گے۔

    اس اجلاس کے لیے پارلیمنٹ میں غیر معمولی سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔ ترجمان قومی اسمبلی کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی میں ہونے والے قومی سلامتی کے ان کیمرہ اجلاس کے موقع پر سکیورٹی کے سخت اور غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔

    کسی بھی غیر متعلقہ فرد کا داخلہ ممنوع قرار دے دیا گیا ہے جبکہ میڈیا سمیت تمام انٹری کارڈز کو عارضی طور پر غیر مؤثر کر دیا گیا ہے۔

    ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ اجلاس کے دوران پارلیمنٹ کی حدود میں کسی بھی قسم کی عکس بندی، ویڈیو گرافی اور فوٹو گرافی پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

    ترجمان قومی اسمبلی کا کہنا ہے کہ میڈیا کی اہمیت اور ضروریات سے مکمل آگاہ ہیں لیکن قومی سلامتی کے پیش نظر میڈیا اور تمام متعلقہ فریقین سے تعاون کی گزارش کی جاتی ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل سات اپریل 2023 کو منعقد ہونے والے قومی سلامتی کونسل کے اجلاس میں ملک میں شدت پسندی سے نمٹنے کے لیے ایک نیا جامع آپریشن شروع کرنے کی منظوری دی گئی تھی۔

    یہ اجلاس وزیراعظم ہاﺅس میں منعقد ہوا تھا جس میں وفاقی وزرا چئیرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی، سروسز چیفس اور متعلقہ اداروں کے اعلی حکام نے شرکت کی تھی۔

    اجلاس کے بعد جاری ہونے والے اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ اجلاس نے قوم کو پائیدار امن کی فراہمی کے لیے سکیورٹی فورسز کی قربانیوں اور کاوشوں کا اعتراف کیا۔ فورم نے پاکستان سے دہشت گردی کے خاتمے تک اپنی کارروائیاں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ بھی کیا تھا۔

    اعلامیے میں کہا گیا کہ ’کمیٹی نے دہشت گردی کی حالیہ لہر کو ٹی ٹی پی ( دہشت گرد قرار دی جانے والی تنظیم) کے ساتھ نرم گوشہ اور عدم سوچ بچار پر مبنی پالیسی کا نتیجہ قرار دیا، جس کے نتیجے میں دہشت گردوں کو بلا رکاوٹ واپس آنے کی نہ صرف اجازت دی گئی بلکہ ٹی ٹی پی کے خطرناک دہشت گردوں کو اعتماد سازی کے نام پر جیلوں سے رہا بھی کر دیا گیا۔‘

  16. غزہ کی پٹی پر اسرائیل کے ’بڑے پیمانے‘ پر فضائی حملوں میں 200 سے زائد فلسطینی ہلاک

    غزہ میں حماس کے زیر انتظام وزات صحت کا کہنا ہے کہ منگل کی صبح ہونے والے فضائی حملوں میں 220 سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ اس نے غزہ میں بڑے پیمانے پر فضائی حملے کیے ہیں۔

    بی بی سی عربی کے نامہ نگار کے مطابق اسرائیلی جنگی طیاروں نے منگل کی صبح غزہ کی پٹی کے بیشتر شہروں پر فضائی حملے کیے ہیں۔ ان علاقوں میں شمالی غزہ کی پٹی، غزہ سٹی، دیر البلاح، خان یونس اور وسطی اور جنوبی غزہ کی پٹی کے رفح کے علاقے شامل ہیں۔

    عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ یہ حملے منگل کو علی الصبح اس وقت شروع ہوئے جب لوگ رمضان کا روزہ رکھنے کے لیے سحری کر رہے تھے۔

    بتایا گیا ہے کہ 20 سے زیادہ جنگی طیاروں نے رفع، خان یونس اور غزہ شہر کو نشانہ بنایا۔

    عینی شاہدین نے بتایا کہ غزہ کی پٹی میں درجنوں اسرائیلی جنگی طیاروں نے اہداف کو نشانہ بنایا اور ہر طرف دھماکوں کی آوازیں سنی۔

    ان حملوں کے بعد سامنے آنے والی ویڈیوز میں نشانہ بنائے گئے علاقوں سے دھوئیں کے بادل اٹھتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں جبکہ ایمبولینسز سے زخمیوں کو باہر نکالے جاتے ہوئے دیکھا جا رہا ہے۔

    اسرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ اس نے غزہ میں حماس کے اہداف پر بہت زیادہ حملے کیے ہیں۔

