سپریم کورٹ کے فیصلے سے ’انتہائی مایوس‘ ٹرمپ کا نئے 10 فیصد عالمی ٹیرف کا اعلان
امریکی صدر نے سپریم کورٹ پر الزام لگایا کہ اسے ’بیرونی مفادات نے اثر انداز کیا ہے‘۔ تاہم انھوں نے اس دعوے کے حوالے سے کوئی شواہد پیش نہیں کیے۔ خیال رہے کہ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت کے دوران نامزد کیے گئے دو ججز نے بھی عالمی ٹیرف کے خلاف فیصلہ دیا ہے۔
خلاصہ
ایران پر ’محدود فوجی حملے‘ کے امکان کی رپورٹس اور تہران کی تنبیہ: ’تصادم کی صورت میں دشمن طاقت کے اڈوں، سہولیات اور اثاثوں کو جائز ہدف تصور کیا جائے گا‘
دنیا 10 دن میں جان جائے گی کہ ایران معاہدے پر راضی ہوتا ہے یا امریکہ اس کے خلاف فوجی کارروائی کرے گا: ڈونلڈ ٹرمپ
برطانیہ نے امریکہ کو ایران پر حملوں کے لیے فضائی اڈے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی
صدر ٹرمپ نے جنوبی ایشیا کو بڑی تباہی سے بچایا: وزیرِ اعظم شہباز شریف کا امن بورڈ کے اجلاس سے خطاب
پانچ ممالک نے غزہ استحکام فورس کے لیے ہزاروں فوجی بھیجنے کا وعدہ کیا ہے
لائیو کوریج
کراچی کی رہائشی عمارت میں گیس لیکج سے دھماکہ، ہلاکتوں کی تعداد 16 ہو گئی، متعدد زخمی: ریسکیو حکام, ریاض سہیل، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
،تصویر کا ذریعہRescue 1122
کراچی کے علاقے سولجر بازار میں مبینہ
گیس لیکج کے باعث دھماکے سے رہائشی عمارت کا ایک حصہ منہدم ہو گیا، جس کے
نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 16 ہو گئی ہے جبکہ متعدد افراد زخمی ہیں۔
ترجمان ریسکیو 1122 حسنان حبیب کے مطابق
صبح سحری کے وقت تقریباً پونے چار بجے کے قریب گل رعنا کالونی کے ایک گھر میں گیس لیکج
کی وجہ سے دھماکہ ہوا اور رہائشی عمارت کا ایک حصہ منہدم ہوگیا۔
انھوں نے بتایا کہ ملبے سے بچوں اور بڑوں
سمیت اس وقت تک ہلاک ہو جانے والے 16 افراد کی لاشیں نکالی جا چُکی ہیں جنھیں ہسپتال منتقل کر دیا گیا
ہے۔
سولجر بازار پولیس کے مطابق واقعہ نجی
سکول کے قریب واقع ایک رہائشی عمارت میں پیش آیا، جہاں ابتدائی اطلاعات کے مطابق گیس
لیکج کے باعث دھماکہ ہوا جس سے عمارت کا کچھ حصہ زمین بوس ہو گیا۔
اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری اور
امدادی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں، گلی تنگ ہونے کی وجہ سے ابتدائی
طور ریسکیو حکام کو امدادی کارروائیوں میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے سولجر بازار میں دھماکے
کی وجوہات سے متعلق کمشنر کراچی کو تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ کے ترجمان عبدالرشید چنا
کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ نے سولجر بازار میں
گیس لیکج کے باعث عمارت میں دھماکے کا نوٹس لیتے ہوئے قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے
دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے اور متعلقہ اداروں کو ملبے تلے دبے افراد کو فوری نکالنے
کی ہدایت کی ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ
سندھ کی ہدایت پر زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور امدادی کارروائیوں میں تیزی لائی جائے۔
