برطانیہ کا روس پر مزید پابندیوں کا عندیہ، ٹرمپ سے ملاقات میں یوکرین کی خود مختاری پر بات کروں گا: برطانوی وزیراعظم

برطانوی وزیراعظم سر کئیر سٹارمر نے کہا ہے کہ وہ اگلے ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ہونے والی اپنی ملاقات میں یوکرین کی خود مختاری پر بات کریں گے۔ برطانیہ نے یوکرین جنگ کے تین برس مکمل ہونے پر روس پر مزید پابندیاں بھی عائد کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

خلاصہ

  • اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ 600 سے زائد فلسطینی قیدیوں کی رہائی کو غیرمعینہ مدت کے لیے ملتوی کر رہا ہے۔ حماس نے اسے جنگ بندی معاہدے کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
  • حماس کا کہنا ہے کہ اسرائیل فلسطینی قیدیوں کی رہائی میں تاخیر کر کے جنگ بندی کے معاہدے کی ’سنگین خلاف ورزی‘ کر رہا ہے۔
  • برطانوی وزیراعظم سر کئیر سٹارمر نے کہا ہے کہ وہ اگلے ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ہونے والی اپنی ملاقات میں یوکرین کی خود مختاری پر بات کریں گے۔
  • ویٹیکن نے کہا کہ پوپ فرانسس ’دمے‘ کی بیماری کے باعث تشویشناک حالت میں ہیں۔

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!

    بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔ تازہ ترین خبروں کے لیے بی بی سی کے نئے لائیو پیج پر کلک کیجیے۔

  2. فرانس میں چاقو حملے میں ایک شخص ہلاک: ’حملہ آور نے اللہ اکبر کا نعرہ لگایا‘

    France

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفرانس کے صدر ایمیونئل میخواں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ ایک اسلامی شدت پسند کی طرف سے کیا جانے والا دہشتگردانہ حملہ تھا

    فرانس کے مشرقی شہر مُل ہاؤس میں ایک چاقو کے حملے میں ایک شخص ہلاک جبکہ تین پولیس اہلکار زخمی ہو گئے ہیں۔

    جائے وقوعہ سے 37 برس کے الجیریا کے ایک شہری کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اس حملے کو دہشتگردی کے واقعے کے تناظر میں تحقیقات ہو رہی ہیں کیونکہ مشکوک شخص نے اس حملے کے وقت اللہ اکبر کا نعرہ بلند کیا تھا۔

    حملہ آور نے ایک پولیس والے کی گردن اور دوسرے کی چھاتی پر وار کر کے دونوں کو شدید زخمی کر دیا۔ جب ایسے میں ایک 69 برس کے پرتگالی شہری نے بچاؤ کی کوشش کی تو حملہ آور نے چاقو گھونپ کر انھیں قتل کر دیا۔

    جرمنی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنحکام کے مطابق اس مشکوک شخص کا نام دہشتگردی سے متعلق واچ لسٹ میں درج تھا اور اس کی نگرانی کی جا رہی تھی

    حکام کے مطابق اس مشکوک شخص کا نام دہشتگردی سے متعلق واچ لسٹ میں درج تھا اور اس کی نگرانی کی جا رہی تھی۔ مقامی پراسکیوٹر کے مطابق فرانسیسی حکام نے اس شخص کو ملک بدر کرنا تھا۔

    فرانس کے صدر ایمیونئل میخواں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ ایک مسلمان کی طرف سے دہشتگردانہ حملہ تھا۔

    صدر نے متاثرہ خاندان سے تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ میں اپنے اور حکومت کے اس عزم کا دوبارہ سے اعادہ کرتا ہوں کہ ہم اپنی سرزمین سے دہشتگردی کا قلع قمع کر کے دم لیں گے۔‘

    یہ حملہ مل ہاؤس کی ایک مصروف مارکیٹ کے قریب سنیچر کو مقامی وقت کے مطابق سہ پہر چار بجے ہوا۔ یہ جگہ جرمنی اور سوئٹرزلینڈ کی سرحد سے قریب ہے۔

    واضح رہے کہ جمعے کو جرمنی کے شہر برلن میں ہولوکاسٹ میموریل میں چاقو کے ایک حملے میں ایک ہسپانوی سیاح شدید زخمی ہو گیا تھا۔ یہ حملہ مقامی وقت کے مطابق شام چھ بجے کے قریب ہوا۔

    پولیس نے بتایا کہ مشتبہ شخص کو حراست میں لے لیا گیا ہے جبکہ زخمی ہونے والے سیاح کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔

  3. کارکردگی رپورٹ جمع کرائیں یا پھر استعفیٰ دے کر گھر چلے جائیں: ایلون مسک کی سرکاری ملازمین کو ای میل

    Musk

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ میں سرکاری ملازمین کو سنیچر کی سہ پہر کو ایک ای میل موصول ہوئی جس میں کہا گیا کہ اپنے گذشتہ ہفتے کی اپنی کارکردگی رپورٹ جمع کرائیں یا استعفے دے کر گھر چلے جائیں۔

    یہ ای میل ٹرمپ انتظامیہ میں ڈیپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشینسی کے سربراہ ایلون مسک کی جانب کی سے بھیجی گئی ہے۔

    ایلون مسک نے اس سے قبل ایکس پر یہ ٹویٹ کی تھی کہ ’سرکاری ملازمین کو جلد ایک ای میل موصول ہو گی جس میں ان سے گذشتہ ہفتے ان کی مجموعی کاکردگی کے بارے میں پوچھا جائے گا۔‘

    انھوں نے کہا کہ اگر ملازمین نے جواب نہ جمع کرایا تو پھر اس ناکامی کو ان کا استعفیٰ تصور کیا جائے گا۔

    فنڈز میں کمی لانے اور ملازمین کی برطرفیوں کے ذریعے ایلون مسک حکومتی اخراجات کم کرنا چاہتے ہیں۔

  4. جرمنی میں آج ہونے والے انتخابات جن پر یورپ اور امریکہ گہری نظر رکھے ہوئے ہیں, سحر بلوچ، صحافی- جرمنی

    جرمنی

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    جرمنی میں آج انتخابات ہونے جا رہے ہیں جس میں جرمن بنڈشٹاگ یا جرمن فیڈرل پارلیمنٹ میں 630 ممبران کو منتخب کیا جائے گا۔

    یہ انتخابات دراصل گذشتہ برس ستمبر میں ہونے تھے مگر اتحادی جماعتوں میں اختلاف کے نتیجے میں ان الیکشن کو کچھ عرصے کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔

    سوشل ڈیموکریٹ چانسلر اولاف شولز کا تین پارٹی اتحاد، جو جرمنی پر 2021 سے حکمرانی کررہا تھا، پچھلے سال نومبر میں ٹوٹ گیا۔

    آئیے سمجھتے ہیں کہ یہ سب کب اور کیسے ہوا اور اس الیکشن میں حصہ لینے والی جماعتوں کے مقاصد کیا ہیں کہ ان پر یورپ اور امریکہ بھی گہری نظریں جمائے بیٹھے ہیں۔

    تین سیاسی جماعتوں، سوشل ڈیموکریٹک پارٹی، فری ڈیموکریٹک پارٹی، اور گرینز کے درمیان طے پانے والا یہ اتحاد جرمنی کے اب تک کے بدترین معاشی اور حفاظتی چیلنجز اور آپسی نظریاتی اختلاف کے نتیجے میں ٹوٹ گیا۔

    اولاف شولز نے اپنے لبرل خیال کیے جانے والے وزیر خزانہ اور ایف ڈی پی پارٹی کے کرسچن لنڈنر کو بجٹ پر اختلاف ہونے کی وجہ سے نکال دیا۔

    شولز نے پھر پارلیمنٹ کا اجلاس طلب کیا اور اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے میں ناکام رہے، جس کے نتیجے میں 23 فروری یعنی آج کے لیے سنیپ الیکشن کا انعقاد کیا گیا۔

    واضح رہے کہ برلِن یورپی یونین کی سب سے بڑی معیشت ہے اور اس کے ساتھ ساتھ سب سے زیادہ آبادی پر مشتمل ریاست بھی ہے۔ برلن کے سیاسی اور معاشی معاملات کا اثر پورے یورپی اتحاد پر پڑتا ہے۔

    اس الیکشن میں کتنی سیاسی جماعتیں حصہ لے رہی ہیں اور ان کے مقاصد کیا ہیں؟

    کرسچن ڈیموکریٹس: جرمن پارلیمنٹ میں سات سو تینتیس نشستیں ہیں۔ اور کرسچن ڈیموکریٹس کی پارلیمنٹ میں ایک سو چھیانوے سیٹس ہیں۔ یہ ایک سینٹر رائٹ اور قدامت پسند پارٹی ہے۔ یہ جماعت دوسری عالمی جنگ کے بعد قائم کی گئی تھی۔

    اس پارٹی کی سوشل پالیسی قدامت پسند جبکہ معاشی پالیسی لبرل ہے۔ اس جماعت نے جرمنی پر سب سے زیادہ عرصے کے لیے حکمرانی کی ہے۔

    کرسچن ڈیموکریٹس کے رکن اور قائد حزب اختلاف فریڈرک مرز جرمنی کے چانسلر بننے کی دوڑ میں پیش پیش ہیں۔

    فریڈرک مرز نے سی ڈی یو جماعت کی بھاگ دوڑ 2022 میں سنبھالی اور وہ خود کو پرو یورپین کہتے ہیں۔ سی ڈی یو پارٹی نے الیکشن کیمپین میں دعویٰ کیا ہے کہ وہ مائگریشن کو محدود کرے گی، اور جرمن معیشت میں بھی تبدیلی لائے گی۔

    سی ڈی یو کو حکومت بنانے کے لیے کم ازکم ایک یا دو اتحادیوں کی ضرورت پڑے گی۔ جو ان کی الیکشن مہم میں کیے گئے وعدوں کی تکمیل مشکل بنا سکتی ہے۔

    جرمنی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سوشل ڈیموکریٹس

    یہ جرمنی کی سوشل ڈیموکریٹک پارٹی ملک کی سب سے پرانی سیاسی جماعت ہے جس کا قیام 1890 میں ہوا تھا۔ اس جماعت کی بنیاد ورکرز تحریک کے نتیجے میں ہوئی تھی۔

    سی ڈی یو کی طرح سوشل ڈیموکریٹس کا شمار بھی جرمنی کی سب سے باثر جماعتوں میں ہوتا ہے۔ اس جماعت کی پارلیمنٹ میں دو سو سات نشستیں ہیں۔

    یہ جماعت سی ڈی یو کے ساتھ بارہا حکومت میں رہی ہے اور 2021 سے جرمنی پر حکمرانی کر رہی ہے۔

    یہ ایک سینٹر لیفٹ یا بائیں بازو کی جماعت ہے جس نے چانسلر کے عہدے کے لیے اولاف شولز کا نام دیا ہے۔

    شولز نے جرمنی پر مشکل دور میں حکمرانی کی ہے۔ چاہے وہ 2022 میں چھڑنے والی روس اور یوکرین کی جنگ ہو یا پھر سات اکتوبر 2023 میں اسرائیل کی فلسطین کے خلاف جنگ کے دوران جرمنی کا مؤقف تیار کرنا ہو، یا پھر جرمنی میں مہنگائی اور بجلی کے بحران کو روکنے کی کوشش ہو یہ سب انھیں دیکھنا پڑا۔

    اب اگر حالیہ ریاستی پولز کو دیکھیں، تو ان تمام تر واقعات نے شولز کو جرمنی کا سب سے غیر مقبول چانسلر قرار دیا ہے۔

    شولز کے لیے سب سے بڑا چیلنج ایک غیر مقبول جماعت کی حکمرانی کرنا ہوگا۔ اور اس کے ساتھ ہی پارٹی کے اندرونی اختلاف اور ان کے خلاف مہم کا سامنا بھی ہوگا۔

    ڈائی گرونن یا دی جرمن گرینز

    اس جماعت کا قیام 1980 میں مغربی جرمنی میں ہونے والے ماحولیاتی تبدیلی اور جوہری ہتھیاروں کی دوڑ کے خلاف چلنے والی تحریکوں اور احتجاج کے نتیجے میں ہوا تھا۔

    اس جماعت کی پارلیمنٹ میں 117 نشستیں ہیں۔ اور چانسلر کے لیے انھوں نے روبرٹ ہابِک کا انتخاب کیا ہے۔

    ہابِک وزیر برائے معیشت ہیں جنھوں نے گرینز پارٹی پر 2018 سے 2022 تک حکمرانی کی ہے۔ گرینز پارٹی کے لیے سب سے بڑا چیلنج خود پر سے ’نیٹ زیرو ریڈ فلیگ‘ کا ٹیگ ہٹانا ہوگا۔

    جبکہ حالیہ دنوں میں ایک گرین سیاستدان کا مبینہ سیکس سکینڈل پارٹی کے لیے مزید مشکلات پیدا کررہا ہے۔

    جرمنی انتخابات

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    دی فری ڈیموکریٹس یا ایف ڈی پی

    ایف ڈی پی پارٹی کی پارلیمنٹ میں نوّے نشستیں ہیں اور اس پارٹی کو جرمن سیاست میں کِنگ میکر تصور کیا جاتا ہے۔ ایف ڈی پی مختلف اتحادی حکومتوں کا حصہ رہی ہے لیکن حالیہ دور میں اس کی مقبولیت کم ہوتی نظر آرہی ہے کیونکہ جرمن سیاست اب خاصی بکھری ہوئی اور دھڑوں میں بٹی نظر آتی ہے۔

    ایف ڈی پی نے چانسلر کے عہدے کے لیے کرسچن لِنڈنر کا نام دیا ہے۔

    لِنڈنر سابق وزیر خزانہ ہیں جو 2013 سے ایف ڈی پی کی قیادت کررہے ہیں۔ سنہ 2013 کے الیکشن میں بری ناکامی کے بعد لِنڈنر اپنی جماعت کو 2017 میں بنڈشٹاگ کا حصہ بنانے میں کامیاب ہو گئے جس کی وجہ سے ان کی پارٹی میں خاصی اہمیت ہے۔

    اور لِنڈنر کا سب سے بڑا چیلنج بھی یہی ہے کہ کیا ایف ڈی پی پارلیمان کا حصہ رہے گی؟ یہ چیلنج ان کی سیاسی ساکھ کو متاثر کرسکتی ہے۔

    اے ایف ڈی یا الٹرنیٹو فار جرمنی

    اے ایف ڈی کی پارلیمان میں 76 نشستیں ہیں اور یہ ایک دائیں بازو کی پاپولسٹ جماعت ہے۔ اے ایف ڈی نے چانسلر شِپ کے لیے الیسہ وائڈل کا نام دیا ہے جو حالیہ دنوں میں ٹیک ارب پتی ایلون مسک کے ساتھ مہم چلانے کی وجہ سے خبروں میں رہیں۔

    اے ایف ڈی کا قیام 2013 میں ہوا تھا جس کے بعد یہ جماعت اینٹی اسٹیبلشمنٹ پارٹی کے طور پر سامنے آئی۔ جرمنی کے حالیہ سیاسی اور معاشی مسائل کے نتیجے میں اے ایف ڈی کو سابقہ مشرقی جرمنی میں خاصی مقبولیت حاصل ہے۔

    اے ایف ڈی امیگریشن کے خلاف ہے۔ یورپی یونین کی سب سے بڑی ناقد ہے اور جرمنی کو یورپی بلاک سے نکالنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

    اے ایف ڈی کے لیے سب سے بڑا چیلنج دیگر جماعتوں کے ساتھ کام کرنا ہوگا کیونکہ بیشتر جماعتیں، جرمنی کے فاشسٹ ماضی کو ذہن میں رکھتے ہوئے، اے ایف ڈی کے ساتھ نظریاتی اختلاف رکھتی ہیں۔

    ڈی لِنکا

    ڈی لِنکا یا دی لیفٹ بائیں بازو کی جماعت ہے جس کا قیام 2007 میں ہوا تھا۔ اس جماعت کی پارلیمنٹ میں اٹھائیس نشستیں ہیں۔

    دی لیفٹ پارٹی کو سب سے بڑی مشکل حال ہی میں پیش آئی جب ان کی جماعت کی ایک اہم سیاستدان سارہ ویگننیخت نے پارٹی سے استعفیٰ دے کر چند اور اتحادیوں کے ساتھ مل کر اپنی جماعت قائم کرلی۔

    چانسلرشِپ کے لیے پارٹی نے یان وان ایکن اور ہیڈی ریخیننیک کا انتخاب کیا ہے۔

    دونوں سیاستدانوں کے بارے میں بہت کم معلومات منظرِ عام پر ہے۔ تاہم دونوں منتخب نمائندوں نے مل کر سوشل میڈیا کے ذریعے مقبولیت حاصل کی ہے۔

    یان نے حال ہی میں تجارتی معاہدوں کے خلاف مہم بھی چلائی تھی۔ اس کے باوجود لیفٹ پارٹی کے لیے ایک بڑا چیلنج اے ایف ڈی پارٹی کی سابق مشرقی جرمنی میں بڑھتی مقبولیت اور دیگر بائیں بازو کی جماعتوں کے ساتھ اتحاد قائم کرنا ہے۔

    بی ایس ڈبلیو یا الائنس سارہ ویگننیخت بی ایس ڈبلیو جرمنی کی سب سے نئی سیاسی جماعت ہے۔ چانسلرشِپ کے لیے سارہ نے اپنا نام دیا ہے۔ جبکہ پارلیمان میں اس جماعت کی دس نشستیں ہیں۔ اس پارٹی کا منشور یوکرین کو مزید اسلحہ فراہم کرنے، دنیا بھر میں دفاعی معاملات کو فروغ دینے اور سابق مشرقی جرمنی میں کامیاب ہونا ہے۔

    تاہم، پارٹی کو سب سے بڑا چیلنج اے ایف ڈی اور ڈی لِنکا جماعت سے جو سابق مشرقی جرمنی میں خاصی مقبول ہیں۔ یہ تو ہوگئی تمام تر منتخب نمائندوں اور سیاسی جماعتوں کی فہرست۔

    آنے والی حکومت کو ورثہ میں ایک ایسی معیشت ملے گی جو دو سالوں سے مسلسل مشکلات کا شکار رہی ہے۔ جس پر بیوروکریسی کا بوجھ ہونے کے ساتھ ساتھ بجلی کی بڑھتی قیمت اور کار انڈسٹری کو سنبھالنے کی ذمہ داری بھی شامل ہے۔

  5. ٹرمپ سے ملاقات میں یوکرین کی خود مختاری پر بات کروں گا: برطانوی وزیراعظم

    برطانیہ اور یوکرین

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    برطانوی وزیراعظم سر کئیر سٹارمر نے کہا ہے کہ وہ اگلے ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ہونے والی اپنی ملاقات میں یوکرین کی خود مختاری پر بات کریں گے۔

    سنیچر کو صدر ولادیمیر زیلنسکی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے یوکرین کے لیے برطانیہ کی بھرپور حمایت کا یقین دلایا۔

    ٹرمپ کی طرف سے روس کے ساتھ تعلقات کی بحالی اور یوکرین میں جنگ بندی کے لیے شروع کیے گئے مذاکرات کے بعد گذشتہ چار دنوں میں یہ دونوں رہنماؤں کے درمیان دوسری بار فون پر بات ہوئی ہے۔