    اسرائیلی کی ڈیفینس فورسز کا کہنا ہے کہ وہ حماس سے تعلق رکھنے والے ’دہشت گردی کے اہداف‘ کو نشانہ بنا رہے تھے۔

    اطلاعات کے مطابق آج ہونے والے حملوں میں علاقے میں حماس کے اعلیٰ سکیورٹی حکام میں سے ایک اور غزہ میں نائب وزیر داخلہ محمف انو وفا کی ہلاکت ہوئی ہے۔

    خیال رہے کہ 19 جنوری کو ہونے والے سیز فائر کے بعد اسرآییل کی جانب سے فضائی حملوں کی یہ سب سے بڑی کارروائی ہے۔

    اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی میں توسیع کے لیے کیے جانے والے مذاکرات کسی بھی معاہدے پر پہنچنے میں ناکام ہو گئے ہیں۔

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ جب تک ضروری ہوا وہ غزہ میں حماس کے رہنماؤں اور انفراسٹرکچر کے خلاف حملے جاری رکھنے کے لیے تیار ہے اور یہ مہم فضائی حملوں سے آگے بڑھائی جائے گی۔

    ادھر اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو نے کہا کہ انھوں نے اسرائیلی فوج کو یرغمالیوں کی رہائی سے انکار اور جنگ بندی کی تمام تجاویز کو مسترد کرنے کے جواب میں حماس کے خلاف ’سخت کارروائی‘ کرنے کی ہدایت کی ہے۔

    وزیر اعظم کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اسرائیل اب سے حماس کے خلاف فوجی طاقت میں اضافہ کرے گا۔‘

    وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے فاکس نیوز کو بتایا ہے کہ اسرائیل نے ان حملوں سے قبل امریکی انتظامیہ سے رابطہ کیا تھا۔

    اسرائیل اور حماس کے درمیان حالیہ جنگ کا آغاز 7 اکتوبر 2023 کو ہوا تھا جب حماس نے جنوبی اسرائیل میں 1200 سے زائد افراد کو ہلاک کیا تھا جن میں زیادہ تر عام شہری تھے جبکہ 251 کو یرغمال بنا لیا گیا تھا۔

    حماس کے زیر انتظام وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق اس حملے کے نتیجے میں اسرائیلی فوج کی کارروائی شروع ہوئی جس میں اب تک 48,520 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سے زیادہ تر عام شہری ہیں۔

    ایک اندازے کے مطابق غزہ میں 70 فیصد عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں، صحت کی دیکھ بھال، پانی اور صفائی ستھرائی کا نظام تباہ ہو چکا ہے اور خوراک، ایندھن، ادویات اور پناہ گاہوں کی قلت ہے۔

  17. خضدار شہر میں دستی بم حملے میں پولیس افسر کے پانچ رشتہ دار زخمی, محمد کاظم، بی بی سی اردو

    بلوچستان میں خضدار شہر میں دستی بم حملے میں ایک پولیس آفیسر کے پانچ رشتہ دار زخمی ہو گئے۔

    دستی بم کا حملہ خضدار شہر میں کوشک کے علاقے میں سابق ایس ایچ او خضدار اور موجودہ ایس ایچ او حب سٹی قادر شیخ کے گھر پر کیا گیا۔

    ایس ایچ او خضدار پولیس عبدالوہاب ساسولی نے فون پر بتایا کہ نامعلوم افراد نے پولیس آفیسر کے گھر پر دستی بم پھینکا جس کے پھٹنے سے ایس ایچ او کے والد سمیت خاندان کے پانچ افراد زخمی ہو گئے۔

    ایس ایچ او کے والد کے سوا باقی چار افراد کی عمریں آٹھ سے 14 سال کے درمیان ہیں۔ زخمیوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لیے ٹراما سینٹر منتقل کیا گیا۔

    عبدالوہاب ساسولی نے بتایا کہ ایس ایچ او حب کے والد کی حالت تشویشناک تھی جنھیں طبی امداد کی فراہمی کے بعد علاج کے لیے کراچی منتقل کیا گیا۔

  18. حکومت اپنے فیصلوں پر نظر ثانی کرے اور ہمیں زیادہ وقت دیا جائے: نمائندہ وفد افغان پناہ گزین