بل گیٹس انڈیا میں منعقدہ اے آئی کانفرنس سے خطاب نہیں کریں گے: گیٹس فاؤنڈیشن انڈیا
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty
گیٹس فاؤنڈیشن نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ انڈیا میں منعقد ہونے والے اے آئی امپیکٹ سمٹ یعنی بین الاقوامی اے آئی کانفرنس میں بل گیٹس خطاب نہیں کریں گے۔
گیٹس فاؤنڈیشن انڈیا نے ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’غور و خوض کے بعد اور اے آئی سمٹ کی بنیادی ترجیحات پر توجہ مرکوز رکھنے کے لیے بل گیٹس اس میں اپنا مرکزی خطاب نہیں کریں گے۔‘
بیان میں مزید بتایا گیا کہ ’گیٹس فاؤنڈیشن افریقہ اور انڈیا کے صدر انکور وورا سمٹ میں اُن کی جانب سے نمائندگی کریں گے اور وہ آج اجلاس سے خطاب کریں گے۔
ایپسٹین فائلز میں نام سامنے آنے کے بعد بل گیٹس پر مختلف نوعیت کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ تاہم ان کے ترجمان نے ان الزامات کو ’مکمل طور پر بے بنیاد اور سراسر جھوٹ‘ قرار دیا تھا۔
انڈیا میں کانگریس پارٹی نے الزام عائد کیا تھا کہ ایپسٹین فائلز میں نام آنے کے باوجود انڈین حکومت بل گیٹس کے معاملے میں نرم رویہ اختیار کیے ہوئے ہے۔ کانگریس نے آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ چندرابابو نائیڈو کی جانب سے بل گیٹس کے استقبال پر بھی سوالات اٹھائے تھے۔
گزشتہ دنوں یہ خبریں بھی سامنے آئی تھیں کہ ایپسٹین فائلز تنازع کے باعث اے آئی سمٹ میں مقررین کی فہرست سے بل گیٹس کا نام ہٹا دیا گیا ہے۔
جزیرہ ’ڈیاگو گارسیا‘ ماریشس کے حوالے نہ کیا جائے، ٹرمپ کی برطانیہ کو تنبیہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ کے بعد اب بحیرہ ہند میں واقع ایک جزیرے ’ڈیاگو گارسیا‘ کا ذکر چھیڑا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس جزیرے کا ذکر کرتے ہوئے برطانیہ کے وزیرِاعظم سر کیئر سٹارمر کو بھی مخاطب کیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانیہ کی جانب سے چاگوس جزائر ماریشس کے حوالے کرنے اور اہم فوجی اڈہ واپس لیز پر لینے کے منصوبے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ڈیگو گارشیا کو نہ چھوڑا جائے۔‘
صدر ٹرمپ نے ٹرتھ سوشل پر ایک پیغام میں لکھا کہ ’یہ زمین برطانیہ کے ہاتھ سے نہیں جانی چاہیے اور اگر ایسا ہوا تو یہ ہمارے عظیم اتحادی کے لیے خطرناک موڑ ثابت ہوگا۔‘
ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب منگل کے روز واشنگٹن نے باضابطہ طور پر لندن کے اس منصوبے کی حمایت کی تھی جس کے تحت برطانوی بحرِ ہند کے علاقے (برٹش انڈین اوشین ٹیریٹری) کی خودمختاری ماریشس کے حوالے کی جانی ہے۔
ٹرمپ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے برطانوی دفترِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ چاگوس جزائر سے متعلق معاہدہ ’برطانیہ اور ہمارے اہم اتحادیوں کی سلامتی کے لیے نہایت اہم ہے اور برطانوی عوام کو محفوظ رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔‘
برطانوی حکومت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہم جس معاہدے تک پہنچے ہیں وہ اس اہم فوجی اڈے کے طویل المدتی مستقبل کو یقینی بنانے کا واحد راستہ ہے۔‘
