آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

انڈیا کا سندھ طاس معاہدے پر عملدرآمد معطل کرنے سمیت متعدد اقدامات کا اعلان، ’انڈیا کو ترکی بہ ترکی جواب دیں گے‘: پاکستان

پہلگام حملے کے تناظر میں انڈیا نے پاکستان کے ساتھ سندھ طاس معاہدے کو معطل، واہگہ بارڈر بند اور سفارتی عملہ محدود کرنے سمیت متعدد اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ ادھر نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ ’انڈیا کو ترکی بہ ترکی جواب دیں گے، یہ جواب کم نہیں ہو گا۔‘

خلاصہ

  • گذشتہ روز کے پہلگام حملے کے تناظر میں وزیراعظم نریندر مودی کی سربراہی میں ہونے والے سلامتی سے متعلق کابینہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد انڈیا نے پاکستان کے ساتھ سندھ طاس معاہدے کو معطل، واہگہ بارڈر بند اور سفارتی عملہ محدود کرنے سمیت متعدد اقدامات کا اعلان کیا ہے۔
  • انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے مشہور سیاحتی مقام پہلگام میں سیاحوں پر حملے میں 26 سے زیادہ افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔
  • پاکستانی دفترِ خارجہ کی جانب سے پہلگام میں سیاحوں کی ہلاکت اور دہشت گردوں کے حملے سے متعلق جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہم مرنے والوں کے لواحقین سے تعزیت کرتے ہیں اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کرتے ہیں۔‘
  • انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں دہشت گردوں کے حملے کے بعد انڈین وزیر داخلہ امت شاہ سری نگر پہنچ گئے ہیں۔ جبکہ وزیر اعظم نریندر مودی بھی سعودی عرب کے دورہ مختصر کر کے وطن واپس پہنچ گئے ہیں۔
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پیغام میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ 'کشمیر سے انتہائی پریشان کن خبر ملی ہے۔ امریکہ مضبوطی سے دہشتگردی کے خلاف (جنگ میں) انڈیا کے ساتھ کھڑا ہے۔'

لائیو کوریج

  1. سیاحوں کو کشمیر سے واپس جاتے دیکھنا انتہائی تکلیف دہ ہے: عمر عبداللہ

    انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ منگل کے روز پہلگام میں عسکریت پسندوں کے حملے کے بعد وادی سے ’ہمارے مہمانوں کی واپسی‘ کو دیکھنا انتہائی تکلیف دہ ہے لیکن ہم یہ بات سمجھتے ہیں کہ ’لوگ کیوں واپس جا رہے ہیں۔‘

    انڈیا کے سول ایوی ایشن حکام کا کہنا ہے کہ ’سیاحوں کی جانب سے اپنے گھروں کو واپس جانے کا غیر متوقع مطالبہ کیا جا رہا ہے اور انھوں نے ایئرلائنز سے کہا ہے کہ وہ پروازوں کی تعداد بڑھانے کے لیے فوری اقدامات کریں۔‘

    عُمر عبداللہ نے اپنے حالیہ بیان میں کہا کہ ’جہاں حکومت ایک جانب اضافی پروازوں کا انتظام کرنے میں مصروف ہے وہیں حکام سیاحوں کو سڑک کے ذریعے جانے کی بھی اجازت دے رہے ہیں اور انھیں بہتر سہولیات فراہم کرنے کی بھرپور کوشش میں ہیں۔‘

    تاہم اُن کا کہنا ہے کہ ’کشمیر سے آزادانہ طور پر زمینی راستے کا استعمال کرتے ہوئے سفر کرنے کی اجازت دینا مشکل ہے کیونکہ مختلف مقامات پر انتظامیہ پھنسی ہوئی گاڑیوں کو نکالنے کے لئے کوششوں میں مصروف ہیں۔‘

  2. پہلگام حملے کے بعد کشمیر میں ہڑتال اور سیاحوں کی واپسی

    پہلگام میں سیاحوں کے ایک گروپ پر مسلح حملے میں 26 افراد کی ہلاکت کے دوسرے روز جہاں انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں ہڑتال کی جارہی ہے وہیں ہزاروں سیاح واپس بھی جا رہے ہیں۔ دیکھیے نامہ نگار ریاض مسرور کی رپورٹ۔

  3. ’اگر ہم بروقت وہاں سے نہیں نکلتے تو آج زندہ نہ ہوتے‘

    پہلگام حملے کے ایک عینی شاہد نے بی بی سی ہندی کو بتایا کہ اگر وہ بروقت جائے حادثہ سے چلے نہ گئے ہوتے تو شاید آج زندہ نہ ہوتے۔

  4. مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کی ضرورت ہے: سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی

    انڈیا کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بدھ کے روز پہلگام میں ہلاکتوں کے خلاف احتجاجی مارچ کی قیادت کی۔

    اس سے قبل محبوبہ مفتی کی جانب سے پورے خطے میں بدھ کے روز مکمل ہڑتال کی حمایت کا اعلان کیا گیا تھا۔

    محبوبہ مفتی کی جانب سے ایکس پر اپنے ایک بیان میں کہنا تھا کہ ’مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے اور ممکنہ سکیورٹی کوتاہیوں کی تحقیقات کرنے کی ضرورت ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’کشمیر میں سیاحوں کی حفاظت کو یقینی بنانا سب سے اہم ہے اور مستقبل میں حملوں کو روکنے کے لیے اقدامات کیے جانے چاہئیں۔‘

  5. حملہ آوروں کے بارے میں اب تک ہم کیا جانتے ہیں؟, سوتیک بسواس، بی بی سی انڈیا

    پہلگام میں منگل کو ہونے والے وحشیانہ حملے کا ذمہ دار کون ہے اس بارے میں ابھی تک کسی بھی جانب سے کوئی سرکاری تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

    تاہم انڈیا کے وفاقی انٹیلی جنس ذرائع کے حوالے سے میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں قائم عسکریت پسند گروپ لشکر طیبہ سے تعلق رکھنے والی خفیہ تنظیم دی رزیسٹینس فرنٹ (ٹی آر ایف) نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

    اطلاعات کے مطابق یہ گروپ سنہ 2019 میں آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد سامنے آیا اور مبینہ طور پر ایک سرگرم عسکریت پسند نیٹ ورک میں تبدیل ہونے سے پہلے انڈیا کے خلاف آن لائن پروپیگنڈا کرنے میں مصروف رہا۔

    انڈین حکومت نے سنہ 2023 میں اسے ایک دہشت گرد گروپ قرار دیا تھا اور اس پر نوجوانوں کو بھرتی کرنے، دہشت گردی کے مواد کو آن لائن پھیلانے اور جموں و کشمیر میں ہتھیاروں کی سمگلنگ کا الزام عائد کیا تھا۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ٹی آر ایف کی سرگرمیاں انڈیا کی قومی سلامتی اور خودمختاری کے لئے نقصان دہ ہیں۔

    فوجی مورخ سری ناتھ راگھون نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ایسا لگتا ہے کہ یہ لشکر طیبہ سے منسلک ایک شاخ ہے، جو ممکنہ طور پر کچھ فاصلہ برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے اور اس کے فعال ہونے کا اشارہ دے رہا ہے۔‘

    ’اس طرح کے گروہوں جب کمزور پڑنے لگتے ہیں تو وہ اپنے حامیوں کو یہ ظاہر کرنے کے لئے اس طرح کے حملے کرتے ہیں صرف یہ ظاہر کرنے کے لیے کہ وہ اب بھی نہ صرف قابل ہیں بلکہ مخالفین کو نشانہ بنانے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔‘

    انڈیا میں اس حملے کے بعد سرکاری طور پر پائی جانے والی خاموش فضا نے جہاں صورتحال کو غیر واضح کر دیا ہے وہیں حالیہ برسوں میں شہریوں پر ہونے والے مہلک ترین حملوں میں سے ایک کے بعد بے چینی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

