آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

ٹرمپ کا ایران کے خلاف آپریشن جاری رکھنے کا اعلان، برطانیہ نے امریکہ کو اپنے فوجی اڈے دفاعی کارروائیوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دے دی

صدر ٹرمپ نے متنبہ کیا ہے کہ ایران کے خلاف جنگی کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک ’ہمارے تمام مقاصد حاصل نہیں ہو جاتے۔‘ دوسری جانب برطانیہ نے امریکہ کو اپنے فوجی اڈے دفاعی کارروائیوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دے دی

خلاصہ

  • ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی تسنیم نے تصدیق کی ہے کہ ملک کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہو گئے ہیں
  • ایرانی حکومت نے ملک بھر میں 40 روزہ سوگ اور سات دن کی عام تعطیل کا اعلان کیا ہے اور ساتھ ہی ایران نے مقبوضہ علاقوں اور امریکی اڈوں پر تاریخ کی سب سے ’تباہ کن‘ فوجی کارروائی شروع کرنے کا عندیہ دیا ہے
  • صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رہبرِ اعلیٰ کی ہلاکت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ ایران پر بمباری جاری رکھے گا اور تہران میں ابھی بھی دھماکوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں
  • اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی دفاعی قیادت کو ختم کر دیا گیا ہے اور مارے جانے والوں میں ایرانی وزیر دفاع عزیز نصیر زادہ، سکیورٹی امور کے مشیر علی شامخانی اور پاسدران انقلاب کے کمانڈر محمد پاکپور بھی شامل ہیں

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, ایران پر حملے میں امریکہ بھی شامل ہے: ٹرمپ کی تصدیق

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر آٹھ منٹ کی ویڈیو میں تصدیق کی ہے کہ ایران پر حملے میں امریکہ بھی شامل تھا۔

    ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ نے ایران میں ’اہم جنگی کارروائیاں‘ شروع کر دی ہیں۔

    ویڈیو میں امریکی صدر نے اعلان کیا کہ امریکی افواج نے ایران میں بڑے پیمانے پر کارروائیاں انجام دینا شروع کر دی ہیں۔

  2. تہران، قم اور تبریز سمیت متعدد شہروں میں دھماکوں کی تصدیق: ایرانی میڈیا

    ایرانی میڈیا نے تہران سمیت ملک کے کئی شہروں میں دھماکوں کی تصدیق کی ہے۔ ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق ایران کے مختلف شہروں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

    مقامی میڈیا کے مطابق تہران کے علاوہ کرمان شاہ، قم، لرستان، کرج اور تبریز ان شہروں میں شامل ہیں جہاں دھماکے سنے گئے ہیں۔

    دوسری جانب ایران نے اپنی فضائی حدود بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    ایران کی سول ایوی ایشن آرگنائزیشن کے ترجمان ماجد اخوان نے اعلان کیا کہ ’جاری کردہ نوٹم کی بنیاد پر پورے ملک کی فضائی حدود کو اگلے نوٹس تک بند کر دیا گیا ہے۔ اس سے قبل اسرائیلی حکام نے بھی اپنے ملک کی فضائی حدود بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔‘

  3. اسرائیل اور ایران نے فضائی حدود بند کر دی

    رپورٹس کے مطابق، سنیچر کی صبح ایران پر حملے کے بعد اسرائیل نے اپنی فضائی حدود پر شہری پروازوں کے لیے پابندی عائد کر دی ہے۔

    ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم، جو پاسدارانِ انقلاب سے منسلک ہے، نے بتایا کہ ایران نے بھی اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں۔

  4. ایران پر اسرائیلی حملہ امریکہ کو آگاہ کر کے کیا گیا

    رپورٹس کے مطابق ایران پر اسرائیل کے حملے سے قبل امریکہ کو آگاہ کیا گیا تھا۔

    امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے بتایا ہے کہ اسرائیل کے حملے کی منصوبہ بندی امریکہ کے ساتھ کی گئی اور اسرائیل کی وائے نیٹ نیوز نے بھی یہی رپورٹ دی ہے۔

    بی بی سی نے اس کی تصدیق کے لیے امریکی حکام سے رابطہ کیا ہے۔

  5. اسرائیل بھر میں صبح تقریباً 08:15 پر سائرن بجائے گئے, ہیوگو باچیگا، بی بی سی یروشلم