وزیراعظم سر کیئر سٹارمر اس سے قبل بھی زور دے چکے ہیں کہ یہ معاہدہ فوجی اڈے کی مسلسل فعال رہنے اور تحفظ کے لیے ناگزیر ہے، خصوصاً اس تناظر میں کہ ماریشس ماضی میں جزائر پر برطانوی خودمختاری کی قانونی حیثیت کو چیلنج کرتا رہا ہے۔
،تصویر کا کیپشنڈیاگو گارسیا کی فضا سے لی گئی تصویر
ڈیگو گارشیا اس جزیرہ نما سلسلے کا سب سے بڑا جزیرہ ہے اور اسے برطانیہ اور امریکا کی مسلح افواج مشترکہ فوجی اڈے کے طور پر استعمال کرتی ہیں۔
گزشتہ سال مئی میں اعلان کیے گئے معاہدے کے تحت برطانیہ ڈیگو گارشیا کو 99 برس کی مدت کے لیے دوبارہ لیز پر حاصل کرے گا۔
تاہم امریکی صدر ٹرمپ کے حالیہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکا اور ماریشس کے درمیان آئندہ ہفتے مذاکرات متوقع ہیں۔
یہ جزائر سنہ 1814 سے برطانوی کنٹرول میں ہیں اور حکومت نے انہیں 30 لاکھ پاؤنڈ میں خریدا تھا، جس کے بعد 1965 میں انہیں باقاعدہ طور پر برطانوی سمندر پار علاقہ (اوورسیز ٹیریٹری) قرار دیا گیا۔
امریکہ ایران کشیدگی اور جزیرہ ڈیاگو گارسیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری بیان میں برطانوی وزیرِاعظم سر کیئر سٹارمر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے انھیں بتایا ہے کہ ممالک کے معاملے میں لیز کا نظام موزوں نہیں ہوتا۔
ٹرمپ نے لکھا کہ ’میں برطانیہ کے وزیرِاعظم کیئر سٹارمر سے کہتا رہا ہوں کہ ممالک کے معاملے میں لیز کوئی اچھی چیز نہیں اور وہ 100 سالہ لیز کے معاہدے میں داخل ہو کر بڑی غلطی کر رہے ہیں۔‘
ایران کے متنازع جوہری پروگرام سے متعلق جاری امریکا ایران مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’اگر ایران نے معاہدہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا تو ممکن ہے کہ امریکا کو ایران پر ممکنہ حملے کے لیے ڈیگو گارشیا کا استعمال کرنا پڑے۔‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنامریکی فضائیہ کا ڈیاگو گارسیا میں موجود اڈہ
جزیرہ ڈیاگو گارسیا اتنا اہم کیوں ہے؟
ڈیاگو گارسیا بحیرہ ہند میں واقع ایک جزیرہ ہے جہاں ہر طرف سبزہ، سفید ریت سے بھرپور خوبصورت ساحل اور چاروں طرف میلوں تک نیلا پانی پھیلا ہوا ہے۔
لیکن یہ کوئی سیاحتی مقام نہیں، بلکہ یہاں عام شہریوں کا داخلہ ممنوع ہے کیونکہ یہ وہ مقام ہے جس کے بارے میں دہائیوں سے یہ افواہیں پھیلتی رہی ہیں کہ یہاں امریکہ اور برطانیہ کا ایک خفیہ فوجی اڈہ موجود ہے۔
یہ جزیرہ برطانیہ کے زیرِانتظام ہے اور اس کی ملکیت پر ماریشس اور برطانیہ کے درمیان تنازع بھی رہا ہے۔ اس تنازع کو حل کرنے کے لیے طویل عرصہ سے مذاکرات جاری ہیں۔
ڈیاگو گارسیا چاگوس جزائر یا ’برٹش انڈین اوشین ٹیریٹری‘ کے 60 جزائر میں سے ایک ہے جو کہ برطانیہ نے 1965 میں ماریشس سے جُدا کیے تھے۔ یہ جزیرہ مشرقی افریقہ اور انڈونیشیا کے درمیان واقع ہے۔
ایران میں مظاہروں کے دوران ہلاک ہونے والے کسی بھی شہری کی خفیہ تدفین نہیں ہوئی: بہشتِ زہرا تنظیم کے سربراہ کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہASR-E IRAN
ایران میں ’بہشتِ زہرا تنظیم‘
