پاکستانی وزیرِ داخلہ کی تہران میں ایرانی صدر اور قالیباف سے ملاقات، امریکہ نے ایران سے مذاکرات کی بحالی کے لیے شرائط پیش کر دیں: ایرانی میڈیا

ایرانی فوجی اور سکیورٹی حلقوں کے قریب سمجھی جانے والی خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق کہ مذاکرات کی بحالی کے لیے ایران کی تجویز کے جواب میں امریکہ نے 400 کلو گرام افزودہ یورینیم کی حوالگی سمیت پانچ شرائط عائد کی ہیں۔ دوسری جانب ایرانی صدر کا کہنا ہے کہ اسلامی ممالک جتنے زیادہ متحد ہوں گے، تسلط کی خواہشمند طاقتوں کی جانب سے جارحیت کے امکانات اتنے ہی کم ہوں گے۔

خلاصہ

  • ابو ظہبی میں نیوکلیئر پاور پلانٹ کے نزدیک ڈرون حملے کے نتیجے میں آتشزدگی
  • امریکہ نے 400 کلوگرام افزودہ یورینیم کی حوالگی سمیت ایران کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کے لیے پانچ شرائط پیش کر دیں: ایرانی میڈیا
  • دوبارہ حملے کی صورت میں ایران کا ردِعمل 'زیادہ جارحانہ' اور 'حیران کن' ہوگا: ایرانی مسلح افواج کے ترجمان کی دھمکی
  • امریکی انتظامیہ کے مطابق بحری بیڑے 'یو ایس ایس گیرالڈ آر فورڈ' کی 326 روزہ مشن کے بعد امریکہ واپسی ہو گئی ہے
  • القسام بریگیڈز نے سنیچر کے روز جاری بیان میں تصدیق کی ہے کہ ان کے کمانڈر عزالدین الحدّاد گزشتہ رات غزہ سٹی پر اسرائیلی فضائی حملے میں ہلاک ہو گئے ہیں
  • ایران کی وزارتِ خارجہ نے اسرائیلی فوج کے حملے میں القسام بریگیڈز کے کمانڈر عزالدین الحدّاد، ان کی اہلیہ اور بچے کی ہلاکت کی شدید مذمت کی ہے

لائیو کوریج

  1. پی ٹی آئی کی رجسٹریشن مسترد، بیرسٹر گوہر کا پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے الیکشن کمیشن پر امتیازی سلوک کا الزام

    PTI in Kashmir

    ،تصویر کا ذریعہNaseer Chaudhry

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے ساتھ ایک بار پھر امتیازی سلوک کیا گیا ہے، اس بار پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں یہ سب ہوا۔ انھوں نے سنیچر کو سوشل میڈیا ایکس پر اپنی ایک ٹویٹ میں کہا کہ کشمیر الیکشن کمیشن نے بغیر کسی معقول وجہ کے پی ٹی آئی کشمیر کی رجسٹریشن مسترد کر دی۔

    انھوں نے مزید کہا کہ کشمیر ہائی کورٹ نے 5 اکتوبر 2023 کو تمام سیاسی جماعتوں کی رجسٹریشن منسوخ کرتے ہوئے ازسرِ نو رجسٹریشن کا حکم دیا تھا، جس کے تحت پی ٹی آئی کشمیر نے 20 نومبر 2023 کو تمام مطلوبہ دستاویزات جمع کروا دی تھیں۔

    واضح رہے کہ سنیچر کو پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں 2026 کے انتخابات سے قبل الیکشن کمیشن نے پاکستان تحریک انصاف کی رجسٹریشن کی درخواست مسترد کر دی ہے۔

    چیف الیکشن کمشنر آزاد کشمیر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی نے عدالتِ عالیہ کے فیصلے ’وحید اشرف و دیگر بنام الیکشن کمیشن و دیگر‘ اور متعلقہ انتخابی قوانین کی روشنی میں رجسٹریشن کے لیے درخواست جمع کروائی تھی۔

    بیرسٹر گوہر کے مطابق دیگر بڑی سیاسی جماعتوں، پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن)، جمعیت علمائے اسلام اور جماعت اسلامی، کو رجسٹر کر لیا گیا، جبکہ پی ٹی آئی کی درخواست کو طویل عرصے تک زیر التوا رکھا گیا۔

    انھوں نے کہا کہ تقریباً 30 ماہ بعد اب الیکشن کمیشن نے ایک پریس ریلیز کے ذریعے رجسٹریشن سے انکار کر دیا ہے، حالانکہ پی ٹی آئی کشمیر کی بڑی جماعتوں میں شمار ہوتی ہے۔ انھوں نے مؤقف اختیار کیا کہ آئندہ جولائی میں متوقع انتخابات سے قبل پی ٹی آئی کو باہر رکھنا غیر منصفانہ اور غیر جمہوری اقدام ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اگر پی ٹی آئی کشمیر کو انتخابی عمل سے باہر رکھا گیا تو انتخابات کی شفافیت اور قانونی حیثیت پر سوالات اٹھیں گے، جبکہ عوام کے ووٹ کے حق کو بھی متاثر کیا جائے گا۔

  2. پاکستانی وزیر داخلہ تہران پہنچ گئے، ایران نے پاکستان کی کوششوں کو ’مخلصانہ‘ قرار دیا

    Naqvi

    ،تصویر کا ذریعہIRIB

    پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی آج تہران پہنچے ہیں۔ تہران پہنچنے پر انھیں اپنے ایرانی ہم منصب اسکندر مومنی نے خوش آمدید کہا۔

    ایرانی ٹیلی ویژن نے ایران اور پاکستان کے وزرائے داخلہ کے درمیان ملاقات کی تصاویر نشر کرتے ہوئے اس ملاقات کو ’اہم‘ قرار دیا ہے۔

    ایرانی ٹی وی کے مطابق، اسکندر مومنی نے اپنے پاکستانی ہم منصب سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران ’امن کا حامی‘ ہے اور اس سلسلے میں پاکستان کی کوششوں کو ’بہت سراہتا‘ ہے۔

    ایرانی وزیر داخلہ نے پاکستان کے آرمی چیف، فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی جاری تنازع کے حل کے لیے کوششوں کو ’مخلصانہ اور پُرعزم‘ قرار دیا اور خطے میں امن و استحکام کے فروغ میں پاکستان کے کردار کی تعریف کی۔

  3. ایران نے آبنائے ہرمز میں آمد و رفت کے انتظام کا طریقہ کار تیار کر لیا: قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ

    ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے سنیچر کے روز کہا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں مخصوص راستے کے تحت سمندری آمد و رفت کو منظم کرنے کے لیے ایک طریقہ کار تیار کر لیا ہے، جس کا جلد اعلان کیا جائے گا۔

    انھوں نے وضاحت کی کہ اس نظام سے فائدہ اٹھانے والے وہ تجارتی فریقین اور بحری جہاز ہوں گے جو ایران کے ساتھ تعاون کریں گے، اور اس طریقہ کار کے تحت فراہم کی جانے والی خصوصی خدمات کے عوض ضروری فیس بھی وصول کی جائے گی۔

    انھوں نے مزید کہا کہ یہ راستہ (فریڈم پروجیکٹ) میں شامل فریقین کے لیے بند رہے گا۔

  4. روسی اور متحدہ عرب امارات کے صدور کے درمیان ایران جنگ پر گفتگو: ’امن کے حصول کے لیے سفارتی عمل کو جاری رکھنا انتہائی ضروری ہے‘

    Putin

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    روسی صدر ولادیمیر پوتن نے آج متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان سے ایران میں جاری جنگ کے حوالے سے بات چیت کی۔

    کریملن کی پریس سروس کے مطابق، ’دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ امن کے حصول کے لیے مفاہمت پر مبنی سیاسی اور سفارتی عمل کو جاری رکھنا انتہائی ضروری ہے۔‘

    پوتن نے یوکرین جنگ سے متعلق انسانی ہمدردی کے معاملات پر متحدہ عرب امارات کے تعاون کو بھی سراہا۔

    روسی صدر آئندہ منگل کو دو روزہ دورے پر چین روانہ ہونے والے ہیں۔

    امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ اور اس کے جواب میں ایران کے علاقائی حملوں کے بعد ایران اور متحدہ عرب امارات کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے۔

    گذشتہ جمعرات کو ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے متحدہ عرب امارات کو امریکہ اور اسرائیل کا ’سرگرم شراکت دار‘ قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ وہ ایران پر حملوں میں براہ راست شامل ہے۔

    اس کے جواب میں متحدہ عرب امارات نے ایران پر الزام لگایا کہ وہ اپنے حملوں کو ’جائز قرار دینے کی کوشش‘ کر رہا ہے۔

  5. یورپی ممالک کے آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمدورفت رواں بنانے کے لیے تہران سے مذاکرات

    آبنائے ہرمز

    ،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty Images

    ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن نے رپورٹ کیا ہے کہ یورپی ممالک آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمد و رفت کی اجازت حاصل کرنے کے لیے تہران کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں۔

    ایران ٹیلی ویژن نیوز نیٹ ورک اور ایرانی نشریاتی ادارے نے، ممالک کے نام ظاہر کیے بغیر، بتایا کہ ’مشرقی ایشیائی ممالک، خصوصاً چین، جاپان اور پاکستان کے جہازوں کے گزرنے کے بعد، آج ہمیں یہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ یورپی ممالک نے بھی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ سے گزرنے کی اجازت حاصل کرنے کے لیے مذاکرات شروع کر دیے ہیں۔‘

    ایران نے 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے بعد اس اہم آبنائے میں سمندری آمد و رفت کو محدود کر دیا ہے۔

    اس آبی راستے پر ایران کے کنٹرول نے عالمی منڈیوں میں ہلچل پیدا کر دی ہے اور اس نے امریکہ کے خلاف تہران کو ایک اہم تزویراتی برتری فراہم کی ہے۔

    دوسری جانب، امریکہ نے بھی ایرانی بندرگاہوں کے خلاف اپنی بحری ناکہ بندی جاری رکھی ہوئی ہے۔

    عام حالات میں، دنیا بھر کی تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی تقریباً پانچواں حصہ، دیگر ضروری سامان کے ساتھ، آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے۔

  6. ایران کا امریکہ اور خطے کے ممالک کو انتباہ: حملہ ہوا تو نئی جنگ خارج از امکان نہیں

    ایران کے کچھ اعلیٰ حکام نے امریکہ اور خطے کے ممالک کو متنبہ کیا ہے کہ حالیہ کشیدگی کے بعد کسی نئی جنگ کا امکان موجود ہے۔

    ایران کے رہبر اعلیٰ کے مشیر محمد مخبر نے ایک بیان میں کہا کہ حالیہ جنگ کے دوران ایران کی جانب سے خطے کے بعض ممالک میں موجود امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے اڈوں کو نشانہ بنایا گیا، تاہم ان کے بقول یہ ردعمل ’مکمل‘ نہیں تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کا یہ ضبط وقتی ہو سکتا ہے اور اسے مستقل پالیسی نہیں سمجھا جانا چاہیے۔

