جنوبی وزیرستان کے سیشن جج شاکر اللہ مروت کو نامعلوم افراد نے اغوا کر لیا: پولیس
خیبر پختونخوا کے علاقے ڈیرہ اسماعیل خان کی پولیس کا کہنا ہے کہ جنوبی وزیرستان کے سیشن جج شاکر اللہ مروت کو نامعلوم افراد نے اغوا کر لیا ہے۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے واقعے کا نوٹس لیا ہے اور آئی جی کو جج کی بحفاظت بازیابی کے لیے اقدامات کی ہدایت کی ہے۔
خلاصہ
خیبر پختونخوا کے علاقے ڈیرہ اسماعیل خان کی پولیس کا کہنا ہے کہ جنوبی وزیرستان کے سیشن جج شاکر اللہ مروت کو نامعلوم افراد نے اغوا کر لیا ہے
وزیراعظم شہباز شریف عالمی اقتصادی فورم کے اجلاس میں شرکت کے لیے سعودی عرب پہنچ گئے
پاکستانی حکومت کے پاور ڈویژن نے ان خبروں کی تردید کی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ حکومت کی جانب سے سولر پینلز پر نیا ٹیکس لگایا جا رہا ہے
سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ کا کہنا ہے کہ آئین کے مطابق عدلیہ مکمل طور پر آزاد ہونی چاہیے
این ڈی ایم اے کے مطابق پاکستان میں 29 اپریل تک طوفان اور سیلابی صورتحال کا خطرہ ہے
اسلام آباد میں غیر ملکی شہریوں کی سکیورٹی کے لیے سپیشل پروٹیکشن فورس بنانے کا فیصلہ
لائیو کوریج
چین اور پاکستان سی پیک کے تحت جاری منصوبوں پر کام میں تیزی لانے پر متفق: دفتر خارجہ
،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان نے جمعے کو واضح کیا ہے کہ اس کے اس وقت چین کے ساتھ جاری منصوبوں پر کام میں تیزی لانے پر اتفاق ہوا ہے۔
واضح رہے کہ چائنہ انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ
کوآپریشن ایجنسی لوؤچاؤہوئی نے رواں ماں کی 21 تاریخ سے 25 تاریخ تک پاکستان کا
دورہ کیا ہے۔
اس دورے کے دوران انھوں نے وزیراعظم، صدر مملکت اور وزیر خزانہ اسحاق
ڈار سمیت متعدد اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق دونوں
ممالک میں چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور (سی پیک) کے تحت جاری تمام منصوبوں کو جلد
پایہ تکمیل تک پہنچانے پر اتفاق ہوا ہے۔
دفتر خارجہ کے مطابق اس دورے کے دوران دونوں
ممالک نے تعاون کے کئی اہم معاہدوں اور یادداشتوں پر دستخط کیے ہیں۔
ایران اور پاکستان ایک دوسرے کے قیدی رہا کرنے پر بھی رضامند ہو گئے: پاکستانی دفتر خارجہ
،تصویر کا ذریعہPM OFFICE
پاکستان کے دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ ایران اور پاکستان موجودہ فریم ورک کے تحت ایک دوسرے کے قیدی رہا کرنے پر بھی رضا مند ہو گئے ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران کے صدر ڈاکٹر سید ابراہیم رئیسی نے اس ہفتے پاکستان کا دورہ کیا
ہے، جو سات برس میں کسی بھی ایرانی رہنما کا یہ پہلا دورہ پاکستان ہے۔
قیدیوں کی رہائی کا معاملہ بھی اس دورے کے دوران زیر غور آیا۔ تاہم دفتر خارجہ نے ان قیدیوں کی صحیح تعداد اور ان کے جرائم کی تفصیلات فراہم نہیں کی ہیں۔
دفتر خارجہ کی ترجمان کے مطابق اس دورے سے دونوں
ممالک کو دو طرفہ تعلقات، خطے اور بین الاقوامی حالات پر تفصیل سے بات چیت کرنے کا
موقع میسر آیا۔
اس دورے کے دوران دونوں ممالک نے معیشت، ثقافت
اور سکیورٹی سمیت پاکستان اور ایران کی سرحد کو پرامن سرحد بنانے اور اسے دوستی
اور خوشحالی کی علامت بنانے پر اتفاق کیا ہے۔
اب دونوں ممالک دو طرفہ تجارت کو فروغ دیں گے، آزاد
تجارت کے معاہدے پر فوری مذاکرات، جائنٹ بارڈر مارکیٹس اور اکنامک فری زون کے قیام
پر اتفاق ہوا ہے۔ باہمی تعلقات سے گوادر اور چابہار جیسے منصوبوں میں بھی تعاون کو
فروغ دیا جائے گا۔
لکی مروت میں سمینٹ فیکٹری پر مسلح افراد کا حملہ، ایک سکیورٹی گارڈ ہلاک, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو
خیبر
پختونخوا میں لکی سمینٹ فیکٹری پر رات گئے نا معلوم مسلح افراد نے حملہ کیا ہے
جہاں ایک سکیورٹی گارڈ ہلاک اور تین کو اغوا کرنے کے بعد رہا کر دیا گیا ہے۔ مسلح افراد
نے تین بڑی گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا ہے۔
یہ
واقعہ نیم شب کے وقت کوئی ڈیڑھ بجے کے قریب انڈس ہائی وے پر درہ پیزو کے قریب واقع
سیمنٹ فیکٹری میں پیش آیا ہے جب پولیس کے مطابق مسلح افراد فیکٹری کے عقب سے آئے
تھے۔
ضلعی
پولیس افسر تیمور خان نے بی بی سی کو بتایا کہ مسلح افراد کی تعداد 15 سے تیس کے
درمیان بتائی گئی ہے اور ان کے پاس بھاری ہتھیار تھے۔ یہ مسلح افراد فیکٹری کی عقبی
جانب شیخ بدین کے پہاڑوں سے آئے اور فیکٹری کے باہر کرشنگ ایریا میں موجود افراد
کو یرغمال بنایا اور وہاں موجود ڈمپر ، آئل ٹینکر اور ایک لوڈر کو آگ لگا دی تھی۔
پولیس
حکام کے مطابق مسلح افراد عملے اور سکیورٹی گارڈ کو اغوا کرکے لے گئے جہاں سکیورٹی
گارڈ کو فائرنگ کرکے قتل کر دیا گیا ہے جبکہ باقی عملے کو رہا کر دیا ہے۔
پولیس
اہلکاروں نے بتایا کہ اس واقعے کے بعد وہاں موجود فوج اور پولیس موقع پر پہنچ گئی
تھی جہاں مسلح افراد کی تلاش کے لیے ٹیمیں روانہ کر دی گئی تھیں لیکن کوئی گرفتاری
عمل میں نہیں آئی ہے۔
پولیس
حکام کے مطابق اس علاقے میں کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کا ٹیپو گل گروپ
متحرک ہے اور ان کی تعداد 40 یا پچاس سے زیادہ نہیں ہوگی۔
درہ پیزوپشاور سے کوئی 290 کلومیٹر دور جنوب میں انڈس
ہائی وے پر واقع ہے جہاں گذشتہ چند ماہ سے تشدد کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ
ہوا ہے۔ اس علاقے میں پولیس تھانوں پر مسلح گروپوں کے حملوں کے علاوہ پولیس
