پاکستانی وزیرِ داخلہ کی تہران میں ایرانی صدر اور قالیباف سے ملاقات، امریکہ نے ایران سے مذاکرات کی بحالی کے لیے شرائط پیش کر دیں: ایرانی میڈیا

ایرانی فوجی اور سکیورٹی حلقوں کے قریب سمجھی جانے والی خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق کہ مذاکرات کی بحالی کے لیے ایران کی تجویز کے جواب میں امریکہ نے 400 کلو گرام افزودہ یورینیم کی حوالگی سمیت پانچ شرائط عائد کی ہیں۔ دوسری جانب ایرانی صدر کا کہنا ہے کہ اسلامی ممالک جتنے زیادہ متحد ہوں گے، تسلط کی خواہشمند طاقتوں کی جانب سے جارحیت کے امکانات اتنے ہی کم ہوں گے۔

خلاصہ

  • ابو ظہبی میں نیوکلیئر پاور پلانٹ کے نزدیک ڈرون حملے کے نتیجے میں آتشزدگی
  • امریکہ نے 400 کلوگرام افزودہ یورینیم کی حوالگی سمیت ایران کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کے لیے پانچ شرائط پیش کر دیں: ایرانی میڈیا
  • دوبارہ حملے کی صورت میں ایران کا ردِعمل 'زیادہ جارحانہ' اور 'حیران کن' ہوگا: ایرانی مسلح افواج کے ترجمان کی دھمکی
  • امریکی انتظامیہ کے مطابق بحری بیڑے 'یو ایس ایس گیرالڈ آر فورڈ' کی 326 روزہ مشن کے بعد امریکہ واپسی ہو گئی ہے
  • القسام بریگیڈز نے سنیچر کے روز جاری بیان میں تصدیق کی ہے کہ ان کے کمانڈر عزالدین الحدّاد گزشتہ رات غزہ سٹی پر اسرائیلی فضائی حملے میں ہلاک ہو گئے ہیں
  • ایران کی وزارتِ خارجہ نے اسرائیلی فوج کے حملے میں القسام بریگیڈز کے کمانڈر عزالدین الحدّاد، ان کی اہلیہ اور بچے کی ہلاکت کی شدید مذمت کی ہے

لائیو کوریج

  1. شی جن پنگ سے اہم ملاقات کے بعد ٹرمپ کا تائیوان کو پیغام، آزادی کے اعلان سے گریز کی تاکید

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تائیوان کو چین سے باضابطہ آزادی کا اعلان کرنے سے خبردار کیا ہے۔

    جمعے کے روز فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے، بیجنگ میں چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ دو روزہ سربراہی اجلاس کے اختتام پر، صدر ٹرمپ نے کہا ’میں نہیں چاہتا کہ کوئی فریق آزادی کے معاملہ پر بات کرے۔‘

    تائیوان کے صدر لائی چنگ تے پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ تائیوان کو باضابطہ طور پر آزادی کا اعلان کرنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ وہ خود کو پہلے ہی ایک خودمختار ریاست سمجھتا ہے۔

    امریکہ طویل عرصے سے تائیوان کی حمایت کرتا آیا ہے اور قانون کے تحت اس کی دفاعی مدد کا پابند بھی ہے، تاہم اسے چین کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات بھی برقرار رکھنا ہوتے ہیں۔

    ٹرمپ نے اس سے قبل کہا تھا کہ انھوں نے اس معاملے پر ’کسی ایک مؤقف کی حمایت کا وعدہ نہیں کیا۔‘ چین تائیوان کو اپنی سرزمین کا حصہ قرار دیتا ہے اور ضرورت پڑنے پر طاقت کے استعمال کو مسترد نہیں کرتا۔

    امریکہ کا روایتی مؤقف یہی رہا ہے کہ وہ تائیوان کی آزادی کی حمایت نہیں کرتا، جبکہ بیجنگ کے ساتھ تعلقات اسی بنیاد پر قائم ہیں کہ دنیا میں صرف ایک چین کی حکومت کو تسلیم کیا جائے۔

    چین تائیوان کے صدر پر سخت تنقید کرتا رہا ہے اور اسے ’شرپسند‘ اور ’خطے کے امن کو نقصان پہنچانے والا‘ قرار دے چکا ہے۔

    تائیوان کے بہت سے لوگ خود کو ایک الگ قوم سمجھتے ہیں، تاہم اکثریت موجودہ صورتحال برقرار رکھنے کے حق میں ہے، جس میں نہ تو چین سے باقاعدہ آزادی کا اعلان کیا جائے اور نہ ہی اس میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا جائے۔

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ اس معاملے پر امریکی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

    انھوں نے کہا کہ ’ہمیں جنگ لڑنے کے لیے ہزاروں میل سفر کرنا پڑے گا، میں ایسا نہیں چاہتا۔ میں چاہتا ہوں کہ معاملات ٹھنڈے رہیں اور چین بھی تحمل کا مظاہرہ کرے۔‘

    واشنگٹن واپسی کے دوران صحافیوں سے گفتگو میں ٹرمپ نے بتایا کہ ان کی شی جن پنگ سے تائیوان پر تفصیلی بات چیت ہوئی، تاہم انھوں نے اس پر بات کرنے سے گریز کیا کہ آیا امریکہ تائیوان کے دفاع کے لیے مداخلت کرے گا یا نہیں۔

    ان کے مطابق شی جن پنگ اس معاملے پر ’بہت مضبوط مؤقف رکھتے ہیں‘ اور تائیوان کی آزادی کی کسی بھی تحریک کو نہیں دیکھنا چاہتے۔

    چینی سرکاری میڈیا کے مطابق شی جن پنگ نے مذاکرات کے دوران خبردار کیا کہ ’تائیوان کا مسئلہ چین اور امریکہ کے تعلقات میں سب سے اہم ہے‘ اور اگر اسے غلط طریقے سے نمٹایا گیا تو دونوں ممالک کے درمیان تصادم ہو سکتا ہے۔

    جب ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا وہ تائیوان کے معاملے پر چین کے ساتھ جنگ کا امکان دیکھتے ہیں تو انھوں نے کہا کہ ’نہیں، مجھے ایسا نہیں لگتا، سب ٹھیک رہے گا۔ شی جن پنگ جنگ نہیں چاہتے۔‘

  2. غزہ پر تازہ حملے میں اسرائیلی فوج کا حزب اللہ کے اہم کمانڈر کی ہلاکت کا دعویٰ

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ اُس نے غزہ سٹی پر فضائی حملے میں حماس کے کمانڈر عزالدین الحدّاد کو ہلاک کر دیا ہے، جنھیں اُس نے ’سات اکتوبر کے حملے کے منصوبہ سازوں میں سے ایک‘ قرار دیا تھا۔

    اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو اور وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے مشترکہ بیان میں کہا کہ الحدّاد ’ہزاروں اسرائیلی شہریوں اور اسرائیلی دفاعی افواج کے اہلکاروں کے قتل، اغوا اور زخمی ہونے کے ذمہ دار‘ تھے۔

    عینی شاہدین کے مطابق غزہ سٹی کے وسط میں واقع ایک رہائشی عمارت، جسے ’المعتز‘ کہا جاتا ہے، کو دو مختلف سمتوں سے بیک وقت داغے گئے تین میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔ اس کے بعد ایک گاڑی پر بھی حملہ کیا گیا۔

    یہ حملہ اُس وقت کیا گیا جب حماس کے ساتھ جنگ بندی کے باوجود اسرائیل کی جانب سے غزہ پر حملے جاری ہیں۔

    حماس نے تاحال اس بات کی نہ تصدیق کی ہے اور نہ تردید کہ اس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کے کمانڈر الحدّاد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    یہ فضائی حملہ غزہ سٹی کے مرکز میں واقع اپارٹمنٹ بلاک پر کیا گیا، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ امدادی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں، تاہم زخمیوں کو نکالنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک عینی شاہد نے بتایا کہ عمارت سے ایک لاش اور کئی زخمی افراد کو نکالا گیا۔

    عینی شاہدین اور مقامی ذرائع کے مطابق ایک دوسری فضائی کارروائی میں اس گاڑی کو نشانہ بنایا گیا جو جائے وقوعہ سے روانہ ہو رہی تھی، جس کے نتیجے میں تین افراد ہلاک ہو گئے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ امکان ہے کہ پہلی کارروائی میں شدید زخمی ہونے کے بعد الحدّاد کو اسی گاڑی کے ذریعے منتقل کیا جا رہا تھا۔

    عینی شاہدین کے مطابق سادہ لباس میں ملبوس حماس کے مسلح افراد ایک شدید زخمی شخص کو عمارت کے عقبی راستے سے نکال کر گاڑی میں منتقل کرتے نظر آئے۔ بعد ازاں اس گاڑی کو تقریباً ڈیڑھ کلومیٹر کے فاصلے پر نشانہ بنایا گیا۔

    ایک سینئر اسرائیلی سکیورٹی اہلکار نے کہا ہے کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق الحدّاد کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا ہے۔

  3. اگر ایران اپنے جوہری پروگرام کو 20 سال کے لیے معطل کرے تو قابلِ قبول ہوگا: ٹرمپ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام کو 20 سال کے لیے روکنے کی تجویز قبول کرنے کے لیے تیار ہیں، جس سے لگتا ہے کہ وہ پہلے کے اپنے سخت مؤقف سے کچھ پیچھے ہٹ گئے ہیں، کیونکہ اس سے قبل وہ ایران سے جوہری سرگرمیوں کا مکمل خاتمہ چاہتے تھے۔

    صدر ٹرمپ نے کہا کہ یہ مدت ’حقیقی طور پر 20 سال‘ ہونی چاہیے۔ ماضی میں وہ ایران سے مطالبہ کرتے آئے ہیں کہ وہ یورینیم کی افزودگی، جوہری ہتھیار بنانے کے ایک اہم مرحلے کو مستقل طور پر بند کرے اور اسے مستقبل میں کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔

    تاہم اُنھوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے پر اُن کا صبر ختم ہو رہا ہے۔

    28 فروری کو اسرائیل اور امریکہ کی افواج نے ایران پر بڑے پیمانے پر فضائی حملے شروع کیے تھے۔ گزشتہ ماہ قائم ہونے والی جنگ بندی، جس کا مقصد مذاکرات کے لیے ماحول سازگار کرنا تھا، مجموعی طور پر برقرار رہی ہے اگرچہ کہیں کہیں فائرنگ کے واقعات بھی پیش آئے ہیں۔ پاکستان اس تمام صورتحال میں ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔

    اس کے باوجود دونوں فریق تاحال ایک دوسرے سے خاصے فاصلے پر دکھائی دیتے ہیں اور ایک دوسرے کی حالیہ تجاویز کو مسترد کر چکے ہیں۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق تہران کی جانب سے پیش کی گئی تجویز میں جنگ کا تمام محاذوں پر فوری خاتمہ، امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنا اور ایران پر مزید حملے نہ کرنے کی ضمانت شامل تھی۔ اس میں اسرائیل کی جانب سے لبنان میں ایران کے اتحادی حزب الله پر حملوں کا حوالہ بھی دیا گیا تھا۔

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    چین کے دارالحکومت بیجنگ میں صدر شی جن پنگ سے ملاقات کے بعد ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ دونوں جانب اس بات پر اتفاق ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے اور اسے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا ہوگا، جس کی بندش سے عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔

    جب ایک صحافی نے کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام کی 20 سالہ معطلی ناکافی ہے، تو صدر ٹرمپ نے جواب دیا کہ ’20 سال کافی ہیں، لیکن اُن کی جانب سے اس کی ضمانت حقیقی ہونی چاہیے۔‘ تاہم اُنھوں نے اس کی مزید وضاحت نہیں کی۔

    امریکی میڈیا کے مطابق اپریل میں اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کی جانب سے پانچ سال تک یورینیم افزودگی روکنے کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کم از کم 20 سال کی مدت پر زور دیا تھا۔ تاہم خیال کیا جا رہا ہے کہ صدر ٹرمپ نے پہلی بار خود 20 سال کی مدت کا ذکر کیا ہے۔

    اپنے پہلے دورِ صدارت میں ٹرمپ نے سنہ 2015 میں ایران کے ساتھ طے پانے والے جوہری معاہدے سے امریکہ کو نکال لیا تھا۔ اُن کا ایک اعتراض یہ تھا کہ اس معاہدے میں شامل بعض شقیں وقت گزرنے کے ساتھ ختم ہو جاتی تھیں۔

    ادھر اسرائیل نے تاحال ٹرمپ کے حالیہ بیان پر کسی قسم کے ردعمل کا اظہار نہیں کیا ہے۔ وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر کو مکمل طور پر ختم کرنا ضروری ہے، تبھی ایران کے خلاف جاری جنگ کا خاتمہ ممکن ہوگا۔

