گذشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ تمام شہریوں کو فوراً
تہران سے نکل جانا چاہیے۔
کچھ ایرانی شہری پہلے ہی اس مشورے پر عمل کر رہے ہیں جبکہ دوسروں کا خیال ہے کہ اس پر عملدرآمد ممکن نہیں۔
ہم ان افراد کے نام نہیں شائع کر رہے کیونکہ انھیں ڈر ہے کہ
اس سے ایران میں ان کی زندگی کو خطرہ ہو سکتا ہے۔
عرش اب بحفاظت
آرمینیا میں ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ وہ سوموار کے روز 8 بج کر 45 منٹ پر تہران سے
نکلے اور ایران کے شمال مغربی قصبے قزوان سے ہوتے ہوئے یہاں پہنچے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ عام طور پر اس سفر میں ڈیرھ گھنٹا لگتا تھا لیکن اس بار انھیں اس میں پانچ گھنٹے لگے۔
’بہت سے لوگ خاص کر وہ جو بیرونِ ملک رہائش پذیر ہیں ایران سے نکلنے
کی کوشش کر رہے ہیں۔‘
ہر گزرتے لمحے کے ساتھ بڑھتے ڈر کے باوجود نرگس نے تہران
میں ہی رکنے کا فیصلہ کیا ہے۔
’یہ شہر بالکل خالی محسوس ہو رہا ہے۔ گذشتہ رات جب سے ٹرمپ
نے لوگوں کو شہر سے نکل جانے کا مشورہ دیا ہے، ایسا لگتا ہے کہ جیسے بہت سے افراد
یہاں سے بھاگ رہے ہیں۔‘
ان کا کہنا ہے کہ سڑکیں کھچا کھچ بھری ہوئی ہیں اور ٹریفک عذاب
بنا ہوا ہے۔
تہران میں تقریباً ایک کروڑ افراد آباد ہیں۔ نرگس کے خیال میں
بھاگنے کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ آپ سڑک پر پھنسے رہ جائیں گے۔
لیکن کل ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے کے ہیڈ کوارٹر پر ہونے والے حملے نے انھیں خطرے کی یاد دہانی کروائی جو وہ مول لے رہی ہیں۔ ان کا گھر اس مقام کے نزدیک ہے جہاں کل حملہ ہوا تھا۔ ’یہ [حملہ] خوفناک
اور بہت نزدیک تھا۔‘
کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ان کے پاس کوئی آپشن ہی نہیں۔
فراناک کا خیال ہے کہ بذریعہ گاڑی سرحد پار کرنے کی کوشش کرنا
بالکل بھی محفوظ نہیں۔
وہ بھی ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے کے ہیڈ کوارٹر کے قریب رہتی ہیں
اور حملے کے بعد وہ اپنی بزرگ والدہ کے ہمراہ اپنی عمارت سے نکل گئی تھیں۔ ان دونوں نے
پوری رات باہر گزاری۔
واپس آتے وقت انھوں نے پیٹرول پمپس پر لمبی قطاریں دیکھیں جو تقریباً
دو کلومیٹر لمبی تھیں۔
ان کے کچھ پڑوسی شمالی ایران کی طرف نقل مکانی کر چکے ہیں۔
لیکن فراناک جیسے لوگ اپنے گھروں میں چھپے ہوئے ہیں اور اس انتظار میں ہیں کہ آگے کیا ہوگا۔