    محمد مخبر نے مزید کہا کہ ایران نے کئی برسوں تک ان ممالک کو دوست اور بھائی سمجھا، لیکن ان کے بقول بعض ریاستوں نے اپنی خودمختاری کو داؤ پر لگا کر اپنی سرزمین دشمنوں کے لیے کھول دی۔

    دوسری جانب ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے قریب سمجھے جانے والے میڈیا ادارے نورنیوز نے ایک نامعلوم ’سینئر فوجی عہدیدار‘ کے حوالے سے بتایا ہے کہ اگر ایران پر دوبارہ حملہ ہوا تو ان اہداف کو ترجیحی بنیادوں پر نشانہ بنایا جائے گا، جنھیں گذشتہ 40 روزہ جنگ کے دوران مختلف وجوہات کی بنا پر ہدف نہیں بنایا گیا تھا۔

    ماہرین کے مطابق ان بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے میں کشیدگی برقرار ہے اور کسی بھی ممکنہ تصادم کے خطرات تاحال موجود ہیں۔

  7. پاکستانی وزیر داخلہ ’غیر اعلانیہ دورے پر‘ تہران پہنچ گئے

    Tehran

    ،تصویر کا ذریعہIran

    سرکاری خبر رساں ادارے ارنا نے یہ خبر دی ہے کہ پاکستانی وزیر داخلہ ’غیر اعلانیہ دورے پر‘ تہران میں ہیں۔

    ارنا نے اپنے ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ محسن نقوی چند گھنٹے قبل تہران پہنچے تھے اور وہ ایران کے بعض عہدیداروں سے ملاقات کرنے والے ہیں۔

    پاکستان ایران اور امریکہ کے درمیان موجودہ جنگ بندی میں ثالثی کر رہا ہے اور ایک بار امن مذاکرات کے لیے ایرانی اور امریکی حکام کی میزبانی کر چکا ہے جو اب تک ناکام ہو چکے ہیں۔ دو روزہ مذاکرات 11 اپریل کو شروع ہوئے اور اس کی صدارت ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف اور امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کی، ان کے ہمراہ پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف بھی تھے۔

    ایران اور امریکہ کے درمیان شدید اختلافات کے باعث ان مذاکرات کا دوسرا دور منعقد نہیں ہو سکا۔

    پاکستان کے وزیر داخلہ نے ایک ماہ قبل ملک کے آرمی چیف عاصم منیر کے ساتھ ایران کا دورہ کیا تھا۔

    ایک روز قبل پاکستان نے اعلان کیا تھا کہ امریکہ کی جانب سے اپنے بحری جہاز کو قبضے میں لینے کے بعد سنگاپور کے پانیوں میں موجود بیس ایرانی اور گیارہ پاکستانی ملاحوں کی واپسی کا عمل جاری ہے، اور وعدہ کیا کہ ان تمام کو تھائی لینڈ سے اسلام آباد منتقل کیا جائے گا۔

    Mohsin Naqvi in Iran

    ،تصویر کا ذریعہIRNA

    ایرانی میڈیا کے مطابق جب محسن نقوی تہران کے مہرآباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچے تو ان کا استقبال ان کے ایرانی ہم منصب اسکندر مؤمنی نے کیا۔ اس موقع پر ایرانی وزیر داخلہ نے ایران کے خلاف حالیہ اسرائیلی کارروائیوں کی مذمت پر پاکستان کے مؤقف کو ’دیانت دار اور مضبوط‘ قرار دیتے ہوئے سراہا۔

    اسکندر مؤمنی نے ہر سال اربعین کے موقع پر ایران کے راستے عراق جانے والے پاکستانی زائرین کی بڑی تعداد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران ان کی سہولت کے لیے مکمل تعاون جاری رکھے گا۔

    اربعین کا موقع ’امام حسینؓ کی شہادت کے چالیس روزہ سوگ کے اختتام پر منایا جاتا ہے‘۔ اس موقع پر دنیا بھر سے لاکھوں شیعہ مسلمان عراق کے شہر کربلا کا رخ کرتے ہیں اور پیدل سفر کے ذریعے امام حسینؓ کے روضے پر حاضری دیتے ہیں۔

    وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ رواں برس بھی ہزاروں پاکستانی زائرین اربعین میں شرکت کریں گے، جن کے لیے انتظامات کو بہتر بنانے پر ایران اور عراق کے ساتھ مل کر کام کیا جا رہا ہے۔

  8. پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں پی ٹی آئی کی رجسٹریشن درخواست مسترد, صحافی نصیر چوہدری، مظفرآباد

    Kashmir

    ،تصویر کا ذریعہNaseer Chaudhry

    پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں 2026 کے انتخابات سے قبل الیکشن کمیشن نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) آزاد جموں و کشمیر کی رجسٹریشن کی درخواست مسترد کر دی ہے۔

    چیف الیکشن کمشنر آزاد کشمیر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی نے عدالتِ عالیہ کے فیصلے ’وحید اشرف و دیگر بنام الیکشن کمیشن و دیگر‘ اور متعلقہ انتخابی قوانین کی روشنی میں رجسٹریشن کے لیے درخواست جمع کروائی تھی۔