    نیتن یاہو اس سے قبل بھی سنہ 2015 کے جوہری معاہدے کی سخت مخالفت کر چکے ہیں، کیونکہ اُن کے مطابق اس میں شامل ’سن سیٹ کلازز‘ مستقبل میں ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا موقع دے سکتی تھیں، جو اسرائیل کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔

  4. مستونگ میں ایک پُل کو ’دھماکے سے اڑانے کی کوشش کی گئی‘, محمد کاظم، بی بی سی اردو/کوئٹہ

    بلوچستان کے ضلع مستونگ میں نامعلوم مسلح افراد نے دھماکہ خیز مواد سے ایک پُل کو نقصان پہنچانے کے علاوہ چار گاڑیوں کو نذر آتش کیا ہے۔

    ایک سینیئر سرکاری اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ نامعلوم مسلح افراد نے جمعے کے روز آباد کے علاقے میں کوئٹہ تفتان شاہراہ پر ایک پُل کے ساتھ دھماکہ خیز مواد نصب کر کے اسے اُڑانے کی کوشش کی۔

    ان کا کہنا تھا کہ دھماکہ خیز مواد پھٹنے سے پُل کو جزوی نقصان پہنچا۔ اہلکار کا کہنا تھا کہ دھماکے سے نقصان کے باوجود پُل سے چھوٹی گاڑیاں گزر رہی ہیں تاہم ہیوی ٹریفک کو متبادل راستے سے گزارا جا رہا ہے۔

    اس علاقے میں مسلح افراد نے کوئٹہ تفتان شاہراہ پر ناکہ بندی کی جس دوران تعمیراتی کاموں میں استعمال ہونے والے ایرانی پتھر سے لوڈ چار گاڑیوں کو نذر آتش کیا گیا۔

    جبکہ گذشتہ روز آباد کے قریب درینگڑھ میں نامعلوم مسلح افراد نے پولیس تھانے کو بھی نذر آتش کیا تھا۔

  5. پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں پانچ، پانچ روپے کی کمی

    پاکستان کی وزارت توانائی نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں پانچ، پانچ روپے کی کمی کا اعلان کیا ہے۔

    اعلامیے کے مطابق پیٹرول کی نئی قیمت 409.78 روپے فی لیٹر جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی نئی قیمت 409.58 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔

    یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں قریب 15، 15 روپے کا اضافہ کیا گیا تھا۔

    مارچ سے اب تک پیٹرولیئم مصنوعات کی قیمتیں میں پانچ مرتبہ اضافہ کیا گیا ہے۔ جبکہ اس دوران تین مرتبہ کمی بھی کی گئی ہے۔ مارچ میں پیٹرول کی قیمت میں ہونے والے پہلے اضافے سے قبل اس کی قیمت 255 روپے فی لیٹر تھی۔

    روئٹرز کے مطابق گذشتہ روز عالمی منڈیوں کی تیل کی قیمتوں میں تین فیصد سے زیادہ کا اضافہ ہوا تھا اور برینٹ کروڈ کی قیمت 109 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی تھی۔

  6. بریکنگ, اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی میں توسیع پر اتفاق ہو گیا: امریکی محکمۂ خارجہ

    امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق واشنگٹن ڈی سی میں دو روزہ مذاکرات کے بعد اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی میں 45 دن کی توسیع پر اتفاق ہو گیا ہے۔

    ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہم امید کرتے ہیں کہ یہ بات چیت دونوں ممالک کے درمیان پائیدار امن کو آگے بڑھائے گی، ایک دوسرے کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو مکمل طور پر تسلیم کیا جائے گا اور مشترکہ سرحد پر حقیقی سکیورٹی قائم کی جائے گی۔‘

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ ماہ جنگ بندی کا اعلان کیا تھا تاہم اس کے باوجود اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا ہے۔

    بدھ کے روز لبنان کی وزارت صحت نے کہا کہ اسرائیلی فضائی حملوں میں ملک کے جنوبی علاقوں میں 22 افراد ہلاک ہوئے، جن میں آٹھ بچے شامل ہیں۔

    امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ جون میں مذاکرات کے سیاسی عمل کو دوبارہ شروع کرے گا۔

    ’29 مئی کو پینٹاگون میں ایک سکیورٹی ٹریک شروع کیا جائے گا جس میں دونوں ممالک کے فوجی وفود شرکت کریں گے۔‘

  7. پاکستان اور ایران کے 31 شہریوں کی بحفاظت وطن واپسی، سنگاپور کے تعاون سے پاکستانی شہری جلد واپس گھر پہنچ جائیں گے: اسحاق ڈار

    پاکستان اور ایران کے 31 شہریوں کی بحفاظت وطن واپسی، سنگاپور کے تعاون سے پاکستانی شہری جلد واپس گھر پہنچ جائیں گے: اسحاق ڈار

    ،تصویر کا ذریعہPAKISTAN NAVY

    پاکستانی حکام کے مطابق 11 پاکستانی شہریوں اور ایران کے 20 شہریوں کو، جو امریکی حکام کی جانب سے بین الاقوامی سمندری حدود میں ضبط کیے گئے جہازوں پر سوار تھے، کامیابی کے ساتھ وطن واپس لایا جا رہا ہے۔

    پاکستان کے وزیر خارجہ و نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر لکھا کہ ان تمام افراد کو سنگاپور کے راستے محفوظ طریقے سے منتقل کیا گیا، جہاں سے وہ بنکاک پہنچ چکے ہیں اور اسلام آباد کے لیے پرواز پر سوار ہو گئے ہیں۔ توقع ہے کہ یہ افراد آج رات اسلام آباد پہنچ جائیں گے، جبکہ ایرانی شہریوں کو بعد ازاں ان کے ملک واپس بھیجنے کے انتظامات کیے جائیں گے۔

    بیان کے مطابق تمام افراد کی صحت تسلی بخش ہے اور وہ حوصلہ مند ہیں۔ حکام نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں، خصوصاً مشکلات میں گھرے شہریوں کی فلاح و بہبود حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

    پاکستانی وزیرِ خارجہ نے اس عمل میں تعاون پر سنگاپور کے وزیرِ خارجہ ویوین بالاکرشنن، وزیرِ اعظم اور سنگاپور کی حکومت کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ اسحاق ڈار نے اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی کا بھی شکریہ ادا کیا جنھوں نے ایرانی شہریوں کی واپسی کے لیے پاکستان پر اعتماد کیا۔

    اسحاق ڈار نے امریکہ اور تھائی لینڈ کی بھی تعریف کی جنھوں نے 31 افراد کی واپسی کے عمل میں قریبی تعاون فراہم کیا اور بنکاک کے ذریعے ٹرانزٹ کی سہولت دی۔

