آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

انڈیا کا سندھ طاس معاہدے پر عملدرآمد معطل کرنے سمیت متعدد اقدامات کا اعلان، ’انڈیا کو ترکی بہ ترکی جواب دیں گے‘: پاکستان

پہلگام حملے کے تناظر میں انڈیا نے پاکستان کے ساتھ سندھ طاس معاہدے کو معطل، واہگہ بارڈر بند اور سفارتی عملہ محدود کرنے سمیت متعدد اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ ادھر نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ ’انڈیا کو ترکی بہ ترکی جواب دیں گے، یہ جواب کم نہیں ہو گا۔‘

خلاصہ

  • گذشتہ روز کے پہلگام حملے کے تناظر میں وزیراعظم نریندر مودی کی سربراہی میں ہونے والے سلامتی سے متعلق کابینہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد انڈیا نے پاکستان کے ساتھ سندھ طاس معاہدے کو معطل، واہگہ بارڈر بند اور سفارتی عملہ محدود کرنے سمیت متعدد اقدامات کا اعلان کیا ہے۔
  • انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے مشہور سیاحتی مقام پہلگام میں سیاحوں پر حملے میں 26 سے زیادہ افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔
  • پاکستانی دفترِ خارجہ کی جانب سے پہلگام میں سیاحوں کی ہلاکت اور دہشت گردوں کے حملے سے متعلق جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہم مرنے والوں کے لواحقین سے تعزیت کرتے ہیں اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کرتے ہیں۔‘
  • انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں دہشت گردوں کے حملے کے بعد انڈین وزیر داخلہ امت شاہ سری نگر پہنچ گئے ہیں۔ جبکہ وزیر اعظم نریندر مودی بھی سعودی عرب کے دورہ مختصر کر کے وطن واپس پہنچ گئے ہیں۔
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پیغام میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ 'کشمیر سے انتہائی پریشان کن خبر ملی ہے۔ امریکہ مضبوطی سے دہشتگردی کے خلاف (جنگ میں) انڈیا کے ساتھ کھڑا ہے۔'

لائیو کوریج

  1. امریکہ انڈیا کے زیرِانتظام کشمیر میں دہشت گردانہ حملے کی شدید مذمت اور مجرموں کو جوابدہ ٹھہرانے کا مطالبہ کرتے ہیں: امریکی دفترِ خارجہ

    امریکی دفترِ خارجہ کے جنوبی اور وسطی ایشیائی امور کے ایکس اکاؤنٹ پر جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’امریکہ کشمیر میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے کی شدید مذمت کرتا ہے۔ سیاحوں اور شہریوں کے قتل کے اس طرح کے گھناؤنے عمل کا کوئی جواز پیش نہیں کر سکتا۔ ہماری ہمدردیاں ان لوگوں کے ساتھ ہیں جنھوں نے اپنے پیاروں کو کھو دیا ہے۔ ہم صورتحال کی نگرانی جاری رکھے ہوئے ہیں اور مجرموں کو جوابدہ ٹھہرانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔‘

    دوسری جانب وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کارولن لیویٹ کا کہنا تھا کہ ’صدر کو قومی سلامتی کے مشیر کی جانب سے انڈیا کے زیرِانتظام پیش آنے والے دہشت گردی کے واقع سے متعلق بریفنگ دی گئی ہے اور مزید حقائق سامنے آنے کے بعد اس پر تفصیلی بیان بھی جاری کیا جائے گا۔ ہم پہلے ہی جانتے ہیں کہ انڈیا کے زیرِ انتظام جنوبی کشمیر کے ایک مشہور سیاحتی مقام پر ایک وحشیانہ دہشت گردانہ حملے میں درجنوں افراد ہلاک اور اس سے بھی زیادہ زخمی ہوئے تھے۔‘

    اُن کا بریفنگ میں مزید کہنا تھا کہ ’صدر ٹرمپ جتنی جلدی ممکن ہو سکے گا وزیر اعظم مودی سے بات کریں گے اور ہلاک شدگان کے لئے اپنی دلی تعزیت کا اظہار کریں گے اور ہماری دعائیں زخمیوں کے ساتھ ہیں اور ہمارے اتحادی انڈیا کے لئے ہماری قومی حمایت جاری رہے گی۔‘

    وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کارولن لیویٹ کا کہنا تھا کہ ’دہشت گردوں کی جانب سے اس طرح کے ہولناک واقعات کی وجہ سے ہم میں سے وہ لوگ جو دنیا میں امن اور استحکام کے لئے کام کرتے ہیں اپنا مشن جاری رکھیں گے۔‘

    واضح رہے کہ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پیغام میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’کشمیر سے انتہائی پریشان کن خبر ملی ہے۔ امریکہ مضبوطی سے دہشتگردی کے خلاف (جنگ میں) انڈیا کے ساتھ کھڑا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ امریکہ ہلاک ہونے والے افراد اور زخمیوں کی صحتیابی کے لیے دعا گو ہے۔

    ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’وزیر اعظم مودی اور انڈیا کے عظیم لوگوں کو ہماری مکمل حمایت اور گہرے دل سے ہمدردیاں حاصل ہیں۔‘

  2. ٹرمپ کی پہلگام حملے کی مذمت: ’امریکہ انڈیا کے ساتھ کھڑا ہے‘

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں ایک حملے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ ان کا ملک دہشتگردی کے خلاف جنگ میں انڈیا کے ساتھ کھڑا ہے۔

    خبر رساں روئٹرز کے مطابق اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پیغام میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’کشمیر سے انتہائی پریشان کن خبر ملی ہے۔ امریکہ مضبوطی سے دہشتگردی کے خلاف (جنگ میں) انڈیا کے ساتھ کھڑا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ امریکہ ہلاک ہونے والے افراد اور زخمیوں کی صحتیابی کے لیے دعا گو ہے۔

    ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’وزیر اعظم مودی اور انڈیا کے عظیم لوگوں کو ہماری مکمل حمایت اور گہرے دل سے ہمدردیاں حاصل ہیں۔‘

  3. انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں حملہ: ہمیں اب تک کیا معلوم ہے؟

    • انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے حکام کا کہنا ہے کہ سیاحتی مقام پہلگام میں مسلح افراد کی فائرنگ سے دو درجن سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
    • خطے کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کا کہنا ہے کہ کشمیر میں مقامی سیاحوں کے گروہ پر حملہ حالیہ برسوں میں عام شہریوں پر ’سب سے بڑا حملہ‘ ہے۔
    • وزیر اعظم نریندر مودی نے حملے میں ملوث عناصر کو ’انصاف کے کٹہرے میں لانے‘ کا وعدہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ کا عزم مزید مضبوط ہو جائے گا۔
    • مودی نے کہا ہے کہ وزیر داخلہ امت شاہ انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے دارالحکومت سرینگر جائیں گے اور وہاں ہنگامی سکیورٹی اجلاس بلائیں گے۔
    • خطے کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کا کہنا ہے کہ علاقے میں پولیس اور فوج کو تعینات کیا گیا ہے
    • تاحال کسی گروہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ اس مسلمان اکثریتی خطے میں 1989 سے شورش جاری ہے۔ تاہم حالیہ برسوں کے دوران پُرتشدد واقعات میں کمی آئی ہے۔
    • یہ حملہ پہلگام سے پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع بائی سرن کی وادی میں ہوا اور علاقے تک سڑک کے ذریعے رسائی نہ ہونے کی وجہ سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جائے وقوعہ تک رسائی میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا ہے
    • گجرات سے تعلق رکھنے والے ایک سیاح اس گروہ کا حصہ تھے جن پر فائرنگ کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اچانک حملے سے افراتفری پھیل گئی تھی اور سب نے بھاگنا اور چیخنا شروع کر دیا تھا۔
    • انڈین میڈیا کی طرف سے شیئر کردہ ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ فوجی اہلکار جائے وقوعہ کی طرف بھاگ رہے ہیں۔ جبکہ بعض فوٹیجز میں متاثرین کہتے ہیں کہ مسلح افراد غیر مسلموں کو نشانہ بنا رہے تھے۔
  4. بریکنگ, پہلگام میں سیاحوں پر حملے میں 20 سے زیادہ ہلاکتوں کی تصدیق

    انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں حکام کے مطابق پہلگام میں سیاحوں پر مسلح افراد کے حملے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 20 سے زیادہ ہے۔

    حکام نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ حملے میں کم از کم 24 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    اطلاعات کے مطابق اس حملے میں بڑی تعداد میں لوگ زخمی بھی ہوئے ہیں جن میں سے کچھ کی حالت نازک بتائی گئی ہے۔

    انڈین میڈیا پر دکھائی جانے والی ویڈیوز میں انڈین فوجی دستے جائے وقوعہ کی جانب بھاگتے ہوئے نظر آتے ہیں جبکہ ایک اور ویڈیو میں متاثرین کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ حملہ آوروں نے صرف غیر مسلموں کو نشانہ بنایا۔

    سوشل میڈیا پر گردش کرتی ویڈیوز میں لاشوں کو ایک میدان میں دیکھا جا سکتا ہے جبکہ لوگ روتے ہوئے مدد مانگ رہے ہیں تاہم بی بی سی ان ویڈیوز کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا۔

    خطے کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کا کہنا ہے کہ یہ حالیہ برسوں میں شہریوں پر کیا جانے والا سب سے بڑا حملہ ہے۔

    خیال رہے کہ اس حملے سے قبل عام شہریوں پر حملے کا بڑا واقعہ جون 2024 میں پیش آیا تھا جب ہندو یاتریوں کی بس پر شدت پسندوں کی فائرنگ سے نو افراد ہلاک اور 33 زخمی ہوئے تھے۔

  5. بریکنگ, پہلگام میں سیاحوں کو نشانہ بنائے جانے کا یہ پہلا واقعہ نہیں

    پہلگام انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں واقع مشہور سیاحتی مقام ہے۔

    سیاحوں پر حملے کا یہ واقعہ پہلگام کے علاقے بیرسن میں پیش آیا جہاں سیاحوں کا گروپ ایک سرسبز چراگاہ کے پاس موجود تھا۔

    کشمیر انڈیا میں سیاحوں میں مقبول ترین علاقوں میں سے ایک ہے اور سرکاری اعدادوشمار کے مطابق 2024 میں 35 لاکھ سیاحوں نے اس خطے کا رخ کیا تھا۔

    تاحال کسی تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی تاہم یہ پہلگام میں سیاحوں پر حملے کا پہلا واقعہ نہیں۔

    1990 کی دہائی میں جب کشمیر میں شورش عروج پر تھی تب چار جولائی 1995 کو پہلگام سے چھ غیر ملکی سیاحوں کو اغوا کر لیا گیا تھا۔

    ان میں دو امریکی، دو برطانوی، ایک جرمن اور ایک نارویجین شہری شامل تھا۔ اس واقعے کی ذمہ داری الفاران نامی تنظیم نے قبول کی تھی اور عسکریت پسند تنظیم حرکت الانصار کے رہنما مولانا مسعود اظہر کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔

    اغوا کے چار دن بعد ایک امریکی سیاح اغوا کاروں کی گرفت سے بچ نکلا تھا جبکہ چند ہفتے بعد نارویجین سیاح کی سربریدہ لاش ملی تھی جس کے سینے پر الفاران کندہ تھا۔ دیگر چار سیاحوں کی آج تک کوئی خبر نہیں ملی تاہم ایسی اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ چاروں کو قتل کر دیا گیا تھا۔

  6. پہلگام میں سیاحوں پر حملہ: ’افراتفری مچ گئی اور لوگوں نے ادھر ادھر بھاگنا شروع کر دیا‘

    پہلگام میں مسلح افراد کے سیاحوں پر حملے کے عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اچانک فائرنگ سے وہاں بھگدڑ کا سماں پیدا ہو گیا تھا۔

    گجرات سے تعلق رکھنے والے ایک سیاح نے بی بی سی کے ماجد جہانگیر کو بتایا کہ وہ اس ہی گروپ میں شامل تھے، جس پر فائرنگ کی گئی۔

    ان کے مطابق اچانک فائرنگ سے افراتفری مچ گئی اور لوگوں نے چیختے چلاتے ہوئے ادھر ادھر بھاگنا شروع کر دیا۔

    واضح رہے کہ پہلگام کو انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کا سوئٹزرلینڈ کہا جاتا ہے اور اس کے سرسبز ماحول کی وجہ سے ہر سال بہت سے سیاح یہاں آتے ہیں۔

  7. انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں سیاحوں پر فائرنگ: ’ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا‘

    انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے مشہور سیاحتی مقام پہلگام میں سیاحوں کے ایک گروپ پر فائرنگ کے نتیجے میں پانچ افراد کی ہلاکت کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کا محاصرہ کر لیا ہے جبکہ میڈیکل ٹیم بھی جائے وقوعہ پر پہنچ چکی ہے۔

    بی بی سی کے نامہ نگار ماجد جہانگیر کے مطابق کچھ زخمیوں کو اننت ناگ کے گورنمنٹ میڈیکل کالج میں داخل کروا دیا گیا ہے، جن میں سے ایک کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

    انڈین وزیراعظم نریند مودی نے کہا ہے کہ اس واقعے کے ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ انھوں نے ایکس پر اپنے پیغام میں لکھا کہ ’دہشت گردی سے لڑنے کا ہمارا عزم غیر متزلزل ہے اور یہ اور بھی مضبوط ہو گا۔‘

  8. بلوچستان ہائیکورٹ کا تھری ایم پی او کے تحت کوئٹہ سے گرفتار کیے جانے والے بی این پی کے 71 کارکنوں کو رہا کرنے کا حکم

    بلوچستان ہائی کورٹ نے تھری ایم پی او کے تحت کوئٹہ سے گرفتار کیے جانے والے بلوچستان نیشنل پارٹی کے 71 کارکنوں کو رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔

    ان کارکنوں کو ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ سمیت بلوچ یکجہتی کمیٹی کی خواتین رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاری کے خلاف ضلع مستونگ کے علاقے لکپاس میں دھرنے کے شرکا کو کوئٹہ کی جانب مارچ کی اجازت نہ دینے پر چھ اپریل کو کوئٹہ سے احتجاج کے موقع پر گرفتار کیا گیا تھا۔

    ان کارکنوں کو تھری ایم پی او کے تحت گرفتار کیا گیا تھا جسے بلوچستان نیشنل پارٹی نے ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

    درخواست دہندگان کی پیروی ساجد ترین ایڈووکیٹ اور دیگر وکلا نے کی تھی۔ بلوچستان ہائی کورٹ کے جسٹس روزی خان بڑیچ اور جسٹس سردار احمد حلیمی پر مشتمل بینچ نے اس درخواست کی سماعت کی۔

    گزشتہ روز درخواست کی سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان سے استفسار کیا گیا کہ کیا حکومت نے اس کیس کی سماعت کے لیے بورڈ تشکیل دیا تھا؟ کیا یہ آرڈر 14سال سے کم عمر لڑکوں کے خلاف بھی پاس کیا گیا کیونکہ درخواست دہندگان کے وکلا کے مطابق ان میں سے اکثر کی عمر 12 یا 13 سال سے کم تھی۔

    ان سوالوں کے جواب میں ایڈووکیٹ جنرل نے مہلت کی استدعا کی جس پر درخواست کی سماعت منگل تک ملتوی کی گئی تھی۔

    آج دوبارہ درخواست کی سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ گرفتار افراد کے خلاف تھری ایم پی او کے تحت جاری ہونے والے حکم کو واپس لے لیا گیا۔

    ہائیکورٹ کے بینچ نے ایم پی او کے تحت گرفتاری کا حکم واپس لینے پر درخواست کو نمٹاتے ہوئے حکم دیا کہ اگر گرفتار افراد کسی اور مقدمے میں مطلوب نہیں تو ان کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔

  9. انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں سیاحوں پر فائرنگ: پانچ افراد ہلاک، متعدد زخمی ہو گئے

    انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے مشہور سیاحتی مقام پہلگام میں سیاحوں کے ایک گروپ پر فائرنگ کے نتیجے میں پانچ افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔

    ایک اعلیٰ پولیس افسر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ حملے کے بعد پہلگام کا محاصرہ کیا گیا اور حملہ آوروں کی تلاش جاری ہے۔

    اس حملے کی ذمہ داری ابھی تک کسی مسلح گروپ نے قبول نہیں کی۔

    واضح رہے کہ پہلگام کی پہاڑی پر واقع شِو مندر پر برف سے بنے شِو لِنگ کے درشن کے لیے ہر سال لاکھوں ہندو یہاں آتے ہیں۔

    یہ یاترا ہر سال جون کے آخر سے اگست کے آخر تک جاری رہتی ہے۔ اس سال کی یاترا کے لیے مارچ میں ہی رجسٹریشن شروع ہو گئی تھی اور ابھی تک ہزاروں یاتریوں نے اندراج کروایا ہے۔

    انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے رکن اسمبلی سجاد لون نے مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حملہ ایسے وقت ہوا جب سیاحت کی تجارت سے جُڑے لاکھوں کشمیری کئی برس بعد آمدنیمیں اضافہ دیکھ رہے تھے۔

    اُن کا کہنا تھا کہ ’یہ حملہ نہ صرف صدیوں پرانی میزبانی کی کشمیری روایت پر حملہ ہے بلکہ یہ کشمیریوں کو معاشی طور پر بے اختیار کرنے کی سازش ہے۔‘

  10. پوپ فرانسس کی آخری رسومات 26 اپریل کو سینٹ پیٹرز سکوائر میں ادا کی جائیں گی

    ویٹیکن نے اعلان کیا ہے کہ پوپ فرانسس کی آخری رسومات سنیچر (26 اپریل) کو سینٹ پیٹرز سکوائر میں مقامی وقت کے مطابق صبح 10 بجے ادا کی جائیں گی۔

    ویٹیکن کی جانب سے جاری کردہ تصویر میں پوپ فرانسس کی میت کو کھلے تابوت میں دیکھا جا سکتا ہے، جہاں وہ سرخ لباس میں نظر آتے ہیں۔

    کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس گذشتہ روز (21 اپریل) 88 سال کی عمر میں وفات پا گئے تھے۔

    پوپ فرانسس کی وفات کے اعلان کے بعد گذشتہ 24 گھنٹے سے ویٹیکن سٹی کے سینٹ پیٹرز سکوائر میں لوگوں کا رش ہے۔ جوق در جوق لوگ یہاں دعا کے لیے پہنچ رہے ہیں۔

    پوپ فرانسس مارچ 2013 میں اس عہدے پر منتخب ہوئے تھے۔ بطور پوپ انھوں نے کیتھولک چرچ میں کئی اصلاحات متعارف کروائیں لیکن اس کے باوجود وہ روایت پسندوں میں کافی مقبول رہے۔

  11. امریکی نائب صدر چار روزہ دورے پر انڈیا میں، دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کے حوالے سے جے پور میں تقریر متوقع

    امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس چار روزہ دورے پر انڈیا میں موجود ہیں۔

    انڈین وزیر اعظم نریندر مودی نے جے ڈی وینس کے ساتھ ملاقات کے بعد ایکس پر لکھا کہ ’ہم تجارت، ٹیکنالوجی، دفاع، توانائی اور دونوں ملکوں کے درمیان عوامی سطح پر تبادلے سمیت باہمی فائدے کے تعاون کے لیے پرعزم ہیں۔‘

    انڈیا ان ممالک میں شامل ہے، جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ٹیرف کے نفاذ کے بعد تجارتی معاہدے کے لیے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے۔

    اس ملاقات کے بعد وزیراعظم مودی نے ایک عشائیہ کا اہتمام بھی کیا۔

    واضح رہے کہ اس دورے میں جے ڈی وینس کی اہلیہ اور تین بچے بھی ان کے ساتھ ہیں۔ جے ڈی وینس کی اہلیہ اوشا وینس کے والدین نے انڈین ریاست آندھرا پردیش سے امریکہ نقل مکانی کی تھی اور میڈیا رپورٹس کے مطابق جے ڈی وینس اور ان کی اہلیہ اپنے بچوں کو انڈین کلچر سے متعارف کروانا چاہتے ہیں۔

    وزیراعظم مودی سے ملاقات کے بعد یہ خاندان انڈین ریاست راجھستان کے شہر جے پور چلا گیا۔ جے ڈی وینس کی جانب سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کے حوالے سے جے پور میں تقریر بھی متوقع ہے۔

    امریکہ روانگی سے قبل جے ڈی وینس اور ان کا خاندان آگرہ میں تاج محل کا دورہ بھی کریں گے۔

    جے ڈی وینس پیر کے روز انڈیا پہنچے ہیں اور ان کی آمد کے بعد ان کے بچوں کی انڈین لباس میں تصاویر میڈیا کی زینت بنی ہوئی ہیں۔