    اسرائیل میں مقامی وقت کے مطابق صبح تقریباً 08:15 پر سائرن بجائے گئے جس سے ممکنہ میزائل حملے کے خطرے کی وارننگ دی گئی۔

    اسرائیلی حملے ایسے وقت میں ہوئے جب امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے اور جنگ سے بچنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری تھیں، اور توقع تھی کہ مذاکرات اگلے ہفتے بھی جاری رہیں گے۔

    ایران نے مذاکرات میں کچھ مطالبات پر اتفاق کیا تھا، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جو پہلے ایران پر حملے کی دھمکی دے چکے تھے تاکہ اس کے رہنماؤں کو معاہدہ قبول کرنے پر مجبور کیا جا سکے، نے کہا کہ وہ مذاکرات کے طریقے سے ’خوش نہیں ہیں‘۔

    ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ میں سب سے بڑی امریکی فوجی تیاری کا حکم دیا ہے، جو 2003 میں عراق پر حملے کے بعد سب سے بڑی ہے، لیکن انھوں نے ابھی تک یہ نہیں بتایا کہ فوجی کارروائی کی ضرورت کیوں پڑ سکتی ہے۔ ایران نے وعدہ کیا ہے کہ کسی حملے کا جواب طاقت کے ساتھ دیا جائے گا۔

    اسرائیلی وزیر دفاع نے کہا کہ یہ ’قبل از وقت حملہ‘ اسرائیل کے خلاف خطرات کو ختم کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔ پچھلے جون میں اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تھا، جس سے 12 روزہ جنگ شروع ہوئی۔ بعد میں امریکہ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا۔

    حال ہی میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا کہ ایران کے بیلسٹک میزائل اسرائیل کے لیے خطرہ ہیں اور ایسے معاہدے کی مخالفت کی جو صرف ایران کے جوہری پروگرام پر توجہ دیتا ہو۔

    ایران نے کہا کہ وہ اپنی بیلسٹک میزائل پروگرام کی حد بندی یا خطے میں حامی گروہوں جیسے غزہ میں حماس، لبنان میں حزب اللہ، عراق میں ملیشیا اور یمن میں حوثیوں کے خاتمے پر بات نہیں کرے گا، کیونکہ یہ اس کی خودمختاری کی خلاف ورزی ہے۔

  6. تہران میں ہونے والے دھماکوں کی مزید تصاویر

    ایرانی خبر رساں ایجنسیوں نے تہران میں ہونے والے دھماکوں کی مزید تصاویرشائع کی ہیں۔

  7. اسرائیل بھر میں سائرن بجائے جا رہے ہیں

    اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد اسرائیل کی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) کے مطابق ملک بھر میں سائرن بجائے گئے ہیں اور موبائل ڈیوائسز پر براہِ راست ہدایت جاری کی گئی کہ لوگ محفوظ جگہوں کے قریب رہیں۔

    ایکس پر جاری بیان کے مطابق یہ ایک پیشگی الرٹ ہے تاکہ عوام کو ممکنہ میزائل حملوں کے لیے تیار کیا جا سکے۔

    اسرائیلی دفاعی فورسز (آئی ڈی ایف) نے زور دیا ہے کہ عوام محفوظ جگہوں کے قریب رہیں۔

  8. اسرائیل نے اپنی فضائی حدود کو شہری پروازوں کے لیے بند کر دیا

    اسرائیل نے اپنی فضائی حدود کو شہری پروازوں کے لیے بند کر دیا ہے۔

    اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ ایران پر ملک کے حملے کے بعد سنیچر کے روز ان کی فضائی حدود کو شہری پروازوں کے لیے بند کر دیا گیا تھا۔

    اس سے قبل اسرائیلی وزیر دفاع نے اس حملے کی تصدیق کی تھی۔

  9. بریکنگ, تہران کے شمال اور مشرق میں دھماکوں کی آوازیں: ایرانی میڈیا

    ایرانی میڈیا میں تہران میں مزید دھماکوں کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔

    ایران کی سرکاری فارس نیوز ایجنسی کے مطابق تہران کے شمال اور مشرق میں کئی نئے دھماکے سنے گئے۔

