سپریم کورٹ کے فیصلے سے ’انتہائی مایوس‘ ٹرمپ کا نئے 10 فیصد عالمی ٹیرف کا اعلان

امریکی صدر نے سپریم کورٹ پر الزام لگایا کہ اسے ’بیرونی مفادات نے اثر انداز کیا ہے‘۔ تاہم انھوں نے اس دعوے کے حوالے سے کوئی شواہد پیش نہیں کیے۔ خیال رہے کہ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت کے دوران نامزد کیے گئے دو ججز نے بھی عالمی ٹیرف کے خلاف فیصلہ دیا ہے۔

خلاصہ

  • ایران پر ’محدود فوجی حملے‘ کے امکان کی رپورٹس اور تہران کی تنبیہ: ’تصادم کی صورت میں دشمن طاقت کے اڈوں، سہولیات اور اثاثوں کو جائز ہدف تصور کیا جائے گا‘
  • دنیا 10 دن میں جان جائے گی کہ ایران معاہدے پر راضی ہوتا ہے یا امریکہ اس کے خلاف فوجی کارروائی کرے گا: ڈونلڈ ٹرمپ
  • برطانیہ نے امریکہ کو ایران پر حملوں کے لیے فضائی اڈے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی
  • صدر ٹرمپ نے جنوبی ایشیا کو بڑی تباہی سے بچایا: وزیرِ اعظم شہباز شریف کا امن بورڈ کے اجلاس سے خطاب
  • پانچ ممالک نے غزہ استحکام فورس کے لیے ہزاروں فوجی بھیجنے کا وعدہ کیا ہے

لائیو کوریج

  1. ایرانی فضائیہ کا لڑاکا طیارہ ’ایف فور‘ تربیتی پرواز کے دوران گر کر تباہ، پائلٹ ہلاک

    AFP via Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    ایران کی فضائیہ نے اعلان کیا ہے کہ اُن کا ایک ایف فور لڑاکا طیارہ رات کے وقت ایک تربیتی پرواز کے دوران حادثے کا شکار ہوگیا ہے۔

    ایرانی فضائیہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس حادثے کے نتیجے میں اس لڑاکا طیارے میں سوار دو پائلٹ میں سے ایک ہلاک ہو گیا ہے۔

    بیان میں اس حادثے کے مقام کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ یہ لڑاکا طیارہ صوبہ ہمدان میں گر کر تباہ ہوا۔ ایرانی خبر رساں ادارے میزان نے اس طیارے کے پائلٹ کی تصویر شائع کرتے ہوئے انھیں بریگیڈیئر جنرل مہدی فیروزمند کے نام سے متعارف کرایا ہے۔

    واضح رہے کہ ایف 4 لڑاکا طیارے میں عام طور پر دو پائلٹوں کے ساتھ پرواز کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس حادثے میں دوسرے پائلٹ زندہ بچ گئے ہیں۔

  2. دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان اور امریکہ کی شراکت داری ضروری ہے: امریکہ

    واشنگٹن ڈی سی میں امریکہ کے وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف سے ملاقات کی۔

    امریکی سٹیٹ ڈپارٹمنٹ سے جاری بیان کے مطابق وزیرِ خارجہ روبیو نے غزہ کے لیے صدر ٹرمپ کے امن منصوبے کی مسلسل حمایت کرنے اور ’بورڈ آف پیس‘ کے افتتاحی اجلاس میں بطور بانی رکن شرکت کرنے پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔

    بیان کے مطابق ’امریکی وزیر خارجہ نے 31 جنوری کو بلوچستان میں ہونے والے ہولناک حملوں اور 6 فروری کو اسلام آباد میں ہونے والے تباہ کن بم دھماکے پر تعزیت کا اظہار کیا، اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہماری مسلسل شراکت داری کی اہمیت پر زور دیا۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا کہ وزیرِ خارجہ نے واشنگٹن میں حالیہ ’کریٹیکل منرلز منسٹریل‘ (اہم معدنیات سے متعلق وزارتی اجلاس) میں پاکستان کی شرکت کا خیرمقدم کیا۔

    حکام نے اہم معدنیات اور توانائی کے شعبے کی ترقی کے ساتھ ساتھ امریکی کمپنیوں کے لیے تجارتی سرمایہ کاری کے مواقع پر تبادلہ خیال کیا۔

    پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اِن عالمی رہنماؤں میں شامل ہیں جو امریکی صدر ٹرمپ کی میزبانی میں ’بورڈ آف پیس‘ کے عالمی اجلاس میں شرکت کے لیے واشنگٹن موجود ہیں۔

    ایک سرکاری اعلامیے کے مطابق غزہ امن بورڈ کے اجلاس میں شرکت کے علاوہ وزیرِ اعظم کی واشنگٹن میں اعلی امریکی حکام کے ساتھ ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ سے ملاقات بھی اس سلسلے کا حصہ ہے۔

  3. پاکستانی روزویلٹ ہوٹل کی بحالی کے لیے امریکہ اور پاکستان میں اتفاق, سارہ حسن، صحافی

    روزویلٹ ہوٹل

    ،تصویر کا ذریعہge

    امریکہ کے شہر نیویارک میں واقع حکومتِ پاکستان کی ملکیت روزویلٹ ہوٹل کی بحالی کے لیے امریکہ اور پاکستان نے باضابطہ تعاون کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

    وزارتِ خزانہ کے جانب سے جمعرات کو جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک نے سٹریٹیجک اقتصادی اقدامات کا آغاز کیا ہے جس کے تحت نیویارک میں روزویلٹ ہوٹل کے آپریشنز، دیکھ بھال اور تزئین و آرائش کے حوالے سے تعاون بھی شامل ہے۔

    وزراتِ خزانہ کا کہنا ہے کہ روز ویلٹ ہوٹل کی بحالی کے لیے پاکستان اور امریکی حکومت کے ادارے جنرل سروسز ایڈمنسٹریشن کے مابین ایک مفاہمت کی یاداشت بھی طے پائی ہے جس پر پاکستان کے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور امریکی ایڈمنیسٹریٹر ایڈورڈ سی فورسٹ نے دستخط کیے۔

    واشنگٹن میں ہونے والی اس تقریب میں پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور مشرقِ وسطیٰ کے لیے امریکہ کے خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف بھی موجود تھے اعلامیے میں کہا گیا کہ پاکستان اورامریکا کے درمیان روزویلٹ ہوٹل کے آپریشنز اور بحالی پر جامع فریم ورک طے ہوگیا ہے۔

    وزراتِ خزانہ کا کہنا ہے کہ روزویلٹ ہوٹل کا منصوبہ پاکستان اور امریکہ کے مابین اقتصادی تعلقات میں نئی پیشرفت کا آغاز ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ اور پاکستان کے مابین سٹریٹجک اقتصادی اقدامات کی نگرانی خصوصی امریکی ایلچی سٹیو وِٹکوف کر رہے ہیں۔