    اسحاق ڈار نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ وزارتِ خارجہ، وزارتِ داخلہ اور سنگاپور و تھائی لینڈ میں پاکستان کے سفارتی مشنز کی مشترکہ کاوشوں کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا گیا، جن کی بروقت کوششوں سے یہ کارروائی محفوظ اور کامیاب طریقے سے مکمل ہوئی۔

  8. کنٹرول لائن کے قریب انڈین فوج کی فائرنگ سے نوجوان کی ہلاکت: ’عامر شفیع کی ایک ماہ قبل دھوم دھام سے شادی ہوئی تھی‘, پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے صحافی نصیر چوہدری اور انڈیا کے زیر انتظام کشمیر سے ریاض مسرور

    کشمیر

    ،تصویر کا ذریعہMohammad Sikander

    ،تصویر کا کیپشنعامر شفیع

    پاکستان اور انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے قریب ایک نوجوان کی ہلاکت کے بعد متضاد دعوے سامنے آئے ہیں، جہاں انڈین فوج انھیں درانداز اور عسکریت پسند قرار دے رہی ہے جبکہ اہلِ خانہ نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے آزادانہ تحقیقات اور میت کی واپسی کا مطالبہ کیا ہے۔

    پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے ضلع پونچھ کی تحصیل ہجیرہ کے علاقے بٹل چوکی سے تعلق رکھنے والے چوہدری عامر شفیع کے والد محمد شفیع نے 12 مئی 2026 کو اپنے بیٹے کی گمشدگی کی رپورٹ مقامی تھانہ سہڑا میں درج کروائی تھی۔ درخواست کے مطابق عامر شفیع اسی روز تقریباً 11 بجے گھر سے نکلے تھے اور واپس نہیں لوٹے۔

    پولیس حکام کے مطابق گمشدگی کی ابتدائی تحقیقات جاری تھیں کہ اسی دوران انڈین میڈیا رپورٹس میں یہ دعویٰ سامنے آیا کہ عامر شفیع کو انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں ایک کارروائی کے دوران ہلاک کر دیا گیا ہے۔

    تھانہ سہڑا کے محرر لیاقت شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’گمشدگی کی رپورٹ درج ہونے کے بعد پولیس معاملے کی جانچ کر رہی تھی کہ میڈیا کے ذریعے اس واقعے کی اطلاع ملی، جس کے بعد کیس کی نوعیت مزید حساس ہو گئی ہے۔‘

    عامر شفیع کے بڑے بھائی محمد سکندر کے مطابق وہ چھ بھائی ہیں، جن میں سے چار بیرونِ ملک روزگار کے سلسلے میں مقیم ہیں جبکہ وہ خود کوٹلی میں محنت مزدوری کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عامر اپنے والدین کے ساتھ گاؤں میں رہتے تھے۔

    سکندر نے بتایا کہ ’ہم نے باہمی مشاورت سے فیصلہ کیا تھا کہ ہم باقی بھائی کمائی کر کے عامر کے گھر کے اخراجات میں مدد کریں گے تاکہ وہ ہمارے والدین کے ساتھ رہ سکیں۔

    ان کے مطابق عامر شفیع کی شادی کو بمشکل ایک ماہ ہوا تھا اور ان کی ولیمے کی تقریب 10 اپریل کو ہوئی تھی۔

    عامر شفیع

    ،تصویر کا ذریعہMohammad Sikander

    سکندر نے کہا کہ اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ 12 مئی کو عامر کو ایک نامعلوم نمبر سے فون کال موصول ہوئی جس کے بعد وہ گھر سے نکلے۔ ’اسی روز ہمارے والد مویشیوں کے ساتھ باہر تھے جبکہ عامر ہی روزانہ مویشی چرانے جاتے تھے۔

    وہ بتاتے ہیں کہ جب انھیں عامر کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ملی تو وہ فوری طور پر کوٹلی سے گاؤں پہنچے، تاہم اگلے روز میڈیا کے ذریعے معلوم ہوا کہ عامر کو انڈین فورسز نے ہلاک کر دیا ہے۔

    سکندر کے مطابق خاندان نے پولیس کو تمام دستیاب معلومات فراہم کر دی ہیں تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ عامر کو کال کس نے کی تھی۔

    انھوں کہا کہ ’ہم عام لوگ ہیں، ہمارا کسی قسم کی سرگرمی سے کوئی تعلق نہیں۔ ہمارے بھائی پر دہشت گردی کا الزام لگنا ہمارے لیے انتہائی حیران کن ہے۔‘

    عامر کے والد محمد شفیع نے بھی انڈین موقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کا بیٹا ایک ’معصوم اور عام شہری‘ تھا جسے علاقے کے لوگ اچھی طرح جانتے تھے۔

    اس واقعے کے بعد بٹل چوکی میں اہلِ خانہ اور مقامی کمیٹی کی جانب سے احتجاج بھی کیا گیا جس میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی اور مطالبہ کیا گیا کہ میت فوری طور پر واپس لانے کے اقدامات کیے جائیں۔

    protest

    ،تصویر کا ذریعہSocial Media

    ادھر کشمیر انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز کے ڈائریکٹر امجد یوسف نے اقوام متحدہ سے اس واقعے کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ ’یہ ایک شہری کی ہلاکت کا معاملہ ہے جسے غیر جانبدار تحقیقات کے ذریعے واضح کیا جانا چاہیے۔‘

    انھوں نے الزام عائد کیا کہ عامر شفیع کو ایک کارروائی کے دوران گرفتار کرنے کے بعد قتل کیا گیا اور بعد ازاں انھیں عسکریت پسند قرار دیا گیا۔ ان کے مطابق عامر کا کسی تنظیم یا سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

    دوسری جانب انڈین فوج نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ 12 مئی کو شام چار بجے کرشنا گھاٹی سیکٹر میں دراندازی کی ایک کوشش کو ناکام بنایا گیا۔ فوج کے مطابق پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے منج کوٹ سیکٹر سے ایک مسلح گروپ سرحد پار کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔

    انڈین فوج کی وائٹ نائٹ کور کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’الرٹ فورسز نے تکنیکی نگرانی کے ذریعے گروہ کو دیکھا اور انھیں واپس جانے کی وارننگ دی، تاہم فائرنگ کے بعد جوابی کارروائی میں ایک درانداز ہلاک ہو گیا۔‘

