پی ٹی آئی کی رجسٹریشن مسترد، بیرسٹر گوہر کا پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے الیکشن کمیشن پر امتیازی سلوک کا الزام

،تصویر کا ذریعہNaseer Chaudhry
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے ساتھ ایک بار پھر امتیازی سلوک کیا گیا ہے، اس بار پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں یہ سب ہوا۔ انھوں نے سنیچر کو سوشل میڈیا ایکس پر اپنی ایک ٹویٹ میں کہا کہ کشمیر الیکشن کمیشن نے بغیر کسی معقول وجہ کے پی ٹی آئی کشمیر کی رجسٹریشن مسترد کر دی۔
انھوں نے مزید کہا کہ کشمیر ہائی کورٹ نے 5 اکتوبر 2023 کو تمام سیاسی جماعتوں کی رجسٹریشن منسوخ کرتے ہوئے ازسرِ نو رجسٹریشن کا حکم دیا تھا، جس کے تحت پی ٹی آئی کشمیر نے 20 نومبر 2023 کو تمام مطلوبہ دستاویزات جمع کروا دی تھیں۔
واضح رہے کہ سنیچر کو پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں 2026 کے انتخابات سے قبل الیکشن کمیشن نے پاکستان تحریک انصاف کی رجسٹریشن کی درخواست مسترد کر دی ہے۔
چیف الیکشن کمشنر آزاد کشمیر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی نے عدالتِ عالیہ کے فیصلے ’وحید اشرف و دیگر بنام الیکشن کمیشن و دیگر‘ اور متعلقہ انتخابی قوانین کی روشنی میں رجسٹریشن کے لیے درخواست جمع کروائی تھی۔
بیرسٹر گوہر کے مطابق دیگر بڑی سیاسی جماعتوں، پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن)، جمعیت علمائے اسلام اور جماعت اسلامی، کو رجسٹر کر لیا گیا، جبکہ پی ٹی آئی کی درخواست کو طویل عرصے تک زیر التوا رکھا گیا۔
انھوں نے کہا کہ تقریباً 30 ماہ بعد اب الیکشن کمیشن نے ایک پریس ریلیز کے ذریعے رجسٹریشن سے انکار کر دیا ہے، حالانکہ پی ٹی آئی کشمیر کی بڑی جماعتوں میں شمار ہوتی ہے۔ انھوں نے مؤقف اختیار کیا کہ آئندہ جولائی میں متوقع انتخابات سے قبل پی ٹی آئی کو باہر رکھنا غیر منصفانہ اور غیر جمہوری اقدام ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر پی ٹی آئی کشمیر کو انتخابی عمل سے باہر رکھا گیا تو انتخابات کی شفافیت اور قانونی حیثیت پر سوالات اٹھیں گے، جبکہ عوام کے ووٹ کے حق کو بھی متاثر کیا جائے گا۔