    امریکہ میں جنرل سروسز ایڈمنسٹریشن ایک سرکاری ادارہ ہے جس کا کام امریکی حکومت کے لیے جائیداد اور املاک کی خریداری اور وفاقی حکومت کی املاک کی نگرانی کرنا ہے۔

    اگرچہ نیویارک میں واقع روزویلٹ ہوٹل پاکستان حکومت کی ملکیت ہے اس لیے تاحال یہ واضح نہیں ہے کہ امریکی حکومت کا ادارہ کس حثیثت میں روزویلٹ ہوٹل کے معاملات دیکھے گا۔

    نیویارک کے مرکز مینہیٹن میں واقع سو سال قبل تعمیر ہونے والا روزویلٹ ہوٹل پاکستان حکومت کا اثاثہ ہے۔

    امریکی صدر تھیوڈر روزویلٹ کے نام پر بنائے گئے اس ہوٹل میں 1047 کمرے ہیں۔

    اس سے قبل 2023 میں پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز- انوسٹمنٹ لمیٹڈ (پی آئی اے - آئی ایل) اور نیویارک سٹی گورنمنٹ کے درمیان معاہدہ طے پایا جس کے تحت روزویلٹ ہوٹل 22 کروڑ ڈالر کے عوض تین سال کی مدت کے لیے کرائے پر دیا گیا تھا۔

  4. ایران پر ’محدود فوجی حملے‘ کے امکان کی رپورٹس اور تہران کی تنبیہ: ’تصادم کی صورت میں دشمن طاقت کے اڈوں، سہولیات اور اثاثوں کو جائز ہدف تصور کیا جائے گا‘

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو لکھے گئے ایک خط میں ایران نے خبردار کیا ہے کہ وہ کسی بھی ’فوجی جارحیت‘ کا جواب دے گا، اور اس بات پر زور دیا کہ تصادم کی صورت میں خطے میں ’دشمن طاقت‘ سے تعلق رکھنے والے تمام اڈوں، سہولیات اور اثاثوں کو جائز اہداف تصور کیا جائے گا۔

    پیغام میں کہا گیا کہ ’تہران کشیدگی یا جنگ کا خواہاں نہیں ہے اور نہ ہی اس کی شروعات کرے گا‘ لیکن ساتھ ہی اپنے دفاع کے حق پر زور دیا ہے۔

    ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات کو ’فوجی جارحیت کا حقیقی خطرے‘ پر مشتمل قرار دیا، جس سے خطے کی سلامتی اور استحکام پر کسی بھی ممکنہ خطرناک اثرات کے بارے میں خبردار کیا گیا۔

    جمعرات کے روز، امریکی صدر نے ایران کو دونوں فریقوں کے درمیان جاری مذاکرات میں ’بامعنی معاہدے‘ تک پہنچنے یا ’بری چیزوں‘ کا سامنا کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ 15 دن کا وقت دیا جب کہ ایران نے ایک بار پھر یورینیم کی افزودگی کے اپنے حق کا دفاع کیا۔

    جیسا کہ خطے میں امریکی فوج میں اضافہ جاری ہے، اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے خبردار کیا ہے کہ ان کا ملک، امریکی اتحادی ہے، تہران نے حملہ کیا تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

    امریکہ اور ایران نے 6 فروری کو عمان کی ثالثی میں اپنی بالواسطہ بات چیت کا دوبارہ آغاز کیا۔ منگل کو جنیوا میں ان کا دوسرا دور ہوا جس کے بعد انھوں نے مذاکرات جاری رکھنے کے اپنے ارادے کا اعلان کیا۔

    ’محدود فوجی حملہ‘

    اسی تناظر میں امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا ہے کہ ٹرمپ ایران کے خلاف ’محدود فوجی حملہ‘ کرنے کے امکان پر غور کر رہے ہیں تاکہ اس پر دباؤ ڈالا جائے کہ وہ جوہری معاہدے کے حوالے سے اپنی شرائط کو تسلیم کرے۔

    اخبار نے اطلاع دی ہے کہ ممکنہ ہڑتال محدود تعداد میں فوجی یا سرکاری مقامات کو نشانہ بنائے گی، اگر تہران معاہدے کی تعمیل کرنے سے انکار کرتا ہے تو بعد میں حملوں میں اضافے کے امکان کے ساتھ، ممکنہ طور پر ایک وسیع مہم کا باعث بنے گا جس میں ایرانی رجیم کی سہولیات شامل ہیں اور اس کا مقصد ایرانی حکومت کا تختہ الٹنا ہے۔

    اخبار نے نوٹ کیا کہ صدر ٹرمپ نے ابھی تک کسی بھی حملے کے بارے میں حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے، لیکن وہ ایک مختصر مدت کی مہم سے لے کر ایرانی فوجی اور سرکاری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے ایک بڑی مہم تک کے آپشنز پر غور کر رہے ہیں۔

    وال سٹریٹ جرنل نے امریکی حکام کے حوالے سے کہا ہے کہ کسی بھی امریکی حملے سے ایران کو جوابی کارروائی پر اکسایا جا سکتا ہے، جس سے مشرق وسطیٰ میں وسیع تر تنازعے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے اور اخبار کے مطابق واشنگٹن کے علاقائی اتحادیوں کو خطرہ ہو سکتا ہے۔

    دریں اثنا، سفارتی کوششیں جاری ہیں، سینئر امریکی حکام نے اس ہفتے اپنے ایرانی ہم منصبوں کے ساتھ بات چیت کی جس کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام کو روکنا اور بیلسٹک میزائلوں پر پابندیاں عائد کرنا ہے، جب کہ تہران نے ایک جامع معاہدے کو مسترد کر دیا ہے اور صرف محدود رعایتوں کی پیشکش کی ہے۔

    اخبار نے وضاحت کی کہ ممکنہ فوجی اضافہ خطے میں امریکی افواج کی موجودگی کے مضبوط ہونے کے درمیان سامنے آیا ہے، جس میں جدید لڑاکا طیاروں، کمانڈ اینڈ کنٹرول ایئر کرافٹ، اور جارحانہ اور الیکٹرانک صلاحیتوں سے لیس دوسرا طیارہ بردار بحری جہاز شامل ہے۔

  5. دنیا 10 دن میں جان جائے گی کہ ایران معاہدے پر راضی ہوتا ہے یا امریکہ اس کے خلاف فوجی کارروائی کرے گا: ڈونلڈ ٹرمپ

    ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ کہ دنیا کو ’اگلے ممکنہ 10 دنوں میں‘ معلوم ہو جائے گا کہ آیا امریکہ ایران کے ساتھ معاہدہ کرے گا یا فوجی کارروائی کرے گا۔