    پشاور میں مقیم افغان پناہ گزینوں کے ایک نمائندہ وفد نے اپنی پریس کانفرنس میں پاکستان کے وزیر اعظم اور آرمی چیف سے درخواست کی ہے کہ ’ہمیں جانے کے لیے مدت اور تاریخ دی جائے کہ ہم سلسلہ وار پاکستان چھوڑ کر جائیں۔‘

    پریس کانفرنس کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے بچوں کو سکول، کالجوں اور یونیورسٹیوں سے تعلیم سے محروم نہ کیا جائے تمام سٹیک ہولڈر مل بیٹھ کے ایک فیصلہ کریں۔

    ’افغانستان میں اس وقت رہنے کھانے پینے کے بہت بڑے مسائل ہیں۔‘

    افغان نمائندوں نے وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخواہ علی امین گنڈاپور کا شکریہ ادا کیا کہ انھوں نے ’ہمارے لیے کچھ الفاظ کہہ کے ہمارے دل جیت لیے ہم پاکستان کے وفادار ہیں اور رہیں گے۔‘

    متحدہ مرکزی عالی شوریٰ کے چیئرمین میاں خیل بریالے، وائس چیئرمین متحدہ مرکزی عالی شوریٰ اور بورڈ بازار کے صدر سعید نقیب بادشاہ نی افغان پناہ گزینوں کے حوالے سے پاکستان حکومت کے فیصلوں پر بات چیت کی ہے۔

    انھوں نے کہا ہے کہ ’ایک طرف طورخم سرحد بند ہے اور جو لوگ رضاکارانہ طور پر جانا چاہتے ہیں وہ نہیں جا سکتے اور اس کے علاوہ وقت بہت کم دیا گیا ہے ایسے میں یہاں سے افغان پناہ گزینوں کو سب کچھ ختم کر کے جانے میں مشکلات کا سامنا ہو گا، اس لیے حکومت اپنے فیصلوں پر نظر ثانی کرے اور ہمیں زیادہ وقت دیا جائے۔‘

  19. تحریک انصاف کا قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کے ان کیمرا اجلاس میں شرکت کا فیصلہ, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    سابق وزیر اعظم عمران خان کی جماعت تحریک انصاف نے قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کے خصوصی اجلاس میں شرکت کے لیے اپنے 14 ارکان کے نام سپیکر قومی اسمبلی کو بھجوا دیے ہیں۔

    پی ٹی آئی کے جو 14 ارکان اس اجلاس میں شرکت کریں گے ان میں چیئرمین بیرسٹر گوہر، قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب، اسد قیصر، زرتاج گل، عامر ڈوگر، سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر شبلی فراز اور سینیٹر علی ظفر شامل ہیں۔

    خیال رہے کہ پاکستان کی قومی سلامتی کمیٹی کا ان کیمرا اجلاس کل یعنی منگل کی صبح 11 بجے قومی اسمبلی ہال میں منعقد ہوگا، جس میں سیکورٹی صورتحال پر بریفنگ دی جائے گی۔

    ترجمان قومی اسمبلی کے مطابق اس اجلاس میں عسکری قیادت، پارلیمانی کمیٹی کو ملک کی موجوہ سکیورٹی صورتحال سے آگاہ کرے گی۔

    ترجمان کے مطابق اس اجلاس میں پارلیمان میں موجود تمام سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی لیڈران اور ان کے نامزد کردہ نمائندگان شرکت کریں گے۔

    سکیورٹی کے غیرمعمولی انتظامات

    اس اجلاس کے لیے پارلیمنٹ میں غیر معمولی سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔ ترجمان قومی اسمبلی کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی میں ہونے والے قومی سلامتی کے ان کیمرہ اجلاس کے موقع پر سکیورٹی کے سخت اور غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔

    کسی بھی غیر متعلقہ فرد کا داخلہ ممنوع قرار دے دیا گیا ہے جبکہ میڈیا سمیت تمام انٹری کارڈز کو عارضی طور پر غیر مؤثر کر دیا گیا ہے۔

    ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ اجلاس کے دوران پارلیمنٹ کی حدود میں کسی بھی قسم کی عکس بندی، ویڈیو گرافی اور فوٹو گرافی پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

    ترجمان قومی اسمبلی کا کہنا ہے کہ میڈیا کی اہمیت اور ضروریات سے مکمل آگاہ ہیں لیکن قومی سلامتی کے پیش نظر میڈیا اور تمام متعلقہ فریقین سے تعاون کی گزارش کی جاتی ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل سات اپریل 2023 کو منعقد ہونے والے قومی سلامتی کونسل کے اجلاس میں ملک میں شدت پسندی سے نمٹنے کے لیے ایک نیا جامع آپریشن شروع کرنے کی منظوری دی گئی تھی۔

