یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا
بی بی سی اردو کی لائیو کوریج کا سلسلہ جاری ہے تاہم یہ صفحہ اب مزید اپڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔
پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں کو جاننے کے لیے اس لنک پر کلک کریں۔
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے روسی ہم منصب سرگئی لاروف سے ملاقات کے بعد تہران میں مشترکہ پریس کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا ملک امریکی پابندیوں اور دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا اور امریکہ سے براہ راست مذاکرات نہیں کیے جائیں گے۔
بی بی سی اردو کی لائیو کوریج کا سلسلہ جاری ہے تاہم یہ صفحہ اب مزید اپڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔
پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں کو جاننے کے لیے اس لنک پر کلک کریں۔

،تصویر کا ذریعہْْْْٰٰBBC
توقع کی جا رہی ہے کہ یوکرین اور امریکہ جلد ہی یوکرین کے ’نایاب معدنی ذخائر‘ کے حوالے سے ایک معاہدے پر پہنچ جائیں گے۔ لیکن اس کا مطلب کیا ہے؟
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ، یوکرین کو دی گئی سابقہ امداد کے بدلے اس کے معدنی وسائل تک رسائی حاصل کرنا چاہتا ہے جبکہ یوکرین مستقبل میں سکیورٹی ضمانتوں پر اصرار کر رہا ہے۔
گذشتہ ہفتے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ملک کے 500 ارب ڈالر کے معدنیاتی ذخائر تک رسائی فراہم کرنے کی تجویز کو ٹھکراتے ہوئے کہا کہ یوکرین کو اس قدر مالی امدار نہیں ملی اور مزید یہ کہ وہ اپنا ’ملک بیچ نہیں سکتے‘۔
اب معاہدہ ہونے کا امکان ہے۔ لیکن یہ واضح نہیں کہ اس میں کون کون سے معدنیات شامل ہوں گی، امریکہ سابقہ امداد کے بدلے کتنی رقم وصول کرنے کی کوشش کرے گا اور مستقبل میں ’سکیورٹی گارنٹی‘ کا کیا مطلب ہو گا۔
یوکرین میں قیمتی عناصر اور معدنیات کے وسیع ذخائر موجود ہیں جن میں لیتھیم اور ٹائٹینیم شامل ہیں جبکہ کوئلہ، گیس، تیل اور یورینیم کے بھی بڑے ذخائر پائے جاتے ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ان کی مالیت اربوں ڈالر ہے۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی کے زیر اہتمام بلوچستان میں سیاسی کارکنوں کی مبینہ ٹارگٹ کلنگ اور جبری گمشدگیوں کے واقعات کے خلاف کوئٹہ اور ضلع گوادر کے شہر پسنی میں احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں۔
کوئٹہ شہر میں سہہ پہر کو ریلی کا آغاز سریاب روڈ پر شاہوانی کراس سے ہوا جس میں خواتین بھی شریک تھیں۔
ریلی کے شرکا قمبرانی روڈ سے ہوتے ہوئے بشیر چوک پہنچے جہاں شرکا سے بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں نے خطاب کیا۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کی سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور دیگر رہنماؤں نے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ’بلوچستان بالخصوص مکران ڈویژن میں سیاسی کارکنوں کی ٹارگٹ کنلگ اور جبری گمشدگیوں میں اضافہ ہوا ہے۔‘
مقررین نے دعویٰ کیا کہ ’گذشتہ چند ہفتوں کے دوران ضلع کیچ اور دیگر علاقوں میں متعدد سیاسی کارکنوں کی ٹارگٹ کلنگ کی گئی جس کا مقصد بلوچ سیاسی کارکنوں اور باشعور افراد کو خوفزدہ کرکے انھیں قومی حقوق کے لیے جدوجہد سے باز رکھنا ہے۔‘
انھوں نے حقوق انسانی کی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ ان واقعات کا نوٹس لیں اور ان کی روک تھام کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
اُدھر پسنی میں ریلی کا آغاز پریس کلب سے ہوا جس کے شرکا مختلف شاہراہوں سے ہوتے ہوئے شہر کے مرکزی علاقے تک گئے جہاں مقررین نے ان سے خطاب کیا۔
بلوچ یکحہتی کمیٹی کی جانب سے مبینہ ٹارگٹ کلنگ اور جبری گمشدگیوں کے خلاف 23 فروری سے احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع کیا گیا تھا جو کہ 28 فروری تک جاری رہیں گے۔


،تصویر کا ذریعہReuters
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے روسی ہم منصب سرگئی لاروف سے ملاقات کے بعد تہران میں مشترکہ پریس کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا ملک امریکی پابندیوں اور دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا اور نہ ہی امریکہ سے براہ راست مذاکرات کیے جائیں گے۔
روسی وزیر خارجہ ایران کے ایک روزہ دورہ پر منگل کے روز تہران پہنچے تھے۔
مشترکہ کانفرنس کے دوران عباس عراقچی کا کہنا تھا، ’جوہری مذاکرات پر ایران کا موقف بالکل واضح ہے۔ ہم دباؤ، دھمکی یا پابندیوں تلے مذاکرات نہیں کریں گے۔‘
’لہذا جب تک امریکہ ایران پر ’زیادہ سے زیادہ دباؤ‘ ڈالنے کی اپنی مہم جاری رکھے گا تب تک جوہری معاملے پر ہمارے اور امریکہ کے درمیان براہ راست مذاکرات کا کوئی امکان نہیں۔‘
خیال رہے کہ دوسری مرتبہ صدر بننے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر اپنی ’زیادہ سے زیادہ دباؤ‘ مہم کو بحال کرنے کا اعلان کیا تھا جس میں ایرانی تیل کی برآمدات مکمل طور پر روکنا بھی شامل ہے تاکہ ایران پر دباؤ بڑھایا جا سکے۔
عباس عراقچی کا مزید کہنا تھا کہ ایران روس اور چین کے تعاون سے جوہری معاملے پر اپنے موقف کو مربوط کرے گا۔
اس موقع پر روسی وزیر خارجہ نے امریکہ کی جانب سے لگائی جانے والی یکطرفہ پابندیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ روس ان پابندیوں کے باعث ایران کو ہونے والے نقصانات کا ازالہ کرنے کی کوشش کرے گا۔
ایرانی جوہری معاہدے کے متعلق بات کرتے ہوئے سر گئی لاروف کا کہنا تھا کہ اس معاملے کا سفارتی حل اب بھی موجود ہے اور اس مسئلے کے حل کے لیے دھمکی یا طاقت کا سہارا لینے کے بجائے سفارتی ذرائع استعمال کیے جائیں۔
’ہم اس کے [سفارتی] حل کے لیے بھرپور کوشش کریں گے۔‘
روسی صدر کا بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد امریکہ اور روس کے درمیان تعلقات بہتر ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ یاد رہے کہ رواں ماہ سعودی عرب میں امریکی اور روسی وزارئے خارجہ کی سطح پر وفود کی ملاقات بھی ہوئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہSyrian News Agency - SANA
