جنوبی وزیرستان کے سیشن جج شاکر اللہ مروت کو نامعلوم افراد نے اغوا کر لیا: پولیس

خیبر پختونخوا کے علاقے ڈیرہ اسماعیل خان کی پولیس کا کہنا ہے کہ جنوبی وزیرستان کے سیشن جج شاکر اللہ مروت کو نامعلوم افراد نے اغوا کر لیا ہے۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے واقعے کا نوٹس لیا ہے اور آئی جی کو جج کی بحفاظت بازیابی کے لیے اقدامات کی ہدایت کی ہے۔

خلاصہ

  • خیبر پختونخوا کے علاقے ڈیرہ اسماعیل خان کی پولیس کا کہنا ہے کہ جنوبی وزیرستان کے سیشن جج شاکر اللہ مروت کو نامعلوم افراد نے اغوا کر لیا ہے
  • وزیراعظم شہباز شریف عالمی اقتصادی فورم کے اجلاس میں شرکت کے لیے سعودی عرب پہنچ گئے
  • پاکستانی حکومت کے پاور ڈویژن نے ان خبروں کی تردید کی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ حکومت کی جانب سے سولر پینلز پر نیا ٹیکس لگایا جا رہا ہے
  • سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ کا کہنا ہے کہ آئین کے مطابق عدلیہ مکمل طور پر آزاد ہونی چاہیے
  • این ڈی ایم اے کے مطابق پاکستان میں 29 اپریل تک طوفان اور سیلابی صورتحال کا خطرہ ہے
  • اسلام آباد میں غیر ملکی شہریوں کی سکیورٹی کے لیے سپیشل پروٹیکشن فورس بنانے کا فیصلہ

لائیو کوریج

  1. پاکستان سٹاک ایکسچینج: انڈیکس میں ’تاریخی تیزی‘ کی وجوہات کیا ہے اور کون سے کاروباری شعبوں میں مثبت رحجان ریکارڈ کیا جا رہا ہے؟

    live

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان سٹاک ایکسچینج میں بدھ کے روز بھی تیزی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا ہے اور کاروبار کے دوران انڈیکس میں ایک ہزار پوائنٹس سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس کے بعد انڈیکس 72 ہزار پوائنٹس کی سطح عبور کر گیا۔

    ملکی تاریخ میں سٹاک مارکیٹ کے ہنڈرڈ انڈیکس نے پہلی مرتبہ 72 پوائنٹس کی سطح عبور کی ہے۔

    مارکیٹ میں کاروبار کے دوران نفع کمانے کے لیے کچھ حصص میں فروخت کا رجحان بھی دیکھا گیا، تاہم اس کے باوجود انڈیکس مارکیٹ میں کاروبار کے اختتام پر 692 پوائنٹس اضافے کے بعد 72050 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔

    سٹاک مارکیٹ میں اس ’تاریخی تیزی‘ کی وجوہات کیا ہیں؟

    پاکستان سٹاک ایکسچینج میں تیزی کی وجوہات پر بات کرتے ہوئے سٹاک مارکیٹ تجزیہ کار شہر یار بٹ نے بی بی سی اُردو کو بتایا کہ مارکیٹ میں تیزی کی مختلف وجوہات ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ سب سے بڑی وجہ تو وزیر خزانہ کا دورہ واشنگٹن ہے جس میں انھوں نے عالمی مالیاتی اداروں بشمول آئی ایم ایف حکام سے ملاقات کی جس کے بعد پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کے ایک طویل مدتی پروگرام کے امکانات کافی بڑھ گئے۔ شہریار کے مطابق ان امکانات اور اس ضمن میں ہونے والے اعلانات نے سرمایہ کاروں میں اعتماد کو بحال کیا ہے جس کا اظہار سٹاک مارکیٹ میں تیزی کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ اس کے علاوہ ماضی قریب میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے سے متعلق اعلانات نے بھی بہتری کی راہ ہموار کی ہے۔

    شہریار بٹ کے مطابق ملک میں مہنگائی میں کمی کی وجہ سے شرح سود میں کمی کا امکان بھی ہے اور اس وجہ سے بھی سٹاک مارکیٹ میں تیزی کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے۔

    کون سے حصص میں تیزی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا؟

    پاکستان سٹاک ایکسچینج میں تیزی کی وجہ مختلف کمپنیوں کے حصص میں خریداری رہی۔

    شہر یار بٹ نے بتایا کہ بینکوں کے حصص میں تیزی دیکھی گئی جس کی وجہ بینکوں کی جانب سے اچھے مالیاتی نتائج کا اعلان ہے جس میں سرمایہ کاروں کے لیے منافع کا اعلان کیا گیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ملک میں شرح سود میں کمی کی توقعات پر تعمیراتی شعبے کی کمپنیوں جن میں سیمنٹ، گلاس اور سیرامکس کے حصص شامل ہیں، ان میں تیزی دیکھی گئی۔

