جسٹس عائشہ ملک سمیت سپریم کورٹ کے مزید پانچ ججز کو مشکوک خطوط موصول
سپریم کورٹ کے مزید پانچ ججز کو دھمکی آمیز خطوط موصول ہوئے ہیں۔ سپریم کورٹ کے سکیورٹی حکام نے یہ خطوط کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے حوالے کر دیے ہیں۔
دوسری طرف بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں بغیر اجازت ریلی نکالنے پر تحریک انصاف کے صوبائی اور مقامی رہنماؤں کے خلاف پولیس نے قومی اداروں اور حکومت کے خلاف عوام میں نفرت پیدا کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کر لیا ہے۔
خلاصہ
آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ پاکستانی حکام نے موجودہ پروگرام کی تکمیل کے بعد اگلے معاونتی پروگرام کے لیے دلچسپی کا اظہار کیا ہے تاکہ پاکستان کو درپیش مالیاتی اور بیرونی چیلنجوں سے نمٹا جا سکے
عدلیہ میں خفیہ اداروں کی مبینہ مداخلت کے معاملے پر سپریم کورٹ میں ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ عدلیہ میں کوئی مداخلت برداشت نہیں ہو گی
عدلیہ میں خفیہ اداروں کی مبینہ مداخلت کے معاملے پر سپریم کورٹ میں ازخود نوٹس کی سماعت 29 اپریل تک ملتوی ہو گئی ہے
لائیو کوریج
پی ٹی آئی رہنما اعظم سواتی طویل عرصہ بعد منظر عام پر آ گئے، عدالت کے سامنے سرنڈر کر دیا
پی ٹی آئی رہنما اعظم سواتی طویل عرصہ بعد منظر عام پر آ گئے ہیں اور وہ جوڈیشل کمپلیکس پہنچ گئے۔
یاد رہے پی ٹی آئی رہنما سابق سینیٹر اعظم سواتی کے خلاف متنازع ٹویٹس کرنے پر ایف آئی اے نے مقدمہ درج کیا تھا اور مسلسل غیر حاضری پر عدالت نے اعظم سواتی کو اشتہاری قرار دینے کے بعد دائمی وارنٹ جاری کئے تھے۔
اعظم سواتی نے عدالت کے سامنے سرنڈر کرتے ہوئے درخواست ضمانت قبل از گرفتاری دائر کی ہے۔
اعظم سواتی اپنے وکیل علی بخاری، مرتضیٰ طوری کے ہمراہ سپیشل جج سنٹرل کی عدالت میں پیش ہوئے۔
اس مقدمے کی سماعت ڈیوٹی جج رخشندہ شاہین نے کی۔ عدالت نے اعظم سواتی کی عبوری ضمانت 20 اپریل تک منظور کر لی ہے۔
،تصویر کا ذریعہYOUTUBE
جوڈیشل کمپلیکس توڑ پھوڑ کیس میں بھی اعظم سواتی نے انسداد دہشتگری عدالت کے سامنے سرنڈر کر دیا ہے۔
انسداد دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے کیس کی سماعت کی۔ اعظم سواتی اپنے وکیل علی بخاری ایڈوکیٹ کے ہمراہ عدالت پیش ہوئے۔
وکیل علی بخاری نے عدالت کو بتایا کہ ضمانت پہلے سے کنفرم تھی، ہم عدالت پیش نہیں ہوسکے تو وارنٹ جاری ہوگیا۔
عدالت نے 10 ہزار کے مچلکوں کے عوض اعظم سواتی کی ضمانت منظور کر لی ہے۔
عدالت نے کیس کی سماعت 20 اپریل تک ملتوی کردی ہے۔
حقیقی آزادی مارچ کے مقدمات: عمران خان، شاہ محمود، شیخ رشید اور دیگر کی درخواست بریت پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد کی مقامی عدالت نے حقیقی آزادی مارچ کے حوالے سے تھانہ آئی نائن کے مقدمہ میں سابق وزیر اعظم اور بانی پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی و دیگر کی بریت درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے شیخ رشید احمد کی بریت درخواست پر نوٹس جاری کر دیا ہے اور کہا ہے کہ سب درخواستیں سن کر اکٹھا فیصلہ کریں گے۔
جوڈیشل مجسٹریٹ ملک محجد عمران نے تھانہ آئی نائن میں درج مقدمہ کی سماعت کی۔
دوران سماعت سابق وفاقی وزیر شیخ رشید احمد،علی نواز اعوان، صداقت عباسی اور دیگر عدالت پیش ہوئے۔
پی ٹی آئی وکلا سردار مصروف ایڈوکیٹ، آمنہ علی، رضوان اختر اعوان اور مرزا عاصم ایڈوکیٹ عدالت پیش ہوئے اور شیخ رشید کو جانب سے بریت کی درخواست دائر کی۔
سردار مصروف ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ گذشتہ سال فروری میں بریت کی درخواست دائر کی تھی اور ہم اس کیس میں بریت کی درخواست پر آج دلائل دینا چاہتے ہیں۔
جج ملک محمد عمران نے ریمارکس دیے کہ صداقت عباسی، علی نواز اعوان اور شیخ رشید کے چالان عدالت میں آگئے ہیں۔
اس پر سردار مصروف ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ یہ ایف آئی آر دفعہ 144 کی خلاف ورزی کے تحت درج کی گئی ہے، اس مقدمے میں کوئی شواہد موجود نہیں ہیں اور سی سی ٹی وی فوٹیج وغیرہ کچھ بھی موجود نہیں ہے۔
دلائل سننے کے بعد بریت درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے عدالت کا کہنا تھا کہ تمام درخواستیں اکٹھی سن کر فیصلہ کریں گے۔
عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 6 جون تک ملتوی کر دی ہے۔
مقدمے میں پرویز خٹک، اسد قیصر،اسد عمر،علی امین گنڈاپور بھی شریک ملزمان کی فہرست میں شامل ہیں۔
پاکستان سٹاک ایکسچینج میں تیزی، انڈیکس پہلی بار 68 ہزار پوائنٹس کی سطح عبور کر گیا, تنویر ملک، صحافی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان سٹاک ایکسچینج میں جمعرات کے روز کاروبار کے آغاز پر تیزی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا ہے اور انڈیکس مزید 400 پوائنٹس سے زائد کے اضافے کے بعد ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ 68 ہزار کی سطح عبور کر گیا ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان سٹاک ایکسچینج کے 100 انڈیکس نے تاریخ میں پہلی بار 68000 پوائنٹس کی سطح عبور کی ہے۔ پاکستان سٹاک ایکسچینج میں گذشتہ روز بھی تیزی کو رجحان غالب تھا اور مجموعی طور پر انڈیکس میں 850 پوائنٹس سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔
ماہرین پاکستان سٹاک ایکسچینج میں تیزی کی وجہ معاشی شعبے میں ہونے والی پیش رفت کو قرار دیتے ہیں۔