شام میں عبوری حکومت کے سربراہ احمد الشرع کا کہنا ہے کہ شام کی تقسیم کسی صورت قبول نہیں اور ملک کی طاقت اتحاد میں ہی ہے۔
وہ منگل کے روز شام کے دارالحکومت دمشق میں شروع ہونے والے نیشنل ڈائیلاگ کانفرنس کے افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔
مقامی اخباروں نے ذرائع کے حوالوں سے بتایا ہے کہ اس کانفرنس میں شام کے مختلف صوبوں سے تعلق رکھنے والے 600 افراد شرکت کر رہے ہیں۔ اس کانفرنس کا مقصد ملک میں آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے مختلف گروپوں میں ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔
تقریر کے دوران، احمد الشرع کا کہنا تھا کہ ’ہتھیاروں پر ریاست کی اجارہ داری عیش و آرام کی چیز نہیں بلکہ ایک فرض ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’شہری امن و امان تمام شامیوں کا فرض ہے۔‘
احمد الشرع کا مزید کہنا تھا کہ ہر اس شخص کا مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے جو شام کی سلامتی اور اتحاد سے چھیڑ چھاڑ کرنا چاہتا ہے۔
جہاں اس کانفرنس میں سول سوسائٹی، مختلف فرقوں اور اپوزیشن کے نمائندے شرکت کر رہے ہیں وہیں اس کانفرنس میں شام کے شمال مشرقی حصے پر کنٹرول رکھنے والی خود مختار کرد انتظامیہ اور اس کی عسکری تنظیم سیریئن ڈیموکریٹک فورسز کو مدعو نہیں کیا گیا ہے۔
کانفرنس کے منتظمین کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا کہ شام میں موجود کوئی بھی ایسی عسکری تنظیم جس نے اب تک ہتھیار نہیں ڈالے ہیں انھیں اس ڈائیلاگ میں شامل نہیں کیا جائے گا۔
کرد انتظامیہ تیل کی دولت سے مالا مال ملک کے شمال مشرق کے ایک بڑے حصے کو کنٹرول کرتی ہے۔
گذشتہ سال نومبر سے ترکی کے حمایت یافتہ شامی دھڑے شمالی شام میں سیریئن ڈیموکریٹک فورسز کے ٹھکانوں پر حملے کر رہے ہیں تاہم انھیں اب تک کامیابی جاصل نہیں ہوئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
روس کے صدر ولادیمیر پوتن کا کہنا ہے کہ وہ امریکہ کو روس اور ماسکو کے زیرِ قبضہ یوکرین کے علاقوں میں موجود نایاب معدنیات کے ذخائر تک رسائی دینے کے لیے تیار ہیں۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یوکرین پر امریکی حمایت کے بدلے نایاب معدنیات کے ذخائر تک رسائی کی مانگ کر رہے ہیں۔ یوکرین کے ایک وزیر کے مطابق امریکہ کو ان ذخائر تک رسائی کے ایک معاہدے کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔
سوموار کے روز سرکاری ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں پوتن کا کہنا تھا کہ وہ روس کے ’نئے علاقوں‘ میں کان کنی سمیت مشترکہ منصوبوں میں امریکی شراکت داروں کو وسائل کی ’پیشکش‘ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ روس کے ’نئے علاقوں‘ سے ان کی مراد مشرقی یوکرین کے وہ حصے ہیں جو یوکرین پر حملے کے بعد سے ماسکو کے قبضے میں ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان المونیم کو نکالنے اور اس کی قیمت کو مستحکم رکھنے کی غرض سے امریکہ کو اس کی فراہمی پر بھی بات ہو سکتی ہے۔
روسی صدر کا کہنا تھا کہ امریکہ اور یوکرین کے مابین نایاب معدنیات کے حوالے سے ممکنہ معاہدہ ان کے لیے تشویوش کا باعث نہیں کیونکہ روس کے پاس ’اس طرح کے یوکرین سے کہیں بڑے ذخائر موجود ہیں‘۔
منگل کے روز روسی حکومت کے ترجمان ڈیمتری پیسکوو نے صحافیوں کو بتایا کہ اس تجویز سے تعاون کے کافی وسیع امکانات روشن ہو گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کو ان نایاب معدنیات کی ضرورت ہے اور روس کے پاس یہ وسیع مقدار میں موجود ہیں۔
نایاب معدنیات کیا ہیں اور امریکہ ان کو کیوں حاصل کرنا چاہتا ہے؟
نایاب زیرزمین معدنیات جنھیں ’ریئر ارتھ‘ کہا جاتا ہے 17 ملتی جلتی کیمیائی خصوصیات والی معدنیات ہیں جن کا جدید ٹیکنالوجی میں وسیع پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے۔
یہ معدنیات سمارٹ فون، کمپیوٹر، طبی سامان اور کئی دیگر اشیا کی تیاری میں استعمال ہوتی ہیں۔ ان میں سکینڈیئم، یٹریئم، لانتھانم، سیریئم، پراسیوڈائمیئم، نیوڈیئم، پرومیتھیئم، سماریئم، یوروپیئم، گاڈولینیئم، ٹیربیئم، ڈسپروسیئم، ہولمیئم، اربیئم، تھولیئم، یٹیربیئم اور لٹیٹیئم نامی معدنیات شامل ہیں۔
امریکہ کی ان معدنیات تک رسائی کی خواہش کی ایک بڑی وجہ چین سے مقابلہ ہے جو دنیا میں ایسی نایاب معدنیات کی رسد اور فراہمی کا بڑا کھلاڑی ہے۔
گزشتہ دہائیوں کے دوران چین نایاب معدنیات نکالنے اور انھیں پروسیس کرنے میں عالمی سطح پر بہت آگے نکل چکا ہے اور اس کے پاس ناصرف 60 سے 70 فیصد تک کی پروڈکشن موجود ہے بلکہ 90 فیصد پروسیسنگ بھی چین کے پاس ہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہRoosevelt Hotel
امریکی حکام نے پی آئی اے کے ملکیتی روزویلٹ ہوٹل سے امریکہ میں پناہ کے متلاشی تارکینِ وطن کی رہائش کا تین سالہ معاہدہ ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
نیویارک کے مشہور علاقے مینہٹن میں واقع روز ویلٹ ہوٹل میں تارکینِ وطن کو رکھنے کے اس معاہدے کی مالیت 220 ملین ڈالر تھی۔
پاکستان کے سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق امریکی حکومت اور دائیں بازو کے شدت پسندوں کے دباؤ پر نیویارک کے میئر ایرک ایڈمز نے پیر کو تارکین وطن کے اس مرکز کو بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔
اس کی وجہ نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے حال ہی میں حکومتی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے اعلان کردہ نئے ادارے کے نامزد کردہ انڈین نژاد مشیر کی جانب سے اس معاہدے پر تنقید ہے جس کے تحت حکومت پاکستان تین سال کے دوران ریاست نیویارک سے 220 ملین ڈالر حاصل کرنے کی توقع رکھی تھی۔