  6. انڈین وزیرِ داخلہ امت شاہ کی پہلگام حملے میں ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین سے ملاقات

    انڈین وزیر داخلہ امت شاہ نے پہلگام حملے میں ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین سے سرینگر میں ملاقات کی ہے۔

    انڈین خبر رساں ادارے اے این آئی کی جانب سے ایکس پر ہوسٹ کی جانے والی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وزیرِ داخلہ امت شاہ سرینگر میں ایک کیمپ میں بیٹھے لواحقین سے مل رہے ہیں۔

    امت شاہ کی جانب سے کیمپ میں موجود مرد و خواتینت بچوں اور بزرگوں سے اس واقع پر افسوس کا اظہار کیا گیا۔ انھوں نے کیمپ میں موجود بچوں کے سروں پر ہاتھ پھیر کر انھیں دلاسا بھی دیا۔

    واضح رہے کہ منگل 22 اپریل کو انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں دہشت گردوں کے ایک حملے میں 26 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے تھے۔

    دہشت گردوں کے اس حملے کے بعد سے انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں ہڑتال کی کال دی گئی ہے۔ تاہم دوسری جانب انڈیا کے دارلحکومت دہلی میں بھی سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔

  7. پہلگام حملے میں ہلاک ہونے والوں کی میتیں سری نگر پہنچا دی گئیں

    انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے اہم سیاحتی علاقے پہلگام میں منگل کے روز فائرنگ کے واقعے میں ہلاک ہونے والے افراد کی میتیں سرینگر پہنچا دی گئی ہیں۔

    بدھ کے روز انڈیا کے وزیرِ داخلہ امت شاہ نے حملے میں مرنے والوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

    توقع کی جار ہی ہے کہ امت شاہ آج کسی وقت پہلگام کا دورہ کریں گے۔

    پہلگام میں سیاحوں پر حملے کے واقعے کے بعد انڈیا کے وزیرِ اعظم نریندر مودی بھی اپنا سعودی عرب کا دورہ مختصر کر کے دہلی واپس پہنچ گئے ہیں۔

    پہلگام حملے میں ہلاک ہونے والوں کی میتیں سرینگر کے پولیس کنٹرول روم میں رکھی گئی ہیں۔

    کنٹرول روم کے باہر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں جبکہ صحافیوں کو بھی عمارت کے اندر جانے کی اجازت نہیں۔

    دیکھا جا سکتا ہے کہ عمارت سے بسوں اور ایمبولینسوں کے ذریعے مرنے والوں کی لاشوں اور ان کے اہل خانہ کو ہوائی اڈے منتقل کیا جا رہا ہے جہاں سے انھیں ان کے آبائی شہروں روانہ کیا جائے گا۔

    بی بی سی کے نامہ نگار نیاز فاروقی کے مطابق، انڈیا کی حکومت نے اس واقعے میں ہلاک ہونے والے 25 افراد کی فہرست جاری کی ہے۔ مرنے والوں کا تعلق ملک کے مختلف حصوں سے ہے۔

    اس فہرست کے مطابق تمام متاثرین مرد ہیں۔ اس سے قبل کئی رپورٹس میں دعویٰ گیا تھا کہ حملہ آوروں نے خصوصی طور پر مردوں کو نشانہ بنایا ہے۔

  8. انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے بارہمولہ میں مشتبہ عسکریت پسند ہلاک

    انڈین فوج کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ انھوں نے ضلع بارہمولہ میں مشتبہ عسکریت پسندوں کی دراندازی کی کوشش کو ناکام بنا دیا ہے۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’فائرنگ کے تبادلے میں دو عسکریت پسند ہلاک ہو گئے ہیں۔‘

    واضح رہے کہ بارہمولہ پہلگام سے تقریباً 140 کلومیٹر دور ہے جہاں منگل کے روز حملہ ہوا تھا۔

    انڈین فوج کی جانب سے مزید کہا گیا ہے کہ ’دراندازی کی کوشش لائن آف کنٹرول کے قریب ہوئی۔