    Amir Shafi

    ،تصویر کا ذریعہMohammad Sikander

    انڈین میڈیا نے خفیہ ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ہلاک ہونے والا شخص کالعدم لشکرِ طیبہ سے وابستہ تھا، تاہم اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق ممکن نہیں ہو سکی۔

    یہ واقعہ ایک ایسے وقت پیش آیا ہے جب لائن آف کنٹرول پر حالات عمومی طور پر کشیدہ رہتے ہیں اور دونوں جانب سے ایک دوسرے پر خلاف ورزیوں اور دراندازی کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔

    تاحال اس واقعے کی غیر جانبدار تصدیق نہیں ہو سکی، اور دونوں جانب کے متضاد دعوؤں نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

  9. ایران سے جنگ بندی پاکستان کے کہنے پر کی: ٹرمپ

    Trump

    ،تصویر کا ذریعہThe White House

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی دراصل پاکستان کے کہنے پر کی گئی ہے۔

    چین کے دورے سے واپسی پر ایئرفورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ’ہم نے واقعی دیگر ممالک کی درخواست پر جنگ بندی کی۔ میں خود اس کے حق میں نہیں تھا مگر ہم نے یہ پاکستان کے لیے ایک ’فیور‘ کے طور پر کیا۔ انھوں نے پاکستانی قیادت کی ایک بار پھر تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ شاندار لوگ ہیں‘۔

    ایک سوال کے جواب میں ٹرمپ نے کہا کہ ’میں نے ایران کی تجاویزکو دیکھا ہے اور وہ مکمل طور پر ناقابل قبول ہیں۔ انھوں نے کہا کہ 20 سال تک جوہری پروگرام کی معطلی اچھی تجویز ہے مگر یورینیم کے افزدوگی سے متعلق لیول کی گارنٹی تسلی بحش نہیں ہے۔

    آبنائے ہرمز سے متعلق سوال پر انھوں نے کہا کہ ’میں نے (چینی صدر سے) کسی فیور کے لیے نہیں کہا، ہمیں کسی فیور کی ضرورت نہیں ہے‘۔

  10. پاکستان میں سونے کی قیمت میں 15500 روپے فی تولہ کی کمی, تنویر ملک، صحافی

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان میں جمعے کے روز سونے کی قیمت میں بڑی کمی ریکارڈ کی گئی۔ مقامی صرافہ بازار میں سونے کی قیمت میں 15 ہزار 500 روپے فی تولہ کمی ہوئی۔

    آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق جمعے کے روز مقامی مارکیٹ میں 24 قیراط سونے کی فی تولہ قیمت 15 ہزار 500 روپے کم ہو کر 4 لاکھ 76 ہزار 862 روپے ہو گئی۔

    اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت میں 13 ہزار 289 روپے کی کمی ہوئی، جس کے بعد نئی قیمت 4 لاکھ 8 ہزار 832 روپے مقرر کی گئی۔

    بین الاقوامی مارکیٹ میں بھی سونے کی قیمت 155 ڈالر کمی کے بعد 4 ہزار 545 ڈالر فی اونس تک آ گئی۔

    صرافہ ایسوسی ایشن کے مطابق مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں کا تعین عالمی نرخوں کے مقابلے میں 20 ڈالر پریمیم شامل کر کے کیا جاتا ہے۔ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ مقامی سطح پر قیمتوں میں کمی کی بنیادی وجہ عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں کمی ہے۔

    دوسری جانب چاندی کی قیمت میں بھی کمی دیکھنے میں آئی۔ فی تولہ چاندی 972 روپے سستی ہو کر 8 ہزار 232 روپے پر آ گئی، جبکہ 10 گرام چاندی کی قیمت 833 روپے کمی کے بعد 7 ہزار 57 روپے ہو گئی۔

  11. ایران کا جوہری پروگرام 20 سال کے لیے معطل کرنے پر کوئی اعتراض نہیں: ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کا جوہری پروگرام 20 سال کے لیے معطل کرنے پر کوئی اعتراض نہیں۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’ایران ایٹمی ہتھیار نہیں رکھ سکتا۔‘

    امریکی صدر نے جمعے کو کہا کہ ان کے چینی ہم منصب شی جن پنگ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کی حمایت کرتے ہیں۔ ٹرمپ نے ائیر فورس ون پر سوار صحافیوں سے کہا کہ ’وہ (چینی صدر شی) سختی سے محسوس کرتے ہیں کہ ان (ایران) کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ وہ آبنائے ہرمز کو کھول دیں۔‘

    چین کے دورے سے واپسی پر ٹرمپ نے امریکی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ چند دنوں میں ایرانی تیل خریدنے والی چینی تیل کمپنیوں پر عائد پابندیاں اٹھانے کا فیصلہ کریں گے۔ انھوں نے یہ بتایا کہ چین امریکہ سے اربوں ڈالر کی سویا بین خریدے گا، جو کسانوں کے لیے ایک اچھی خبر ہے۔

    تائیوان سے متعلق سوالات پر ٹرمپ نے کہا کہ تاحال تائیوان کو ہتھیار فراہم کرنے کی منظوری نہیں دی، ممکن ہے دیں اورممکن ہے نہ دیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’تائیوان سے متعلق امریکی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔‘

    ٹرمپ نے صحافیوں کو بتایا کہ ’چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ تائیوان معاملے پر گفتگو کی، نہیں لگتا کہ تائیوان پر کوئی تنازع ہونے جا رہا ہے، تائیوان کے حوالے سے چین سے کوئی وعدہ نہیں کیا۔‘

    جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ صدر شی کو آمر سمجھتے ہیں تو اس کے جواب میں انھوں نے کہا ’میں انھیں چین کا صدر سمجھتا ہوں اور ان کی عزت کرتا ہوں۔‘

  12. انڈین وزیراعظم کی متحدہ عرب امارات کے صدر سے ملاقات، مودی کی امارات پر حملوں کی مذمت

    UAE Presidential Court/Reuters

    ،تصویر کا ذریعہUAE Presidential Court/Reuters

    انڈین وزیر اعظم نریندر مودی نے متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زید النہیان سے ملاقات کی اور متحدہ عرب امارات میں مقیم ہندوستانی کمیونٹی کے لیے ان کی حمایت پر ان کا شکریہ ادا کیا، جبکہ ملک پر حملوں کی ’سختی سے‘ مذمت کی۔

    نریندر مودی نیدرلینڈ، سویڈن، ناروے اور اٹلی کے یورپی دوروں کے سلسلے سے پہلے جمعہ 15 مئی کو ابوظہبی پہنچے۔ ان کا یہ دورہ خلیج فارس میں کشیدگی اور توانائی کی سلامتی کے خدشات کے درمیان ہوا ہے۔

