حکومتِ پاکستان کا کہنا ہے کہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر تسلی بخش ہیں اور ایندھن کی فراہمی میں کسی رکاوٹ کا خدشہ نہیں۔ ساتھ ہی حکومت توانائی کی سپلائی چین کو مزید مستحکم بنانے کے لیے درآمدی ذرائع کو متنوع بنانے پر بھی کام کر رہی ہے۔
یہ بات وزارتِ خزانہ میں پیٹرول کی قیمتوں کی نگرانی کے لیے قائم کمیٹی کے اجلاس میں بتائی گئی، جس کی صدارت وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کی۔ اجلاس میں وفاقی وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک، وفاقی وزیرِ بحری امور محمد جنید انور چوہدری، سٹیٹ بینک کے گورنر اور متعلقہ وزارتوں و اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
اجلاس میں ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ خام تیل اور ریفائن شدہ پیٹرولیم مصنوعات کے قومی ذخائر، جاری درآمدی انتظامات اور سپلائی چین کی لاجسٹکس کا جائزہ لیا گیا ہے۔
پاکستانی سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم کو بتایا گیا ہے کہ ملک
میں اس وقت 392 ہزار میٹرک ٹن کروڈ آئل کا ذخیرہ موجود ہے۔
سینیٹ سیکریٹریٹ سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پیر کو سیکریٹری
پیٹرولیم نے قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم کو بتایا کہ ملک میں اس وقت 404 ہزار میٹرک
ٹن ڈیزل اور 564 ہزار میٹرک ٹن پیٹرول موجود ہے۔
بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ بین الاقوامی صورتحال کے سبب روس پر
عائد پابندیاں ہٹنے کے بعد 11 مارچ سے پاکستان کو روس سے بھی تیل خریدنے کی اجازت
مل گئی ہے۔
تاہم سیکریٹری پیٹرولیم کا کہنا تھا کہ پاکستان کے پاس روسی تیل کے
حصول کے لیے منظم بینکنگ چینلز موجود نہیں ہیں اور اس پورے عمل میں 30 سے 40 روز
لگتے ہیں۔
’روسی آئل ٹینکرز پاکستان بندرگاہوں پر اپنے حجم
کے باعث لنگر انداز نہیں ہو سکتے، اس لیے یہ تیل پہلے عمان جاتا ہے اور پھر وہاں
سے پاکستان آتا ہے۔‘
سیکریٹری پیٹرولیم کے مطابق حکومت تیل کے ممکنہ
بحران بچنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔
دوران بریفنگ کمیٹی کو بتایا گیا کہ پاکستان
تقریباً 25 فیصد کروڈ آئل، 30 فیصد ڈیزل اور 70 فیصد پیٹرول خلیج فارس سے آبنائے
ہرمز کے ذریعے درآمد کرتا ہے اور ’اگر اس جنگ نے طول پکڑا تو پاکستان کو شاید
پیٹرولیم مصنوعات کے حصول کے لیے طویل روٹس کا سہارا لینا پڑے۔‘
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ملک میں مارچ کے مہینے کے لیے ایندھن کی ضروریات مکمل طور پر محفوظ ہیں۔ موجودہ کارگو منصوبہ بندی اور سپلائی انتظامات کے مطابق ذخائر اپریل کے وسط تک دستیاب رہیں گے، جبکہ انھیں اپریل کے اختتام تک بڑھانے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔
اجلاس میں خطے کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں درآمدی طریقہ کار اور بحری نقل و حمل کے انتظامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی نے زور دیا کہ توانائی کی قومی سپلائی چین کو مضبوط بنانے کے لیے درآمدی ذرائع کو مزید متنوع بنانا ضروری ہے تاکہ کسی ایک راستے یا ذریعہ پر انحصار کم کیا جا سکے۔
اس موقع پر وزیرِ خزانہ نے کہا کہ حکومت ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ ذخائر اور سپلائی کی صورتحال مستحکم ہے اور دستیاب رپورٹس کی روشنی میں عوام کو گھبراہٹ میں پیٹرول خریدنے یا غیر ضروری ذخیرہ اندوزی کی ضرورت نہیں۔
اجلاس میں متعلقہ حکام کو ہدایت کی گئی کہ وہ اوگرا اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر ذخائر اور مارکیٹ کی سرگرمیوں پر قریبی نظر رکھیں تاکہ ذخیرہ اندوزی کے کسی بھی امکان کو روکا جا سکے۔ حکام نے خبردار کیا کہ مصنوعی قلت پیدا کرنے یا سپلائی میں خلل ڈالنے کی کسی بھی کوشش کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔
وزیرِ خزانہ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ توانائی کی منڈی میں استحکام برقرار رکھنا حکومت کی ترجیح ہے۔ انھوں نے متعلقہ وزارتوں اور اداروں کو ہدایت کی کہ وہ باہمی رابطہ مضبوط رکھیں اور ذخائر و سپلائی کی مسلسل نگرانی جاری رکھیں تاکہ ایندھن کی فراہمی بلا تعطل جاری رہے اور عوام کو بروقت اور درست معلومات فراہم کی جا سکیں۔
کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ پیٹرولیم ذخائر، درآمدی بہاؤ، مارکیٹ کی صورتحال اور سپلائی چین کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس روزانہ کی بنیاد پر جاری رکھے جائیں گے۔