اہلکاروں کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا جا چکا ہے اور شدت پسند تنظیم کی جانب سے
متعدد کارروائیوں کی زمہ داریاں بھی قبول کی گئی ہیں۔
اس
علاقے میں کچھ عرصے سے جرائم کی شرح میں بھی اضافہ ہوا ہے اور اب اکثر انڈس ہائی
وے پر لکی مروت سے ڈیرہ اسماعیل خان جانے والے راستے پر رات کو مسافر گاڑیوں کی
لوٹ مار کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ یہ شاہراہ ماضی میں انتہائی پر امن رہی ہے
اور رات کا سفر کبھی مشکل نہیں رہا لیکن اب آئے روز یہاں مسافر گاڑیوں ٹرکوں اور
عام لوگوں کو لوٹا جا رہا ہے۔
درہ پیزو
ضلع لکی مروت کا حصہ ہے جہاں گذشتہ روز ایک گرینڈ قومی جرگہ منعقد ہوا تھا جس میں
عمائدین نے علاقے میں تشدد کے واقعات اور امن و امان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار
کیا تھا اور کہاں تھا کہ اس علاقے میں بڑی تعداد میں سکیورٹی اہلکار تعینات ہیں
اور اس کے باوجود اس علاقے میں تشدد کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اس جرگے
میں کہا گیا تھا کہ علاقے میں یہ خوف پایا جاتا ہے کہ سکیورٹی حکام اس علاقے میں
فوجی آپریشن کا ارادہ رکھتے ہیں لیکن مقامی لوگ بڑے فوجی آپریشن کی کبھی اجازت نہیں
دیں گے۔
بریکنگ, بلوچستان میں ضمنی انتخاب کے دوران چار پولنگ سٹیشنز پر ڈیوٹی نہ دینے پر لیویز فورس کے 28 اہلکار برطرف, محمد کاظم، بی بی سی اردوّ کوئٹہ
،تصویر کا ذریعہbalochistanleviesforce
بلوچستان
کے ضلع کوہلو میں 24 اپریل کو بلوچستان اسمبلی کی نشست پی بی 9 کے چار پولنگ سٹیشنز
پر ڈیوٹی نہ دینے پر لیویز فورس کے 28 اہلکاروں کو ملازمت سے برطرف کردیا گیا ہے۔
ڈپٹی
کمشنر کوہلو نقیب اللہ کاکڑ نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ اہلکار ری پولنگ
کے روز ڈیوٹی سے غیر حاضر پائے گئے۔
اس
سلسلے میں جاری ہونے والے ایک نوٹیفیکیشن کے مطابق لیویز فورس کے اہلکاروں کو یہ
سختی سے ہدایت کی گئی تھی کہ وہ ری پولنگ کے روز ڈیوٹی کے مقامات پر اپنی موجودگی
کو یقینی بنائیں لیکن 28اہلکار ڈیوٹی سے غیرجاضر پائے گئے جن کو ملازمت سے برطرف کیا
گیا۔
فورس
کے برطرف کیے جانے والے اہلکاروں میں ایک نائب رسالدار اور پانچ دفعدار شامل ہیں۔
بلوچستان
انتظامی لحاظ سے دو حصوں اے اور بی ایریاز پر مشتمل ہے۔ اے ایریاز زیادہ تر شہری
علاقوں پر مشتمل ہیں جو کہ دس فیصد سے زائد بنتے ہیں۔ اے ایریاز کا کنٹرول پولیس
جبکہ بی ایریاز کا کنٹرول ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں لیویز فورس کے کنٹرول ہے۔
اگرچہ
85 فیصد کے لگ بھگ بی ایریاز کا کنٹرول لیویز فورس کے پاس ہے لیکن ان کی تعداد اور
وسائل پولیس کے مقابلے میں کم ہیں تاہم بی ایریاز عام جرائم کی شرح اے ایریاز کے
مقابلے میں کم ہے۔
خیال
رہے کہ بلوچستان اسمبلی کی نشست پی بی 9 سے مسلم لیگ ن کے امیدوار نواب جنگیز مری
کو کامیاب قرار دیا گیا تھا۔
تاہم
ان کے مد مقابل پیپلز پارٹی کے امیدوار میر نصیب اللہ مری کی درخواست پر الیکشن کمیشن
نے ضلع کی تحصیل کاہان میں نسائو کے علاقے میں چار پولنگ سٹیشنز پر غیر فطری شرح
ووٹ کی وجہ سے ری پولنگ کا حکم دیا تھا۔
کاہان
کا شمار ضلع کوہلو کے ان علاقوں میں ہوتا ہے جو کہ شورش سے زیادہ متاثر ہے۔
پولنگ
سے ایک روز قبل اور پولنگ کے دن راکٹ عملوں اور بارودی سرنگوں کے دھماکوں سمیت
فائرنگ کے دیگر واقعات کے باعث پولنگ کا عملہ پولنگ سٹیشنوں پر نہیں پہنچ سکا تھا
جس کی وجہ سے چاروں پولنگ سٹیشنوں پر پولنگ نہیں ہوسکی تھی۔
ان
حملوں میں پیپلز پارٹی کا ایک حامی ہلاک بھی ہوا تھا۔
ان
حملوں کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی تھی۔
بریکنگ, پنجاب کے بیشتر علاقوں میں طوفانی بارشوں اور ژالہ باری کا امکان، شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت
،تصویر کا ذریعہGetty Images
صوبہ پنجاب
میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے کا کہنا ہے کہ آج سے 29 اپریل تک پنجاب میں گرج
چمک کے ساتھ طوفانی بارش اور ژالہ باری کاامکان ہے۔
پی ڈی
ایم اے ن کے ترجمان کے مطابق 26سے 28 اپریل تک جنوبی پنجاب کے اضلاع میں طوفانی
بارشیں ہوں گی۔ جبکہ مری، گلیات، راولپنڈی ، اٹک، جہلم ،چکوال ، منڈی بہاﺅالدین،
گوجرانولا، گجرات میں بھی بارش ہو گی۔
پنجاب
کے علاقوں حافظ آباد، سیالکوٹ ، نارووال، لاہور، قصور، اوکاڑہ ، فیصل آباد ، ٹونہ
ٹیک سنگھ،
جھنگ،
خوشاب ، سرگودھا، میانوالی، پاکپتن اور ساہیوال میں بھی بارش کا امکان ہے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق بیشتر اضلاع میں بارش کے
ساتھ ژالہ باری کے بھی امکانات ہیں۔
ڈی جی
پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا کے مطابق وزیر اعلی پنجاب کی ہدایت کے مطابق ضلعی
انتظامیہ کو الرٹ جاری کر دیا ہے۔ محکمہ صحت آبپاشی تعمیر و مواصلات لوکل
گورنمنٹ اور لایئو سٹاک کو الرٹ جاری کر دیا ہے ۔
ان کے بیان کے مطابق ’انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ واسا پنجاب پولس اور سول ڈیفنس کو بھی موسمی صورتحال کے پیش نظر الرٹ جاری کردیا گیا۔ نشیبی علاقوں میں نکاسیِ آب کو یقینی بنانے کی بھی ہدایات جاری گی گئی ہیں۔ ‘
،تصویر کا ذریعہget
ڈی جی پی ڈی ایم کی شہریوں کو احتیاط برتنے اور محفوظ رہنے کے لیے ان ہدایات پر عمل کرنے کو کہا:
بجلی کے کھمبوں اور لٹکتی تاروں سے دور رہیں۔
آسمانی بجلی سے بچاؤ کیلئے محفوظ مقامات پر رہیں۔
بجلی کی گرج چمک اور طوفانی صورتحال میں کھلے آسمان تلے ہرگز نہ جائیں۔
بچوں کا خاص خیال رکھیں انھیں نشیبی علاقوں میں جمع پانی کے قریب ہرگز نہ جانے دی۔
شہری غیر ضروری سفر سے پرہیز کریں اور گاڑی آہستہ چلائیں۔
ایمرجنسی میں پی ڈی ایم اے ہیلپ لائن 1129 یا متعلقہ ضلعی انتظامیہ سے رابطہ رکھیں
اسلام آباد کے مارگلہ ٹریلز پر غیرملکیوں کی حفاظت کے لیے سکیورٹی میں اضافہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
وزیر
داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں مارگلہ ٹریلز پر غیرملکیوں
کی حفاظت کے لیے سکیورٹی حکام کی جانب سے سکیورٹی میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔
سکیورٹی
اہلکار نہ صرف پیدل بلکہ گھوڑوں اور موٹر سائکلوں پر بھی علاقہ میں گشت کریں گے۔
سماجی
رابطے کی سائٹ پر ان کا کہنا تھا ’کہ ہم مارگلہ کی خوبصورت پگڈنڈیوں کو محفوظ
بنانے کے لیے مارگلہ ٹریل پٹرول کا آغاز کر رہے ہیں، خاص طور پر غیر ملکیوں کی
حفاظت کے لیے جو ان خوبصورت جگہوں پر جانا پسند کرتے ہیں۔ ‘
ان کا
کہنا تھا کہ ’ہمارے سکیورٹی کور میں ٹریل موٹر سائیکلوں، گھوڑوں پر گشت اورپیدل گشت شامل ہیں۔‘
ضمنی انتخابات میں ’مینڈیٹ چوری‘ کے خلاف پی ٹی آئی کا آج ملک بھر میں احتجاج
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان تحریک انصاف ضمنی انتخابات میں مینڈیٹ چوری کے خلاف آج ملک بھر میں احتجاج کرہی ہے۔
جماعت نے الزام عائد کیا ہے کہ گجرات، شیخوپورہ، لاہور اور ملک کے دیگر حصوں میں ضمنی انتخابات میں ’کھلم کھلا دھاندلی‘ کی گئی ہے۔
پی ٹی آئی کے بیان کے مطابق ’پارٹی کے پاس نتائج کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔‘
احتجاج آج سہ پہر سے شروع ہوگا اور حلقہ وار مظاہرہ کیا جائے گا جس کی سربراہی اراکین پارلیمنٹ اور ٹکٹ ہولڈرز کریں گے۔
پنجاب میں قومی اسمبلی کی دو، خیبر پختونخوا میں بھی دو اور سندھ کی ایک نشت پر ضمنی انتخابات منعقد ہوئے۔
صوبائی اسمبلیوں کی بات کی جائے تو پنجاب اسمبلی کی 12، خیبرپختونخوا کی دو جبکہ بلوچستان اسمبلی بھی دو نشستوں پر ضمنی الیکشن منعقد ہوا۔
اب تک کے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق قوم اسمبلی کے حلقہ این اے 119 لاہور میں مسلم لیگ ن کے علی پرویز کو برتری حاصل ہوئی۔
بلوچستان کے ضمنی انتخاب اور نتائج
بلوچستان اسمبلی کی دو نشستوں پر ضمنی انتخاب اور ایک پر ری پولنگ کے نتیجے میں کوئی اپ سیٹ نہیں ہوا اور تینوں نشستوں پر انھی جماعتوں کو کامیابی ملی جن کے امیدوار 8 فروری کے عام انتخابات میں کامیاب قرار دیے گئے تھے۔
21 اپریل کو بلوچستان اسمبلی کی دو نشستوں پی بی 20 خضدار اور پی بی 22 لسبیلہ پر ضمنی انتخاب اور پی بی 50 قلعہ عبداللہ پر ری پولنگ ہوئی۔
پی بی 20 خضدار کو بی این پی کے سربراہ سردار اختر مینگل اور پی بی 22 لسبیلہ کو وفاقی وزیر جام کمال نے بیک وقت دو دو نشستوں پر کامیاب ہونے کے باعث خالی کیا تھا۔ پی بی 50 قلعہ عبداللہ میں 8 فروری کے عام انتخابات میں عوامی نیشنل پارٹی کے زمرک خان اچکزئی کامیاب ہوئے تھے لیکن غیر فطری شرح ووٹ کے باعث سپریم کورٹ نے اس نشت پر دوبارہ انتخاب کا حکم دیا تھا۔
ضمنی انتخاب میں پی بی 20 خضدار سے بی این پی کے امیدوار میر جہانزیب مینگل، پی بی 22 لسبیلہ سے مسلم لیگ ن کے امیدوار نوابزادہ زرین مگسی جبکہ پی بی 50 سے عوامی نیشنل پارٹی کے انجنیئر زمرک خان کو سب سے زیادہ ووٹ ملے۔
خیبر پختونخوا کے ضمنی انتخاب اور نتائج
خیبر پختونخوا میں دو قوومی اور دو صوبائی نشستوں پر انتخاب ہوئے جن میں باجوڑ میں ضمنی انتخاب مبارک زیب نے قومی اسمبلی (این اے 8) اور صوبائی اسمبلی (پی کے 22) کی دونوں نشستوں پر واضح کامیابی حاصل کی ہے۔ وہ بطور آزاد امیدوار جیت گئے۔ 8 فروری کے عام انتخابات سے کچھ روز قبل این اے 8 باجوڑ کے امیدوار اور مبارک زیب کے بھائی ریحان زیب کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا جس کی وجہ سے اس حلقے میں الیکشن ملتوی کر دیا گیا تھا۔
قومی اسمبلی کی نشست این اے 44 پر صوبائی وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور کے بھائی فیصل امین گنڈا پور کو کامیابی حاصل ہوئی۔ جبکہ دوسری صوبائی اسمبلی کی نشست کوہاٹ 91 میں پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدوار داؤد آفریدی کامیاب ہوئے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
صوبہ پنجاب کے ضمنی انتخاب میں نتائج کے مطابق کامیاب امیدوار:
صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی پی 147 لاہور میں مسلم لیگ ن کے محمد ریاض
صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی پی 158 لاہور میں مسلم لیگ ن کے چوہدری محمد نواز
صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی پی 164 لاہور میں مسلم لیگ ن کے راشد منہاں
صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی پی 149 لاہور میں استحکام پارٹی کے محمد شعیب صدیق
صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی پی 32 گجرات میں مسلم لیگ ن کے موسی الہٰی کامیاب ہوئے ، ان کا مقابلہ چوہدری پرویز الٰہی سے تھا
صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی پی 139 شیخوپورہ میں مسلم لیگ ن کے رانا افضال حسین
صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی پی 93 بھکر میں مسلم لیگ ن کے سعید اکبر خان
صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی پی 54 نارووال میں مسلم لیگ ن کے احمد اقبل چوہدری۔
صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی پی 36 وزیر آباد میں مسلم لیگ ن کے عدنان افضل چھٹہ
صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی پی 22 چکوال و تلہ گنگ میں مسلم لیگ ن کی فلک شیر اعوان
صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی پی 266 رحیم یار خان میں پیپلز پارٹی پارلیمینٹیریز کے ممتاز علی
مریم نواز کے پنجاب پولیس کی وردی پہننے پر سوال: ’گورنر اور وزیراعلیٰ یونیفارم پہن سکتے ہیں‘
خفیہ اداروں کی مبینہ مداخلت کے خلاف از خود نوٹس پر سماعت کے لیے نیا بینچ تشکیل، ’مداخلت برداشت نہیں کی جائے گی‘, شہزاد ملک، بی بی سی اردو
سپریم کورٹ،
عدلیہ میں خفیہ اداروں کے اہلکاروں کی مبینہ مداخلت کے خلاف سوموٹو پر سماعت کے لیے نیا بینچ تشکیل دے دیا گیا۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں چھ رکنی بینچ 30 اپریل کو سماعت کرے گا۔
جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس اطہر من اللہ، جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس نعیم اختر افغان بھی چھ رکنی بینچ میں شامل ہیں۔
اس سے قبل جسٹس یحیٰ آفریدی نے اپنے تحریری نوٹ میں خود کو بینچ سے الگ کر لیا تھا۔
گذشتہ سماعت کے دوران عدالت نے تمام ہائی کورٹس کے علاوہ پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن سے خفیہ اداروں کی مداخلت روکنے کے لیے تجاویز مانگی تھیں۔
واضح رہے کہ 25 مارچ کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے چھ ججز نے ججز کے کام میں خفیہ ایجنسیوں کی مبینہ مداخلت اور دباؤ میں لانے سے متعلق سپریم جوڈیشل کونسل کو خط لکھا تھا۔
یہ خط اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس طارق محمود جہانگیری، جسٹس بابر ستار، جسٹس سردار اعجاز اسحٰق خان، جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس سمن رفت امتیاز کی جانب سے لکھا گیا۔
’جب سے میں چیف جسٹس بنا ہوں مجھے ایک بھی جج کی مداخلت سے متعلق شکایت موصول نہیں ہوئی ہے‘
کراچی میں سندھ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ واضح کیا ہے کہ عدالتی معاملات میں مداخلت برداشت نہیں کریں گے۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کہا کہ میں ایک چیز کہنا چاہتا ہوں، جب سے میں چیف جسٹس بنا ہوں مجھے ایک بھی جج کی مداخلت سے متعلق شکایت موصول نہیں ہوئی ہے۔
چیف جسٹس نے واضح کیاکہ مداخلت قابل قبول نہیں، لیکن جو بھی واقعات رپورٹ ہوئے وہ ان کے عہدہ سنبھالنے سے قبل کے ہیں۔
آپ کہتے ہیں عمران خان نے یہ پبلک کر دیا، وہ کر دیا، آخر کیا پبلک کیا ہے؟ سائفر تو عدالتی ریکارڈ پر ہی نہیں: چیف جسٹس عامر فاروق, شہزاد ملک، بی بی سی اردو
،تصویر کا ذریعہX/Twitter
اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی جانب سے سائفر مقدمے میں سزا کے خلاف اپیلوں کی سماعت کے دوران سوال اٹھایا ہے کہ سائفر کیس درج ہوا تو کئی دیگر افراد نے بھی سائفر ’کاپیز‘ واپس نہیں کی تھیں، پھر صرف ان دونوں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا مطلب یہ ہے کہ باقی لوگوں کا سائفر پاس رکھنا ٹھیک تھا؟
اس سوال کا جواب دیتے ہوئے ایف آئی اے کے سپیشل پراسیکیوٹر نے جواب دیا باقی شخصیات نے سائفر کاپیز واپس کر دیں تھیں لیکن عمران خان سے متعلق ہمیں معلوم تھا کہ انھوں نے سائفر کاپی گم کر دی ہے۔
انھوں نے کہا کہ سابق وزیر اعظم نے سائفر کاپی دانستہ طور پر اپنے پاس رکھ لی اورکوتاہی برتتے ہوئے واپس نہیں کی۔
انھوں نے کہا کہ عدالت نے دیکھنا ہے کہ سائفر کی کاپی ملزمان کے پاس پہنچی تھیں یا نہیں؟
چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے عمران خان اور شاہ محمد قریشی کی سائفر کیس میں سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت کی۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس نے سوال کیا اس حد تک تو آپ تسلیم کریں گے کہ سائفر کاپی دانستہ واپس نہ کرنے اور غفلت برتتے ہوئے گم کرنے کے الزامات بیک وقت نہیں لگائے جا سکتے تھے۔
ایف آئی اے کے سپیشل پراسیکیوٹر حامد علی شاہ نے کہا عمران خان کے پاس جب سائفر آیا تو انھوں نے دانستہ طور پر اپنے پاس رکھ لیا، پھر کوتاہی برتتے ہوئے سائفر کاپی واپس نہیں کی۔
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ کہتے ہیں عمران خان نے یہ پبلک کر دیا، وہ کر دیا، آخر کیا پبلک کیا ہے؟ سائفر تو عدالتی ریکارڈ پر ہی نہیں ہے۔
جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیے کہ سائفر دستاویز موصول کرنے والا کہاں ہے؟ اسے لازمی طور پر معلوم ہونا چاہیے تھا کہ سائفر پاس رکھ لینے کے کیا نتائج ہیں؟ کیونکہ ’ڈاکیومنٹ‘ تو وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری نے وزیراعظم کو دینا تھا۔
ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہا میں اس متعلق بعد میں عدالت کی معاونت کروں گا۔ ان کا کہنا تھا سائفر ایک قابلِ احتساب ’کلاسیفائیڈ‘ دستاویز ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستانی سفیر اسد مجید نے وزرات خارجہ کو سائفر بھجوایا، جس کی ’ماسٹر کاپی‘ رکھنے والے گواہ نے بتایا کہ ایک کلاسیفائیڈ ڈاکومنٹ تھا۔
سائفر ٹیلی گرام موصول کرنے والے افسر نے بتایا کہ انھوں نے ڈاؤن لوڈ کرکے اس پر نمبر لگایا تھا۔
سائفر کے مصنف نے بیان دیا کہ ایک ملاقات میں بات چیت کو سائفر کی صورت میں لکھا۔
جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے سپیشل پراسیکوٹر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ ایک گواہ یہ کہہ رہا ہے، دوسرا گواہ وہ کہہ رہا ہے، تب مان لیں لیکن ڈاکیومنٹ تو ریکارڈ پر ہی نہیں۔