  10. بریکنگ, تہران میں تین دھاکوں کی آوازیں اور دھوئیں کے بادل

    بی بی سی کو تہران سے تصویریں موصول ہوئی ہیں جن میں جمہوری سکوائر اور حسن آباد سکوائر پر دھوئیں کے بادل بلند دیکھے جا سکتے ہیں۔

  11. بریکنگ, اِسرائیل کا ایران پر حملے کا دعویٰ، تہران کے مرکز میں تین دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں

    اِسرائیل نے ایران کے خلاف ایک ایسا حملہ شروع کیا ہے جسے وہ ’پری ایمپٹو/ احتیاطاً پہلے حملہ ‘ قرار دے رہا ہے۔

    آج صبح جاری کردہ ایک بیان میں، اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے پورے اسرائیل میں ’خصوصی اور مستقل ہنگامی حالت‘ نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    ایران کی فارس نیوز ایجنسی نے تہران کے مرکز میں تین دھماکوں کی اطلاع دی ہے۔

    ایجنسی نے کہا کہ ابتدائی رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ کئی میزائلوں نے دانشگاہ سٹریٹ اور ریپبلک کے علاقے کو نشانہ بنایا۔ „

    یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ’یورینیم کی افزودگی نہ کرے۔‘ انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ وہ مذاکرات میں ایران کے موقف سے مطمئن نہیں ہیں اور وہ ایسے مواد کی تیاری کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں جو جوہری ہتھیار بنانے کے لیے استعمال ہو سکتا ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات نے ایران پر امریکی حملے کے امکان کے بارے میں خدشات کو بڑھا دیا تھا۔ اس دوران کئی ممالک نے اپنے شہریوں پر زور دیا کہ وہ جلد از جلد ایران چھوڑ دیں۔ تاہم فی الحال امریکہ کے بجائے اسرائیل نے پہلے ایران پر میزائل داغ دیے ہیں۔

  12. بریکنگ, تہران کے مرکز میں دھماکوں کی آوازیں

    ایران کی فارس نیوز ایجنسی نے اطلاع دی ہے کہ تہران کے مرکز میں کئی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

    فارس نیوز ایجنسی نے تہران کے مرکز میں تین دھماکوں کی اطلاع دی ہے۔

    خبر رساں ایجنسی نے کہا کہ ابتدائی اطلاعات سے پتہ چلتا ہے کہ متعدد میزائل دانشگاہ سٹریٹ اور جمہوری کے علاقے میں گرے۔

  13. اقوام متحدہ کا ایرانی پانیوں کے قریب امریکی فوجی نقل و حرکت پر تشویش کا اظہار

    اقوام متحدہ کے ترجمان سٹیفن دوجارک نے ایران پر امریکی حملے کے امکان کے بارے میں صحافیوں کو جواب دیتے ہوئے کہا: ’میرے خیال میں سفارتی راستے سے مثبت پیغامات آرہے ہیں، جن کی ہم حوصلہ افزائی کرتے رہیں گے۔‘

    ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہم پورے خطے میں انتہائی تشویشناک فوجی نقل و حرکت دیکھ رہے ہیں اور اس کے واضح طور پر دو ممکنہ راستے ہیں۔

    دوجارک نے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کے حوالے سے کہا کہ وہ اسلامی جمہوریہ ایران اور امریکہ کے درمیان عمان کی ثالثی میں بالواسطہ بات چیت کے جاری رہنے کا خیرمقدم کرتے ہیں اور فریقین پر زور دیتے ہیں کہ وہ ایک پائیدار معاہدے کی طرف عزم اور نیک نیتی کے ساتھ تعاون جاری رکھیں۔

    اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ترجمان کے مطابق، گوٹیریس نے ایرانی جوہری مسئلے کے کسی بھی کامیاب حل کے لیے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی طرف سے مکمل اور جامع تصدیق کو بھی ضروری سمجھا۔

    متعدد ممالک نے اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کے لیے کہا ہے، جن میں برطانیہ، کینیڈا اور انڈیا بھی شامل ہیں۔

