آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

ٹرمپ اور زیلنسکی کا ٹیلیفونک رابطہ، ہم بالکل درست سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں: امریکی صدر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کے درمیان فون پر تفصیلی گفتگو ہوئی ہے۔ ٹروتھ سوشل میں ایک پوسٹ میں صدر ٹرمپ نے تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہنے والی اس فون کال کو ’بہت اچھا‘ قرار دیا ہے۔

خلاصہ

  • یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان فون پر تفصیلی گفتگو ہوئی ہے۔ ٹروتھ سوشل میں ایک پوسٹ میں صدر ٹرمپ نے تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہنے والی اس فون کال کو 'بہت اچھی‘ گفتگو قرار دیا ہے۔
  • روس اور یوکرین نے جنگی قیدیوں کی رہائی پر اتفاق کر لیا ہے۔ روس نے یوکرین کے 175 جنگی قیدی رہا کر دیے ہیں۔
  • پاکستان اور افغانستان کی طورخم سرحد 25 روز بند رہنے کے بعد آج جزوی طور پر بڑی گاڑیوں کے لیے کھول دی گئی ہے۔
  • روسی صدر ولادیمیر پوتن نے امریکی ہم منصب کے ساتھ فون پر بات چیت میں یوکرین میں فوری طورپر جنگ بندی کو مسترد کر دیا ہے تاہم وہاں توانائی کے انفراسٹرکچر کو نشانہ نہ بنانے پر آمادگی کا اظہار کیا ہے۔
  • غزہ کی پٹی میں بدھ کی صبح اسرائیلی فضائیہ نے پھر سے حملے کیے جن میں میڈیارپورٹس کے مطابق کم از کم نو افراد ہلاک ہوئے۔
  • ڈسٹرکٹ جیل اٹک سے رات گئے پی ٹی آئی کے 75 کارکنوں کو انسداد دہشتگردی عدالت کے حکم پر رہا کر دیا گیا۔
  • غزہ کی پٹی پر اسرائیل کے 'بڑے پیمانے' پر فضائی حملوں میں حماس کے وزارت صحت کے مطابق 400 سے زائد فلسطینی ہلاک، حملوں کا آغاز اس وقت ہوا جب مکین سحری کی تیاری کر رہے تھے۔

لائیو کوریج

  1. جعفر ایکسپریس پر حملے کے بعد ’تضحیک آمیز ٹویٹ‘ کے الزام میں پی ٹی آئی کارکن ایف آئی اے کی حراست میں

    اسلام آباد کی انسداد دہشتگردی عدالت نے بولان میں جعفر ایکسپریس پر حملے کے بعد ’منفی پراپیگنڈے‘ اور ’تضحیک آمیز ٹویٹ‘ کے الزام میں گرفتار تحریک انصاف کے کارکن حیدر سعید کو تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے حوالے کر دیا ہے۔

    ایف آئی اے کی طرف سے گرفتار ملزم کو جوڈیشل مجسٹریٹ محمد عباس شاہ کی عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔

    ایف آئی اے نے ان کے آٹھ روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی تاہم عدالت نے ان کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر کے دوبارہ 20 مارچ کو پیش کرنے کا حکم دیا۔

    پی ٹی آئی کے کارکن کے خلاف ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ نے مقدمہ درج کیا تھا اور ان پر سوشل میڈیا کے ذریعے گمراہ کن مواد شیئر کرنے کا الزام ہے۔

    تحریک انصاف نے ایک بیان میں ان کی گرفتاری کی مذمت کی ہے۔ اس بیان میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد کے علاقے بنی گالہ میں حیدر سعید کے گھر پر رات گئے چھاپہ مارا گیا۔

  2. کپواڑہ ضلعے میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں ایک عسکریت پسند ہلاک

    انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے کپواڑہ ضلعے میں پولیس کے مطابق مسلح شدت پسندوں کے ساتھ جھڑپ میں ایک عسکریت پسند مارا گیا۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ یہ جھڑپ ایل او سی کے قریبی علاقہ زچل ڈارا میں کل دیررات شروع ہوئی تھی۔

    مقامی لوگوں کے مطابق وسیع علاقے کا محاصرہ کیا گیا اور وقفے وقفے سے فائرنگ کی آوازیں آرہی ہیں۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ جھڑپ میں ایک فوجی بھی زخمی ہوا ہے تاہم ذرائع نے بتایا چار فوجی شدید زخمی ہوئے جنہیں ہسپتال منتقل کیا گیا۔

