اسرائیلی فوج نے حزب اللہ کے مُمکنہ سربراہ ہاشم صفی الدین کو ہلاک کر دیا ہے: نیتن یاہو
اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ’وہ اپنے لوگوں کو بحفاظت وطن واپس لانے اور حزب اللہ کو ختم کرنے کے لیے جو بھی ضروری ہوگا کریں گے۔‘ حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اُن کی جانب سے منگل کے روز شمالی اسرائیل کے شہروں حیفہ اور کریوت پر 100 سے زائد راکٹ داغے گئے۔
خلاصہ
اسرائیلی فوج نے حزب اللہ کے مُمکنہ سربراہ ہاشم صفی الدین کو ہلاک کر دیا ہے: نیتن یاہو
بیروت کے میئر نے بی بی سی کو بتایا کہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران اسرائیلی حملوں نے بیروت میں ’کوئی محفوظ جگہ‘ نہیں چھوڑی۔
حزب اللہ کے حیفہ پر راکٹ حملے میں سات اسرائیلی زخمی، غزہ میں اسرائیلی کارروائی میں 56 فلسطینی ہلاک
لبنانی حکومت کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملوں سے بچنے کے لیے چار لاکھ سے زیادہ لوگ شام نقل مکانی کر چکے ہیں۔
اسرائیلی فوج نے منگل کے روز علی الصبح کیے گئے ایک حملے میں حزب اللہ کے کمانڈر سہیل حسین الحسینی کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
لائیو کوریج
سات اکتوبر کا حملہ ہولوکاسٹ کے بعد یہودیوں کے لیے خونریز ترین دن تھا: سر کیئر سٹامر
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا کیپشنپارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے سر کیئر سٹامرنے ایران کے اسرائیل پر حملے کی مذمت بھی کی
برطانیہ کے وزیر اعظم سر کیئر سٹامر نے سات اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے ایک سال مکمل ہونے کے حوالے سے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ گزشتہ سال سات اکتوبر کو اسرائیل پر حملہ ہولوکاسٹ کے بعد یہودیوں کے لیے خونریزترین دن تھا۔
اس سے قبل پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے سر کیئر سٹامرنے کہا کہ اس دن کا درد اور ہولناکی آج بھی اتنی ہی شدید ہے جتنی کہ ایک سال پہلے تھی۔‘
برطانوی وزیر اعظم نے کہا کہ یہ تنازع ایک خوفناک خواب ہے جو ابھی تک جاری ہے۔
انھوں نےزور دیا کہ ان کی حکومت ’اسرائیل، غزہ، مغربی کنارے، لبنان اور اس سے آگے کے تمام بے گناہ متاثرین کے ساتھ کھڑی ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’تمام فریقوں کو اب جنگ کے دہانے سے پیچھے ہٹنا چاہیے اور تحمل و حوصلے کی راہ اختیار کرنا چاہیے۔
اسرائیلی حملوں کے بعد جنوبی لبنان کے علاقوں میں دھوئیں کے بادل
،تصویر کا ذریعہEPA
اسرائیل نے عسکریت پسند تنظیم حزب اللہ کو نشانہ بنانے کے لیے جنوبی لبنان میں اپنے حملوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ ان حملوں کے بعد جنوبی لبنان کے کئی علاقوں میں دھوئیں کے بادل دیکھے جا رہے ہیں۔
لبنان کے شہرطائرمیں بی بی سی کے نامہ نگار نے ااسرائیلی بمباری میں شدت آنے سے آگاہ کیا ہے۔
