برطانیہ کا روس پر مزید پابندیوں کا عندیہ، ٹرمپ سے ملاقات میں یوکرین کی خود مختاری پر بات کروں گا: برطانوی وزیراعظم

برطانوی وزیراعظم سر کئیر سٹارمر نے کہا ہے کہ وہ اگلے ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ہونے والی اپنی ملاقات میں یوکرین کی خود مختاری پر بات کریں گے۔ برطانیہ نے یوکرین جنگ کے تین برس مکمل ہونے پر روس پر مزید پابندیاں بھی عائد کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

خلاصہ

  • اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ 600 سے زائد فلسطینی قیدیوں کی رہائی کو غیرمعینہ مدت کے لیے ملتوی کر رہا ہے۔ حماس نے اسے جنگ بندی معاہدے کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
  • حماس کا کہنا ہے کہ اسرائیل فلسطینی قیدیوں کی رہائی میں تاخیر کر کے جنگ بندی کے معاہدے کی ’سنگین خلاف ورزی‘ کر رہا ہے۔
  • برطانوی وزیراعظم سر کئیر سٹارمر نے کہا ہے کہ وہ اگلے ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ہونے والی اپنی ملاقات میں یوکرین کی خود مختاری پر بات کریں گے۔
  • ویٹیکن نے کہا کہ پوپ فرانسس ’دمے‘ کی بیماری کے باعث تشویشناک حالت میں ہیں۔

لائیو کوریج

  1. تجزیہ: ٹرمپ کی زیلنسکی پر تنقید مگر خصوصی ایلچی انھیں ’جرات مند رہنما‘ قرار دے رہے ہیں, انتھونی زرچر، نمائندہ برائے شمالی امریکہ

    یوکرین

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    گذشتہ دو دنوں سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی پر شدید تنقید کر رہے ہیں، انھیں ’آمر‘ قرار دے رہے ہیں اور ان پر بدعنوانی کے الزامات بھی لگا چکے ہیں۔

    لیکن جمعے کو یوکرینی صدر سے ملاقات کے بعد ٹرمپ کے خصوصی ایلچی برائے یوکرین کیتھ کیلوگ نے زیلنسکی کے لیے اچھے الفاظ کا استعمال کیا اور انھیں ’ایک جنگ زدہ ملک کا جرات مند رہنما‘ قرار دیا۔

    زیلنسکی کا کہنا تھا کہ گذشتہ چند دنوں میں انھیں لگ رہا تھا کہ یوکرین اور امریکہ کے تعلقات خراب ہو رہے ہیں لیکن کیتھ کیلوگ سے ملاقات کے بعد ان کی ’امید بحال‘ ہوئی ہے۔

    تاہم یوکرینی عوام کے لیے سکون کا سانس لینا ابھی قبل از وقت ہوگا۔

    صدر ٹرمپ نے کیتھ کیلوگ کا بطور خصوصی ایلچی برائے یوکرین خود انتخاب کیا تھا لیکن ان کا امریکی انتظامیہ پر زیادہ اثر و رسوخ شاید نہ ہو۔

    رواں ہفتے سعودی عرب میں یوکرین اور روس کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والے مذاکرات میں روسی حکام اور امریکی سیکریٹری خارجہ موجود تھے لیکن کیتھ کیلوگ کو وہاں مدعو نہیں کیا گیا تھا۔

    صدر ٹرمپ کو اقتدار میں آئے چار ہفتے گزر چکے ہیں اور اس دوران انھوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ امریکی خارجہ پالیسی سے متعلق معاملات پر آخری فیصلہ ان ہی کا ہوتا ہے۔

  2. روس کے ساتھ امن مذاکرات میں یوکرینی صدر زیلنسکی کی موجودگی ’اہم‘ نہیں: ڈونلڈ ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ روس کے ساتھ امن مذاکرات میں یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کا موجود ہونا ’اہم‘ نہیں ہے۔

    فاکس نیوز سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’میرا نہیں خیال کے اُن (زیلنسکی) کا ان اجلاسوں میں موجود ہونا ضروری ہے۔‘

