صدر آصف زرداری نے دینی مدارس رجسٹریشن بل پر دستخط کر دیے

اکتوبر 2024 کے آخری ہفتے میں جب پاکستان کی پارلیمان نے 26ویں آئینی ترمیم کی منظوری دی تو اُس موقع پر جمیعت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو ’دینی حلقوں کے دو اہم مطالبات‘ پارلیمان سے منظور کروانے پر ملک کے متعدد مذہبی حلقوں اور گروہوں کی جانب سے تحسین پیش کی گئی۔

خلاصہ

  • جنوبی کوریا میں جیجو ائیر کے مسافر طیارے کو پیش آنے والے حادثے میں اب تک 179 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔ جہاز میں عملے کے چھ ارکان سمیت 181 افراد سوار تھے۔
  • جنوبی کوریا کے حکام کے مطابق طیارے کے بلیک باکس کو جزوی نقصان پہنچا ہے جس کے باعث اسے ڈی کوڈ کرنے ایک ماہ تک کا وقت لگ سکتا ہے۔
  • صدر آصف علی زرداری نے سوسائیٹیز رجسٹریشن ترمیمی ایکٹ 2024 پر دستخط کر دیئے ہیں جس کے بعد مدارس کی رجسٹریشن کا بل قانون بن گیا ہے۔
  • پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع کُرم میں حالات بدستور کشیدہ ہیں اس علاقے کو مُلک کے دیگر حصوں سے ملانے والی اہم ترین شاہراہ تقریباً دو ماہ سے بند ہے جسے تاحال آمدورفت کے لیے نہیں کھولا جا سکا۔

لائیو کوریج

  1. ڈیل کے نتیجے میں بنی گالہ منتقل کرنے کی پیشکش کی گئی: عمران خان کا دعویٰ

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے دعویٰ کیا ہے کہ انھیں ’ڈیل‘ کے نتیجے میں اڈیالہ جیل سے بنی گالہ میں واقع ان کے گھر میں نظربند کرنے کی پیشکش کی گئی تھی تاہم انھوں نے اس پیشکش کو قبول نہیں کیا۔

    جمعرات کو راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں توشہ خانہ کیس کی سماعت کے موقع پر عمران خان نے وکیلوں اور صحافیوں سے گفتگو کے دوران کہا کہ ’مجھے پیغام ملا ہے کہ ہم سے ڈیل کریں، ہم آپ کی پارٹی کو سیاسی سپیس دیں گے لیکن آپ کو نظر بند کرکے بنی گالہ منتقل کردیں گے۔‘

    ’میں نے جواب دیا کہ پہلے باقی سیاسی قیدیوں کو رہا کریں۔ میں جیل میں رہ لوں گا لیکن کوِئی ڈیل قبول نہیں کروں گا۔ نظر بندی یا خیبرپختونخوا کے کسی جیل میں نہیں جاؤں گا۔‘

    عمران خان کی گفتگو ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے پوسٹ کی گئی ہے اور اس میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ انھیں ’ڈیل‘ کی پیشکش کس نے کی ہے۔

    فوجی عدالتوں میں ’اپنی مرضی کے ٹرائل‘ کیے گئے: عمران خان کا الزام

    اس موقع پر عمران خان نے 9 مئی کے واقعات پر فوجی عدالتوں کی جانب سے سزاؤں پر بھی تبصرہ کیا۔ ان کی سوشل میڈیا پوسٹ کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ فوجی عدالتوں میں 9 مئی سے متعلق ’اپنی مرضی کے ٹرائل کیے گئے۔‘

    خیال رہے جمعرات کو پاکستانی فوج کا کہنا تھا کہ فوجی عدالتوں نے نو مئی کو پی ٹی آئی کے احتجاج کے دوران عسکری تنصیبات پر حملوں میں ملوث مزید 60 ملزمان پر جرم ثابت ہونے کے بعد انھیں دو سے 10 سال تک قید با مشقت کی سزائیں سنا دی ہیں۔

    عمران خان نے فوجی عدالتوں کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر یہ مقدمات کھلی عدالت میں چلائے جاتے تو 9 مئی کی ویڈیو فوٹیج دینی پڑتی۔‘

    ’فوجی عدالتوں میں مقدمات چلانے سے شہریوں کے بنیادی حقوق صلب ہوئے اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی شدید سبکی ہوئی۔‘

    واضح رہے پاکستان میں فوجی عدالتوں کی جانب سے سزا سنائے جانے پر یورپی یونین، امریکہ اور برطانیہ کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے ٹرائل میں شفافیت کا فقدان ہوتا ہے۔