    واشنگٹن ڈی سی میں اپنے بورڈ آف پیس کے افتتاحی اجلاس میں، ٹرمپ نے ایران کے ساتھ اس کے جوہری پروگرام کے مذاکرات کے بارے میں کہا کہ ’ہمیں ایک بامعنی معاہدہ کرنا ہوگا ورنہ برے واقعات ہوں گے۔‘

    حالیہ دنوں میں امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں فوجی دستے بڑھائے ہیں جبکہ سوئٹزرلینڈ میں امریکی اور ایرانی مذاکرات کاروں کے درمیان مذاکرات میں بھی پیش رفت کی اطلاع دی گئی۔

    ڈیموکریٹک قانون سازوں اور کچھ رپبلکنز نے ایران میں کانگریس کی منظوری کے بغیر کسی بھی ممکنہ فوجی کارروائی کی مخالفت کی ہے۔

    اپنے بیانات میں ٹرمپ نے کہا کہ خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر، جو ٹرمپ کے داماد بھی ہیں، نے ایران کے ساتھ ’کچھ بہت اچھی ملاقاتیں‘ کیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’گذشتہ برسوں میں یہ ثابت ہوا ہے کہ ایران کے ساتھ بامعنی معاہدہ کرنا آسان نہیں ہے، بصورت دیگر بری چیزیں ہو جاتی ہیں۔‘

    ایک دن قبل وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ نے خبردار کیا تھا کہ ایران کا امریکہ کے ساتھ معاہدہ کرنا ’بہت دانشمندانہ اقدام‘ ہوگا اور مزید کہا کہ ٹرمپ اب بھی تہران کے جوہری پروگرام پر سفارتی حل کی امید رکھتے ہیں۔

    جب ٹرمپ نے پہلی بار بورڈ آف پیس کا اعلان کیا تو خیال کیا جاتا تھا کہ اس کا مقصد اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ میں دو سالہ جنگ کو ختم کرنے اور تعمیر نو کی نگرانی کرنا ہے۔ لیکن گزشتہ ماہ میں اس کا مشن صرف ایک تنازعہ نہیں رہا۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ ٹرمپ کی صدارت میں ہونے والا بورڈ جو تقریبا دو درجن ممالک پر مشتمل ہے، اقوام متحدہ کو پس پشت ڈالنے کے لیے ہے۔

    امریکی میزائل اور طیاروں نے گذشتہ سال جون میں تین ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا، اور اطلاعات کے مطابق وائٹ ہاؤس اس ہفتے نئے حملے کے اختیارات پر بات کر رہا تھا۔

    بورڈ آف پیس

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی افواج نے حالیہ ہفتوں میں خطے میں اپنی موجودگی بڑھا دی ہے، جس میں یو ایس ایس ابراہم لنکن طیارہ بردار جہاز کی تعیناتی بھی شامل ہے۔

    تاہم بی بی سی کو علم ہوا ہے برطانوی حکومت نے امریکہ کو ایران پر ممکنہ حملوں کی حمایت کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کے استعمال کی اجازت نہیں دی۔

    مشرق وسطیٰ میں پچھلی فوجی کارروائیوں میں، امریکہ نے گلوچسٹرشائر میں آر اے ایف فیئر فورڈ اور انڈین اوشن میں برطانیہ کے بیرون ملک علاقے ڈیاگو گارسیا کو استعمال کیا۔

    سیٹلائٹ تصاویر سے یہ بھی ظاہر ہوا ہے کہ ایران نے فوجی تنصیبات کو مضبوط کیا ہے اور ملک کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے سوشل میڈیا پر امریکی فورسز کو دھمکیاں دینے والے پیغامات پوسٹ کیے ہیں۔

    خامنہ ای کی ایک پوسٹ میں لکھا تھا کہ ’امریکی صدر مسلسل کہتے ہیں کہ امریکہ نے ایران کی طرف ایک جنگی جہاز بھیجا ہے۔ یقینا، جنگی جہاز ایک خطرناک فوجی ساز و سامان ہوتا ہے، تاہم، اس جنگی جہاز سے زیادہ خطرناک وہ ہتھیار ہے جو اس جنگی جہاز کو سمندر کی تہہ میں بھیج سکتا ہے۔‘

    امریکی کانگریس کے کئی ارکان نے ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کی مخالفت کا اظہار کیا ہے۔

  6. برطانیہ نے امریکہ کو ایران پر حملوں کے لیے فضائی اڈے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی, جوناتھن بیل اور جو پائیک، بی بی سی نیوز

    امریکہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ برطانوی حکومت نے امریکہ کو ایران پر ممکنہ حملوں کے لیے رائل ایئر فورس کے ہوائی اڈے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی ہے۔

    ماضی میں امریکہ نے مشرقِ وسطیٰ کے خظے میں کارروائیوں کے لیے گلوسیسٹر شائر میں واقع آر اے ایف فیئرفورڈ اور بحرِ ہند میں برطانوی سمندر پار علاقے ڈیگو گارشیا کا استعمال کیا ہے۔

    برطانوی حکومت کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ ’معمول کے مطابق ہم ایسے آپریشنل معاملات پر تبصرہ نہیں کرتے۔‘

    امریکہ طویل عرصے سے ایران پر جوہری پروگرام کو روکنے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے۔ اس نے تہران کو ممکنہ حملے کے خطرے سے خبردار کیا ہے اور اپنے بحری جہاز، لڑاکا طیارے اور دیگر عسکری ساز و سامان خطے کی طرف روانہ کر دیے ہیں۔

    اسی دوران سوئٹزرلینڈ میں ایران اور امریکی وفود کے درمیان مذاکرات بھی چل رہے ہیں۔

    جمعرات کو صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ دنیا ’اگلے دن روز میں‘ جان جائے گی کہ امریکہ کا ایران سے معاہدہ ہو رہا ہے یا کوئی فوجی کارروائی ہونے والی ہے۔

    برطانوی حکومت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’امریکہ اور ایران کے درمیان ایک سیاسی عمل جاری ہے اور برطانیہ اس کی حمایت کرتا ہے۔‘

    ’ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار نہیں بنانا چاہیے اور خطے کی سکیورٹی ہماری پہلی ترجیح ہے۔‘

    گذشتہ برس ایران پر امریکی حملوں میں بھی آر اے ایف فیئرفورڈ اور ڈیاگو گارشیا کے ہوائی اڈوں کا استعمال نہیں ہوا تھا۔

    اس وقت برطانیہ کے ایک سیںیئر دفاعی ذریعے نے کہا تھا کہ امریکہ نے ان اڈوں کے استعمال کی اجازت نہیں مانگی تھی۔

    حالیہ دنوں میں امریکہ نے فیئرفورڈ اور دیگر برطانوی اڈوں کا استعمال رواں برس کی ابتدا میں بیلا ون نامی ٹینکر کو قبضے میں لینے کے آپریشن کے دوران کیا تھا۔