انھوں نے کہا کہ یہ تو وہی ہو گیا، قتل ہو گیا ڈیڈ باڈی نہیں دکھانی لیکن فلاں یہ کہہ رہا ہے فلاں وہ کہہ رہا ہے۔
پراسیکیوٹر نے کہا سائفر ایک ’کرپٹو فارم‘ میں تھا اور دوسرا اس پر خفیہ دستاویز کا نمبر بھی لگا ہوا تھا۔ سائفر کی موومنٹ سائفر گائیڈ لائن کے مطابق ایک حفاظتی کنٹینر میں ہوتی ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کنٹینر سے کیا مراد ہے؟
پراسیکیوٹر نے بتایا ڈاکیومنٹ ایک کنٹینر میں بھیجا جاتا جو چمڑے سے بنا ایک تھیلہ ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا ’سائفر کاپی اس لیے بھیجی جاتی ہے کہ وہ اس ڈاکیومنٹ کو پڑھ کر ایکشن لینے سے متعلق آگاہ کرے۔ جن کو سائفر کاپیاں واپس کرنے کے لیے کہا گیا تو ان کی جانب سے واپس کردی گئیں۔ وزیر اعظم ہاؤس کی جانب سے سائفر کاپی واپس نہیں آئی۔ ہمیں معلوم تھا کہ سائفر کاپی گم کر دی گئی ہے۔‘
ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے عدالتی استفسار پر بتایا کہ وہ تین سے چار سماعتوں میں دلائل مکمل کر لیں گے، جس کے بعد سماعت 30 اپریل تک ملتوی کر دی گئی۔
موٹر وے پولیس کو تشدد کا نشانہ بنانے کا واقعہ، عدالت کا خاتون ڈرائیور کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم, شہزاد ملک، بی بی سی اردو
،تصویر کا ذریعہSocial Media
راولپنڈی کی مقامی عدالت نے پولیس کی جانب سے موٹر وے پولیس کو تشدد کا بنانے والی خاتون فرح کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کو مسترد کرتے ہوئے انھیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دیا ہے۔
جمعرات کو جب ملزمہ کو سخت سکیورٹی میں مقامی عدالت کے جج ممتاز ہنجرا کی عدالت میں پیش کیا گیا تو اس مقدمے کے تفتیشی افسر نے عدالت سے ملزمہ کے دو دن کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تاہم ملزمہ کے وکیل شاہ خاور نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی موکلہ کسی قتل یا ڈکیتی کے مقدمے میں نامزد ملزم نہیں ہیں کہ ان کا جسمانی ریمانڈ دیا جائے۔
انھوں نے کہا کہ یہ عام لڑائی جھگڑے کا کیس ہے اس میں ملزمہ کا ریمانڈ نہیں بنتا۔
عدالت نے ملزمہ کے وکیل کے دلائل سے متفق ہوتے ہوئے پولیس کی جانب سے ملزمہ کے دو دن کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے ملزمہ کو جیل بھیجنے کا حکم دیا۔
عدالت نے ملزمہ کے وکیل کی درخواست پر فرح کو جیل بھیجنے سے پہلے ان کا طبی معائنہ کروانے کا بھی حکم دیا۔
ملزمہ کے وکیل کا کہنا تھا کہ پولیس نے بُدھ کے روز جب ان کی موکلہ کو اسلام آباد سے گرفتار کیا تو اس دوران انھیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
ملزمہ نے زخموں کے نشانات متعقلہ جج کو بھی دکھائے۔
ملزمہ فرح کو جیل بھیجنے کے عدالتی حکم کے بعد ملزمہ کے وکیل نے اپنی موکلہ کی ضمانت کی درخواست بھی دائر کردی ہے، جس پر عدالت نے پراسیکوشن کو 27 اپریل کے لیے نوٹس جاری کیا ہے۔
لکی مروت میں گرینڈ جرگے کا ’مقتدرہ قوتوں‘ سے علاقے میں ممکنہ فوجی آپریشن سے اجتناب کرنے کا مطالبہ, عزیزاللہ خان، بی بی سی اردو
،تصویر کا ذریعہMuhammad Zubair
خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع لکی مروت میں ممکنہ فوجی آپریشن، علاقے میں جرائم کے شرح میں خطرناک حد تک اضافے اور قتل کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف آج گرینڈ جرگے میں متفقہ طور پر کہا گیا ہے کہ لوگوں میں ممکنہ فوجی آپریشن کا خوف ہے اور اگر فوجی آپریشن کا منصوبہ ہے تو متقدر قوتیں اس سے اجتناب کریں۔
آج لکی مروت شہر میں کاروباری مراکز دکانیں اور مارکیٹیں بند رہیں اور مختلف علاقوں اور قریبی دیہاتوں سے ہزاروں کی تعداد میں لوگ اس جرگے میں شریک ہوئے ہیں۔
اس جرگے میں شریک لوگوں نے سفید جھنڈے اٹھا رکھے تھے جس پر امن لکھا ہوا تھا۔
جرگے سے مقامی عمائدین اور ملکان کے علاوہ منتخب نمائندوں نے خطاب کیا اور علاقے میں بند امنی کی لہر کو انتہائی تشویشناک قرار دیا۔
سابق صوبائی وزیر سلیم سیف اللہ خان نے کہا ہے کہ پوری قوم مطمئن رہے کہ مشران کے ہوتے ہوئے کوئی آپریشن نہیں کرسکتا۔ عوام کی تائید کے بغیر فوج کبھی بھی کامیاب نہیں ہوسکتی اور عوام ضلع لکی مروت میں کسی کو آپریشن کی اجازت نہیں دے سکتے۔
عمائدین نے اپنی تقریروں میں کہا ہے کہ اگر ریاستی ادارے علاقے میں امن و امان کی صورتحال کنٹرول نہیں کرسکتی تو ہمیں اور شرپسند عناصر کو پولیس کے رحم و کرم پر چھوڑ دے۔
پولیس اور عوام مل کر امن و امان قائم کرلیں گے۔
جرگے نے کہا کہ 40 افراد کی موجودگی کو جواز بنا کر علاقے میں آپریشن اور غریب عوام کو بے گھر کرنا کسی صورت قبول نہیں۔
قانون نافذ کرنے والے ادارے علاقے کے مشران کے ساتھ مل کر باہمی مشورے سے کوئی حل نکالیں۔
،تصویر کا ذریعہMuhammad Zubair
اس جرگے میں میں پولیس کی نفری میں اضافے اور انھیں جدید اسلحہ فراہم کرنے کے ساتھ پولیس کو جرائم پیشہ افراد منشیات اور سمگلنگ میں ملوث افراد کے خلاف بھر پور کارروائی کا مطالبہ کیا ہے ۔
لکی مروت، پشاور سے تقریباً 250 کلومیٹر دور جنوب میں انڈس ہائی وے سے میانوالی کی طرف جانے والے شاہراہ پر واقع ہے، جہاں گذشتہ چند ماہ سے تشدد کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔
اس علاقے میں پولیس تھانوں پر مسلحہ گروپوں کے حملوں کے علاوہ پولیس اہلکاروں کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا جا چکا ہے اور شدت پسند تنظیم کی جانب سے متعدد کارروائیوں کی ذمہ داریاں بھی قبول کی گئی ہیں۔