    یہ اجلاس وزیراعظم ہاﺅس میں منعقد ہوا تھا جس میں وفاقی وزرا چئیرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی، سروسز چیفس اور متعلقہ اداروں کے اعلی حکام نے شرکت کی تھی۔

    اجلاس کے بعد جاری ہونے والے اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ اجلاس نے قوم کو پائیدار امن کی فراہمی کے لیے سکیورٹی فورسز کی قربانیوں اور کاوشوں کا اعتراف کیا۔ فورم نے پاکستان سے دہشت گردی کے خاتمے تک اپنی کارروائیاں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ بھی کیا تھا۔

    اعلامیے میں کہا گیا کہ ’کمیٹی نے دہشت گردی کی حالیہ لہر کو ٹی ٹی پی ( دہشت گردقرار دی جانے والی تنظیم)کے ساتھ نرم گوشہ اور عدم سوچ بچار پر مبنی پالیسی کا نتیجہ قرار دیا، جس کے نتیجے میں دہشت گردوں کو بلا رکاوٹ واپس آنے کی نہ صرف اجازت دی گئی بلکہ ٹی ٹی پی کے خطرناک دہشت گردوں کو اعتماد سازی کے نام پر جیلوں سے رہا بھی کر دیا گیا۔‘

  20. طورخم کے قریب عمائدین کا جرگہ، فائربندی اور پاکستان افغان سرحد کھولنے پر اتفاق, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردوڈاٹ کام، پشاور

    پاکستان افغان سرحد طور خم کے مقام پر آج دونوں ممالک کے درمیان ایک مرتبہ پھر جرگہ منعقد ہوا ہے، جس میں فائر بندی اور سرحد کھولنے پر رضا مندی ظاہر کی گئی ہے۔ اس جرگے نے افغانستان کی جانب سے متنازع مقام پر چوکی کی تعمیر کے بارے میں افغان نمائندوں سے شام تک کا وقت مانگا ہے۔

    دونوں جانب سے قبائلی عمائدین، تاجر اور علما پر مشتمل وفد نے سرحد کے قریب افغانستان کے علاقے گمرک میں اس اجلاس میں شرکت کی۔

    پاکستان کی جانب سے جرگے میں شامل شاہ خالد شنواری نے مقامی صحافیوں کو بتایا کہ جرگہ میں تفصیل سے بات چیت ہوئی ہے اور جرگے کے قواعد کے مطابق پہلی نشست میں تین نکات سامنے رکھے گئے تھے، جن میں فائر بندی، متنازع مقام پر چیک پوسٹ پر کام بند کرنا ہے اور تیسرے نمبر پر سرحد کھولی جائے گی۔

    انھوں نے بتایا کہ متنازع مقام پر چوکی کی تعمیر کے بارے میں افغان جرگے نے آج شام تک کا وقت مانگا ہے جس کے بعد وہ جواب دیں گے۔

    اس جرگے کے مطابق اگر افغان حکومت متنازع مقام پر چوکی کی تعمیر روک دیتی ہے تو اس کے بعد سرحد کھول دی جائے گی۔

    جرگے کے رکن ملک تاج الدین نے بی بی سی کو بتایا کہ آج پاکستان کی جانب سے 36 افراد جرگے میں شامل تھے جبکہ افغانستان سے 25 افراد شریک ہوئے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس جرگے میں مثبت پیشرفت نظر آ رہی تھی اور امید ہے کہ سرحد جلد کھول دی جائے گی۔

    پاکستان افغان سرحد طورخم کے مقام پر گزشتہ 25 دنوں سے بند ہے اور اس سے مقامی آبادی کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ سرحد کی بندش سے دونوں جانب بڑی تعداد میں گاڑیاں سرحد کے قریب علاقے میں کھڑی ہیں۔

    دریں اثنا اسلام آباد ہائیکورٹ میں افغان مہاجرین سے متعلق سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر کی درخواست پر سماعت ہوئی۔

    اس دوران عدالت نے ریمارکس دیے کہ ’آپ کو یہ حق حاصل نہیں آپ دس ہزار بندوں کے لیے درخواست دائر کر دیں۔ درخواست گزاروں کی حد تک آپ اعتراضات دور کریں پھر اس کو سن لیتے ہیں۔‘