سلامتی کونسل میں اسرائیل سے غزہ میں مزید کارروائی روکنے کا مطالبہ، نتن یاہو کا اپنے فیصلے کا دفاع
اسرائیل کی جانب سے غزہ جنگ کے توسیعی منصوبے کی منظوری کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر غور کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس جاری ہے تاہم اسرائیلی وزیراعظم نے کہا ہے کہ یہ منصوبہ واحد آپشن ہے۔
خلاصہ
ہم غزہ میں نہیں رہنا چاہتے، ہمارا ہدف ہے کہ حماس وہاں نہ رہے: نتن یاہو
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے غزہ میں امریکی کوششوں کو کمزور کیا ہے: امریکی سفیر
اسرائیل کا فیصلہ مزید خونریزی کا راستہ ہے، ہمیں خطرے کی گھنٹی بجانے کی ضرورت ہے: برطانیہ اور فرانس کا انتباہ
نتن یاہو کے غزہ پر مکمل قبضے کے فیصلے کے خلاف اسرائیلی عوام کا احتجاج: 'ہم جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں'
آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا امریکہ کا سرکاری دورہ اور اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں
'جو بھی ریاست سے بات کرنا چاہتا ہے، ہتھیار ڈال کر آئے، گلے لگائیں گے': وزیراعلیٰ بلوچستان
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر پوتن آئندہ جمعے کو امریکی ریاست الاسکا میں ملاقات کریں گے۔
جرمنی نے اسرائیل کو ہتھیاروں کی فروخت روک دی: 'ایسا فوجی سامان برآمد نہیں کیا جائے گا جو غزہ میں استعمال ہو سکے'
لائیو کوریج
اسرائیل کے لیے ہتھیاروں کی سپلائی روکنے کا جرمن فیصلہ کیوں اہم ہے؟, بیتھی بیل، نامہ نگار برائے بی بی سی
جرمنی جو کہ اسرائیل کو ہتھیار سپلائی کرنے والا ایک بڑا ملک ہے اور اسرائیل کو ہمیشہ برلن کی سفارتی حمایت بھی حاصل رہی ہے جسے اکثر ہولوکاسٹ کی وجہ سے اس کی تاریخی ذمہ داری بھی سمجھا جاتا ہے۔
جون میں نیٹو کے اجلاس سے پہلے جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے کہا کہ ہمارا مقصد اسرائیل کا دفاع ہے۔ ایسے میں اب اسرائیل کو ہتھیاروں کی سپلائی روکنا جو غزہ جنگ میں استعمال ہو سکتے ہیں ایک بڑا قدم ہے۔
خیال رہے کہ امریکہ کے بعد جرمنی اسرائیل کو ہتھیار برآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔
سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق سنہ 2020 سے 2024 کے دوران اسرائیل نے 33 فیصد ہتھیار جرمنی سے اور 66 فیصد امریکہ سے درامد کیے تھے۔
ان میں بنیادی طور پر بحری سازوسامان (فریگیٹ، تارپیڈو) تھا لیکن بکتر بند ٹرک ، ٹینک شکن ہتھیار اور گولہ بارود بھی شامل تھا۔
جرمنی نے اسرائیل کو ہتھیاروں کی فروخت روک دی: ’ایسا فوجی سامان برآمد نہیں کیا جائے گا جو غزہ میں استعمال ہو سکے‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
جرمنی نے اسرائیل کو ہتھیاروں کی برآمد روکنے کا اعلان کیا ہے۔
خیال رہے کہ جرمنی تاریخی طور پر اسرائیل کو ہتھیاروں کی سپلائی کرنے والے بڑے ممالک میں شامل ہے۔
جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے نے جمعے کو کہا کہ ان کا ملک اسرائیل کو ہتھیاروں کی فروخت روک دے گا ۔ ان کا کہنا ہے کہ غزہ سٹی پر اسرائیلی قبضے کے منصوبے کی منظوری کے بعد جرمن ہتھیار غزہ کی پٹی پر استعمال ہو سکتے ہیں۔
جرمن چانسلر کا کہنا ہے کہ تاحکم ثانی حکومت اسرائیل کو کوئی بھی فوجی ہتھیار برآمد کرنے کی منظوری نہیں دے گی جنھیں غزہ میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔
فریڈرک مرز کا کہنا ہے کہ یہ سمجھنا بہت مشکل ہوتا جا رہا ہے کہ موجودہ حالات میں اسرائیلی فوج کا منصوبہ کیسے ان کو جائز مقاصد دلوانے میں مدد دے سکتا ہے۔