  12. سندھ: جامشورو ٹرک حادثے میں ہلاکتوں کی تعداد 14 ہو گئی

    سندھ کے ضلع جامشورو کے علاقے بُلا خان میں مسافروں سے بھرے ٹرک کے الٹنے کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 14 ہو گئی ہے۔ مرنے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

    حادثے کے وقت ٹرک میں 40 سے زائد افراد سوار تھے۔

    ایس ایس پی جامشورو ظفر صدیق نے بی بی سی کو بتایا کہ ہلاک ہونے والے تمام افراد کا تعلق ہندو کوہلی برادری سے ہے جو بلوچستان کے ضلع حب کے علاقے دریجی میں گندم کی کٹائی کے لیے گئے تھے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ٹرک میں سوار افراد دریجی میں فصل کی کٹائی کے بعد واپس بدین جا رہے تھے کہ تھانہ بولاخان کے علاقہ تونگ میں ان کا ٹرک حادثے کا شکار ہو گیا۔ اطلاعات کے مطابق حادثہ ٹرک کا بریک فیل ہونے کے باعث پیش آیا ہے۔

    حادثے کے بعد لاشیں سول ہسپتال حیدرآباد منتقل کردی گئی تھیں جنھیں قانونی کارروائی کے بعد لواحقین کے حوالے کردیا گیا ہے۔

  13. ’انسانیت کے خلاف جرائم‘ کا مرتکب ہونے پر سزائے موت پانے والے جماعت اسلامی کے سابق رہنما کی اپیل پر سماعت 6 مئی کو

    بنگلہ دیش کی ایک عدالت نے سنہ 1971 میں ’انسانیت کے خلاف جرائم‘ سے متعلق مقدمے میں جماعت اسلامی کے سابق نائب سیکریٹری جنرل اظہر الاسلام کو دی جانے والی سزائے موت کے خلاف اپیل کی سماعت کے لیے 6 مئی کی تاریخ مقرر کی ہے۔

    6 مئی کو اس اپیل پر سماعت اپیلٹ ڈویژن کا فل بنچ کرے گا۔ اظہر الاسلام کو دی جانے والے سزائے موت کے خلاف اپیل پر 6 مئی کو سماعت کرنے کا فیصلہ چیف جسٹس ڈاکٹر سید رفعت احمد کی سربراہی میں چار رُکنی اپیلٹ بنچ نے منگل کو دیا۔

    اس موقع پر اظہر الاسلام کی نمائندگی بیرسٹر احسان عبداللہ صدیقی نے کی۔

    یاد رہے کہ 30 دسمبر 2014 کو بنگلہ دیش کے انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل نے اظہر الاسلام کو بنگلہ دیش کی جنگ آزادی کے دوران انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کرنے کے جرم میں موت کی سزا سنائی تھی۔

    ان پر الزام تھا کہ جنگ آزادی کے دوران انھوں نے پاکستان کی طرف جھکاؤ رکھنے والے ملیشیا گروپ کے ایک رکن کے طور پر وسیع پیمانے پر قتلِ عام میں حصہ لیا تھا۔

    یاد رہے کہ جماعتِ اسلامی کا کہنا ہے کہ یہ تمام مقدمات سیاسی بنیادوں پر قائم کیے گئے تھے۔ بنگلہ دیش میں ماضی میں ان عدالتی کارروائیوں کے ناقدین کا بھی یہی کہنا تھا کہ شیخ حسینہ واجد کی حکومت جنگی جرائم کے ٹرائبیونل کو اپنے سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کر رہی تھی۔

    اس فیصلے کے خلاف ابتدائی اپیل 2019 میں کی گئی تھی تاہم اس وقت اپیلٹ ڈویژن نے سزائے موت کو برقرار رکھا تھا۔

    بعد ازاں 19 جولائی 2020 کو اس فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواست دائر کی گئی تھی جو آج تک زیر التوا ہے۔

  14. عوام میں اضطراب نہ پھیلایا جائے، کینال پراجیکٹ پر کام گذشتہ سال جولائی سے رکا ہوا ہے: وزیرِ اعلیٰ سندھ

    سندھ کے وزیرِ اعلیٰ مراد علی شاہ نے اپوزیشن اور قوم پرست جماعتوں سے عوام میں اضطراب نہ پھیلانے کی درخواست کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ چولستان کینال منصوبے پر کام گذشتہ سال جولائی سے رکا ہوا ہے جبکہ سندھ کے اعتراض کی وجہ سے قومی معاشی کونسل میں اس منصوبے کی منظوری نومبر سے رکی ہوئی ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ اگر معاملات ہمارے ہاتھ سے نکلے تو ہر قسم کی کال دیں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ نہروں کی تعمیر کے معاملے پر سب سے پہلے ان کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے احتجاج کیا تھا۔ ’سندھ حکومت یہ کینال کبھی بننے نہیں دے گی۔‘

    کراچی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے پنجاب حکومت کا نام لیے بغیر اس پر چولستان کینال کی ’خوامخواہ کی افتتاح‘ کر کے سندھ کے لوگوں میں بدگمانی پیدا کرنے کا الزام لگایا۔

    ان کا کہنا تھا کہ سب کو پتا لگ چکا ہے منصوبے کا جو افتتاح کیا گیا تھا وہ حقیقتاً افتتاح بھی نہیں تھا۔

    یاد رہے کہ گذشتہ ماہ کے آغاز میں پنجاب کی وزیرِ اعلیٰ مریم نواز اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے چولستان منصوبے کا افتتاح کیا تھا۔

    مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ منصوبے کو روکنے پر وہ وفاقی حکومت کے شکر گزار ہیں ’تاہم ان سے شکوہ ہے کہ اس پراجیکٹ کو اب تک ختم کیوں نہیں کر دیا گیا۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کو اندازہ ہے معاملات درست نہیں چل رہے۔

    وزیرِ اعلیٰ کا کہنا ہے کہ پانی کی کمی اور فوڈ سکیورٹی کے مسائل کینال بنا کر نہیں بلکہ پیداوار اورپانی کے بہتر استعمال سے حل کیے جا سکتے ہیں۔

    انھوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ اس معاملے وفاقی حکومت کی جانب سے رابطے کیے گئے ہیں۔

    ’میں امید کرتا ہوں کہ وزیرِ اعظم انصاف سے کام لیں گے۔‘

  15. ہارورڈ یونیورسٹی نے ٹرمپ انتظامیہ کے فنڈنگ روکنے کے اقدام کے خلاف عدالت سے رجوع کر لیا

    امریکہ کی ہارورڈ یونیورسٹی نے ٹرمپ انتظامیہ کے فنڈنگ روکنے کے فیصلے کے خلاف وفاقی عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا ہے۔

    ہارورڈ یونیورسٹی اور ٹرمپ انتظامیہ کے درمیان تنازع اس وقت شروع ہوا جب یونیورسٹی نے حکومت کی جانب سے دی جانے والی مطالبات کی فہرست مسترد کر دی۔ یہ مقدمہ بھی اسی تنازعے کا تسلسل ہے۔