کے سربراہ محمد جواد تاجک نے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا ہے کہ گزشتہ ماہ ایران میں
حکومت مخالف مظاہروں کے دوران ہلاک ہونے والوں کو اجتماعی قبروں میں یا اُن کی خفیہ
تدفین کی گئی۔
18 فروری کو خبر رساں ادارے فارس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے تاجک
نے کہا کہ ’ بہشتِ زہرا نامی قبرستان میں تدفین باقاعدہ قانونی طریقہ کار کے تحت
کی جاتی ہے اور اس کا باقائدے نظام موجود ہے کہ جہاں تدفین سے قبل تمام تر تفصیلات
کو رجسٹر کیا جاتا ہے،‘ تاہم انھوں نے انٹرویو کے دوران خفیہ تدفین کے الزامات کو
رد کیا۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’بہشتِ
زہرا‘ جو ایران کا سب سے بڑا قبرستان ہے، کو حالیہ مظاہروں کے بعد 1124 لاشیں
موصول ہوئیں، لیکن یہ تعداد صرف تہران میں ہونے والی ہلاکتوں کی نہیں۔ ان کے مطابق
613 لاشیں اپنے آبائی اضلاع کو واپس بھیجی گئیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نصف سے
زیادہ کیسز تہران کے رہائشیوں سے متعلق نہیں تھے۔
واضح رہے کہ متعدد انسانی حقوق کے اداروں اور تنظیموں کی جانب سے ایران میں حالیہ حکومت مخالف مظاہروں کے دوران ہلاکتوں کی تعداد کے حوالے سے مختلف دعوے سامنے آتے رہے ہیں۔
امریکہ میں قائم انسانی حقوق
کے کارکنوں کی خبر رساں ایجنسی ہرانا (HRANA) کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق ایران میں حالیہ
مظاہروں میں کم از کم 7015 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ مزید 11744 کیسز زیرِ تفتیش ہیں۔
ایرانی حکام نے سرکاری طور پر ہلاکتوں کی تعداد 3117 بتائی ہے اور الزام لگایا ہے کہ یہ
اموات امریکہ اور اسرائیل کے حمایت یافتہ ’شر پسندوں‘ اور ’مسلح دہشت گردوں‘ کی
کارروائیوں کا نتیجہ ہیں۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
تاجک نے ان تصاویر پر بھی وضاحت دی جو سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں، جن میں لاشوں پر طبی آلات لگے ہوئے دکھائے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’لاشیں قانونی کارروائی مکمل ہونے اور اجازت نامے کے بعد قبرستان منتقل کی جاتی ہیں اور اگر کوئی طبی آلات باقی رہ جائیں تو متعلقہ حکام ضابطے کے مطابق ان کا انتظام کرتے ہیں۔‘
تہران کے کہریزک مردہ خانے میں اپنے لاپتہ رشتہ داروں کو تلاش کرنے والے خاندانوں نے بتایا کہ انھوں نے ایسی لاشیں دیکھی ہیں جن پر سانس لینے والی نلکیاں اور پیشاب کی نالیاں لگی ہوئی تھیں۔ آن لائن شیئر کی گئی تصویروں کے سامنے آنے کے بعد ایسے سوالات بھی ہونے لگے ہیں کہ کچھ ہسپتالوں میں لوگوں کی موت کیسے ہوئی، خاص طور پر اس وقت جب یہ خبریں بھی گردش کرتی رہی ہیں کہ ایرانی سکیورٹی فورسز نے زخمی مظاہرین کو پکڑنے کے لیے ہسپتالوں پر چھاپے مارے۔
تاجک نے اس الزام کو بھی مسترد کیا کہ ان کی تنظیم نے خاندانوں سے ان گولیوں کی قیمت وصول کی جن سے ان کے عزیز مارے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ بالکل درست نہیں۔ ہم مکمل طور پر مفت خدمات فراہم کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ جب ہم نے لاشوں کو دوسرے صوبوں میں منتقل کیا، تب بھی کسی سے کوئی پیسہ نہیں لیا۔‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