عمر ایوب کی نااہلی کے بعد قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کی نشست خالی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پی ٹی آئی کے رہنما عمر ایوب کی نااہلی کے بعد قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کی نشت بھی خالی ہو گئی ہے۔
اس حوالے سے قومی اسمبلی سیکریٹریٹ سے نوٹیفکشین جاری ہوا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ پانچ اگست کو قومی اسمبلی کی نشست این اے 18 ہری پور سے منتخب امیدوار عمر ایوب کو الیکشن کمیشن نے نااہل قرار دیا تھا جس کے بعد لیڈر آف اپوزیشن کی نشست خالی ہو گئی ہے۔
پی ٹی آئی کے 39 اراکین اب بھی ایوان میں موجود ہیں اور سپیکر اسمبلی اپوزیشن کو اپنا نمائندہ منتخب کرنے کے لیے خط لکھیں گے۔
تاہم اگر عمر ایوب اپنی نااہلی کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل دائر کریں گے تو اس فیصلے پر عملدرآمد روک دیا جائےگا۔
دوسری صورت میں پی ٹی آئی ایک متفقہ نام سپیکر کو بھجوا سکتی ہے جسے نیا اپوزیشن لیڈر بنا دیا جائے گا۔
خیال رہے کہ فیصل آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے 9 مئی کے مقدمات کا فیصلہ سناتے ہوئے عمر ایوب، شبلی فراز اور زرتاج گل سمیت پی ٹی آئی کے 196 رہنماؤں اور کارکنوں کو 10 سال تک قید کی سزائیں سنائی تھیں۔
اس کے بعد الیکشن کمیشن نے سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر شبلی فراز اور قائد حزب اختلاف قومی اسمبلی عمر ایوب سمیت نو ارکان اسمبلی اور سینیٹر کو نااہل قرار دے دیا تھا۔
بنوں کے علاقے ہوید میں کرفیو، دہشت گردوں کے ِخلاف فورسز کا آپریشن جاری, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردوڈاٹ کام، پشاور
بنوں کے علاقے ہوید میں دہشت گردوں کے خلاف سکیورٹی فورسز اور پولیس کا مشترکہ سرچ اینڈ ٹارگیٹڈ آپریشن جاری ہے۔
آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز اور پولیس اہلکاروں نے علاقے کو مکمل گھیرے میں لے رکھا ہے اور گھر گھر تلاشی کا سلسلہ جاری ہے اور علاقے میں کرفیو نافذ ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ’کسی بھی مشتبہ سرگرمی یا مزاحمت کی صورت میں فوری اور مؤثر کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے تاکہ دہشتگردوں کو فرار یا پناہ کا کوئی موقع نہ مل سکے۔‘
اپنے پیغام میں حکام نے خبردار کیا ہے کہ دہشتگردوں کو کسی بھی قسم کی سہولت یا مدد فراہم کرنا سنگین جرم ہے، اور ایسے عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
گلگت بلتستان: ہنزہ میں دریائی کٹاؤ سے شاہراہ ریشم کا ایک حصہ متاثر, محمد زبیر خان، صحافی
،تصویر کا کیپشنشیشپر گلیشیئر کے اس مقام کو ’سناؤٹ‘ کہتے ہیں
گلگت بلتستان کے علاقے ہنزہ میں اس وقت دریاؤں میں پانی کا بہاؤ مختلف مقامات پر زیادہ ہونے کی وجہ سے کچھ مقامات پر زمینی کٹاؤ جاری ہے جبکہ ہنزہ کے شیشپئر گلیشیئرمیں گلوف کی صورتحال پیدا ہوئی اور پانی کے بہاؤ سے شاہراہ قراقرم کا ایک حصہ متاثر ہوا ہے۔
گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان فیض اللہ فراق کے مطابق ہنزہ کے علاقے مورخون میں دریائی کٹاؤ سے شاہراہ ریشم کا ایک حصہ بہنے سے شاہراہ بند ہوئی ہے۔
امدادی اداروں کو روڈ کی بحالی کے لیے روانہ کردیا گیا ہے۔
ہنزہ ڈیزاسٹر مینجنٹ کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر محمد زبیر کے مطابق اس موسم میں دریاؤں میں پانی کا بہاؤ تیز ہونا اور اس کے نتیجے میں زمین کا کٹاؤ ہونا زیادہ غیر معمولی بات نہیں ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’اس سے مختلف مقامات پر زمین کا کٹاؤ ہورہا ہے۔ جس پر نظر رکھی جارہی ہے۔ ‘