    گذشتہ روز انڈیا کی پارلیمنٹ میں ایک سوال کے جواب میں انڈین وزارت داخلہ نے کہا تھا کہ کشمیر میں اب بھی 79 مسلح عسکریت پسند سرگرم ہیں جن میں سے 59 غیرملکی ہیں۔

  3. اگر کوئی افغان کلیئر ہے تو اسے پاکستان کی شہریت دینے میں کوئی حرج نہیں: علی امین گنڈا پور

    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈہ پور نے ایک اخباری کانفرنس کے دوران کہا ہے کہ وفاقی حکومت کی افغان پناہ گزینوں کو 31 مارچ کے بعد واپس اپنے وطن بھیجنے کی پالیسی کی وہ تائید نہیں کرتے اور یہ کہ وہ اس بارے میں اپنے صوبے کے حالات کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کریں گے۔

    انھوں نے کہا ہے کہ ’وفاقی حکومت کو دیکھنا چاہیے کہ اگر کوئی بھی افغان کلیئر ہے اور وہ شہریت لینا چاہتا ہے تو اسے شہریت دینا چاہیے اس میں کوئی حرج نہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ماضی میں ان افغان پناہ گزینوں کو واپس بھیجا گیا تھا جس سے نفرتیں پھیلتی ہیں۔ جب تک وہ خود اپنی مرضی سے نہیں جانا چاہتے تب تک انھیں زبردستی واپس بھیجننے کی حمایت نہیں کرتا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے کہا ہے لیکن جب ان کے صوبے میں اس پر عمل درآمد کی بات ہوگی تو وہ اس کو دیکھیں گے کیا کرنا ہے۔ انھوں نے کہا ’میں وفاقی حکومت کی افغان پناہ گزینوں کے بارے میں پالیسی کی تائید نہیں کر سکتا۔‘

    علی امین گنڈہ پور نے کہا کہ انھوں نےافغانستان سے مزاکرات کا کہا تھا تو ان پر تنقید شروع کر دی گئی تھی لیکن بارہا کہنے پر وفاقی حکومت کی رضا مندی سے کام شروع کیا اور وفاقی حکومت کے نمائندے بھی شامل کیے گئےاور اس سلسلے میں ٹی او آرز بھی بھیجے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’ٹی او آرز وفاقی حکومت کی مرضی سے بھیجے تھے لیکن اب تک اس پر خاموشی ہے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ہمارے فیصلہ ساز افراد خود تو بیلجیئم میں جزیرے خرید کر نیشنیلٹی حاصل کرتےہیں اور دیگر ممالک کے جزیرے اور نیشنلٹی لینے کے لیے بے تاب ہوتے ہیں تو کیا کسی افغان کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ پاکستان کی نیشنیلٹی حاصل کر سکے۔‘

    انھوں نے کہا کہ وہ وفاقی حکومت کی اس غلط پالیسی کے حق میں نہیں ہیں اور وہ اس پالیسی کو نہیں مانتے ’یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ ‘

  4. یمن میں امریکہ کے حوثی ٹھکانوں پر اور حوثی باغیوں کے امریکی بحری جہازوں پر مزید جوابی حملے

    یمن میں حوثیوں سے وابستہ المسیرہ ٹی وی چینل کے مطابق مغربی یمن میں حوثیوں کے زیر کنٹرول ساحلی علاقے الحدیدہ میں پیر کی صبح دو نئے امریکی فضائی حملے کیے گئے۔

    سنیچر کی رات دارالحکومت صنعا اور ملک بھر کے دیگر علاقوں کو نشانہ بنانے والے اسی طرح کے فضائی حملوں کے بعد یہ اقدام کیا گیا ہے۔

    چینل نے خبر دی ہے کہ دو امریکی فضائی حملوں میں ساحلی صوبہ حدیدہ کے ضلع زبید میں کپاس کی ایک فیکٹری کو نشانہ بنایا گیا، جسے اس سے قبل گذشتہ سال اسرائیلی حملوں کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

    دوسری جانب حوثی باغیوں نے پیر کی صبح بحیرہ احمر میں امریکی طیارہ بردار بحری جہاز ہیری ایس ٹرومین پر ہونے والے دوسرے حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

    گروپ نے ٹیلی گرام پر ایک بیان میں کہا 'خدا کی مدد سے 24 گھنٹوں میں دوسری بار امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ہیری ایس ٹرومین کو شمالی بحیرہ احمر میں متعدد بیلسٹک اور کروز میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا جو کئی گھنٹوں تک جاری رہا۔'