تجزیہ کار شہر یار بٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ عموماً رمضان کے مہینے میں پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروبار محدود رہتا ہے تاہم اس بار تیزی کا رجحان کافی دنوں سے دیکھا گیا ہے جس کی وجہ پاکستان کا آئی ایم ایف سے ہونے والا سٹاف لیول معاہدہ ہے اور اس کے ساتھ ایک بڑے قرض پروگرام کی توقعات بھی۔
انھوں نے کہا اس کے ساتھ موجودہ حکومت کے معاشی اصلاحات کے ایجنڈے کی وجہ سے بھی سرمایہ کاروں میں اعتماد آیا ہے جس میں سب سے اہم نجکاری کے شعبے میں ہونے والی پیش رفت ہے، خاص کر پی آئی اے کی نجکاری کے مراحل مثبت انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں۔
انھوں نے کہا اس کے علاوہ عید کے بعد مشرق وسطیٰ کے ممالک کی جانب سے پاکستان میں سرمایہ کاری کی خبروں نے بھی مارکیٹ میں مثبت رجحان کو پیدا کیا ہے اور سرمایہ کاروں کو اعتماد دیا ہے۔
ان کے مطابق ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے گورنمنٹ سیکورٹییز میں گذشتہ مہینے آٹھ کروڑ چالیس لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی ہے، جو چار سال بعد ہوئی ہے اور اس نے ایک مثبت رجحان کو مارکیٹ میں فروغ دیا۔
اسلام آباد میں مبینہ راہزنی کی واردات کے دوران افغان صحافی گولی لگنے سے زخمی, سحر بلوچ، بی بی سی اُردو، اسلام آباد
،تصویر کا ذریعہSocial Media
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے سیکٹر جی سکس میں ایک افغان
شہری اور صحافی احمد حنائیش پر مبینہ طور پر موبائل چھینے کی کوشش کے دوران ہونے
والے تشدد کے واقعے کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
اس ضمن میں درج کی گئی ایف آئی آر کے مطابق، احمد حنائیش
اپنے ساتھی محسن طاہری کے ساتھ رات گیارہ بجے آبپارہ مارکیٹ سے جِم کی طرف جا رہے
تھے جب ایک موٹرسائیکل پر سوار تین افراد ان پر حملہ آور ہوئے اور اُن سے فون اور
لیپ ٹاپ چھیننے کی کوشش کی۔
مقدمے کے مدعی احمد نے اپنے بیان میں کہا کہ ’ایک حملہ آور ان
کے دوست سے فون چھیننے لگا جبکہ دوسرے نے ان سے موبائل فون اور بیگ چھیننے کی کوشش
کی اور اس دوران ہونے والی مزاحمت پر حملہ آوروں کی جانب سے دو فائر کیے گئے۔ ایک
گولی صحافی احمد کے بائیں پاؤں پر لگی جبکہ اس دوران ان کی کنپٹی پر پستول کا بٹ
مارا گیا جس سے وہ زمین پر گِر پڑے۔‘
اس واقعے کے بعد احمد کو پہلے ایمرجنسی میں پِمز ہسپتال لے
جایا گیا جس کے بعد انھیں اب پرائیوٹ ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ احمد ’ریڈیو
آزادی‘، ’ریڈیو دنیا‘ اور ’کہکشاں ریڈیو، سے منسلک ہیں
جبکہ وہ پاک افغان جرنلسٹ یونینکے رکن بھی
ہیں۔
اسلام آباد پولیس نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ملزمان کا
سیف سٹی کیمرہ کے ذریعے پتا لگا کر انھیں سزا دی جائے گی۔
انسٹاگرام اور واٹس ایپ پر پیغامات بھیجنے اور تصاویر شیئر کرنے میں مُشکلات کا سامنا
عالمی سائبر سکیورٹی اور ڈیجیٹل
گورننس کی تنظیم نیٹ بلاکس کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر میٹا کے دو سوشل
میڈیا پلیٹ فارمز تک رسائی میں صارفین کو مُشکلات کا سامنا ہے۔
نیٹ بلاکس کی جانب سے ایکس پر
جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ میٹا کے دو پلیٹ فارمز انسٹاگرام اور واٹس ایپ تک رسائی میں صارفین کو مُشکلات کا سامنا ہے۔ نیٹ بلاکس کے مطابق ان دونوں پلیٹ فارمز
پر صارفین کو خاص تور پر تصاویر اور میڈیا فائلز یعنی ویڈیوز شئیر کرنے میں بھی مُشکلات پیش آرہی ہیں تاہم صارفین کو رابطے میں بھی دشواری کا سامنا ہے۔
ایکس پر جاری بیان میں نیٹ بلاکس
کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ بین الاقوامی سطح پر سامنے آرہا ہے اس میں مُلکی سطح پر
انٹرنیٹ کی بندش یا فلٹرنگ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
،تصویر کا ذریعہ@netblocks
سپریم کورٹ میں ججز پسندیدگی کی بنیاد پر تعینات کیے جا رہے ہیں: پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کا خط, شہزاد ملک، بی بی سی اردو
،تصویر کا ذریعہSupreme Court/Peshawar High Court
پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس محمد ابراہیم خان نے پاکستان کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے نام ایک خط میں لکھا کہ سپریم کورٹ میں ججوں کی تعیناتی میں فیورٹ ازم (پسندیدگی) اور صوبہ خیبرپختونخوا کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جا رہا ہے۔
جسٹس ابراہیم کے مطابق اس وقت سپریم کورٹ میں اس وقت بلوچستان سے تین اور کے پی سے صرف دو ججز ہیں۔ واضح رہے کہ چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس ابراہیم خان 13 اپریل کو ریٹائر ہو رہے ہیں۔
انھوں نے لکھا کہ سپریم کورٹ تعیناتی کے لیے میرے ایسے مراسم نہیں جو ایسے موقع پر کام آتے ہیں۔ انھوں نے لکھا کہ ’توقع ہے اس خط کے بعد آپ میرے خلاف نہیں ہوجائیں گے کیونکہ آپ خود بھی آواز اٹھاتے رہے ہیں۔‘
جسٹس ابراہیم خان نے لکھا کہ میں ’بھاری دل کے ساتھ یہ خط فیورٹ ازم سے متعلق لکھ رہا ہوں کہ جب سپریم کورٹ میں چار آسامیاں خالی تھیں تو آپ نے صرف ایک تعیناتی اپنے صوبے بلوچستان سے جسٹس نعیم افغان کی صورت میں کی۔
جسٹس ابراہیم نے کہا کہ میں کوئی فیصلوں کو چیلنج نہیں کر رہا ہوں بلکہ اس خط کے ذریعے اس طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں۔ پوچھنا چاہتا ہوں کیا وجہ تھی کہ چار آسامیوں کے خالی ہوتے صرف ایک پر تعیناتی کی گئی؟ انھوں نے لکھا کہ تمام ہائیکورٹس میں دوسرا سینیئر موسٹ چیف جسٹس ہوں۔