محمد زبیر کے مطابق احسن آباد کے مقام پر شیشپئر گلیشیئر کی جھیل سے دوبارہ سیلابی صورتحال پیدا ہوئی ہے۔ یہ وہ ہی جھیل اور گلیشیئر ہے جس کی وجہ سے کچھ عرصے قبل سیلابی صورتحال سے شاہراہ قراقرم کا بڑا حصہ تباہ ہوا تھا اور اس کی تباہ حصے پر دوبارہ پل تعمیر کیا گیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ تاہم اس دفعہ روڈ بلاک نہیں ہوا ہے اور ٹریفک جاری ہے۔ تاہم کچھ گھروں کے مکینوں کو وہاں سے منتقل کیا جارہا ہے کیونکہ ممکنہ طو ردوبارہ بھی سیلابی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے اور اس سے زیادہ نقصان بھی ہوسکتا ہے۔
حالیہ واقعے سے زرعی زمینوں کو کافی نقصان پہنچا ہے۔
اسرائیل کا غزہ میں جارحیت میں اضافے کا فیصلہ غلط ،اس سے مزید خونریزی ہو گی: برطانوی وزیر اعظم
،تصویر کا ذریعہGetty Images
برطانوی وزیر اعظم سر کیر سٹارمر نے اسرائیلی سکیورٹی کابینہ کے غزہ میں حملوں کو مزید تیز کرنے کے فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے نیتن یاہو کی حکومت سے فوری طور پر اس فیصلے پر نظر ثانی کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
وزیر اعظم کیئر سٹارمر نے کہا کہ یہ کارروائی اس تنازع کو ختم کرنے یا یرغمالیوں کو آزاد کرنے میں مددگار نہیں ہو گی بلکہ اس سے محض خونریزی میں اضافہ ہو گا۔‘
یاد رہے کہ اسرائیل کی سکیورٹی کابینہ نے غزہ شہر پر قبضے کے نیتن یاہو کے منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے دفتر سے جاری بیان میں غزہ شہر پر قبضے کے منظور شدہ منصوبوں اور جنگ کے خاتمے کے لیے پانچ اصولوں کی تفصیل دی گئی ہے جسے سکیورٹی کابینہ نے اکثریتی ووٹ سے منظور کیا ہے۔
برطانوی وزیر اعظم نے مزید کہا کہ ’غزہ میں ہر روز انسانی بحران سنگین ہوتا جا رہا ہے اور حماس کے یرغمالیوں کو خوفناک اور غیر انسانی حالات میں رکھا جا رہا ہے۔ ہمیں جنگ بندی، انسانی امداد میں اضافہ، تمام یرغمالیوں کی رہائی اور مذاکراتی حل کی ضرورت ہے۔ حماس غزہ کے مستقبل میں کوئی کردار ادا نہیں کر سکتی اور اسے غیر مسلح ہونا چاہیے۔‘
برطانوی وزیر اعظم کے مطابق ’ہم اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر، دو ریاستی حل کے حصے کے طور پر خطے میں امن کو محفوظ بنانے اور بالآخر فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے لیے ایک روشن مستقبل کے حصول کے لیے ایک طویل المدتی منصوبے پر کام کر رہے ہیں۔ لیکن مذاکرات میں شامل ہونے کے لیے فریقین کی خیر سگالی کے بغیر، یہ نقطہ نظر پورا ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ہمارا پیغام واضح ہے۔ ایک سفارتی حل ممکن ہے، لیکن دونوں فریقوں کو تباہی کے راستے سے پیچھے ہٹنا چاہیے۔‘
دوسری جانب اسرائیلی اپوزیشن لیڈر یائر لیپڈ کا کہنا ہے کہ غزہ شہر پر قبضے کا سیکیورٹی کابینہ کا فیصلہ ایک ’تباہی‘ ہے جو ’مزید تباہی کا باعث بنے گی۔‘
ان کاکہنا ہے کہ غزہ شہر پر قبضہ باقی یرغمالیوں کی ہلاکت اور بہت سے اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کا باعث بنے گا۔
سپریم کورٹ : بحریہ ٹاون کی جائیدادوں کی نیلامی کے خلاف فوری حکم امتناع کی استدعا مسترد, شہزاد ملک/ بی بی سی اردو، اسلام آباد
،تصویر کا ذریعہGetty Images
سپریم کورٹ نے نجی ہاؤسنگ سوسائٹی بحریہ ٹاون کی جائیدادوں کی نیلامی کے خلاف درخواست پر فوری حکم امتناع کی استدعا
مسترد کردی ہے۔
دوران سماعت عدالت کا کہنا تھا کہ پورے