    ’وہ معاہدے کرنے کے اس عمل کو بہت مشکل بنا دیتے ہیں۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ صدر زیلنسکی شکایت کرتے ہیں کہ انھیں اجلاسوں میں شامل نہیں کیا جاتا لیکن وہ تین برسوں تک ایسے اجلاسوں میں شامل ہوتے رہے ہیں ’اور کچھ نہ کر سکے اس لیے میرا نہیں خیال کہ ان کا میٹنگز میں ہونا اہم ہے۔‘

    خیال رہے رواں ہفتے روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بندی کروانے کے حوالے مذاکرات کی نشست سعودی عرب میں ہو چکی ہے لیکن اس اجلاس میں یوکرین کا کوئی نمائندہ موجود نہیں تھا۔

    اپنے انٹرویو کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانوی وزیر اعظم کیئر سٹامر اور فرانسیسی صدر ایمانویل میکخواں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے روس اور یوکرین کی جنگ رُکوانے کے لیے کچھ نہیں کیا۔

    انٹرویو کے دوران جب ٹرمپ سے وزیراعظم کیئر سٹامر اور صدر ایمانویل میکخواں سے متوقع ملاقاتوں کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ: ’انھوں نے کچھ نہیں کیا، روس سے کوئی ملاقاتیں نہیں کیں۔‘

    ’میکخواں میرے دوست ہیں، ایک اچھے آدمی ہیں‘ مگر دونوں (صدر مکیخواں اور وزیر اعظم سٹامر) نے روس کے حوالے سے کچھ نہیں کیا۔

  3. پی ٹی آئی وفد کی چیف جسٹس آف پاکستان سے ملاقات، جیل میں عمران خان سمیت پی ٹی آئی قیادت کو پریشان کیا جاتا ہے: تحریک انصاف

    پی ٹی آئی کے وفد کی شیف جسٹس سے ملاقات

    ،تصویر کا ذریعہSCP

    چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی سے تحریک انصاف کے وفد نے ملاقات کی ہے جس میں پی ٹی آئی رہنماؤں نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ ان کی جماعت کے ساتھ ناانصافی کر رہی ہے۔

    سپریم کورٹ سے جاری اعلامیے کے مطابق تحریک انصاف کے پانچ رکنی وفد کے ساتھ ہونے والی یہ ملاقات دو گھنٹے جاری رہی۔

    اعلامیے کے مطابق قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف عمر ایوب خان نے ملاقات میں جیل میں موجود پی ٹی آئی لیڈرعمران خان، دیگر رہنماؤں اور پارٹی کے کارکنوں کو درپیش مختلف مسائل کی نشاندہی کی۔

    انھوں نے چیف جسٹس سے شکوہ کیا کہ پی ٹی آئی قیادت کے مقدمات کو جان بوجھ کر ایک ہی وقت میں مختلف مقامات پر مقرر کیا جاتا ہے تاکہ عدالت میں پیش ہونا ناممکن ہو جائے۔

    یاد رہے کہ ایک روز قبل وزیر اعظم شہباز شریف اور چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی سے ملاقات ہوئی تھی جس میں وزیر اعظم نے چیف جسٹس کو لاپتہ افراد کے حوالے سے موثر اقدامات میں تیزی لانے کی یقین دہانی کروائی اور ملک کی مختلف عدالتوں میں طویل مدت سے زیر التوا ٹیکس تنازعات کے حوالے سے بھی آگاہ کیا تھا۔

    جمعے کے روز سپریم کورٹ سے جاری اعلامیے کے مطابق ملاقات میں پی ٹی آئی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ پارٹی کی قیادت اور کارکنوں کے مقدمات کی دفاع کرنے والے وکلا کو ہراساں کیا جا رہا ہے، جیل حکام عدالتوں کے احکامات پر عمل نہیں کر رہے جبکہ دہشت گردی کے مقدمات پی ٹی آئی وکلا کے خلاف درج کیے جا رہے ہیں اور ان کے اجتماع اور حق اظہار کو دبایا جا رہا ہے۔

