یہ ایران کی غیر مستحکم تاریخ کے فیصلہ کن لمحات ہیں، لیکن ملک کے سب سے طاقتور علما اور کمانڈر اس کے لیے پہلے سے تیار تھے۔
گذشتہ سال جون میں 12 دن کی جنگ کے دوران اس کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔ پہلی رات کے حملوں میں اسرائیل نے نو نیوکلیئر سائنسدانوں اور کئی سکیورٹی چیفز کو ہلاک کر دیا تھا۔ اگلے دنوں میں مزید سینئر سائنسدان اور کم از کم 30 اہم کمانڈرز مارے گئے۔
یہ واضح کر دیا گیا تھا کہ آیت اللہ خامنہ ای بھی ان کا ہدف ہو سکتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق، خامنہ ای نے جنگ کے دوران اپنے خاص بنکر میں رہتے ہوئے سکیورٹی حکام کی فہرستیں تیار کیں تاکہ اگر کسی اعلیٰ سطح پر عہدے خالی ہوں تو فوری طور پر ان کے متبادل کا تقرر کیا جا سکے۔
پچھلے سال کی دشمنیوں سے بھی پہلے ہی، خامنہ ای نے ’مجلسِ رہبری‘ کو ہدایت دی تھی، یہ تقریباً 88 سینئر علما کا گروپ ہے جو سپریم لیڈر کے انتخاب کے لیے ذمہ دار ہے، کہ ہر ممکن صورتحال کے لیے تیار رہیں۔
نیو یارک ٹائمز نے رپورٹ کیا کہ اپنی ہلاکت کی صورت میں انھوں نے ’تین سینئر علما‘ کو ممکنہ جانشین کے طور پر منتخب کیا تھا۔
سالوں سے یہ قیاس آرائیاں جاری رہی ہیں کہ ان کی جگہ کون لے سکتا ہے، اس میں ان کے بیٹے مجتبیٰ کا نام بھی شامل ہے۔
پہلے دن کے فضائی اور مخصوص حملوں میں صرف سپریم لیڈر ہی نہیں مارے گئے۔ جو لوگ ابھی بھی اپنے عہدوں پر موجود ہیں، یا جو اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوئے ہیں، وہ دنیا کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ وہ اب بھی مضبوطی سے اقتدار میں ہیں اور جانشینی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے طے ہو گا۔
لیکن آیت اللہ خامنہ ای کے 36 سالہ دور حکومت کا اختتام ان کے حمایتیوں، خاص طور پر ان کے مددگاروں اور پاسدارانِ انقلاب کے اہلکاروں کے لیے ایک شدید جھٹکا ہوگا، جو انھیں اور اسلامی انقلاب کو ملک اور بیرون ملک دفاع کرنے کے لیے ذمہ دار ہیں۔
بی بی سی نے ویڈیوز کی تصدیق کی ہے جن میں دیکھا جا سکتا ہے کہ تہران اور کرج کی سڑکوں پر لوگ ان کی ہلاکت کی خبروں پر جشن منا رہے ہیں۔
مغرب، خاص طور پر امریکہ پر اور اسرائیل کے خلاف سخت شک و شبہ رکھنے والے خامنہ ای نے مضبوط گرفت کے ساتھ حکومت کی، اصلاحات کے مطالبات کو دبایا اور بار بار احتجاج کی لہروں کو روکا۔
پچھلے چند سالوں میں اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ براہِ راست فوجی تنازعات اور اپنی ہی عوام کی طرف سے بڑھتی ہوئی تبدیلی کی خواہش نے انھیں ان کے سب سے بڑے چیلنجز کا سامنا کروایا۔
اب جب خامنہ ای کا دور حکومت اچانک ختم ہو رہا ہے تو ہہ سوال یہ اٹھیں گے کہ ان کا جانشین کون ہو گا اور کیا اعلیٰ قیادت میں تبدیلی 47 سالہ اسلامی جمہوریہ کے رخ میں بھی تبدیلی کی علامت ہو سکتی ہے۔
چاہے جو بھی اقتدار میں آئے، ان کا بنیادی مقصد ایک ہی رہے گا۔۔۔ ایسا نظام قائم رکھنا جو علما اور طاقتور سیکیورٹی فورسز کو اقتدار میں رکھے۔
اور ایک جنگ، جو ابھی ختم نہیں ہوئی، پہلے ہی غیر متوقع اور خطرناک طریقوں سے جاری ہے۔