کیئو نے امن معاہدے کے بدلے اپنے سرحدی علاقے دینے سے انکار کیوں کیا؟, زانا بزپیاچک، بی بی سی یوکرینی سروس

،تصویر کا ذریعہReuters
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے روس اور یوکرین کے درمیان امن معاہدے میں شرائط کافی حد تک واضح ہیں، جیسے سرحدی حدود میں رد و بدل۔
ٹرمپ نے کہا تھا کہ کسی حد تک علاقوں کی لین دین روس اور یوکرین دونوں کے لیے موزوں ہے۔
یوکرین نے یہ پوچھنے کے بجائے کہ روس کون سے علاقے چھوڑے گا اور معاہدے کے تحت یوکرین کو کیا ملے گا، اس تجویز کو یکسر مسترد کیا ہے۔
کیئو کو خطرہ ہے کہ روس مشرقی یوکرین میں دونتسک اور لوہانسک کے علاقوں پر کنٹرول کر لے گا جہاں گذشتہ کئی برسوں سے شدید لڑائی جاری ہے اور روس کے شدید حملوں کے باوجود خطے کے کئی علاقے یوکرین کے کنٹرول میں ہیں۔
یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ ٹرمپ اور پوتن کی ملاقات آئندہ ہفتے اُسی روز یعنی 15 اگست کو متوقع ہے، جس دن جنگ بندی کے لیے روس کو دی گئی مہلت ختم ہو رہی ہے۔
فی الحال صدر ٹرمپ سے ملاقات پر رضامندی سے صدر پوتن نے روس کے توانائی کے شعبے پر عائد ممکنہ امریکی پابندیاں عارضی طور پر روک لی ہیں۔
کیا ٹرمپ پوتن کے ساتھ اپنی ملاقات کو امریکہ، روس اور یوکرین کے درمیان ممکنہ سہ فریقی اجلاس کے آغاز طور پر دیکھ سکتے ہیں؟ یہ ابھی تک واضح نہیں ہے۔
یوکرین کے صدر زیلنسکی نے زور دیا ہے کہ امن معاہدے کی شرائط طے کرنے کے لیے ضروری ہے کہ کیئو بھی مذاکرات کی میز پر ہو۔
یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ اور پوتن کی ملاقات پر کیئو کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔















