آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

ایران اور اسرائیل کے ایک دوسرے پر مزید میزائل حملے، ٹرمپ کا اسرائیلی حملوں میں ممکنہ امریکی شمولیت پر غور

ایران اور اسرائیل نے ایک دوسرے پر میزائل حملوں کی نئی لہر کا آغاز کیا ہے۔ ایران کے خلاف اسرائیلی حملوں میں شمولیت کے حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ’میں شاید ایسا کروں یا پھر شاید نہ کروں۔ کوئی نہیں جانتا کہ میں کیا کرنا چاہتا ہوں۔‘

خلاصہ

  • ایران اور اسرائیل نے ایک دوسرے پر میزائل حملوں کی نئی لہر کا آغاز کیا ہے اور دونوں نے ایک دوسرے کے اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
  • ایران کے خلاف اسرائیلی حملوں میں شمولیت کے حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ’میں شاید ایسا کروں یا پھر شاید نہ کروں۔ کوئی نہیں جانتا کہ میں کیا کرنا چاہتا ہوں‘۔
  • بی بی سی ویریفائی نے تصدیق کی ہے کہ پچھلے تین دنوں میں کم از کم 30 امریکی طیارے امریکہ کے اڈوں سے یورپ کی طرف اڑان بھر چکے ہیں۔
  • ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے خبردار کیا ہے کہ ایران اور اسرائیل تنازع میں کسی بھی قسم کی امریکی فوجی مداخلت کے نتیجے میں امریکہ کو ’ناقابلِ نقصان‘ سے دوچار ہونا پڑے گا۔
  • انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کا کہنا ہے کہ ایران میں سینٹری فیوجز کی تیاری کے دو مراکز پر حملے ہوئے ہیں۔

لائیو کوریج

  1. فی الحال اسرائیل میں موجود امریکیوں کے انخلا کی پوزیشن میں نہیں: یروشلم میں امریکی سفارت خانہ

    یروشلم میں امریکی سفارت خانے نے اپنے عملے کو ہدایت دی ہے کہ وہ ’مزید ہدایت تک اپنے گھروں یا آس پاس محفوظ مقامات پر ہی رہیں۔‘

    سفارت خانے کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’امریکی سفارت خانہ اس وقت امریکی شہریوں کے انخلا یا ان کی براہِ راست مدد کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔‘

    ساتھ ہی یہ بھی اعلان کیا گیا کہ سفارت خانہ منگل کے روز بند رہے گا۔

    خیال رہے گذشتہ روز امریکی سفیر نے تصدیق کی تھی ایران کے تازہ حملوں کے دوران تل ابیب میں امریکی سفارتخانے کی برانچ کو ’معمولی نقصان‘ پہنچا ہے۔

    دوسری جانب چین کے سفارت خانے نے اسرائیل میں موجود اپنے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ جلد از جلد زمینی راستے سے ہمسایہ ملک اردن کے ذریعے ملک چھوڑ دیں۔

  2. چین کا اپنے شہریوں کو فوری طور پر اسرائیل چھوڑنے کا مشورہ

    چین کے سفارت خانے نے منگل کے روز اسرائیل میں موجود اپنے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ جلد از جلد ملک چھوڑ دیں۔

    وی چیٹ پر جاری بیان میں سفارت خانے نے کہا: ’اسرائیل میں موجود چینی شہریوں کو یاد دہانی کرائی جاتی ہے کہ وہ اپنی ذاتی حفاظت کو یقینی بناتے ہوئے جلد از جلد زمینی راستوں سے ملک چھوڑ دیں۔‘

    بیان میں اردن کی سمت جانے کی تجویز دی گئی ہے۔

    چینی سفارت خانے کا کہنا ہے کہ ایران اسرائیل تنازع مسلسل شدت اختیار کر رہا ہے ’بڑی تعداد میں شہری انفراسٹرکچر تباہ ہو چکا ہے، شہری ہلاکتیں بڑھ رہی ہیں اور سیکیورٹی صورتحال مزید سنگین ہو رہی ہے۔‘

  3. امبری میری ٹائم سیکیورٹی کمپنی: ’ہم متحدہ عرب امارات کے قریب ہونے والے ایک واقعے سے آگاہ ہیں‘

    خبر رساں ادارے روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق برطانوی میری ٹائم سیکیورٹی کمپنی ایمبرے نے منگل کی صبح اعلان کیا ہے کہ وہ متحدہ عرب امارات میں خورفکان سے 22 میل مشرق میں آبنائے ہرمز کے قریب واقع ہونے والے ایک واقعے سے آگاہ ہیں۔

    یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب اسرائیل اور ایران کے درمیان مسلسل پانچویں روز بھی حملوں کا تبادلہ جاری ہے۔

    خیال رہے آبنائے ہرمز ایران اور عمان کے درمیان ہے۔ یہ خلیج کو خلیج عمان اور پھر بحیرہ عرب سے جوڑتی ہے۔

    یہ ایک ایسا اہم سمندری راستہ ہے جو مشرق وسطی میں تیل کی دولت سے مالامال ممالک کو ایشیا، یورپ اور شمالی امریکہ سمیت دیگر دنیا تک ایندھن پہنچانے کے لیے نہایت اہم ہے۔

    لیکن یہ ایک ایسا مقام بھی ہے جو دہائیوں سے مقامی تنازعوں کا مرکز رہا ہے۔

    روئٹرز کے مطابق متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ اور خورفکان کنٹینر ٹرمینل نے تبصرہ کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔

  4. تہران شہر سے باہر جانے والی سڑکوں پر شدید ٹریفک

    تہران میں رات بھر لی گئی تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ دارالحکومت سے مغرب کی جانب، کرج چالوس روڈ پر گاڑیوں کا شدید رش ہے۔

    اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر تہران کے تمام شہریوں کو ’فوری انخلا‘ کی وارننگ دی تھی۔

    خیال رہے اسرائیل نے بھی شمال مشرقی تہران کے علاقوں کے لیے انخلا کی وارننگ جاری کی تھی۔

  5. امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری معاہدے اور جنگ بندی پر بات چیت اس ہفتے دوبارہ شروع ہونے کا امکان

    سیاسی ویب سائٹ ایکسیوس (Axios) کے مطابق امریکہ اس ہفتے کے دوران ایران کے ساتھ جوہری معاہدے اور جنگ بندی پر بات چیت دوبارہ شروع کرنے پر غور کر رہا ہے۔

    ایک امریکی اہلکار نے میڈیا کو بتایا ’اس ہفتے ایرانیوں کے ساتھ ملاقات پر غور کیا جا رہا ہے۔‘

    ایکسیوس نے متعدد ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ اگر یہ ملاقات ہوتی ہے تو یہ ٹرمپ انتظامیہ کے مشرق وسطیٰ کے ایلچی سٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان ہو گی۔

  6. ایران نے فضائی حدود کی بندش میں توسیع کر دی

    ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق ملک کی فضائی حدود اب دوپہر کے دو بجے (مقامی وقت 14:00) تک بند رہے گی تاکہ مسافروں کی حفاظت اور پروازوں کی سیکیورٹی کو یقینی بنایا جا سکے۔

    یاد رہے کہ اسرائیلی حملوں کے بعد ایران کی فضائی حدود گذشتہ جمعے سے بند ہے اور پروازیں متبادل راستے اختیار کر رہی ہیں کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان حملوں کا تبادلہ جاری ہے۔

  7. ٹرمپ کی تہران کے ایک کروڑ شہریوں کو فوری انخلا کی وارننگ کے بعد ایرانی دارالحکومت میں دھماکوں کی آوازیں

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تہران کے ایک کروڑ شہریوں کو انخلا کی فوری وارننگ کے بعد ایرانی دارالحکومت میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔

    ایران کے سرکاری میڈیا پریس ٹی وی کی جانب سے پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں مشرقی تہران میں ایک مقام پر اسرائیلی حملے کے بعد دھواں اٹھتا دکھائی دے رہا ہے۔

  8. ایران کے تازہ میزائل حملوں میں کسی جان نقصان کی اطلاع نہیں ملی: آئی ڈی ایف

    اسرائیلی ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے تازہ میزائل حملوں کے بعد شمالی اسرائیل کے رہائشیوں کو اب محفوظ مقامات چھوڑنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

    جیسا کہ اب سے کچھ دیر پہلے ہم نے اطلاع دی تھی کہ شمالی اسرائیل کے کئی علاقوں میں سائرن بجائے جا رہے ہیں اور آئی ڈی ایف کا کہنا ہے کہ وہ ایران کی جانب سے داغے گئے نئے میزائلوں کو روکنے کی کوشش کر رہی ہے۔

    اسرائیل کی قومی ایمرجنسی سروسز نے اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ ان حملوں کے بعد کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

    ٹیلیگرام پر جاری بیان میں ایمرجنسی سروسز کا کہنا ہے کہ سائرن بجائے جانے کے بعد انھیں کوئی ایمرجنسی کال موصول نہیں ہوئی تاہم بم شیلٹرز کی طرف جاتے ہوئے چند افراد معمولی زخمی ہوئے جنھیں فوری طبی امداد دی گئی۔

  9. ایران نے اسرائیل پر مزید میزائل داغے ہیں: آئی ڈی ایف

    اسرائیلی ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے ایک بار پھر اسرائیل کی جانب مزید میزائل داغے ہیں۔

    آئی ڈی ایف کا کہنا ہے کہ شمالی اسرائیل کے مختلف علاقوں میں سائرن بج رہے ہیں اور شہریوں کو بم شیلٹروں میں منتقل ہونے کی ہدایت دی گئی ہے۔

    اسرائیلی ڈیفنس فورسز نے ایکس پر جاری بیان میں کہا ہے کہ فضائیہ خطرے کو ختم کرنے کے لیے میزائلوں کو روکنے اور ضرورت پڑنے پر حملے کی کارروائیاں کر رہی ہے۔ عوام سے پناہ لینے کے احکامات پر عمل کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔

  10. ایک کروڑ آبادی کا شہر تہران جہاں کے باسیوں کو ٹرمپ نے انخلا کی وارننگ دی ہے

    پیر کو اسرائیلی فوج کے ایک ترجمان نے تہران کے لوگوں کو فوری طور پر شہر کے ایک ضلع کو خالی کرنے کا کہا تھا۔

    سرکاری ویب سائٹ کے مطابق اس علاقے میں تین لاکھ تیس ہزار افراد رہتے ہیں۔

    اتوار کی رات لوگوں کے علاقے چھوڑنے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر دیکھی جا سکتی ہیں جن میں ٹریفک کی طویل قطاریں بھی نظر آتی ہیں۔

    اب صدر ٹرمپ نے بظاہر اس انتباہ کو مزید وسیع کرتے ہوئے پورے شہر کو انخلا کا مشورہ دے دیا ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اس شہر میں لگ بھگ ایک کروڑ افراد بستے ہیں یہ لندن میں رہنے والے کُل لوگوں سے زیادہ ہیں جہاں برطانوی حکومت کے اعداد و شمار نوے لاکھ افراد بستے ہیں۔

  11. ٹرمپ نے امریکہ کی قومی سلامتی کونسل کا اجلاس بلا لیا

    امریکی میڈیا کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکہ کی قومی سلامتی کونسل کا اجلاس ’سچویشن روم‘ میں طلب کر لیا گیا۔

    قومی سلامتی کونسل میں سینیئر حکومتی اہلکار شامل ہوتے ہیں جن میں وزیرِ خارجہ، وزیرِ دفاع اور ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلیجنس شامل ہوتے ہیں۔ یہ فورم صدر کو قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی پر تجاویز دیتا ہے۔

  12. ’مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کے پیشِ نظر صدر ٹرمپ کا آج رات ہی کینیڈا سے واپسی کا فیصلہ: وائٹ ہاؤس

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کینیڈا میں منعقدہ جی سیون اجلاس چھوڑ کر امریکہ روانہ ہو رہے ہیں۔ وائٹ ہاؤس پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ کے مطابق ایسا اس لیے کیا جا رہا ہے تاکہ وہ ’انتہائی اہم امور کو دیکھ سکیں۔‘

    لیویٹ نے ایکس پر لکھا کہ ’مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کے پیشِ نظر صدر ٹرمپ آج رات سربراہان کے ساتھ اعشایے کے بعد کینیڈا سے روانہ ہو جائیں گے۔‘

    کچھ لمحات قبل ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر لکھا تھا کہ ’امریکہ فرسٹ کا مطابق بہت شاندار چیزیں ہیں جن میں یہ بھی شامل ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا۔‘

  13. وسطی ایران کے شہر نطنز میں فضائی دفاعی نظام فعال ہو گیا: ایرانی سرکاری میڈیا

    ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق وسطی ایران کے شہر نطنز میں فضائی دفاعی نظام فعال ہو گیا۔ اسے ایران کی ایک اہم جوہری تنصیبات میں سے ایک سمجھا جاتا ہے اور اس پر اسرائیل کی جانب سے گذشتہ جمعے سے حملے کیے گئے ہیں۔

    نطنز تہران کے داراحکومت سے 225 کلومیٹر جنوب میں واقع ہے۔

    اسرائیل نے پیر کو شمال مشرقی تہران سے لوگوں کو انخلا کی تجویز دی تھی اور صدر ٹرمپ نے بھی اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر کہا ہے کہ ’سب کو فوری طور پر تہران چھوڑ دینا چاہیے۔‘

  14. تہران میں متعدد دھماکوں کی اطلاعات: ایرانی میڈیا

    خبررساں ادارے روئٹرز نے ایرانی میڈیا کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ایران کے دارالحکومت تہران میں متعدد دھماکوں اور فضائی دفاع کی فائرنگ کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

  15. امریکی وزیرِ دفاع کا مشرق وسطیٰ میں ’اضافی صلاحیتوں‘ کی تعیناتی کا حکم

    امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کہا ہے کہ انھوں نے مشرق وسطیٰ میں اضافی صلاحیتوں کی تعیناتی کا کا حکم دیا ہے۔

    انھوں نے ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ ’اپنے فوجیوں کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے اور ان تعیناتیوں سے خطے میں ہماری دفاعی صلاحیت بہتر ہو گی۔‘

    ان کا یہ بیان ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے G7 رہنماؤں کے تیار کردہ بیان پر دستخط کرنے سے مبینہ طور پر انکار کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا ہے۔

    جی سیون کے مشترکہ بیان میں مبینہ طور پر ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں فوری کمی، شہریوں کو نقصان پہنچانے سے بچنے اور ایران کی نگرانی کے لیے شرائط پر زور دیا گیا ہے۔

    ایک گھنٹہ قبل، برطانوی وزیر اعظم کے ساتھ ملاقات کے موقع پر ٹرمپ نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ وہ بحران کے حل اور ایران کے ساتھ ایک معاہدے تک پہنچنے کے لیے مشرق وسطیٰ جانے کے لیے تیار ہیں، لیکن ان کی رائے میں اسرائیل اس وقت ’اچھا کام کر رہا ہے‘ اور انھیں اس وقت اس سفر کی ’ضرورت‘ محسوس نہیں ہو رہی۔

  16. سب کو فوری طور پر تہران چھوڑ دینا چاہیے: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

    اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر ایک بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’سب کو فوری طور پر تہران چھوڑ دینا چاہیے۔‘

    ان کا یہ بیان ایک ایسے موقع پر آیا ہے جب اسرائیلی حکام کی جانب سے شہریوں کو شمال مشرقی تہران کچھ حصوں کو چھوڑنے کا انتباہ جاری کیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ اس کی جانب سے فوجی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    اپنی پوسٹ میں ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ ایران کو معاہدے پر دستخط کرنے چاہییں تھے۔ ان کا مزید کہنا تھا کے ’ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہو سکتا۔ میں یہ بات بار بار کہتا رہا ہوں۔ سب کو تہران چھوڑ دینا چاہیے۔‘

    بی بی سی کے انتھونی زرچر اس وقت کینیڈا میں جی سیون اجلاس کی کوریج کر رہے ہیں جس میں ٹرمپ بھی شریک ہیں۔ انھوں نے صدر کے ترجمان سے اس حوالے سے وضاحت مانگی ہے جس پر انھیں وائٹ ہاؤس کی پریس ٹیم سے رابطہ کرنے کا کہا گیا ہے۔

  17. ایران اسرائیل کشیدگی: رات بھر کی خبروں کا خلاصہ!