    تجزیہ کار کے مطابق ملک کی آئی ٹی برآمدات بڑھنے کی وجہ سے اس شعبے کی کمپنیوں کے حصص میں بھی تیزی ریکارڈ کی گئی۔

  2. ’ہمیں تو اتنا بھی نہیں پتا کہ اپیل کہاں کرنی ہے‘: پی ٹی آئی کا فوجی عدالتوں کے خلاف لارجر بینچ کی تشکیل کا مطالبہ

    bbc

    ،تصویر کا ذریعہyoutube screenshot

    پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ گذشتہ برس 9 مئی کے پُرتشدد مظاہروں کے حوالے گرفتار کیے جانے والے افراد کے خلاف فوجی عدالتوں کی کارروائی کو کالعدم قرار دیا جائے اور اس معاملے کو سُننے کے لیے لارجر بیچ تشکیل دیا جائے۔

    بدھ کو پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے 9 مئی کے پُرتشدد مظاہروں میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کیے گئے افراد کے اہلخانہ کے ہمراہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کی۔

    اس موقع پر بات کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے رہنما علی محمد خان کا کہنا تھا کہ ’تقریباً ایک سال ہونے کو ہے، کسی کا بیٹا، کسی کا بھائی، کسی کے والد، کسی کے شوہر، جو ان گھروں کا نان و نفقہ کمانے والے لوگ تھے وہ اس وقت زیرِ حراست ہیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’اس بات پر پورے پاکستان میں اتفاق پایا جاتا ہے کہ سویلینز کا ملٹری ٹرائل نہیں ہونا چاہیے۔‘

    علی محمد خان نے سپریم کورٹ سے استدعا کی کہ ایک بڑا بینچ قائم کیا جائے جو یہ فیصلہ کرے کہ کیا سویلیز پر مقدمات فوجی عدالتوں میں چلنے چاہییں یا نہیں۔

    پریس کانفرنس کے دوران پی ٹی آئی کی قانون ٹیم کے رُکن بیرسٹر ابوذر نیازی نے کہا کہ ’پاکستانِ تحریک انصاف کا مؤقف یہ ہے کہ فوجی عدالتیں غیر آئینی ہیں۔‘

    ’اگر کسی کا ٹرائل ہونا ہے تو وہ ایک عدالتی افسر کرے گا کیونکہ یہ ہمارے آئین میں لکھا ہے۔‘

    پریس کانفرنس کے دوران مبینہ طور پر فوج کی حراست میں موجود افراد کے اہلخانہ نے بھی میڈیا سے گفتگو کی۔

    سدرہ مرتضیٰ نامی خاتون نے الزام عائد کیا کہ ان کے بھائی علی رضا فوج کی حراست میں ہیں۔ ’انسداد دہشتگردی کی عدالت نے جب انھیں (علی رضا کو) فوج کی حراست میں دیا تو ان کے خلاف فوراً کارروائی شروع ہوگئی تھی۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ اگر سپریم کورٹ سمجھتی ہے کہ یہ ایک سنجیدہ معاملہ ہے تو پھر سماعت کے لیے لارجز بینچ تشکیل دے۔

    فوجی عدالتوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’ہمیں تو اتنا بھی نہیں پتا کہ ہم نے اپیل میں کہاں جانا ہے۔‘

    ’انھوں نے 105 لوگ پکڑ لیے تھے، فوج نے اپنی حراست میں رکھ لیے، عید کا موقع تھا آرمی چیف صاحب ان بچوں کے پاس جاتے تو سہی، ان کو دیکھتے، وہ دہشتگرد لگتے ہیں ان کو۔‘

    پریس کانفرنس میں موجود ایک اور شخص تیمور مجید کا کہنا تھا کہ ’میرے بھائی کو 13 اگست کو گرفتار کیا گیا تھا۔ پانچ مہینے ہمیں نہیں پتا تھا کہ بھائی ہے کہاں۔ پھر اچانک پتا چلتا ہے کہ وہ فوج کی حراست میں ہے۔ ‘

    خیال رہے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کالعدم قرار دینے کیخلاف سماعت کرنے والا بنچ بدھ کو ٹوٹ گیا تھا، تاہم سپریم کورٹ نے بینچ کی ازسرنو تشکیل کیلئے معاملہ ججز کمیٹی کو بھجوا دیا ہے۔

    فوجی عدالتوں میں ٹرائل کالعدم قرار دینے سے متعلق آج کی سماعت کے دوران بنچ پر اعتراض اُٹھایا گیا تھا اور اس سے متعلق درخواستیں بھی پیش کی گئیں تھیں جنھیں منظور کر لیا گیا تھا۔

    اٹارنی جنرل آف پاکستان نے عدالت کو بتایا کہ عید پر 20 ملزمان رہا ہو کر گھروں کو جا چکے ہیں۔

  3. بی بی سی اردو کے خصوصی لائیو کوریج میں خوش آمدید!

    masthead

    پاکستان کی سیاسی صورتحال اور دن بھر کی اپ ڈیٹس کے لیے بی بی سی اردو کے خصوصی لائیو پیج میں خوش آمدید۔