  7. نائجیریا میں اسلامی پولیس نے روزہ نہ رکھنے پر سات مردوں اور دو خواتین کو گرفتار کرلیا, منصور ابو بکر

    نائجیریا

    ،تصویر کا ذریعہSani Maikatanga

    نائجیریا کی شمالی ریاست کانو میں مذہبی پولیس نے بدھ کو رمضان کے پہلے روزے کے دوران کھانا کھاتے ہوئے نظر آنے والے نو مسلمان افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

    کانو میں مسلمانوں کی اکثریت ہے اور یہاں اسلامی اور سیکولر دونوں قانونی نظام نافذ ہیں۔

    اسلامی پولیس، جسے حِسبہ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، ہر سال رمضان کے دوران کیفیز، ریستورانوں اور بازاروں میں گشت کرتی ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ مسلمان روزے کے اوقات کی پابندی کر رہے ہیں۔

    کانو کے اُن علاقوں میں جہاں بڑی تعداد میں کرسچن آباد ہیں وہاں بعض کاروباری مراکز کھلے رہتے ہیں۔

    حِسبہ کے ڈپٹی کمانڈر جنرل مجاہد امین الدین نے بی بی سی کو بتایا کہ حراست میں لیے گئے سات مردوں اور دو خواتین نے یہ بہانہ بنایا کہ وہ رمضان کے آغاز سے بے خبر تھے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے انہیں گرفتار کیا ہے اور وہ ہمارے پاس ہی ہیں، جہاں ہم انہیں روزے کی اہمیت، نماز کیسے پڑھتے ہیں، قرآن کیسے پڑھتے ہیں اور ایک بہتر مسلمان کیسے بنتے ہیں، یہ سب سکھائیں گے۔‘

    یہ واضح نہیں کہ حِسبہ گرفتار کیے گئے افراد کو کب رہا کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ تاہم ماضی میں اسی طرح کے معاملات میں اہلکار زیرِ حراست افراد کے خاندانوں سے رابطہ کرتے رہے ہیں تاکہ رہائی کے بعد مناسب نگرانی کو یقینی بنایا جا سکے اور وہ رہا ہونے کے بعد ماہِ رمضان کے اختتام تک روزے رکھیں۔

    تقریباً دو دہائیوں قبل مسلمان آبادی کی اکثریت والی نائجیریا کی 12 شمالی ریاستوں میں اسلامی قانون کو سیکولر قانون کے ساتھ نافذ کیا گیا تھا۔

  8. چیٹ جی پی ٹی استعمال کر کے قتل کے منصوبے بنانے کے الزام میں خاتون گرفتار, انایا محمود، بی بی سی نیوز

    چیٹ جی پی ٹی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    جنوبی کوریا میں ایک 21 سالہ خاتون پر دو مردوں کے قتل کا الزام عائد کیا گیا ہے کیونکہ دوران تحقیقات تفتیش کاروں کو معلوم ہوا کہ وہ متعدد بار چیٹ جی پی ٹی سے ادویات اور شراب کو ساتھ ملانے کے خطرات کے بارے میں پوچھتی رہی ہیں۔

    سیول پولیس کا کہنا ہے کہ خاتون کے موبائل فون کا تجزیہ کرنے پر انھیں معلوم ہوا کہ ملزمہ، جن کی شناخت صرف ان کے خاندانی نام ’کم‘ سے کی گئی ہے، نے چیٹ جی پی ٹی سے پوچھا تھا کہ: ’اگر آپ نیند کی گولیاں شراب کے ساتھ لیں تو کیا ہوتا ہے؟‘، ’خطرناک ثابت ہونے کے لیے کتنی گولیاں لینی پڑتی ہیں؟‘ اور ’کیا اس سے کسی کی موت ہوسکتی ہے؟‘

    کم نے پہلے پولیس کو بتایا تھا کہ انھوں نے بینزودیازپین پر مشتمل تجویز کردہ سکون آور دوائیں مشروبات میں ملائی تھیں، لیکن انھیں معلوم نہیں تھا کہ اس سے ان افراد کی موت ہو جائے گی۔

    تاہم ایک پولیس تفتیش کار کا کہنا ہے کہ وہ اس بات سے ’پوری طرح آگاہ تھیں کہ شراب کے ساتھ دوا کا استعمال موت کا سبب بن سکتا ہے۔‘

    ابتدائی طور پر کم کو 11 فروری کو گرفتار کیا گیا تھا اور ان پر الزام تھا کہ انھوں نے ان افراد کو جسمانی طور پر نقصان پہنچایا، جس کے نتیجے میں اموات واقع ہوئیں۔

    پولیس کے مطابق کم کا پہلا مبینہ حملہ 28 جنوری کو اس وقت سامنے آیا جب وہ گانگ بُک گو کے علاقے سویوڈونگ میں ایک موٹل میں ایک مرد کے ساتھ داخل ہوئیں، جن کی عمر 20 کے پیٹے میں تھی۔ دو گھنٹے بعد وہ موٹل سے اکیلی باہر آگئیں اور اگلے روز وہ مرد کمرے کے اندر مردہ حالت میں پایا گیا۔

    پولیس کے مطابق اسی طریقے کا استعمال کرتے ہوئے ملزمہ نے مبینہ طور پر 9 فروری کو ایک اور مرد کو قتل کیا۔ اس مرتبہ کم اور مرنے والا شخص گانگ بُک گو کے ہی ایک مختلف موٹل میں ساتھ گئے تھے۔

    تاہم حکام کا کہا ہے کہ ملزم خاتون نے دواؤں کا غلط استعمال کر کے قتل کی پہلی کوشش گذشتہ سال دسمبر میں کی تھی، جب انھوں نے گیونگی صوبے کے علاقے نامیانجو میں ایک کیفے کی پارکنگ میں اپنے پارٹنر کو سکون آور دواؤں سے ملا ہوا مشروب دیا، جس سے وہ بے ہوش ہو گئے۔

    پولیس کے مطابق اپنے پارٹنر کے ہوش میں آنے کے بعد کم نے مشروبات میں دوائی کی مقدار کو نمایاں طور پر بڑھانا شروع کر دیا تھا۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ ان کی طرف سے مزید تفتیش کی جا رہی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ شناخت شدہ تین افراد کے علاوہ مزید کوئی متاثرین تو نہیں ہیں۔

  9. صدر ٹرمپ نے جنوبی ایشیا کو بڑی تباہی سے بچایا: وزیرِ اعظم شہباز شریف کا امن بورڈ کے اجلاس سے خطاب

    امن بورڈ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کے لیے غزہ میں جنگ بندی کی خلاف ورزیاں بند ہونا ضروری ہیں۔