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا کیپشنلبنان کی سرحد سے تقریباً 5 کلومیٹر (3 میل) دور خیام اور كفركلا کے دیہاتوں سے بھی ایسی ہی تصاویر موصول ہوئی ہیں
،تصویر کا ذریعہReuters
حالیہ چند گھنٹوں میں طائر شہر کے کئی علاقوں میں دھواں اٹھتا دیکھا جا سکتا ہے۔
یاد رہے کہ طائر لبنان کا چوتھا بڑا شہر ہے اور اسرائیل کی شمالی سرحد سے تقریباً 19 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
آئی ڈی ایف کے ترجمان کے ایک اور بیان میں غزہ اور لبنان کے مزید علاقوں سے نقل مکانی کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
آئی ڈی ایف کے مطابق جو کوئی بھی حزب اللہ کے رہنماؤں، ان کے ہتھیاروں اور تنصیبات سے ہمدردی رکھے گا وہ اپنی جان خطرے میں ڈال رہا ہے۔
آئی ڈی ایف نےغزہ کے علاقہ خان یونس یونس سے بھی علاقہ مکینوں کو فوری علاقہ خالی کر کے المواصی کی پناہ گاہ میں منتقل ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔
غزہ سے پرے جنوبی لبنان میں طيرحرفا اور المنصوری سمیت 20 دیہاتوں کے مکینوں کو بھی فوری اپنے اپنے گھر خالی کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور ان سے کہا گیا ہے کہ وہ الأولی نہر کے شمال کی جانب رخ کر لیں۔
جنگ کے ایک سال میں عام شہریوں کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا: امریکی صدر بائیڈن
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدر جو بائیڈن نے غزہ اسرائیل جنگ کے ایک سال مکمل ہونے کے حوالے سے کہا ہے کہ اس ایک سال میں عام شہریوں کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا ہے۔
وائٹ ہاؤس کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان میں انھوں نے ان حملوں کو ناقابل بیان سفاکیت اور زندگیوں کی خوبصورتی کو ختم کیے جانے سے مشابہت دی ہے۔
صدر بائیڈن نے ایک برس قبل اسرائیل کو دیے گئے پیغام کو آج ایک بار پھر دہراتے ہوئے کہا کہ ’آپ تنہا نہیں ہیں۔‘
امریکی صدر کے بیان کے مطابق ’آج اور ہر روز، میں یرغمالیوں اور ان کے خاندانوں کے بارے میں سوچتا ہوں۔‘
انھوں نے ایک بار پھر اس عزم کو دہرایا کہ وہ غزہ میں جنگ بندی کے ایسے معاہدے کے حصول کے لیے کام کرنا بند نہیں کریں گے جو یرغمالیوں کو گھر واپس لے آئے۔‘
بیان میں انھوں نے کہا کہ لبنان میں ایک سفارتی حل ہی پائیدار امن کا واحد راستہ ہے۔‘
امریکی صدر نے اپنے بیان کا اختتام یہ کہہ کر کیا کہ سات اکتوبر کی تاریخ فلسطینی عوام کے لیے ایک سیاہ دن کے طور پر بھی یاد رکھی جائے گی۔‘
اسرائیلی وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے باہر مغوی افراد کے اہل خانہ کا مظاہرہ
غزہ کی عسکریت پسند تنظیم حماس کے اسرائیل پر مہلک حملوں کے آج ایک سال مکمل ہونےکے حوالے سے یروشلم میں اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی رہائش گاہ کے قریب ایک مظاہرہ کیا گیا۔
یہ مظاہرہ اسرائیلی یرغمالیوں اور لاپتہ افراد کے اہل خانہ کی جانب سے کیا گیا۔
یرغمالیوں کی خاندانوں کی ایسوسی ایشن کے مطابق مظاہرین نے اسرائیلی وزیر اعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ ’اپنے پیاروں کی رہائی‘ کے انتظار کا خاتمہ چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ایک معاہدے کے تحت تمام مغویوں کی واپسی یقینی بنائی جائے۔
ایسوسی ایشن کی جانب سے آج صبح اعلان کیا کہ 28 سالہ ایڈان، جنھیں سپرنووا میوزک فیسٹیول سے اغوا کر کے غزہ لے جایا گیا تھا، حملوں کے دوران ہلاک ہو گئے ہیں۔
اسرائیلی اعداد و شمار کے مطابق سات اکتوبر کو 251 افراد کو یرغمال بنایا گیا تھا۔ ایدان کی موت کے اعلان سے قبل 117 مغویوں کو رہا کر دیا گیا تھا۔ جبکہ 37 یرغمالیوں کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے اور ان میں سے 97 کے بارے میں حتمی کہنا کچھ بھی مشکل ہے۔
اسرائیلی حملوں میں 10 لبنانی فائر فائٹرز ہلاک
لبنان کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملوں میں 10 فائر فائٹرز مارے گئے ہیں۔
وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی حملے جنوبی لبنان کے علاقے برعشيت کی ایک عمارت پر کیے گئے جہاں موجود 11 فائر فائٹرز حملے کی ذد میں آ کر ہلاک ہو گئے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق عمارت کے ملبے تلے سے اب تک آٹھ لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔
لبنان کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ حملے سے عمارت بری طرح تباہ ہو گئی ہے جس کے ملبے کو ہٹانے کا کام جاری ہے تاکہ مزید کی شناخت کی جا سکے۔
ایک سال کے دوران اسرائیل کے حملوں میں 42000 شہری ہلاک ہوئے: غزہ کی وزارت صحت
،تصویر کا ذریعہGetty Images
غزہ اسرائیل جنگ کوآج سات اکتوبر کو ایک سال مکمل ہو گیا ہے اور اس ایک سال کی جنگ کے دوران غزہ کی وزارت صحت کے مطابق خواتین اور بچوں سمیت 42 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ اس دوران 97 ہزار افراد زخمی بھی ہو گئے ہیں۔
غزہ کی وزارت صحت کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں 986 طبی کارکنان بھی شامل ہیں۔
وزارت صحت نے بتایا کہ گزشتہ روز ایک مسجد اور سکول میں بے گھر لوگوں کے لیے بنائے گئے شیلٹر پراسرائیلی فضائی حملوں میں 26 فلسطینی پناہ گزین ہلاک ہو گئے۔
اس حملے کے بارے میں اسرائیلی فوج نے موقف دیا ہے کہ حماس نے اس مقام پرکمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر قائم کر رکھا تھا جس کو انھوں نے نشانہ بنایا۔
تل ابیب پر حماس کے راکٹ حملے، دو افراد زخمی
،تصویر کا کیپشنتل ابیب میں ایالون ہائی وے پر خطرے کے سائرن بجانے پر کاریں رکی ہوئی ہیں جب کچھ لوگ اپنی کاروں سے باہر نکلے اور خود کو زمین کے قریب چھپایا
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ غزہ کی پٹی کے علاقے خان یونس سے تل ابیب کی جانب پانچ راکٹ فائر کیے گئے ہیں۔ غزہ کی عسکریت پسند تنظیم حماس نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
بی بی سی کے نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ کاریں تل ابیب کے مشرق میں ایک ہائی وے پر رییں اور فضا میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
اسرائیل کے ایمرجنسی ڈپارٹمنٹ نے یہ بھی اعلان کیا کہ وسطی اسرائیل میں تیس سال کی عمر کی دو خواتین شیل لگنے سے زخمی ہو گئیں۔
ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ سروسز کا کہنا ہے کہ زخمیوں کو ہسپتال لے جایا گیا ہے اور ان کی حالت بہتر ہے۔
دوسری جانب حملوں کے خطرات کے پیش نظر اسرائیل کے مختلف حصوں میں خطرے کے سائرن بجائے گئے۔۔
اسرائیلی ڈیفینس فورس کا شمالی غزہ کے رہائشیوں کو علاقہ خالی کرنے کا حکم
اسرائیلی ڈیفینس فورس نے شمالی غزہ کے رہائشیوں کو علاقہ خالی کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔
آئی ڈی ایف کے ترجمان کے مطابق اسرائیلی فوج شمالی غزہ کے علاقے میں بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کرنے جا رہی ہے۔ جن علاقوں میں لوگوں کو انخلا کا حکم دیا گیا ان میں بیت الحنون، جبالیہ اور بیت لاحیہ شامل ہیں۔
ترجمان کے مطابق ان علاقوں کے رہائشیوں کو فوری طور پر علاقہ چھوڑ کرالمواصی میں نئی تعمیر کی گئی پناہ گاہ منتقل ہونے کی ہدایات کی گئی ہیں جو غزہ کی پٹی پر بحیرہ روم سے منلسک علاقہ ہے۔
اعلان کے مطابق انسانی بنیادوں پر محفوظ راستے تک رسائی صلاح الدین روڈ سے دی گئی ہے جہاں سے مقامی وقت کے مطابق صبح آٹھ سے شام پانچ بجے تک لوگ گزر سکتے ہیں۔
اسرائیل کب اور کیسے ایران کو نشانہ بنا سکتا ہے؟, فرینک گارڈنر، سکیورٹی نامہ نگار
،تصویر کا ذریعہEPA
کئی دنوں سے مشرق وسطیٰ کا بیشتر حصہ سانسیں روکے
بیٹھا ہے کیونکہ ہر کوئی جانتا ہے کہ اسرائیل کبھی بھی ایران پر حملہ آور ہو سکتا
ہے۔
اسرائیل کی طرف سے حزب اللہ اور حماس کے سیاسی ونگ کے
رہنماؤں کے قتل کے جواب میں ایران نے ایک ہفتہ قبل اسرائیل پر بیلسٹک میزائل داغے
تھے۔
حملے کے فوراً بعد اسرائیل نے ایران کو خبردار کیا
تھا کہ اُسے اِس حملے کی ’بھاری
قیمت چکانی‘ پڑے گی۔
تو اس میں اتنی تاخیر کیوں؟ اور اسرائیل کب اور کیسے
جوابی حملہ کرے گا؟
تاخیر کی ایک جزوی وجہ اسرائیلی فوجی اور سیاسی اسٹیبلشمنٹ
کی آپس میں اور اسرائیل کے قریبی اتحادی امریکہ کے ساتھ ہونے والی بات چیت ہے۔
یہ مذاکرات صرف حملے کے ممکنہ ہدف کے تعین کے بارے میں
نہیں ہیں جن میں ایران کی تیل کی تنصیبات سے لے کر پاسداران انقلاب کے اڈوں تک اور
بیلسٹک میزائل فیکٹریوں سے لے کر جوہری تنصیبات شامل ہیں۔ اس بات چیت میں اس جوابی
حملے کے ممکنہ اثرات اور ایران کے ردعمل کے بارے میں بھی غور و خوض کیا جا رہا ہے۔
وائٹ ہاؤس اس وقت بڑے پیمانے پر ایک ایسی جنگ شروع
کرنا نہیں چاہتا جو امریکی صدارتی انتخابات سے صرف ایک ماہ قبل اس کی افواج کو اپنی
لپیٹ میں لے لے اور نہ ہی وہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے کا خواہاں ہے۔
بہت سے لوگوں کو توقع تھی کہ جمعہ کو یہودیوں کے
نئے سال کی تعطیلات کے ختم ہوتے ہی اسرائیل جوابی حملہ کردے گا۔
جب کہ کئی افرد کا اندازہ تھا کہ اسرائیل پیر کے روز ایران
کے حمایت یافتہ حماس کے جنوبی اسرائیل پر حملے کو ایک سال مکمل ہونے کے موقع پر جوابی
کارروائی کرے گا۔ جو بھی ہو اتنا تو یقینی ہے کہ اسرائیل حملہ ضرور کرے گا۔
اسرائیل فوج نے جنوبی لبنان میں کارروائیوں کے لیے ایک اور ڈویژن تعینات کر دی
اسرائیل ڈیفنس فورسز (IDF) کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ جنوبی لبنان میں کارروائیوں
کے لیے اسرائیلی فوج کی ایک اور ڈویژن تعینات کر دی گئی ہے۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ 91 واں ڈویژن غزہ اور
شمالی اسرائیل میں تقریباً ایک سال سے سرگرم ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، یہ حزب اللہ کے
خلاف زمینی لڑائی میں استعمال ہونے والا ڈویژن لیول کا تیسرا دستہ ہے۔ اسرائیل
نے ایک ہفتہ قبل لبنان پر اپنے زمینی حملے کا اعلان کیا تھا۔
اسرائیلی جارحیت پسپا کرنے کے لیے پر اعتماد ہیں: حزب اللہ
7 اکتوبر کو اسرائیل پر حماس کے حملوں کے ایک سال مکمل ہونے کے
موقع پر حزب اللہ نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں اس کا کہنا ہے کہ اس کو اسرائیلی
جارحیت کو پسپا کرنے کی اپنی صلاحیت پر اعتماد ہے۔
لبنانی عسکریت گروپ اور حماس اتحادی ہیں اور دونوں کو
ایران کی حمایت اور مالی امداد حاصل ہے۔
حزب اللہ نے 7 اکتوبر کے واقعات کو ’بہادرانہ‘ اقدام قرار دیتے ہوئے
کہا ہے کہ اس کے خطے پر ’تاریخی‘
اثرات مرتب ہوں گے۔
اپنے بیان میں حزب اللہ نے حماس کے 7 اکتوبر کے حملے کے بعد غزہ اور
لبنان میں ہونے والی تباہی کے لیے ’امریکہ
اور اس کے اتحادیوں‘ کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔
یہ ایک وسیع اور طویل تنازع کا آغاز ہے, ہیوگو بچیگا، نامہ نگار برائے مشرق وسطیٰ، بیروت
،تصویر کا ذریعہGetty Images
شاید ہی کوئی سوچ سکتا تھا کہ اسرائیل پر حماس کے غیر معمولی حملوں کے ایک سال بعد بھی نہ صرف حماس کے خلاف
اسرائیل کی جنگ جاری رہے گی بلکہ ایک اور جنگ لبنان کو بھی لپیٹ میں لے لے گی۔
ہم میں سے اکثر افراد جنھوں نے اس خطے میں رپورٹنگ کی
ہے اور جن کی اس خطے پر گہری نظر ہے ان کو اندازہ تھا کہ حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان ایک اور تنازع صرف وقت کی
بات ہے۔ 2006 کی جنگ کے بعد سے ہی دونوں فریق اس کی تیاری کر رہے تھے۔
لیکن اس کے باوجود گذشتہ چند ہفتوں میں یہاں جو کچھ
ہوا ہے اس پر یقین کرنا مشکل ہے۔
لبنان میں اب تک 2000 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں
جبکہ 12 لاکھ اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہیں۔ اسرائیلی فضائی حملوں نے بیروت سمیت
ملک کے تقریباً تمام حصوں میں تباہی مچائی رکھی ہے۔
جنگ کا عادی شہر بیروت ایک بار پھر جنگ کے اثرات کی
عادت ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے۔ دکانیں، ریستوراں اور بار دوبارہ کھل رہے ہیں لکن
گاہے بگاہے جنگ کی ایسی علامات سامنے آجاتی ہیں جنھیں نظر انداز کرنا ناممکن ہے:
ٹریفک میں مسلسل دوڑتی ایمبولینسیں، فضائی حملوں سے شہر بھر میں ہونے والے زور دار