    الیکشن کمیشن کے مطابق درخواست کی جانچ پڑتال کے لیے ایک آڈٹ افسر مقرر کیا گیا، جس نے جماعت کے مالیاتی ریکارڈ اور اکاؤنٹس کا جائزہ لیا۔ آڈٹ رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ پی ٹی آئی کشمیر کی جانب سے جمع کروائی گئی مالیاتی تفصیلات الیکشن رولز کے رول 121 کے تقاضوں پر پورا نہیں اترتیں۔

    الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ ان اعتراضات کے بعد معاملہ دوبارہ جائزے کے لیے آڈٹ افسر کو بھجوایا گیا، تاہم ازسرِنو جانچ کے باوجود رول 121 کی خلاف ورزی اور اکاؤنٹس سے متعلق اعتراضات برقرار رہے۔

    بیان کے مطابق بعد ازاں جماعت کے نمائندوں اور وکلا کو ذاتی سماعت کا مکمل موقع فراہم کیا گیا۔ فریقین کے دلائل اور دستیاب ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد کمیشن اس نتیجے پر پہنچا کہ درخواست گزار جماعت قانونی تقاضے پورے کرنے میں ناکام رہی۔

    اسی بنیاد پر الیکشن کمیشن نے پاکستان تحریک انصاف کشمیر کی رجسٹریشن کی درخواست مسترد کرنے کا فیصلہ سنایا۔

    الیکشن کمیشن نے مزید کہا ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں کی رجسٹریشن اور نگرانی آئین و قانون کے مطابق شفافیت اور مساویانہ اصولوں کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔

  9. بلوچستان میں معروف براہوئی ادیب پروفیسر غمخوار حیات قاتلانہ حملے میں ہلاک, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    Balochistan

    ،تصویر کا ذریعہSocial Media

    بلوچستان کے ضلع نوشکی میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں معروف براہوئی شاعر، ادیب اور استاد پروفیسر غمخوار حیات ہلاک ہو گئے ہیں۔

    پولیس حکام کے مطابق یہ واقعہ نوشکی شہر کے نواحی علاقے کلی مینگل کے قریب پیش آیا، جہاں نامعلوم حملہ آوروں نے ان کو نشانہ بنایا۔

    نوشکی پولیس کے ایس پی سلیم شاہوانی نے بی بی سی کو بتایا کہ پروفیسر غمخوار حیات حملے میں جانبر نہ ہو سکے۔ ان کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے ٹیچنگ ہسپتال نوشکی منتقل کر دیا گیا ہے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے محرکات فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکے اور اس حوالے سے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

    وزیراعلیٰ بلوچستان کے معاون برائے میڈیا و سیاسی امور شاہد رند نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پروفیسر غمخوار حیات کا قتل صوبے کی علمی، ادبی اور فکری اقدار پر حملہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ واقعے میں ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور حکومت دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔

    Professor in Balochistan gunned down

    ،تصویر کا ذریعہSocial Media

    پروفیسر غمخوار حیات کون تھے؟

    پروفیسر غمخوار حیات کا اصل نام محمد خان تھا، تاہم وہ اپنے قلمی نام سے ہی ادبی دنیا میں جانے جاتے تھے۔ ان کا تعلق ضلع نوشکی سے تھا اور وہ مقامی سیاسی کارکن عبدالمجید ساسولی کے صاحبزادے تھے۔

    اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہ 2014 میں براہوی زبان کے لیکچرر مقرر ہوئے۔ وہ اس وقت ڈگری کالج نوشکی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔

    کچھ عرصہ قبل ان کا نام فورتھ شیڈول میں شامل کیا گیا تھا، جس کے بعد ان کا تبادلہ سبی کر دیا گیا تھا، تاہم بعد میں وہ دوبارہ نوشکی تعینات ہو گئے تھے۔

    بلوچستان یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر منظور بلوچ کے مطابق غمخوار حیات براہوی اور بلوچی زبانوں کے نمایاں ادیب، شاعر، افسانہ نگار اور مترجم تھے۔

    بلوچی ادبی جریدے ’زِند‘ کے ایڈیٹر یار محمد بادینی کا کہنا ہے کہ انھوں نے متعدد اہم تصانیف اور مضامین کا بلوچی میں ترجمہ کیا، تاہم ان کی شاعری کا بڑا حصہ براہوی زبان میں ہے۔

    ادبی حلقوں کے مطابق ان کی 15 سے زائد کتابیں شائع ہو چکی ہیں، جن میں شاعری اور ادب کے مختلف موضوعات شامل ہیں۔

  10. فیفا حکام آج ورلڈ کپ کے حوالے سے ایرانی فٹ بال فیڈریشن سے ملاقات کریں گے

    Iran

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    فیفا کے سیکریٹری جنرل میٹیاس گراف سٹروم سنیچر کے روز استنبول میں ایرانی فٹ بال حکام سے ملاقات کریں گے اور انھیں ورلڈ کپ میں ایران کی شرکت کے حوالے سے ’یقین دہانی‘ کرائیں گے۔

    خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق یہ خبر اسے ایک ذریعے سے موصول ہوئی ہے۔

    ایران کو امریکہ میں ہونے والے ورلڈ کپ میں گروپ مرحلے کے اپنے تینوں میچز کھیلنے ہیں لیکن 11 جون سے 19 جولائی تک جاری رہنے والے اس ٹورنامنٹ میں ٹیم کی شرکت اس وقت سے شکوک و شبہات کا شکار ہے جب فروری کے آخر میں امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تھا۔