    جمعرات کو واشنگٹن میں بورڈ آف پیس کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف کا کہنا تھا کہ غزہ کی ’تعمیر نو سے پہلے لوگوں کی جانوں کا تحفظ کیا جائے، فلسطینی عوام کو اپنی سرزمین کا مکمل حق ملے اور ان کے مستقبل کا تعین اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کیا جائے۔‘

    ’ان قراردادوں کے مطابق ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں آنا چاہیے۔‘

    اپنے خطاب میں پاکستانی وزیرِ اعظم نے امریکی صدر کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ’صدر ٹرمپ کی کامیاب سفارت کاری کی وجہ سے دنیا بھر میں قیام امن کو یقینی بنانے میں مدد ملی ہے۔‘

    ’پاکستان اور انڈیا کے درمیان جنگ بندی کے لیے ان کی بروقت اور موثر مداخلت کی وجہ سے کروڑوں جانیں بچی ہیں، صدر ٹرمپ نے حقیقی طور پر جنوبی ایشیا کو بڑی تباہی سے بچایا۔‘

  10. پانچ ممالک کا غزہ سٹیبلائزیشن فورس کے لیے ہزاروں فوجی بھیجنے کا وعدہ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ امن بورڈ کے افتتاحی اجلاس میں اعلان کیا ہے کہ نو رکن ممالک نے غزہ کی تعمیر نو کے امدادی پیکج کے لیے مشترکہ طور پر 7 ارب ڈالر کے فنڈز دینے کا وعدہ کیا ہے۔

    ٹرمپ نے بتایا کہ ان ممالک میں قازقستان، آزربائیجان، متحدہ عرب امارات، مراکش، بحرین، قطر، سعودی عرب، ازبکستان اور کویت شامل ہیں۔

    انٹرنیشنل سٹیبلائزیشن فورس کے کمانڈر میجر جنرل جیسپر جیفرز کے مطابق اس کے علاوہ انڈونیشیا، مراکش، قازقستان، کوسوو اور البانیہ نے غزہ سٹیبلائزیشن فورس کے لیے ہزاروں فوجی بھیجنے کا وعدہ کیا ہے جبکہ مصر اور اردن نے پولیس کی تربیت کا وعدہ کیا ہے۔

    ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکہ غزہ امن بورڈ کے لیے 10 ارب ڈالر دے گا تاہم انھوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ رقم کن مقاصد کے لیے استعمال ہو گی۔

  11. ’پاکستان اور انڈیا کے درمیان لڑائی میں 11 جنگی جہاز گرائے گئے‘: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

    غزہ امن بورڈ کے پہلے اجلاس کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر پاکستان اور انڈیا کے درمیان جنگ رکوانے کا ذکر کیا۔

    ٹرمپ نے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ یہ دونوں ملک نہیں لڑ رہے تھے لیکن یہ واقعی لڑ رہے تھے۔ 11 جنگی جہاز گرائے گئے۔ بہت مہنگے جہاز۔۔۔۔‘

    یاد رہے کہ اس سے قبل بھی امریکی صدر ’انڈیا پاکستان جنگ رُکوانے‘ کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کر چکے ہیں کہ اس دوران ’پانچ لڑاکا طیارے مار گرائے گئے۔‘

    ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا تھا یہ طیارے کس ملک کے تھے اور کس ملک نے گِرائے۔

    واضح رہے کہ مئی میں ہونے والی چار روزہ لڑائی میں پاکستان نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے اس دوران پانچ انڈین طیارے مار گرائے۔ اسی طرح انڈیا کی جانب سے پاکستانی طیارے مار گرائے جانے سے متعلق بھی متعدد دعوے کیے گئے تاہم ان دعووں کی آزادنہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔

    مئی میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان لڑائی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ اس دوران انھوں نے انڈیا اور پاکستان کے وزرائے اعظم کو کال کی۔

    ’میں نے کہا کہ اگر آپ دونوں نے لڑائی جاری رکھی تو میں آپ دونوں پر 200 فیصد ٹیرف عائد کر دوں گا۔ ان دونوں میں سے ایک (میں نہیں بتاؤں گا کہ کون) نے کہا کہ نہیں۔۔۔ یہ نہیں ہو سکتا۔‘

    امریکی صدر نے کہا کہ پاکستان اور انڈیا ’دونوں لڑنا چاہتے تھے لیکن جب بہت زیادہ پیسے کھونے کی بات آئی تو انھوں نے کہا کہ ہم نہیں لڑنا چاہتے۔‘

    ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ’یہ دونوں بہت طاقتور ملک ہیں، دونوں کے پاس ایٹمی طاقت ہے، اگر ایسا نہ ہوتا تو بہت بری چیزیں ہوتی جن کے بارے میں بات نہیں کروں گا۔‘

  12. غزہ امن بورڈ کے پہلے اجلاس میں ٹرمپ کی پاکستان کے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی تعریف

    ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    غزہ امن بورڈ کا پہلا اجلاس واشنگٹن میں جاری ہے جس میں پاکستان سمیت 47 ممالک شریک ہیں۔

    اجلاس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شریک ممالک کے سربراہان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انھیں خوش آمدید کہا۔

    پاکستان کے بارے میں بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’وزیر اعظم شریف۔۔۔ مجھے یہ آدمی پسند ہیں، میری ان سے اس وقت بات ہوئی جب (انڈیا) لڑائی جاری تھی۔‘

    امریکی صدر نے مزید کہا کہ ’آپ کے فیلڈ مارشل بھی بہترین آدمی ہیں۔ فیلڈ مارشل سخت جان اور اچھے جنگجو ہیں اور میں اچھے جنگجوؤں کو پسند کرتا ہوں۔‘

    ٹرمپ نے بتایا کہ جب انڈیا اور پاکستان کے درمیان لڑائی جاری تھی تو انھوں نے دونوں ممالک کے سربراہان کو کو کال کی۔

    ’میں نے انھیں کہا کہ دیکھو اگر آپ اس مسئلے کو حل نہیں کرتے تو میں آپ کے ساتھ تجارتی معاہدہ نہیں کروں گا۔‘

    امریکی صدر کے مطابق ’دونوں ممالک نے کہا کہ نہیں نہیں‘ اور جلد ہی معاملات حل ہو گئے۔

    اس سے قبل امریکی صدر نے اپنے خطاب میں یہ بھی کہا کہ امن کے لیے عزہ امن بورڈ اہم فورم ہے اور اپنے اہداف اور اہمیت کے حوالے سے اس کا کوئی متبادل نہیں۔

  13. بلوچستان کے ضلع خاران میں نامعلوم مسلح افراد نے ڈپٹی کمشنر کے سکواڈ کی گاڑی چھین لی، تحقیقات شروع, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    بلوچستان کے ضلع خاران میں نامعلوم مسلح افراد نے ڈپٹی کمشنر کے سکواڈ کی گاڑی چھین لی ہے۔