کیس کو سنے بغیر کیسے حکم امتناع دے سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ جمعرات کو بحریہ ٹاؤن کی چھ کمرشل پراپرٹیز کی نیلامی کی تقریب کے دوران ایک پراپرٹی کی نیلامی کامیاب ہوئی ہے۔
پاکستان کے قومی احتساب بیورو (نیب) نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ روبیش مارکی نامی پراپرٹی کو 50 کروڑ 80 لاکھ روپے میں نیلام کیا گیا ہے اور یہ قیمت ریزرو پرائس سے دو کروڑ روپے زیادہ ہے۔
جمعے کے روز جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے بحریہ ٹاؤن کی اپیل کی سماعت کی۔
بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ
مرکزی کے بجائے صرف متفرق درخواستیں سماعت کے لیے مقرر ہیں اور مرکزی کیس سنے بغیر متفرق درخواستیں کیسے سنی جاسکتی ہیں۔
بحریہ ٹاؤن کے وکیل فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا کہ مجھے رات بارہ بجے بتایا گیا کہ کیس مقرر ہوگیا ہے۔ ابھی تک اس کیس کے مقرر ہونے کی کاز لسٹ ویب سائٹ پر بھی جاری نہیں ہوئی۔
عدالت نے بحریہ ٹاون کے وکیل کو کیس سے متعلق مزید دستاویزات جمع کرانے کی ہدایت کردی۔
’پلی بارگین زیر سماعت ہے اور یہاں تیزی میں جائیدادوں کی نیلامی کی جا رہی ہے‘
اس تین رکنی بینچ میں موجود جسٹس نعیم اختر افغان کا کہنا تھا کہ ریفرنسز کی کاپیاں ہمارے سامنے نہیں ہے اور بحریہ ٹاؤن کا کیس تین نیب ریفرنسز پر مشتمل ہے۔
جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا
کہ درخواست کے ساتھ ان تین ریفرنسز کی کاپیاں بھی لگائیں تاکہ پتہ چلے کہ اصل غبن کیا ہے۔
بحریہ ٹاؤن کے وکیل کا کہنا تھا کہ میں تمام دستاویزات کل تک جمع کر دیتا ہوں۔
جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ پلی بارگین کےلیے نیب کا قانون کہتا ہے کہ اگر ملزم اسے چیلنج کرے تو غیر فعال ہو جاتی ہے اور موجودہ کیس میں ملزم نے پلی بارگین چیلنج کر رکھی ہے۔
انھوں نے ریمارکس دیے کہ پلی بارگین زیر سماعت ہے اور یہاں تیزی میں جائیدادوں کی نیلامی کی جا رہی ہے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنجمعے کے روز عدالت نے بحریہ ٹاون کے وکیل کو کیس سے متعلق مزید دستاویزات جمع کرانے کی ہدایت کردی
سماعت کے دوران جسٹس نعیم افغان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب ریفرنسز کی کاپیاں بھی اپیلوں کے ساتھ لگائیں تاکہ معلوم ہو اصل غبن کیا ہے۔
جسٹس نعیم اختر نے کہا ملزمان نے نیب کے ساتھ پلی بارگین کی تھی۔ پلی بارگین میں آٹھ پراپرٹیز نیب کو دی گئیں۔ اب ملزم کا بیان ہے پلی بارگین رضاکارانہ نہیں دباؤ کے تحت تھا۔
جسٹس نعیم افغان کا کہنا تھا کہ ملزم نے پلی بارگین ختم کرنے کی درخواست چیئرمین نیب کو دے دی ہے اور پلی بارگین ختم کرنے کی درخواست کے بعد کیس پہلے کی سٹیج پر آگیا۔
جسٹس نعیم اختر نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ نیب جائیدادوں کی نیلامی کی طرف کیسے چلا گیا؟
ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے کہا کہ پلی بارگین ختم کرنے کی درخواست کے بعد تو اب ریفرنس پر ملزمان کا ٹرائل ہوگا اور ریفرنس پر اگر سزا ہوئی تب پراپرٹیز ضبط ہوگی۔
بحریہ ٹاؤن کے وکیل کا کہنا تھا کہ یہی کیس ہے۔ ہماری پلی بارگین ختم کرنے کی درخواست اور نیب ریفرنس التوا پرہیں۔ کیس کی سماعت 13 اگست تک ملتوی کر دی گئی۔
اسرائیل کی سکیورٹی کابینہ نے غزہ شہر پر قبضے کی منظوری دے دی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیل کی سکیورٹی کابینہ نے غزہ شہر پر قبضے کے نیتن یاہو کے منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔
غزہ شہر کا کنٹرول سنبھالنے کے منصوبے کی منظوری کا اعلان یروشلم میں اسرائیل کی سیکورٹی کابینہ کے اجلاس کے بعد کیا گیا ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے دفتر سے جاری بیان میں غزہ شہر پر قبضے کے منظور شدہ منصوبوں اور جنگ کے خاتمے کے لیے پانچ اصولوں کی تفصیل دی گئی ہے، جسے سکیورٹی کابینہ نے اکثریتی ووٹ سے منظور کیا ہے۔
ان نکات کے تحت اسرائیلی فوج جنگی علاقوں سے باہر شہری آبادی کو انسانی امداد فراہم کرتے ہوئے غزہ شہر کا کنٹرول سنبھالنے کی تیاری کرے گی۔
بی بی سی فارسی کے مطابق حماس نے نیتن یاہو کے منصوبوں پر رد عمل میں کہا ہے کہ نیتن یاہو اپنے مفادات کی تکمیل کی کوشش میں وہ یرغمالیوں کو قربان کر دیں گے۔
دوسری جانب اسرائیل کے اپوزیشن لیڈر یائر لیپڈ کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نیتن یاہو کا غزہ پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کا منصوبہ دراصل ایک نئی جنگ اور مزید یرغمالیوں کی موت کا منصوبہ ہے۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے کی وجہ سے اربوں شیکلز ٹیکس دہندگان کو ادا کرنا پڑیں گے۔‘
یاد رہے کہ اقوام متحدہ اس سے قبل خبردار کر چکا ہے کہ اسرائیل کی فوجی کارروائیوں میں توسیع سے فلسطینی شہریوں اور اسرائیلی یرغمالیوں کے لیے ’تباہ کن نتائج‘ کا خطرہ ہے۔
حماس نے ایک بیان میں یہ کہا کہ اسرائیلی وزیر اعظم کے اقدامات ’مذاکرات کی سمت میں واضح تبدیلی کی نمائندگی کرتے ہیں اور بات چیت کے آخری دور کو ترک کرنے کے پیچھے ان کے اصل مقاصد کو واضح طور پر ظاہر کرتے ہیں۔
’سکیورٹی خدشات‘ پر کوئٹہ سمیت بلوچستان میں تین روز سے موبائل انٹرنیٹ سروس معطل, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
،تصویر کا ذریعہg
کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں موبائل انٹرنیٹ سروس تیسرے روز بھی معطل رہی ہے۔ موبائل انٹرنیٹ سروس کی معطلی سے لوگوں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جبکہ اس سے ہزاروں افراد کا کاروبار بھی متاثر ہو رہا ہے۔
بلوچستان حکومت کے ایک سینیئر اہلکار کے مطابق صوبے میں سکیورٹی خدشات کی وجہ سے انٹرنیٹ کی موبائل سروس معطل کی گئی ہے۔
حکومت بلوچستان کے ایک افسر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی تھی کہ بلوچستان بھرمیں دہشت گردی کے خدشات کے باعث موبائل انٹرنیٹ 31 اگست تک بند رکھی جائے گی۔ یاد رہے کہ ماضی میں چند علاقوں میں مخصوص وقت تک سروس معطل کی جاتی رہی ہے۔ اس سے قبل کبھی پورے صوبے میں اس طرح سروس معطل نہیں رہی ہے۔
چیمبر آف سمال انڈسٹریز کوئٹہ کے صدر میر مراد بلوچ نے اس پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سکیورٹی کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا لیکن بلوچستان میں انٹرنیٹ سے ہزاروں افراد کا کاروبار جڑا ہوا ہے۔
ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ موبائل فون انٹرنیٹ بندش سے ان کے لیے مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فوڈ ڈیلیوری، ای کامرس، موبائل بینکنگ اور فری لانسنگ سے وابستہ یومیہ اجرت کمانے والے افراد اس سے بُری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ انٹرنیٹ کی مکمل بندش کی بجائے بلوچستان میں روزگار کے تحفظ کے لیے انٹرنیٹ کی متوازن بندش کی پالیسی اپنائی جائے۔
دوسری جانب موبائل انٹرنیٹ سروس کی معطلی کے خلاف سینٹ میں تحریک التوا بھی جمع کرائی گئی ہے ۔ یہ تحریک التوا سینیٹر کامران مرتضیٰ نے جمع کرائی ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل بلوچستان بھر میں 15 اگست تک دفعہ 144 بھی نافذ کردی گئی تھی۔