  11. پاکستان میں مصنوعی ذہانت کی قیادت نسٹ کو سونپ دی گئی

    HEC

    ،تصویر کا ذریعہHEC

    ،تصویر کا کیپشننسٹ کے ریکٹر ڈاکٹر محمد زاہد لطیف

    پاکستان میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور روبوٹکس کے شعبوں میں تیز رفتار ترقی کے پیش نظر ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) کے ریکٹر ڈاکٹر محمد زاہد لطیف کو ان شعبوں کے لیے نیشنل چیئر مقرر کر دیا ہے۔

    ایچ ای سی کے اعلامیے کے مطابق یہ تقرری ایک جامع قومی حکمتِ عملی کے تحت کی گئی ہے، جس کا مقصد پاکستان میں مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے میدان میں پالیسی سازی، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور تحقیق و ترقی کو فروغ دینا ہے۔

    اس اقدام کے تحت نسٹ اسلام آباد کو اس قومی پروگرام کی قیادت سونپی گئی ہے۔

    نیشنل چیئر، ماہرین کے ایک پینل کے ساتھ مل کر، ملک میں اے آئی اور روبوٹکس کے موجودہ نظام کا جائزہ لے گا اور ان شعبوں میں پالیسی سمت، گورننس اور سٹریٹجک ترجیحات طے کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

    اس کا دائرہ کار ایچ ای سی کے زیر سرپرستی قومی مراکز، جیسے نیشنل سینٹر آف آرٹیفیشل انٹیلیجنس (این سی اے آئی) اور نیشنل سینٹر آف روبوٹکس اینڈ آٹومیشن (این سی آر اے)، کا جائزہ بھی شامل ہے۔

    ایچ ای سی کا کہنا ہے کہ یہ تقرری نسٹ اور اس کی قیادت پر اعتماد کا اظہار ہے، اور پاکستان میں اس ادارے کے بڑھتے ہوئے کردار کی عکاس ہے جو تحقیق، علمی معیار اور ٹیکنالوجی میں جدت کے لحاظ سے ایک نمایاں مقام رکھتا ہے۔

    ڈاکٹر زاہد لطیف نے کہا کہ یہ اقدام نہ صرف نسٹ کی خدمات کا اعتراف ہے بلکہ ملک کے لیے ایک اجتماعی موقع بھی ہے کہ وہ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں طویل مدتی حکمت عملی وضع کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اے آئی اور روبوٹکس کی ترقی کے لیے جامعات، صنعت، حکومت اور ماہرین کے درمیان مؤثر تعاون ناگزیر ہے۔

    نیشنل چیئر کی ذمہ داریوں میں اس شعبے میں موجود کمزوریوں، نظامی مسائل اور آپریشنل چیلنجز کی نشاندہی بھی شامل ہوگی تاکہ مستقبل میں ان شعبوں کی پائیدار ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔

    حکام کے مطابق یہ اقدام عالمی معیار کے مطابق ایک مربوط قومی فریم ورک تیار کرنے کی کوشش کا حصہ ہے، جس کے ذریعے مختلف اداروں اور فریقین کے درمیان ہم آہنگی پیدا کی جا سکے گی۔

    ’اس پیش رفت سے پاکستان کو ایک جدت پر مبنی معیشت کی جانب گامزن ہونے میں مدد مل سکتی ہے، جہاں مصنوعی ذہانت اور جدید خودکار نظام کلیدی کردار ادا کریں گے۔‘

  12. اوپیک سے دستبرداری سیاسی نہیں بلکہ ایک خودمختار سٹریٹجک فیصلہ تھا: یو اے ای

    متحدہ عرب امارات کے وزیر توانائی نے سنیچر کے روز کہا کہ یو اے ای کا پٹرولیم برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم (اوپیک) اور اوپیک پلس گروپ سے علیحدگی کا فیصلہ اس کی پیداواری پالیسی اور مستقبل کی صلاحیتوں کے جامع جائزے کی بنیاد پر ایک خودمختار اور سٹریٹجک اقدام تھا۔

    انھوں نے مزید وضاحت کی کہ یہ فیصلہ کسی سیاسی بنیاد پر نہیں کیا گیا اور نہ ہی یہ شراکت دار ممالک کے ساتھ کسی قسم کے اختلافات کی نشاندہی کرتا ہے۔

  13. ٹرمپ کے بیان کے بعد تائیوان کا امریکی فوجی مدد جاری رکھنے کا مطالبہ

    امریکہ، چین اور تائیوان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    تائیوان نے امریکہ فوجی مدد جاری رکھنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان دیا تھا کہ واشنگٹن نے ابھی تائیوان کو ہتھیار دینے یا نہ دینے سے متعلق کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ تائیوان کے صدر نے اس کے جواب میں اپنے بیان میں امریکی عسکری مدد کی ضرورت اور اہمیت پر زور دیا۔

    تائیوان کے صدر کے ترجمان نے کہا کہ تائیوان کو امریکی ہتھیاروں کی فروخت نہ صرف ایک قانونی ذمہ داری ہے بلکہ علاقائی خطرات کے خلاف ہمیشہ ایک مشترکہ رکاوٹ رہی ہے۔

    تائیوان کا یہ موقف ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے چینی ہم منصب شی جن پنگ کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں چینی رہنما نے متنبہ کیا تھا کہ تائیوان کے معاملے کا ’غیر مناسب انتظام‘ تنازعات یا صریح جنگ کا باعث بن سکتا ہے۔

    چین تائیوان کو ایک باغی صوبہ سمجھتا ہے اور اس نے اسے قابو میں لانے کے لیے طاقت کے استعمال کے امکان کو رد نہیں کیا ہے۔