اس کے علاوہ اس علاقے میں شدت پسندوں کی ایسی ویڈیوز بھی سامنے آئی ہیں، جس میں وہ سیکیورٹی اہلکاروں پر حملے کر رہے ہیں یا انھیں دھمکیاں دے رہے ہیں۔
اس علاقے میں کچھ عرصے سے جرائم کی شرح میں بھی اضافہ ہوا ہے اور اب اکثر انڈس ہائی وے پر لکی مروت سے ڈیرہ اسماعیل خان جانے والے راستے پر رات کو مسافر گاڑیوں کی لوٹ مار کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔
یہ شاہراہ ماضی میں انتہائی پر امن رہی ہے اور رات کا سفر کبھی مشکل نہیں رہا لیکن اب آئے روز یہاں مسافر گاڑیوں ٹرکوں اور عام لوگوں کو لوٹا جا رہا ہے۔
لکی مروت سے ایک رستہ پنجاب کے شہر چشمہ سے ہوتے ہوئے میانوالی جاتا ہے جبکہ اس کے علاوہ ایک رستہ پشاور اور بنوں کی طرف جاتا ہے جبکہ انڈس ہائی وے کے رستے ایک رستہ ڈیرہ اسماعیل خان کی جانب جاتا ہے۔
عمران خان اور بشریٰ بی بی عدلیہ، فوج اور آرمی چیف کے خلاف بیانات دے سکتے ہیں اور نہ میڈیا انھیں رپورٹ کر سکتا ہے: احتساب عدالت, شہزاد ملک، بی بی سی اردو
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسلام آباد کی احتساب عدالت نے سابق وزیر اعظم عمران خان اور اُن کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو مقدمے کی سماعت کے دوران ریاستی اداروں اور ان کے حکام کے خلاف بیان دینے سے روک دیا ہے۔ عدالت نے دوران ٹرائل کمرہ عدالت میں ریاستی اداروں اور ان کے آفیشلز کے خلاف اشارتاً بات کرنے سے بھی روک دیا۔
اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو ریاستی اداروں اور ان کے آفیشلز کے خلاف بیان بازی سے روکتے ہوئے حکم نامہ جاری کیا ہے جس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ میڈیا سیاسی اشتعال انگیز بیانیے جو ریاستی اداروں اور ان کے آفیشلز کو ’ٹارگٹ‘ کرتے ہوں، وہ شائع کرنے سے گریز کرے۔
احتساب عدالت نے اپنے حکم میں مزید کیا کہا؟
احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے فئیر ٹرائل سے متعلق درخواست پر حکم جاری کیا جس کے مطابق الزام ہے کہ بانی پی ٹی آئی نے اڈیالہ جیل میں سماعت کے دوران میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو میں ریاستی اداروں کی قابل عزت شخصیت کے خلاف سیاسی، اشتعال انگیز، متعصبانہ بیانات دیے۔
اس کے علاوہ عدلیہ، فوج اور آرمی چیف کے حوالے سے بیانات عدالتی ڈیکورم میں خلل ڈالنے کے مترادف ہیں۔
ایسے بیانات انصاف کی فراہمی کے عمل میں بھی رکاوٹ کا سبب بنتے ہیں۔ اس درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کورٹ ڈیکورم اور فئیر ٹرائل کے تقاضوں کا خیال رکھنا عدالت کی ذمہ داری ہے۔
اس درخواست پر عدالتی حکم میں کہا گیا ہے کہ جیل حکام جیل میں عدالت کو عید سے پہلے کی پوزیشن پر بحال کریں اور اس کے ساتھ ساتھ ریاستی اداروں اور ان کے آفیشلز کے حوالے سے اشارے سے بھی ملزمان سیاسی ، اشتعال انگیز، متعصبانہ بیانات نہیں دیں گے۔
اس عدالتی حکم میں کہا گیا ہے کہ میڈیا اپنی رپورٹنگ کو عدالتی ’پروسیڈنگ‘ کی حد تک محدود رکھے گا اور ٹرائل کی عدالتی کارروائی کے درمیان دیے جانے والے ملزمان کے بیانات میڈیا رپورٹ نہیں کرے گا۔
اس عدالتی حکم میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پراسیکیوشن، ملزمان اور ان کے وکلا دوران سماعت اشتعال انگیز، سیاسی، متعصبانہ بیان نہیں دیں گے، جو کورٹ ڈیکورم مجروح کریں۔
ممبرز اور دوسرے وکلا مشیر جو کورٹ میں موجود ہوتے ہیں۔ وہ بھی ایسی بیان بازی نہیں کریں گے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ یہ آرڈر پیمرا گائیڈ لائن کے ساتھ مشروط ہے، جس کے تحت زیر التوا کیسز پر بات کرنا ممنوع ہے۔
’پیمرا کوڈ آف کنڈکٹ کے مطابق ملزم کا سیاسی بیان لیگل رپورٹنگ میں نہیں آتا ہے۔‘
نسلہ ٹاور کی زمین نیلام کر کے رقم متاثرین میں تقسیم کی جائے: سپریم کورٹ, ریاض سہیل بی بی سی اردو، کراچی
سپریم کورٹ نے نسلہ ٹاور کی زمین فروخت کر کے ’الاٹیز‘ کو معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ تمام تر قانونی تقاضوں کو پورا کر کے زمین کی
رقم متاثرین کو فراہم کی جائے۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے بینچ نے عدالتی حکم پرعمل درآمد کر کے رپورٹ سپریم کورٹ میں
پیش کرنے کی ہداہت کی ہے۔
متاثرین کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ بلڈر عبدالقادر فوت ہو چکے ہیں۔ تاحال متاثرین کو معاوضہ نہیں مل سکا ہے۔ ایڈوکیٹ شہاب سرکی نے کہا کہ عدالت نے 44 متاثرین
کو معاوضہ ادائیگی کا حکم دیا تھا۔
عدالت نے کہا ہے کہ نسلہ ٹاور کے متاثرین ملکیت کے دستاویزی شواہد
کے ساتھ حکام سے رابطہ کریں۔ عدالت نے متعلقہ حکام کو نسلہ ٹاور کے پلاٹ کی ’مارکیٹ ویلیو‘ سے متعلق بھی
رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔
عدالت نے نسلہ ٹاور کی زمین فروخت کا اشتہار شائع کرانے
کا حکم بھی دے دیا۔ عدالت نے کہا ہے کہ نیلامی میں آنے والی بولی کی بھی رپورٹ عدالت میں
پیش کی جائے۔
دوران سماعت سندھ کے ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ کمشنر نے زمین تحویل میں لے کر کارروائی مکمل
کرکے رپورٹ جمع کرادی تھی۔
اس سے قبل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ عدالتی حکم پرنسلہ ٹاور منہدم کردیا گیا تھا۔عدالتی حکم پر مکمل عمل درآمد ہو گیا۔ چیف جسٹس کے استفسار پر انھوں نے بتایا کہ نسلہ ٹاور کی زمین اس وقت سرکاری تحویل میں ہے۔