دھماکوں کی آوازیں، سڑکوں اور پارکوں میں سوئے بے گھر افراد۔
اسرائیل کی فوج کی طرف سے ایک بار پھر جنوبی لبنان پر حملہ اور
حزب اللہ کے خلاف اس کی مہم کی شدت میں کسی قسم کی کمی نہ آنے کا امکان اس خدشے
کی جانب اشارہ کرتا ہے کہ یہ ایک وسیع اور طویل تنازع کا آغاز ہے۔
لبنان پر مزید اسرائیلی حملوں کی اطلاعات
لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نیشنل نیوز ایجنسی
کے مطابق صبح سے ملک کے کئی حصوں سے اسرائیلی فضائی حملوں کی اطلاعات ہیں۔
نیشنل نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ لبنان کے مشرق میں قصرنبہ کے مضافات میں ایک حملہ ہوا ہے جب کہ جنوبی لبنان کے قصبوں زراری اور بریقہ کے درمیان بھی علی الصبح اسرائیل نے حملہ کیا تھا۔
لبنان میں اسرائیلی کارروائیاں شدت اختیار کر گئی ہیں, نک بیک، شمالی اسرائیل سے بی بی سی کے نامہ نگار
،تصویر کا ذریعہReuters
جیسے ہی 7 اکتوبر کا دن آیا شمالی اسرائیل کی پہاڑیاں سرحد کی
دوسری جانب لبنان سے آنے والے دھماکوں کی آوازوں اور اسرائیلی طیاروں کی گھن گرج سے
گونج اٹھیں۔
پوری رات جاری رہنے والے حملے اسرائیل کے لبنان پر زمینی حملے کے آغاز کے بعد سے ہونے والے سب سے شدید حملے ہیں۔
گذشتہ روز اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو شمالی اسرائیل
میں موجود تھے جہاں انھوں نے آپریشن میں شامل فوجیوں سے ملاقات کی۔
نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ حزب اللہ ملک کے شمال میں سات
اکتوبر کو حماس کی جانب سے کیے جانے والے حملے سے بھی بڑے حملے کی منصوبہ بندی کر
رہی تھی اسی لیے انھوں نے لبنان میں فوج بھیجی ہے۔
یروشلم کی عبرانی یونیورسٹی کی جانب سے 7 اکتوبر کے
حملے کو ایک سال مکمل ہونے کے موقع پر شائع کی گئی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ اسرائیلیوں
کی اکثریت لبنان میں نئی فوجی مہم کی حامی ہے۔
لیکن کئی جگہوں پر لڑائی امید سے زیادہ شدید ثابت ہوئی
ہے اور اسرائیل کی فوج نے ایلیٹ جنگی یونٹ سے تعلق رکھنے والے 25 سالہ
ماسٹر سارجنٹ ایتے ازولے کی ہلاکت کا اعلان کیا ہے۔ ازولے اس جنگ میں ہلاک ہونے
والے دسویں اسرائیلی فوجی ہیں۔
لبنان پر حملہ کرنے کا ایک اور کلیدی جواز حزب
اللہ کی طرف سے تقریباً روزانہ کی بنیاد پر کیے جانے والے راکٹ فائر کو روکنا ہے
جو اس گروپ نے گذشتہ سال 7 اکتوبر کے بعد حماس کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر شروع
کیا تھا۔
تاہم اسرائیل اب تک اپنے اس مقصد میں کامیاب نہیں رہا ہے۔ گذشتہ رات حزب اللہ نے شمالی اسرائیل پر مزید راکٹ فائر کیے۔ ان راکٹوں
کا نشانہ ہاکارمل اور ہامفرٹز جیسے علاقے
بھی تھے جو سرحد سے کافی دور اور قدرے محفوظ تصور کیے جاتے ہیں۔
اسرائیلی دفاعی نظام تمام راکٹوں کو روکنے میں ناکام
رہا اور ایک راکٹ حیفہ شہر میں بھی گرا۔
غزہ سے اسرائیل پر چار راکٹ فائر کیے گئے ہیں: اسرائیلی فوج
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ کچھ دیر قبل جنوبی غزہ کی