انھوں نے لکھا ک میں خود جوڈیشل کمیشن اور سپریم جوڈیشل کونسل کا رکن ہوں، توقع تھی کم از کم میرا نام زیر غور تو لایا جائے گا‘۔
جسٹس ابراہیم خان کے مطابق لوگ جلد انصاف کی رسائی کی توقع رکھتے ہیں اور آسامیاں خالی ہیں۔ ٹیکس ادا کرنے والے شہری آسامیوں کو جلد بھرنے کی توقع رکھتے ہیں، سوچتا رہا کہ باقی آسامیاں خالی چھوڑنے کی وجہ کیا ہے؟
جسٹس ابراہیم خان نے اس کے بعد لکھا کہ ’مجھے کوئی معقول وجہ سمجھ میں نہیں آئی ہے۔‘ ان کے مطابق وہ 31 سال سے مذہنی فریضے کے طور پر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ ’ایسا کیریئر رہا کہ خدا کے سامنے مطمئن ہوں ضمیر کیمطابق فیصلے کیے۔‘
انھوں نے لکھا کہ ’قانون کی حکمرانی کے لیے میرا ایمان غیرمتزلزل ہے۔‘
جسٹس ابراہیم نے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے ہی لکھے گئے خط کا حوالہ دیا جو انھوں نے جولائی 2022 کو اس وقت کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کو میرٹ پر تعیناتیوں سے متعلق لکھا تھا۔
سپریم کورٹ کے ججز کو دھمکی آمیز خطوط، کاؤنٹر ٹیررازم نے مقدمہ درج کر لیا
سپریم کورٹ کے ججز کو دھمکی آمیز خط کا مقدمہ اسلام آباد کے تھانہ سی ٹی ڈی میں درج کر دیا گیا ہے۔ یہ مقدمہ سپریم کورٹ آر اینڈ آئی برانچ کے انچارج کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔
مقدمہ انسداد دہشتگردی کی دفعہ 7 اور 507 کے تحت درج کیا گیا ہے۔
سپریم کورٹ کے ایڈمن انچارج خرم شہزاد نے تین اپریل کو بذریعہ فون بتایا کہ عام ڈاک موصول ہوئی اور جب اسے کھولا گیا تو ان لفافوں میں سفید پائوڈر نما کیمکل موجود ہے۔
یہ ڈاک متعلقہ جسٹس صاحبان کے سیکرٹریز کو ڈاک وصول کروائی گئی۔
مقمے کی تفصیلات کے مطابق خطوط میں چار لفافے جو کہ چیف جسٹس پاکستان اور تین دیگر تین جسٹس صاحبان کے نام سے ہیں۔
تین خطوط گلشاد خاتون پتہ نامعلوم اور ایک خط سجاد حسین پتہ نامعلوم کی طرف سے بھیجے گئے ہیں۔ مقدمے کے مطابق ’خطوط کے ذریعے خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کی گئی ہے۔‘
اسلام آباد کے بعد لاہور ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کے ججز کو بھی مشکوک خطوط موصول: ’پہلے سے دباؤ کا شکار عدلیہ پر مزید دباؤ آ رہا ہے‘
سائفر کیس پر سماعت: ’عمران خان اور شاہ محمود قریشی نے کوئی راز فاش نہیں کیا‘, شہزاد ملک، بی بی سی اردو
،تصویر کا ذریعہAFP
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے سائفر کیس میں ریمارکس دیے ہیں کہ ہم نے جائزہ لیا ہے کہ سابق وزیر اعظم اور بانی پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی نے بیانات میں کچھ راز عیاں نہیں ہوا۔
انھوں نے کہا کہ ایک طرف آپ ڈی مارش کر رہے ہیں، دوسری طرف کہہ رہے ہیں اس ملک سے تعلقات خراب نہ ہوں۔ آپ نے اس ملک سے تعلقات خراب نہ کرنے کے لیے سابق وزیراعظم کوجیل میں ڈال دیا۔
چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے ’ہاتھی آپ نکال چکے، دم بھی نکال دیں۔‘
چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے سائفر کیس میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت کی۔
بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا سائفر کبھی بھی عوامی جلسے میں نہیں پڑھا گیا۔ جب کیس دومرتبہ ریمانڈ بیک ہو کر جائے تو جج کو احتیاط سے کیس سننا چاہیے۔
انھوں نے کہا کہ شاہ محمود قریشی کے بطور ملزم بیان سے پہلے ہی فیصلہ سنادیا گیا۔
انھوں نے کہا کہ ملزمان کے حتمی بیان کے بعد بانی پی ٹی آئی اورشاہ محمود قریشی سے دو دو سوال پوچھے گئے اور سوال پوچھنے کے فوری بعد سزا سنادی گئی۔
سلمان صفدر کا کہنا تھا کہ فیصلے میں لکھا ہے کہ ریاست کے اعتماد کا قتل کیا گیا، ملزمان رعایت کے مستحق نہیں۔
ان کے مطابق یہ کلبھوشن جادھو یا ابینندن کے لیے بنائے گئے قوانین ہیں مگر ریاست کے دشمن کے لیے بنے قانون کو سیاسی دشمن کے خلاف استعمال کر لیا گیا۔
جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیے کہ ہمیں جو بات سمجھ آئی ہے وہ یہ ہے کہ اگرفارن سٹیٹ نے کوئی جارحانہ بات کی ہے تووہ آپ بتائیں گے نہیں کیونکہ وہ بات سائفرمیں آئی ہے۔
انھوں نے سوال کیا کہ سائفر اگر سائفر کے طور پر نہ آتا اورعمومی طور پر بھیجا جاتا تو پھر کیا ہوتا؟
اگر سائفر ڈپلومیٹک بیگ کے طورپر آتا تو کیا پھر وزیراعظم اسے سامنے لاسکتا تھا؟
ملزمان کے وکیل سلمان صفدر نے کہا دونوں اپیل کنندگان سے کوئی ریکوری نہیں ہوئی، کسی ملزم سے سائفر کی کاپی برآمد نہیں ہوئی، ایف آئی اے نے غلط کیس بنایا اور ٹرائل کورٹ نے بھی غلط سزا دی۔ آج تک سائفر کے الزام پر کسی پر کیس نہیں بنا اور سزا نہیں ہوئی۔
ٹرائل کورٹ جج نے فیصلے میں کبھی سیاسی مقاصد کا بتایا اور کبھی اکانومی کا ذکر کردیا۔
چیف جسٹس نے کہا ملزم کے بیان میں ایک حصہ لکھا ہوا ہے کہ جج سزا سنا کر فوری کورٹ سے روانہ ہوگئے۔یہ بیان تو پراسیکیوشن کے شواہد کے جواب میں دفاعی بیان حتمی سے پہلے ہوتا ہے۔ آپ کہنا چاہ رہے ہیں کہ فیئرٹرائل کے تقاضے پورے نہیں کیے گئے؟
جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ ٹرائل جج نے فیصلے میں یہ فائنڈنگ دی کہ پاکستان امریکا تعلقات ختم ہوگئے، ایسا کس بنیاد پر لکھا گیا؟
سلمان صفدر نے کہا جج نے امریکا میں پاکستانی سفیر اسد مجید کے بیان کی بنیاد پر لکھا۔