    یمن میں حوثیوں کے خلاف امریکی حملوں کے بعد درجنوں افراد کی ہلاکت کے جواب میں حوثیوں نے سب سے پہلے اتوار کے روز امریکی طیارہ بردار بحری جہاز کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا تھا، جسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 'بے مثال جہنم' قرار دیا تھا۔

    یہ بھی پڑھیے

    ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی ایک تقریر میں الحوثی نے کہا کہ امریکہ کو اس وقت تک سمندری جہاز رانی کی پابندی میں شامل رکھا جائے گا جب تک وہ اپنی جارحیت جاری رکھے گا۔

    انھوں نے مزید کہا کہ 'ہمارا فیصلہ صرف اسرائیلی دشمن کے لیے تھا اور اب امریکہ کو پابندی میں شامل کیا جائے گا۔'

    الحوثی نے اپنے حامیوں پر زور دیا ہے کہ وہ صنعا اور دیگر یمنی شہروں میں امریکی حملوں کی مذمت کے لیے'ملین مین' مارچ کریں۔

    وائٹ ہاؤس نے اتوار کو کہا تھا کہ سنیچر کی رات کیے گئے امریکی حملوں میں یمن میں متعدد حوثی رہنما ہلاک ہوئے تھے۔

    قومی سلامتی کے مشیر مائیکل والٹز نے اے بی سی نیوز کو بتایا کہ فضائی حملوں میں دراصل متعدد حوثی رہنماؤں کو نشانہ بنایا گیا اور ہلاک کیا گیا۔ فاکس نیوز کو دیے گئے ایک اور بیان میں انھوں نے مزید کہا کہ'ہم نے ان پر زبردست طاقت سے حملہ کیا اور ایران کو متنبہ کیا کہ اب بہت ہو چکا ہے۔'

  5. اسرائیل اور حماس کے درمیان دوحہ میں بالواسطہ مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کی توقع

    غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کی شرائط پر شدید اختلافات کو دور کرنے کی کوششوں کے سلسلے میں اسرائیل اور حماس کے درمیان دوحہ میں بالواسطہ مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کی توقع ہے۔

    اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے اتوار کو بتایا ہے کہ اسرائیلی مذاکرات کار مصری ثالثوں کے ساتھ حماس کے یرغمالیوں کے معاملے پر بات چیت کر رہے ہیں۔

    مذاکرات کے ایک قریبی ذرائع نے بتایا کہ حماس کا ایک وفد، چیف مذاکرات کار خلیل الحیا کی سربراہی میں، جنگ بندی سے متعلق مذاکرات کے لیے قاہرہ کے لیے روانہ ہوا۔

    ذرائع نے مزید کہا کہ ’وفد نے مصری حکام کے ساتھ نتیجہ خیز بات چیت کی‘، جس میں حماس کی جانب سے تازہ ترین امریکی تجویز کو قبول کرنے کی روشنی میں جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد کو آگے بڑھانے کے طریقوں پر توجہ مرکوز کی گئی۔

    اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے مصری ثالثوں کے ساتھ غزہ میں جنگ بندی جاری رکھنے پر بات چیت کے لیے مصر میں اسرائیلی مذاکرات کاروں کی موجودگی کی تصدیق کی ہے۔

    دفتر نے کہا ’وزیراعظم بنیامن نتن یاہو کی ہدایات کی بنیاد پر، مذاکراتی ٹیم کے نمائندے فی الحال یرغمالیوں کے معاملے پر بات کرنے کے لیے مصری حکام سے ملاقات کر رہے ہیں۔‘

    حماس نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اب گیند اسرائیل کے کورٹ میں ہے۔

    حماس کی جانب سے فوری جنگ بندی، امداد کے لیے سرحدی گزرگاہوں کو کھولنے، فلاڈیلفی راہداری سے انخلا، اور پچاس دنوں کے اندر جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کے آغاز کے بدلے میں اسرائیلی نژاد امریکی ایڈان الیگزینڈر اور چار دیگر یرغمالیوں کی لاشوں کے حوالے کرنے کے معاہدے کا اعلان کیا گیا ہے۔

    لیکن اسرائیلی فریق نے اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے تقریباً 400 فلسطینی قیدیوں کے بدلے 11 زندہ قیدیوں اور 16 لاشوں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔

  6. نائٹ کلب میں آگ لگنے سے کم از کم 59 افراد ہلاک اور 155 زخمی

    شمالی مقدونیہ ایک نائٹ کلب میں آگ لگنے سے کم از کم 59 افراد ہلاک اور 155 دیگر زخمی ہو گئے۔ مرنے والوں میں زیادہ تر نوجوان ہیں اور ان کی عمریں 14 سے 25 سال کے درمیان بتائی جا رہی ہیں۔

    ماریجا تاسیوا شمالی مقدونیہ کے شہر کوکانی کے پلس کلب میں اپنی بہن کے ساتھ گئی تھیں جب یہ حادثہ پیش آیا۔ وہ ملک کی مشہور ہپ ہاپ جوڑی ڈی این کے کو دیکھ رہےتھے۔

    19 سالہ لڑکی نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ 'ہر کوئی چیخنے لگا اور باہر نکلو، باہر نکلو' کے نعرے لگانے لگے۔ لوگوں نے آگ سے بچنے کی کوشش کی لیکن تقریبا 500 لوگوں کے لیے صرف ایک راستہ تھا کیونکہ تقریب کے پیچھے واحد دوسرا دروازہ بند تھا۔'

    ماریجا کا کہنا تھا کہ 'مجھے نہیں معلوم کہ کیسے لیکن میں زمین پر گر گئی، میں اٹھ نہیں سکی اور اسی لمحے لوگوں نے مجھ پر قدم رکھ کر گزرنا شروع کر دیا۔'

    لیکن بلآخر کار وہ محفوظ مقام تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئیں، لیکن ان کی بہن ایسا نہیں کرسکیں۔ 'میری بہن مر گئی۔ مجھے بچا لیا گیا تھا اسے نہیں بچا سکے۔'

    پولیس نے دس مشتبہ افراد کو گرفتار گیا جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ آگ لگنے کے ذمہ دار ہیں، جن میں 'یہ لائسنس دینے والی وزارتوں کے عہدیدار' بھی شامل ہیں۔

    وزیر داخلہ پینس توسکووسکی نے بتایا کہ آگ مقامی وقت کے مطابق رات ڈھائی بجے اس وقت لگی جب آتش گیر آلات سے نکلنے والی چنگاریاں چھت سے ٹکرا گئیں جو انتہائی آتش گیر مواد سے بنی تھی۔

    توسکووسکی نے کہا کہ مقامی میڈیا کی جانب سے اسے 'دیسی ساختہ نائٹ کلب' قرار دیا گیا ہے اور دارالحکومت اسکوپیے سے تقریبا 100 کلومیٹر مشرق میں واقع اس نائٹ کلب کے پاس کام کرنے کا قانونی لائسنس نہیں تھا۔

    یہ پہلے قالین کا گودام تھا اور پولیس اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ آیا رشوت اور بدعنوانی کا آگ سے کوئی تعلق ہے یا نہیں۔

    کوکانی ہسپتال کی سربراہ کرسٹینا سرافیموفسکا نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں سے زیادہ تر کو باہر نکلنے کی کوشش کے دوران خوف و ہراس کے باعث بھگدڑ مچنے کی وجہ سے چوٹیں آئیں۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ 'ان میں سے 70 مریض جھلس گئے ہیں اور کاربن مونو آکسائیڈ کا زہر دیا گیا ہے۔'

    یونیورسٹی کلینک فار سرجیکل ڈیزیز میں تعمیر نو اور پلاسٹک سرجری کے ماہر ولادیسلاو گروئیف زندہ بچ جانے والوں کا علاج کر رہے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ان میں سے زیادہ تر کے جسم کا 18 فیصد سے زیادہجلا ہے ۔ سر، گردن، اوپری دھڑ اور اوپری اعضا یعنی ہاتھوں اور انگلیوں پر دوسرے اور تیسرے درجے کے جلنے کے زخم ہیں۔

    پبلک پراسیکیوٹر کے دفتر کی ترجمان بلجانا ارسووسکا نے کہا کہ اتوار کے روز معائنے میں اس مقام میں کئی ’خامیاں‘ سامنے آئیں، جن میں آگ بجھانے اور روشنی کے نظام میں'خامیاں' بھی شامل ہیں۔

    ہسپتال کے باہر خطاب کرتے ہوئے ریڈ کراس کے رضاکار مصطفیٰ سعیدوف نے کہا کہ ہلاک ہونے والوں میں اکثریت نوجوانوں کی تھی۔