    واشنگٹن تائیوان ریلیشن ایکٹ کے تحت جزیرے کو ہتھیار فراہم کرنے کا پابند ہے۔

  14. اسرائیل کا حزب اللہ کے ٹھکانوں پر حملوں کی نئی لہر کا اعلان

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں کی ایک نئی لہر شروع کی ہے۔

    اسرائیلی فوج نے اس سے قبل جنوبی لبنان کے متعدد علاقوں کے مکینوں کو انخلا کا حکم دیا تھا۔

    نئے حملے ایک دن بعد ہوئے جب اسرائیل اور لبنانی نمائندوں نے واشنگٹن میں موجودہ نازک جنگ بندی کو مزید 45 دن تک بڑھانے پر متفق ہوئے ہیں۔

    اس سے قبل لبنانی حکام نے اسرائیل پر جان بوجھ کر طبی سہولیات کو نشانہ بنانے کا الزام لگایا تھا۔

    لبنان کی وزارت صحت نے اعلان کیا کہ اسرائیل نے ایک امدادی مرکز کو نشانہ بنایا جس میں تین امدادی کارکنوں سمیت چھ افراد ہلاک ہوئے۔

    لیکن اسرائیل نے امداد اور طبی عملے کو نشانہ بنانے کی تردید کی۔

  15. ضلع کیچ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے خاتون پولیس کانسٹیبل ہلاک

    بلوچستان کے ضلع کیچ میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے ایک خاتون پولیس کانسٹیبل ہلاک جبکہ ان کے شوہر اور بچہ زخمی ہوگئے۔

    پولیس حکام نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ فائرنگ آبسر ریسرچ فارم کے قریب کی گئی۔

    تربت میں ایک پولیس اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سُنیل جان، ان کی اہلیہ لیڈی کانسٹیبل شکیلہ شاہ آباد سے موٹر سائیکل پر تربت شہر کی جانب جارہے تھے کہ نامعلوم مسلح افراد نے آبسر کے قریب ان پر فائرنگ کر دی۔

    ان کا کہنا تھا کہ فائرنگ سے لیڈی کانسٹیبل شکیلہ ہلاک اور ان کا شوہر اور ایک آٹھ سالہ بچہ زخمی ہوگئے۔

    پولیس اہلکار کے مطابق تاحال اس واقعے کے محرکات معلوم نہیں ہوسکے جن کے بارے میں تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔

    کوئٹہ میں پولیس حکام کی جانب سے اس واقعے کے حوالے سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق لیڈی کانسٹیبل شکیلہ سنیچر کے روز صبح ساڑھے آٹھ بجے کے قریب اپنے شوہر اور دو کمسن بچوں کے ہمراہ جارہی تھیں کہ نامعلوم مسلح افراد نے راستے میں ان پر فائرنگ کی۔

    پولیس حکام کے مطابق لیڈی کانسٹیبل کورٹ ڈیوٹی کے لیے جا رہی تھی۔

    فائرنگ سے لیڈی کانسٹیبل ہلاک، ان کے شوہر اور آٹھ سالہ بچہ زخمی ہوگئے جبکہ سات ماہ کا بچہ جو کہ خاتون کانسٹیبل کی گود میں تھا محفوظ رہا۔

    کوئٹہ میں اس واقعے کے حوالے سے فراہم کردہ معلومات میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ ایسا لگتا ہے کہ خاتون کانسٹیبل کے شوہر اس حملے کا بنیادی ہدف تھے جس میں وہ زخمی ہوئے۔

    بلوچستان میں گزشتہ تین سے چار ہفتوں کے دوران ہونے والے حملے میں کسی خاتون کانسٹیبل کی ہلاکت کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔

    اس سے قبل اپریل کے تیسرے ہفتے میں ضلع خضدار کے علاقے باجوئی میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں خضدار پولیس کی ایک لیڈی کانسٹیبل ملک ناز ہلاک ہوگئیں تھیں۔

  16. امریکی صدر کے بعد روسی صدر کا دورہ چین: ’جامع شراکت داری اور سٹریٹجک تعاون‘ پر بات ہوگی، کریملن

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    روسی صدر ولادیمیر پوتن منگل کو چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ بات چیت کے لیے چین کا دورہ کریں گے۔

    کریملن نے سنیچر کے روز اعلان کیا ہے کہ صدر پوتین 19 مئی کو دو روزہ دورے پر چین روانہ ہوں گے۔ یہ دورہ ایسے وقت ہو رہا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ حال ہی میں بیجنگ کا دورہ مکمل کر کے واپس جا چکے ہیں۔

    کریملن کے بیان کے مطابق پوتن اپنے چینی ہم منصب شی جن پنگ کے ساتھ ماسکو اور بیجنگ کے درمیان ’جامع شراکت داری اور سٹریٹجک تعاون‘ پر گفتگو کریں گے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں رہنما اہم بین الاقوامی اور علاقائی امور پر بھی تبادلہ خیال کریں گے اور مذاکرات کے اختتام پر ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کریں گے۔

    دورے کے دوران صدر پوتن چین کے وزیر اعظم لی چیانگ سے بھی ملاقات کریں گے، جس میں وہ اقتصادی اور تجارتی تعاون پر بات چیت کریں گے۔

    یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چین روسی توانائی کا سب سے بڑا خریدار بن چکا ہے اور مغربی پابندیوں کے بعد ماسکو کا اہم اقتصادی شراکت دار بن کر سامنے آیا ہے۔

  17. امریکہ آبنائے ہرمز کے معاملے پر عالمی حمایت کا جھوٹا تاثر دے رہا ہے: ایران کا الزام