    پیر کو یوکرین میں روس کی طرف سے جاری کی گئی جنگ کے تین برس مکمل ہو جائیں گے۔ برطانیہ کے وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی نے کہا ہے کہ ان کا ملک روس پر مزید پابندیاں عائد کرے گا۔

    سنیچر کو یوکرین کی حمایت میں مغربی لندن میں روس کے سفارتخانے کی طرف سے تقریباً 2000 لوگوں نے مارچ کیا۔

    ڈاؤننگ سٹریٹ کے ترجمان کے مطابق وزیر اعظم نے کہا ہے کہ جنگ بندی سے متعلق کیے جانے والے مذاکرات میں یوکرین کی کلیدی حیثیت ہونی چاہیے۔ انھوں نے روس کی ’غیرقانونی‘ جنگ کے خاتمے کے ذریعے دیرپا امن کی بحالی کے لیے برطانیہ پرعزم ہے۔

    ترجمان کے مطابق اس فون کال پر دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ یہ یوکرین اور یورپ کی سلامتی کے لیے بہت فیصلہ کن لمحہ ہے۔

  6. سانس کی بیماری کے باعث زیر علاج پوپ کی حالت بدستور تشویشناک, سارہ رینسفورڈ اور ڈوگ فالکنر، بی بی سی نیوز

    پوپ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ویٹیکن نے کہا کہ پوپ فرانسس سنیچر کے اوائل میں ’دمے کی طرح کی سانس کی بیماری‘ کے باعث تشویشناک حالت میں ہیں۔

    ویٹیکن کے بیان میں کہا گیا ہے کہ پوپ ’کل سے بدتر حالت میں‘ تھے اور ان کو خون کی بوتل لگائی گئی۔

    ویٹیکن نے مزید کہا کہ 88 سالہ پوپ اب بھی ہوش میں ہیں اور اپنی کرسی پر بیٹھے ہیں لیکن انھیں ’زیادہ مقدار میں آکسیجن‘ کی ضرورت ہے اور ان کی نگہداشت کی جا رہی ہے۔

    پوپ کا جیمیلی ہسپتال میں نمونیا کا علاج جاری ہے۔ ان کے دونوں پھیپھڑوں میں اس بیماری کی تشخیص ہوئی ہے۔

    ویٹیکن کے مطابق پوپ کے خون میں سفید خلیوں کی تعداد کم ہونے پر انھیں خون لگایا گیا۔ بیان کے مطابق پوپ کی حالت بدستور تشویشناک ہے اور ان کی صحت ابھی خطرے میں ہے۔

  7. اسرائیل نے فلسطینی قیدیوں کی رہائی ملتوی کر دی، ’یہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی ہے‘

    حماس، اسرائیل

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ 600 سے زائد فلسطینی قیدیوں کی رہائی کو غیرمعینہ مدت کے لیے ملتوی کر رہا ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو پھر یہ حماس اور اسرائیل کے درمیان ہونے والے امن معاہدے کے لیے ایک بڑا دھچکہ ثابت ہو سکتا ہے۔

    سنیچر کو حماس نے چھ اسرائیلی یرغمالی رہا کیے تھے۔ ان میں چار وہ اسرائیلی بھی تھے جنھیں حماس نے سات اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حملے میں اغوا کر لیا تھا۔

    اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو کے دفتر کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ جب تک دیگر اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کی ضمانت نہیں دی جاتی اور حماس کی طرف سے ہر ہفتے اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے سلسلے میں منعقد کی جانے والی ’توہین آمیز‘ تقریبات کے بغیر انھیں رہا نہیں کیا جاتا تب تک فلسطینی قیدیوں کی رہائی عمل میں نہیں لائی جائے گی۔

    امن معاہدے کے پہلے مرحلے کے تحت حماس کی طرف سے چار ان اسرائیلی مغویوں کی لاشیں واپس کرنے کا عمل باقی رہ گیا ہے جو دوران قید مر گئے تھے۔

    اس معاہدے کے دوسرے مرحلے میں باقی جو زندہ مغوی ہیں ان کی رہائی کے لیے ابھی تک کوئی اقدامات نہیں لیے گئے ہیں۔

    اسرائیلی وزیراعظم نے حماس پر اس معاہدے کی خلاف ورزی کرنے جیسے الزامات عائد کیے ہیں جس میں ان قیدیوں کا ’مذموم پروپیگنڈے کے لیے استعمال‘ کا الزام بھی شامل ہے۔

    Hamas

    ،تصویر کا ذریعہMilitary Media of the Qassam Brigades

    فلسطینی قیدیوں کی رہائی میں تاخیر جنگ بندی کے معاہدے کی ’سنگین خلاف ورزی‘ ہے: حماس

    حماس کا کہنا ہے کہ اسرائیل فلسطینی قیدیوں کی رہائی میں تاخیر کر کے جنگ بندی کے معاہدے کی ’سنگین خلاف ورزی‘ کر رہا ہے۔

    فلسطینی میڈیا سینٹر کے مطابق حماس کے ترجمان عبدالطیف کا کہنا تھا کہ ’قابضین کی جانب سے (قیدیوں کے) تبادلے کے عمل کے تحت طے شدہ تاریخ پر قیدیوں کی ساتویں کھیپ کی رہائی میں تاخیر معاہدے کی سنگین خلاف ورزی ہے۔‘

    خیال رہے سنیچر کے روز حماس کی جانب سے یرغمال بنائے گئے چھ افراد کو رہا کیا گیا تھا جو کہ اسرائیلی فوج کے مطابق اپنے خاندانوں کے پاس بحفاظت پہنچ گئے ہیں۔

    اس سے قبل فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے امور پر بات کرنے کے لیے قائم کیے گئے میڈیا آفس کا کہنا تھا کہ اسرائیلی مغویوں کی رہائی کے بدلے میں 602 فلسطینی قیدیوں کی رہائی متوقع ہے۔

    یاد رہے کہ جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے میں طے پایا تھا کہ اسرائیلی جیلوں میں قید کُل ایک ہزار 900 فلسطینی قیدیوں کو 33 اسرائیلی یرغمالیوں کے بدلے میں رہا کیا جائے گا۔

    19 جنوری سے سے اب تک اسرائیل کی جانب سے ایک ہزار سے زائد فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا جا چکا ہے۔

  8. فلسطینی قیدیوں کی رہائی میں تاخیر جنگ بندی کے معاہدے کی ’سنگین خلاف ورزی‘ ہے: حماس

    حماس کا کہنا ہے کہ اسرائیل فلسطینی قیدیوں کی رہائی میں تاخیر کر کے جنگ بندی کے معاہدے کی ’سنگین خلاف ورزی‘ کر رہا ہے۔

