فرانس نے اپنے شہریوں کو اسرائیل، یروشلم اور مغربی کنارے کے سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق فرانسیسی وزارتِ خارجہ نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیشِ نظر اپنے شہریوں کو اسرائیل، یروشلم اور مغربی کنارے کا سفر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
علاقائی تناؤ میں اضافے کے باعث متعدد ممالک نے اپنے شہریوں کو ایران کا سفر کرنے سے خبردار کیا ہے یا وہاں موجود افراد کو جلد از جلد ملک چھوڑنے کی ہدایت کی ہے۔
اٹلی کی بھی اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کی ہدایت
جمعے کے روز اطالوی حکومت نے سکیورٹی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے شہریوں پر زور دیا کہ وہ ایران چھوڑ دیں اور مشرقِ وسطیٰ کے سفر سے گریز کریں۔
اطالوی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا: ’وہ اطالوی شہری جو ایران میں سیاحت کے لیے موجود ہیں یا جن کی وہاں موجودگی ناگزیر نہیں ہے، ان سے کہا جاتا ہے کہ وہ ملک چھوڑ دیں۔‘
وزارتِ خارجہ نے مزید کہا کہ عراق اور لبنان کا سفر بالکل تجویز نہیں کیا جاتا۔
اسرائیل میں موجود اطالوی شہریوں کو بھی ’زیادہ سے زیادہ احتیاط برتنے‘ کی ہدایت کی گئی ہے۔
حالیہ دنوں میں کئی دیگر ممالک نے بھی اسی نوعیت کی وارننگز جاری کی ہیں۔ برطانیہ نے جمعے کو اعلان کیا کہ وہ عارضی طور پر ایران سے اپنے سفارتی عملے کو واپس بلا رہا ہے، جبکہ چین نے بھی اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کی ہدایت کی ہے۔
امریکہ، برطانیہ اور چین نے اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کا مشورہ دیا ہے۔ حفاظتی خطرات کے باعث امریکی محکمۂ خارجہ نے اسرائیل میں موجود امریکی مشن سے غیر ہنگامی نوعیت کے سرکاری اہلکاروں اور ان کے اہلِ خانہ کے انخلا کی اجازت دے دی ہے۔
سکیورٹی واقعات کے تناظر میں امریکی سفارت خانہ بغیر پیشگی اطلاع مزید پابندیاں عائد کر سکتا ہے یا اپنے اہلکاروں اور ان کے اہلِ خانہ کو اسرائیل کے بعض علاقوں، یروشلم کے قدیم شہر اور مغربی کنارے کا سفر کرنے سے روک سکتا ہے۔ شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ جب تک کمرشل پروازیں دستیاب ہیں، وہ اسرائیل چھوڑنے پر غور کریں۔
ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے تیسرے دور کے بعد بھی غیر یقینی کی صورتحال برقرار ہے۔ امریکہ کے بعد چین نے بھی اپنے شہریوں کو ایران کا سفر نہ کرنے اور وہاں موجود افراد کو جلد از جلد نکلنے کی ہدایت کی ہے۔ سرکاری خبر رساں ادارے شِنہوا کے مطابق یہ اقدام سکیورٹی صورتحال کے پیشِ نظر کیا گیا ہے۔