عدالت نے کہا بانی پی ٹی آئی کے خلاف الزامات ’سیکرٹ ڈاکیومنٹ ڈسکلوز‘ اور پھر اسے غائب کرنے کے ہیں۔
سلمان صفدر نے کہا ٹرائل کورٹ جج نے اس کیس کو چلاتے وقت اپنے حلف کا خیال بھی نہیں رکھا، اسد عمر کو سیاست چھوڑنے پر ملزم نہیں بنایا گیا۔
اعظم خان سے بیان لے کر چھوڑ دیا، شاہ محمود قریشی چونکہ بانی پی ٹی آئی کا ساتھ چھوڑنے کوتیار نہیں تھے اس لیےانھیں سزا دلوائی گئی۔
سلمان صفدر کا کہنا تھا دشمن ریاست کون سی ہے، دشمن ریاست کو کیا فائدہ پہنچایا گیا؟
ان کا کہنا تھا قانون کا مذاق بنایا گیا، غیر سنجیدہ پراسیکیوشن کی گئی۔ سائفر سامنے اس لیےنہیں لائے کیونکہ وہ ملزم کی فیور کرتا۔
سائفر کا متن ’پلین ٹیکسٹ‘ کی صورت میں بھی سامنے نہیں آیا۔ ایسا نہیں کہ سائفر گم گیا، وہ آج بھی ساتھ والی بلڈنگ فارن آفس میں موجود ہے، سائفر تو اس کو کہنا ہی نہیں چاہیے، وہ تو فارن آفس میں رہ گیا، اس کی کاپیاں بھجوائی گئیں۔
صرف ایک کاپی واپس نہ آنے پر کیس بنایا گیا جبکہ سائفر کی تو نو کاپیاں واپس نہیں آئی تھیں پھر کس صرف بانی پی ٹی آئی کے خلاف کیوں؟
ان کے مطابق اگر سیاسی انتقام کا نشانہ بنانا ختم ہو تو چیزوں کو بہتر کرنے کا موقع بھی مل جائے۔
جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیے آپ کو 10سال کی جو سزا ہوئی اس کو ڈی مولش کرنے کی کوشش کی ہے، ہم نے نوٹ کر لیا ہے۔
آپ نے اچھے سےدلائل دیے، ایک چیز آپ کے پاس آتی ہے وہ واپس نہیں کی جاتی۔
سائفر کی کاپی واپس نہ دینے پر دو سال کی سزا سنائی گئی، آپ نے سائفر کاپی واپس دینی تھی جو واپس نہیں دی گئی، اس پر کل دلائل دیں۔
سلمان صفدر نے کہا صرف بانی پی ٹی آئی نے نہیں دینے تھے باقی لوگوں کے پاس بھی کاپیاں تھیں جو پرچہ درج ہونے کے بعد واپس آئیں۔ سائفر اپیلوں پر مزید سماعت چار اپریل کو ہو گی۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف تعزیت کے لیے لاہور میں چینی قونصلیٹ پہنچ گئیں
،تصویر کا ذریعہPID
پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے لاہور میں واقع چینی قونصلیٹ جا کر وہاں چینی حکام سے ملاقات کی ہے اور شانگلہ حملے میں چینی شہریوں کی ہلاکت پر اظہار افسوس کیا۔
وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے چین کے قونصل جنرل ژاؤ شیرین سے ملاقات بھی کی ہے۔ اس ملاقات میں دیگر پاکستانی اور چینی حکام بھی موجود تھے۔
وزیراعلیٰ مریم نوازشریف کا شانگلہ حملے میں جاں بحق چینی شہریوں کے اہل خانہ سے اظہار ہمدردی و تعزیت کی اور چینی حکام سے باہمی تعاون اور اشتراک کار کا سلسلہ جاری رکھنے کےعزم کا اظہار کیا ہے۔
مریم نواز نے اپنے تاثرات میں کہا کہ ’پاکستان اور چین بے مثال دوست ہیں، بزدلانہ کارروائیوں سے دوستی متاثر نہیں ہوسکتی۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’چینی شہریوں پر حملہ ترقی و خوشحالی کو سبوتاژ کرنے کی مذموم سازش ہے۔‘
وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ ’پنجاب میں کام کرنے والے چینی باشندوں کی تحفظ کے لئے تمام ممکنہ اقدامات کررہے ہیں۔‘
مریم نواز شریف نے یقین دہانی کرائی کہ ’چینی بھائیوں کی فُول پروف سکیورٹی کی پالیسی پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائیں گے۔‘
صدر مملکت اور آرمی چیف کی ملاقات، ’ایک مخصوص سیاسی جماعت کی طرف سے فوج پر الزامات پر تشویش کا اظہار‘
،تصویر کا ذریعہISPR
صدر مملکت آصف علی زرداری سے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے ملاقات کی ہے، جس میں انھوں نے آصف علی زرداری کو پاکستان کے صدر اور مسلح افواج کے کمانڈر کا عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد دی ہے۔
اس ملاقات کے بعد جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ آرمی چیف نے صدر مملکت کی کامیاب مدت کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
اعلامیے کے مطابق صدر مملکت کا ایک مخصوص سیاسی جماعت اور اس کے چند افراد کی جانب سے ادارے اور اس کی قیادت کے خلاف محدود سیاسی مفادات کے حصول کے لیے لگائے گئے، بے بنیاد اور بلاجواز الزامات پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
صدر مملکت نے رخنہ ڈالنے والے عناصر سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
آرمی چیف نے صدر مملکت کو دہشت گردی کے خلاف جاری فوجی آپریشنز سے آگاہ کیا۔ آرمی چیف نے ملاقات میں روایتی خطرات کے خلاف آپریشنل تیاریوں پر بھی روشنی ڈالی۔
آرمی چیف نے بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے علاقوں سمیت ترقیاتی منصوبوں میں فوج کے کردار بارے بھی آگاہ کیا۔ اعلامیے کے مطابق ملاقات میں صدر مملکت نے پاکستان کی مسلح افواج کے مثالی کردار کو سراہا۔
ریپ اور بچوں پر تشدد کے مقدمات: پنجاب میں ’سپیشل سپیڈی ٹرائل کورٹ‘ قائم کرنے کا فیصلہ
،تصویر کا ذریعہ@PMLNDigital
پنجاب حکومت نے
ریپ اور بچوں پر تشدد کے مقدمات کا تیز
ترین ٹرائل کے لیے سپیشل سپیڈی ٹرائل کورٹ قائم کرنے کی منظوری دی ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کے اجلاس کے بعد جاری کردہ اعلامیے میں کہا
گیا ہے کہ ان عدالتوں کے ذریعے تیز ترین ٹرائل کر کے ایسے مقدمات کو منطقی انجام تک
پہنچایا جائے گا۔
صوبائی کابینہ کو سپیشل کورٹ قائم کرنے پر بریفننگ
دی گئی جس کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ اس متعلق بل منظوری کے لیے