    فلسطینی میڈیا سینٹر کے مطابق حماس کے ترجمان عبدالطیف کا کہنا تھا کہ ’قابضین کی جانب سے (قیدیوں کے) تبادلے کے عمل کے تحت طے شدہ تاریخ پر قیدیوں کی ساتویں کھیپ کی رہائی میں تاخیر معاہدے کی سنگین خلاف ورزی ہے۔‘

    خیال رہے سنیچر کے روز حماس کی جانب سے یرغمال بنائے گئے چھ افراد کو رہا کیا گیا تھا جو کہ اسرائیلی فوج کے مطابق اپنے خاندانوں کے پاس بحفاظت پہنچ گئے ہیں۔

    اس سے قبل فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے امور پر بات کرنے کے لیے قائم کیے گئے میڈیا آفس کا کہنا تھا کہ اسرائیلی مغویوں کی رہائی کے بدلے میں 602 فلسطینی قیدیوں کی رہائی متوقع ہے۔

    یاد رہے کہ جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے میں طے پایا تھا کہ اسرائیلی جیلوں میں قید کُل ایک ہزار 900 فلسطینی قیدیوں کو 33 اسرائیلی یرغمالیوں کے بدلے میں رہا کیا جائے گا۔

    19 جنوری سے سے اب تک اسرائیل کی جانب سے ایک ہزار سے زائد فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا جا چکا ہے۔

  9. بلوچستان کے ضلع کیچ میں فائرنگ سے دو افراد ہلاک: پولیس, محمد کاظم، بی بی سی اردو کوئٹہ

    بلوچستام

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    بلوچستان کے ضلع کیچ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے کشیدہ کاری کے کام سے منسلک دو افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

    ضلع کیچ میں دونوں افراد کی ہلاکت کا واقعہ سنیچر کو ضلع کے ہیڈکوارٹر تربت شہر میں پیش آیا۔

    تربت سٹی پولیس سٹیشن کے ایس ایچ او روشن علی نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ نامعلوم افراد نے تربت شہر میں ایک دکان پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں اس میں کام کرنے والے دو افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

    ایس ایچ او کا مزید کہنا تھا کہ واقعے کے محرکات کے بارے میں تحقیقات کا حکم دیا گیا ہے۔

    دونوں افراد دکان میں کشیدہ کاری کا کام کرتے تھے جن کی شناخت عدنان بلوچ اور نجیب اللہ کے ناموں سے ہوئی ہے۔

    چند روز قبل بھی تربت شہر میں کشیدہ کاری کے کام سے منسلک سندھ کی ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے دو افراد کو فائرنگکرکے ہلاک کیا گیا تھا۔

    اُدھر دوسری جانب خاران شہر کے ریڈ زون کے علاقے میں آج دو دھماکے بھی ہوئے ہیں تاہم مقامی پولیس کے ایک اہلکار کے مطابق ان دھماکوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔

    پولیس اہلکار نے یہ بھی بتایا کہ گزشتہ روز خاران شہر میں فائرنگ سے مارے جانے والے شخص کی شناخت ہوگئی ہے ۔

    ان کے مطابق ہلاک ہونے والے شخص کی شناخت سندھ کے ضلع دادو سے تعلق رکھنے والے رسول بخش کے نام سے ہوئی ہے جو کہ خاران میں ٹوپیاں فروخت کرتا تھا۔

    ضلع کیچ انتظامی لحاظ سے بلوچستان کے مکران ڈویژن جبکہ خاران رخشاں ڈویژن کا حصہ ہے۔

    دونوں اضلاع کی آبادی بلوچ قبائل پر مشتمل ہے اور ان میں طویل عرصے سے سنگین بد امنی کے واقعات پیش آرہے ہیں۔ تاہم سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ امن و امان کی بہتری کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات کے باعث ماضی کے مقابلے میں اب ان واقعات میں کمی آئی ہے۔

  10. حماس نے پہلے مسلمان اسرائیلی مغوی ہشام السید کو رہا کر دیا

    حماس نے معاہدے کے تحت چھٹے یرغمالی کو بھی اب سے کچھ دیر قبل ریڈ کراس کے حوالے کر دیا ہے جس کی تصدیق اسرائیلی ڈیفینس فورس نے بھی کی ہے۔

    ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق مغوی ہشام السید کو حماس نے غزہ شہر میں ریڈ کراس کے حوالے کیا۔

    واضح رہے کہ وہ اب تک رہائی پانے والے پہلے مسلمان اسرائیلی مغوی ہیں۔ دیگر مغویوں کی رہائی کے لیے منعقد کی گئی تقریب کے برعکس ہشام السید کو حماس نے بنا کسی عوامی اجتماع کے ریڈ کراس کے حوالے کیا۔

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق ریڈ کراس اب ہشام السید کو غزہ کے اندر آئی ڈی ایف اور شن بیٹ سکیورٹی سروس فورسز کے حوالے کرے گا۔

    معاہدے کے تحت چھ رہا ہونے والے مغویوں کے بعد اب لگ بھگ 600 فلسطینی قیدیوں کی رہائی کا عمل شروع ہونے کو ہے۔

  11. یرغمالی ’جہنم کی گہرایئوں سے واپس لوٹے ہیں: اسرائیلی صدر آئزک ہرزوگ

    اسرائیل کے صدر نے یرغمالیوں کی واپسی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھیں آج صبح یرغمالیوں کی رہائی کا عمل دیکھ کر سکون ملا ہے۔

    ایکس پر جاری اپنے بیان میں اسرائیلی صدر نے کہا کہ ’وہ جہنم کی گہرائیوں سے واپس لوٹے ہیں۔ ان کے پیاروں نے ان (یرغمالیوں) کی واپسی کے لیے اپنی پوری قوت سے جنگ لڑی اور اب امید ہے کہ وہ اپنے گھر والوں کے ساتھ ساتھ شفا یابی اور بحالی کا عمل بخوشی شروع کر سکیں گے۔‘

    اسرائیلی صدر نے مزید کہا کہ تمام یرغمالیوں کی ’فوری واپسی‘ بہت ضروری ہے۔

    ’ہمیں غزہ کی قید سے تمام یرغمالیوں کو واپس لانے کے لیے آخری حد تک جا کر ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔‘

  12. 600 سے زائد فلسطینی قیدیوں کو آج رہائی ملنے کا امکان

    فلسطینی قیدیوں کی رہائی

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنڈیل کے پہلے مرحلے کے بعد سے اب تک 1000 سے زائد فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا گیا