    وادی کشمیر میں کام کرنے والی انڈین فوج کی ’چنار کور‘ نے ایکس پر جاری اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’علاقے میں جاری آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز اور مشتبہ عسکریت پسندوں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’فائرنگ کے تبادلے اور ہلاک ہونے والے دو عسکریت پسندوں کے پاس سے بڑی مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور دیگر جنگی سازوسامان برآمد کیا گیا ہے۔‘

  9. پاکستان کا پہلگام میں سیاحوں پر حملے اور جانوں کے ضیاع پر اظہارِ افسوس

    انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں ہونے والے دہشت گردوں کے حملے اور 26 افراد کی ہلاکت پر پاکستانی دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں سیاحوں کی ہلاکت پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

    دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’ہمیں انڈیا کے غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں ایک حملے میں سیاحوں کی جانوں کے ضیاع پر تشویش ہے۔ ہم مرنے والوں کے لواحقین سے تعزیت کرتے ہیں اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کرتے ہیں۔‘

    پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے پہلگام حملے کے بعد نجی ٹی وی چینل 92 نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حملے سے پاکستان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ انھوں نے اسے انڈیا کا اندرونی معاملہ قرار دیا۔

    خواجہ آصف کا کہنا تھا ’انڈیا کے اندر ناگا لینڈ سے لے کر کشمیر تک، جنوب میں چھتیس گڑھ اور منی پور سمیت پورے ملک میں دہلی کی مرکزی حکومت کے خلاف درجنوں بغاوتیں چل رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ مقامی سطح پر جنم لینے والی بغاوتیں ہیں جس میں لوگ اپنے حقوق مانگ رہے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا اس حملے کا قطعی طور پر پاکستان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ’پاکستان کسی بھی صورت میں کہیں بھی دہشتگردی کی حمایت نہیں کرتا۔‘

    خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ ’ہماری قومی پالیسی بالکل واضح ہے کہ نان کمبیٹنٹ کو بالکل نشانہ نہیں بنانا چاہیے۔۔۔ اگر انڈیا میں کہیں پر فوج یا پولیس لوگوں پر ظلم ڈھا رہی ہے اور اگر اس کے خلاف مقامی افراد ہتھیار اٹھا رہے ہیں تو اس کے لیے پاکستان پر الزام لگانا بہت آسان ہے۔‘

  10. انڈیا کے زیرِانتظام کشمیر میں پہلگام حملے کے بعد ہڑتال کی کال، تجارتی مراکز اور تعلیمی ادارے بند

    انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے اہم سیاحتی علاقے پہلگام میں منگل کے روز دہشت گردوں کے حملے میں 26 افراد کی جانیں لے لیں اور اس حملے میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے۔

    انڈیا کے زیِر انتظام کشمیر میں اس نوعیت کے حملے پہلے بھی ہوتے رہے ہیں، لیکن یہ پہلی مرتبہ ہے کہ انڈیا کے زیرِانتظام کشمیر میں تجارتی انجمنوں اور دیگر اداروں نے اس واقعہ کے خلاف بدھ کے روز جموں کشمیر میں ہڑتال کی جا رہی ہے۔

    جموں میں وکلا کی بار ایسوسی ایشن اور تجارتی انجمنوں کے علاوہ کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز اور کشمیر پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشن نے پورے خطے میں ہڑتال کی کال دی ہے۔

    حملے کے بعد سے ہی انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے متعدد علاقوں میں سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔

    اس حملے میں ہلاک ہونے والوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے پہلگام اور گردونواح کے علاقوں میں سیاحت کی صنعت سے جڑے سینکڑوں لوگوں نے منگل کی شب شمعیں جلا کر ان ہلاکتوں کے خلاف پرامن احتجاج بھی کیا تھا۔

  11. پہلگام حملے کے بعد دہلی میں بھی سکیورٹی سخت

    انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے اہم سیاحتی علاقے پہلگام میں منگل کو سیاحوں پر ہونے والے حملے کے بعد جہاں کشمیر کے بیشتر علاقوں میں سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے وہیں انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی میں بھی حفاظتی انتظامات میں اضافہ کیا گیا ہے۔۔

    خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ پہلگام حملے کے بعد خاص طور پر دہلی کے سیاحتی علاقوں میں سخت سکیورٹی چیکنگ کی جارہی ہے۔‘

    دوسری جانب حکام کا کہنا ہے کہ ’وادی کشمیر میں چیک پوائنٹس بھی قائم کر دیے گئے ہیں اور آنے اور جانے والے تمام راستوں پر سخت چیکنگ کا عمل جاری ہے۔‘

  12. ’کشمیریوں کی میزبانی کی صدیوں پرانی روایت پر حملہ‘, ریاض مسرور، بی بی سی اردو

    پہلگام میں سیاحوں پر ہونے والے حملے نے جہاں سکیورٹی کے حوالے سے سوالات کھڑے کیے ہیں وہی اس کے بعد کشمیر میں چند برسوں سے سنبھل رہی سیاحتی صنعت کو شدید دھچکے کا اندیشہ ہے۔

    ہوٹل الپائن میڈوز کے مالک سجاد احمد بٹ کا کہنا ہے کہ ان کے ہوٹل میں ایک درجن غیرملکی سیاح تھے جن میں چھ منگل کی شام ہی کشمیر چھوڑ کر نکل گئے۔ انھوں نے بتایا کہ ’ہماری اگلے ہفتے کی ساری بُکنگز منسوخ ہوچکی ہیں۔‘

    گزشتہ چند برسوں کے دوران بڑی تعداد میں انڈین اور غیرملکی سیاح کشمیر آنے لگے تھے۔ اس کی وجہ سے یہاں کے ہوٹل مالکان، ٹیکسی ڈرائیورس اور سیاحت سے جڑے دوسرے لوگوں کی زندگیاں بہتر ہونے لگی تھیں۔ لیکن پہلگام حملے اور بڑی تعداد میں سیاحوں کی ہلاکتوں کے بعد مشکلات سے سنبھل رہی سیاحتی صنعت کو شدید دھچکہ پہنچا ہے۔

    کشمیری رہنما سجاد لون نے اس حملے کی مذمت کی ہے۔ سجاد لون نے ایک بیان میں کہا کہ ’یہ حملہ کشمیریوں کی میزبانی کی صدیوں پرانی روایت پر حملہ ہے اور یہ کشمیریوں کو معاشی طور پر مزید بے اختیار کرنے کی سازش ہے۔‘

    یہ حملہ جس مقام پر ہوا ہے وہ پہلگام کی پہاڑیوں میں واقع ہندوؤں کے مقدس مقام امرناتھ غار کی طرف جانے والے راستے پر ہے اور ہر سال امرناتھ یاترا کے لیے کشمیر آنے والے لاکھوں یاتریوں میں سے مقدس مقام کی جانب پیدل سفر کرنے والے اسی وادی بائی سرن سے ہو کر گزرتے ہیں۔

    جون کے آخر سے شروع ہونےوالی اس یاترا کے لیے مارچ سے ہی اندراج کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا اور سرکاری ترجمان کے مطابق ابھی تک تقریباً پانچ ہزار یاتریوں نے اس یاترا کے لیے اندراج کر وایا ہے۔ تاہم اس واقعے کے بعد خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آنے والے یاتریوں کی تعداد بھی کم ہو سکتی ہے۔

  13. ایئر انڈیا اور انڈیگو نے سرینگر کے لیے اضافی پروازوں کا آغاز کر دیا ہے

    انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں دہشت گردانہ حملے کے بعد ایئر انڈیا اور انڈیگو نے بدھ کو سرینگر سے دہلی اور ممبئی کے لئے چار اضافی پروازوں ۂا آغاز کر دیا ہے۔ ایئر انڈیا کی جانب سے ایکس پر جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’موجودہ صورتحال کے پیش نظر ایئر انڈیا بدھ 23 اپریل کو سرینگر سے دہلی اور ممبئی کے لئے دو اضافی پروازیں چلائے گی۔ تاہم انڈین فضائی کمپنی ’انڈیگو‘ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ’حملے کے ایک دن بعد سرینگر کو دہلی اور ممبئی سے جوڑنے والی دو اضافی پروازیں چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔‘

    اس کے علاوہ ایئر انڈیا ایکسپریس نے پہلگام کی موجودہ صورتحال کے دوران سرینگر آنے اور جانے والے مسافروں کے لئے بھی مدد کا اعلان کرتے ہوئے سرینگر سے پانچ مقامات بنگلورو، دہلی، حیدرآباد، جموں اور کولکاتہ سے براہ راست پروازوں کا اعلان کیا ہے۔

  14. کشمیر میں سیاحوں اور شہریوں پر بڑے حملے, ریاض مسرور، بی بی سی اردو

    گذشتہ تین دہائیوں کے دوران یہ پہلا موقع ہے کہ کشمیر میں کسی مسلح حملے میں اتنی بڑی تعداد میں عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا۔

    پہلگام میں منگل کو ہونے والے حملے میں اب تک 26 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جن میں انڈین بحریہ کا ایک افسر بھی شامل ہے۔

    1990 سے ہی جب بھی کشمیر سے متعلق انڈیا۔پاکستان یا انڈیا اور کشمیری علیٰحدگی پسندوں کے درمیان مذاکراتی عمل شروع ہوتا تھا، اس طرح کے حملے انڈین سیاحوں، غیرمقامی ہندو مزدوروں یا اقلیتی شہریوں پر ہوتے رہے ہیں۔

    چار جولائی 1995 کو پہلگام میں ہی چھ غیر ملکی سیاحوں کو اغوا کر لیا گیا تھا۔ ان میں دو امریکی، دو برطانوی، ایک جرمن اور ایک نارویجین شہری شامل تھا۔ اس واقعے کی ذمہ داری الفاران نامی تنظیم نے قبول کی تھی اور عسکریت پسند تنظیم حرکت الانصار کے رہنما مولانا مسعود اظہر کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔

    اغوا کے چار دن بعد ایک امریکی سیاح اغوا کاروں کی گرفت سے بچ نکلا تھا جبکہ چند ہفتے بعد نارویجین سیاح کی سربریدہ لاش ملی تھی جس کے سینے پر الفاران کندہ تھا۔ دیگر چار سیاحوں کی آج تک کوئی خبر نہیں ملی تاہم ایسی اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ چاروں کو قتل کر دیا گیا تھا۔

    پھر مارچ 2000 میں اُس وقت کے امریکی صدر بل کلنٹن جب انڈیا کے دورے پر تھے تو اننت ناگ ضلع کے ہی چھِٹی سنگھ پورہ علاقے میں مسلح افراد نے 36 سِکھ شہریوں کا قتل عام کیا تھا۔ اُسی سال اگست میں پہلگام میں ہی 10 یاتریوں سمیت 21 افراد مارے گئے تھے۔

    اسی طرح مارچ 2003 میں ضلع پلوامہ کے علاقے نادی مرگ میں 11 خواتین اور دو بچوں سمیت 24 کشمیری پنڈتوں کو مسلح افراد نے گولیاں مار کر ہلاک کردیا۔

    پہلگام حملے سے قبل شہریوں پر حملے کا بڑا واقعہ جون 2024 میں پیش آیا تھا جب ہندو یاتریوں کی بس پر شدت پسندوں کی فائرنگ سے نو افراد ہلاک اور 33 زخمی ہوئے تھے۔

  15. پہلگام حملہ: گزشتہ شب سے اب تک کی صورتحال کی تصویری جھلکیاں

  16. ’یہ ہمارا سات اکتوبر ہے‘: پہلگام حملے کے بعد انڈین میڈیا میں جنگ کے نعرے

    اگرچہ تاحال اس حملے کی ذمہ داری کسی گروہ نے قبول نہیں کی ہے جبکہ حکام کی جانب سے بھی اس ضمن میں کچھ نہیں کہا گیا ہے تاہم انڈین چینلوں پر سابق فوجی اور سلامتی کے امور کے ماہرین اس حملے کا الزام پاکستان اور پاکستانی فوج پر دھرتے نظر آئے۔

