آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

ایران نے سکیورٹی چیف علی لاریجانی کی ہلاکت کی تصدیق کر دی

ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹریٹ نے کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی کے اسرائیلی حملے میں مارے جانے کی تصدیق کر دی ہے۔ تنظیم نے ایک بیان میں کہا ہے کہ علی لاریجانی اپنے بیٹے مرتضیٰ لاریجانی، کونسل کے ڈپٹی سیکورٹی آفیسر علی رضا بیات اور محافظوں کے ایک گروپ کے ساتھ مارے گئے۔ پاسداران انقلاب نے اس سے قبل بسیج کمانڈر کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔

خلاصہ

  • ایران نے سکیورٹی چیف علی لاریجانی کی ہلاکت کی تصدیق کر دی
  • پاسداران انقلاب نے پہلے بسیج کمانڈر کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی
  • چین نے اعلان کیا ہے کہ تین ہفتوں سے مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے درمیان وہ خطے کے ممالک کو انسانی امداد فراہم کرے گا
  • یورپی رہنماؤں کا اسرائیل اور حزب اللہ سے 'پائیدار سیاسی حل' کے لیے بات چیت شروع کرنے کا مطالبہ
  • بغداد میں امریکی سفارتخانے پر ڈرون اور راکٹ حملے
  • خامنہ ای بیٹے کے اقتدار میں آنے سے متعلق شکوک و شبہات رکھتے تھے: امریکی انٹیلی جنس رپورٹس میں دعویٰ
  • زیادہ دیر نہیں لگے گی، یہ جنگ جلد ختم ہو جائے گی: ڈونلڈ ٹرمپ

لائیو کوریج

  1. ایران حملے روک دے تو سفارت کاری کے ذریعے کوئی راستہ نکال سکتے ہیں: قطر

    قطر کا کہنا ہے کہ سفارت کاری تبھی ممکن ہے اگر ایران حملے کرنا بند کر دے۔

    قطری وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری کا کہنا ہے کہ ’اگر وہ حملے روک دیتے ہیں، تو ہم سفارت کاری کے ذریعے کوئی راستہ نکال سکتے ہیں۔ لیکن جب تک ہمارے ممالک پر حملے ہوتے رہیں گے، تو یہ کمیٹیاں قائم کرنے کا وقت نہیں ہے۔‘

    ’یہ وقت ہے کہ ہم اپنے ممالک کی حفاظت کے لیے ایک اصولی موقف اختیار کریں اور ان کے لیے کہ وہ فوری طور پر ہم پر حملے کرنا بند کر دیں۔‘

    ماجد الانصاری جس کمیٹی کا حوالہ دے رہے ہیں اس کی کی تجویز ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے دی تھی تاکہ خلیجی ریاستوں میں شہری انفراسٹرکچر پر ہونے والے حملوں کی تحقیقات کی جا سکے۔ ایران ان حملوں میں ملوث ہونے کی تردید کرتا آیا ہے۔ ماجد الانصاری اس بات کو صاف طور پر مسترد کرتے ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ جنگ کے آغاز سے اب تک شہری اہداف پر حملے اور ان کے خلاف دھمکیوں کا سلسلہ رکا نہیں ہے۔ انھوں نے سنیچر کے روز داغے گئے ایک میزائل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کا نشانہ دوحہ کا ایک رہائشی علاقہ تھا۔

    ان کا کہنا ہے کہ اس وقت انخلا کے احکامات جاری کرنے کا فیصلہ جزوی طور پر ایرانی میڈیا میں چلنے والی ان خبروں کے بعد کیا گیا تھا جن میں کہا گیا تھا کہ رہائشی اور تجارتی علاقوں میں واقع مخصوص کمپنیوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔

    ان علاقوں میں گوگل، امریکن ایکسپریس اور مائیکروسافٹ جیسی امریکی کمپنیوں کے دفاتر واقع تھے۔

    الانصاری کا کہنا ہے کہ قطر بحران کو کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن وہ اس وقت امریکہ اور ایران کے درمیان کسی باضابطہ ثالثی سے آگاہ نہیں۔

  2. آبنائے ہرمز کی بندش سے نمٹنے میں نیٹو کا کوئی کردار نہیں بنتا، جرمن وزیرِ خارجہ