جلد پنجاب اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔
ہتک عزت کے قانون میں بھی ترمیم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس کے تحت
ہتک عزت کیس میں 90 دن میں ڈگری اور 180 دن میں ٹرائل ختم کرنا ہو گا۔
اعلامیے کے مطابق پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز
نے صوبائی کابینہ سے اپنے اجلاس میں کہا ہے کہ ’جھوٹ بولنے اور جھوٹے الزامات کے
کلچر کو بدلنا ہوگا‘۔
ہتک عزت نوٹس بڑے اخبارات، سوشل میڈیا، کورئیر
کے ذریعے دیا جاسکے گا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
بریکنگ, لاہور ہائیکورٹ کے چار ججز کو بھی دھمکی آمیز خطوط موصول، نجی کوریئر کمپنی کا ملازم گرفتار
،تصویر کا ذریعہPunjab Police
لاہور ہائی کورٹ کے چار ججز کو بھی دھمکی آمیز خطوط موصول
ہوئے ہیں۔
بدھ کو یہ دھمکی آمیز خطوط لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شجاعت علی
خان، جسٹس شاہد بلال حسن، جسٹس عابد عزیز شیخ اور جسٹس عالیہ نیلم کے نام بھجوائے
گئے۔
دھمکی آمیز خطوط نجی کوریئر کمپنی کے ملازم نے موصول
کروائے، جسے حراست میں لے لیا گیا ہے۔
مشکوک خطوط موصول ہونے کے بعد لاہور ہائی کورٹ میں پولیس کی
اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے، پولیس فورس احاطہ عدالت میں موجود ہے، محکمہ
انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) حکام لاہور ہائی کورٹ پہنچ گئے ہیں۔
ڈی آئی جی آپریشنز علی ناصر رضوی نے لاہور ہائی کورٹ کے
احاطے میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ لاہور ہائی کورٹ کے ججز کو موصول
ہونے والے خطوط کی تعداد چار ہے۔
انھوں نے کہا کہ ابھی تحقیقات چل رہی ہیں، دیگر عدالتوں سے
بھی اس بارے میں چیک کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آپ کو درست حقائق بتائے جائیں
گے، کچھ وقت دیا جائے تاکہ چینلز پر چلنے والی خبرعوام تک درست جائے۔
یاد رہے کہ گذشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ کے آٹھ ججوں کو
پاؤڈر بھرے دھمکی آمیز مشکوک خطوط موصول ہوئے تھے۔
عدلیہ میں خفیہ اداروں کی مبینہ مداخلت: اس معاملے میں ملزم ایگزیکٹو ہے اور جب وہ ہی تحقیقات کریں تو کیسے منطقی انجام کو پہنچا جا سکتا ہے، جسٹس اطہر
عدلیہ میں خفیہ اداروں کی مبینہ
مداخلت سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ کے چھ ججز کے خط پر سپریم کورٹ کے از خود
نوٹس پر سماعت کے دوران جسٹس اطہر من اللہ نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا
کہ اس معاملے میں ملزم ایگزیکٹیو ہے اور یہ معاملہ کیسے اپنے منطقی انجام کو پہنچ
سکتا ہے جب ملزم ہی اس کی تحقیقات کرنا شروع کر دے۔
انھوں نےکہا کہ ذمہ داروں
کو احتساب کے عمل سے گزرنا ہو گا۔
بینچ میں موجود جسٹس جمال
مندوخیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کی طرف سے لکھے
گئے خطوط کو ایک غنیمت جانتے ہوئے اس کو منطقی انجام تک پہنچانا چاہیے تاکہ مستقبل
میں ایسے واقعات کا سدباب کیا جاسکے۔
جسٹس منصور علی شاہ کا
کہنا تھا کہ ملک کی تمام ہائی کورٹس کے پاس اختیارات واضح ہیں لیکن آئین میں یہ
واضح نہیں ہے کہ سپریم کورٹ کیسے ہائی کورٹ کے معاملات میں مداخلت کرسکتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ عدلیہ کی
ازادیکو یقینی بنانے کے لیے سخت اقدامات
اٹھانا ہوں گے اور ذمہ داروں کے تعین کے ساتھ ساتھ طریقہ کار بھی واضح کرنا ہوگا
اور اس ضمن میں ادارہ جاتی ردعمل آنا بہت ضروری ہے۔
جسٹس اطہر من اللہ نے
اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ان کا یہ دعویٰ ہے کہ ایگزیکٹیو عدلیہ کے فیصلوں
کا احترام کرتی ہے لیکن اس وقت عدلیہ کو سخت دھچکا پہنچا جب نو مئی کے واقعات میں
ملوث پانچ ملزمان کی سپریم کورٹ نے ضمانتیں منظور کیں اور ان کے رہا ہونے کے بعد
انھیں خدشہ نقض امن کے تحت دوبارہ حراست میں لے لیا گیا۔
انھوں نے کہا کہ پراسیکوشن ایگزیکٹیو کے دائرہ اختیار میں آتا ہے اس لیے یہ
ایگزیکٹیو کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس معاملے کو منطقی انجام تک پہنچائے۔
جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس
دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف صدارتی ریفرنس آیا اور
پھر خارج ہوا جس پر اس وقت کے وزیر اعظم(عمران خان)نے تسلیم کیا کہ ان سے غلطی ہوئی ہے لیکن اس کے خلاف کوئی
کارروائی نہیں ہوئی جس نے ریفرنس دائر کرنے یا یہ غلطی سرزد کرنے کا مشورہ دیا
تھا۔
بریکنگ, عدلیہ میں خفیہ اداروں کی مبینہ مداخلت کا معاملہ: کوئی مداخلت برداشت نہیں ہو گی، ہو سکتا ہے آئندہ سماعت پر فل کورٹ تشکیل دے دیں: چیف جسٹس
عدلیہ
میں خفیہ اداروں کی مبینہ مداخلت سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ کے چھ ججز کے خط
پر سپریم کورٹ کے از خود نوٹس پر سماعت کے دوران چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا
ہے کہ عدلیہ کی خودمختاری پر سمجھوتہ برداشت نہیں کریں گے، ہوسکتا ہے آئندہ سماعت
پر فل کورٹ تشکیل دے دیں۔
جسٹس
اطہر من اللہ نے سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بہت کچھ ہو رہا ہے مگر کوئی اس پر بات
نہیں کرتا۔ ان کا کہنا تھا یہ درست ہے سیاسی انجینئرنگ ہوتی رہی اور شاید یہ عدالت
بھی ملوث تھی۔ جسٹس اطہر من اللہ نے مزید کہا کہ ججوں کا خط یہ بتا رہا ہے یہ
سلسلہ آج بھی جاری ہے۔
اس موقع پر جسٹس منصور علی شاہ نے
ریمارکس دیے کہ شتر مرغ کی طرح گردن زمین میں دبا کر نہیں بیٹھ سکتے۔
چیف جسٹس نے سماعت کے دوران اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آج کا حکم سمجھیں کہ عدلیہ میں کوئی مداخلت
برداشت نہیں ہو گی۔ انھوں نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ آج اس معاملے پر سات رکنی بینچ
اس لیے بیٹھا کیونکہ اسلام آباد میں سات ججز ہی موجود تھے۔
انھوں نے اس معاملے پر فل کورٹ بنانے
کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہو سکتا ہے اس معاملے پر فل کورٹ بنا دیں۔ ان کا مزید کہنا
تھا کہ ججز کے خط میں میرے چیف جسٹس کے دور میں کیسی مداخلت کا ذکر نہیں کیا گیا۔
اگر میرے دور میں کوئی مداخلت ہوئی تو بتائیں پھر دیکھیں اس کا کیا ہوتا ہے۔
آج کی سماعت نمٹاتے ہوئے چیف جسٹس نے
کہا کہ ہم 29 اپریل کو سماعت کا آغاز دوبارہ کریں گے اور روزانہ کی بنیاد پر اس
کو ختم کرنے کی کوشش کریں گے۔
اس کیس کی سماعت 29 اپریل تک ملتوی کر
دی گئی ہے۔
عدلیہ میں خفیہ اداروں کی مبینہ مداخلت کا معاملہ: ہمارے پاس کمیشن بنانے کا آئینی اختیار نہیں ہے، یہ اختیار سرکار کا ہے، چیف جسٹس
عدلیہ
میں خفیہ اداروں کی مبینہ مداخلت سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ کے چھ ججز کے خط
پر سپریم کورٹ کے از خود نوٹس پر سماعت کے دوران چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا عدلیہ کی آزادی پر کسی
قسم کا حملہ ہوگا تو سب سے پہلے میں اور میرے ساتھی کھڑے ہوں گے، عدلیہ کے کام میں
مداخلت ہم پسند نہیں کرتے۔
اٹارنی جنرل منصور عثمان نے کہا کہ وفاقی حکومت نے انکوائری
کے لیے کوئی اقدام خود نہیں اٹھایا تھا، سپریم کورٹ نے دو نام تجویزکیے تھے،
ناصرالملک اور تصدق حسین جیلانی کے، تصدق حسین جیلانی سے وزیر قانون لاہور میں ملے
اور بتایا آپ کا نام آیا ہے۔
چیف جسٹس پاکستان نے کہا ہم نےچیمبریا گھر میں نہیں بلکہ
سپریم کورٹ میں باقاعدہ میٹنگ کی، میٹنگ میں وزیراعظم بطور انتظامیہ بطور سربراہ
مقننہ بیٹھے تھے، میٹنگ میں دوسری جانب عدلیہ کی انتظامیہ بیٹھی تھی۔
اٹارنی جنرل کا کہنا تھا تصدق جیلانی نے کہا آپ ٹی او آر
فائنل کر کے دیں تو جواب دوں گا، تصدق حسین جیلانی سے دوبارہ پوچھا گیا، پھر نام
کا اعلان کیا گیا، حکومت نے درخواست کی تھی کمیشن کے لیے سپریم کورٹ نام دے، یہ
تاثر پیدا ہوا کہ جیسے یہ وفاقی حکومت کا بنایا ہوا کمیشن ہے، جسٹس ریٹائرڈ تصدق جیلانی
نے پوچھا کمیشن کو کون سی جگہ دی جائے گی، انھیں بتایا گیا کہ فیڈرل شریعت کورٹ کی
بلڈنگ میں کمیشن کام کرے گا۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا ہم نے ایسے نام تجویز کیے
جن پر کم سے کم انگلی اٹھائی جائے، سوشل میڈیا پر اُن کے متعلق عجیب عجیب باتیں
ہوئیں اگر آپ کو کوئی اختلاف ہے تو لکھ سکتے تھے، اپنے متعلقہ اداروں کو لکھ سکتے
تھے، تصدق جیلانی شریف آدمی ہیں، وہ تو جواب نہیں دیں گے، وہ شریف آدمی تھے اس لیے
انھوں نے انکار کر دیا۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ایسے ذاتی حملے ہوئے اور ایساماحول
بنایاگیا تو کون شریف آدمی ایسی قومی سروس کرے گا، سوشل میڈیا سے عجیب عجیب باتیں
سابق چیف جسٹس کے بارے میں شروع کردی گئیں، مجھے شرمندگی ہو رہی تھی کہ ایک شریف
آدمی جسے ہم نے کمیشن کیلئے نامزد کیا تھا اس پر حملے شروع ہوگئے۔
چیف جسٹس پاکستان نے کہا میں جمہوریت پریقین رکھتاہوں، میں
نے ہر موقع پر مشاورت کی ہے، کیا ہم نےفیصلہ کرلیا ہےکہ ہمیں اس ملک اور قوم کو
برباد کرنا ہے، آئین کو پڑھنا ہم نے چھور دیا ہے، وزیراعظم ایڈمنسٹریٹر ہیڈ بھی ہیں
اور ایک حد تک مقننہ کے بھی ہیڈ ہوتے ہیں۔
قاضی فائز عیسیٰ نے مزید کہا جب سے چیف جسٹس بنا ہوں کہہ
رہا ہوں اپنی آئینی حدود میں رہ کرکام کرنا چاہیے، ہمارے پاس آئین میں کمیشن بنانے
کا اختیار نہیں ہے، کمیشن بنانےکا اختیار سرکار کا ہے، ہم نےمشورہ کیا اور نام دیے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چھ ججز نے خط میں لکھا کیا تھا؟
اسلام آباد ہائی
کورٹ کے چھ ججز نے 25 مارچ کو عدلیہ پر ’دباؤ‘ سے متعلق خط میں سپریم جوڈیشل کونسل
سے مطالبہ کیا تھا کہ آئی ایس آئی کے نمائندوں کی عدالتی امور میں مسلسل مداخلت پر
جوڈیشل کنونشن بلایا جائے۔
یہ خط میڈیا پر
26 مارچ کی شام کو سامنے آیا، جس میں نچلی عدالتوں اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے
ججز پر دباؤ کے بارے میں چند واقعات کا ذکر شامل کیا گیا ہے۔
اس خط میں نچلی
عدالت کے ایک جج کی شکایت کا بھی قصہ شامل ہے جس نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف
جسٹس کے سامنے آئی ایس آئی اہلکاروں کی شکایت لگائی اور پھر بعد میں اس سیشن جج کو
او سی ڈی بنا دیا گیا۔
خط میں ججز نے
لکھا کہ جوڈیشل کنونشن سے پتا چلے گا کہ کیا ملک کی دیگر ہائیکورٹ کے ججز کو بھی
اس صورتحال کا سامنا ہے۔
اس خط میں اس
بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ ججز کے کوڈ آف کنڈکٹ میں رہنمائی نہیں دی گئی ہے کہ ایسی
صورتحال میں ججز کیسے رد عمل دیں؟ اور اس کے علاوہ یہ بھی واضح نہیں کہ ججز اس طرح
کی مداخلت کو کیسے ثابت کریں۔
اس خط میں یہ
بھی کہا گیا ہے کہ عدلیہ کی آزادی کو یقینی بنانے کے لیے ادارہ جاتی ’رسپانس‘ کی
ضرورت ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کی طرف سے لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ
دس مئی سنہ 2023 کو ہائیکورٹ ججز نے چیف جسٹس کو خط لکھا کہ آئی ایس آئی والوں کی