روزویلٹ ہولال کووڈ کی وبا کے دوران بند ہو گیا تھا اور پھر مئی 2023 میں پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز- انوسٹمنٹ لمیٹڈ (پی آئی اے - آئی ایل) اور نیویارک سٹی گورنمنٹ کے درمیان معاہدہ طے پایا جس کے تحت 1047 کمروں پر مشتمل روزویلٹ ہوٹل 220 ملین ڈالر کے عوض تین سال کی مدت کے لیے کرائے پر حاصل کیا گیا۔
تاہم چند ہفتے قبل (14 نومبر) نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حکومتی اخراجات کم کرنے اور کفایت شعاری اپنانے کے لیے ایکس کے مالک ایلون مسک کے ساتھ انڈین نژاد ارب پتی کاروباری شخصیت وویک راماسوامی کو اپنی حکومت کے نئے ’ڈپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشینسی (ڈی او جی)‘ کے لیے چنا جنھوں نے ایکس پر روزویلٹ ہوٹل معاہدے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اسے ’پاگل پن‘ قرار دیا تھا۔
اطلاعات کے مطابق اس ہوٹل کے 1025 کمروں میں ہزاروں تارکین وطن قیام پذیر رہے اور اندازاً ہر کمرے کا فی رات کرایہ 200 ڈالر تھا۔ یہ ہوٹل نیویارک میں آنے والے تارکینِ وطن میں سے 75 فیصد کی میزبانی کر رہا تھا۔
تاہم اب نیویارک میں تارکین وطن کی آمد کا سلسلہ بھی کم ہوا ہے اور یہ تعداد جو 2023 میں ہر ہفتہ 4000 تھی کم ہو کر اب 350 رہ گئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ہوٹل کرائے پر کیوں دیا گیا؟
پی آئی اے کے ترجمان عبداللہ حفیظ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ 2020 میں جب کووڈ کی وبا پھیلی تو حکومت نے ہوٹل کو بند رکھنے کا فیصلہ کیا ’کیونکہ اسے بند رکھنا اسے چلانے سے زیادہ بہتر تھا۔‘
تاہم 2023 میں نیویارک سٹی گورنمنٹ اور ہوٹل یونین کے ساتھ ایک معاہدہ ہوا جس کی منظوری پاکستان اکنامک کمیٹی (ای سی سی) نے مئی 2023 میں دی اور تین سال کے لیے ہوٹل کے 1025 کمرے لیز پر دیے گئے تھے۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ نیویارک حکومت کے ساتھ طے معاہدے میں شامل تھا کہ چونکہ روزویلٹ ہوٹل بہت پرانا ہے لہذا کم از کم جتنی ضرورت ہوئی، اتنا مرمتی کام وہ خود (نیویارک کی سٹی سٹیٹ) کریں گے اور فی کمرہ فی رات کے حساب سے 200 ڈالر کی رقم ادا کی جائے گی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیل کے وزیراعظم بنیامین نتن یاہو نے جنوبی شام کے زیادہ حصے کو غیرفوجی علاقہ بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ ایک ایسا مطالبہ ہے کہ جو شام کی نئی قیادت اور اسرائیل میں ایک تنازع کا سبب بن سکتی ہے۔ شام میں اسرائیلی مطالبے کے خلاف احتجاج بھی ہو رہے ہیں۔
اتوار کو اسرائیلی کیڈٹس خطاب میں اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ وہ ہیئت التحریز کی فورسز اور نہ نئی شامی فوج جس کی اب تشکیل کی جا رہی ہے کو یہ اجازت دیں گے کہ وہ دمشق کے جنوب میں اس علاقے میں داخل ہوئے۔
انھوں نے کہا کہ ہم جنوبی شام کے علاقوں جن میں کونیتر، دیرا اور سویدا شامل ہیں کو مکمل غیرفوجی زون بنانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔
نتن یاہو نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ اس علاقے میں ’درزی‘ کمیونٹی کو کسی بھی طرح کے خطرے کو بھی برداشت نہیں کریں گے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
نتن یاہو نے یہ بھی کہا کہ اسرائیلی افواج شامی علاقوں میں غیرمعینہ مدت کے لیے موجود رہیں گی۔ یہ علاقے بشارالاسد حکومت کے خاتمے کے بعد اسرائیل نے عارضی طور پر اپنے قبضے میں لیے تھے مگر اب ان پر غیرمعینہ قیام اسرائیل کے اپنے موقف کے برعکس ہے۔
اسرائیل نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ وہ شدت پسندوں کا رستہ روکنے کے لیے شام کے ان علاقوں میں داخل ہو رہے ہیں جنھیں بفر زون کا درجہ حاصل ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
فرانس کے صدر ایمینوئل میخواں کا کہنا ہے کہ یوکرین کی خود مختاری کے لیے امریکہ کی حمایت حاصل کرنے کا بہترین رستہ اہم معدنیات سے متعلق معاہدہ بن سکتا ہے جس پر اس وقت واشنگٹن اور کئیو مذاکرات کر رہے ہیں۔
اگرچہ یوکرین کے صدر نے ایسے کسی معاہدے سے انکار کیا ہے مگر اب فرانس کے صدر نے امریکہ کے دورے کے دوران یوکرین کی خود مختاری کے لیے اس معاہدے کی اہمیت پر زور دیا ہے۔
لیکن یہ معدنیات کیا ہیں، اور امریکہ انھیں کیوں حاصل کرنا چاہتا ہے؟
نایاب زیرزمین معدنیات جنھیں ’ریئر ارتھ‘ کہا جاتا ہے کہ 17 ملتی جلتی کیمیائی خصوصیات والی معدنیات ہیں جن کا جدید ٹیکنالوجی میں وسیع پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے۔
یہ معدنیات سمارٹ فون، کمپیوٹر، طبی سامان اور کئی دیگر اشیا کی تیاری میں استعمال ہوتی ہیں۔ ان میں سکینڈیئم، یٹریئم، لانتھانم، سیریئم، پراسیوڈائمیئم، نیوڈیئم، پرومیتھیئم، سماریئم، یوروپیئم، گاڈولینیئم، ٹیربیئم، ڈسپروسیئم، ہولمیئم، اربیئم، تھولیئم، یٹیربیئم اور لٹیٹیئم نامی معدنیات شامل ہیں۔
انھیں نایاب اس لیے کہا جاتا ہے کیوں کہ ان کا خالص حالت میں مل جانا بہت غیرمعمولی سمجھا جاتا ہے تاہم دنیا بھر میں ان کے ذخائر موجود ہیں۔
لیکن اکثر یہ نایاب معدنیات تھوریئم اور یورینیئم جیسے تابکاری عناصر کے ساتھ موجود ہوتا ہے اور ان کو الگ کرنے کے لیے بہت سے زہریلے اجزا کا استعمال کرنا پڑتا ہے اور اسی لیے ان کو نکالنے کا عمل پیچیدہ اور مہنگا ہوتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یوکرین میں کون کون سی نایاب معدنیات پائی جاتی ہیں؟
یورپی یونین کی جانب سے جن 30 اجزا کی ’انتہائی اہم مواد‘ کے طور پر تعریف کی گئی ہے ان میں سے 21 یوکرین میں پائی جاتی ہیں اور دنیا میں موجود نایاب معدنیات کے ذخائر کا پانچ فیصد اسی ملک میں ہے۔
جن علاقوں میں یہ ذخائر موجود ہیں ان میں سے زیادہ تر یوکرین کے ’کرسٹلائن شیلڈ‘ نامی علاقے کے جنوب میں ازوو سمندر میں ہیں اور زیادہ تر علاقے روس کے قبضے میں ہیں۔
تاہم کیئو، مڈل بز، ونیٹسیا اور زٹومیر خطوں میں بھی ان کے ذخائر ہیں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ سینکڑوں اشیا کی شناخت ہوئی ہے لیکن ان میں سے چند ہی کو نکالنا معاشی اعتبار سے سودمند ہو گا۔