    ’خفیہ اداروں کا اصل کام سرحدوں کا تحفظ اور دہشتگردی سے بچاؤ ہے‘

    پاکستان نے تصدیق کردی ہے کہ اس کی جانب سے ’پاکستانی شہریوں کی سلامتی کو لاحق خطرات کی بنیاد پر پاکستان افغانستان سرحد سے متصل علاقوں‘ میں عسکریت پسندوں کے خلاف انٹیلی جنس پر مبنی آپریشن کیا ہے۔

    واضح رہے کہ بدھ کو افغانستان کی وزارت دفاع کی جانب سے جاری بیان میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ پاکستان کی فوج نے افغان صوبہ پکتیکا کے ضلع برمل میں 'فضائی حدود' کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک پناہ گزین کیمپ پر بمباری کی جس کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔

    عمران خان کی سوشل میڈیا پوسٹ کے مطابق اڈیالہ جیل میں سابق وزیرِ اعظم نے افغانستان کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’افغانستان پر دو دفعہ بمباری کی گئی۔ پہلے دعویٰ کیا گیا تھا کہ مہاجرین کو زبردستی واپس بھیجنے سے دہشتگردی کم ہوگی مگر اس طریقہ کار سے نفرت مزید بڑھی جو علاقائی امن و امان کے لیے ٹھیک نہیں ہے۔‘

    انھوں نے پاکستان کی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’خفیہ اداروں کا اصل کام سرحدوں کا تحفظ اور دہشتگردی سے بچاؤ ہے۔ اگر وہ سیاسی انجینیئرنگ یا تحریکِ انصاف کو توڑنے م

  2. رچرڈ گرنیل کے بیان پر پاکستان کا جواب: ’ایک شخص کے بیان پر رائے نہیں دیں گے، امریکی حکام سے بات چیت جاری رہے گی‘

    رچرڈ گرنیل

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے دفترِ خارجہ نے امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نامزد مشیر رچرڈ گرنیل کے عمران خان سے متعلق بیانات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’وہ کسی ایک شخص کے بیانات پر کوئی رائے نہیں‘ دے سکتے۔

    جمعرات کو دفترِ خارجہ میں ایک بریفنگ کے دوران ترجمان ممتاز زہرہ بلوچ کا کہنا تھا کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ باہمی عزت و مفادات کی بنیاد پر مثبت تعلقات کا خواہاں ہے۔ امید کرتے ہیں کہ امریکہ بھی اس بات کا خیال رکھے گا۔

    منگل کو نیوز میکس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں رچرڈ گرنیل کا کہنا تھا کہ ’میں چاہوں گا کہ عمران خان جیل سے رہا کر دیے جائیں، ان پر ویسے ہی الزامات ہیں جیسے ڈونلڈ ٹرمپ پر لگائے گئےتھے۔ پاکستان میں حکومت کرنے والی سیاسی پارٹی نے ان پر کرپشن کے جھوٹے الزامات لگا کر انھیں جیل میں بند کر رکھا ہے۔‘

    رچرڈ گرنیل کے بیان کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر دفترِ خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرہ بلوچ نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’کسی ایک شخص کے بیانات پر میں کوئی رائے نہیں دے سکتی۔ امریکی حکام کے ساتھ بات چیت جاری رکھیں گے۔‘

  3. عمران خان پر بھی ویسے ہی الزامات ہیں جیسے ٹرمپ پر لگائے گئے، چاہوں گا انھیں رہا کر دیا جائے: رچرڈ گرینل

    عمران خان، ڈونلڈ ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نامزد مشیر رچرڈ گرینل سابق وزیر اعظم عمران خان کی رہائی کا مطالبہ دہراتے ہوئے کہا ہے کہ ’میں چاہوں گا کہ عمران حان جیل سے رہا کر دیے جائیں۔ ان پر ویسے ہیں الزامات ہیں جیسے ڈونلڈ ٹرمپ پر لگائے گئے۔ پاکستان میں حکومت کرنے والی سیاسی پارٹی نے ان پر کرپشن کے جھوٹے الزامات لگا کر انھیں جیل میں بند کر رکھا ہے۔‘