    یونیورسٹی کی جانب سے انکار کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یونیورسٹی کو دی جانے 2.2 ارب ڈالرز کی فنڈنگ منجمد کرنے کا حکم دیا تھا اور ساتھ ہی یونیورسٹی کو حصل ٹیکس استثنیٰ بھی ختم کرنے کی دھمکی دی تھی۔

    سوموار کے روز ہارورڈ کے صدر ایلن گاربر کی جانب سے یونیورسٹی کو لکھے گئے ایک خط میں کہا ہے کہ حکومتی مداخلت کے اثرات ’دیرپا‘ اور ’شدید‘ ہوں گے۔

    اس کے بعد وائٹ ہاؤس کی جانب سے ایک بیان جاری کیا گیا جس میں کہا گیا کہ ہارورڈ جیسے اداروں کو کچھ کیے بغیر ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے ملنے والی وفاقی امداد بند ہونے جا رہی ہے۔

    وائٹ ہاؤس کے ترجمان ہیریسن فیلڈز کا کہنا تھا، ’ٹیکس دہندگان کے فنڈز ایک استحقاق ہے، اور ہارورڈ اس تک رسائی کے لیے درکار بنیادی شرائط پورے کرنے میں ناکام رہا ہے۔‘

    ہارورڈ کے صدر کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے فنڈز منجمد کیے جانے کے نتیجے میں بچوں میں کینسر، الزائمر اور پارکنسن جیسی بیماریوں پر کی جانے والی اہم تحقیقات پر اثر پڑے گا۔

    وفاقی عدالت میں دائر درخواست میں دعویٰ کیا گیا ہے حالیہ ہفتوں میں، وفاقی حکومت نے ایسی اہم فنڈنگ ​​پارٹنرشپس کو نشانہ بنایا ہے جن کے ذریعے اہم تحقیقات ممکن ہو پاتی ہیں۔

    درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ حکومت کا فنڈز روکنے کا مقصد ہارورڈ میں تعلیمی فیصلہ سازی پر کنٹرول حاصل کرنا ہے۔

    ہارورڈ واحد یونیورسٹی نہیں جس کی حکومت نے امداد روکی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے کارنل یونیورسٹی کو دی جانے والی ایک ارب ڈالرز جبکہ براؤن یونیورسٹی کی 51 کرور کی فنڈنگ بھی روک دی ہے۔

    دوسری جانب کولمبیا یونیورسٹی جو گزشتہ سال تک فلسطین حامی مظاہروں کا گڑھ سمجھی جاتی تھی نے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے 40 کروڑ ڈالر کے وفاقی فنڈز روکے جانے کی دھمکی کے بعد حکومت کے کچھ مطالبات مان لیے ہیں۔

  16. امریکی وزیرِ دفاع کی جانب سے حوثی جنگجوؤں پر حملے کی تفصیلات ’سِگنل‘ پر لیک، صدر ٹرمپ کا پیٹ ہیگستھ کا دفاع, جیمز چاٹر، بی بی سی نیوز

    امریکہ کے وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ کی جانب سے مبینہ طور پر ایک گروپ چیٹ میں یمن میں حوثی جنگجوؤں پر حملے کی تفصیلات شیئر کیے جانے کے بعد انھیں تنقید کا سامنا ہے تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ اب بھی ان کا دفاع کرتے نظر آ رہے ہیں۔

    خبروں کے مطابق اس چیٹ گروپ میں امریکی وزیر دفاع کی اہلیہ، بھائی اور اُن کے ذاتی وکیل بھی شامل تھے۔

    یہ پہلی بار نہیں ہے کہ اعلیٰ امریکی عہدیداروں کو ’سگنل‘ ایپ پر حساس معلومات شیئر کرنے پر تنقید کا سامنا ہے۔ اس سے قبل گذشتہ ماہ بھی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے ایک صحافی کو سگنل ایپ کے ایک ایسے گروپ چیٹ میں شامل کر لیا تھا جہاں اعلیٰ امریکی حکام حوثی جنگجوؤں پر حملے کے منصوبے کے بارے میں تبادلہ خیال کر رہے تھے۔

    بی بی سی کے امریکہ میں پارٹنر ’سی بی ایس‘ نے ذرائع کے حوالے سے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اس مرتبہ سگنل ایپ چیٹ میں ہیگستھ نے یمن میں جاری فضائی حملوں کے بارے میں تفصیلات شیئر کی تھیں۔

    سوموار کے روز صحافیوں سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’پیٹ بہترین کام کر رہے ہیں۔ ہر کوئی ان سے خوش ہے۔‘

    وائٹ ہاؤس حکام اس واقعے کی سنگینی کو کم کر کے دکھانے کی کوشش کی ہے تاہم انھوں اس کی تردید نہیں کی۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں کو بتایا کہ انھیں اپنے وزیرِ دفاع پر کافی بھروسہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ وہی پرانا کیس ہے جسے میڈیا دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    ہیگستھ کی سگنل چیٹ کی خبر سب سے پہلے نیویارک ٹائمز نے شائع کی تھی۔ تاحال ہیگسٹھ نے ان خبروں پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے جبکہ وائٹ ہاؤس کی جانب سے اخبار کو بھیجے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ اس چیٹ میں کوئی خفیہ معلومات شیئر نہیں کی گئیں۔

    نیویارک ٹائمز کے مطابق،’ڈیفینس | ٹیم ہڈل‘ نامی یہ گروپ ہیگستھ نے خود بنایا تھا۔

    15 مارچ کو چیٹ گروپ میں بھیجے گئے پیغام میں حوثی جنگجوؤں پر حملے میں حصہ لینے والے جنگی جہازوں کی تفصیلات شامل تھیں۔

    ہیگستھ کی بیوی جینیفر راچٹ فاکس نیوز کی سابق پروڈیوسر ہیں اور ان کے پاس کوئی سرکاری عہدہ نہیں ہے۔ اس سے قبل ہیگستھ کو اپنی بیوی کو غیر ملکی رہنماؤں کے ساتھ ملاقاتوں میں اپنے ہمراہ لے جانے پر بھی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

    ہیگستھ کے بھائی اور ان کے ذاتی وکیل ٹم پارلاتوڑ وزارتِ دفاع کے عہدیدار ہیں۔ یہ واضح نہیں کہ ان تینوں افراد کو یمن میں امریکی حملے کی پیشگی اطلاع کی کیا ضرورت ہو سکتی ہے۔

    گذشتہ ماہ دی ایٹلانٹک میگزین کے ایڈیٹر اِن چیف جیفری گولڈ برگ نے انکشاف کیا تھا کہ انھیں سگنل میسیجنگ ایپ کے ایک ایسے گروپ میں شامل کیا گیا تھا جس میں قومی سلامتی کے مشیر مائیکل والٹز اور نائب صدر جے ڈی ونس نامی اکاؤنٹ بھی شامل تھے۔

    صحافی گولڈبرگ کے مطابق انھوں نے حملوں سے متعلق ایسے خفیہ فوجی منصوبے دیکھے ہیں جن میں اسلحہ پیکجز، اہداف اور حملے کے اوقات بھی درج تھے اور یہ بات چیت بمباری ہونے سے دو گھنٹے پہلے ہو رہی تھی۔