ایڈم ویب ’بینچ مارک منرل انٹیلیجنس‘ میں بیٹری سے متعلقہ معدنیات کے شعبے کے سربراہ ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’اب تک جو تخمینے یا اندازے لگائے گئے ہیں وہ صرف اندازے ہی ہیں۔‘
ان کے مطابق ان معدنیاتی ذخائر کو معاشی وسائل میں تبدیل کرنے کے لیے بہت کام کی ضرورت ہے۔ فوربز یوکرین کے مطابق دیگر اہم معدنیات میں سے 70 فیصد ڈونیٹسک، لوہانسک اور ڈنیپروپیٹروسک خطوں میں واقع ہیں اور ان میں سے زیادہ تر علاقے روس کے زیراثر ہیں۔
یوکرین کی حکومت کے مطابق ملک میں ساڑے چار لاکھ ٹن لیتھیئم کے ذخائر ہیں۔ روس نے دو لیتھیئم ذخائر پر بھی قبضہ کر رکھا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ٹرمپ یہ معدنیات کیوں حاصل کرنا چاہتے ہیں؟
امریکہ کی ان معدنیات تک رسائی کی خواہش کی ایک بڑی وجہ چین سے مقابلہ ہے جو دنیا میں ایسی نایاب معدنیات کی رسد اور فراہمی کا بڑا کھلاڑی ہے۔
گزشتہ دہائیوں کے دوران چین نایاب معدنیات نکالنے اور انھیں پروسیس کرنے میں عالمی سطح پر بہت آگے نکل گیا اور اس کے پاس ناصرف 60 سے 70 فیصد تک کی پروڈکشن موجود ہے بلکہ 90 فیصد پروسیسنگ بھی چین کے پاس ہی ہے۔
اور چین پر یہ انحصار ہی امریکہ کو پریشان کیے ہوئے ہے۔ آخر یہی معدنیات جدید ٹیکنالوجی کے لیے ضرروی ہیں جس میں الیکٹرک گاڑیوں سے لے کر اسلحہ تک شامل ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ کے فاکس نیوز سے ایک انٹرویو کے دوران فرانس کے صدر ایمینوئل نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں واپسی ’گیم چینجر‘ ثابت ہوئی ہے۔
انھوں نے کہا کہ انھیں یہ یقین ہے کہ اب یوکرین میں جنگ بندی سے متعلق مذاکرات ممکن ہیں اور چند ہفتوں میں دیرپا امن کے لیے مذاکرات شروع کیے جا سکتے ہیں۔
فرانس کے صدر نے کہا کہ انھوں نے 30 اور بھی یورپی رہنماؤں اور اتحادیوں سے بات کی ہے اور ان میں سے اکثر یوکرین کے لیے سکیورٹی گارنٹی کا حصہ بننے پر آمادہ ہیں۔
فرانس کے صدر کا کہنا ہے کہ یوکرین کی خود مختاری کے لیے امریکہ کی حمایت حاصل کرنے کا بہترین رستہ اہم معدنیات سے متعلق معاہدہ بن سکتا ہے جس پر اس وقت واشنگٹن اور کئیو مذاکرات کر رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
واضح رہے کہ یوکرین میں نایاب زیرزمین معدنیات کے وسیع ذخائر موجود ہیں تاہم ان میں سے بہت سے ذخائر ایسے علاقوں میں موجود ہیں جن پر اس وقت روسی فوج کا قبضہ ہے۔
ٹرمپ نے تجویز دی تھی کہ اگر یوکرین، روس کے خلاف امریکہ کی حمایت برقرار رکھنا چاہتا ہے تو اسے چاہیے کہ یہ ذخائر امریکہ کو دے دے۔ تاہم اس تجویز کے جواب میں صدر زیلینسکی نے کہا کہ ’یہ کوئی سنجیدہ گفتگو نہیں ہے، میں اپنا ملک نہیں بیچ سکتا۔

،تصویر کا ذریعہFacebook/Qaizar Khan Miankhail
پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا میں پاکستان پیپلز پارٹی کے مقامی رہنما اور وکیل قیضار خان میانخیل کو نامعلوم افراد نے اغوا کر لیا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق ان کی بازیابی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
ضلعی پولیس افسر ڈیرہ اسماعیل خان صاحبزادہ سجاد نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے موبائل فون اور دیگر دستیاب معلومات پر کوششیں کی جا رہی ہیں اور اس میں مقامی سطح پر سکیورٹی فورسز کے اہلکار بھی مشتبہ علاقوں میں ان کی بازیابی کے لیے چھاپے مار رہے ہیں۔
قیضار خان کا تعلق خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع کے اہم سیاسی خاندان میانخیل سے ہے۔
گزشتہ روز قیضار خان کے ایک رشتہ دار احسان اللہ خان میانخیل کی جانب سے تھانہ درابن کی پولیس کو موبائل فون پر اطلاع دی گئی کہ قیضار خان اور ان کے پولیس محافظ نذیر اور ذاتی ملازم نعمت اللہ سفید رنگ کی گاڑی میں میں جا رہے تھے اور اب ان کے ساتھ رابطہ نہیں ہو رہا اور ان کے موبائل فون بند ہیں۔
تفصیلات کے مطابق قیضار خان میانخیل دو محافظوں کے ساتھ فاتحہ خوانی کے بعد واپس آ رہے تھے کہ ڈیرہ اسماعیل خان کے قریب سگو کے مقام پر نامعلوم افراد نے انھیں اسلحے کی نوک پر اغوا کر لیا۔
قیضار خان کے رشتہ دار رکن صوبائی اسمبلی احسان اللہ میانخیل نے بی بی سی کو بتایا کہ خاندان کے افراد اپنے ایک رشتہ دار کے جنازہ میں شرکت کے لیے درابن کے ایک گاؤں گرہ عیسی خان گئے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ تدفین کے بعد واپس ڈیرہ اسماعیل خان جا رہے تھے تو راستے میں کوئی 20 سے 25 مسلح افراد نے ان کی گاڑی کو روکا اور انھیں اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔
قیضار میانخیل ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ڈیرہ اسماعیل خان کے صدر رہ چکے ہیں۔ اس واقعہ کے بعد ڈیرہ اسماعیل خان اور قریبی علاقوں میں وکلا نے آج عدالتوں کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔
خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں میانخیل خاندان سیاسی حوالے سے انتہائی متحرک رہے ہیں۔ قیضار خان کے بڑے بھائی ثناء اللہ خان میانخیل صوبائی وزیر اور رکن صوبائی اسمبلی رہے ہیں جبکہ ان کے بھائی عمر فاروق میانخیل رکن قومی اسمبلی رہے تھے۔
فتح اللہ میانخیل اس وقت رکن قومی اسمبلی ہیں۔ انھوں نے 2024 کے انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ اتحاد قائم کرکے کامیابی حاصل کی تھی۔ اس سے پہلے وہ پاکستان مسلم لیگ نواز اور آزاد حیثیت سے انتخابات میں حصہ لیتے رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سنگاپور کے ایک بڑے بینک نے کہا ہے کہ یہ امکان ہے کہ وہ اگلے تین برس میں چار ہزار آسامیاں ختم کر دے گا کیونکہ اب ملازمین کے بجائے یہ کام بڑی حد مصنوعی ذہانت سے لیا جا رہا ہے۔
ڈی بی ایس کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ملازمتوں میں یہ کمی ایک فطری سی بات ہے کیونکہ اب عارضی اور کنٹریکٹ والی ملازمتیں اگلے چند برسوں میں ختم ہو جائیں گی۔