    فلسطینی قیدیوں کے میڈیا آفس کے مطابق اسرائیلی مغویوں کی رہائی کے بدلے میں آج 602 فلسطینی قیدیوں کی رہائی متوقع ہے۔

    یاد رہے کہ جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے کے حصے میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی جیلوں میں قید کل 1,900 فلسطینی قیدیوں کو 33 اسرائیلی یرغمالیوں کے بدلے رہا کیا جائے گا۔

    19 جنوری سے شروع ہونے والے ڈیل کے پہلے مرحلے کے بعد سے اب تک ایک ہزار سے زائد فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا جا چکا ہے۔

    فلسطینی قیدیوں کے میڈیا آفس کے مطابق گزشتہ ہفتےاسرائیل نے 369 فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا،جن میں سے 36 عمر قید کی سزا کاٹ رہے تھے اور 333 کو غزہ میں بغیر کسی الزام کے حراست میں لیا گیا تھا۔

  13. حماس نے تین مزید یرغمالی ریڈ کراس کے حوالے کر دیے

    حماس کی قید سے یرغمالی رہا

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنتین یرغمالیوں کی حوالگی کے منظر

    حماس کی جانب سے سنیچر کے روز تین مزید یرغمالیوں کی رہائی عمل میں لائی گئی ہے۔

    حماس کی جانب سے قیدیوں کی رہائی کے معاہدے کے تحت سنیچر کے روز چھ قیدیوں کی رہائی عمل میں لائے جانے کا امکان ہے اور آج اب تک پانچ اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کیا گیا ہے۔

    رہا ہونے والوں میں ایلیا کوہن، عمر شیم توو اور عمر وینکرٹ شامل ہیں جنھیں حماس نے ریڈ کراس کے حوالے کر دیا ہے۔

    22 برس کے عمر شیم توو، 27 سالہ ایلیا کوہن اور 23 برس کے عمر وینکرٹ کو سات اکتوبر 2023 کو حماس نے اسرائیل پر کیے جانے والے حملے میں یرغمال بنایا تھا۔

    یاد رہے اس بار اسرائیلی یرغمالیوں کو غزہ کی پٹی کے مرکز میں واقع نصیرات کے مقام پر ریڈ کراس کے حوالے کیا گیا ہے۔

    ریڈ کراس اب ان یرغمالیوں کو اسرائیلی فوج کے حوالے کر دے گا۔

    دوسری جانب آئی ڈی ایف نے تصدیق کی ہے کہ یرغمالیوں کو ان کے پاس لایا جا رہا ہے جبکہ ایک اور اور یرغمالی ہشام السید کو بھی جلد ہی رہا کر دیا جائے گا۔

  14. یہ شری بیبس کی ہی لاش ہے: اسرائیلی خاندان کی تصدیق

    ِاسرائیل

    ،تصویر کا ذریعہPA Media

    اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ جمعرات کو غزہ سے اسرائیل واپس لائی گئی چار لاشوں میں سے ایک لاش وہ نہیں ہے جس کے متعلق حماس نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ یرغمال خاتون شری بیبس کی ہے۔

    تاہم اب شری کے خاندان نے تصدیق کر دی ہے کہ یہ لاش ان کی ہی ہے۔

    33 سالہ شری بیبس اور ان کے دو بیٹے، ایریل اور کیفیر جن کی عمریں اب پانچ اور دو سال ہوتیں، کی ہلاکت کی خبر نے اسرائیل میں بہت سے افراد کو غم زدہ کر دیا تھا۔

    اسرائیلی افواج نے شری بیبس خاندان کو اطلاع دی ہے کہ ان کے بیٹوں کی لاشوں کی شناخت ہوچکی ہے کیونکہ حماس نے جمعرات کو ان کی باقیات اسرائیل کے حوالے کی تھیں۔

    تاہم اسرائیلی فوج نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ تیسری لاش ان بچوں کی والدہ شری بیبس کی نہیں ہے۔ اب یہ دعوی غلط ثابت ہو چکا ہے۔

    اسرائیلی فوج نے ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے یہاں تک لکھا تھا کہ ’شناخت کے عمل کے دوران یہ تصدیق ہوئی کہ واپس کی گئی لاش شری بیبس کی نہیں ہے اور یہ کسی اور یرغمالی کی بھی نہیں ہے۔ بلکہ یہ ایک نامعلوم لاش ہے جس کے متعلق ہم نہیں جانتے کہ وہ کون ہے۔‘

    ’یہ حماس کی طرف سے انتہائی سنگین خلاف ورزی ہے جو معاہدے کے تحت ہلاک ہونے والے چاروں یرغمالیوں کی لاشیں واپس کرنے کی پابند ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ حماس ہمارے تمام یرغمالیوں کے ساتھ شری کو بھی واپس کرے۔‘

    آئی ڈی ایف کا دعویٰ ہے کہ انٹیلیجنس اور فرانزک تحقیقات کے مطابق یہ دونوں بچے ’نومبر 2023 میں قید کے دوران قتل کر دیے گئے تھے‘۔ دوسری جانب حماس کا دعویٰ ہے کہ یہ بچے اور ان کی والدہ اسرائیلی بمباری میں مارے گئے تھے۔

    شری، ایریل اور کیفیر بیبس 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے اسرائیل پر حملوں کے دوران یرغمال بنائے گئے تھے۔ اس وقت ان کی عمریں 32 سال، 4 سال اور 9 ماہ تھیں۔

    بچوں کے 34 سالہ والد یارڈن بیبس کو حماس نے یکم فروری کو رہا کر دیا تھا۔

  15. حماس نے دو اسرائیلی شہریوں کو رہا کر دیا

    reut

    ،تصویر کا ذریعہreut

    ،تصویر کا کیپشنتل ابیب کے چوک میں متعدد لوگ ان مغویوں کی تصاویر اٹھائے ہوئے ہیں جنھیں آج رہا کیا گیا ہے

    اس وقت اسرائیل کے شہر تل ابیب میں جشن کا سا سماں ہے۔ لوگ یہاں سے دو مغوی اسرائیلی شہریوں کے رہائی کے مناظر دیکھ رہے ہیں۔

    حماس نے چھ میں سے آج دو مغویوں کو رہا کر کے ریڈ کراس کے حوالے کر دیے ہیں۔

    تل ابیب کے چوک میں متعدد لوگ ان رہا ہونے والوں کی تصاویر اٹھائے ہوئے ہیں جنھیں آج رہا کیا گیا ہے۔

    ریڈ کراس نے ان شہریوں کو اسرائیلی فوج کے حوالے کردیا ہے۔ ان میں اویرا مینگیسٹو اور ہشام السید شامل ہیں۔