    بی بی سی اردو کے لائیو پیج میں خوش آمدید اور صبح بخیر۔

    رات بھر اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی کے حوالے سے کیا ہوتا رہا؟ خلاصہ درج ذیل ہے:

    • اسرائیل کے وزیرِ دفاع نے تصدیق کی ہے کہ انھوں نے تہران میں ایران کے سرکاری ٹی وی چینل کو نشانہ بنایا ہے۔
    • ایران کے سرکاری ٹی وی کا کہنا ہے کہ تہران میں اس کے ہیڈکوارٹر پر اسرائیلی حملے میں اس کے عملے کے ’متعدد‘ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
    • ایرانی سرکاری ٹی وی نے اسرائیلی حملے کے چند منٹ کے بعد اپنی نشریات کا دوبارہ آغاز کر دیا ہے۔
    • اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نتن یاہو نے کہا ہے کہ ’اگر آج تل ابیب پر حملہ ہوا ہے تو کل نیویارک پر بھی ہو سکتا ہے، مجھے امریکہ فرسٹ سمجھ آتا ہے، امریکہ ڈیڈ نہیں‘ اور یہ بھی کہ ’ایرانی رہبرِ اعلیٰ کو ہلاک کرنے کا کوئی بھی ممکنہ منصوبہ ’تنازع کو مزید طول نہیں دے گا بلکہ ختم کر دے گا۔‘
    • ایرانی وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ ’نتن یاہو کو خاموش کرنے کے لیے واشنگٹن سے صرف ایک فون کال کافی ہے‘
    • اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایران کے دو ایف 14 ٹام کیٹ فائٹر جیٹس تباہ کر دیے ہیں۔
    • ادھر ایران سرکاری میڈیا نے میزائلوں کی نئی لہر اسرائیل کی جانب فائر کرنے کا اعلان کیا
    • ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق فوج نے اسرائیلی ٹی وی سٹیشن چینل 12 اور چینل 14 کو بھی خالی کرنے کا حکم بھی دیا۔
    • سابق اسرائیلی وزیرِ اعظم کے مطابق ایران کو جوہری صلاحیت حاصل کرنے میں اسرائیل صرف دو سے تین ہفتے تاخیر کروا سکتا ہے۔
    • اسرائیلی میڈیا کے مطابق گذشتہ چند روز کے دوران ایرانی حملوں کے بعد حیفا ریفائنری کا کام روک دیا گیا ہے۔
    • اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر ایک بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’سب کو فوری طور پر تہران چھوڑ دینا چاہیے۔‘
    • امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کہا ہے کہ انھوں نے مشرق وسطیٰ میں اضافی صلاحیتوں کی تعیناتی کا کا حکم دیا ہے۔
    • ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران میں متعدد دھماکوں اور فضائی دفاع کی فائرنگ کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
    • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کینیڈا میں منعقدہ جی سیون اجلاس چھوڑ کر امریکہ روانہ ہو رہے ہیں۔
    • امریکی میڈیا کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکہ کی قومی سلامتی کونسل کا اجلاس ’سچویشن روم‘ میں طلب کر لیا گیا۔
  18. بی بی سی اردو کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    ایران اور اسرائیل کے درمیان حملوں کے تبادلے اور مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی صورتحال پر بی بی سی اردو کی لائیو کوریج جاری ہے۔

    بی بی سی کی نامہ نگار منزہ انوار اب سے دوپہر دو بجے تک آپ کے ساتھ ہیں۔

    گذشتہ دو روز میں کیا ہوتا رہا، جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