    جرمن وزیر خارجہ جوہان وڈیفول کا کہنا ہے کہ انھیں آبنائے ہرمز کی بندش سے نمٹنے میں نیٹو کا کوئی کردار نہیں دکھائی دیتا۔

    ’مجھے نہیں دکھائی دیتا کہ نیٹو نے اس متعلق کوئی فیصلہ کیا ہے یا آبنائے ہرمز کے حوالے سے کوئی ذمہ داری لے سکتا ہے۔‘ ان کا کہنا ہے کہ اگر ایسا ہوتا تو نیٹو کے ادارے اس کے مطابق اس سے نمٹ رہے ہوتے۔

    وہ برسلز میں یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے اجلاس سے قبل اظہار خیال کر رہے تھے۔

    وڈیفل کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی غیر مستحکم صورت حال کے باوجود یورپ کی اولین سکیورٹی ترجیح یوکرین ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ جب تیل اور گیس کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو اس سے کو فائدہ پہنچتا ہے۔

    جرمن وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ روس پر پابندیوں میں نرمی غلط راستہ ہے۔

  3. افغانستان تمام مسلم ممالک کے ساتھ ’مضبوط اور مثبت تعلقات‘ کا خواہاں ہے: افغان طالبان کے رہبرِ اعلیٰ کا پیغام

    افغانستان میں برسرِ اقتدار افغان طالبان کے رہبرِ اعلیٰ ہبت اللہ اخونزادہ کا کہنا ہے کہ افغانستان تمام مسلم ممالک کے ساتھ اسلامی اخوت کی بنیاد پر مضبوط اور مثبت تعلقات کا خواہاں ہے۔

    سوموار کے روز افغان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر اخونزادہ کا عید کے موقع پر جاری بیان شیئر کیا۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ افغانستان دیگر ممالک کے ساتھ اسلامی اصولوں کی بنیاد پر اچھے اور فائدہ مند تعلقات قائم رکھنے کا خواہشمند ہے۔

    اپنے پیغام میں ہیبت اللہ اخونزادہ نے کہا ہے کہ ہم تمام ممالک سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ’وہ افغانستان کے عوام کے عقائد اور اقدار کا احترام کریں اور ہمارے اندرونی معاملات میں مداخلت سے گریز کریں۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ افغانستان دنیا میں کہیں بھی مسلمانوں کے ساتھ ہونے والی تمام ناانصافیوں اور حقوق کی خلاف ورزیوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔

  4. آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے لیے اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں، جنگ کو ’پوتن کے لیے منافع‘ کا باعث نہیں بننے دے سکتے: برطانوی وزیرِ اعظم

    برطانیہ کے وزیرِ اعظم سر کیئر سٹارمر کا کہنا ہے کہ برطانیہ کی پہلی ترجیح خطے میں موجود اپنے شہریوں کی حفاظت ہے۔

    سوموار کے روز پریس کانفرنس کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اب تک 92٫000 برطانوی شہریوں کو واپس لایا جا چکا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ برطانیہ اس بڑی جنگ میں شامل نہیں ہو گا۔

    کیئر سٹارمر کا کہنا ہے کہ یہ تو واضح ہے کہ امریکی کارروائیوں کے نتیجے میں ایرانی حکومت کی فوجی صلاحیتیں ’بہت کمزور‘ ہوئی ہیں۔

    تاہم ان کا کہنا ہے کہ تنازعے کے اختتام کے بعد ایران کو جوہری پروگرام دوبارہ شروع کرنے سے روکنے اور بین الاقوامی جہاز رانی کو محفوظ بنانے کے لیے کسی نہ کسی قسم کے ’معاہدے‘ کی ضرورت ہو گی۔

    ان کا کہنا ہے کہ مارکیٹ میں استحکام کو یقینی بنانے کے لیے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی ضرورت ہے تاہم ’یہ کوئی آسان کام نہیں‘۔

    برطانوی وزیرِ اعظم کا کہنا ہے کہ برطانیہ خطے میں جہازوں کے آزادانہ نقل و حمل کو بحال کرنے کے لیے ایک ’قابل عمل منصوبہ‘ لانے کے لیے اپنے ’تمام اتحادیوں‘ کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔

    سٹارمر کا کہنا ہے کہ برطانوی فوجیوں کی تعیناتی کا فیصلہ کرنا کسی بھی وزیر اعظم کے لیے سب سے مشکل کام ہے۔