    گولڈ برگ کا کہنا تھا کہ امریکی حکام کی قسمت اچھی تھی کہ ان کے نمبر کو گروپ میں شامل کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق کم از کم یہ کسی ایسے شخص کا نمبر نہیں تھا جو حوثیوں کا حامی تھا کیونکہ اس چیٹ گروپ میں ایسی معلومات شیئر کی جا رہی تھیں جس کے نتیجے میں اس آپریشن میں شامل افراد کی جان کو خطرہ لاحق ہو سکتا تھا۔

  17. ’مسٹر ٹو لیٹ‘: ٹرمپ کی مرکزی بینک کے چیئرمین پر تنقید کے بعد امریکی سٹاک مارکیٹ اور ڈالر کی قدر میں کمی

    امریکی سٹاک مارکیٹ اور ڈالر کی قدر میں ایک بار پھر گراوٹ دیکھنے میں آئی ہے کیونکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی مرکزی بینک کے سربراہ کو شرح سود میں کمی نہ کرنے پر ایک مرتبہ پھر شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انھیں ’ایک شکست خوردہ‘ اور ’نقصان پہنچانے‘ والا فرد قرار دیا ہے۔

    ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں ٹرمپ نے فیڈرل ریزرو کے سربراہ جیروم پاول سے مطالبہ کیا کہ وہ معیشت کو فروغ دینے میں مدد کے لئے شرح سود میں ’پیشگی‘ کمی کریں۔

    انھوں نے لکھا کہ ’معیشت اُس وقت تک سست روی کا شکار رہے گے کہ جب تک معشیت کو نقصان پہنچانے والے ’مسٹر ٹو لیٹ،‘ شرح سود میں کمی نہیں کرتے۔‘

    ٹرمپ کی جانب سے پاول کے امریکی معیشت کو سنبھالنے کے طریقہ کار پر تنقید ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب محصولات کے حوالے سے ان کے اپنے منصوبوں کی وجہ سے سٹاک مارکیٹ میں مندی کا رجحان بڑھ گیا ہے۔

    امریکی صدر اور امریکی مرکزی بینک کے سربراہ کے درمیان جاری کشمکش نے نے مارکیٹ میں افراتفری میں اضافہ کر دیا ہے۔ واضح رہے کہ صدر ٹریمپ نے اپنی پہلی مدت کے دوران فیڈرل ریزرو کی قیادت کے لیے جیروم پاول کو نامزد کیا تھا۔

    اگرچہ ڈالر اور امریکی حکومت کے بانڈز کو عام طور پر مارکیٹ میں مندی اور افراتفری کے وقت انتہائی محفوظ تصور کیا جاتا ہے، لیکن اس موجودہ صورتحال میں انھیں بھی مُشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور ان کی قدر میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔

    ڈالر انڈیکس کے مطابق پیر کے روز یورو سمیت کئی کرنسیوں کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں سنہ 2022 کے بعد اب تک کی سب سے کم ترین ترین سطح پر آگیا ہے۔ امریکی حکومت کے قرضوں پر شرح سود میں بھی اضافہ ہوا۔

    پاول پر ٹرمپ کی تنقید ان کی پہلی مدت صدارت سے شروع ہوتی ہے، جب انھوں نے مبینہ طور پر انھیں برطرف کرنے کے بارے میں بھی بات کی تھی۔ انتخابات جیتنے کے بعد انھوں نے پاول پر زور دیا ہے کہ وہ شرح سود میں کمی کریں۔

    امریکی صدر نے پاول کو اب تنقید کا سامنا اس وجہ سے کرنا پڑ رہا ہے کہ انھوں (پاول) نے امریکی صدر کے حالیہ محصولات کے حوالے سے سامنے آنے والے احکامات سے متعلق متنبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ٹرمپ کے درآمدی ٹیکسوں سے قیمتوں میں اضافہ اور معیشت سست پڑنے کا امکان ہے۔‘

    ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے عوامی سطح پر پاول کو برطرف کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے جمعرات کو سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ ’پاول کی برطرفی میں جلد بازی سے کام نہیں کا جاسکتا۔‘

    پاول نے گزشتہ سال نامہ نگاروں کو بتایا تھا کہ ’انھیں یقین نہیں ہے کہ صدر کے پاس انھیں برطرف کرنے یا عہدے سے ہٹانے کا کوئی قانونی اختیار ہے۔‘

    لیکن امریکی صدر ٹرمپ کے ایک اعلیٰ اقتصادی مشیر نے اس بات کی تصدیق کی کہ حکام کی جانب سے جمعے کے روز اس آپشن کا جائزہ بھی لیا جا چُکا ہے۔

  18. ’سابق ایئر مارشل جواد سعید کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور بغاوت کے مقدمات میں سزا سنائی گئی ہے‘, شہزاد ملک، بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    پاکستان ایئرفورس نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو آگاہ کیا ہے کہ سابق ایئر مارشل جواد سعید کا آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے علاوہ بغاوت کے ایک مقدمے میں بھی ٹرائل ہوا ہے اور اِن دونوں مقدمات میں سابق افسر کو سزا سنائی گئی ہے۔

    یاد رہے کہ 28 مارچ 2025 کو اسی کیس سے متعلق ہونے والی سماعت کے دوران پاکستان ایئرفورس نے اسلام آباد ہائیکورٹ کو آگاہ کیا تھا کہ سابق ایئرمارشل جواد سعید کا حساس دستاویزات شیئر کرنے پر کورٹ مارشل کیا گیا ہے اور انھیں 14 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ فضائیہ کی جانب سے عدالت میں یہ بیان سابق ایئرمارشل کی اہلیہ کی جانب سے اپنے شوہر کو حبس بےجا میں رکھنے سے متعلق درخواست پر سماعت کے دوران آیا تھا۔

    ایئرفورس کے نمائندے کی جانب سے جب یہ بتایا گیا کہ ریٹائرڈ افسر کا کورٹ مارشل کیا جا چکا ہے تو عدالت نے اہلیہ کی درخواست خارج کر دی تھی جس کے خلاف انھوں نے اسی عدالت میں نظرثانی کی اپیل دائر کر دی تھی۔

    پیر کے روز اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس خادم حسین سومرو نے اہلیہ کی نظرثانی کی اپیل پر سماعت کی جس کے دوران پاکستان فضائیہ کے نمائندے نے عدالت میں کوئی تحریری دستاویزات پیش نہیں کیں۔

    اس اپیل کی سماعت کے دوران ایئرفورس حکام کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ ایئر مارشل ریٹائرڈ جواد سعید کا کورٹ مارشل کرنے کے بعد انھیں ایک سب جیل میں رکھا گیا ہے۔ عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ اس ضمن میں ایک فوجی میس کو ہی سب جیل قرار دیا گیا ہے۔

    جواد سعید کی اہلیہ کے وکیل کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی فضائیہ کے سربراہ کے پاس ایسا کوئی اختیار نہیں ہے کہ جس کی بنیاد پر وہ کسی بھی عمارت کو سب جیل قرار دے کر کسی ملزم یا مجرم کو وہاں قید کر سکیں۔