  14. ایران کو ’یورینیم افزودہ کرنے سے بالکل باز رہنا چاہیے‘: ٹرمپ کی تنبیہ

    امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کو ’یورینیم افزودہ کرنے سے بالکل باز رہنا چاہیے‘۔

    خیال رہے امریکہ کے تہران کے ساتھ حالیہ مذاکرات بغیر کسی پیش رفت کے ختم ہو گئے ہیں۔

    رپورٹرز سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران سے مطمئن نہیں ہیں اور کوشش کر رہے ہیں کہ وہ جوہری ہتھیار بنانے کے لیے استعمال ہونے والے مواد کی پیداوار نہ کرے۔

    ٹرمپ کے بیانات نے خدشات بڑھا دیے ہیں کہ امریکہ ممکنہ طور پرایران پر کسی حملے کی تیاری کر رہا ہے، جبکہ امریکی شہریوں کو ایران اور اسرائیل چھوڑنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    جنیوا مذاکرات میں ثالثی کرنے والے عمانی وزیر خارجہ بدر البوسعیدی نے بھی کہا کہ ایران نے افزودہ یورینیم ذخیرہ نہ کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

    البوسعیدی کے مطابق، تمام مسائل ’دوستی اور مکمل طور پر‘ تین ماہ کے اندر حل کیے جا سکتے ہیں۔

  15. پاکستان اور افغانستان کی عسکری صلاحیتوں میں واضح فرق

    پاکستان اور افغان طالبان کی فوجی صلاحتیوں میں کافی نمایاں فرق ہے۔

    پاکستانی مسلح افواج، جو ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ہے، دنیا کی 15 بڑی فوجی طاقتوں کی فہرست میں شامل ہے۔ جبکہ دوسری جانب افغان طالبان کے پاس نہ تو کافی فوجی وسائل ہیں اور انھیں دیگر مشکلات کا سامنا بھی ہے۔

    طالبان کے پاس موجود فوجی ہتھیاروں کی بڑی تعداد تین ذرائع سے آتی ہے: سابق افغان فوج کے چھوڑے گئے ہتھیار، غیر ملکی افواج کے انخلا کے وقت چھوڑے گئے ہتھیار، اور ایسے نئے ہتھیار جو طالبان نے مختلف ذرائع بشمول بلیک مارکیٹ سے حاصل کیے ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ماضی کی سرحدی جھڑپوں کی ویڈیوز سے ظاہر ہوتا ہے کہ طالبان افواج نے زیادہ تر ہلکے ہتھیار پاکستانی افواج کے خلاف استعمال کیے ہیں۔

    تاہم، تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان کو گوریلا جنگ کا وسیع تجربہ حاصل ہے۔

    اس حوالے سے بی بی سی اُردو نے حال ہی میں ایک تفصیلی رپورٹ شائع کی تھی جسے ذیل میں دے گئے لنک پر کلک کر کے پڑھا جا سکتا ہے۔

  16. پاکستان میں دہشت گردی کے خطرے کے پیشِ نظر امریکی شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت

    امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے باعث پاکستانی سکیورٹی فورسز نے دہشت گردی کے ممکنہ خطرات کے جواب میں بڑے شہروں میں اپنی موجودگی بڑھا دی ہے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے، فوجی تنصیبات اور بڑے تجارتی مراکز دہشت گرد تنظیموں کے ممکنہ ہدف بن سکتے ہیں۔

    امریکی مشن نے اپنے شہریوں کو تجویز دی ہے کہ وہ ان علاقوں کا دورہ کرتے وقت، خاص طور پر رش کے اوقات میں، انتہائی احتیاط برتیں۔ امریکی شہریوں کو یاد دہانی کرائی گئی ہے کہ وہ ذاتی سکیورٹی کے بہترین اقدامات اپنائیں، جیسے اپنے ارد گرد کی خبر رکھنا، بھیڑ سے گریز، اور اپنی سٹیپ رجسٹریشن کو اپ ڈیٹ رکھنا۔

    امریکی شہریوں کے لیے تجاویز:

    • احتیاط برتیں اور اگر اچانک فوجی سرگرمیوں کے قریب ہوں تو علاقے سے نکل جائیں۔
    • مقامی میڈیا پر اپ ڈیٹس دیکھتے رہیں۔
    • لو پروفائل رکھیں اور اپنے ارد گرد سے ہوشیار رہیں۔
    • شناختی دستاویزات ساتھ رکھیں اور حکام کے ساتھ تعاون کریں۔
    • پاکستان کے لیے ملک کی سیکیورٹی رپورٹ کا جائزہ لیں۔
  17. آپریشن ’غضب للحق‘: 37 مقامات پر فضائی حملوں میں پاکستان کا افغان طالبان کے 331 اہلکاروں کی ہلاکت، 104 چیک پوسٹیں تباہ کرنے کا دعویٰ

    پاکستان کے وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کا دعویٰ ہے کہ اب تک آپریشن ’غضب للحق‘ کے تحت کارروائیوں میں افغان طالبان کو بھاری نقصان پہنچایا گیا ہے۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ 28 فروری کی صبح تک:

    • 331 اہلکار ہلاک
    • 500 سے زائد زخمی
    • 104 چیک پوسٹیں تباہ
    • 22 چیک پوسٹوں پر قبضہ
    • 163 ٹینک اور مسلح گاڑیاں تباہ
    • افغانستان بھر میں 37 مقامات کو فضائی کارروائیوں میں مؤثر طور پر نشانہ بنایا گیا

    وزیر اطلاعات کے مطابق کارروائیاں جاری ہیں اور مزید تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی۔

    یاد رہے پاکستان نے جمعے کو افغانستان کے دارالحکومت کابل سمیت پاک افغان سرحد کے قریب واقع مرکزی شہروں قندھار اور پکتیا میں فضائی حملے کیے ہیں۔ پاکستانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان نے ان مقامات پر دفاعی اہداف کو نشانہ بنایا۔

    اس سے قبل پاکستان کی طرف سے افغانستان کے اندر تک فضائی حملے کیے گئے ہیں تاہم دونوں ملکوں درمیان ہونے والی حالیہ کشیدگی کے دوران پہلی مرتبہ پاکستان نے کابل اور قندھار جیسے بڑے شہروں کو نشانہ بنایا گیا۔

  18. لنڈسے گراہم کی ایران کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے تنبیہ: ’عمان سے آنے والے پیغامات سے محتاط رہیں‘

    سینیئر ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم نے ایران کے ساتھ مذاکرات کے خلاف خبردار کیا ہے۔

    انھوں نے ایکس پر لکھا، ’یہ معاہدہ سینیٹ میں پیش ہونا چاہیے اور اس پر مکمل غور کیا جانا چاہیے۔‘

    سینیٹر گراہم، جو ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی اتحادی اور اہم ساتھی سمجھے جاتے ہیں، نے مزید کہا، ’جب ان مسائل کی بات آتی ہے تو یہ میرے لیے کسی سیاسی یا متعصبانہ موقف کا سوال نہیں ہے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ معاہدہ کون پیش کرتا ہے؛ میں سخت اور واضح سوالات ضرور کروں گا۔‘

    انھوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اسلامی جمہوریہ اور اس کے رہنما کو اپنے وعدوں پر عمل کرنا ہوگا، اور عمانی وزیر خارجہ کے امریکہ کے حالیہ دورے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، ’عمان سے آنے والے پیغامات سے محتاط رہیں۔‘

    گراہم، جنھوں نے ماضی میں ایران میں مظاہرین کی حمایت میں امریکی مداخلت کا بارہا مطالبہ کیا ہے، نے لکھا، ’میرے لیے یہ بات واضح ہے کہ بہترین اور واحد طویل مدتی حل یہ ہے کہ ایرانی عوام کے ساتھ کھڑا ہوا جائے اور حکومت کی تبدیلی کا مطالبہ کیا جائے۔‘

  19. ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات پر امریکی صدر کا عدم اطمینان کا اظہار: ’میں خوش نہیں ہوں‘

    امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ حالیہ جوہری پروگرام کے مذاکرات کے نتائج سے خوش نہیں ہیں، تاہم انھوں نے یہ فیصلہ نہیں کیا کہ آیا ملک پر فوجی کارروائی کی جائے یا نہیں۔