    برطانوی وزیرِ اعظم کا کہنا ہے کہ آج صبح ان کی کینیڈا کے وزیرِ اعظم مارک کارنی سے ملاقات ہوئی ہے اور وہ جلد ہی یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی سے بھی ملاقات کریں گے۔

    ان کا کہنا ہے کہ یہ بہت ضروری ہے کہ ہم یوکرین کی حمایت پر توجہ مرکوز رکھیں۔

    سٹارمر نے مزید کہا کہ مشرق وسطیٰ میں جنگ کو ’پوتن کے لیے منافع‘ کا باعث بننے نہیں دیا جا سکتا۔

  5. مشرق وسطیٰ میں جنگ اور تیل کی بڑھتی قیمتیں: پاکستان سٹاک ایکسچینج میں 4687 پوائنٹس تک کی کمی, تنویر ملک ، صحافی

    پاکستان سٹاک ایکسچینج میں سوموار کے روز مندی کا رجحان دیکھنے میں آیا اور سٹاک ایکسچینج 100 انڈیکس 4697 پوائنٹس تک کی کمی کے بعد 149187 پوائنٹس کی سطح تک گر گیا۔

    سٹاک ایکسچینج میں حصص کا کاروبار نہ صرف فروخت کے دباؤ کا شکار رہا بلکہ اس کا حجم بھی کم رہا۔

    مارکیٹ میں جاری مندی کے رجحان کے متعلق ایک تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امریکہ اور اسرائیل کی ایران سے جنگ کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کا سٹاک ایکسچینج پر بڑا منفی اثر پڑا ہے۔

    تجزیہ کار جبران سرفراز کہتے ہیں کہ اب تیل کی تنصیبات بھی مشرق وسطیٰ میں ہونے والی جنگ کی زد میں آرہی ہیں جو تیل کی قیمتوں میں اضافے کا باعث بن رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کا منفی اثر پاکستان جیسے تیل کی درآمد پر انحصار کرنے والے ملکوں پر پڑ رہا ہے اور یہ اثر سٹاک ایکسچینج میں کاروبار پر بھی ہوا ہے۔

    تجزیہ کار شہر یار بٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جنگ اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کے علاوہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان سٹاف لیول معاہدے پر مذاکرات کا بے نتیجہ رہنا بھی سٹاک ایکسچینج کے لیے منفی رجحان کا باعث رہا۔

    ان کا کہنا ہے کہ اس کے علاوہ اگلے ماہ پاکستان نے غیر ملکی قرضوں کی دو بڑی ادائیگیاں کرنی ہیں جس کی وجہ سے روپیہ دباؤ کا شکار ہو سکتا ہے اور یہ مارکیٹ کے لیے منفی ثابت ہو رہا ہے۔

  6. رحیم یار خان: دکان کی چھت گرنے سے آٹھ خواتین ہلاک، 30 زخمی

    پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر رحیم یار خان میں ایک عمارت کی چھت گرنے سے ہلاک ہونے والی خواتین کی تعداد آٹھ ہو گئی ہے۔

    ریسکیو 1122 کے مطابق رحیم یار خان کے چک 125 پی میں یہ واقعہ پیر کو اُس وقت پیش آیا جب کئی خواتین بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت امدادی رقوم لینے کے لیے ایک دکان میں موجود تھیں۔

    واقعے کے بعد ریسکیو 1122، ایدھی اور دیگر امدادی اداروں کی ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا۔

    ریسکیو 1122 کے ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر کے مطابق اس واقعے میں 70 سے زائد خواتین زخمی بھی ہوئی ہیں جن میں سے 57 کو شیخ زید ہسپتال منتقل کیا گیا۔

    ترجمان ضلعی انتظامیہ کے مطابق زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں جبکہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔

    ریسکیو 1122 کے مطابق بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت قسط وصول کرنے کے لیے 200 سے زائد خواتین چھت پر موجود تھیں جو کمزور ہونے کی وجہ سے گر گئی۔

    زخمی خواتین کو شیخ زید ہسپتال منتقل کیا گیا ہے اور ہسپتال میں ایمرجنسی بھی نافذ کر دی گئی ہے۔

  7. اسرائیل کا ایرانی شہروں تہران، شیراز اور تبریز پر ’وسیع پیمانے‘ پر حملوں کا اعلان