    خاران میں ایک سینیئر سرکاری اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ گاڑی کو جس وقت چھینا گیا اس وقت گاڑی میں صرف ڈرائیور موجود تھا۔

    انھوں نے بتایا کہ سکواڈ کی گاڑی کا ڈرائیور سحری کے بعد ڈی سی کے محافظوں کو لینے جارہا تھا۔

    ان کا کہنا تھا کہ راستے میں نامعلوم مسلح افراد نے گاڑی کو ڈرائیور سمیت ہائی جیک کیا۔

    سینیئر سرکاری اہلکار نے بتایا کہ کچھ فاصلے تک لے جانے کے بعد مسلح افراد نے گاڑی کے ڈرائیور کو چھوڑ دیا جبکہ گاڑی کو نامعلوم مقام کی جانب لے گئے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ڈی سی کے سکواڈ کی گاڑی کو چھیننے کے محرکات تاحال معلوم نہیں ہو سکے تاہم نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کر کے تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔

  14. علیمہ خان: ’ہمیں خدشات کیوں نہیں ہوں گے، کیا وجہ ہے کہ عمران خان کو ہسپتال منتقل نہیں کیا جا رہا‘

    علیمہ خان، عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سابق وزیراعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان کا کہنا ہے کہ ان کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ عمران خان کو الشفا ہسپتال منتقل کیا جائے۔

    راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہا کہ فیملی اور ذاتی معالج کی غیر موجودگی میں عمران خان معائنہ کیا گیا۔

    انھوں نے کہا کہ ’ہمیں خدشات کیوں نہیں ہوں گے۔ کیا وجہ ہے کہ عمران خان کو ہسپتال منتقل نہیں کیا جا رہا۔‘

    علیمہ خان نے یہ بھی کہا کہ ان کی بہن جب آخری دفعہ اپنے بھائی سے جیل میں ملیں تو ان کو عمران خان کا یہی پیغام تھا ’یہ مجھے ختم کر دیں گے۔‘

    واضح رہے کہ رواں ہفتے منگل کو پاکستان کے وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے دعویٰ کیا تھا کہ عمران خان کے بروقت طبی معائنے میں تاخیر کی وجہ ان کی بہن علیمہ خان بنیں جبکہ علیمہ خان نے حکومت کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت کا کبھی بھی عمران خان کو شفا انٹرنیشنل منتقل کرنے کا ارادہ نہیں تھا۔

    علیمہ خان کا کہنا تھا کہ ’ہمارا مطالبہ بالکل واضح تھا کہ عمران خان کے ذاتی ڈاکٹر اور خاندان کا ایک فرد موجود ہونا چاہیے لیکن انھوں نے انکار کر دیا۔‘

  15. پولیس اہلکاروں کے ساتھ لڑائی اور کار سرکار میں مداخلت کا مقدمہ: ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی چٹھہ کی درخواست ضمانت منطور, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام

    ایمان مزاری

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے جبری گمشدگیوں کے مقدمات کی پیروی کرنے والی وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کی پولیس اہلکاروں کے ساتھ لڑائی جھگڑے اور کار سرکار میں مداخلت کے مقدمے میں ضمانت کی درخواست منطور کر لی ہے۔

    عدالت نے ملزمان کے وکیل کو دس دس ہزار روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کروانے کا حکم دیا ہے۔

    ملزمان کے وکیل اور اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر ریاست علی آزاد نے ضمانت کی درخواستوں کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ان کے موکلوں کے خلاف بے بنیاد مقدمہ بنایا گیا جو اچانک منظر عام پر آیا۔

    انھوں نے کہا کہ وہ خود اس مقدمے میں نامزد ملزم ہیں لیکن انھیں بھی معلوم نہیں تھا کہ ان کے خلاف یہ مقدمہ کب درج کیا گیا۔

    ریاست علی آزاد کا کہنا تھا کہ من گھڑت اور بے بنیاد واقعہ پر ایف آئی آر کاٹی گئی جس کا کوئی وجود ہی نہیں تھا۔

    اس مقدمے کے پراسیکوٹر نے ضمانت کی درخواستوں کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ سیف سٹی کیمروں کی مدد سے ملزمان کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کے خلاف مقدمہ درج کر کے انھیں گرفتار کیا گیا۔

    عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد ضمانت کی درخواستیں منظور کر لیں۔

    واضح رہے کہ اس مقدمے میں ضمانت منظور ہونے کے باوجود ایمان مزاری اور ان کے شوہر رہا نہیں ہو پائیں گے کیونکہ انھیں متنازع ٹویٹ کے ایک مقدمے میں سزا سنائی گئی تھی اور دونوں میاں بیوی اس وقت اڈیالہ جیل میں ہیں۔

    دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو متنازع ٹویٹ میں دی جانے والی سزا کو مطعل کرنے کے حوالے سے دائر درخواست پر نوٹس جاری کردیے ہیں۔

    عدالت نے نیشنل سائبر کرائم ایجنسی کو بھی اس ضمن میں نوٹس جاری کیا۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس آصف نے اس درخواست کی سماعت کی۔ فیصل صدیقی ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے اور انھوں نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ابھی متنازع ٹویٹ سے متعلق مقدمہ کا ٹرائل کسی دوسری عدالت میں منتقل کرنے کی درخواست زیر التوا تھی لیکن اس سے پہلے ہی ٹرائل کورٹ نے اس مقدمے کا فیصلہ سنا دیا۔

    انھوں نے کہا کہ اس مقدمے میں دو گواہوں کا بیان ملزمان کی غیر موجودگی میں ریکارڈ ہوا۔ انھوں نے کہا کہ اس سے بھی عجیب یہ بات ہوئی کہ ٹرائل کورٹ کے جج نے اس فیصلے میں سے ایک پیراگرف بھی نکال دیا۔

    واضح رہے کہ سپیشل جج سینٹرل نے اپنے فیصلے میں دہشت گرد تنظیموں کو سپورٹ کرنے سے متعلق ایران اور شام کا بھی ذکر کیا تھا جس پر پاکستان کے دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ اس بارے میں جج صاحب کی اپنی رائے ہے تاہم اس مقدمے کے پراسیکوٹر کی نشاندہی کے بعد اس فیصلے سے اس پیراگراف کو نکال دیا گیا تھا۔

    عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اس درخواست کی سماعت ملتوی کر دی۔

  16. باجوڑ میں سکیورٹی فورسز پر حملہ: افغان نائب سفیر کو طلب کر کے احتجاجی مراسلہ تھمایا گیا، ترجمان دفتر خارجہ

    ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی

    ،تصویر کا ذریعہScreen Grab

    پاکستان کے دفتر خارجہ کے مطابق باجوڑ حملے میں افغان سرزمین کے استعمال پر افغانستان کے نائب سفیر کو طلب کر کے باضابطہ طور پر احتجاجی مراسلہ تھمایا گیا ہے۔