  17. پہلگام حملے کے بعد عالمی رہنماؤں کا ردِ عمل

    اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامن نیتن یاہو نے منگل کے روز انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے سیاحتی علاقے پہلگام میں ہونے والے دہشت گردی کے واقع پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل انڈیا کی حمایت جاری رکھے گا۔

    ایکس پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامن نیتن یاہو نے انڈیا کے وزیرِ اعظم نرندر مودی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’میرے عزیز دوست نرندر مودی میں اس وحشیانہ حملے سے بہت غمزدہ ہوں جس میں درجنوں بے گناہوں کی ہلاکت ہوئی اور متعدد لوگ اس میں زخمی ہوئے۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’ہماری دُعائیں متاثریں اور اُن کے خاندانوں کے ساتھ ہیں۔ اسرائیل ہمیشہ کی طرح اب بھی دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں انڈیا کے ساتھ کھڑا ہے۔‘

    روسی صدر ولادیمیر پوتن کی جانب سے بھی انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں پیش آنے والے دہشت گردی کے واقع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس ’سفاکانہ جرم کا کوئی جواز نہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ہم توقع کرتے ہیں کہ اس میں ملوث افراد کو سخت سزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔ میں اور پوری روسی قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں انڈیا کے ساتھ تعاون کو مزید بڑھانے کے اپنے عزم کا اعادہ کرنا چاہتا ہوں۔‘

    اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں ’مسلح حملے‘ کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ ’شہریوں کے خلاف حملے کسی بھی صورت میں ناقابل قبول ہیں۔‘

    سیکرٹری جنرل کے ترجمان سٹیفن دوجارک نے کہا کہ سیکرٹری جنرل نے پہلگام میں 22 اپریل کو ہونے والے مسلح حملے کی شدید مذمت کی ہے اور کہا کہ اس طرح کے واقعات کی جس قدر بھی مزمت کی جائے وہ کم ہے۔‘

    جرمن چانسلر اولاف شولز کی جانب سے بھی پہلگام میں دہشت گردوں کے حملے میں 26 سے زائد افراد کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔

    جرمن چانسلر نے ایک پر جاری اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’ہم پہلگام میں سیاحوں کے خلاف گھناؤنے دہشت گردانہ حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ ہماری ہمدردیاں متاثرین کے اہل خانہ کے ساتھ ہیں اور ہم تمام زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کرتے ہیں۔ ہماری دلی تعزیت انڈیا کے عوام کے ساتھ ہے۔‘

    یورپی یونین کی سربراہ ارسلا وان ڈیر لیئن نے کشمیر میں مسلح افراد کے ہاتھوں کم از کم 26 افراد کی ہلاکت کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’گھناؤنا دہشت گردانہ حملہ‘ قرار دیا ہے۔

    انھوں نے انڈین وزیراعظم نریندر مودی کے نام ایک تعزیتی پیغام میں کہا کہ ’پہلگام میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے نے آج بہت سے بے گناہ لوگوں کی جانیں لیں۔ آپ اس آزمائش میں مضبوطی سے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔‘ یورپی کمیشن کی سربراہ نے مزید کہا کہ ’یورپ آپ کے ساتھ کھڑا رہے گا۔‘

    سری لنکا کی وزارت خارجہ نے انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں پہلگام میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے انڈیا کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔

    سری لنکا کی وزارت خارجہ کی جانب سے ایکس پر جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’سری لنکا آج پہلگام میں ہونے والے گھناؤنے دہشت گردانہ حملے کی سخت مذمت کرتا ہے۔ ہم متاثرین کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہیں اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کرتے ہیں۔ سری لنکا ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں انڈین حکومت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کے ساتھ کھڑا ہے۔ ہم علاقائی امن و سلامتی کے لیے اپنے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہیں۔‘