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے نے ایران کے کچھ حصوں پر ’وسیع پیمانے پر‘ حملوں کی ایک نئی لہر شروع کر دی ہے۔

    میسجنگ ایپ ٹیلیگرام پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی فوج کا کہنا ہے: ’آئی ڈی ایف (اسرائیل ڈیفنس فورس) نے ابھی تہران، شیراز اور تبریز میں ایرانی دہشت گرد حکومت کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے لیے وسیع پیمانے پر حملوں کا آغاز کیا ہے۔‘

    امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے جاری ہیں اور رات گئے تہران میں شدید بمباری کی اطلاعات ہیں۔

    دوسری جانب خلیجی ممالک سے بھی گذشتہ رات مزید ایرانی حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

  8. اسرائیلی فوج کا تہران کے مہر آباد ہوائی اڈے پر حملے میں علی خامنہ ای کے طیارے کو تباہ کرنے کا دعویٰ

    اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے گذشتہ رات تہران کے مہر آباد ہوائی اڈے پر حملے کے دوران ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کے زیر استعمال طیارے کو تباہ کر دیا ہے۔

    اسرائیلی فوج کے مطابق اس طیارے کو ایران کے دیگر اعلیٰ حکام اور فوجی اہلکاروں کی جانب سے ہتھیاروں کی خریداری اور اتحادی ممالک کے ساتھ تعاون کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔

    دوسری جانب، اسرائیلی فوج کے لیے ایران میں اہم اہداف میں سے ایک میزائل لانچر ہیں۔ ایک اسرائیلی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اب تک 70 فیصد میزائل لانچرز کو یا تو تباہ کیا جا چکا ہے یا پھر وہ استعمال کے قابل نہیں رہے۔

  9. ایران پر امریکہ اور اسرائیل کا حملہ نیٹو کی جنگ نہیں: برطانوی وزیر

    برطانوی وزیر برائے ورکس اور پنشن کے پیٹ مِک فیڈن کا کہنا ہے کہ نیٹو کے دفاعی اتحاد کا قیام ’اس قسم کی صورت حال کو ذہن میں رکھ کر نہیں کیا گیا تھا جیسی ہم مشرق وسطیٰ میں دیکھ رہے ہیں۔‘

    نیٹو کی بنیاد امریکہ اور برطانیہ سمیت 12 ممالک نے 1949 میں رکھی تھی اور اس کے بنیادی اصولوں میں سے ایک آرٹیکل پانچ ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ایک ملک کے خلاف حملہ سب کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔

    اس سے قبل برطانیہ کے سابق چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل سر نک کارٹر نے کہا تھا کہ نیٹو ایسا اتحاد نہیں جس میں اتحادیوں میں سے کوئی ایک اپنی مرضی سے جنگ شروع کرے اور پھر باقی سب کو اس میں شامل ہونے پر مجبور کیا جائے۔

    جب مِک فیڈن سے پوچھا گیا کہ کیا وہ اس سے متفق ہیں، ان کا کہنا تھا کہ جنرل کارٹر ٹھیک‘ کہہ رہے ہیں اور انھوں نے موجودہ تنازع کو ’نیٹو جنگ نہیں‘ بلکہ ’امریکی اور اسرائیلی کارروائی‘ قرار دیا۔

  10. دبئی ایئرپورٹ سے پروازیں بتدریج دوبارہ شروع کی جا رہی ہیں: حکام

    دبئی حکام کا کہنا ہے کہ’ڈرون سے متعلقہ واقعے‘ کے بعد مسافروں اور عملے کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے دبئی ایئرپورٹ پر نافذ کی گئی پروازوں کی عارضی معطلی ختم کردی گئی ہے اور پروازیں بتدریج دوبارہ شروع کی جا رہی ہیں۔

    دبئی میڈیا آفس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ دبئی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے منتخب مقامات کے لیے کچھ پروازیں بتدریج دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    مسافروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنی پروازوں کے متعلق تازہ ترین اپ ڈیٹس کے لیے اپنی ایئر لائنز سے رابطہ کریں۔

    دبئی ایئر پورٹ پر’ڈرون سے متعلقہ واقعے‘ کے بعد لگنے والی آگ سے ایک فیول ٹینک متاثر ہوا تھا جس کے بعد پروازیں عارضی طور پر معطل کردی گئی تھیں۔