    جمعرات کے روز ہفتہ وار بریفنگ میں ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان کو اس بات پر گہری تشویش ہے کہ افغانستان کی سرزمین اب بھی پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ٹی ٹی پی کی پوری قیادت افغانستان میں موجود ہے اور افغان سرزمین سے کھلے عام اور بلاروک ٹوک سرگرم ہیں۔

    ترجمان دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ افغان سفارت کار کو بتایا گیا ہے کہ اس طرح کے واقعات دوطرفہ تعلقات اور خطے کے امن کے لیے نقصان دہ ہیں۔

    ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان نے ایک بار پھر مطالبہ کیا ہے کہ افغان حکومت اپنی سرزمین پر موجود دہشت گردوں کے خلاف موثر اور ٹھوس کارروائی کرے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کا سدباب ہو سکے۔

    واضح رہے کہ 16 فروری کو خیبرپختونخوا کے ضلع باجوڑ میں سکیورٹی فورسز پر ایک دہشت گرد حملہ ہوا تھا، جس میں 11 اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔

    پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا تھا کہ اس حملے کے نتیجے میں 11 سکیورٹی اہلکار اور ایک بچی ہلاک ہوئے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق شرپسندوں نے ضلع باجوڑ میں سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے کے ایک مشترکہ چیک پوسٹ پر حملہ کیا۔ بیان کے مطابق شدت پسندوں نے دھماکہ خیز سے لدی ایک گاڑی چیک پوسٹ سے ٹکرا دی جس کے نتیجے میں چیک پوسٹ کی عمارت منہدم ہو گئی۔

  17. 100 انڈیکس میں 6682 کی کمی: موجودہ ہفتے کے دوران پاکستانی سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی کی وجوہات کیا ہیں؟, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان سٹاک ایکسچینج میں جمعرات کے روز شدید مندی کا رجحان دیکھا گیا اور 100 انڈیکس میں 6682 پوائنٹس کی بڑی کمی ریکارڈ کی گئی۔ سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے اختتام پر انڈیکس 172170 پوائنٹس کی سطح تک گر گیا۔

    یاد رہے کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں رواں ہفتے کے دوران مندی کا رجحان غالب رہا ہے۔ موجودہ ہفتے کے پہلے کاروباری دن یعنی سوموار کو 100 انڈیکس میں 5703 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ منگل کو انڈیکس میں مزید 1304 پوائنٹس کی مزید کمی ہوئی۔

    بدھ کے روز مارکیٹ کی صورتحال کچھ بہتر ہوئی اور انڈیکس میں 5703 پوائنٹس کا اضافہ ہوا تاہم جمعرات کو ایک بار پھر سٹاک مارکیٹ کاروبار کے آغاز سے ہی مندی کی زد میں آ گئی اور مارکیٹ میں کاروبار کا اختتام تک انڈیکس میں 6682 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی۔

    مجموعی طور موجودہ کاروباری ہفتے کے پہلے چار دنوں میں ہنڈرڈ انڈیکس میں 7433 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ہفتے کے شروع میں اٹاک مارکیٹ میں کمی کی وجہ آئی ایم ایف مشن کی آمد اور پاکستان میں بڑی کمپنیوں پر سپر ٹیکس کی وصولی کا معاملہ تھا جس کی وجہ سے مارکیٹ میں منفی رجحان پیدا ہوا تھا۔ تاہم جمعرات کے روز مارکیٹ میں شدید مندی کی وجہ جیو پولیٹیکل صورتحال رہی جس میں امریکہ کی جانب سے اس ہفتے کے آخر تک ایران پر حملے سے متعلق رپورٹس ہیں۔

    تجزیہ کار شہر یار بٹ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ جمرات کے روز انڈیکس میں ہونے والی بڑی کمی کی وجہ امریکہ کی جانب سے ایران پر رواں ہفتے کے آواخر تک حملے کی رپورٹس ہیں جس کی وجہ سے مارکیٹ میں رجحان منفی ہو گیا اور سرمایہ کاروں کی جانب سے حصص کی فروخت زیادہ ہوئی۔

    انھوں نےکہا جیو پولیٹکل حالات کے علاوہ پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری کے اعداد و شمار بھی مایوس کن رہے ہیں جس کی وجہ سے مارکیٹ مزید دباو کا شکار ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ موجودہ سال میں اب تک ملک میں بیرونی سرمایہ کاری میں پچاس فیصد تک کی کمی ہوئی۔ شہریار نے بتایا کہ اس وقت مارکیٹ میں بیرونی اور ملکی سرمایہ کار دونوں اپنا مال بیچ رہے ہیں جو مارکیٹ میں مندی کا سبب بنا ہے۔

  18. کراچی رہائشی عمارت میں دھماکہ: ’پانچ منزلہ عمارت میں پانچ خاندان آباد تھے‘, ریاض سہیل، بی بی سی اردو، کراچی

    BBC

    کراچی سولجر بازار میں رہائشی عمارت کی مکین ایک خاتون نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس خدشے کا اظہار کیا کہ یہ دھماکہ ’گیس سلینڈر‘ کی وجہ سے ہوا جبکہ ریسکیو 1122 کے مطابق ممکنہ طور پر یہ دھماکہ گیس لیکج کی وجہ سے ہوا ہے۔

    بی بی سی کے نے دھماکے کے بعد عمارت کے دورے کے دوران دیکھا کہ متاثرہ عمارت کے اندر گیس پریشر والی مشن یعنی کمپریسر اور باہر خسہ حالت میں ایک گیس میٹر واضح طور پر موجود تھا اندر پلاسٹک کے پائپ کی مدد سے گیس کے مختلف کنیکشن دیئے گئے تھے۔

    سولجر بازار کی گلنار کالونی کی گنجان آبادی کے تنگ گلیوں میں یہ عمارت 40 سکوائر یارڈ پر بنی ہوئی ہے، اس عمارت کی رہائشی متاثرہ خاتون نے مزید بتایا کہ ’یہ پانچ منزلہ عمارت تھی جس میں پانچ خاندان آباد تھے جن میں سے زیادہ تر کرائے پر رہتے تھے اور دھماکے کی وجہ سے سب سے زیادہ عمارت کی پہلی اور دوسری منزل متاثر ہوئی ہے۔‘

    BBC

    واضح رہے کہ کراچی کے علاقے سولجر بازار میں مبینہ گیس لیکج کے باعث دھماکے سے رہائشی عمارت کا ایک حصہ منہدم ہو گیا، جس کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 16 ہو گئی ہے جبکہ متعدد افراد زخمی ہیں۔