انھوں نے کہا کہ ملازمتیں ختم کرنے کے فیصلے سے مستقل ملازمین متاثر نہیں ہوں گے۔ اس بینک کے چیف ایگزیکٹو پیوش گپتا نے کہا ہے کہ اس بات کا امکان ہے کہ بینک میں مصنوعی ذہانت سے متعلق مزید ہزار ملازمتوں کا مواقع پیدا ہوں گے۔
ڈی بی ایس پہلا بینک ہے جس نے یہ تفیصلات بتائی ہیں کہ مصنوعی ذہانت کیسے اس کے آپریشنز پر اثر انداز ہوگا۔
تاہم اس کمپنی نے ابھی یہ نہیں بتایا کہ سنگاپور میں کتنی ملازمتیں ختم ہوں گی اور کون سے عہدے یا رول اس سے متاثر ہوں گے۔
ڈی بی ایس میں اس وقت 8000 سے 9000 عارضی اور ’کنٹریکٹ‘ کی بنیادوں پر کام کر رہے ہیں جبکہ اس بینک میں ملازمین کی تعداد تقریباً 41000 بنتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
گذشتہ برس اس بینک کے چیف ایگزیکٹو نے کہا تھا کہ ان کا یہ بینک ایک دہائی سے مصنوعی ذہانت پر کام کر رہا تھا۔ انھوں نے کہا کہ آج ہم نے 350 جگہوں پر اے آئی کے 800 ماڈل تعینات کر دیے ہیں، جس سے 2025 میں معاشی اثرات یا کمائی 745 ملین ڈالر سے بڑھنے کے امکانات موجود ہیں۔
رواں سال مارچ کے اختتام پر اس بینک کے چیف ایگزیکٹو اس فرم کو خیر آباد کہہ دیں گے۔ ان کے نائب تن سو شان ان کی جگہ بینک کی چیف ایگزیکٹو بن جائیں گی۔
مصنوعی ذہانت اپنے اثرات دکھا رہی ہے۔ عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کے مطابق گذشتہ برس اے آئی سے تقریباً 40 فیصد ملازمتیں متاثر ہونے کے امکانات پائے جاتے تھے۔
آئی ایم ایف کی سربراہ کرسٹالینا جیورجیوا نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت زیادہ تر مقامات پرعدم مساوات کو مزید گہرا کر دے گی۔
’بینک آف انگلیڈ کے گورنر اینڈریو بیلی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ گذشتہ برس مصنوعی ذہانت ملازمتیں ختم کرنے کی بڑی وجہ نہیں بنا اور اب حقیقی ملازمین نئے ٹیکنالوجی کے استعمال سے کام کرنا سیکھ جائیں گے۔
اینڈریو بیلی کا کہنا ہے کہ ’جہاں اے آئی سے خطرات ہیں تو وہیں اس میں بڑے امکانات بھی موجود ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا کے قبائلی ضلعے خیبر میں ایک فوجی آپریشن کے دوران دس شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسز نے ایک انٹیلیجنس کی بنیاد پر کیے جانے والے ایک آپریشن میں ضلع خیبر کے علاقے باغ میں کارروائی کی، جہاں شدت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع تھی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق فوج نے کامیابی سے یہاں شدت پسندوں کو گھیرے میں لے کر ہلاک کر دیا اور اس وقت علاقے میں مزید کلیئرنس آپریشن جاری ہیں تا کہ اگر کوئی اور شدت پسند بھی وہاں موجود ہے تو اسے بھی مارا جا سکے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
یوکرین میں روس کی جنگ کے تین برس مکمل ہونے پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں دو بار ایسے مواقع آئے جب امریکہ نے روس کا ساتھ دیا۔ یہ پیشرفت اس جنگ پر ٹرمپ کے بدلتے مؤقف کی عکاسی کرتی ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے روس مخالف تمام یورپی ترامیم مسترد کرتے ہوئے یوکرین میں جنگ بندی سے متعلق امریکی قرارداد منظور کرلی ہے۔ امریکہ نے یورپ کے بجائے روس کا ساتھ دیا۔ ایسا بہت ہی کم ہوا کہ اپنے یورپی اتحادیوں کے خلاف یوں امریکہ دوسری صف میں جا کھڑا ہوا ہو۔
اقوام متحدہ میں پیر کو یوکرین، یورپی یونین کی مشترکہ قرار داد اور امریکہ کی الگ قراردادوں پر ووٹنگ ہوئی۔ پہلے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں یوکرین کی علاقائی سلامیت کی حمایت اور روسی افواج کی فوری واپسی پر مبنی قرارداد یوکرین جنگ کا تیسرا سال مکمل ہونے پر پیش کی گئی۔
یوکرین اور یورپی یونین کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد میں یوکرین پر روسی حملے کا حوالہ دیتے ہوئے روسی افواج کو یوکرین سے باہر نکالنے کا مطالبہ کیا گیا۔
امریکہ کی شدید مخالفت کے باوجود اقوام متحدہ نے یورپی حمایت یافتہ یوکرین قرارداد اکثریت رائے سے منظور کر لی۔
اس کے بعد امریکہ کی الگ قرار داد پر سلامتی کونسل میں ووٹنگ ہوئی۔
امریکی قرارداد میں کہا گیا کہ تنازع کا فوری خاتمہ اور یوکرین روس کے درمیان دیرپا امن قائم کیا جائے اور اقوام متحدہ کا مرکزی کردار عالمی امن اور تنازعات کے خاتمے کو ممکن بنانا ہے۔
قرارداد میں روس کی مذمت کی گئی اور نہ اس کو جارح کہا گیا بلکہ یوکرین روس تنازع قرار دیا گیا۔ قرارداد میں روسی فیڈریشن اور یوکرین کے درمیان تنازع کے دوران اموات پر اظہار افسوس کیا گیا۔

روس نے یوکرین سے متعلق امریکی قرارداد میں ترمیم کی یورپی کوشش کو ویٹو کیا۔
یوں سلامتی کونسل نے روس مخالف تمام یورپی ترامیم مسترد کرتے ہوئے یوکرین سے متعلق امریکی قرارداد منظور کرلی۔
امریکہ، روس، چین اور پاکستان سمیت دس ممالک نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا۔ امریکہ کے دو اہم اتحادی فرانس اور برطانیہ نے اس وقت اس عمل کا بائیکاٹ کیا جب اس قرارداد میں کچھ ترامیم کی ان کی کوششیں کامیاب نہ ہو سکیں۔
یہ قراردادیں ایک ایسے وقت پر اقوام متحدہ میں پیش کی گئیں جب فرانس کے صدر ایمینوئل میخواں بھی صدر ٹرمپ سے امریکہ میں ملاقات کی اور یوکرین سے متعلق اختلافات دور کرنے کی کوشش کی۔
جعمرات کو برطانیہ کے وزیراعظم سر کیئر سٹارمر صدر ٹرمپ سے ملاقات کریں گے۔
اقوام متحدہ کے اجلاس سے یہ بھی واضح ہو گئی کہ اب امریکہ یورپ کو پہلے جیسی نظر سے نہیں دیکھ رہا جس سے امریکہ کی طرف سے یورپ کے لیے دی جانے والی سکیورٹی پر بھی شکوک و شبہات پیدا ہو گئے ہیں۔
یورپی ممالک کی قرارداد میں یوکرین میں جنگ چھیڑنے کے لیے روس کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے اور اس قرارداد میں یوکرین کا آزادی اور اس کی علاقائی سالمیت کی حمایت کی گئی۔
یوکرین کی نائب وزیر خارجہ ماریانہ بیٹسا نے کہا ہے کہ ہمیں یہ یقینی بنانا ہے کہ جارحیت کی مذمت کی جائے، اسے نوازنے کے بجائے اس کی بے توقیری کی جائے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کے لیے فرانس کے صدر ایمینوئل میخواں واشنگٹن کے دورے پر ہیں۔