    دبئی ایئر پورٹ کا شمار دُنیا کے مصروف ترین ہوائی اڈوں میں ہوتا ہے۔ سنہ 2025 میں اس کے ذریعے نو کروڑ مسافروں نے سفر کیا تھا۔

  11. ایرانی وزیرِ خارجہ کا امریکی اور اسرائیلی جارحیت کے خلاف حمایت پر پاکستان کا شکریہ

    ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے امریکہ اور اسرائیلی رجیم کی جارحیت کے مقابلے میں حمایت پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا ہے۔

    عباس عراقچی کے ایکس اکاؤنٹ سے اردو زبان میں جاری ایک پیغام میں کہا گیا ہے کہ ’ان بابرکت، الٰہی اور روحانی دنوں اور گھڑیوں میں، میں حکومت اور عوامِ پاکستان کا تہہِ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انھوں نے امریکہ اور صہیونی رجیم کی جارحیت کے مقابلے میں عوام اور حکومتِ اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ اپنی یکجہتی اور حمایت کا بھرپور اظہار کیا۔‘

  12. ٹرمپ کی شی جنپنگ کے ساتھ ملاقات ملتوی کرنے کی دھمکی کے بعد چین کا مشرقِ وسطیٰ میں فوجی کارروائیاں روکنے کا مطالبہ

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اپنے چینی ہم منصب شی جنپنگ کے ساتھ سربراہی ملاقات ملتوی کرنے کی دھمکی کے بعد چین نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ میں ملوث تمام فریقین سے فوجی کارروائیاں فوری بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    اس سے قبل صدر ٹرمپ نے برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں دھمکی دی تھی کہ اگر بیجنگ آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے کے لیے مدد نہیں بھیجتا تو وہ صدر شی جن پنگ کے ساتھ سربراہی ملاقات ملتوی کر سکتے ہیں۔

    امریکی صدر کے بیان کے متعلق ایک سوال پر چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ سربراہوں کی سطح پر ہونے والی سفارت کاری چین امریکہ تعلقات میں ایک ناقابل تلافی سٹریٹجک رہنمائی کا کردار ادا کرتی ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ ’دونوں فریقین کے درمیان صدر ٹرمپ کے دورے کے حوالے سے رابطے برقرار ہیں۔‘

    ٹرمپ کی جانب سے آبنائے میں جنگی جہاز بھیجنے کے مطالبے کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں لن جیان کا کہنا تھا کہ حالیہ کشیدگی نے تجارتی راستوں کو متاثر کیا ہے اور اس سے علاقائی اور عالمی امن کو نقصان پہنچا ہے۔

    ترجمان کا کہنا ہے کہ ’چین تمام فریقوں سے فوری طور پر فوجی کارروائیاں بند کرنے کے اپنے مطالبے کا اعادہ کرتا ہے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم کشیدگی کم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔‘

  13. رحیم یار خان: ریٹیلر شاپ کی چھت گرنے سے پانچ خواتین ہلاک، 30 زخمی

    پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر رحیم یار خان میں عمارت کی چھت گرنے سے پانچ خواتین ہلاک جبکہ 30 زخمی ہو گئی ہیں۔

    ریسکیو 1122 کے مطابق رحیم یار خان کے چک 125 پی میں یہ واقعہ پیر کو اُس وقت پیش آیا جب کئی خواتین بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت امدادی رقوم لینے کے لیے ایک ریٹیلر شاپ کی چھت موجود تھیں۔

    ریسکیو 1122، ایدھی اور دیگر امدادی اداروں کی ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا۔

    ترجمان ضلعی انتظامیہ کے مطابق زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں جبکہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔

    ریسکیو 1122 کے مطابق بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت قسط وصول کرنے کے لیے 200 سے زائد خواتین چھت پر موجود تھیں جو کمزور ہونے کی وجہ سے گر گئی۔

    زخمی خواتین کو شیخ زید ہسپتال منتقل کیا گیا ہے اور ہسپتال میں ایمرجنسی بھی نافذ کر دی گئی ہے۔

  14. سعودی وزارتِ دفاع کا 60 سے زائد ڈرونز روکنے کا دعویٰ

    سعودی وزارتِ دفاع کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ اتوار اور پیر کی درمیانی شب سعودی عرب نے اپنی سرزمین پر 60 سے زائد ڈرونز کو روکا ہے۔