    انھوں نے کہا کہ 'اندر جہاں وہ متاثرین کی شناخت کر رہے ہیں، وہاں صورتحال اس سے کہیں زیادہ خراب ہے۔ آپ دیکھتے ہیں کہ والدین بھی کافی نوجوان ہیں، ان کی عمر 40 کی دہائی میں ہیں۔ ان کے بچے 15 یا 20 سال کے ہیں۔'

  7. قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کا ان کیمرہ اجلاس طلب

    پاکستان میں قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کا ان کیمرہ اجلاس طلب کرلیا گیا ہے۔

    سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے یہ اجلاس وزیراعظم پاکستان شہبازشریف کے کہنے پر طلب کیا ہے۔

    قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کا یہ اجلاس منگل کو قومی اسمبلی میں ہوگا۔

    اجلاس کی صدارت سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کریں گے جس کے دوران ملک میں جاری سکیورٹی صورتحال پر بریفنگ دی جائے گی۔

    اجلاس میں عسکری قیادت پارلیمانی کمیٹی کو موجوہ سکیورٹی صورتحال سے آگاہ کرے گی۔

    اجلاس میں پارلیمان میں موجود تمام سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی لیڈرز اور ان کے نامزد نمائندگان شرکت کریں گے۔ کابینہ کے اراکین بھی قومی سلامتی کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔

  8. یمن میں حوثی باغیوں کے ٹھکانوں پر بمباری میں ہلاکتیں 53 ہو گئیں

    حوثی باغیوں کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ یمن پر امریکی حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 53 ہو گئی ہے جن میں پانچ بچے بھی شامل ہیں۔

    امریکہ نے کہا ہے کہ اس نےسنیچر کو حوثیوں کے ٹھکانوں پر 'فیصلہ کن اور طاقتور' فضائی حملوں کا آغاز کیا، صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بحیرہ احمر میں جہاز وں پر حوثیوں کے حملوں کو اس کی وجہ قرار دیا۔

    واشنگٹن کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں حوثیوں کی اہم شخصیات بھی شامل ہیں تاہم اس گروپ نے اس بات کی تصدیق نہیں کی ہے۔

    حوثی رہنما عبدالمالک الحوثی نے کہا ہے کہ جب تک امریکہ یمن پر حملے جاری رکھے گا ان کے عسکریت پسند بحیرہ احمر میں امریکی جہازوں کو نشانہ بنائیں گے۔

    قبل ازیں حوثیوں کی وزارت صحت کے ترجمان انیس العسباہی نے ایکس پر پوسٹ کیا تھا کہ 53 افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں 'پانچ بچے اور دو خواتین' شامل ہیں اور 98 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    دو بچوں کے والد جنھوں نے اپنا نام احمد بتایا نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا 'میں 10 سال سے صنعا میں رہ رہا ہوں اور جنگ کے دوران گولہ باری کی آوازیں سن رہا ہوں۔ خدا کی قسم، میں نے پہلے کبھی ایسا تجربہ نہیں کیا۔'

    حوثی باغیوں کا کہنا ہے کہ اتوار کی رات بندرگاہ سے جڑے شہر حدیدہ میں تازہ امریکی حملے کیے گئے۔ امریکہ نے ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

    امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر مائیکل والٹز نے اے بی سی نیوز کو بتایا کہ سنیچر کو کیے گئے حملوں میں 'متعدد حوثی رہنماؤں کو نشانہ بنایا گیا اور انھیں باہر نکالا گیا۔

    انھوں نے فاکس نیوز کو بتایا کہ 'ہم نے ان پر زبردست طاقت سے حملہ کیا اور ایران کو آگاہ کیا کہ اب بہت ہو چکا ہے۔'

    امریکہ کے وزیر دفاع پیٹ ہیگسٹھ نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ حوثیوں کے حملے بند ہونے تک وہ 'غیر متزلزل' میزائل مہم چلائیں گے۔

    فوکس بزنس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ہیگسٹھ نے کہا 'میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ یہ مہم جہاز رانی کی آزادی اور ڈیٹرنس کی بحالی کے لیے میں ہے۔'

    حوثی باغیوں کا کہنا ہے کہ وہ بحیرہ احمر میں بحری جہازوں کو اس وقت تک نشانہ بناتے رہیں گے جب تک اسرائیل غزہ کی ناکہ بندی ختم نہیں کر دیتا اور اس کی افواج ان حملوں کا جواب دیں گی۔