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اقوام متحدہ میں ایرانی مشن کی جانب سے یہ بیان سامنے آیا ہے کہ امریکہ آبنائے ہرمز سے متعلق ایک مسودہ قرارداد کے لیے ’وسیع بین الاقوامی حمایت‘ کی جعلی تصویر بنا رہا ہے اور اس قرارداد کے شریک ممالک کو کسی بھی نئی کشیدگی کے خلاف خبردار کیا ہے۔

    مشن نے سنیچر کی صبح ایکس پر جاری اس بیان میں کہا کہ ’اب یہ بالکل واضح ہو چکا ہے کہ امریکہ اپنی سیاسی طور پر متعصبانہ اور یکطرفہ مسودہ قرارداد کے مبینہ شریک ممالک کی تعداد کو استعمال کرتے ہوئے اپنی جاری غیر قانونی کارروائیوں کے لیے ’وسیع بین الاقوامی حمایت‘ کی جھوٹی تصویر بنانے کی کوشش کر رہا ہے اور خطے میں مزید فوجی مہم جوئی کی راہ ہموار کر رہا ہے۔‘

    یہ بیان امریکہ اور خلیجی عرب ممالک کے درمیان مشترکہ طور پر تیار کردہ آبنائے ہرمز کی صورتحال سے متعلق مسودہ قرارداد کے جواب میں دیا گیا۔

    مشن نے ممکنہ نئی کشیدگی کے خلاف بھی خبردار کیا اور اس کے ’شریک‘ ممالک کو ذمہ دار ٹھہرایا۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’اگر امریکہ کسی نئی کشیدگی کو جنم دیتا ہے تو تمام شریک ممالک واشنگٹن کے ساتھ مل کر بین الاقوامی سطح پر اس کے نتائج کے ذمہ دار ہوں گے۔ کوئی بھی سیاسی بہانہ یا سفارتی پردہ انھیں امریکی جارحیت کو سہولت دینے، ممکن بنانے اور اسے قانونی جواز دینے کی ذمہ داری سے بری نہیں کر سکتا۔‘

    واضح رہے کہ پانچ مئی کو امریکی محکمہ خارجہ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ امریکہ نے بحرین، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت اور قطر کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کے دفاع کے لیے ایک قرارداد تیار کی ہے۔

    بیان میں ایران پر الزام لگایا گیا کہ وہ ’آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی کوششوں، آبنائے میں بحری جہازوں پر حملے کی دھمکیوں، جہاز رانی کے لیے خطرہ بننے والی سمندری بارودی سرنگیں بچھانے اور دنیا کے سب سے اہم آبی راستے پر ٹول وصول کرنے کی کوششوں کے ذریعے عالمی معیشت کو یرغمال بنا رہا ہے۔‘

    ایران نے ان الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’آبنائے ہرمز اور وسیع خطے میں کسی بھی قسم کی عدم تحفظ کی براہ راست ذمہ داری امریکہ اور اسرائیل پر عائد ہوتی ہے کیونکہ انھوں نے 28 فروری کو ایران کے خلاف جارحیت کی جنگ شروع کی تھی۔‘

    آبنائے ہرمز کے ساحلی ملک کے طور پر ایران نے جنگ کے ابتدائی دنوں سے اس آبی راستے پر کنٹرول کو اپنی دفاعی اقدامات کا حصہ قرار دیتے ہوئے برقرار رکھا ہے۔ ملک نے اسی دوران عمان کے ساتھ بھی بات چیت کی ہے، جو آبنائے ہرمز کا ایک اور ساحلی ملک ہے تاکہ اس آبی راستے میں آزاد اور محفوظ آمد و رفت کے لیے قواعد و ضوابط مرتب کیے جا سکیں۔

  18. لبنان میں اسرائیلی فوج کے حملے، چھ افراد ہلاک متعدد زخمی

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    لبنان کی وزارت صحت کے مطابق مُلک کے جنوبی قصبے پر اسرائیلی فضائی حملے میں چھ افراد ہلاک ہو گئے جن میں تین پیرا میڈکس بھی شامل ہیں۔

    یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب امریکہ نے کہا ہے کہ اسرائیل اور لبنان نے 45 روزہ جنگ بندی پر اتفاق کر لیا ہے۔

    وزارت صحت کے مطابق قصبہ حاروف میں سول ڈیفنس کے ایک مرکز کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں ایک چوتھا پیرا میڈک شدید زخمی ہوا۔ اس حوالے سے بی بی سی نے اسرائیلی فوج سے مؤقف جاننے کے لیے رابطہ کیا ہے۔

    جمعے کے روز امریکی محکمہ خارجہ نے اعلان کیا کہ واشنگٹن ڈی سی میں دو روزہ مذاکرات کے بعد اسرائیل اور لبنان نے اپنی غیر مستحکم جنگ بندی کو بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 16 اپریل کو جنگ بندی کا اعلان کیا تھا تاہم اس کے بعد سے اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان فائرنگ کے تبادلے جاری رہے ہیں۔

    بدھ کے روز لبنان کی وزارت صحت نے بتایا تھا کہ جنوبی علاقوں میں اسرائیلی فضائی حملوں میں 22 افراد ہلاک ہوئے جن میں آٹھ بچے بھی شامل تھے۔

    امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا کہ ’ہمیں امید ہے کہ یہ مذاکرات دونوں ممالک کے درمیان دیرپا امن، ایک دوسرے کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے مکمل احترام، اور مشترکہ سرحد پر حقیقی سکیورٹی کے قیام میں مددگار ثابت ہوں گے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ محکمہ خارجہ جون میں مذاکرات کے سیاسی مرحلے کو دوبارہ شروع کرے گا۔

    پیگوٹ کے مطابق ’اس کے علاوہ 29 مئی کو پینٹاگون میں ایک سکیورٹی اجلاس شروع کیا جائے گا جس میں دونوں ممالک کے فوجی وفود شرکت کریں گے۔‘

  19. ٹرمپ کا امریکہ اور نائجیریا کی مشترکہ کارروائی میں داعش کے رہنما کی ہلاکت کا دعویٰ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ اور نائجیریا کی افواج نے ایک مشترکہ کارروائی میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ داعش کے دوسرے اہم رہنما کو ہلاک کر دیا ہے۔

    صدر ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر اپنے پیغام میں کہا کہ ابو بلال المینوکی اب افریقہ کے عوام کو نقصان نہیں پہنچا سکیں گے اور نہ ہی امریکیوں کو نشانہ بنانے کے لیے کسی کارروائی کی منصوبہ بندی کر سکیں گے۔

    انھوں نے المینوکی کو ’دنیا کا سب سے خطرناک اور سرگرم دہشت گرد‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی ہلاکت سے اس تنظیم کی عالمی سرگرمیاں بری طرح کمزور ہو گئی ہیں۔

    المینوکی کو سنہ 2023 میں داعش سے تعلق کے باعث امریکہ کی جانب سے پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔

  20. ایران امارات اختلافات کے باعث برکس اجلاس بغیر کسی نتیجہ کے ختم، مشترکہ اعلامیہ جاری نہ ہوسکا

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    برکس گروپ کے رکن ممالک، جن میں ایران اور متحدہ عرب امارات بھی شامل ہیں، کے وزرائے خارجہ جمعے کے روز دو روزہ اجلاس کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری کرنے میں ناکام رہے، جس کی وجہ دونوں ممالک کے درمیان اختلافات بتائی جا رہی ہے۔

    خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق نئی دہلی میں ہونے والے اجلاس کے اختتام پر میزبان ملک انڈیا نے مشترکہ بیان کے بجائے ایک صدارتی اعلامیہ جاری کیا، جس میں اختلافات کی نشاندہی کی گئی۔

    ایران نے ابھرتی ہوئی معیشتوں کے اس اتحاد یعنی برکس سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کی مذمت کرے، جبکہ امریکہ کی اتحادی متحدہ عرب امارات پر ایران نے اپنے خلاف فوجی کارروائیوں میں براہِ راست ملوث ہونے کا الزام عائد کیا۔

    انڈیا کی جانب سے جاری بیان اور اجلاس کی دستاویز میں کہا گیا کہ ’مغربی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر بعض رکن ممالک کے درمیان مؤقف میں اختلاف پایا گیا۔‘

    بیان کے مطابق ان آرا میں جلد از جلد بحران کے حل، مذاکرات اور سفارت کاری کی اہمیت اور خودمختاری و علاقائی سالمیت کے احترام جیسے نکات شامل تھے۔

    اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا کہ مذاکرات کے دوران بین الاقوامی قوانین کی پاسداری، عالمی آبی راستوں میں سمندری آمدورفت کی آزادی اور شہری انفراسٹرکچر و انسانی جانوں کے تحفظ پر زور دیا گیا۔

    تاہم ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پریس کانفرنس کے دوران، کسی ملک کا نام لیے بغیر، کہا کہ برکس کے ایک رکن نے بیان کے بعض حصوں کو ’روکا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ہمارا اس ملک سے کوئی اختلاف نہیں، وہ موجودہ جنگ میں ہمارا ہدف نہیں تھا۔ ہم نے صرف ان امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات کو نشانہ بنایا جو بدقسمتی سے اس کی سرزمین پر موجود ہیں۔‘

    متحدہ عرب امارات نے بعد ازاں وزارتِ خارجہ کے ایک بیان میں کہا کہ وہ ’اپنی خودمختاری، قومی سلامتی یا آزادانہ فیصلوں کو متاثر کرنے والے کسی بھی الزام یا دھمکی کو قطعی طور پر مسترد کرتا ہے۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا کہ امارات ’کسی بھی دھمکی، دعوے یا جارحانہ اقدام کے خلاف اپنے تمام خودمختار، قانونی، سفارتی اور فوجی حقوق محفوظ رکھتا ہے۔‘

    امارات کے نائب وزیر خارجہ اور برکس اجلاس میں نمائندہ خلیفہ بن شاہین المرر نے کہا کہ 28 فروری 2026 سے ’متحدہ عرب امارات کو ایران کی جانب سے بار بار غیر ضروری اور دہشت گردانہ حملوں کا سامنا کرنا پڑا، جن میں براہِ راست شہری تنصیبات اور اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا۔‘

    انھوں نے ایران پر بین الاقوامی سمندری راستوں میں رکاوٹ ڈالنے کا بھی الزام لگایا، جن میں آبنائے ہرمز کی عملی بندش بھی شامل ہے۔

    خلیفہ بن شاہین المرر نے زور دے کر کہا کہ ’متحدہ عرب امارات کسی سے تحفظ کا انتظار نہیں کرتا اور نہ ہی اس معاملے میں کسی کی معاونت کا منتظر ہے بلکہ ہو خود ہر چیلنج کا مقابلہ کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے جسے انھوں نے ’کھلی جارحیت‘ قرار دیا۔‘