    نریندر مودی کے دفتر نے ایکس نیٹ ورک پر اعلان کیا کہ ’اس سفر کے دوران توانائی، دفاع، بنیادی ڈھانچے، جہاز رانی اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں اہم معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔‘

    انڈیا کا یہ بھی کہنا ہے کہ ابوظہبی نے ہندوستان میں پانچ بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا عہد کیا ہے، حالانکہ مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

    مودی نے انڈین وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کی گئی ایک ویڈیو میں کہا کہ ’آبنائے ہرمز کی آزادی، کشادگی اور سلامتی کو برقرار رکھنا ہماری اولین ترجیح ہے اور اس سلسلے میں بین الاقوامی قانون کی پاسداری ضروری ہے۔‘

  13. برکس اجلاس: ایران کا امریکہ مخالف سخت مؤقف، مزاحمت جاری رکھنے کا اعلان

    ایران کے وزیر خارجہ نے برکس اجلاس میں اپنے خطاب کے اہم نکات سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر شیئر کیے ہیں۔ ان کے ٹویٹ کے مطابق برکس وزرائے خارجہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایران نے کہا کہ امریکی دباؤ کے خلاف ہماری مزاحمت کوئی نئی جنگ نہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’ہم میں سے بہت سے ممالک اسی قسم کے ناپسندیدہ دباؤ اور جبر کی مختلف صورتوں کا سامنا کرتے ہیں۔‘

    عباس عراقی نے تجویز دی کہ ’اب وقت آ گیا ہے کہ ہم سب مل کر آگے بڑھیں اور واضح کریں کہ ایسے اقدامات کا تعلق ماضی سے ہے اور انھیں تاریخ کے کچرے دان میں ڈال دیا جانا چاہیے۔‘

    @araghchi

    ،تصویر کا ذریعہ@araghchi

  14. متحدہ عرب امارات نے آبنائے ہرمز کو بائی پاس کرنے کے لیے نئے تیل پائپ لائن منصوبے کو تیز کر دیا

    Pakistan, UAE

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    متحدہ عرب امارات نے ایک نئی پائپ لائن کی تعمیر میں تیزی لانے کا اعلان کیا ہے، جس کے ذریعے ملک کو امید ہے کہ وہ 2027 تک فجیرہ کے راستے اپنی تیل برآمدی صلاحیت کو دوگنا کر لے گا اور آبنائے ہرمز پر انحصار مزید کم کر دے گا۔

    ابوظہبی کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زاید نے ابوظہبی نیشنل آئل کمپنی (ادنوک) کو ویسٹ ایسٹ پائپ لائن منصوبے پر عمل درآمد تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ یہ بات ابوظہبی کے سرکاری میڈیا دفتر نے جمعے کو بتائی۔ حکام کے مطابق منصوبہ اس وقت زیرِ تعمیر ہے۔

    متحدہ عرب امارات پہلے ہی اپنے تیل کا ایک حصہ آبنائے ہرمز سے گزرے بغیر حبشان-فجیرہ پائپ لائن کے ذریعے برآمد کرتا ہے، جس کی یومیہ گنجائش تقریباً 1.8 ملین بیرل خام تیل ہے۔ یہ پائپ لائن تیل کو براہ راست بحیرہ عمان کے ساحل تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

    خلیجی ممالک میں متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب ہی وہ ممالک ہیں جن کے پاس ایسی پائپ لائنیں موجود ہیں جو آبنائے ہرمز کو بائی پاس کرتے ہوئے خام تیل برآمد کرنے کی سہولت فراہم کرتی ہیں۔

    دوسری جانب عمان کو بحیرہ عمان پر طویل ساحلی پٹی ہونے کی وجہ سے کھلے پانیوں تک براہ راست رسائی حاصل ہے۔

    یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب حالیہ کشیدگی کے دوران ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش یا رکاوٹوں کی دھمکیوں نے عالمی جہاز رانی کو متاثر کیا ہے اور توانائی منڈیوں میں تشویش پیدا کی ہے۔

  15. ایران اور متحدہ عرب امارات کے درمیان اختلافات، نئی دہلی میں برکس وزرائے خارجہ کا اجلاس مشترکہ اعلامیے کے بغیر ختم

    برکس اجلاس

    ،تصویر کا ذریعہEPA/Shutterstock

    برکس وزرائے خارجہ کا اجلاس مشترکہ بیان جاری کیے بغیر ختم ہوگیا، یہ معاملہ ایران جنگ اور مشرق وسطیٰ کے بحران پر ارکان کے درمیان گہرے اختلافات کو ظاہر کرتا ہے۔

    یہ دو روزہ اجلاس نئی دہلی میں منعقد ہوا، اور رکن ممالک نے میری ٹائم سکیورٹی، ممالک کی خودمختاری، آبنائے ہرمز کی صورتحال اور غزہ کی جنگ جیسے مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔

    اس اجلاس کو ایران اور متحدہ عرب امارات کے درمیان اختلاف رائے نے ایک متفقہ پوزیشن تک پہنچنے سے روک دیا۔

    ایران چاہتا تھا کہ برکس امریکہ اور اسرائیل کے اقدامات کی مذمت کرے۔

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ ’بین الاقوامی اداروں کی سیاست کرنے‘ کے خلاف مزاحمت کریں اور زیادہ مضبوط موقف اختیار کریں۔ لیکن متحدہ عرب امارات سمیت بعض ارکان نے اس نقطہ نظر سے اختلاف کیا۔

    آخر میں، انڈیا، جس کے پاس اس وقت برکس کی صدارت ہے نے مشترکہ اعلامیے کے بجائے صرف ایک ’چیئرمین کا بیان‘ جاری کیا، یہ اقدام عام طور پر اس وقت اٹھایا جاتا ہے جب اراکین کسی حتمی متن پر متفق نہیں ہو سکتے۔

    اجلاس کی صدارت کا بیان، جو انڈین وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کیا گیا، میں کہا گیا کہ ’مغربی ایشیا، مشرق وسطی کے خطے کی صورت حال پر کچھ اراکین کے درمیان مختلف خیالات تھے۔‘

    یہ اختلافات ظاہر کرتے ہیں کہ توسیع شدہ برکس، جس میں اب ایران، متحدہ عرب امارات، مصر، ایتھوپیا اور انڈونیشیا جیسے ممالک شامل ہیں، کو سیاسی ہم آہنگی برقرار رکھنے کے لیے چیلنجز کا سامنا ہے، خاص طور پر جب اس کے اراکین علاقائی بحرانوں میں مختلف محاذوں پر ہیں۔