فرانسیسی صدر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یوکرین پر امن ڈیل کے لیے کچھ سکیورٹی گارنٹی کا بھی ہونا ضرری ہے۔
پیر کو ٹرمپ سے ملاقات کے بعد ایمینوئل میخواں نے امریکی صدر کے ساتھ مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’امن کا ہرگز مطلب یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ہم یوکرین کو بھول جائیں اور اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں ہے کہ (یوکرین میں) جنگ بندی بغیر کسی سکیورٹی گارنٹی کے ہی ہو جائے۔‘
ٹرمپ نے خود کسی بھی سکیورٹی گارنٹی کے بارے میں بات نہیں کی ہے البتہ انھوں نے یہ کہا ہے کہ یوکرین میں امن لانے کی قیمت اور بوجھ صرف امریکہ کو ہی نہیں بلکہ یورپ کو بھی اٹھانا ہوگا۔
میخواں نے اس کے جواب میں کہا کہ یورپ اس بات کی اہمیت سے آگاہ ہے کہ سکیورٹی یقینی بنانے سے متعلق اپنا متناسب حصہ ڈالا جائے۔ انھوں نے مزید کہا کہ یوکرین پر روس کی طرف سے جنگ کے تین سال آگے کے رستے کا تعین کر رہے ہیں۔
میخوان اور ٹرمپ نے ملاقات میں بڑی گرمجوشی دکھائی تاہم اوول آفس میں صحافیوں سے بات چیت اور اس کے بعد دونوں رہنماؤں کی 40 منٹ کی مشترکہ پریس کانفرنس میں یوکرین میں جنگ کے خاتمے سے متعلق کچھ امور پر واضح اختلافات کھل کر سامنے آئے۔
اس بات چیت میں یوکرین میں جنگ بندی سے متعلق امن ڈیل کے لیے سکیورٹی گارنٹی اور کچھ دیگر امور پر دونوں رہنما ایک صفحے پر نظر نہیں آئے۔
ٹرمپ نے کہا کہ وہ جلد سے جلد جنگ بندی چاہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ جب اس پر اتفاق ہو جائے گا تو پھر وہ روس کے صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات کے لیے روس کا دورہ کریں گے۔
میخواں نے جنگ بندی اور پھر ایک وسیع تر امن معاہدے میں یوکرین کے آئندہ تحفظ کے لیے واضح سکیورٹی گارنٹی یقینی بنانے کی بات کی۔
انھوں نے کہا ’ہم جلد امن چاہتے ہیں، مگر اہم ایک ایسا معاہدہ نہیں چاہتے کہ جو کمزور ہو۔‘
تاہم دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ کسی بھی امن معاہدے میں یوکرین میں یورپی امن فوج کی تعیناتی شامل ہونی چاہیے۔
میخواں نے اوول آفس میں صحافیوں کو یورپ کی امن فوج کی تعیناتی سے متعلق بتایا کہ ’وہ اگلے مورچوں پر نہیں ہو گی۔ وہ کسی تنازع کا حصہ نہیں بنے گی۔ وہ امن کا احترام یقینی بنانے کے لیے وہاں موجود رہے گی۔‘
اس کے بعد امریکہ کے صدر نے کہا روس کے صدر پوتن بھی اس تجویز کو قبول کر لیں گے۔ ٹرمپ نے کہا کہ ’میں نے بالخصوص یہ سوال پوتن سے پوچھا۔ انھیں اس تعیناتی پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔‘
فرانس کے صدر نے حالیہ ہفتوں میں روسی صدر پوتن کے ساتھ رابطوں کی تعریف کی اور یہ کہا ایسا کرنے کی بہت اچھی توجیہ بھی موجود ہے۔
ٹرمپ نے پوتن کو آمر کہنے سے انکار کر دیا تاہم انھوں نے گذشتہ ہفتے یوکرینی صدر کے لیے یہ الفاظ استعمال کیے تھے اور کہا کہ گذشتہ ہفتے انھوں نے (زیلنسکی سے) ملاقات کے بعد روس کے سربراہ سے ملاقات کرنی تھی۔
پوتن سے ملاقات سے متعلق سوال پر انھوں نے کہا کہ ’ابھی یہ نہیں معلوم کہ اب ہماری بات کب ہو گی۔‘ ٹرمپ نے کہا کہ ’کسی وقت میں صدر پوتن سے ملاقات ضرور کروں گا۔‘
بلوچستان کے ضلع قلات کے علاقے منگیچر میں سائندک پروجیکٹ سے معدنیات لے جانے والی گاڑیوں کی سکیورٹی پر مامور اہلکاروں کی گاڑی کو بم حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
قلات میں انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ 20 سے زائد ٹرالر ضلع چاغی سے معدنیات لے کر کراچی جا رہے تھے۔
اہلکار کے مطابق جب ٹرالر منگیچر بازار میں پہنچے تو نادرا کے دفتر کے قریب ان کی سیکورٹی پر مامور اہلکاروں کی گاڑی کے قریب زوردار دھماکہ ہوا۔ اہلکار نے بتایا کہ دھماکہ خیز مواد اس علاقے میں ایک پل کے ساتھ نصب کیا گیا تھا۔
اہلکار کے مطابق دھماکہ دیسی ساختہ بم کے پھٹنے کی وجہ سے ہوا جس میں دو راہگیروں کے علاوہ سکیورٹی اہلکار بھی زخمی ہوئے۔
جب اس سلسلے میں فون پر قلات کے ڈپٹی کمشنر بلال شبیر سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے دھماکے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تاہم دو راہ گیر زخمی ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دو تین سکیورٹی اہلکار بھی اس واقعے میں معمولی زخمی ہوئے ہیں۔
ضلع قلات کے علاوہ بلوچستان کے ضلع نوشکی میں پہلے بھی معدنیات لے جانے والی گاڑیوں پر حملے ہوتے رہے ہیں جن میں گاڑیوں کو نقصان پہنچا ہے۔ بلوچستان میں اس وقت قیمتی معدنیات زیادہ تر سرحدی ضلع چاغی سے نکالا جا رہا ہے۔
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے مغرب میں ایران اور افغانستان دونوں سے متصل اسی ضلع میں سائندک پراجیکٹ بھی واقع ہے۔
چاغی میں مختلف نجی کمپنیاں جو معدنیات نکال رہی ہیں ان کو ریفائننگ کے لیے زیادہ تر کراچی لے جایا جاتا ہے۔ تاہم سائندک کاپر اینڈ گولڈ مائن سے جو خام مال نکالا جاتا ہے اس کی ریفائننگ چین میں ہوتی ہے۔ سائندک پراجیکٹ سے نکالے جانے والے خام مال کو چاغی سے 12 سو کلومیٹر تک سکیورٹی میں کراچی لے جایا جاتا ہے۔
کراچی میں پولیس نے جئے سندھ قومی محاذ آریسر کے رہنماؤں سمیت 500 کارکنوں کے خلاف پولیس پر حملے کا مقدمہ درج کیا جس میں دہشت گردی کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔
کراچی کے پریڈی تھانے پر دائر مقدمے میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ جسقم کی ریلی جو ایئرپورٹ سے پریس کلب جارہی تھی جب ایف ٹی سی کے مقام پرپہنچی تو جسقم کے رہنما اسلم خیرپوری، نیاز کالانی، اسماعیل نوتکانی کے اکسانے پر ریلی میں موجود 400 سے 500 کے قریب افراد جو ڈنڈوں اور پتھروں سے لیس تھے نے پولیس افسران اور موبائیلز پر حملہ کیا۔
اس حملے اور توڑ پھوڑ کے دوران چند پولیس اہلکار زخمی ہو گئے اور تین پولیس موبائیلوں کو بھی نقصان پہنچا۔