’بہشتِ زہرا تنظیم‘ کے سربراہ محمد جواد تاجک نے امریکی فوج سے متعلق اپنے دعوے کو دہراتے ہوئے کہا کہ ’ایران نے ہزاروں امریکی فوجیوں کی ممکنہ تدفین کے لیے جگہ مختص کر رکھی ہے، جسے امریکہ کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں ایک ہنگامی منصوبہ قرار دیا۔‘
ان کے مطابق تہران کے قبرستان کے نواح میں غیر مسلموں کے لیے مخصوص حصے ایسی ہلاکتوں کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ انھں نے کہا کہ ’اگر دشمن ملک میں داخل ہو اور جانی نقصان اٹھائے تو ہم انھیں مسلم قبرستانوں میں دفن نہیں کر سکتے۔‘
صدر ٹرمپ کی ایران پر ممکنہ حملے کے وقت سے متعلق مشاورت مگر ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا: سی بی ایس
،تصویر کا ذریعہGetty Images
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اعلیٰ قومی سلامتی حکام
نے آگاہ کیا ہے کہ امریکی فوج سنیچر تک ایران پر ممکنہ حملے کے لیے تیار ہے تاہم (صدر
ٹرمپ کی جانب سے) حملے سے متعلق کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے۔
امریکہ میں بی بی سی کے پارٹنر ادارے سی
بی ایس نیوز کو ذرائع نے بتایا کہ مُمکنہ کارروائی کے حتمی وقت کا فیصلہ نہیں کیا گیا
ہے اور یہ سنیچر کے روز سے آگے بھی جا سکتا ہے۔
حکام نے سی بی ایس کو مزید بتایا کہ صدر
ٹرمپ نے ابھی تک ایران پر حملے کا حتمی فیصلہ نہیں کیا جبکہ وائٹ ہاؤس میں اس معاملے
پر مسلسل مشاورت جاری ہے، جہاں اس اقدام سے منسلک خطرات، ممکنہ ردعمل اور حملے کے سیاسی
و عسکری نتائج پر غور کیا جا رہا ہے۔
پینٹاگون آئندہ تین دنوں میں مشرقِ وسطیٰ
سے کچھ اہلکاروں کو عارضی طور پر یورپ یا امریکہ منتقل کر رہا ہے تاکہ اگر کارروائی
کی جاتی ہے تو ایسے میں ایران کے ممکنہ جوابی حملوں سے بچا جا سکے۔ ذرائع کے مطابق
یہ اقدام معمول کی تیاری کا حصہ ہے اور اس کا مطلب یہ نہیں کہ حملہ فوری طور پر ہونے
والا ہے۔
پینٹاگون کے ترجمان نے اس حوالے سے کسی
بھی قسم کا تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔ تاہم وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ
نے کہا کہ ’ایران پر حملے کے کئی جواز موجود ہیں، لیکن صدر کی پہلی ترجیح ہمیشہ سفارت
کاری ہے۔‘
انھوں نے یہ بتانے سے گریز کیا کہ آیا
کارروائی اسرائیل کے ساتھ مل کر کی جائے گی یا نہیں۔
لیویٹ نے مزید کہا کہ ’جون میں امریکہ
نے ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنا کر ایک کامیاب آپریشن کیا تھا۔‘ ان کا کہنا
تھا کہ ’ایران کے لیے بہتر ہوگا کہ وہ صدر ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کے ساتھ معاہدہ
اور تعاون کرے۔‘
ذرائع کے مطابق بدھ کو وائٹ ہاؤس کے سچویشن
روم میں ایران پر تفصیلی غور کیا گیا۔ تمام امریکی فوجی دستے مارچ کے وسط تک خطے میں
اپنی جگہ پر موجود ہوں گے۔
ایران کے ساتھ بڑھتی کشیدگی، امریکہ شام سے فوجی واپس بلا رہا ہے
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
ایک سینیئر وائٹ ہاؤس اہلکار نے بی