    اعلامیے کے متن کے مطابق عمر ایوب خان نے مزید کہا کہ ملک کی اقتصادی استحکام قانون کی حکمرانی پر منحصر ہے اور معاشی بحالی صرف اسی صورت ممکن ہے جب عدلیہ اپنا کردار ادا کرے اور انتظامیہ کو جوابدہ ٹھہرایا جائے۔

    پی ٹی آئی وفد نے اتفاق کیا کہ ملک میں عدالتی اصلاحات کی ضرورت ہے اور عوام کو ریلیف اس وقت مل سکے گا جب عدلیہ اپنے پاس زیر التوا مقدمات کو فعال طریقے سے نمٹائے۔

    اعلامیے کے مطابق چیف جسٹس نے اپنے اصلاحی ایجنڈے پر وسیع تر مشاورت حاصل کرنے کی کوششوں کے طور پر قیادت کو مدعو کیا۔ ملاقات میں چیف جسٹس نے پی ٹی آئی وفد کو نیشنل جسٹس پالیسی میکنگ کمیٹی (این جے پی ایم سی) کی متوقع میٹنگ کے بارے میں آگاہ کیا۔

    اس موقع پر پی ٹی آئی رہنما بیرسٹر علی ظفر نے درخواست کی کہ انھیں پاکستان لا اینڈ جسٹس کمیشن کی جانب سے پیش کردہ پالیسی تجاویز پر ردعمل دینے کے لیے وقت درکار ہے۔

    چیف جسٹس نے وفد کو بتایا کہ انھوں نے وزیر اعظم سے ملاقات کی اور ان سے اصلاحات کے ایجنڈے پر حکومت کی رائے فراہم کرنے کی درخواست کی۔

    اعلامیے کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ وزیراعظم نے اس عمل کو مثبت انداز میں لیا اور پالیسی سازی اور اس پر عملدرآمد کے عمل میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

  4. کرک میں شدت پسندی کے خلاف آپریشن میں چھ شدت پسند ہلاک: آئی ایس پی آر

    دہشت گردی کے خلاف کارروائی

    ،تصویر کا ذریعہISPR

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    خیبرپختونخوا کے ضلع کرک میں شدت پسندی کے خلاف کارروائی میں چھ شدت پسند ہلاک کر دیے گئے ہیں۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسز نے 21 فروری کو کرک میں خفیہ اطلاعات ملنے پر آپریشن کیا تھا۔

    آئی ایس پی آر کے جاری بیان کے مطابق ’آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز نے شدت پسندوں کے ٹھکانے کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا اور کامیاب آپریشن کے نتیجے میں چھ شدت پسند مارے گئے۔‘

    بیان کے مطابق ’کرک میں شدت پسندوں کے خلاف کلیئرنس آپریشن جاری ہے اور سکیورٹی فورسز ملک سے دہشت گردی کو ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔‘

  5. روس اور امریکہ کے مابین ’ہر سطح پر‘ مذاکرات بحال ہوں گے: کریملن کے ترجمان

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ماسکو نے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کے اس بیان کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ’ایسی غلط معلومات کی دنیا میں رہ رہے ہیں جو روس کی بنائی ہوئی ہے‘ پر سخت ردعمل دیا ہے۔

    کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے جمعرات کو زیلنسکی کے بیان کو ’ناقابل قبول‘ قرار دیا۔

    پیسکوف نے کہا ’حالیہ مہینوں سے یوکرینی حکومت کے اکثر نمائندے دیگر ممالک کے سربراہان کے بارے میں ناقابل قبول بیانات دے رہے ہیں۔‘

    امریکہ کے ساتھ روس کے حالیہ تعلقات پر بات کرتے ہوئے پیسکوف نے کہا کہ روس-امریکہ کے مابین ’ہر سطح پر‘ مذاکرات بحال ہوں گے۔

    یہاں آپ کو بتاتے چلیں کہ گذشتہ ہفتے ٹرمپ اور پیوتن کی فون کال نے ماسکو اور واشنگٹن کے درمیان تین سال سے جاری براہ راست رابطے کے تعطل کو ختم کر دیا تھا۔