متاثرین کے وکیل نے کہا کہ عدالت نے حکم دیا تھا پلاٹ فروخت کرکے متاثرین
کو معاوضہ ادا کیا جائے۔ عدالت نے نسلہ ٹاور سے ملحقہ 240 گز کا پلاٹ بھی فروخت
کر کے متاثرین کو رقم دینے کی بھی ہدایت کی تھی۔
عدالت نے سندھی مسلم کوآپریٹیو سوسائٹی کو نوٹس
جاری کرتے ہوئے نسلہ ٹاور سے ملحقہ پلاٹ کے حوالے سے تفصیلی
رپورٹ طلب کر لی۔
سندھی مسلم سوسائٹی کو نسلہ ٹاور کے فوت ہونے
والے بلڈر کے ورثا کی تفصیلات بھی طلب کرلی ہیں۔
بریکنگ, سپریم کورٹ نے سپیکر بلوچستان اسمبلی عبدالخالق اچکزئی کو بحال کر دیا
،تصویر کا ذریعہGetty Images
سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کا سپیکر کی معطلی کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا ہے۔
پی بی 51 چمن کے 12 پولنگ سٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کا الیکشن کمیشن کا حکم بھی کالعدم قرار دے دیا گیا ہے۔
عدالت نے تمام امیدواروں کی رضامندی سے معاملہ دوبارہ الیکشن کمیشن کو بھجوا دیا۔
سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ ’الیکشن کمیشن تمام امیدواروں کو سن کر 10 روز میں فیصلہ کرے۔
الیکشن کمیشن نے مخالف امیدوار اصغر خان اچکزئی کی درخواست پر دوبارہ پولنگ کا حکم دیا تھا۔ الیکشن کمیشن نے دوبارہ پولنگ کا حکم دیتے ہوئے سپیکر کی کامیابی کا نوٹیفیکیشن واپس لے لیا تھا۔ مسلم لیگ ن کے رہنما عبدالخاق اچکزئی نے الیکشن کمیشن کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی۔
سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران جسٹس امین الدین خان نے استفسار کیا کہ ’کس ضابطے کے تحت الیکشن کمیشن نے 12 پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ الیکشن کا حکم دیا۔ الیکشن کمیشن نے نہ تو انکوائری کی نہ ہی کوئی اصول دیکھا۔ ‘
جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ ’الیکشن کمیشن نے 12 پولنگ سٹیشنز کو دیکھا مگر دیگر کو نظر انداز کر دیا،۔
ڈی جی لا الیکشن کمین نے عدالت کو بتایا کہ’جن 12 پولنگ اسٹیشنز پر زیادہ ٹرن آوٹ کی درخواست کی گئی صرف انہی کو دیکھا۔‘
سماعت کے موقعے پر جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ’الیکشن کمیشن کو تو پورے حلقے کی دوبارہ انکوائری کروانا چاہیے تھی، اگر الیکشن کمیشن اپنا کام کر لیتا تو لوگوں کو عدالت نہ آنا پڑتا۔‘
پی ٹی آئی رہنماؤں کی رہائی کے لیے ڈیل نہیں کرے گی: یاسمین راشد
انسداد دھشتگردی عدالت کی عدالتی کے باہر پی ٹی آئی رہنما ڈاکٹر یاسمین راشد کی میڈیا سے غیر رسمی گفتگو میں کہا ہے کہ مسلم لیگ نون کے لیڈر رہائی کیلئے ڈیل کرتے ہیں پی ٹی آئی ڈیل نہیں کرے گی۔
انھوں نے کہا کہ ’رانا ثناء اللہ ہمیں ڈیل کا مشورہ نہ دیں۔ اگر ہمیں ڈیل کرنی ہوتی تو اب تک ہم رہا ہو چکے ہوتے۔ ہمارا لیڈر رہائی کیلئے ڈیل نہیں کرے گا اس کی یہی بات تو اچھی ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم نے ڈیل کرنی ہوتی تو ہم ایک سال سے جیل نہ کاٹ رہے ہوتے،‘
انھوں نے کہا کہ ’میری ضمانت کی درخواستوں پر پراسیکیوشن کارروائی نہیں ہونے دے رہی۔ کئی ماہ سے میری ضمانت کی درخواستوں پر فیصلہ نہیں ہو رہا۔
انھوں نے پی ٹی آئی کی خاتون کارکنوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ’صنم جاوید اور عالیہ حمزہ نے پی ٹی آئی کو چار چاند لگا دیے ہیں۔ صنم جاوید اور عالیہ حمزہ مزاحمت کی علامت بن گئی ہیں۔ جیل کی سختیاں صنم جاوید اور عالیہ حمزہ کا جزبہ کم نہیں کر سکیں۔‘
پی ٹی آئی رہنما ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا تھا کہ ’صنم جاوید آج بھی سرگودھا جیل سے مسکراتی ہورہی عدالت میں پیش ہوئیں۔‘
انھوں نے وزیر اعلی پنجاب کو مخاطب کر کے کہا کہ ’مریم نواز آپ کو مبارک ہو آپ پولیس میں بھرتی ہو گئی ہیں۔ اگر آپ بھرتی نہیں ہوئی تو پولیس کی یونیفارم پہننا جرم ہے۔ پولیس کی یونیفارم پہننے کی قانون میں سزا ہے۔ مریم نواز کیخلاف کاروائی ہونی چاہیے۔‘
قصور ویڈیو سکینڈل: لاہور ہائیکورٹ نے عمر قید پانے والے دو مجرمان کو رہا کرنے کا حکم دے دیا
،تصویر کا ذریعہReuters
لاہور ہائیکورٹ نے قصور ویڈیو سکینڈل میں عمر قید کی سزا پانے والے دو مجرمان کی اپیلوں کو منظور کرتے ہوئے انھیں رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔
جسٹس شہرام سرور چوہدری کی سربراہی میں ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ نے اپیلوں پر فیصلہ سنایا جس کے دوران مجرموں کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ گواہوں کے بیانات اور میڈیکل رپورٹ میں بھی تضاد ہے۔
مجرمان کے وکلا کے مطابق مقدمہ کے مدعی بیان دے چکا ہے کہ یہ انکے ملزم نہیں ہیں اور اسی بنا پر مجرمان کو بری کر دیا جانا چاہیے۔
سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ مجرمان کو عمر قید کی سزا قانون کے مطابق ہوئی اسی لیے عدالت اپیلوں کو مسترد کرے۔
تاہم عدالت نے ملزم حسیم عامر اور فیضان مجید کی اپیلوں کو منظور کرتے ہوئے دونوں کو رہا کرنے کا حکم دے دیا۔
تاہم حال ہی میں لاہور ہائیکورٹ کے ایک دو رکنی بینچ نے قصور ویڈیوز سکینڈل کے تین مجرمان کی سزاؤں کے خلاف اپیلیں منظور کرتے ہوئے ان کی عمر قید کی سزا کو کالعدم قرار دیا تھا اور انھیں بری کرنے کا حکم جاری کر دیا تھا۔
اس عدالتی فیصلے میں کہا گیا تھا کہ وکیل استغاثہ نے تینوں پر الزام عائد کیا کہ انھوں نے بچے کے ساتھ بدفعلی کی ویڈیو بنائی اور اسے بلیک میل کیا تاہم مقدمے کی کارروائی کے دوران وکیل استغاثہ ایسی کوئی مصدقہ ویڈیو عدالت میں پیش نہیں کر سکے جس سے ملزمان کی تصدیق ہوتی ہو۔