مداخلت پر توہین عدالت کی کارروائی شروع کی جائے۔
اس خط میں
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو انٹیلی جنس ادارے کی مداخلت کا
بتانے پر 11 اکتوبر 2018 کوعہدے سے برطرف کیے جانے کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔
سپریم کورٹ نے
22 مارچ کے فیصلے میں جسٹس شوکت صدیقی کی برطرفی کو غلط قرار دیا اور انھیں ریٹائرڈ
جج کہا۔
اس خط میں جسٹس
ریٹائرڈ شوکت عزیز صدیقی کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کے عائد کردہ
الزامات کی تحقیقات ہونی چاہئیں، ہائیکورٹ ججز کا خط میں جسٹس ریٹائرڈ شوکت عزیز
صدیقی کے تحقیقات کرانے کے موقف کی مکمل حمائت کا اعادہ کیا گیا۔
خط میں کہا گیا
کہ اگر عدلیہ کی آزادی میں مداخلت ہو رہی تھی تو عدلیہ کی آزادی کو ’انڈرمائن‘
کرنے والے کون تھے؟ اور ان کی معاونت کس نے کی؟ اس خط میں کہا گیا ہے سب کو جوابدہ
کیا جائے تا کہ یہ عمل دہرایا نا جا سکے۔ اس کے علاوہ ججز کے کوڈ آف کنڈکٹ میں کوئی
رہنمائی نہیں کہ ایسی صورتحال کو کیسے رپورٹ کریں۔
خط میں مطالبہ
کیا گیا ہے کہ اس سلسلے میں تحقیقات کا دائرہ وسیع ہونا چاہیے کہ کہیں اب بھی تو
اس طرح کی مداخلت جاری نہیں؟ اس خط میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا ہے کہ کہیں کیسز کی
سماعت کے لیے مارکنگ اور بینچز کی تشکیل میں اب بھی تو مداخلت جاری نہیں؟
ججز کی طرف سے
لکھے گئے خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ انکوائری ہونی چاہیے کہ کیا سیاسی کیسز میں
عدالتی کارروائی پر اثرانداز ہونا ریاستی پالیسی تو نہیں؟ اور کہیں انٹیلی جنس
اداروں کے ذریعے ججز کو دھمکا کر اس پالیسی کا نفاذ تو نہیں کیا جا رہا ہے۔
اس خط میں کہا
گیا ہے کہ آئی ایس آئی کے آپریٹوز نے پٹیشن ناقابل سماعت قرار دینے والے ججز پر
دوستوں، رشتہ داروں کے ذریعے دباؤ ڈالا اور جج شدید ذہنی دباؤ کے باعث ہائی بلڈ پریشر
کا شکار ہو کر ہسپتال داخل ہوئے اور یہ معاملہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس
اور چیف جسٹس پاکستان کے علم میں لایا گیا، جس پر چیف جسٹس نے کہا ان کی آئی ایس
آئی کے ڈی جی سی سے بات ہو گئی ہے اور چیف جسٹس نے کہا یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ
آئی ایس آئی کا کوئی آفیشل ہائیکورٹ کے کسی جج کو ’اپروچ‘ نہیں کرے گا، لیکن اس کے
باوجود آئی ایس آئی کے آپریٹوز کی مداخلت جاری رہی۔
ججز کی طرف سے
لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ مئی 2023 میں ہائیکورٹ کے ایک جج کے برادر نسبتی کو
مسلح افراد نے اغوا کیا اور 24 گھنٹے بعد چھوڑا۔
خط میں جج کا
نام تو نہیں لکھا گیا تاہم یہ کہا گیا ہے کہ جج کے بیٹے اور فیملی کے لوگوں کی سرویلنس
کی گئی جس کے بعد برادر نسبتی کو اغوا کرنے کا فیصلہ ہوا۔
خط میں الزام
عائد کیا گیا کہ جج کے برادر نسبتی کو حراست کے دوران الیکٹرک شاک لگائے گئے اور
وڈیو بیان ریکارڈ کرنے پر مجبور کیا گیا۔
خط میں ایک ہائیکورٹ
جج کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کر کے استعفی دینے پر دباؤ ڈالا گیا۔
اس خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایک جج سرکاری گھر میں شفٹ ہوئے تو ان کے ڈرائنگ
روم اور ماسٹر بیڈ روم میں کیمرے نصب تھے اورکیمرے کے ساتھ سم کارڈ بھی موجود تھا،
جو آڈیو وڈیو ریکارڈنگ کسی جگہ ٹرانسمٹ کر رہا تھا۔
خط میں یہ بھی
کہا گیا ہے کہ جج کے ماسٹر بیڈ روم میں بھی کیمرا لگا تھا، جج اور اس کی فیملی کی
پرائیویٹ وڈیو اور یو ایس بھی ریکور ہوئی۔
ججز کی طرف سے
لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ بارہ فروری 2024 کو پانچ ججز نے چیف جسٹس اسلام
آباد ہائیکورٹ کو فل کورٹ میٹنگ بلانے کے لیے لکھا جو تاحال نہیں بلائی گئی۔
بریکنگ, عدلیہ میں خفیہ اداروں کی مبینہ مداخلت کا معاملہ: عدلیہ کی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا، چیف جسٹس
عدلیہ
میں خفیہ اداروں کی مبینہ مداخلت سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ کے چھ ججز کے خط
پر سپریم کورٹ کے از خود نوٹس پر سماعت کے دوران چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا
ہے کہ عدلیہ کی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
سماعت
کے دوران چیف جسٹس نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ 26 تاریخ کو ہمیں ہائی کورٹ
کے ججز کا خط ملا، اسی روز ہی افطاری کے فوری بعد چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ
سمیت تمام ججز سے ڈھائی گھنٹے ملاقات ہوئی، اگر ہم اس بات کو اہمیت نہ دیتے تو فوری
چیف جسٹس ہاؤس میں فل کورٹ اجلاس نہ بلاتے، انھوں نے جرمن سیاستدان کا حوالہ دیتے
ہوئے کہا کہ ہم ’گوئبلز‘ کے زمانے کو واپس لا رہے ہیں، ہمیں اپنا کام تو کرنے دیں،
عدلیہ کی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
چیف
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سات رکنی لارجر بینچ مقدمے کی سماعت کر رہا
ہے، بینچ میں جسٹس منصور علی شاہ،جسٹس یحییٰ خان آفریدی،جسٹس جمال خان مندخیل جسٹس
اطہر من اللہ ،جسٹس مسرت ہلالی،جسٹس نعیم اختر افغان شامل ہیں۔
قاضی
فائز عیسی نے کہا کہ ہم مداخلت کبھی برداشت نہیں کرتے ہیں، کسی کا کوئی اور ایجنڈا
ہے تو یا چیف جسٹس بن جائے یا سپریم کورٹ بار کا صدر بن جائے، میں نے وزیر اعظم،
وزیر قانون اٹارنی جنرل سے انتظامی طور پر ملاقات کی، چھپ کر یا گھر میں بیٹھ کر