  16. ہمارے پاس امریکیوں پر اعتبار کرنے کا کوئی جواز نہیں، کسی بھی ڈیل سے پہلے تمام چیزیں واضح ہونی چاہیں: عباس عراقچی کی نئی دہلی میں پریس کانفرنس

    Abbas Araqchi

    ،تصویر کا ذریعہVideograb

    نئی دہلی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ’اسلام آباد مذاکرات کا مرحلہ ناکام نہیں ہوا مگر یہ ایک بہت مشکل صورتحال سے دوچار ہے۔ ان کے مطابق ’اس کی وجہ بھی امریکی رویہ ہے۔‘

    عباس عراقچی نے نے کہا ’ہم مدد کی خواہش رکھنے والے ممالک خصوصاً چین کو سراہتے ہیں۔ انھوں نے چین کی خصوصی مدد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ چین کے ہم سٹریٹجک پارٹنر ہیں۔‘

    عباس عراقچی نے کہا کہ ایران کسی بھی دباؤ اور کارروائی کے خلاف مزاحمت کرے گا۔ انھوں نے کہا کہ ’ہمارے پاس امریکیوں پر اعتبار کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے اور امریکہ کے پاس ایران پر عدم اعتماد کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔‘ ان کی رائے میں ’کسی بھی ڈیل سے پہلے تمام چیزیں واضح ہونی چاہیں۔‘

    عباس عراقچی نے کہا کہ ’ایرانی صرف عزت کی زبان سمجھتے ہیں۔‘

    عباس عراقچی نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی رکاوٹ کا ذمہ دار ایران نہیں ہے۔ انھوں نے کا کہ ایران نے کبھی جنگ کا آغاز نہیں کیا اور صرف اپنے دفاع میں اقدامات کیے ہیں۔

    ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکہ 40 روزہ جنگ کے بعد اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا، جس کے بعد اس نے ایک بار پھر مایوسی میں مذاکرات کی بات چیت شروع کی۔ تاہم، ان کے بقول ایران کو امریکہ پر کوئی اعتماد نہیں ہے، اور اس کی واضح وجوہات موجود ہیں۔

    عباس عراقچی نے 2015 کے جوہری معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک بڑی سفارتی کامیابی تھی جسے دنیا بھر میں سراہا گیا، مگر ایک سال بعد نئی امریکی انتظامیہ نے بغیر کسی ٹھوس وجہ کے اس معاہدے سے علیحدگی اختیار کر لی، جبکہ ایران اپنے وعدوں پر قائم رہا۔

    انھوں نے مزید بتایا کہ جون 2025 میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہوا، مگر پانچ مراحل مکمل ہونے کے بعد ایران پر حملہ کر دیا گیا۔ ان کے مطابق، اس جنگ کے بعد بھی مذاکرات کے تین مزید دور ہوئے۔

    ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ جب دونوں فریق ایک ممکنہ معاہدے کے قریب تھے تو 28 فروری کو امریکہ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر حملہ کیا، جس کا ایران نے بھرپور جواب دیا۔

    عباس عراقچی نے کہا کہ ’جو عسکری کارروائی سے حاصل نہیں ہوسکا وہ مذاکرات کی میز پر حاصل نہیں ہو سکتا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ایران کے کسی بھی مسئلے کا حل عسکری طریقے سے ممکن نہیں۔

    عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بیانات میں تسلسل کا فقدان رہا، ایک دن کی ٹویٹ دوسرے دن سے مختلف ہوتی تھی، اور بعض اوقات ایک ہی دن میں متضاد پیغامات دیے جاتے تھے، جو اعتماد کی کمی کی بنیادی وجہ ہے۔

  17. اسرائیلی فوج کا جنوبی لبنان کے پانچ دیہات خالی کرنے کا حکم

    اسرائیلی فوج کے لبنان  پر حملے

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    اسرائیلی فوج نے جمعہ کے روز جنوبی لبنان کے پانچ دیہات کے رہائشیوں سے فوری طور پر ان علاقوں کو خالی کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

    بی بی سی فارسی کی خبر کے مطابق یہ اقدام حزب اللہ کے خلاف ممکنہ حملوں اور لڑائی کو روکنے کے لیے ہونے والی جنگ بندی کے باوجود سامنے آیا ہے۔

    اسرائیلی فوج کے ایک ترجمان نے سوشل نیٹ ورک ایکس پر اعلان کیا ہے کہ ’حزب اللہ کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کے پیش نظر، فوج اس کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرنے پر مجبور ہے۔‘

    پیغام میں لبنان کے جنوبی ساحل پر واقع شہر طائر کے قریب پانچ دیہاتوں کے نام شائع کیے گئے ہیں۔ اپنے پیغام میں ترجمان نے متنبہ کیا ہے کہ ’اپنی جان بچانے کے لیے، اپنے گھروں کو فوری طور پر خالی کریں اور ان علاقوں سے کم از کم ایک ہزار میٹر دور رہیں۔‘

    یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 16 اپریل کو اسرائیل اور لبنان کی حکومتوں کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کیا گیا تھا تاہم اسرائیلی افواج اور حزب اللہ کے درمیان ایک دوسرے پر وقتا فوقتا حملوں کی خبریں سامنے آتی ہیں۔

  18. چینی وزارت خارجہ کی ٹرمپ کے ساتھ تجارتی معاہدوں کے سوالات کے جواب سے گریز

    چینی وزارتِ خارجہ نے امریکی صدر ٹرمپ کے دورے کے دوران ہونے والے تجارتی معاہدوں پر کیے جانے والے سوالات کا براہِ راست جواب دینے سے گریز کیا ہے۔

    اس سے قبل ٹرمپ نے فاکس نیوز کو بتایا تھا کہ شی جن پنگ نے کئی تجارتی وعدے کیے ہیں جن میں 200 بوئنگ طیاروں، امریکی تیل اور زرعی مصنوعات جیسے سویابین کی خریداری شامل ہے۔

    تاہم بیجنگ میں ہونے والی چینی وزارتِ خارجہ کی پریس بریفنگ میں ترجمان نے ان معاہدوں سے متعلق سوالات کو بظاہر ٹال دیا۔

    معاہدوں کی تصدیق یا تردید کرنے کے بجائے ترجمان نے اس ’اہم اتفاقِ رائے‘ کی طرف اشارہ کیا جس تک دونوں فریق ٹرمپ کے دورے کے دوران پہنچے ہیں۔

