ڈیل کے نتیجے میں بنی گالہ منتقل کرنے کی پیشکش کی گئی: عمران خان کا دعویٰ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے دعویٰ کیا ہے کہ انھیں ’ڈیل‘ کے نتیجے میں اڈیالہ جیل سے بنی گالہ میں واقع ان کے گھر میں نظربند کرنے کی پیشکش کی گئی تھی تاہم انھوں نے اس پیشکش کو قبول نہیں کیا۔
جمعرات کو راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں توشہ خانہ کیس کی سماعت کے موقع پر عمران خان نے وکیلوں اور صحافیوں سے گفتگو کے دوران کہا کہ ’مجھے پیغام ملا ہے کہ ہم سے ڈیل کریں، ہم آپ کی پارٹی کو سیاسی سپیس دیں گے لیکن آپ کو نظر بند کرکے بنی گالہ منتقل کردیں گے۔‘
’میں نے جواب دیا کہ پہلے باقی سیاسی قیدیوں کو رہا کریں۔ میں جیل میں رہ لوں گا لیکن کوِئی ڈیل قبول نہیں کروں گا۔ نظر بندی یا خیبرپختونخوا کے کسی جیل میں نہیں جاؤں گا۔‘
عمران خان کی گفتگو ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے پوسٹ کی گئی ہے اور اس میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ انھیں ’ڈیل‘ کی پیشکش کس نے کی ہے۔
فوجی عدالتوں میں ’اپنی مرضی کے ٹرائل‘ کیے گئے: عمران خان کا الزام
اس موقع پر عمران خان نے 9 مئی کے واقعات پر فوجی عدالتوں کی جانب سے سزاؤں پر بھی تبصرہ کیا۔ ان کی سوشل میڈیا پوسٹ کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ فوجی عدالتوں میں 9 مئی سے متعلق ’اپنی مرضی کے ٹرائل کیے گئے۔‘
خیال رہے جمعرات کو پاکستانی فوج کا کہنا تھا کہ فوجی عدالتوں نے نو مئی کو پی ٹی آئی کے احتجاج کے دوران عسکری تنصیبات پر حملوں میں ملوث مزید 60 ملزمان پر جرم ثابت ہونے کے بعد انھیں دو سے 10 سال تک قید با مشقت کی سزائیں سنا دی ہیں۔
عمران خان نے فوجی عدالتوں کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر یہ مقدمات کھلی عدالت میں چلائے جاتے تو 9 مئی کی ویڈیو فوٹیج دینی پڑتی۔‘
’فوجی عدالتوں میں مقدمات چلانے سے شہریوں کے بنیادی حقوق صلب ہوئے اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی شدید سبکی ہوئی۔‘
واضح رہے پاکستان میں فوجی عدالتوں کی جانب سے سزا سنائے جانے پر یورپی یونین، امریکہ اور برطانیہ کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے ٹرائل میں شفافیت کا فقدان ہوتا ہے۔
’خفیہ اداروں کا اصل کام سرحدوں کا تحفظ اور دہشتگردی سے بچاؤ ہے‘
پاکستان نے تصدیق کردی ہے کہ اس کی جانب سے ’پاکستانی شہریوں کی سلامتی کو لاحق خطرات کی بنیاد پر پاکستان افغانستان سرحد سے متصل علاقوں‘ میں عسکریت پسندوں کے خلاف انٹیلی جنس پر مبنی آپریشن کیا ہے۔
واضح رہے کہ بدھ کو افغانستان کی وزارت دفاع کی جانب سے جاری بیان میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ پاکستان کی فوج نے افغان صوبہ پکتیکا کے ضلع برمل میں 'فضائی حدود' کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک پناہ گزین کیمپ پر بمباری کی جس کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔
عمران خان کی سوشل میڈیا پوسٹ کے مطابق اڈیالہ جیل میں سابق وزیرِ اعظم نے افغانستان کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’افغانستان پر دو دفعہ بمباری کی گئی۔ پہلے دعویٰ کیا گیا تھا کہ مہاجرین کو زبردستی واپس بھیجنے سے دہشتگردی کم ہوگی مگر اس طریقہ کار سے نفرت مزید بڑھی جو علاقائی امن و امان کے لیے ٹھیک نہیں ہے۔‘
انھوں نے پاکستان کی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’خفیہ اداروں کا اصل کام سرحدوں کا تحفظ اور دہشتگردی سے بچاؤ ہے۔ اگر وہ سیاسی انجینیئرنگ یا تحریکِ انصاف کو توڑنے م