نہیں ملاقات کی، وزیر اعظم کو زیادہ ووٹ حاصل ہیں اس لیے وہ انتظامیہ کے سربراہ ہیں۔
یاد
رہے کہ دو روز قبل چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چھ ججز کے
خط کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے سات رکنی لارجر بینچ تشکیل دیا تھا۔
بریکنگ, عدلیہ میں خفیہ اداروں کی مبینہ مداخلت کا معاملہ: سپریم کورٹ میں از خود نوٹس پر سماعت کا آغاز
،تصویر کا ذریعہSupreme Court of Pakistan
عدلیہ
میں خفیہ اداروں کی مبینہ مداخلت کے معاملے پر سپریم کورٹ میں از خود نوٹس پر
سماعت کا آغاز ہو گیا ہے۔
چیف
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سات رکنی لارجر بینچ مقدمے کی سماعت کر رہا
ہے، بینچ میں جسٹس منصور علی شاہ،جسٹس یحییٰ خان آفریدی،جسٹس جمال خان مندخیل جسٹس
اطہر من اللہ ،جسٹس مسرت ہلالی،جسٹس نعیم اختر افغان شامل ہیں۔
سماعت
کے آغاز پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چھ ججز نے عدالتی
امور میں مداخلت سے متعلق خط لکھا تھا، سماعت کا آغاز کیسے کریں؟ پہلے پریس ریلیز
پڑھ لیتے ہیں۔
اس
پر وکیل حامد خان نے کہا کہ ہم نے اس کیس میں فریق بننے کی درخواست دائر کر رکھی
ہے۔
چیف
جسٹس کا کہنا تھا کہ اب وہ زمانے گئے کہ چیف جسٹس کی مرضی ہوتی تھی، ہم نے کیسز
فکس کرنے ک لیے تین رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے، ہم دنیا والوں پر انگلیاں اٹھاتے ہیں،
ہمیں خود پر انگلی اٹھانی چاہیے، میں کسی پر انگلی نہیں اٹھا رہا، دوسروں پر انگلی
اٹھانے سے بہتر خود کو دیکھنا چاہیے۔
انھوں
نے کہا کہ وکیل کہہ رہے ہیں کہ از خود نوٹس لیں، ان وکلا کو وکالت چھوڑ دینی چاہی,
ہمیں عدالتوں کو مچھلی بازار نہیں بنانا چاہیے۔
یاد
رہے کہ دو روز قبل چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چھ ججز کے
خط کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے سات رکنی لارجر بینچ تشکیل دیا تھا۔
بریکنگ, اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کے خط پر سپریم کورٹ میں از خود نوٹس کی سماعت آج ہو گی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسلام
آباد ہائی کورٹ کے چھ ججز کے خط پر سپریم کورٹ کے از خود نوٹس پر چیف جسٹس قاضی
فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سات رکنی لارجر بینچ آج سماعت کرے گا۔
دو
روز قبل چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کے خط کا ازخود
نوٹس لیتے ہوئے سات رکنی لارجر بینچ تشکیل دیا تھا۔
چیف
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سات رکنی لارجر آج صبح ساڑھے 11 بجے سماعت
کرے گا، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس یحییٰ خان آفریدی، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس
اطہر من اللہ ،جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس نعیم اختر افغان بینچ کا حصہ ہوں گے۔
واضح
رہے کہ 25 مارچ کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے 6 ججز نے ججز کے کام میں خفیہ ایجنسیوں
کی مبینہ مداخلت اور دباؤ میں لانے سے متعلق سپریم جوڈیشل کونسل کو خط لکھا تھا۔
یہ
خط اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس طارق محمود جہانگیری، جسٹس
بابر ستار، جسٹس سردار اعجاز اسحٰق خان، جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس سمن رفت
امتیاز کی جانب سے لکھا گیا۔
ججز
کے خط پر سپریم کورٹ نے دو فل کورٹ اجلاس منعقد کیے جن میں اس معاملے پر غور کیا گیا،
بعد میں چیف جسٹس پاکستان نے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی۔
اس
ملاقات کے بعد 30 مارچ کو ایک رکنی انکوائری کمیشن بنانے کی منظوری دے دی گئی تھی،
اور جسٹس (ر) تصدق جیلانی کو کمیشن کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔
تاہم
بعدازاں جسٹس (ر) تصدق حسین جیلانی نے انکوائری کمیشن کی سربراہی سے معذرت کر لی
تھی جبکہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کے خط کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے سات رکنی
لارجر بینچ تشکیل دے دیا تھا۔
اسلام
آباد ہائی کورٹ کے چھ ججز کی جانب سے منظر عام پر آنے والے خط میں کہا گیا تھا
کہ ہم بطور اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز سپریم جوڈیشل کونسل سے ایگزیکٹیو ممبران
بشمول خفیہ ایجنسیوں کے ججز کے کام میں مداخلت اور ججز کو دباؤ میں لانے سے متعلق
رہنمائی چاہتے ہیں۔
اس
کے ایک روز بعد مختلف حلقوں سے اس کی تحقیقات کے مطالبات سامنے آئے، جس کے پیشِ
نظر چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے سپریم کورٹ کے ججز کا فل کورٹ اجلاس
طلب کیا۔
28
مارچ کو وزیر اعظم شہباز شریف نے چیف جسٹس عیسیٰ سے ملاقات کی، جہاں دونوں نے کابینہ
کی منظوری کے بعد عدالتی امور میں مداخلت کے خدشات کی تحقیقات کے لیے کمیشن بنانے
کا فیصلہ کیا۔
30 مارچ کو
اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کے الزامات پر ایک رکنی انکوائری کمیشن بنانے کی
منظوری دے دی گئی تھی، جسٹس (ر) تصدق جیلانی کو کمیشن کا سربراہ مقرر کر دیا گیا
تھا۔
31 مارچ کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے
6 ججوں کے خط کے معاملے پر 300 سے زیادہ وکلا نے سپریم کورٹ سے آئین کے آرٹیکل 184
(3) کے تحت انٹیلی جنس اپریٹس کی جانب سے عدالتی امور میں مداخلت کرنے کے الزامات
کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