  16. حماس کی جانب سے آج چھ اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کا امکان

    حماس

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اسرائیل اور حماس کے درمیان ہونے والے معاہدے کے پہلے مرحلے میں حماس کی طرف سے چھ اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کا امکان ہے۔

    ریڈ کراس کی گاڑیوں کا ایک قافلہ ابھی رفح میں پہنچ چکا ہے، جہاں ان یرغمالیوں کی رہائی کا عمل شروع ہوگا۔ ادھر دوسری جانب اسرائیل کے شہر تل ابیب کے ان یرغمالیوں کے نام سے منصوب ’سکوائر‘ پر اسرائیلی شہری جمع ہونا شروع ہو گئے

    یہاں ایک سٹیج نصب کر دیا گیا ہے اور چہروں پر نقاب پہنے حماس کے مسلح اہلکار بھی یہاں اکھٹے ہوئے ہیں۔

    حماس نے جن دو اسرائیلی یرغمالیوں کے نام لیے ہیں جنھیں آج رہا کرنا ہے ان میں اویرا مینگیسٹو اور ہشام السید شامل ہیں۔

    انھیں سنہ 2014 اور 2015 میں گرفتار کیا گیا۔ یہ دونوں خود ہی غزہ میں داخل ہوئے تھے۔ چار اور یرغمالی جنھیں رہا کیا جانا ہے کہ بارے میں ان کے خاندان والوں نے تفصیلات بتائی ہیں۔

    ISRAEL

    ان میں 22 برس کے عمر شیم توو، 27 سالہ ایلیا کوہن اور 23 برس عمر وینکرٹ کے نام بھی ہیں جنھیں سات اکتوبر 2023 کو حماس نے اسرائیل پر کیے جانے والے حملے میں یرغمال بنایا تھا۔ 40 برس کے تل شوہام بھی شامل ہیں جنھیں کبوتز بیری سے اغوا کیا گیا ہے۔

    اسرائیل نے کہا ہے کہ وہ ان تمام خواتین اور 19 برس سے کم عمر قیدیوں کو رہا کرے گا جنھیں گذشتہ برس اکتوبر سے لے کر اب تک گرفتار کیا گیا ہے۔

  17. امریکی فوج میں برطرفیاں، صدر ٹرمپ نے اعلیٰ ترین جنرل کو بھی برطرف کر دیا

    USA

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی فوج کے سب سے بڑے فوجی افسر چیئرمین آف دی جوائنٹ چیفس آف سٹاف سی کیو براؤن کو ان کے عہدے سے برطرف کر دیا ہے۔

    سوشل میڈیا پر اپنی پوسٹ میں صدر ٹرمپ نے لکھا کہ وہ وہ جنرل چارلس ’سی کیو‘ براؤن کے ملک کے لیے 40 برس سے زائد کی خدمات پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔

    صدر ٹرمپ نے کہا کہ فوج کے مزید پانچ اعلیٰ افسران کو بھی تبدیل کیا جا رہا ہے۔

    جنرل براؤن امریکی تاریخ میں اس عہدے پر پہنچنے والے دوسرے سیاہ فارم فوجی افسر تھے جن کا کام صدر اور وزیر دفاع کو اہم قومی سلامتی کے معاملات پر تجاویز دینی ہوتی ہیں۔

    امریکی بحریہ کی سربراہ جنھیں برطرف کر دیا گیا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنایڈمرل لیسا فرینچیٹی پہلی خاتون ہیں جو امریکی بحریہ کی سربراہ بنیں

    امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے اس سے قبل یہ کہا تھا کہ جنرل براؤن کو فوج میں تنوع، مساوات اور سب کی شمولیت کو یقینی بنانے کے لیے شروع کردہ پروگراموں پر خاص توجہ مرکوز کرنے کی وجہ سے برطرف کر دینا چاہیے۔

    جمعے کو وزیر دفاع نے چیف آف نیول آپریشنز ایڈمرل لیسا فرینچیٹی اور ائیر فورس کے وائس چیف آف سٹاف جنرل جیمز سلائف کو بھی برطرف کیا ہے۔

    ایڈمرل لیسا فرینچیٹی پہلی خاتون ہیں جو امریکی بحریہ کی سربراہ بنیں۔

    US Air Force

    ،تصویر کا ذریعہUS Air Force

    ،تصویر کا کیپشنبرطرف ہونے والے امریکی ائیر فورس کے وائس چیف آف سٹاف جنرل جیمز سلائف

    جمعے کو برطرف کیے جانے والے تینوں اعلیٰ فوجی افسران کی تقرری سابق صدر جو بائیڈن نے کی تھی۔

    وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے ایک بیان میں کہا کہ ’صدر ٹرمپ کے ہوتے ہوئے اب ہم نئی قیادت کو سامنے لا رہے ہیں جو ہماری فوج کے بنیادی مقصد دشمن کو خوف میں رکھنے، لڑنے اور جنگیں جیتنے پر ہو۔

    صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایئر فورس کے لیفٹیننٹ جنرل ڈین کین کو جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے نئے چیئرمین کے طور پر نامزد کرنے جا رہے ہیں۔ ایف 16 کے پائلٹ جنرل ڈین ایف حال ہی میں فوجی امور کے لیے سی آئی اے کے ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔

  18. ہولوکاسٹ کی یادگار کے قریب چاقو کے حملے میں ایک شخص شدید زخمی

    Germany

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    برلن میں ہولوکاسٹ کی یادگار کے قریب چاقو کے حملے میں ایک شخص شدید زخمی ہو گیا ہے۔

    یہ واقعہ مقامی وقت کے مطابق تقریباً شام چھ بجے پیش آیا۔ جرمنی کی پولیس نے ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ اس واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔

    تصاویر میں دکھایا گیا ہے کہ ایمرجنسی گاڑیاں اور مسلح پولیس اس یادگار کے ایک طرف قطار میں کھڑی ہیں۔ اہلکاروں نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر علاقے کی تلاشی لی۔

    اس واقعے میں زخمی ہونے والے 30 برس کے ہسپانوی سیاح کو ہسپتال منتقل کیا گیا۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

  19. سلمان رشدی کو ’قتل کرنے کی کوشش‘ کرنے والا حملہ آور مجرم قرار

    سلمان رشدی

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ایک امریکی عدالت نے برطانوی مصنف سلمان رشدی کو ’قتل کرنے کی کوشش‘ کرنے والے ’حملہ آور‘ کو مجرم قرار دیا ہے۔ نیو جرسی سے تعلق رکھنے والے 27 برس کے ہادی ماطر کو 30 برس سے زائد قید کی سزا کا سامنا ہے۔