    ڈپٹی کمشنر ویسٹ نصراللہ عباسی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’بظاہر ایسا لگتا ہے کہ یہ دھماکہ گیس لیکج کی وجہ سے ہوا کیونکہ جب لوگ سحری کے وقت اٹھے اور انھوں نے چولہا جلانے کی کوشش کی تو یہ دھماکہ ہوا ہے۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’ابھی اس بات کا تعین ہونا باقی ہے کہ یہ دھماکہ واقعی گیس لیکج کی وجہ سے ہوا کہ گیس سلینڈر کے پھٹنے کی وجہ سے۔‘

    تاہم ریسکیو 1122 کے ترجمان حسان الحبیب نے بی بی سی کو بتایا کہ ’عمارت کی تعمیر میں منصوبہ بندی کا فقدان دیکھائی دیتا ہے، عمارت کے اندر چھوٹے چھوٹے کمرے اور ایک کے اوپر دوسرا کمرہ بنا ہوا تھا۔‘

    BBC

    ریسکیو 1122 کے ترجمان حسان الحبیب کا کہنا تھا کہ ’دھماکے کی وجہ سے پوری عمارت بری طرح سے متاثر ہوئی اور اس کا ایک حصہ منہدم ہوگیا، جس کے نتیجے میں جو اس بلڈنگ میں رہائش پذیر فیملیز تھیں وہ سب ملبے تلے دب گئیں۔‘

    انھوں نے بتایا کہ ’تنگ گلیوں کی وجہ سے ریسکیو آپریشن میں مشکلات پیش آئیں، جب ریسکیو اہلکار حادثے کے مقام پر پہنچے تو ملبے تلے دبے لوگوں کی چیخ و پکار سُنائی دے رہی تھی۔‘

    انھوں نے بتایا کہ اس صورتحال کے بعد ریسکیو اہلکاروں نے جلد بازی سے کام نہیں لیا تاکہ انسانی جانوں کو بچایا جا سکے۔‘

    کراچی میں چھوٹے رقبے پر کئی منزلہ عمارتوں پر گزشتہ کئی ماہ سے بلڈنگ کوڈ کی خلاف ورزی کی نشندھی ہوتی رہی ہے۔ ڈی سی نصر اللہ عباسی نے اس کی تصدیق کی اور کہا کہ عمارت بہت ہی چھوٹے سے رقبے پر بنی ہوئی ہے اور انتہائی کمزور اسٹرکچر ہے اور یہ تقریباً 17 سے 18 سال پرانی ہے۔

    BBC
  19. پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر طارق بگٹی مستعفی

    پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر طارق بگٹی

    ،تصویر کا ذریعہGeo News

    پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر طارق بگٹی نے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا۔

    پرو ہاکی لیگ کے آسٹریلیا ہونے والی میچز میں پے در پے شکستوں کے بعد پاکستانی ہاکی ٹیم پاکستان گذشتہ روز واپس پہنچی تھی۔

    ایئرپورٹ پر موجود میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو میں ٹیم کے کپتان عماد بٹ نے ہاکی فیڈریشن پر سنگین الزامات لگائے تھے۔ اور بدانتظامی اور ناقص سہولیات کی شکایت کی تھی۔

    ٹیم کے کپتان عماد بٹ کا کہنا تھا کہ دورے کے دوران کھلاڑیوں کو مناسب رہائش نہیں دی گئی اور کھانے پینے کے انتظامات بھی ناکافی تھے، جس کی وجہ سے کھلاڑیوں کو اضافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

    سوشل میڈیا پر گذشتہ چند روز سے آسٹریلیا میں موجود پاکستانی ہاکی ٹیم کے کھلاڑیوں کی تصاویر اور ویڈیوز زیر گردش رہیں جن میں وہ کہیں اپنا کھانا خود پکاتے اور صفائی کرتے نظر آ رہے ہیں اور کہیں اپنے بیگز کے ہمراہ سڑک کنارے بیٹھے نظر آئے۔

    یہ تصاویر اور ویڈیوز سامنے آنے کے بعد وزیر اعظم شہباز شریف نے منگل (17 فروری) کو اس معاملے کی تحقیقات کا حکم بھی دیا تھا۔

    اس معاملے کی وضاحت دینے کے لیے ہاکی فیڈریشن کے صدر طارق بگٹی نے لاہور میں پریس کانفرنس کی اور بتایا کہ وہ اپنا استعفیٰ وزیر اعظم شہباز شریف کو بھجوا چکے ہیں۔

    انھوں نے کہا: ’وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل سے درخواست کرتا ہوں کہ کمیٹی بنائی جائے جو تحقیقات کرے۔‘

    طارق بگٹی نے بد انتظامی کا ذمے دار پاکستان سپورٹس بورڈ کو قرار دیتے ہوئے عماد بٹ پر ڈومیسٹک اور انٹرنیشنل ہاکی پر دو سال کی پابندی کا اعلان بھی کیا۔

  20. ایران سے ملحقہ سرحدی شہر تفتان میں ایل پی جی ٹینکر میں دھماکہ، دو افراد ہلاک متعدد زخمی

    بلوچستان کے ضلع چاغی کے ایران سے ملحقہ سرحدی شہر تفتان میں ایل پی جی ٹینکر میں آگ لگنے کے باعث کم از کم دو افراد ہلاک جبکہ بڑے پیمانے پر مالی نقصان ہوا ہے۔

    ایل پی جی ٹینکر میں آگ گزشتہ شب لگی تھی اور یہ بعد میں ایک بڑے حصے پر پھیل گئی تھی۔ ایس پی چاغی محمد علی نے فون پر بتایا کہ تفتان میں واقع ایل پی جی پلانٹ پر ایک ٹینکر کھڑا تھا جس میں آگ لگی۔

    انھوں نے بتایا کہ کچھ دیر بعد ٹینکر میں زوردار دھماکہ ہوا جس سے آگ ایک بڑے حصے پر پھیل گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ آگ سے دو افراد ہلاک ہوئے جبکہ دو زخمی ہیں۔

    اسسٹنٹ کمشنر تفتان بھی آگ کی تپش کی زد میں آگئے لیکن ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ ایس پی چاغی نے بتایا کہ آگ پر قابو پالیا گیا ہے تاہم اس کے ملبے سے دھواں ابھی تک اٹھ رہا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ آگ کے باعث مالی لحاظ سے بڑے پیمانے پر نقصانات ہوئے ہیں کیونکہ دکانیں، تیل کے ڈپو اور گودام وغیرہ اس کی زد میں آکر جل گئے ہیں۔

    ایس ایس پی چاغی نے بتایا کہ نقصانات کا اندازہ لگایا جارہا ہے جبکہ آگ لگنے کی وجوہات کے بارے میں تحقیقات جاری ہیں۔

    آگ بجھانے کی کوششوں میں جہاں مقامی فائر بریگیڈ کے عملے اور سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے حصہ لیا وہاں سرحد پار سے ایرانی فائر فائٹرز کی بھی مدد حاصل کی گئی۔