    ایک اور جواب میں ترجمان نے کہا کہ ’چین اور امریکہ کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعلقات کی بنیاد باہمی فائدہ اور مشترکہ کامیابی پر مبنی تعاون ہے۔‘

  19. ٹرمپ کا دورہ چین تقاریب سے بھرپور مگر پالیسی پر پیش رفت کیسی رہی, لورا بیکر،بی بی سی نیوز

    امریکی صدر کا یہ دورہ چین

    ،تصویر کا ذریعہReu/EPA

    امریکی صدر کا یہ دورہ بظاہر رسمی تقاریب سے بھرپور رہا ہے، تاہم اب تک دونوں فریقوں کے درمیان پالیسی کے حوالے سے بہت کم پیش رفت نظر آئی ہے۔

    ایسا دکھائی دیتا ہے کہ بظاہر تجارت پر مرکوز اس سربراہی ملاقات میں ایران کی جنگ حاوی رہی۔

    امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ شی جن پنگ نے ایران کو فوجی ساز و سامان فراہم نہ کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

    چینی وزارتِ خارجہ نے بھی ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا کہ بیجنگ تنازع کے خاتمے کے لیے مسلسل کوششیں کر رہا ہے جو اس بات کا اشارہ ہے کہ حکام پسِ پردہ چین کے اتحادی ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے سرگرم ہیں۔

    ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ چین 200 بوئنگ طیارے اور ممکنہ طور پر امریکی تیل خریدنے پر بات چیت کر رہا ہے۔

    توقع ہے کہ دونوں فریق گزشتہ اکتوبر میں بوسان میں طے پانے والی تجارتی جنگ بندی کو جاری رکھنے پر بھی متفق ہوں گے۔

    شاید اس وقت بڑی کامیابی مذاکرات کا ہونا ہی ہے۔

  20. آئی ایم ایف کی پاکستان کے لیے جائزہ رپورٹ جاری:’ایران جنگ کے اثرات پاکستان کے معاشی اہداف کو متاثر کر سکتے ہیں‘, سارہ حسن، صحافی

    مہنگائی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنآئی ایم یف کا کہنا ہے کہ ایران امریکہ جنگ کے سبب مہنگائی میں اضافہ ہو سکتا ہے

    عالمی مالیاتی فنڈ آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ مضبوط اقتصادی اقدامات کے سبب پاکستان کی معاشی ترقی کو سہارا ملا ہے لیکن مشرقِ وسطی کی جنگ نے معاشی منظر نامہ کو غیر یقینی سے دوچار کیا ہے کیونکہ ایران جنگ کے اثرات پاکستان کے معاشی اہداف کو متاثر کر سکتے ہیں۔

    آئی ایم ایف نے پاکستان کی جائزہ رپورٹ جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مالی سال 2026 کی پہلے چھ ماہ کے دوران پاکستان کی معاشی شرح نمو میں اضافہ ہوا ہے، زرمبادلہ کے ذخائر بڑھے ہیں، مہنگائی قابو میں رہی، کرنٹ اکاؤنٹ مجموعی طور پر متوازن رہا ہے۔

    آئی ایم ایف کی جائزہ رپورٹ میں کہا گیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے اثرات نے قلیل مدت میں پاکستان کے معاشی منظر نامے کو غیر یقینی سے دوچار کیا ہے لیکن تاحال یہ واضح نہیں ہے کہ اس کے معشیت پر کیسے اثرات مرتب ہوں گے۔

    آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ ایران امریکہ جنگ کے سبب مہنگائی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

    آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان کا 81 فیصد درآمدی ایندھن خلیجی ممالک سے آتا ہے جبکہ ترسیلاتِ زر جو پاکستان کے غیر زرمبادلہ کے ذخائر کا سب سے اہم ذریعہ ہے اُس کا بھی 55 فیصد خلیجی ممالک میں کام کرنے والے پاکستانیوں کی جانب سے موصول ہوتا ہے۔

    آئی ایم ایف کے مطابق جنگ نے خلیجیٰ ممالک کی معیشت پر منفی اثرات ڈالے ہیں اور ان حالات میں وہاں موجود پاکستانی افرادی قوت کی واپسی سے ترسیلات زر متاثر ہو سکتی ہیں۔

    بیرون ممالک سے بھجوائی جانی والی ترسیلاتِ زر پاکستان کی غیر ملکی بیرونی ادائیگی کے لیے زرمبادلہ کا سب سے اہم ذریعہ ہے۔

    مہنگائی کی شرح میں ڈیڑھ فیصد تک اضافہ متوقع: آئی ایم ایف

    آئی ایم ایف

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ اصلاحاتی پروگرام کے تحت حکومتی پالیسیوں سے معیشت کو سنبھالنے اور اعتماد بحال کرنے میں کافی بہتری آئی ہے، حالانکہ دنیا میں مشکل حالات ہیں، جن میں مشرقِ وسطیٰ کی جنگ بھی شامل ہے لیکن عالمی سطح پر تیل اور دیگر اشیا کی قیمتیں بڑھنے کی وجہ سے ملک میں مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران کی جنگ پاکستان کے معاشی اہداف پر اثرانداز ہو سکتی ہے جس سے ممکنہ طور پر رواں مالی سال کے دوران پاکستان کی معاشی شرح نموں میں اعشاریہ دو فیصد تک کی کمی اور آئندہ مالی سال میں اعشاریہ چھ فیصد تک کمی ہو سکتی ہے اور مہنگائی کی شرح میں ڈیڑھ فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔

    آئی ایم ایف کا ٹیکس وصولی اور حکومتی اخراجات کے اہداف حاصل نہ ہونے پر تشویش کا اظہار

    رواں مالی سال کے پاکستان نے اکثر اہداف حاصل کیے ہیں لیکن آئی ایم ایف نے ٹیکس وصولی اور حکومتی اخراجات کے اہداف حاصل نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    آئی ایم ایف کی ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی کے تحت تیسرے جائزے رپورٹ میں پاکستان کے لیے گیارہ نئے انتظامی اہداف مقرر کیے ہیں۔ آئی ایم ایف نے پاکستان پر مزید شرائط عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بجلی اور گیس کے نرخوں میں اضافہ، آئی ایم ایف کے فریم ورک کے تحت آئندہ بجٹ کو قومی اسمبلی سے منظور کروایا جائے اور قومی احتساب بیورو میں شفافیت اور خود مختاری لائے جائے تاکہ احتساب کا نظام بہتر ہو۔