    پاکستان کے میزائل پروگرام پر امریکہ کے خدشات کے حوالے سے منگل کے روز امریکہ میں نیوز میکس کو دیے ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا آنے والی انتظامیہ میں ٹرمپ کے نامزد سیکرٹری خارجہ مارکو روبیو جس امور پر کام کریں گے، یہ ان کا حصہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی ملک کے پاس نیوکلیئر ہتھیاروں کی صلاحیت اس بات کا تعین کرتی ہے کہ ہم ان سے کیسے نمٹیں گے اور پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جن کے پاس نیوکلیئر ہتھیار ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کے پچھلے دورِ صدارت میں جب عمران خان وہاں کے حکمران تھے تو ہمارے پاکستان کے ساتھ زیادہ بہتر تعلقات تھے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’کیونکہ عمران خان ایک سیاستدان نہیں بلکہ ایک کرکٹر تھے اور وہ ایسی زبان میں بات کرتے تھے جو زیادہ قابلِ فہم تھی اور ٹرمپ کے ان کے ساتھ بہترین تعلقات تھے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میرا ماننا ہے کہ ایسے لوگ جو سیاستدان نہ ہوں، جن میں کامن سینس ہو اور جو کاروباری صلاحیتیں رکھتے ہوں وہ زیادہ بہتر کام کرتے ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’میں چاہوں گا کہ عمران حان جیل سے رہا کر دیے جائیں۔ وہ فی الحال جیل میں قید ہیں اور ان پر ویسے ہیں الزامات ہیں جیسے ڈونلڈ ٹرمپ پر لگائے گئے۔ پاکستان میں حکومت کرنے والی سیاسی پارٹی نے ان پر کرپشن کے جھوٹے الزامات لگا کر انھیں جیل میں بند کر رکھا ہے۔‘

    میزبان نے ان سے سوال کیا کہ ’کیا آپ عمران خان کے متعلق جو آگاہی پھیلا رہے ہیں (مثلاً ایکس وغیرہ پر)، اس کے نتیجے میں وہ رہا ہو سکتے ہیں؟انھوں نے اس سوال کا براہِ راست جواب نہیں دیا اور کہا کہ ’پاکستان کو ان امور کی فہرست میں شامل کر لیں جس پر صدر جو بائیڈن اور قومی سلامتی کے مشیر جیک سالیوان آخری 45 دنوں میں پیش رفت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ پچھلے چار سال میں انھوں نے اس پر کچھ نہیں کیا۔‘

    ’چار سال تک انھوں نے جن مسائل پر کوئی بات نہیں کی اب وہ یہ ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ انھیں ان سب کی پرواہ ہے، وہ ان کے بارے میں عجیب و غریب بیانات دے رہے ہیں اور پاکستان بھی ان مسائل میں شامل ہے۔‘

    ٹرمپ، رچرڈ گرنیل

    ،تصویر کا ذریعہx.com

    رچرڈ گرینل کون ہیں؟

    گرینل ایک امریکی سفارت کار ہیں اور انھیں ڈونلڈ ٹرمپ کے کافی نزدیک سمجھا جاتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت کے دوران گرینل نے نیشنل انٹیلی جنس کے قائم مقام ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دیں۔

    وہ نیشنل انٹیلی جنس کی تاریخ کے پہلے ہم جنس پرست ڈائریکٹر تھے۔ گرینل دنیا بھر میں ایل جی بی ٹی حقوق کے لیے آواز اٹھاتے رہے ہیں۔

    نیشنل انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر بننے سے قبل 2018 میں گرینل کو جرمنی میں امریکہ کے سفیر کے طور پر نامزد کیا گیا تھا۔ انھوں نے 2019 سے 2021 تک سربیا اور کوسوو امن مذاکرات میں امریکی صدر کے خصوصی ایلچی کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔

    جارج ڈبلیو بش کے دورِ حکومت میں گرینل اقوام متحدہ میں امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان رہے۔ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ووٹنگ ممبر تھے۔

    گرینل کی ویب سائٹ فکس کیلیفورنیا کے مطابق ایرانی حکومت کی جانب سے ’ہم جنس پرستی کو فروغ دینے‘ کے الزام میں ان کا نام پابندیوں کی فہرست میں شامل ہے۔

    گرینل کو امریکہ کی قومی سلامتی کا سب سے بڑا اعزاز نیشنل سکیورٹی میڈل ملا تھا۔ انھیں کوسوو اور سربیا سے ملک کا اعلیٰ ترین میڈل آف آنر ملا ہے۔

    روئٹرز کے مطابق پانچ نومبر کے امریکی صدارتی الیکشن میں ٹرمپ کی جیت کے بعد یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ رچرڈ گرینل کو وزیر خارجہ کا عہدہ مل سکتا ہے تاہم یہ عہدہ امریکی سینیٹر مارکو روبیو کو ملا ہے۔

    یوکرین جنگ کے خصوصی ایلچی کے عہدے کے لیے ان کے نام پر غور کیا گیا تھا تاہم یہ عہدہ ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل کیتھ کیلوگ کو ملا۔

  4. بی بی سی اردو کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی اردو کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔۔۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