دفعہ 144 کے تحت بلوچستان بھر موٹرسائیکل پر ڈبل سواری پر پابندی ، اسلحے کی نمائش ، پانچ یا اس سے زائد افراد کے اجتماع کے علاوہ عوامی مقامات پر چہرہ ڈھانپنے پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔
،تصویر کا ذریعہکوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں موبائل انٹرنیٹ سروس تیسرے روز بھی معطل
کوئٹہ شہر اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں موبائل فون انٹرنیٹ سروس بدھ کی شام جب اچانک بند ہوئی تھی تب سے انٹرنیٹ سروس کی معطلی سے صارفین کو پریشانی اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔
یاد رہے کہ ماضی میں بھی خصوصا اگست کے مہینے کے اہم دنوں کو کالعدم بلوچ مسلح تنظیمیں حملوں کے لیے استعمال کرتی رہی ہیں۔
یہ پہلا موقع ہے کہ اگست کے مہینے میں بلوچستان بھر میں انٹرنیٹ سروس معطل کی گئی ہے ۔ خیال رہیکہ گزشتہ سال اگست کے مہینے میں عسکرئت پسندوں نے بڑے پیمانے پر حملے کیے تھے۔
اہم خبروں کا خلاصہ
بی بی سی اردو کی لائیو کوریج کا سلسلہ جاری ہے تاہم آگے بڑھنے سے پہلے گزشتہ روز کی خبروں کے اہم نکات پیش خدمت ہیں۔
اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو نے فاکس نیوز کو دیے انٹرویو میں کہا ہے کہ ’ہم غزہ کا مکمل کنٹرول حاصل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ہم وہاں سے حماس کو ختم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ اپنی سکیورٹی کو یقینی بنائیں۔ غزہ کی آبادی کو آزادی دلانا چاہتے ہیں اور اسے سول گورننس کے حوالے کرنے کا نہ کہ وہ حماس کے اور نہ کسی ایسے کے جو اسرائیل کی تباہی کا حامی ہو۔‘
اقوام متحدہ کے سیٹلائٹ سیٹنر (Unosat) نے اپنی حالیہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ غزہ میں 78 فیصد عمارتیں جولائی تک کی رپورٹ کے مطابق تباہ ہو چکی ہیں۔ آٹھ جولائی کو لی گئی سیٹلائیٹ تصاویر میں دیکھا گیا کہ 192812 عمارتوں میں سے 102067 تباہ ہو گئی ہیں جن میں سے 40 فیصد مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہیں۔
کراچی کی لانڈھی ایکسپورٹ پروسیسنگ زون میں فیکٹری میں آگ لگنے سے اس کی پانچ منزلہ عمارت منہدم ہوگئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق جس وقت فیکٹری میں آگ لگی اس وقت تمام ملازم اندر موجود تھے۔ایدھی فاؤنڈیشن کے مطابق حادثے میں سات افراد زخمی ہوئے ہیں جنھیں ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
پاکستان کی وفاقی حکومت نے 2024 سے 2029 تک کے نجکاری پروگرام میں حکومتی تحویل میں چلنے والے 24 اداروں کی نجکاری کا فیصلہ کیا ہے۔
جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا کے بازار میں پولیس موبائل کے قریب ایک دھماکہ ہوا ہے جس میں دو افراد ہلاک ہو گئے جبکہ دو پولیس اہلکاروں سمیت 15 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
لکی مروت کے قبیلے موسیٰ خیل کے مشران نے امن و امان کے حوالے سے پولیس کے ساتھ ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کروائی ہے۔
لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے جمعرات کو الیکشن کمیشن پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ لوک سبھا انتخابات، مہاراشٹرا اور ہریانہ کے اسمبلی انتخابات میں ووٹر فہرستوں میں ’بڑے پیمانے پر دھاندلی‘ ہوئی تھی۔
بی بی سی اردو کے لائیو پیج میں خوش آمدید
بی بی سی اردو کے نئے لائیو پیج میں خوش آمدید!
یہاں آپ کے لیے پاکستان سمیت دنیا بھر سے اہم خبریں اور تازہ ترین خبریں شامل کی جائیں گی۔