    ایکس پر جاری کیے گئے بیان میں سعودی وزارت دفاع کا کہنا تھا کہ ان تمام ڈرونز کو ملک کے مشرق میں روکا گیا۔

    دوسری جانب حکام کا کہنا ہے کہ دبئی انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر لگنے والی آگ پر قابو پا لیا گیا ہے جبکہ ڈرون کے فیول ٹینک سے ٹکرانے کے بعد کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    ایران نے جنگ کے دوران متحدہ عرب امارات پر دو ہزار کے قریب میزائل اور ڈرون فائر کیے ہیں، جن میں سے زیادہ تر کو فضائی دفاعی نظام نے روکا ہے۔

  15. جاپان اور آسٹریلیا کا آبنائے ہرمز کی سکیورٹی کے لیے اپنے جہاز بھیجنے سے انکار

    آسٹریلیا اور جاپان نے آبنائے ہرمز کی سکیورٹی کے لیے اپنے جنگی بحری جہاز بھیجنے سے انکار کر دیا ہے۔

    آسٹریلیا کی وزیر ٹرانسپورٹ کیتھرین کنگ نے پیر کو ایک بیان میں کہا کہ اُن کا ملک آبنائے ہرمز میں اپنے بحری جنگی جہاز نہیں بھیجے گا۔

    وزیر ٹرانسپورٹ نے نشریاتی ادارے اے بی سی کو بتایا کہ ’ہم آبنائے ہرمز میں جہاز نہیں بھیجیں گے۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ کتنا اہم ہے، لیکن یہ وہ چیز نہیں ہے جس کے لیے ہم سے کہا گیا ہے اور یہ ایسی چیز نہیں ہے جس میں ہم اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔‘

    جاپانی وزیر دفاع شنجیرو کوئزومی نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ ایران کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر ہم میری ٹائم سکیورٹی آپریشن شروع کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔

    خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو اور اتحادی ممالک سے کہا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کی سکیورٹی کے لیے اپنے بحری جنگی جہاز بھیجیں۔

  16. لائن آف کنٹرول: انڈین فوج کا اُوڑی سیکٹر میں ’پاکستانی‘ درانداز کی ہلاکت کا دعویٰ, ریاض مسرور، بی بی سی اُردو، سرینگر

    انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے اُوڑی قصبے میں فوج نے مسلح درانداز کی ہلاکت اور بھاری مقدار میں اسلحہ برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں مقیم انڈین آرمی کی 15 ویں پندرہویں کور نےایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ بارہمولہ ضلع کے سرحدی قصبہ اُوڑی میں لائن آف کنٹرول کے قریب بوچھار علاقے میں ’آپریشن ڈِگی‘ کے تحت مسلح دراندازی کی ایک کوشش ناکام بنا دی گئی۔

    فوجی ترجمان کے مطابق گذشتہ ہفتے کشمیر پولیس کی طرف سے ممکنہ دراندازی سے متعلق ملی خفیہ اطلاعات کے بعد اس سرحدی پٹی میں’آپریشن ڈِگی‘ شروع کیا گیا جس کے دوران گذشتہ شب بوچھار کے پاس ایل او سی کے اُس پار سے آ رہے ایک مسلح ’درنداز‘ کی حرکت کو مانیٹر کیا گیا۔

    ترجمان کے مطابق فورسز نے اسے روکا تو اس نے فائرنگ کر دی اور جوابی کارروائی یہ ’پاکستانی درانداز‘ مارا گیا۔

    فوج کا دعویٰ ہے کہ مارے گئے عسکریت پسند کا تعلق پاکستان کے ساتھ ہے تاہم اس کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔ فوج کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں آپریشن ابھی جاری ہے۔

    کشمیر کو انڈیا اور پاکستان کے درمیان تقسیم کرنے والی 740 کلومیٹر طویل اور 35 کلومیٹر چوڑی عبوری سرحد یعنی لائن آف کنٹرول کا اُوڑی سیکٹر کئی دہائیوں سے اس سرحد کا حساس ترین سیکٹر رہا ہے۔

    فوج کا کہنا ہے کہ پاکستانی کنٹرول والے علاقوں سے انڈین علاقے میں دراندازی کے لیے مسلح عسکریت پسند اکثر اوقات اسی راستے کا استعمال کرتے ہیں۔