    ہادی ماطر کو مجرم قرار دینے کے بعد اب ان کی سزا کا تعین 23 اپریل کو کیا جائے گا۔

    سلمان رشدی پر یہ حالیہ حملہ اگست 2022 میں امریکی ریاست نیویارک کے ایک تعلیمی ادارے میں اُس وقت ہوا تھا جب وہ سٹیج پر موجود تھے اور سامعین کو ایک لیکچر دینے کی تیاری کر رہے تھے۔ اس حملے میں سلمان رشدی کا ایک ہاتھ مفلوج ہوا، اُن کے جگر کو نقصان پہنچا اور وہ ایک آنکھ کی بینائی سے محروم ہو گئے تھے۔

    ملزم ہادی ماطر استغاثہ کی جانب سے خود پر لگائے گئے الزامات سے انکار کرتے ہیں۔ تاہم جمعے کے دن دو ہفتوں کے ٹرائل کے بعد ایک جیوری نے ہادی ماطر کو قصوروار قرار دیا تھا۔

    اس مقدمے کی سماعت نیو یارک کی جس عدالت میں ہوئی وہ اُس مقام سے کچھ ہی میل دور واقع ہے جہاں سلمان رشدی پر حملہ ہوا تھا۔

    رواں ہفتے منگل کے روز استغاثہ کی جانب سے سلمان رشدی کو پہلے گواہ کے طور پر کٹہرے میں بلایا گیا اور انھیں حملے سے قبل اور اس کے فوراً بعد کے لمحات کو یاد کرنے کا کہا گیا۔

    77 سالہ مصنف نے جیوری کو بتایا تھا کہ حملے کے روز وہ شاٹوکوا انسٹیٹیوٹ میں ایک لیکچر دینے آئے تھے اور سٹیج پر بیٹھے تھے۔

    انھوں نے بتایا کہ جب سامعین سے اُن کا تعارف کروایا گیا تو اسی لمحے انھوں نے دیکھا کہ اُن کے دائیں جانب سے ایک شخص اُن کی طرف دوڑتا ہوا آ رہا ہے۔

    اُن کے مطابق حملہ آور نے گہرے رنگ کا لباس پہنا ہوا تھا اور چہرے پر ماسک لگایا ہوا تھا۔ اُن کا کہنا تھا کہ جب انھوں نے حملہ آور کی آنکھوں میں دیکھا تو انھیں جھٹکا لگا۔ سلمان رشدی کا کہنا ہے کہ اُس شخص کی آنکھوں میں گہرائی اور غصہ تھا۔

    سلمان رشدی نے بتایا کہ پہلا وار انھیں اپنے دائیں جبڑے اور گردن پر محسوس ہوا۔ اُن کا کہنا ہے کہ پہلے پہل انھیں لگا کہ شاید انھیں مکا مارا گیا ہے مگر پھر انھیں اپنے کپڑوں پر خون گِرتا دکھائی دیا۔

    ’اُس وقت وہ مجھ پر لگاتار وار کر رہا تھا، (چاقو) گھونپ رہا تھا اور کاٹ رہا تھا۔‘ اُن کا کہنا ہے کہ یہ سب محض چند سیکنڈز میں ہوا۔

    برطانوی مصنف نے عدالت کو مزید بتایا کہ اُن پر کُل 15 وار کیے گئے جن سے ان کی آنکھ، گال، گردن، سینے، جسم کے اُوپری اور ران پر زخم آئے۔

    انھوں نے بتایا کہ آنکھ پر لگنے والا چاقو کا وار سب سے تکلیف دہ تھا۔

    ایک موقع پر انھوں نے اپنا چشمہ اُتارا، جس کے ایک رنگین شیشے سے اُن کی زخمی آنکھ چھپی ہوئی تھی، تاکہ لوگوں کو زخم کی نوعیت کا اندازہ ہو سکے۔

    انھوں نے جیوری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’جیسا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں، بس یہی بچا ہے۔‘ انھوں نے بتایا کہ اس زخمی آنکھ سے انھیں کچھ دکھائی نہیں دیتا۔

  20. برطانیہ اور فرانس نے یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے کچھ نہیں کیا: ڈونلڈ ٹرمپ

    ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ فرانس کے صدر ایمینوئل میخواں اور برطانیہ کے وزیراعظم کیئر سٹارمر نے یوکرین میں جنگ کے خاتمے کے لیے کچھ نہیں کیا ہے۔

    صدر ٹرمپ کا یہ بیان ایک ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب ان دونوں ممالک کے سربراہان اگلے ہفتے واشنگٹن کا دورہ کر رہے ہیں اور وائٹ ہاؤس میں ان کی امریکی صدر سے ملاقات ہونی ہے۔

    ٹرمپ نے کہا ہے کہ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کا امن مذاکرات میں کوئی کردار نہیں ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’میرا نہیں خیال کے وہ اس مذاکراتی عمل کے کے لیے کوئی بہت اہمیت رکھتے ہیں۔‘

    روس کی طرف سے 2022 میں یوکرین میں جنگ کے آغاز کے بعد سے برطانیہ، فرانس اور دیگر اتحادی کئیو کو ہتھیار اور دیگر اسلحہ فراہم کرتے آ رہے ہیں۔

    سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں امریکہ اور روس کے مذاکرات سے ایک دن قبل پیر کو یورپی رہنماؤں نے پیرس میں یوکرین پر ایک ہنگامی اجلاس کیا۔ ان یورپی رہنماؤں کو یہ ڈر تھا کہ یورپ اور یوکرین کو ان مذاکرات سے علیحدہ رکھا جا سکتا ہے۔

    ان کا یہ خدشہ درست ثابت ہوا۔ امریکہ نے یورپ اور یوکرین کو ریاض میں روس کے ساتھ ہونے والے امن مذاکرات عمل میں مدعو نہیں کیا تھا۔

    فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں اگرچہ ٹرمپ نے سٹارمر اور میکرون پر تنقید کی مگر انھوں نے ساتھ ہی یورپی رہنماؤں کے کردار کی تعریف بھی کی۔ انھوں نے کہا کہ وہ میکرون کو دوست سمجھتے ہیں اور سٹارمر کئیر کے بارے میں انھوں کہا ’وہ بہت اچھے شخص ہیں۔‘

    واضح رہے کہ اگلے ہفتے پیر کو فرانسیسی صدر اور جمعرات کو برطانوی وزیراعظم کا وائٹ ہاؤس کے دورے کا امکان ہے۔