بی سی کو بتایا کہ امریکہ اگلے چند ماہ کے دوران شام میں موجود اپنی فوج کو بڑی حد
تک واپس بلانے کی تیاری کر رہا ہے۔
اہلکار نے کہا کہ شامی حکومت نے اپنی
سرحدوں کے اندر دہشت گردی کے خلاف لڑائی کی قیادت کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے اور
اب وہاں بڑے پیمانے پر امریکی فوجی موجودگی کی ضرورت نہیں رہی۔
انسداد دہشت گردی مہم کے تحت شدت پسند تنظیم نام نہاد دولت اسلامیہ (داعش) کے
اثر و رسوخ کو روکنے کے لیے امریکی فوجی سنہ 2015 سے شام میں موجود ہیں۔
یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب ایران
کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مشرق وسطیٰ میں
فوجی موجودگی بڑھا رہے ہیں۔
بی بی سی ویریفائی نے تصدیق کی ہے
کہ گائیڈڈ میزائلوں اور درجنوں لڑاکا طیاروں سے لیس امریکی طیارہ بردار جہاز یو
ایس ایس ابراہم لنکن ایران کے قریب موجود ہے۔
اطلاعات ہیں کہ امریکہ نے دنیا کے سب
سے بڑے جنگی بحری جہاز یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ کو بھی مشرق وسطیٰ بھیج دیا ہے۔
توقع ہے کہ یہ جہاز تین ہفتوں کے اندر خطے میں پہنچ جائے گا۔
امریکی قومی سلامتی کے سینیئر حکام
نے بی بی سی کے پارٹنر ادارے سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ قومی سلامتی کے مشیران نے صدر ٹرمپ کو آگاہ کیا ہے کہ امریکی فوج سنیچر کے روز تک ایران پر ممکنہ حملوں کے لیے تیار ہو گی، تاہم ٹرمپ نے ابھی تک حملے کا حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے۔
وائٹ ہاؤس اہلکار نے بتایا کہ شام سے
تقریباً ایک ہزار باقی فوجیوں کو ہٹانے کا فیصلہ ایک شرائط پر مبنی منتقلی کا حصہ
ہے اور امریکہ خطے میں کسی بھی خطرے کا جواب دینے کے لیے تیار رہے گا۔
اس سال کے اوائل میں جنوبی شام کے ال
تنف گیریژن اور شمال مشرقی شام کے ال شدادی بیس سے امریکی فوجی پہلے ہی نکل چکے
ہیں۔
عمران خان رہائی فورس کا اعلان: ’یہ چاہتے ہیں کہ رمضان میں بھی عمران خان کی ملاقاتیں نہ ہوں‘، رانا ثنا اللہ کا الزام
،تصویر کا ذریعہAPP
وزیراعظم پاکستان کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے پی ٹی آئی قیادت پر عمران خان کے خلاف سازشیں کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔
جیو نیوز کے پروگرام ’کیپیٹل ٹاک‘ میں جب رانا ثنا اللہ سے عمران خان رہائی فورس کے قیام سے متعلق سوال پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ ’یہ عمران خان کے خلاف سازش کر رہے ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ رمضان کے دوران بھی عمران خان کی ملاقاتیں نہ ہو سکیں۔‘
واضح رہے کہ آج وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے سٹریٹ موومنٹ کے تحت ’عمران خان رہائی فورس‘ کے قیام کا اعلان کیا گیا۔ سہیل آفریدی کے مطابق ’یہ فورس عمران خان کی رہائی کے لیے پرامن جدوجہد کرے گی۔‘
سہیل آفریدی نے یہ بھی کہا کہ ’عید کے بعد میں تمام نوجوانوں سے پشاور میں حلف لوں گا اور اس کے بعد ہم آگے کا لائحہ عمل دیں گے۔‘