    انھوں نے کہا کہ دراضل یہ اختیار وفاقی حکومت کو حاصل ہے کہ وہ کسی بھی عمارت کو سب جیل قرار دے۔

    کرنل انعام کا مزید کہنا تھا کہ بریگیڈیئر ریٹائرڈ ایف بی علی سے لے کر آج تک جتنے بھی فوجی اہلکاروں کا کورٹ مارشل ہوا ہے انھیں سزا دینے کے بعد سویلین اتھارٹی (جیل حکام) کی تحویل میں دے دیا جاتا ہے اور ایسے مجرمان کو عام جیلوں میں رکھا جاتا ہے جہاں ان کے وہی حقوق ہوتے ہیں جو دیگر عام پاکستانی قیدیوں کے ہوتے ہیں، یعنی انھیں جیل مینوئل کے مطابق اپنے اہلخانہ اور وکلا سے ملاقات کی اجازت ہوتی ہے۔

    اس موقع پر سابق وزیر اعظم عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی کو اڈیالہ جیل سے بنی گالہ منتقل کرنے سے متعلق عدالتی فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے محض اس بنیاد پر بشری بی بی کو واپس اڈیالہ جیل بھیج دیا تھا چونکہ انھیں بنی گالہ منتقل کرنے سے پہلے اُن کی رضامندی نہیں لی گئی تھی۔

    انھوں نے عدالت سے درخواست کی کہ وہ ایئرفورس کے نمائندے کو حکم دیں کہ وہ اُس نوٹیفیکیشن کو عدالت میں پیش کریں جس میں فوجی میس کو سب جیل قرار دینے کا کہا گیا ہے۔ انھوں نے یہ بھی استدعا کی کہ اس کے ساتھ ساتھ جواد سعید کے خلاف چارج شیٹ اور ان کے حوالے سے دیے گئے فیصلے کی کاپی بھی فراہم کی جائے۔

    جواد سعید کی اہلیہ کے وکیل کا مزید کہنا تھا کہ جب کسی ملزم کو سزا سُنا کر مجرم قرار دے دیا جاتا ہے تو پھر اس فیصلے کی کاپی عدالت میں اور متاثرہ فریق کو دینا قانونی طور پر ضروری ہے۔

    انھوں نے کہا کہ سیکرٹ ایکٹ کا قانون تبدیل ہو گیا ہے اور اب وفاقی حکومت ایسے معاملات کی سماعت کے لیے ایک جج مقرر کرتی ہے جو کہ ایسے مقدمات کی سماعت کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف درج سائفر مقدمے کی سماعت بھی سول عدالت میں ہوئی تھی جبکہ فی الوقت ایک ریٹائرڈ لیفٹیننٹ کرنل کا ٹرائل بھی سول کورٹ میں ہو رہا ہے۔

    کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم نے اپنی اپیل کے حق میں مزید دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ملٹری ایکٹ میں ہے کہ جس کسی کا ٹرائل ہو گا تو اس کی فیملی کو اس بارے میں اگاہ کیا جائے گا، لیکن ان کے معاملے میں ایسا نہیں ہوا۔

    انھوں نے کہا کہ جب ایئرفورس کے حکام یہ مان چکے ہیں کہ ایئر مارشل ریٹائرڈ جواد سعید سزا یافتہ ہیں تو پھر وہ انھیں کیسے اپنی تحویل میں رکھ سکتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اُن کا موکل گذشتہ ایک سال سے غیر قانونی تحویل میں ہیں۔

    درخواست گزار کے وکیل نے عدالت یہ بھی استدعا کی وہ اس اپیل میں بنائے گئے فریقین بشمول پاکستان ایئرفورس کو حکم دیں کہ وہ ایئر مارشل ریٹائرڈ جواد سعید کے مقدمے کا تمام ریکارڈ عدالت میں پیش کرے۔

    عدالت نے اپیل کندہ کی اس استدعا کو منظور کرتے ہوئے ضروری دستاویزات آئندہ سماعت پر عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا۔

    واضح رہے کہ ایئر مارشل ریٹائرڈ جواد سعید 18 مارچ 2021 کو پاکستان ایئرفورس سے ریٹائر ہو گئے تھے۔ جواد سعید کی اہلیہ کے مطابق ان کے شوہر کو یکم جنوری 2024 کو اُن کے گھر سے مبینہ طور پر اغوا کر لیا گیا تھا۔

    بعدازاں اُن کا کورٹ مارشل ہوا اور انھیں 14 سال قید کی سزا سنائی گئی تاہم اس سزا کے خلاف اپیل پر ان کی سزا 14 سال سے کم کرکے چار سال کر دی گئی۔

    اس کیس میں ہونے والی گذشتہ سماعت کے دوران اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا تھا کہ 27 جنوری 2024 کو جواد سعید کا کورٹ مارشل ہوا، جس کے خلاف دائر اپیل پر فیصلہ بھی 11 مارچ 2024 کو ہو چکا ہے اور فی الحال جواد سعید کی سزا کے خلاف رحم کی اپیل ایئر چیف مارشل کے پاس زیر التوا ہے۔

    ریٹائرڈ ایئر مارشل جواد سعید کون ہیں اور ان کا خاندان کیا چاہتا ہے؟

    جولائی 2018 میں وائس ایئر مارشل جواد سعید کو ایئر مارشل کے عہدے پر ترقی دی گئی تھی اور وہ مارچ 2021 کے دوران اس عہدے سے ریٹائر ہوئے تھے۔

    تھری سٹار ایئر مارشل کے عہدے کو لیفٹیننٹ جرنل کے برابر تصور کیا جاتا ہے۔

    انھوں نے نومبر 1986 میں پاکستان ایئر فورس کی جی ڈی پی برانچ میں کمیشن حاصل کیا تپا۔ سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق اپنے کیریئر کے دوران انھوں نے فائٹر سکواڈرن، فائٹر ونگ، آپریشنل ایئر بیس اور ریجنل ایئر کمانڈ کی کمان کی۔

    مقامی ذرائع ابلاغ کی خبروں کے مطابق ریٹائرمنٹ سے قبل ان کا نام مارچ 2021 کو فضائیہ کے سب سے سینیئر افسران کی اس سمری میں شامل تھا جو اس وقت کے وزیر اعظم عمران خان کو ایئر چیف کی تعیناتی کے لیے بھیجی گئی تھی۔

    وہ ایئر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد میں اسسٹنٹ چیف آف ایئر سٹاف (آپریشنز) اور ڈپٹی چیف آف ایئر سٹاف (آپریشنز) بھی تعینات رہے ہیں۔

    وہ کمبیٹ کمانڈر سکول، ایئر وار کالج اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہیں۔

    ریٹائرڈ ایئر مارشل جواد سعید کو ماضی میں سرکاری اعزازات ستارۂ امتیاز اور تمغۂ امتیاز سے بھی نوازا گیا تھا۔