    گذشتہ برس 22 اپریل کو سیاحتی مقام پہلگام میں 24 انڈین سیاحوں کی مسلح حملے میں ہلاکت کے بعد انڈیا نے پاکستان میں مبینہ دہشت گرد ٹھکانوں کے خلاف آپریشن سندُور شروع کیا تو پاکستانی ردِعمل کے نتیجہ میں دونوں مملکوں کے درمیان ایک مختصر جنگ ہوئی۔

    اس کشیدگی کے بعد سرحدی علاقوں میں گشت مزید بڑھا دیا گیا تھا۔ دراندازی کے تازہ واقعہ سمیت اس سال فروری سے ابھی تک ایسے چار واقعات رونما ہوئے ہیں جن میں سے تین راجوری اور پونچھ اضلاع کے سیکٹروں میں ہوئے۔

  17. خامنہ ای بیٹے کے اقتدار میں آنے سے متعلق شکوک و شبہات رکھتے تھے: امریکی انٹیلی جنس رپورٹس میں دعویٰ

    متعدد ذرائع نے بی بی سی کے امریکی میڈیا پارٹنر سی بی ایس نیوز کو بتایا ہے کہ امریکہ کی جانب سے نئی انٹیلی جنس سے پتہ چلتا ہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اپنے بیٹے کو اپنا جانشین بنانے سے متعلق شکوک و شبہات رکھتے تھے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خامنہ ای کو اپنے بیٹے مجتبی خامنہ ای کے اقتدار سنبھالنے کے بارے میں خدشات تھے کیونکہ انھیں لیڈر بننے کے لیے ’نااہل‘ سمجھا جاتا تھا۔

    ذرائع نے سی بی ایس کو یہ بھی بتایا کہ خامنہ ای جانتے تھے کہ ان کے بیٹے کی ’ذاتی زندگی میں مسائل‘ ہیں۔

    سی بی ایس نے اطلاع دی ہے کہ یہ معلومات پہلے ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے قریبی حلقوں کو پہنچا دی گئی تھیں۔

    56 سالہ آیت اللہ مجبتی خامنہ ای کو گذشتہ ہفتے کے آخر میں ایران کا سپریم لیڈر منتخب کیا گیا تھا۔

  18. ایران کے ساتھ براہ راست بات چیت کے بعد دو بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت ملی: انڈین وزیرِ خارجہ جے شنکر

    انڈیا کے وزیرِ خارجہ جے شنکر کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ براہ راست بات چیت کی وجہ سے انڈین بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے میں مدد ملی ہے۔

    فنانشل ٹائمز کو دیے گئے انٹرویو میں جے شنکر کا کہنا تھا کہ نئی دہلی اور تہران کے مابین ہونے والے مذاکرات میں سنیچر کو دو انڈین پرچم بردار گیس ٹینکرز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی گئی۔

    اُن کا کہنا تھا کہ میں ایرانی حکام کے ساتھ بات چیت کے کچھ نتائج برآمد ہوئے ہیں۔

    واضح رہے کہ انڈیا گھروں میں استعمال ہونے والی مائع پیٹرولیم گیس کا لگ بھگ 60 فیصد درآمد کرتا ہے۔ ان میں 90 فیصد سپلائی خلیجی ممالک بشمول سعودی عرب اور محتدہ عرب امارات سے آتی ہے۔ اس ایندھن کی زیادہ ترسیل آبنائے ہرمز سے ہوتی ہے۔

    30 کروڑ سے زائد انڈین گھرانے کھانا پکانے کے لیے ایل پی جی سلنڈر استعمال کرتے ہیں۔

    سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں کئی انڈین شہروں میں گیس ڈیلروں کے باہر لمبی قطاریں دکھائی دیتی ہیں، کیونکہ سپلائی میں خلل کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ کچھ ریستوران بھی قلت کی وجہ سے عارضی طور پر بند ہو گئے ہیں۔

  19. ’ڈرون سے متعلقہ واقعے‘ کے بعد فیول ٹینک میں آگ لگنے سے دبئی ایئر پورٹ پر پروازیں معطل

    دبئی میں حکام نے ’ڈرون سے متعلقہ واقعے‘ کے بعد مسافروں اور عملے کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے احتیاطی اقدام کے طور پر دبئی انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر پروازیں عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    حکام کے مطابق ’ڈرون سے متعلقہ واقعے‘ کے بعد لگنے والی آگ پر ردعمل دے رہے ہیں جس کی وجہ سے ایک فیول ٹینک متاثر ہوا ہے۔