    نیوزی لینڈ کے وزیر خارجہ ونسٹن پیٹرز نے ایکس پر اپنے ایک بیان میں انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے کی مزمت کرتے ہوئے کہا کہ ’نیوزی لینڈ کشمیر میں دہشت گردانہ حملے کی شدید مذمت کرتا ہے۔ ہم متاثرین، ان کے اہل خانہ اور انڈین عوام کے ساتھ گہری تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔ ہم اس مشکل وقت میں اپنے انڈین دوستوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘

  18. پہلگام واقعے میں ہلاکتوں کی تعداد 26 ہوگئی: روئٹرز

    بین الاقوامی خبر رساں ادارے روئٹرز نے انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کی مقامی پولیس کے حوالے سے بتایا ہے کہ منگل کو سیاحتی مقام پہلگام میں سیاحوں پرفائرنگ کے واقعے میں ہلاکتوں کی تعداد 26 ہو گئی ہے۔

    ہلاک شدگان میں انڈین بحریہ کے ایک افسر کے علاوہ دو غیرملکی بھی شامل ہیں۔

    پہلگام انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں واقع مشہور سیاحتی مقام ہے۔ سیاحوں پر حملے کا یہ واقعہ پہلگام سے پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع وادی بائی سرن میں ایک پہاڑی پر پیش آیا جہاں سیاحوں کا گروپ ایک سرسبز چراگاہ کے پاس موجود تھا۔

    انڈیا کے زیرِ انتظام اس مسلمان اکثریتی خطے میں 1989 سے شورش جاری ہے۔ تاہم حالیہ برسوں کے دوران پُرتشدد واقعات میں کمی آئی ہے۔

    تاحال کسی گروہ نے منگل کے روز ہونے والے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ تاہم یہ پہلگام میں سیاحوں پر حملے کا پہلا واقعہ نہیں۔

    1990 کی دہائی میں جب کشمیر میں شورش عروج پر تھی تب چار جولائی 1995 کو پہلگام سے چھ غیر ملکی سیاحوں کو اغوا کر لیا گیا تھا۔

  19. پہلگام میں سیاحوں پر حملہ، وزیرِ اعظم نریندر مودی سعودی عرب کا دورہ مختصر کر کے انڈیا پہنچ گئے

    انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں سیاحوں پر حملے کے واقعے کے بعد انڈیا کے وزیرِ اعظم نریندر مودی اپنا سعودی عرب کا دورہ مختصر کر کے دہلی واپس پہنچ گئے ہیں۔

    بدھ کے روز انڈیا واپس پہنچنے کے بعد وزیرِ اعظم مودی نے دہلی کے اندرا گاندھی ایئر پورٹ پر ہی ایک سکیورٹی اجلاس کی صدارت کی۔ اس اجلاس میں وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر، قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول، سیکرٹی خارجہ وکرم مصری اور دیگر موجود تھے۔

    خیال رہے کہ انڈین وزیرِ اعظم دو روزہ سرکاری دورے پر سعودی عرب میں موجود تھے جب منگل کے روز انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے مشہور سیاحتی مقام پہلگام میں سیاحوں کے ایک گروپ پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ مسلح افراد کی فائرنگ سے دو درجن سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    سرکاری ذرائع کے مطابق، اس واقعے کے بعد وزیرِ اعظم مودی اپنے اعزاز میں دیے گئے عشائیے میں شرکت کیے بغیر انڈیا لوٹ آئے۔ پہلے طے شدہ شیڈول کے مطابق، وزیرِ اعظم مودی کو بدھ کی رات واپس آنا تھا۔

    اس سے قبل وزیراعظم نریند مودی نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ اس واقعے کے ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ انھوں نے ایکس پر اپنے پیغام میں لکھا کہ ’دہشت گردی سے لڑنے کا ہمارا عزم غیر متزلزل ہے اور یہ اور بھی مضبوط ہو گا۔‘