پٹی سے اسرائیل کی جانب چار راکٹ فائر کیے گئے تھے۔
ان کے مطابق اسرائیلی فضائیہ تین راکٹوں کو روکنے
میں کامیاب رہی جبکہ ایک کھلے علاقے میں گرا۔
اس سے قبل لبنان کی عسکریت پسند تنظیم حزب اللہ کی جانب سے داغے گئے
راکٹ اسرائیل کے شہروں حیفہ اور تبریاس پر گرے جس کے نتیجے میں پانچ افراد زخمی
ہوئے ہیں۔
بی بی سی فارسی کے
مطابق اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ حزب اللہ کی
طرف سے فائر کیے گئے پانچ راکٹ کس طرح ملک کے فضائی دفاع نظام کو چکمہ دینے میں
کامیاب رہے۔
خبر رساں ادارے
روئٹرز کے مطابق حزب اللہ نے کہا کہ اس نے حیفہ کے جنوب میں ایک فوجی اڈے کو نشانہ
بنانے کے لیے ’فادی 1‘ میزائل استعمال کیے
ہیں۔
لبنان-اسرائیل سرحد پر جھڑپیں، ایک اسرائیلی فوجی ہلاک
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اسرائیل-لبنان کی سرحد پر
لڑائی کے دوران اس کا ایک فوجی مارا گیا ہے جب کہ دو شدید زخمی ہوئے ہیں۔
گذشتہ ہفتے پیر کے روز اسرائیلی فوج نے لبنان میں ایران
کے حمایت یافتہ گروپ حزب اللہ کے خلاف زمینی حملے شروع کیے تھے تب سے سرحد پار لڑائی
جاری ہے۔
اسرائیلی فوج کا غزہ میں موجود حماس کے اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
اسرائیلی فوج کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ آئی ڈی ایف غزہ کی پٹی میں موجود حماس کے اہداف کو نشانہ بنا رہی ہے۔
آئی ڈی ایف کا کہنا ہے کہ یہ حملے حماس کی جانب سے ’فوری خطرے‘ کے جواب میں تھے۔
اسرائی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے غزہ بھر
میں حماس کے زیر استعمال لانچروں اور زیر زمین راستوں پر حملہ کیا ہے جب کہ فضائیہ نے
غزہ کی پٹی میں ایسے اہداف پر حملہ کیے ہیں جو علاقے میں سرگرم آئی ڈی ایف فورسز
کے لیے ’خطرہ‘ تھے۔
اس سے قبل اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے وسطی غزہ کی
پٹی میں دیر البلاح میں واقع الاقصی ہسپتال کے اندر سے کام کر رہے حماس کے ارکان کو
نشانہ بنایا ہے۔
آئی ڈی ایف کا کہنا ہے کہ حماس ان کمانڈ اینڈ کنٹرول
سینٹرز کو اسرائیلی فوجیوں کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی کے لیے استعمال کر رہی تھی۔
اس کا کہنا ہے کہ اس نے حملوں سے قبل شہریوں کے تحفظ
کے لیے اقدامات اٹھائے تھے جن میں ’فضائی نگرانی، اور اضافی انٹیلی
جنس معلومات‘ کا استعمال شامل ہے۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ یہ اس بات ثبوت ہے کہ حماس
’بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی
میں شہری بنیادی ڈھانچے کے منظم غلط استعمال کر رہی ہے۔
حزب اللہ کے اسرائیلی شہروں حیفہ اور تبریاس پر راکٹ حملے، پانچ افراد زخمی
،تصویر کا ذریعہReuters
لبنان کی عسکریت پسند تنظیم حزب اللہ کی جانب سے داغے
گئے راکٹ اسرائیل کے شہروں حیفہ اور تبریاس پر گرے جس کے نتیجے میں پانچ افراد زخمی
ہوئے ہیں۔
بی بی سی فارسی کے مطابق اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ
وہ اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ حزب اللہ کی طرف سے فائر کیے گئے پانچ راکٹ کس
طرح ملک کے فضائی دفاع نظام کو چکمہ دینے میں کامیاب رہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق حزب اللہ نے کہا کہ
اس نے حیفہ کے جنوب میں ایک فوجی اڈے کو ’فادی
1‘ میزائلوں سے نشانہ بنایا۔
بی بی سی فارسی کے مطابق حز ب اللہ کی جانب سے داغے
گئے راکٹ ایک ریستوران، ایک گھر اور ایک مرکزی سڑک پر گرے۔
دوسری جانب شمالی اسرائیل کے شہر تبریاس میں ایک راکٹ
پھٹنے سے ایک شخص زخمی ہو گیا۔ حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اس کا ہدف اسرائیلی فوجی تنصیبات تھیں۔
دریں اثنا، اسرائیل نے اتوار کی رات بیروت کے جنوبی
علاقوں کے ساتھ ساتھ مشرقی لبنان کی وادی بیکا میں مزید فضائی حملے کیے ہیں۔
اسرائیل میں فائرنگ سے خاتون پولیس اہلکار ہلاک، 10 زخمی
،تصویر کا ذریعہIsraeli police
جنوبی اسرائیل کے شہر بیر شیبہ میں فائرنگ کے نتیجے میں ایک خاتون پولیس اہلکار ہلاک اور 10 دیگر زخمی ہو گئے ہیں۔
مقامی حکام کے مطابق حملہ آور کو جائے وقوعہ پر گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ شہر کے مرکزی بس سٹیشن پر ہونے والے اس حملے کو پولیس ’مشتبہ دہشت گردانہ حملہ‘ قرار دے رہی ہے۔ حملہ بیر شیبہ کے مرکزی بس سٹیشن ٹرمینل کے اندر واقع میکڈونلڈ کے قریب ہوا ہے اور یہاں کئی دکانیں اور ریستورانٹس ہیں۔
حملے میں ہلاک ہونے والے کی شناخت 19 سالہ شیرا چایا سسلک کے نام سے کی گئی ہے۔ وہ اسرائیل کی سرحدی پولیس میں سارجنٹ تھیں۔
اسرائیلی ایمبولینس سروس کے مطابق حملے میں دس افراد زخمی بھی ہوئے جن میں سے کچھ کو گولی لگنے سے زخم آئے ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تفتیش سے معلوم ہوا ہے حملہ آور کو موقع پر موجود سکیورٹی فورسز نے ’چند سیکنڈوں میں ہلاک کر دیا تھا۔‘
حملے کے فوراً بعد، اسرائیل کے وزیر ٹرانسپورٹ میری ریجیو نے ’دہشت گردوں‘ کے خاندانوں کو ملک سے نکالنے کا مطالبہ کر دیا۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک پیغام میں ان کا کہا تھا کہ وقت آگیا ہے کہ اسرائیلی سرزمین پر حملوں کو روکنے کے لیے عبرتناک سزا دی جائے۔
گذشتہ ہفتے تل ابیب میں فائرنگ اور چاقو حملے کے ایک واقعے میں سات اسرائیلی ہلاک جبکہ 16 زخمی ہوگئے تھے۔ یہ حملہ اس وقت ہوا تھا جب ایران کا اسرائیل کے خلاف میزائل حملہ جاری تھا۔
اسرائیلی پولیس اور شین بت سکیورٹی سروس کے مشترکہ بیان میں بتایا تھا کہ ’دو دہشتگرد ٹرین کی ایک بوگی سے اترے، مسافروں پر فائرنگ شروع کی جبکہ راہ چلتے افراد کو بھی نشانہ بنایا۔‘
مشترکہ بیان کے مطابق ’یہ دہشتگرد 19 برس کے محمد مسک (جو موقع پر ہی مارے گئے) اور 25 برس کے احمد ہیمانی (جو شدید زخمی ہیں) تھے۔‘
بیان میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ’دونوں حملہ آور بیت الخلیل کے رہائشی تھے اور ان کے پاس ایک M16 رائفل، متعدد میگزین اور ایک چاقو تھا۔‘