    مسافروں کو مشورہ دیا جا رہا ہے کہ وہ پروازوں سے متعلق معلومات کے لیے ایئر لائنز سے رابطہ کریں۔

    دبئی ایئر پورٹ کا شمار دُنیا کے مصروف ترین ہوائی اڈوں میں ہوتا ہے۔ سنہ 2025 میں اس کے ذریعے نو کروڑ مسافروں نے سفر کیا تھا۔

  20. امریکہ کا آبنائے ہرمز کے تحفظ کے لیے چین سمیت ’سات ممالک‘ سے رابطہ، ’ہم منصبوں سے کہا ہے کہ اگر اُنھوں نے مدد نہ کی تو ہم یاد رکھیں گے‘، صدر ٹرمپ

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی ’پولیسنگ‘ کے لیے ’تقریباً سات‘ ممالک سے بات چیت ہوئی ہے۔

    اتوار کو فلوریڈا سے واشنگٹن واپسی کی پرواز میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’میں نے چین سے پوچھا کہ کیا آپ آنا پسند کریں گے؟ اور ہم دیکھیں گے کہ وہ کیا فیصلہ کرتے ہیں۔‘

    صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ چین تیل کی ترسیل کے لیے آبنائے ہرمز پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔

    ٹرمپ نے یہ نہیں بتایا کہ چین کے علاوہ اُن کی کس ملک سے اس حوالے سے بات چیت ہوئی ہے۔ لیکن اُن کا کہنا تھا کہ نیٹو اور دوسرے ممالک جو اس علاقے کے ذریعے اپنی توانائی کی ضروریات حاصل کرتے ہیں اُنھیں بھی ’اپنی اپنی سرزمین‘ کا دفاع کرنے کی ضرورت ہے۔

    صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’میں نے اپنے ہم منصبوں سے کہا ہے کہ اگر وہ مدد نہیں کرتے تو ہم یاد رکھِیں گے۔‘ امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ کچھ ممالک کے پاس بارودی سرنگیں رکھنے اور ایک خاص قسم کی کشتی ہے جو ہماری مدد کر سکتی ہے۔

    واضح رہے کہ سنیچر کو بھی صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا تھا کہ وہ امید کرتے ہیں چین، فرانس، جاپان، جنوبی کوریا اور برطانیہ آبنائے ہرمز میں جنگی بحری جہاز بھیجیں گے تاکہ ایران وہاں کسی قسم کا خطرہ نہ پیدا کر سکے۔

    اس پر مختلف ممالک کی جانب سے ردعمل بھی سامنے آیا تھا۔ برطانوی وزارتِ دفاع کے ترجمان نے کہا تھا کہ 'جیسا کہ ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ ہم خطے میں جہازرانی کا تحفظ یقینی بنانے کے لیے اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ متعدد آپشنز پر بات چیت کر رہے ہیں۔'

    واشنگٹن میں چینی سفارت خانے کے ترجمان نے سی این این کو بتایا تھا کہ چین فوری طور پر جنگ بندی کا مطالبہ کرتا ہے۔

    ترجمان نے یہ نہیں بتایا کہ بیجنگ ٹرمپ کی اپیل پر عمل کرے گا یا نہیں لیکن یہ ضرور کہا تھا کہ توانائی کی مسلسل اور مستحکم فراہمی کو یقینی بنانا تمام فریقوں کی ذمہ داری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چین متعلقہ فریقوں کے ساتھ رابطوں کا سلسلہ جاری رکھے گا۔

    ٹرمپ نے اپنے اس دعوے کو دہرایا کہ ایران بے چینی کے ساتھ معاہدہ چاہتا ہے، سفارتی بات چیت کے بارے میں صدر کا کہنا تھا کہ ’ہم ان سے بات کر رہے ہیں لیکن مجھے نہیں لگتا کہ وہ تیار ہیں، لیکن وہ کافی قریب آ رہے ہیں۔‘

    جب صدر ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا وہ ایران کے خلاف فتح کا اعلان کرنے کے لیے تیار ہیں؟ تو اس پر امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’ہم نے اُنھیں بہت زیادہ نقصان پہنچایا ہے اور اگر ہم نے انھیں ابھی چھوڑ دیا تو انھیں تعمیر نو کے لیے 10 سال لگیں گے۔‘