    برطانیہ میں روسی سفیر نے بھی ٹرمپ کے اس مؤقف سے اتفاق کیا کہ زیلنسکی کو انتخابات کرانے چاہییں۔ انھوں نے بی بی سی کے پروگرام نیوز نائٹ میں کہا کہ یوکرینی صدر کی ’آئینی مدت مئی پچھلے سال ختم ہو چکی تھی۔‘

    دوسری طرف روسی صدر ولادیمیر پیوتن نے بدھ کے روز اس بات کو مسترد کر دیا کہ ماسکو یورپ کو مذاکرات میں شامل ہونے سے روک رہا ہے۔

    انھوں نے کہا ’کیئو (یوکرین) کے معاملے میں، میں نے کبھی بھی یورپی رہنماؤں سے رابطہ کرنے سے انکار نہیں کیا۔‘

    اور جب صدر ٹرمپ نے اسی ہفتے یوکرین کو جنگ شروع کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا تو روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ’کسی مغربی رہنما نے پہلے کبھی ایسی بات نہیں کی، لیکن ٹرمپ نے ایسا کئی بار کہا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ ہماری پوزیشن کو سمجھتے ہیں۔‘

  6. کوئٹہ: تشدد کے دو مختلف واقعات میں دو پولیس اہلکاروں سمیت تین افراد ہلاک, محمد کاظم، بی بی سی اردو - کوئٹہ

    gettyimages

    ،تصویر کا ذریعہgettyimages

    بلوچستان کے ضلع کوئٹہ میں گذشتہ شب تشدد کے دو مختلف واقعات میں دو پولیس اہلکاروں سمیت تین افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

    دونوں پولیس اہلکار کوئٹہ اور ہرنائی کے اضلاع کے سرحدی علاقے شعبان میں واقع ایک چوکی پر نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں مارے گئے۔

    بلوچستان پولیس کے ایک سینیئر اہلکارنے ان ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اس علاقے میں پولیس اور محکمہ جنگلات کی ایک مشترکہ چوکی تھی جس پر گذشتہ شب پانچ سے چھ کے قریب مسلح افراد نے حملہ کیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ حملے کے نتیجے میں دو پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کے علاوہ ایک اہلکار زخمی بھی ہوا۔

    پولیس اہلکاروں کی لاشوں کو پوسٹ مارٹم جبکہ زخمی اہلکار کو طبی امداد کی فراہمی کے لیے سول ہسپتال کوئٹہ منتقل کیا گیا۔

    شعبان کوئٹہ شہر کے مشرق میں ایک دشوار گزار پہاڑی علاقہ ہے۔

    وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے پولیس اہلکاروں پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے ایکس پر اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پولیس کے دو جوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے دہشت گردی کے ایک بڑے منصوبے کو ناکام بنا دیا۔

    ادھر کوئٹہ شہر کے سریاب علاقے میں قمبرانی روڈ پر ہونے والے بم دھماکے میں ہلاک ہونے والے ایک شخص کے بارے تحقیقات جاری ہیں۔

    ایس ایچ او سریاب قاسم رودینی نے بتایا کہ گذشتہ شب ہلاک ہونے والے شخص کی لاش کو سول ہسپتال کوئٹہ منتقل کردیا گیا جس کی شناخت تاحال نہیں ہو سکی ہے۔

    پولیس کے ایک سینیئر اہلکار نے بتایا کہ دھماکے سے ہلاک ہونے والے شخص کے جسم کے بعض حصے اُڑ گئے ہیں۔

    اہلکار نے بتایا کہ اس واقعے کے بارے تحقیقات جاری ہیں ’تاہم شبہ ہے کہ ہلاک ہونے والا شخص کوئی خود کش حملہ آور تھا یا وہ دھماکہ خیز مواد کہیں لے جارہا تھا جو ہدف سے پہلے ہی پھٹ گیا جس میں وہ شخص ہلاک ہو گیا۔‘