یاد رہے کہ پنجاب میں چولستان کینال سمیت دیگر کینالوں کی تعمیر کے خلاف سندھ میں سیاسی جماعتوں کی جانب سے احتجاج جاری ہے۔
جسقم آریسر کی جانب سے سکھر سے پیدل مارچ کا آغاز کیا گیا تھا جو اتوار کو کراچی میں اختتام پذیر ہوا۔
شاہراہ فیصل پر ایف ٹی سی کے مقام پر پولیس اور رینجرز نے رکاوٹیں کھڑی کرکے مارچ کو روکنے کی کوشش کی تھی جس پر کارکنوں نے مزاحمت کی بعد میں کارکن راستہ تبدیل کرکے پریس کلب پہنچے جہاں جلسہ منعقد کیا گیا۔
جسقم آریسر کے سربراہ اسلم خیرپوری کا کہنا تھا کہ دریائے سندھ پر نئے کینال بنا کرسندھ کی زمینیں بنجر بنانے کی کوشش کی جارہی ہے ایسے کسی منصوبے کو سندھ کی عوام قبول نہیں کرے گی۔
انھوں نے کارپوریٹ فارمنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کمپنیوں کو سندھ کی زمیں الاٹ کی جارہی ہیں جبکہ ان زمینوں پر حق سندھ کے عوام اور بے زمین کسانوں کا ہے۔
اسلم خیرپوری نے متنبہ کیا کہ یہ سلسلہ نہ رکا تو سندھ کے عوام مزاحمت کا راستہ اپنائیں گے۔
دوسری جانب کشمور میں پنجاب جانے وای سڑک پر ڈیرا موڑ کے قریب جئے سندھ قومی محاذ کی جانب سے دہرنا دیا گیا۔
اس دہرنے میں سندھ یونائیٹڈ پارٹی، سندھ ترقی پسند پارٹی، جماعت اسلامی اورعوامی تحریک کے کارکنوں نے بھی شرکت کی۔
کندھ کوٹ میں قومی عوامی تحریک کے سربراہ ایاز پلیجو کی قیادت میں احتجاجی مارچ کیا گیا۔
اس سے خطاب کرتے ہوئے ایاز پلیجو کا کہنا تھا کہ چولستان اور دیگر 6 کئنال تعمیر ہوئے تو سندھ ایتھوپیا اور صومالیا بن جائیگی۔
ان کا کہنا تھا کہ سندھ سے منتخب تمام جماعتوں نے عوام کو مایوس کیا ہے، پارلیمینٹ اورعدلیہ میں بھی عوام کی بات نہیں سنی جارہی ہے اس صورتحال کے باوجود سندھ کے عوام اپنے پانی کا دفاع کریں گے۔
اس کے علاوہ مٹھی میں عوامی تحریک کی جانب سے بھی ریلی نکالی گئی جبکہ حیدرآباد میں پورھیت مزاحمت تحریک کی جانب سے مجوزہ کینالوں کے خلاف احتجاج کیا گیا
ایف آئی اے گوجرانوالہ زون نے سمندر کے راستے شہریوں کو لیبیا اور موریطانیہ سے یورپ بھجوانے میں ملوث 2 انسانی سمگلرز کو گرفتار کر لیا ہے۔
ڈائریکٹر گجرانوالہ زون عبدالقادر قمر کے مطابق انسانی سمگلنگ کے نیٹ ورک کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کر دی گئی ہیں۔
ایف آئی اے کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ دو انسانی سمگلرز کو پھالیہ اور کھاریاں سے گرفتار کیا گیا۔
ان پر شہریوں کو بیرون ملک بھجوانے کے لیے لاکھوں روپے بٹورنے کا الزام ہے۔
ایک ملزم نے شہریوں کو سپین میں ملازمت کا جھانسہ دے کر 50 لاکھ روپے سے زائد رقم وصول کی۔
ملزم کے خلاف دو مقدمات درج تھے ملزم نے شہریوں کوسپین بھجوانے کے بجائے موریطانیہ بھجوایا اور پھر موریطانیہ سے سمندر کے راستے سپین بھجوانے کی کوشش کی، تاہم شہریوں نے کشتی کے ذریعے سفر کرنے سے انکار کیا اور پاکستان واپس آ گئے۔
ایف آئی اے حکام کے مطابق ایک اور گرفتار ملزم نے شہریوں کو ابتدا میں لیبیا بھجوایا، لیبیا پہنچنے پر ملزم اور اس کے ساتھیوں نے شہریوں کو یرغمال بنا لیا اس دوران ملزمان شہریوں پر تشدد کرتے رہے اور شہریوں کے خاندان والوں سے تاوان بھی وصول کیا۔
بتایا گیا ہے کہ ملزمان نے شہریوں کو کشتی کے ذریعے اٹلی بھجوانے کی کوشش بھی کی تاہم شہری جان بچا کر واپس پاکستان پہنچ گئے۔
ملزمان کے دیگر ساتھیوں کے خلاف چھاپہ مار کارروائیاں کی جارہی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہFacebook
پاکستان کے ایک سینیئر وکیل اختر حسین ججز کی تعیناتی کرنے والے جوڈیشل کمیشن کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ انھوں نے اپنا استعفیٰ چیئرمین جوڈیشل کمیشن چیف جسٹس یحییٰ خان آفریدی کو بھجوا دیا ہے۔
اختر حسین نے صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں بتایا کہ ججز سنیارٹی اور تبادلوں پر پاکستان بار کے مؤقف سے متفق نہیں تھا اور ایسے میں یہی مناسب سمجھا کہ مستعفی ہو جاؤں۔
وکلا کے احتجاج اور ججوں کے اعتراضات کے باوجود جوڈیشل کمیشن نے چھ ججز کو سپریم کورٹ میں تعینات کرنے کی منظوری دے دی
اختر حسین نے اپنے خط میں لکھا کہ پاکستان بار کونسل نے انھیں تین بار جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کا رکن نامزد کیا اور وہ اپنی ذمہ داریاں اپنی بہترین صلاحیتوں کے مطابق انجام دیتے رہے۔
اختر حسین نے لکھا کہ حالیہ عدالتی تقرریوں سے متعلق تنازعات کی بنا پر میں مزید کام جاری نہیں رکھ سکتا، میں جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کی رکنیت سے مستعفی ہوتا ہوں۔
انھوں نے کہا کہ وہ اپنے استعفے کی نقل پاکستان بار کونسل کو ارسال کر رہے ہیں تا کہ آئین کے تحت ان کی جگہ نیا رکن نامزد کیا جا سکے۔

،تصویر کا ذریعہCourtesy Zulqarnain
جوڈیشل کمیشن پر اختلافات کیا ہیں؟
اس وقت جوڈیشل کمیشن میں ججز کی تعیناتی اور تبادلوں سے متعلق اختلافات پائے جاتے ہیں۔ یہ اختلافات نہ صرف کمیشن کے اراکین کے درمیان ہیں بلکہ وکلا نے بھی رواں ماہ جوڈیشل کمیشن کے اجلاس کے خلاف وکلا ایکشن کمیٹی نے احتجاج کے دوران وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے سرینا چوک سے سپریم کورٹ جانے کی کوشش کی تو وکلا اور پولیس اہلکاروں کے درمیان جھڑپ ہوئی اور پولیس نے احتجاجی وکلا پر لاٹھی چارج بھی کیا۔
رواں ماہ جوڈیشل کمیشن کا اجلاس ہوا تو اس میں جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر کے علاوہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر اور بیرسٹر علی ظفر نے بھی اس اجلاس کا بائیکاٹ کیا۔
جوڈیشل کمیشن کے اس اجلاس میں چیف جسٹس آف پاکستان یحیٰ آفریدی کی سربراہی میں ہوئے جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں ملک کی تمام ہائی کورٹس کی جانب سے بھیجے گئے ناموں پر غور کیا گیا۔
سپریم کورٹ کے سینیئر ترین جج جسٹس منصور اور جسٹس منیب سپریم کورٹ کے ان چار ججوں میں شامل ہیں جنھوں نے نئے ججوں کی تعیناتی کا معاملہ 26ویں آئینی ترامیم سے متعلق درخواستوں پر فیصلے تک ملتوی کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