    ایران کے حمایت یافتہ باغی گروپ، جو اسرائیل کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں، صنعا اور یمن کے شمال مغرب پر کنٹرول رکھتے ہیں، لیکن یہ ملک کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت نہیں ہے۔ حوثی باغیوں کا کہنا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ میں فلسطینیوں کی حمایت میں کام کر رہے ہیں اور انھوں نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ صرف اسرائیل، امریکہ یا برطانیہ سے تعلق رکھنے والے بحری جہازوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

    نومبر 2023 سے اب تک حوثیوں نے بحیرہ احمر اور خلیج عدن میں درجنوں تجارتی بحری جہازوں کو میزائلوں، ڈرونز اور چھوٹی کشتیوں کے حملوں سے نشانہ بنایا ہے۔

    انھوں نے دو کشتیوں کو غرق کر دیا، تیسرے کو قبضے میں لے لیا اور عملے کے چار ارکان کو ہلاک کر دیا۔

    سنیچر کو ہونے والے حملوں کا اعلان کرتے ہوئے امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ 'جب تک ہم اپنا مقصد حاصل نہیں کر لیتے تب تک ہم بھاری مہلک طاقت کا استعمال کریں گے۔'

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ ایران کی مالی معاونت سے حوثی باغیوں نے امریکی طیاروں پر میزائل داغے اور ہمارے فوجیوں اور اتحادیوں کو نشانہ بنایا۔

    حوثیوں کو براہ راست مخاطب کرتے ہوئے ٹرمپ نے لکھا کہ اگر وہ نہ رکے تو 'آپ پر جہنم کی بارش ہوگی جیسے آپ نے پہلے کبھی نہیں دیکھی۔'

    لیکن حوثیوں نے اپنے ردعمل میں غیر متزلزل رویہ اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس جارحیت سے فلسطینیوں کے لیے ان کی حمایت میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔

  9. گذشتہ روز کی اہم خبروں کا خلاصہ

    • ڈپٹی کمشنر ٹانک اور ڈپٹی کمشنر جنوبی وزیرستان لوئر نے سکیورٹی خدشات کے پیش نظر 17 مارچ 2025 کو مختلف علاقوں میں مکمل کرفیو نافذ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ڈپٹی کمشنر ٹانک کے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ صبح چھ بجے سے شام چھ بجے تک مکمل کرفیو ہوگا۔ اسی طرح، ڈپٹی کمشنر جنوبی وزیرستان لوئر کے نوٹیفکیشن کے مطابق زلائی سے کیڈٹ کالج وانا روڈ اور تنائی سے سروکئی، جنڈولہ روڈ پر بھی صبح چھ بجے سے شام چھ بجے تک مکمل کرفیو نافذ رہے گا۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ سکیورٹی اداروں سے تعاون کریں اور کرفیو کے دوران غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کریں۔
    • پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں دو دنوں کے اندر مسلح شدت پسندوں کی جانب سے ایک درجن کے لگ بھگ حملے ہوئے ہیں جن میں سے بیشتر کا نشانہ پولیس اہلکار تھے۔ ان حملوں میں کم سے کم پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ پولیس نے جوابی کارروائیوں میں کرک اور لکی مروت میں دو شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب کالعدم شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے ’آپریشن خندق‘ کا اعلان کیا گیا ہے۔
    • پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع نوشکی میں ایک بم دھماکے میں تین سکیورٹی اہلکاروں سمیت پانچ افراد ہلاک اور 32 زخمی ہوئے ہیں۔ پاکستان کے سرکاری میڈیا پی ٹی وی کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ عسکری ذرائع نے تین سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے جبکہ ہلاک ہونے والوں میں دو عام شہری بھی شامل ہیں۔ نوشکی میں ایک سینیئر سرکاری اہلکار نے بتایا کہ یہ دھماکہ نوشکی شہر کے قریب کوئٹہ اور تفتان کے درمیان آر سی ڈی شاہراہ پر ہوا۔ ان کے مطابق سکیورٹی فورسز کا ایک قافلہ کوئٹہ سے نوکنڈی کی جانب جا رہا تھا جس میں سات بسیں اور دو کاریں شامل تھیں۔
    • پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ان کی حکومت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو موجودہ سطح پر برقرار رکھتے ہوئے اس کا مالی فائدہ بجلی کی قیمتوں میں کمی کر کے عوام کو منتقل کرے گی۔ وزیرِ اعظم کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’یہ اقدام ان بہت سے دیگر اقدامات میں سے ایک ہے جو بجلی کے نرخوں میں بامعنی کمی کا باعث بنیں گے۔‘