  7. غزہ سے واپس بھیجی گئی لاش شری بیبس کی نہیں ہے: اسرائیلی فوج کا دعویٰ

    PA Media

    ،تصویر کا ذریعہPA Media

    اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ جمعرات کو غزہ سے اسرائیل واپس لائی گئی چار لاشوں میں سے ایک لاش وہ نہیں ہے جس کے متعلق حماس نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ یرغمال خاتون شری بیبس کی ہے۔

    33 سالہ شری بیبس اور ان کے دو بیٹے، ایریل اور کیفیر جن کی عمریں اب پانچ اور دو سال ہوتیں، کی ہلاکت کی خبر نے اسرائیل میں بہت سے افراد کو غم زدہ کر دیا تھا۔

    اسرائیل کی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) نے بیبس خاندان کو اطلاع دی ہے کہ ان کے بیٹوں کی لاشوں کی شناخت ہوچکی ہے کیونکہ حماس نے جمعرات کو ان کی باقیات اسرائیل کے حوالے کی تھیں۔

    تاہم اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ تیسری لاش ان بچوں کی والدہ شری بیبس کی نہیں ہے۔

    فوج نے حماس سے ان کی لاش سمیت باقی تمام یرغمالیوں کی واپسی کا مطالبہ کیا ہے۔ حماس نے اسرائیل کے اس دعوے پر ابھی تک کوئی ردعمل نہیں دیا۔

    آئی ڈی ایف نے ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا ’شناخت کے عمل کے دوران یہ تصدیق ہوئی کہ واپس کی گئی لاش شری بیبس کی نہیں ہے اور یہ کسی اور یرغمالی کی بھی نہیں ہے۔ بلکہ یہ ایک نامعلوم لاش ہے جس کے متعلق ہم نہیں جانتے کہ وہ کون ہے۔‘

    ’یہ حماس کی طرف سے انتہائی سنگین خلاف ورزی ہے جو معاہدے کے تحت ہلاک ہونے والے چاروں یرغمالیوں کی لاشیں واپس کرنے کی پابند ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ حماس ہمارے تمام یرغمالیوں کے ساتھ شری کو بھی واپس کرے۔‘

    آئی ڈی ایف کا دعویٰ ہے کہ انٹیلیجنس اور فرانزک تحقیقات کے مطابق یہ دونوں بچے ’نومبر 2023 میں قید کے دوران قتل کر دیے گئے تھے‘۔ دوسری جانب حماس کا دعویٰ ہے کہ یہ بچے اور ان کی والدہ اسرائیلی بمباری میں مارے گئے تھے۔

    شری، ایریل اور کیفیر بیبس 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے اسرائیل پر حملوں کے دوران یرغمال بنائے گئے تھے۔ اس وقت ان کی عمریں 32 سال، 4 سال اور 9 ماہ تھیں۔

    بچوں کے 34 سالہ والد یارڈن بیبس کو حماس نے یکم فروری کو رہا کر دیا تھا۔

  8. اسرائیل میں تین بسوں میں دھماکے: ’یہ دہشت گرد حملہ تھا‘ پولیس

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیل کے شہر تل ابیب کے جنوب میں بیت یام کے علاقے میں تین بسوں میں دھماکے ہوئے ہیں جس کے بارے میں اسرائیلی پولیس کا کہنا ہے کہ یہ دہشت گرد حملہ تھا۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ دو دیگر بسوں میں موجود آلات پھٹنے میں ناکام رہے۔

    انھوں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’پولیس کی بڑی فورس جائے وقوعہ پر موجود ہے اور مشتبہ افراد کی تلاش کر رہی ہے۔‘

    اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق دھماکہ خیز آلات کی جانچ تک وزیر ٹرانسپورٹ میری ریجیو نے ملک میں تمام بسوں، ٹرینوں اور لائٹ ریل ٹرینوں کو روکنے کے احکامات دیے ہیں۔

    سوشل میڈیا پر موجود فوٹیج میں کم از کم ایک بس کو پارکنگ لاٹ میں آگ لگے دیکھا جا سکتا ہے۔

    پولیس نے بتایا کہ ابھی تک کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔

    پولیس کے ترجمان آریہ ڈورون نے کہا کہ افسران اب بھی تل ابیب میں مزید بموں کا پتہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    ڈورون نے چینل 12 کو بتایا کہ ہماری فورسز اب بھی علاقے کی تلاشی لے رہی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ عوام کو ’ہر مشتبہ بیگ یا چیز‘ سے چوکنا رہنا چاہیے۔

    ان کا کہنا ہے کہ اگر تو دہشت گرودوں نے ان ٹائمرز کو غلط وقت پر سیٹ کیا ہے تو یہ ہماری خوش قسمتی ہو گی۔

    مقامی میڈیا کے مطابق ایک آلہ جو پھٹ نہیں سکا اس میں پیغام درج تھا کہ یہ ’تلکرم کا بدلہ‘ ہے۔

    یہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کے حالیہ آپریشن کا حوالہ تھا۔

    بیت یام میں ہونے والے واقعات کے جواب میں وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا کہ انھوں نے فوج کو مغربی کنارے میں پناہ گزین کیمپوں میں اپنی کارروائیوں کو بڑھانے کی ہدایت کی ہے۔

    اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے دفتر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ انھیں صورتحال سے آگاہ کیا جا رہا ہے۔

  9. گذشتہ روز کی اہم خبروں کا خلاصہ!

    • بلوچستان کے ضلع خضدار میں کوئٹہ اور کراچی کے درمیان شاہراہ احتجاج کے باعث گذشتہ روز یعنی جمعرات کو بھی بند رہی۔
    • برطانیہ اور ناروے کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک یوکرین کی ’غیرمتزلزل‘ حمایت جاری رکھیں گے اور اپنے دفاع کو مزید مضبوط بنائیں گے۔ ناروے میں موجود برطانیہ کے سیکریٹری دفاع جان ہیلی نے کہا ہے کہ ولادیمیر زیلنسکی یوکرین کے منتخب صدر ہیں اور ’انھوں نے وہی کیا ہے جو دوسری عالمی جنگ کے دوران ونسٹن چرچل نے کیا تھا، یعنی جنگ کے دوران انتخابات معطل کر دیے تھے۔‘
    • یورپی یونین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ولادیمیر زیلنسکی کو ’آمر‘ قرار دینے پر ردِ عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’یوکرین ایک جمہوری ملک ہے، (صدر ولادیمیر) پوتن کا روس نہیں۔‘
    • یوکرین کی ملٹری انٹیلیجنس ایجنسی کے سربراہ کریلو بُدانو کا کہنا ہے کہ اس سال کے آخر تک یوکرین اور روس کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ طے ہونے کے امکانات ہیں۔
    • پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں کا دعویٰ ہے کہ وہ سابق وزیرِ اعظم عمران خان سے ملاقات کے لیے اڈیالہ جیل پہنچے تھے لیکن انھیں حکام کی طرف سے اس ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔
    • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے جاری مذاکرات میں روس کے پاس ’تمام پتّے‘ موجود ہیں کیونکہ وہ ’بڑے علاقے پر قبضہ کر چکا ہے۔‘
    • اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے تصدیق کی ہے کہ حماس نے اپنی تحویل میں ہلاک ہونے والے چار مغویوں کی لاشیں غزہ میں اسرائیلی فورسز کے حوالے کر دی ہیں۔
    • خیبرپختونخوا کے قبائلی علاقے ضلع کرم میں صوبائی حکومت نے انتہائی مطلوب شدت پسندوں کے سر کی قیمت مقرر کردی ہے۔ محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری کیے گئے ایک نوٹیفیکیشن میں کہا گیا ہے کہ ضلع کرم میں انٹیلیجنس کوارڈینیشن کمیٹی نے ایک خط کے زریعے آگاہ کیا ہے کہ 14مفرور شدت پسندوں کے سروں کی قیمت مقرر کی جائے۔
  10. بی بی سی اردو کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی اردو کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔

    پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو کوریج جاری ہے۔ تاہم اگر آپ 20 فروری تک کی خبروں کو پڑھنا چاہیں تو اس لنک پر کلک کریں۔