بلوچستان میں کوئلے کی کانوں میں حادثات، پانچ کان کن ہلاک, محمد کاظم، نامہ نگار بی بی سی اردو کوئٹہ
بلوچستان کے دو مختلف علاقوں میں کوئلے کی کانوں میں پیش آنے والے حادثات میں پانچ کان کن ہلاک ہو گئے ہیں۔
یہ حادثات دکی اور ہرنانی میں واقع کانوں میں پیش آئے۔
دکی پولیس کے ایک اہلکار احمد جان نے بی بی سی کو فون پر بتایا کہ حادثہ ایک نجی کان میں زہریلی گیس بھرنے کے باعث پیش آیا جس سے تین کان کن ہلاک ہوئے۔
ان کا کہنا تھا کہ تینوں ہلاک شدگان کا تعلق افغانستان سے تھا۔
دوسرا حادثہ ضلع ہرنائی کے علاقے شاہرگ میں ایک نجی کان پیش آیا۔ ہرنائی میں لیویز فورس کے ایک اہلکار کے مطابق یہاں بھی ہلاکتیں گیس کے باعث دم گھٹنے سے ہی ہوئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ شاہرگ میں ہلاک ہونے والے کانکنوں کا تعلق بلوچستان کے ضلع پشین سے تھا۔
پاکستان میں کوئلے کی کانوں میں حادثات کے واقعات تسلسل سے پیش آتے رہتے ہیں اور گذشتہ چند برسوں کے دوران ان میں درجنوں کان کن ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان حادثات کی بنیادی وجہ حفاظتی انتظامات کے فقدان کو قرار دیا جاتا ہے۔
اسلام آباد میں نان اور روٹی کی قیمتوں میں کمی کا فیصلہ معطل
اسلام آباد ہائیکورٹ نے دارالحکومت میں نان اور روٹی کی قیمت میں کمی کا حکم نامہ چھ مئی تک معطل کر دیا ہے۔
جمعرات کو جسٹس طارق محمود جہانگیری پر مشتمل ایک رکنی بینچ نے نان بائی ویلفیئر ایسوسی ایشن کے صدر کی درخواست پر سماعت کے دوران یہ حکم دیا۔
دوران سماعت جسٹس طارق محمود جہانگیری نے ضلعی انتظامیہ پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’کیا تندور والوں سے پوچھا گیا کہ آٹا کتنے کا آرہا ہے بس لوگوں کو خوش کرنے کے لیے حکم جاری کر دیا۔‘
اس نوٹیفیکیشن کے تحت 120 گرام وزن کی روٹی کی قیمت 16 روپے جبکہ 120 گرام کے نان کی قیمت 20 روپے مقرر کی گئی تھی۔
بلوچستان اسمبلی کی نشست پی بی 9 کے چار پولنگ سٹیشنوں پر امن و امان کی خراب صورتحال کے باعث ری پولنگ نہ ہو سکی
بلوچسان اسمبلی کی نشست پی بی 9 کوہلو کے 4 پولنگ سٹیشنوں پر امن و امان کی خراب صورتحال کی وجہ سے بدھ کو ری پولنگ نہیں ہو سکی۔
ڈپٹی کمشنر کوہلو نقیب اللہ کاکڑ نے بتایا کہ نامعلوم مسلح افراد کے حملوں کی وجہ سے پولنگ کا عملہ پولنگ اسٹیشنوں تک نہیں پہنچ سکا۔
اس نشست پر مسلم لیگ ن کے امیدوار نوابزادہ جنگیز مری کو کامیاب قرار دیا گیا تھا۔
تاہم پیپلز پارٹی کے امیدوار میر نصیب اللہ مری کی درخواست پر الیکشن کمیشن نے اس نشست کی تحصیل کاہان میں نیسائو کے چار پولنگ سٹیشنوں غیر فطری شرح ووٹ کی وجہ سے دوبارہ پولنگ کا حکم کا دیا تھا۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے ری پولنگ کے لیے 24اپریل کی تاریخ مقرر کی گئی تھی۔
کوہلو میں لیویز فورس کے ایک سینیئر اہلکار نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ گزشتہ روز سے نامعلوم افراد نے اس علاقے میں حملوں کا سلسلہ شروع کیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ منگل کے روزفائرنگ اور راکٹ حملوں میں پیپلز پارٹی کا ایک حامی ہلاک ہوا تھا جن کی شناخت گل خان مری کے نام سے ہوئی۔
انھوں نے بتایا کہ جب بدھ کی صبح پولنگ کا عملہ اور انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کے پولنگ ایجنٹوں اور دیگر حامیوں کے ہمراہ بارکھان سے نیسائو جانے کے لیے کوہلو میں داخل ہوئے تو نہاڑ کے علاقے میں ایک بارودی سرنگ پھٹ گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ بارودی سرنگ کے دھماکے میں ایک قبائلی رہنما کے گاڑی کو نقصان پہنچا تاہم اس میں کوئی جانی نقصان ہیں ہوا۔
انھوں نے بتایا کہ ایک بارودی سرنگ کو لیویز فورس کے عملے نے ناکارہ بنادیا تاہم راستے میں دیگر بارودی سرنگوں کی موجودگی کے باعث پولنگ کا عملہ پولنگ اسٹیشنوں تک نہیں پہنچ سکا۔
ان کا کہنا تھا کہ فائرنگ کے علاوہ پولنگ اسٹیشنوں پر راکٹوں سے بھی عملے ہوئے جن میں سے پانچ راکٹ پولنگ اسٹیشنوں کے قریب گرے لیکن ان میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
کوہلو سے فون پر بی بی سی کو پیپلز پارٹی کے امیدوار میر نصیب اللہ مری نے بتایا کہ پولنگ کا عملہ نیسائو تک نہیں پہنچ سکا۔
ان کا کہنا تھا کہ شام چار بجے تک انتظار کے بعد پولنگ کا عملہ بارکھان کے راستے واپس کوہلو کی جانب روانہ ہوا۔
انھوں نے بتایا کہ پولنگ اسٹیشنوں کے پریزائیڈنگ آفیسروں نے بھی لکھ کر دیا ہے کہ وہ اس صورتحال میں الیکشن نہیں کراسکتے۔
انھوں نے بتایا کہ اب دیکھنا یہ ہے کہ الیکشن کمیشن دوبارہ ری پولنگ کےلئے کونسی تاریخ دے گی۔
رابطہ کرنے پر ڈپٹی کمشنر کوہلو نقیب اللہ کاکڑ نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ پولنگ کا عملہ پولنگ اسٹیشنوں تک نہیں پہنچ سکا جس کی وجہ سے چاروں پولنگ اسٹیشنوں پر پولنگ نہیں ہوسکی۔
کوہلو کا شمار بلوچستان کے ان علاقوں میں ہوتا ہے جو کہ شورش سے زیادہ متائثر ہیں۔
بلوچستان کے شورش سے متائثرہ دیگر علاقوں کی طرح کوہلو میں بھی عسکریت پسند تنظیمیں انتخابی عمل کی مخالفت کرتی رہی ہیں ۔
اگرچہ تاحال کوہلو سے بلوچستان اسمبلی کی نشست کے چار پولنگ اسٹیشنوں پر ری پولنگ کے موقع پر حملوں کی تاحال کسی نے ذمہ داری قبول نہیں کی ہے تاہم ماضی میں ان حملوں کی ذمہ داری کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کی جانب سے قبول کی جاتی رہی ہیں۔