    جنیوا میں جمعرات کو بغیر کسی معاہدے کے ختم ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے ٹرمپ نے کہا، ’میں اس بات سے خوش نہیں کہ وہ ہمیں وہ فراہم نہیں کر رہے جو ہمارے لیے ضروری ہے۔ اس لیے میں خوش نہیں ہوں۔‘

    امریکی صدر نے زور دیا کہ وہ ایران کے خلاف فوجی طاقت استعمال نہیں کرنا چاہتے، لیکن کہا کہ بعض اوقات ’یہ ناگزیر ہو جاتا ہے۔‘

    امریکہ کی جانب سے ایران پر ممکنہ حملوں کے خدشات کے پیشِ نظر متعدد ممالک نے جمعے کو اپنے شہریوں کو خطے سے نکلنے یا محتاط رہنے کی ہدایت جاری کی ہے۔

  20. خطے میں بڑھتی کشیدگی: فرانس، اٹلی، امریکہ، برطانیہ اور چین کی اپنے شہریوں کو ایران و اسرائیل سے متعلق سفری ہدایات

    فرانس نے اپنے شہریوں کو اسرائیل، یروشلم اور مغربی کنارے کے سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق فرانسیسی وزارتِ خارجہ نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیشِ نظر اپنے شہریوں کو اسرائیل، یروشلم اور مغربی کنارے کا سفر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

    علاقائی تناؤ میں اضافے کے باعث متعدد ممالک نے اپنے شہریوں کو ایران کا سفر کرنے سے خبردار کیا ہے یا وہاں موجود افراد کو جلد از جلد ملک چھوڑنے کی ہدایت کی ہے۔

    اٹلی کی بھی اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کی ہدایت

    جمعے کے روز اطالوی حکومت نے سکیورٹی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے شہریوں پر زور دیا کہ وہ ایران چھوڑ دیں اور مشرقِ وسطیٰ کے سفر سے گریز کریں۔

    اطالوی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا: ’وہ اطالوی شہری جو ایران میں سیاحت کے لیے موجود ہیں یا جن کی وہاں موجودگی ناگزیر نہیں ہے، ان سے کہا جاتا ہے کہ وہ ملک چھوڑ دیں۔‘

    وزارتِ خارجہ نے مزید کہا کہ عراق اور لبنان کا سفر بالکل تجویز نہیں کیا جاتا۔

    اسرائیل میں موجود اطالوی شہریوں کو بھی ’زیادہ سے زیادہ احتیاط برتنے‘ کی ہدایت کی گئی ہے۔

    حالیہ دنوں میں کئی دیگر ممالک نے بھی اسی نوعیت کی وارننگز جاری کی ہیں۔ برطانیہ نے جمعے کو اعلان کیا کہ وہ عارضی طور پر ایران سے اپنے سفارتی عملے کو واپس بلا رہا ہے، جبکہ چین نے بھی اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کی ہدایت کی ہے۔

    امریکہ، برطانیہ اور چین نے اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کا مشورہ دیا ہے۔ حفاظتی خطرات کے باعث امریکی محکمۂ خارجہ نے اسرائیل میں موجود امریکی مشن سے غیر ہنگامی نوعیت کے سرکاری اہلکاروں اور ان کے اہلِ خانہ کے انخلا کی اجازت دے دی ہے۔

    سکیورٹی واقعات کے تناظر میں امریکی سفارت خانہ بغیر پیشگی اطلاع مزید پابندیاں عائد کر سکتا ہے یا اپنے اہلکاروں اور ان کے اہلِ خانہ کو اسرائیل کے بعض علاقوں، یروشلم کے قدیم شہر اور مغربی کنارے کا سفر کرنے سے روک سکتا ہے۔ شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ جب تک کمرشل پروازیں دستیاب ہیں، وہ اسرائیل چھوڑنے پر غور کریں۔

    ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے تیسرے دور کے بعد بھی غیر یقینی کی صورتحال برقرار ہے۔ امریکہ کے بعد چین نے بھی اپنے شہریوں کو ایران کا سفر نہ کرنے اور وہاں موجود افراد کو جلد از جلد نکلنے کی ہدایت کی ہے۔ سرکاری خبر رساں ادارے شِنہوا کے مطابق یہ اقدام سکیورٹی صورتحال کے پیشِ نظر کیا گیا ہے۔