    تاہم ان کے حوالے سے حالیہ عرصے میں ان کی اہلیہ نے عدالت میں درخواست دائر کی جس میں کہا گیا کہ ان کے شوہر کے خلاف کوئی بھی کیس درج نہیں ہے اور ان کی حراست 'غیر قانونی' ہے۔

    اس درخواست میں کہا گیا ہے کہ 'جبری تحویل بنیادی آئینی حقوق کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ کے انٹرنیشل چارٹر برائے انسانی حقوق کے بھی خلاف ہے۔'

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی جانے والی اس درخواست میں کہا گیا کہ جواد سعید کو 'عدالت میں پیش کیا جائے اور اگر ان پر کوئی الزام ہے تو قانون کے مطابق عدالتی کارروائی کی ہدایت کی جائے۔'

    اس درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جواد سعید نے سروس کے دوران اہم آپریشنل اور سٹاف اسئنمنٹس کیں مگر اب اہلخانہ کو بتایا گیا کہ وہ پاکستان ایئر فورس کی تحویل میں ہیں۔

    ان کا دعویٰ ہے کہ ان کی اپنے شوہر سے ملاقات کروائی گئی تھی اور یقین دہائی کروائی گئی تھی کہ انھیں جلد رہا کر دیا جائے گا مگر ایسا نہ ہو سکا۔

    ان کا کہنا ہے کہ ان کے شوہر کی پنشن بھی بند کر دی گئی ہے۔

  19. غزہ میں سات سال تک جنگ بندی کے لیے قطری اور مصری ثالثوں کا نیا فارمولہ زیر غور

    اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی مذاکرات سے وابستہ ایک سینئر فلسطینی عہدیدار نے پیر کے روز بی بی سی کو بتایا ہے کہ قطری اور مصری ثالثوں نے غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لیے ایک نیا فارمولہ تجویز کیا ہے۔

    حکام کے مطابق اس معاہدے میں پانچ سے سات سال تک جاری رہنے والی جنگ بندی، اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینی قیدیوں کے بدلے تمام اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی، جنگ کا باضابطہ خاتمہ اور غزہ سے اسرائیل کے مکمل انخلاء پر غور کیا گیا ہے۔

    حماس کا ایک سینیئر وفد مشاورت کے لیے قاہرہ پہنچنے والا ہے۔

    آخری جنگ بندی ایک ماہ قبل اس وقت ختم ہوئی تھی جب اسرائیل نے غزہ پر دوبارہ بمباری شروع کی تھی اور دونوں فریق اسے جاری رکھنے میں ناکامی کا الزام ایک دوسرے پر عائد کر رہے تھے۔

    اسرائیل نے ثالثوں کے منصوبے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

    قاہرہ میں ہونے والے مذاکرات میں حماس کی نمائندگی اس کی سیاسی کونسل کے سربراہ محمد درویش اور اس کے اہم مذاکرات کار خلیل الحیا کریں گے۔

    اس سے چند روز قبل تحریک نے اسرائیل کی تازہ ترین تجویز کو مسترد کر دیا تھا، جس میں حماس سے چھ ہفتوں کی جنگ بندی کے بدلے میں غیر مسلح ہونے کا مطالبہ بھی شامل تھا۔

    سنیچر کے روز اسرائیلی وزیر اعظم بینامن نتن یاہو نے کہا تھا کہ وہ حماس کو تباہ کرنے اور تمام یرغمالیوں کی واپسی تک جنگ ختم نہیں کریں گے۔

    حماس نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ یرغمالیوں کی رہائی سے قبل جنگ ختم کرنے کا وعدہ کیا جائے۔

    بات چیت سے وابستہ فلسطینی عہدیدار نے بی بی سی کو بتایا کہ حماس نے غزہ کا نظم و نسق کسی بھی فلسطینی ادارے کے حوالے کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے جس پر ’ قومی اور علاقائی سطح پر‘ اتفاق کیا گیا ہے۔

    عہدیدار نے کہا کہ یہ مغربی کنارے میں قائم فلسطینی اتھارٹی یا نو تشکیل شدہ انتظامی ادارہ ہوسکتا ہے۔

    نتن یاہو نے غزہ کی مستقبل کی حکمرانی میں پی اے کے کسی بھی کردار سے انکار کیا ہے جہاں 2007 سے حماس کی حکومت ہے۔

    اگرچہ کامیابی کے امکانات کا اندازہ لگانا ابھی قبل از وقت ہے، ذرائع نے ثالثی کی موجودہ کوشش کو سنجیدہ قرار دیا اور کہا کہ حماس نے ’غیر معمولی لچک‘ کا مظاہرہ کیا ہے۔

    حماس نے 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حملہ کیا تھا جس میں تقریبا 1200 افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں زیادہ تر عام شہری تھے اور 251 افراد کو یرغمال بنا کر غزہ واپس لے جایا گیا تھا۔

    غزہ کی حماس کے زیر انتظام وزارت صحت کے مطابق اسرائیل نے اس کے جواب میں بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کی جس میں اب تک 51,240 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر عام شہری ہیں۔

  20. ماہ رنگ بلوچ اور بیبو بلوچ کی تھری ایم پی او کے تحت گرفتاری میں ایک ماہ کی توسیع

    بلوچ یکجہتی کمیٹی کی سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور بیبو بلوچ کی تھری ایم پی او کے تحت گرفتاری میں پیر کے روز مزید ایک ماہ کی توسیع کردی گئی۔

    اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کے وکیل عمران بلوچ ایڈووکیٹ نے بتایا کہ یہ توسیع محکمہ داخلہ و قبائلی امور بلوچستان کی جانب سے کی گئی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ تھری ایم پی او کے تحت دونوں کی گرفتاری کی مدت آج ختم ہورہی تھی جس کے باعث محکمہ داخلہ نے دونوں کی گرفتاری میں مزید ایک ماہ کی توسیع کی گئی ہے۔

    ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، بیبو بلوچ اور بی وائی سی کے دیگر گرفتار رہنمائوں اور کارکنوں کو ڈسٹرکٹ جیل کوئٹہ میں رکھا گیا ہے۔

    عمران بلوچ نے بتایا کہ انھیں جیل حکام کی جانب سے پیر کے روز باقاعدہ طور پر آگاہ کیا گیا کہ ڈاکٹر ماہ رنگ اور بیبو بلوچ کی گرفتاری میں مزید ایک ماہ کی توسیع کی گئی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ کسی کی ایم پی او کے تحت گرفتاری کا حکم ڈپٹی کمشنر جاری کرتا ہے تاہم اس کے بعد اس میں توسیع محکمہ داخلہ کی جانب سے کی جاتی ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ بی وائی سی کے دیگر گرفتار عہدیداروں اور کارکنوں گلزادی بلوچ ، صبغت اللہ شاہ جی اور بیبرگ بلوچ کی گرفتاری کو چیلنج کیا گیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ بی وائی سی کے مجموعی طور پر 150 کارکنوں کو ایم پی او کے تحت حراست میں لیا گیا ہے جن کی گرفتاری کے خلاف جمعرات تک درخواست دائر کی جائے گی۔