اس حوالے سے تبصرہ کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ’یہ کچھ نہیں کرنا چاہتے اور نہ ہی یہ اس قابل ہیں کہ ایسا کچھ کر سکیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’عمران خان کی جیل میں لیونگ کنڈیشنز اے ون ہیں۔ ان کا بہترین علاج ہوا جبکہ انسانی حقوق کے اوپر قطعاً کوئی سمجھوتہ نہیں کیا گیا۔‘
رانا ثنا اللہ نے مزید کہا کہ ’احتجاج ، دھرنوں اور جس تحریک کا اعلان آج کیا گیا، میں سمجھتا ہوں کہ یہ تو شاید ان کے خلاف سازش ہو رہی ہے یا یہ عمران خان کے خلاف سازش کر رہے ہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف ان کو تین بار آفر کر چکے ہیں کہ آؤ بیٹھ کر مل کر بات کریں تو ان دھرنوں اور احتجاج سے تو بہتر ہے کہ یہ (پی ٹی آئی) ان کے ساتھ بیٹھیں۔
امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے مسودہ تیار ہے: ایرانی وزیرِ خارجہ
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے ایک مسودہ تیار کر لیا گیا ہے۔
بی بی سی فارسی کے مطابق، انھوں نے یہ بات بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو کے دوران کہی۔
خیال رہے کہ ایرانی وزیر اور آئی اے ای اے کے سربراہ کے درمیان یہ بات چیت جنیوا میں عمان کی ثالثی میں تہران اور واشنگٹن کے مابین مذاکرات کے دوسرے دور کے بعد ہوئی ہے۔
منگل کے روز عراقچی نے کہا تھا کہ تہران اور واشنگٹن نے تنازعات کو روکنے کے لیے معاہدے کے ’رہنما اصولوں‘ پر اتفاق کیا ہے۔ تاہم امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے ایران نے ابھی تک امریکہ کی تمام ’ریڈ لائنز‘ کو قبول نہیں کیا ہے۔
دوسری جانب امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے خبردار کیا ہے کہ تہران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے لیے واشنگٹن ’جو بھی کرنا پڑا، کرے گا‘۔
گذشتہ روز کی اہم خبریں
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ ان کا ملک افغانستان میں فضائی کارروائیاں کرنے سے نہیں ہچکچائے گا۔ خبر رساں ادارے فرانس 24 کے ساتھ ایک انٹرویو میں خواجہ آصف نے کہا کہ ملک میں ہونے والے دہشت گرد حملے کابل میں طالبان حکومت اور انڈیا کی ملی بھگت سے چھیڑی جانے والی ’پراکسی جنگ‘ کا نتیجہ ہیں۔
افریقی ملک نائیجیریا کی وسطی ریاست پلیٹیو میں سیسے اور زنک کی کان میں مشتبہ کاربن مونو آکسائیڈ کے اخراج سے کم از کم 37 کان کن ہلاک ہو گئے ہیں۔
ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے اسرائیل کی جانب سے صومالیہ کے علیحدگی پسند خطے ’صومالی لینڈ‘ کو آزاد ملک کے طور پر تسلیم کرنے کے اقدام کو مسترد کر دیا ہے۔ دورہ ایتھوپیا کے دوران اردوغان نے کہا کہ یہ اقدام ایک غیر مستحکم خطے کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
بلوچ لاپتہ افراد کے لواحقین نے گولیمار کے رہائشی نوجوان حمدان کے مبینہ پولیس مقابلے کو جعلی قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ انھیں جبری گمشدگی کے بعد قتل کیا گیا اور اب ان کی لاش ورثا کے حوالے نہیں کی جا رہی۔
بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!
بی بی سی کے لائیو پیج میں
خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی
بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