اجلاس کی کارروائی میں شرکت نہ کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان اور سینیٹر علی ظفر نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے ججز اور انھوں نے جوڈیشل کمیشن کے آج ہونے والے اجلاس میں شرکت نہیں کی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے آج کے اجلاس کی کارروائی میں حصہ نہیں لیا کیونکہ ہم چاہتے تھے کہ پہلے سنیارٹی کے مسئلے کا فیصلہ ہو۔
اس موقع پر بیرسٹر علی ظفر نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'ہم نے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس ملتوی کرنے کی درخواست کی ہماری بات نہیں مانی گئی تو ہمیں یہی ہدایات تھیں کہ ہم اس کا حصہ نہ بنیں۔'
سینیٹرعلی ظفر کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ میں آٹھ نئے ججز کی تقرری کے معاملے پر وکلا کا احتجاج جاری رہے گا۔
سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ہم میدان نہیں چھوڑیں گے، اپنی آواز اٹھائیں گے۔ میں نے چیف جسٹس کو لکھے گئے خط میں سینیارٹی کا مسئلہ اٹھایا ہے، پہلے اسے حل کر لیں۔‘
وہ کہتے ہیں کہ کسی اور جج کو سپریم کورٹ لایا جاتا ہے جس سے ججز میں رنجش پیدا ہو سکتی ہے۔ ’ہم اس اصول پر کھڑے ہیں کہ شخصیات آنے جانے والی بات ہے، ادارہ اور اصول سب سے ضروری ہے۔‘
انھوں نے تسلیم کیا کہ تمام وکلا تنظیمیں ان تبادلوں کے خلاف نہیں تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ اس کی مخالفت جاری رکھیں گے۔
واضح رہے کہ جوڈیشل کمیشن کی تشکیل میں حکمراں جماعت اور ان کے حمایتی وکلا نمائندوں کو برتری حاصل ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’کچھ جج رائج نظام پر سوال اٹھا رہے ہیں، ایسا ماضی میں نہیں ہوا‘
سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس فیصل عرب نے بی بی سی کے شہزاد ملک سے رواں برس 23 جنوری کو گفتگو میں اس متعلق اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’اب سپریم کورٹ کے کچھ ججز ملک میں رائج سسٹم پر سوال اٹھا رہے ہیں جبکہ ماضی میں کبھی بھی ایسا نہیں ہوا۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’شاید پہلے والا نظام اعلی عدلیہ کے ججز کو پسند تھا جس میں ججز کی تعیناتی اور بینچز کی تشکیل میں اہم کردار اس وقت کے چیف جسٹس کا ہوتا تھا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’سپریم کورٹ کے ججز میں کسی آئینی معاملے پر اختلاف رائے ماضی میں بھی ہوتا رہا ہے لیکن اب یہ معاملہ اختلاف رائے سے آگے نکل گیا ہے اور ججز کے گروپس ایک پوزیشن لیے ہوئے ہیں چاہے وہ پوزیشن غلط ہے یا صحیح۔‘
انھوں نے کہا کہ ’جب سے سپریم کورٹ نے ججز کی تعیناتی سے لیکر بینچز کی تشکیل کا اختیار پارلیمنٹ کو دیا، اس وقت سے ججز مشکل میں آ گئے ہیں۔‘
تاہم سابق جج جسٹس وجیح الدین کی رائے کچھ مختلف ہے۔
سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس وجیح الدین احمد کا کہنا تھا کہ ’سپریم کورٹ کے موجودہ ججز میں اختلافات آئین یا قانون کی حکمرانی کے لیے نہیں بلکہ یہ معاملہ ذاتی مفاد کا ہے۔‘
23 جنوری کو بی بی سی سے بات کرتے ہوئے جسٹس وجیہہ الدین کا کہنا تھا کہ ’سیاسی معاملات کو سننا جس میں ججز دلچسپی ظاہر کر رہے ہوں تو یہ کانفلکٹ آف انٹرسٹ ہے اور اس تاثر کو بھی تقویت ملتی ہے کہ ججز کے ذہن میں یہ ہوتا ہے کہ وہ اس بارے میں فیصلہ دیں گے تو فلاں سیاسی جماعت خوش ہوگی اور وہ جج کے مفاد کا تحفظ کرے گی۔‘
انھوں نے کہا کہ ’بدقسمتی سے دنیا بھر میں پاکستان کا عدالتی نظام سب سے کم نمبروں میں سے ایک ہے اور اگر اعلی عدلیہ کے ججز میں اختلافات کا سلسلہ یوں جاری رہا تو وہ دن دور نہیں جب پورے عدالتی نظام کا دھڑن تختہ ہو جائے گا۔‘

،تصویر کا ذریعہAlamy
کرسچن ڈیوکریٹک یونین (سی ڈی یو) کے سربراہ فریڈرک مرز جرمنی کے نئے چانسلر بننے جا رہے ہیں۔
69 برس کے فریڈرک مرز اپنی جماعت کے سینیئر رہنماؤں میں سے ایک معروف رہنما ہیں جنھیں ان کے حامی یورپ میں نئی تبدیلی کا غماز قرار دیتے ہیں۔
فریڈرک مرز مغربی جرمنی کے ایک قصبے ’بریلن‘ میں سنہ 1955 میں ایک قدامت پسند کیتھولک خاندان میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے سکول کے دور میں ہی سی ڈی یو میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔
ان کے والد ایک مقامی عدالت میں جج کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ ان اہلیہ بھی ایک عدالت میں جج ہیں۔
سکول کے بعد فریڈرک مرز ملٹری سروس کا حصہ بن گئے۔ انھوں نے قانون کی تعلیم حاصل اور اپنی ایک ہم جماعت سے سنہ 1981 میں شادی کر لی۔ فریڈرک مرز پائلٹ بھی ہے۔ انھیں سنہ 2022 میں اس وقت تنقید کا بھی سامنا کرنا پڑا جب وہ اپنے ایک سیاسی ساتھی کی شادی میں نجی طیارے پر گئے۔
فریڈرک مرز کچھ عرصے تک وکالت بھی کرتے رہے۔ مگر ان کی نظریں ہمیشہ سیاست پر ہی جمی رہیں۔ وہ 33 برس کی عمر میں 1989 میں جرمنی کی پارلیمنٹ کے رکن بن گئے۔
فریڈرک مرز نے سنہ 2009 میں اس وقت سیاست کو خیرآباد کہہ دیا جب اینگلا مرکل سی ڈی یو پارٹی کی سربراہ بن گئیں۔ انھوں نے تین بار اپنی جماعت کی سربراہی کی کوشش کی۔ سنہ 2018 اور 2021 میں وہ پہلی دو کوششوں میں ناکام رہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
فریڈرک مرز نے یورپ کو خبردار کیا ہے کہ امریکہ اس وقت یورپ سے آنکھیں پھیر چکا ہے لہٰذا اب اس خطے کو آزاد ہونا ہوگا۔
انھوں نے اتوار کو جرمنی میں ہونے والے امریکی حکام کی مبینہ مداخلت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایلون مسک انتہائی دائیں بازو کی جماعت اے ایف ڈی کی حمایت کر رہے تھے۔
فریڈرک مرز نے اتوار کی رات ایک گول میز ٹی وی مکالمے میں کہا ہے کہ ان کی ترجیح اول یورپ کو جلد سے جلد مضبوط بنانا ہے تا کہ وہ مرحلہ وار امریکہ سے حقیقی معنوں میں آزادی حاصل کر سکیں۔
امریکی صدر نے جرمنی میں انتخابی نتائج کو سراہا ہے اور یہ بیان بھی دیا ہے کہ ’یہ جرمنی کے لیے ایک بڑا دن ہے۔‘